Translater

Black Money لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Black Money لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

24 جولائی 2012

آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟

یوگ گورو بابا رام دیو اور انا ہزارے کے کرپشن اور کالی کمائی کے خلاف آئندہ مشترکہ مہم کے ٹھیک پہلے جمعہ کو رام دیو کے خاص ساتھی آچاریہ بال کرشن کو سی بی آئی نے پتنجلی یوگ پیٹھ ہری دوار سے گرفتار کرلیا ہے۔ اس کے خلاف فرضی پاسپورٹ معاملے میں عدالت میں مقدمہ دائر ہونے کے بعد سمن جاری کیا گیا تھا۔ ذرائع نے کہا بال کرشن کو جمعہ کو سی بی آئی کی اسپیشل عدالت میں حاضر ہونا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے اس کے بعد انہیں ہری دوار میں بابا رام دیو کے آشرم سے وہاں موجود لوگوں کی مخالفت کے درمیان گرفتار کیا گیا۔ فرضی پاسپورٹ اور دوہری شہریت اور فرضی ڈگری معاملے میں سی بی آئی نے پچھلے سال 23 جولائی کو ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی مہینے 10 جولائی کو بال کرشن کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ عدالت میں انہیں پیش ہونے کے لئے20 جولائی تک کا وقت دیا تھا۔ سی بی آئی نے جانچ میں پایا کہ بال کرشن نے اترپردیش کے خرجہ سنسکرت یونیورسٹی کے پرنسپل سے مل کر جعلی سرٹیفکیٹ لیا ، جس سے پاسپورٹ بنوایا۔ دونوں کے خلاف دھوکہ دھڑی سمیت دوسری دفعات میں معاملے درج کئے گئے۔ بال کرشن کے خلاف پاسپورٹ قانون کے تحت بھی معاملہ درج کیا گیا۔ سمپورن آنند سنسکرت یونیورسٹی سے ویریفائی کرنے سے پتہ چلا کہ بال کرشن کا نام ان کے ریکارڈ میں نہیں ہے۔ سی بی آئی نے بال کرشن کو سرٹیفکیٹ میں دئے گئے نام اور سیریل کو ادارے کے ریکارڈ سے ملایا جس میں یہ نمبر کسی دوسرے طالبعلم کا پایا گیا۔ اسی یونیورسٹی کی جعلی ڈگری بال کرشن نے بنوائی تھی۔ بال کرشن کی شہریت کے بارے میں بھی نیپال سے معلومات مانگی گئی ہے لیکن وہاں سے ابھی کوئی جواب نہیں آیا۔ آچاریہ کے حمایتیوں نے ان کی گرفتاری کا دہرہ دون اور ہری دوار میں جم کر احتجاج کیا، نعرے بازی کی اورا ن کی کار کے آگے لیٹ گئے اور پتنجلی پیٹھ کے سامنے ہائی وے جام کردیا۔ پولیس کو حالات سنبھالنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے بابا رام دیو نے کہا سرکار نے 9 اگست کی تحریک کو کچلنے کے لئے سازش کے تحت آچاریہ کو سی بی آئی کے ذریعے گرفتار کروایا ہے۔ انہوں نے کہا تحریک سے گھبرائی مرکزی حکومت نے آتنک وادیوں کی طرز پر آچاریہ بال کرشن کی گرفتاری کی ہے لیکن اس سے تحریک کمزور نہیں ہوگی۔ جمعہ کی رات سہارا گرین زون میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں بابا نے کہا پہلے سی بی آئی کے ذریعے سرکار نے نیپال سرکار پر دباؤ بنایا وہ بال کرشن کو نیپالی شہریت سے متعلق سرٹیفکیٹ دیں لیکن جب نیپال سرکار نے صاف کہہ دیا کہ آچاریہ بال کرشن بھارت کا شہری ہے تو پھر نقلی جرم کی سازش رچی گئی اور اس کو رچ کر بال کرشن کو گرفتار کرلیا۔ رام دیو کا کہنا ہے کہ آئین میں گیانیوں کو بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق ہے تو آچاریہ کو پاسپورٹ بنوانے کے لئے فرضی ڈگری حاصل کرنے کے الزام میں بال کرشن کی گرفتاری پر سوال اٹھایا اور پوچھ تاچھ میں رام دیو کی بھی معاشی اور کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں بھی سی بی آئی کو مدد ملے گی۔ اس میں جہاں بدلے کی کارروائی کی بو آتی ہے وہیں اصل نشانہ بابا لگتے ہیں۔ بال کرشن تو محض دباؤ بنانے کے لئے ایک مہرہ ہیں۔ انا ہزارے اور بابا رام دیو میں بہت فرق ہے۔ انا ہزارے ایک فقیر ہے جو بہت سادی زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ بابا ہائی پروفائل صنعت کار بن گئے ہیں جن کا کروڑوں کا کاروبار ہے اور اربوں کی اسٹیٹ ہے۔ اصل نشانہ تو بابا رام دیو ہی ہیں۔

18 فروری 2012

اور اب ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے سے ملے 35 کروڑ روپے



Published On 18th February 2012
انل نریندر
سرکاری محکموں میں کرپشن کا بول بالا چونکانے والا ہے۔ کچھ سرکاری افسران نے تو ناجائز املاک بنانے کی دوڑ کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ ایک ایسی مثال ہمیں پچھلے دنوں مدھیہ پردیش سے ملی ہے۔ مدھیہ پردیش لوک آیکت ٹیم نے پچھلے دنوں ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے کے اجین اور ناگدہ میں واقع گھر پر چھاپہ مارا۔ ضلع کے محکمہ صحت میں کام کررہے ڈاکٹر ونود و ڈاکٹر ودیا لہری کے پاس آمدنی سے زیادہ کروڑوں روپے کی املاک ملی ہے۔پانچ مکان، ایک پیٹرول پمپ، گودام، 150 بیگھہ زمین،پوہا فیکٹری کا پتہ چلا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ان کی املاک کی کل مالیت35 کروڑ روپے مانی جارہی ہے۔ لوک آیکت ایس پی ارون مشرا نے بتایا کہ اندرا نگر کے باشندے ڈاکٹر ونود لہری اور ان کی اہلیہ ودیا لہری 22 برسوں سے سرکاری ملازمت میں ہیں۔ دونوں ہی دو برس سے معطل ہونے کے سبب جوائنٹ ڈائریکٹر دفتر اجین میں رہ رہے ہیں۔ انہیں اب تک کی اس سرکاری نوکری میں قریب80 لاکھ روپے تنخواہ ملی ہے۔ ڈاکٹر جوڑے کی اتنی آمدنی ہوتی ہے کہ وہ ہاتھوں سے نوٹ نہیں گن پاتے تھے۔ ان کے گھر پر نوٹ گننے کی مشین بھی ملی ہے۔ لوک آیکت کی دوسری ٹیم جب ناگدہ میں ڈاکٹر لہری کے اسپتال روڈ پر واقع مکان کی تلاشی لی گئی تو وہ مکان دیکھ کر چونک پڑا کیونکہ وہاں مکان نہیں بلکہ محل بنا ہوا تھا۔ کافی عرصے سے بند پڑے اس محل کے اندر جدید نرسنگ ہوم اور ایک سوئمنگ پول بھی ملا ہے۔ جوڑے پر بدعنوانی انسداد ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔جوڑے کی املاک کی مالیت کے تخمینے کے بعد اس کی قیمت کا صحیح اندازہ لگ سکے گا۔ ادھر ذرائع کے مطابق لوک آیکت املاک کی قیمت 35 کروڑ سے زیادہ مانتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ڈاکٹر جون 2010 ء سے معطل چل رہے ہیں۔ ناگدہ سروس سینٹر میں شکایتوں کے چلتے معطل ہوئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اب اس ڈاکٹرجوڑے کے خلاف کیا کارروائی کرے گی؟ ان معاملوں میں بہار نے اچھی پہل کی ہے۔ حال ہی میں پٹنہ کی مونیٹرنگ عدالت کے اسپیشل جج رمیش چندر مشر نے ایک فروری کو بہار کے سابق ڈی جی پی نارائن مشر کی آمدنی سے قریب ایک کروڑ40 لاکھ روپے سے زیادہ کی املاک ضبط کرنے کے احکامات دئے۔ بہار میں کرپشن کے خلاف جاری مہم میں یہ پہلا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ایک طرف جہاں ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس کو منسوخ کروانے کے لئے لوگوں کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے وہیں بہار سرکار نے ایک نیا قانون بنوا کر اپنی مسلح پولیس کے افسر کی املاک کو ضبط کروانے میں کامیابی پائی ہے۔ اس سے پہلے بھی پٹنہ کی مونٹیرنگ عدالت بہار کیڈر کے آئی ایس افسر ایس ایس ورما سمیت کئی سرکاری ملازمین کی املاک ضبط کرچکا ہے۔ ورما کے پٹنہ میں واقع نجی مکان میں اب سرکاری اسکول چل رہا ہے۔ نگرانی عدالت پٹنہ فائننشیل آفس کے سابق افسر گریش کمار، گیانگم کے سابق افسر یوگیندر سنگھ اور محکمہ جنگلات کے افسر بھولا پرساد جیسے کئی دیگر متنازعہ افسروں کی بھی املاک ضبط کرنے کے بھی احکامات دے چکی ہے۔ سوال صرف سیاسی قوت ارادی کا ہے اور بہار نے راستہ دکھا دیا ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار کو بھی بہار سے سبق لینا چاہئے۔
Anil Narendra, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun

03 ستمبر 2011

بابا رام دیو کو گھیرنے میں لگی سرکار


Published On 4th September 2011
انل نریندر
بابا رام دیو اور انا ہزارے کی تحریک سے خار کھائی کانگریس پارٹی اور یوپی اے حکومت اب ان سے دشمنی نکال رہی ہے۔ جب سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے حکومت ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئی ہے۔ بابا رام دیو کو سرکار اب خود غیر ملکی کرنسی ایکٹ (فیما) میں پھنسانے میں بے چین ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو اور ان کے ٹرسٹ کے خلاف فیما قانون کی خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو کی کمپنیوں پر بیرونی ممالک سے ہونے والے پیسے کے لین دین میں قواعد کو نظر انداز کرنے کے الزام میںیہ مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ میں بابا کو عطیہ میں ملے مبینہ جزیرے کے معاملے کی بھی پڑتال کی جارہی ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور جانچ ایجنسیاں یہ دیکھنے کی کوشش کررہی ہیں کہ اس جزیرے کو حاصل کرنے میں بابا اور ان کی کمپنی کہیں قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ایسے میں جلد ہی اس معاملے میں بابا کے ساتھی آچاریہ بال کرشن اور یوگ گورو کے سینئر منتظمین سے پوچھ تاچھ کرنے کے آثار ہیں۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھارتیہ ریزرو بینک اور غیر ملکی جانچ ایجنسیوں اور بینکوں کے ذریعے سے ملی اطلاعات کی بنیاد پر معاملے درج کئے ہیں۔انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی یوگ پیٹھ، بھارتیہ سوابھیمان ٹرسٹ اور یوگ مندر ٹرسٹ کے ذریعے سے پیسے کے بیجا لین دین کی جانکاری ملی ہے۔ ان اداروں کے امریکہ، نیوزی لینڈ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے غیر ملکی کرنسی حاصل ہوئی ہے اور ایسا کرنے میں وسیع پیمانے پر قواعد کو تلانجلی دی گئی ہے۔ بتاتے ہیں کہ برطانیہ سے ہی ایک معاملہ قریب 7 کروڑ روپے کے لین دین سے وابستہ ہے۔ یہ معاملہ بے نامی سودے سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے عام تاجروں اور خوردہ دوکانداروں سے مل کر ناجائز طور پر مالی لین دین کے ثبوت ملے ہیں۔ ریزرو بینک سے انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ملے دستاویزات کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنیوں نے برآمدات سے ہوئی تقریباً 1.8 کروڑ روپے (چار لاکھ ڈالر) کی آمدنی کے بارے میں سینٹرل بینک کو کوئی معلومات نہیں فراہم کی گئی۔ قاعدے کے مطابق برآمدات سے غیرملکی کرنسی میں ہوئی آمدنی کی اطلا ع چھ مہینے کے اندر آر بی آئی کو دینا ضروری ہے۔ رام دیو سے وابستہ کمپنیوں نے چھ مہینے کے بعد بھی آر بی آئی کو کچھ نہیں بتایا۔
بابا رام دیو اور ان کی کمپنیوں کے خلاف انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے فیما کے تحت مقدمے سے سامان پتنجلی اینڈ ہربل پارک میں ملازمین میں اپنے مستقبل کو لیکر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔پدارتھی میں واقع فوڈ پارک میں قریب پانچ ہزار ملازم کام کرتے ہیں۔ فوڈ پارک کے آس پاس گاؤں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ سبھی کو بے چینی ہے کہ کہیں انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ ان کے کھاتوں کو منجمد نہ کردے اور ان کا مستقبل اَدھر میں لٹک جائے۔ ادھر بابا رام دیو نے ہری دوار میں کہا کہ انہوں نے یا ان کے ٹرسٹ نے کسی بھی طرح کے لین دین میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا ہے۔ بابا نے بتایا کہ ابھی تک انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے انہیں یا ان کے ٹرسٹ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی کوئی سرکاری جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ انہیں اس کی جانکاری میڈیا سے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس ملنے پر معقول جواب دیا جائے گا۔ بابا رام دیو ہری دوار کے کنکھل میں واقع دیویہ یوگ فارمیسی سے اخبار نویسوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ان کے ٹرسٹ سے کسی بھی طرح کا کوئی بھی غیر آئینی کام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی لین دین ہوا ہے۔
Baba Ram Dev, Ram Lila Maidan, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, ED, Black Money, Corruption,

20 جولائی 2011

کالادھن: نگرانی سپریم کورٹ کرے یہ حکومت کو منظور نہیں


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 20th July 2011
انل نریندر
بدعنوانی اور کالا دھن کے مسئلے پر انا ہزارے اور بابا رام دیو کی چنوتیوں سے لڑ رہی منموہن حکومت کو اس وقت زبردست جھٹکا لگا تھا جب سپریم کورٹ نے کالے دھن سے وابستہ سارے معاملوں کی جانچ کیلئے ایک اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل کردی تھی۔ اس خصوصی جانچ ٹیم کی سربراہی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس بی ۔ پی جیون ریڈی کریں گے اور ایک دوسرے ریٹائرڈ جج ایم ۔بی شاہ اس کے ممبر ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ حسن علی اور کیلاش ناتھ کپاڈیہ سمیت کالے دھن سے وابستہ سبھی معاملوں کی جانچ اس میں آگے کی کارروائی و مقدمہ چلانے کی ذمہ داری اس مخصوص ٹیم کی ہوگی۔ لیکن مرکزی حکومت کو لگتا ہے یہ منظور نہیں ہے کہ کالے دھن کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو۔ تبھی تو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس حکم پر نظرثانی کرنے کیلئے عرضی دائر کی ہے۔ حکومت نے اس فیصلے کو منتظمہ اختیارات میں عدلیہ کا قبضہ مانتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈمنسٹریٹو اور عدلیہ کے الگ الگ اختیارات ہیں اور بڑی عدالت کا فیصلہ ان اصولوں کے منافی ہے۔ عرضی میں آگے کہا گیا ہے کہ عدالت کا یہ کہنا سرا سر غلط ہے کہ کالا دھن واپس لانے کیلئے سرکار زور دار کوشش نہیں کررہی ہے۔ ایسا ہوتا تو سرکار اس معاملے میں اعلی اختیار یافتہ کمیٹی تشکیل نہ کرتی۔یہ ایک تاریخی معاملہ ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ سرکار کی عرضی پر فیصلہ کرتے وقت جہاں عدالت کو کچھ انتہائی قانونی پہلوؤں کا خیال رکھنا ہوگا وہیں عدالت سرکار سے یہ سوال بھی کرسکتی ہے کہ آخر کار عدالت کو اس طرح کا حکم کیوں پاس کرنا پڑا۔ سرکار نے بھلے ہی نظرثانی عرضی دائر کرنا ضروری سمجھا کیونکہ کیبنٹ میں کچھ اہم ماہر قانون بھی شامل ہیں لیکن اس سے سرکار کے طریقہ نظام جانچ ایجنسیوں کے تئیں اس کے رویئے اور کچھ جانچ ایجنسیوں کے کردار پر بھی بحث چھڑ سکتی ہے۔
کالا دھن کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دیش کا جائز پیسہ ناجائز طریقوں سے بیرونی ممالک میں جانا تو تشویش کا موضوع ہے ہی لیکن ساتھ میں اس کے نتائج قومی سلامتی کے معاملوں سے وابستہ ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے ، سپریم کورٹ نے جو حکم دیا تھا اس کا ابھی تک کچھ ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ دراصل یہ بالکل الٹ ہورہا ہے۔ اب تک ایس آئی ٹی تو ہوا نہیں ہے وزارت مالیات کی طرف سے تشکیل کمیٹیاں بھی کام نہیں کرپارہی ہیں۔ اور اب سرکار کے ذریعے اپیل دائر کرنے سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ اب یہ کمیٹیاں مقررہ وقت میں اپنی آڈٹ رپورٹ نہیں دے سکیں گی۔ جب تک سپریم کورٹ اس بارے میں اپنا فیصلہ نہیں سناتا یہ کام رکاوٹ ثابت ہوگا۔ یہ ہی حال کالی کمائی پر قائم دوسری کمیٹی کا بھی ہو گیا ہے۔ یہ کمیٹی سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین کی سربراہی میں بنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے حکم میں اس کمیٹی کا بھی ذکر ہے۔ اس کمیٹی کو کالے پیسے پر روک لگانے کیلئے موجودہ پن قانونوں میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بارے میں اس کوتجویز دینے کو کہا گیا تھا۔ کمیٹی نے اپنی پہلی میٹنگ میں عوام سے تجاویز مانگی تھی اور تین ہفتے میں چار ہزار تجاویز کی کاپیاں آئیں لیکن اب یہ معاملہ بھی لٹکنے کا ڈر ہے۔ سرکار سپریم کورٹ کے احکامات کو ہر حالت میں بلاک کرنے میں تلی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Hasan Ali Khan, Supreme Court, Vir Arjun

07 جولائی 2011

ناجائز کالی کمائی کو واپس لانے کی سپریم کورٹ کی لائق تحسین کوشش


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 7th July 2011
انل نریندر
اگر حسن علی اور کاشی ناتھ تاپوریہ نے سوچا تھا کہ وہ اتنی آسانی سے ساری کارروائی سے بچ جائیں گے تو انہوں نے غلط سوچا تھا۔ سپریم کورٹ ایسا نہیں ہونے دے گی۔ سپریم کورٹ نے بیرونی ممالک میں جمع کالی کمائی کے معاملے میں اس دولت کو واپس لانے اور اس کی نئے سرے سے جانچ کرنے کیلئے ایک اعلی سطحی اسپیشل ٹاسک فورس قائم کردی ہے۔ سوموار کو عدالت کے جسٹس ڈی سدرشن ریڈی اور ایس ایس ندھر کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے حکومت ہند کو زبردست پھٹکار لگائی۔ انہوں نے حسن علی خاں کیس کو نشانہ بناتے ہوئے سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم سے سوال کیا کہ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹرویٹ (ای ڈی) نے حسن علی معاملے میں صرف 44 کروڑ روپے کی دولت کو ضبط کرکے کیا پیغام دینا چاہا ہے؟ ڈویژن بنچ نے سوال کیا کہ وہ جیرومو کا کیا ہوا؟ انکم ٹیکس نے تو 40 ہزار کروڑ روپے کی انکم ڈیمانڈ نکالی تھی؟ حسن علی کے ساتھی کاشی ناتھ تاپوریہ کے خلاف 20580 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ نوٹس دیا تھا۔ اب آپ عدالت کو بتا رہے ہیں کہ آپ نے 44 کروڑ روپے کی املاک کو ضبط کیا ہے باقی جیرومو کا کیا ہوا؟ مطلب صاف تھا کہ انکم ٹیکس محکمہ حسن علی خاں کو بچا رہا ہے، کیوں ؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ پہلی بار نہیں جب اس معاملے میں عدالت کو مایوسی ہوئی ہے، پہلے بھی اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ 2007 ء میں ای ڈی نے سنسنی خیز خلاصہ خود کیا تھا کہ 2001-2005 کے درمیان حسن علی خاں کا لین دین 1.6 بلین ڈالرکا تھا۔ 2007 ء میں جب حسن علی کے پونے میں بنے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا تو وہاں سے 8.04 بلین ڈالر کے یوبی ایس بینک، سوئٹزر لینڈ کو لین دین کے دستاویز ملے تھے۔ عدالت نے پوچھا کہ حسن علی کے بوفورس دلال عدنان خشوگی سے سب کو کیا ملاہے؟ حسن علی نے خشوگی کا یو بی ایس بینک میں کھاتہ کھلوانے میں مدد کی تھی۔ سرکار کے پاس عدالت سے کسی بھی سوال کا تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بیرون ملک میں چھپائے گئے کالے دن کی جانچ میں سرکار کی لیپا پوتی اور گمراہ کرنے والی کارروائی سے ہی تنگ آکر سپریم کورٹ نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اسپیشل ٹاسک فورس کی تشکیل کا فیصلہ اسی مقصد سے لیاگیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق تقریباً1456 ارب ڈالر یعنی 70 لاکھ کروڑ روپے بیرونی ممالک میں جمع ہیں۔ اس حساب سے دیش کی املاک کا 40 فیصد بلیک منی کی شکل میں بیرونی ملکوں میں جمع ہے۔ امریکہ کی قانونی دھمکیوں کے بعد سوئٹزر لینڈ کے یو بی ایس بینک نے نہ صرف کھاتہ ہولڈر امریکی شہریوں کے نام بتائے، 78 کروڑ ڈالر کا ہرجانہ بھی دیا۔ جبکہ بھارت نے پچھلے 20 برسوں سے کالی کمائی کو واپس لانے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے پیر کو صاف کہا کہ مرکزی حکومت اس مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اس نے یہ دو ٹوک تبصرہ بھی کیا کہ سرکار نے جو قدم اٹھائے ہیں ان پر اسے زبردست اعتراض ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی پایا کہ کالے دھن کی جانچ پوری طرح سے رکی ہوئی ہے۔ آخر بڑی عدالت کے ایسے سخت موقف کے بعد سرکار کس منہ سے یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ کالے دھن کے مسئلے پر سنجیدہ ہے؟ دیش کی معیشت اور سکیورٹی سے وابستہ ایسے حساس معاملے میں سرکار کی بے رخی سے تنگ آکر عدالت کو خود ہی اس پر سیدھی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ چھ مہینے سے عدالت مسلسل سرکار کو وارننگ دے رہی تھی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ان سبھی لوگوں کی نشاندہی کرے جنہوں نے اپنی ناجائز دولت بیرونی ملکوں میں چھپا رکھی ہے لیکن سرکار کورے وعدوں یا بچنے کی کارروائیوں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں نظر آرہی تھی۔سرکاری لاچاری کا عالم یہ ہے کہ وہ بیرونی ملک میں چھپائی گئی کالی کمائی کو محض ٹیکس سے بچنے کا معاملہ بتا رہی ہے جبکہ خود دیش کی بڑی عدالت مانتی ہے کہ یہ پیسہ دیش کی ترقی کی مد سے چرایا گیا ہو سکتا ہے۔ یا ہتھیاروں اور نشیلے سامان کی اسمگلنگ کے ساتھ آتنک وادیوں کی مدد کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ بابا رام دیو سمیت دیش کے نامی گرامی شہریوں نے بار بار اس سنگین مسئلے کو اٹھایا ہے۔ بابا رام دیو کی تو یہ اہم مانگ ہی رہی ہے۔ اس پیسے کو قومی اثاثہ قرار دیا جائے۔ ان سب کے باوجود سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ خفیہ امریکی دستاویزوں کو سامنے لاکر دنیا میں سنسنی مچانے والی وکی لکس کے اسانجے نے یہ معمہ کھولا تھا کہ بیرونی ممالک میں کالی کمائی جمع کروانے والے ممالک میں ہندوستان سب سے اوپر ہے۔ اور جہاں امریکہ ، جرمنی، یوروپی ممالک بیرونی ممالک میں جمع پیسے کی واپسی کے لئے جارحانہ طریقے سے کارروائی کررہے ہیں وہیں حکومت ہند نے حیرت انگیز خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ہماری حکومت کی خاموشی حسن علی معاملے میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، گھوڑے اور کباڑ کے کاروبار کی آڑ میں دیش کا سب سے بڑا حوالہ کاروباری اربوں کی دولت کو باقاعدہ طور سے بیرون ملک بھیجتا تھا۔ الزام یہ ہے کہ وہ دیش کے بااثر لوگوں کی دولت کا حساب کتاب بھی لگاتا تھا، جن میں سیاستداں افسر شاہ بھی شامل تھے۔تعجب کی بات یہ تھی کہ کارگزاریوں کی بھنک ہونے کے باوجود حسن وی آئی پی بن کر ملک میں کھلا گھومتا تھا۔ اگر سپریم کورٹ نے سخت رویہ نہ اپنایا ہوتا تو کیا حسن علی آج سلاخوں کے پیچھے ہوتا؟ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ حسن علی جن کی کالی کمائی کا حساب کتاب رکھتا تھا وہ لوگ کون ہیں؟ اصل چور تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے کرسی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دیش کو لوٹا اور لوٹ کا مال بیرونی ممالک میں چھپایا۔ سرکار ان کے نام بتانے میں غیر ملکی قوانین اور قواعد کی آڑ لے رہی ہے اس لئے بار بار سپریم کورٹ نے براہ راست حکم دیا ہے کہ ویسے تمام لوگوں کو جن میں ایسی کالی کمائی پر نوٹس دیا گیا ہے ان کے نام عدالت میں رکھے جائیں۔ عدالت نے تو یہاں تک تبصرہ کیا کہ اگر وہ سرکار کی جگہ ہوتی تو وہ ایسا معاہدہ کبھی نہ کرتی جس سے دیش کا مفاد متاثر ہوتا ہو۔ سپریم کورٹ نے جس طرح اسپیشل ٹاسک فورس کی تشکیل کی ہے اور اس میں بڑی عدالت کے دو سابق جج صاحبان کو جگہ دینے کے ساتھ یہ کہا ہے کہ یہ فورس پیسے سے وابستہ معاملوں سے نمٹنے کی ایک وسیع حکمت عملی تیار کرے۔ اس سے تو یہ ہی ظاہر ہوتا ہے اسے اس منموہن سرکار سے کوئی امید نہیں رہ گئی ہے۔ ایسی دیدہ دلیری کے لئے سپریم کورٹ کو ہمارا سلام۔ دلچسپ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی سختی سے بچنے کے لئے سرکار نے پچھلے دنوں آناً فاناً میں 8 افسروں کی کمیٹی بنادی تھی جس کے چیئرمین مرکز کے محصول سکریٹری ہیں۔ اب سپریم کورٹ کی اسپیشل ٹاسک فورس کے ساتھ اس ٹیم کو جوڑدیا جائے گا تب جاکر شاید صحیح معنوں میں بیرونی ملک میں جمع کالی کمائی اور اس سے وابستہ لوگوں کی پہچان کے کام کی سمت میں اور تیزی آئے گی۔
Tags: Anil Narendra, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Hasan Ali Khan, Manmohan Singh, Supreme Court, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...