Translater

17 دسمبر 2016

50 دن نہیں مئی سے پہلے حالات ٹھیک ہونے کے آثار کم



جب سے نوٹ بندی نافذ ہوئی ہے تبھی سے یہ پورے دیش میں سب سے بڑا اشو بنا ہوا ہے کہ عام آدمی کا ہاتھ خالی ہے کیونکہ گھنٹوں لائن میں کھڑے ہونے کے باوجود انہیں 2 ہزار کا نوٹ بھی نہیں مل پارہا۔ وہیں پہنچ والے رسوخ دار شخص مست ہیں، بنا لائن میں لگے انہیں لاکھوں کروڑوں روپے کے نوٹ گھر پہنچ رہے ہیں۔ یعنی دو طرح کے حالات نظر آرہے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر ان رسوخ والوں کے پاس لاکھوں کروڑوں کے نوٹ پہنچے کہاں سے ہیں، وہ کون لوگ ہیں جو سسٹم کا فائدہ اٹھا کر لاکھوں کروڑوں کے نوٹ حاصل کررہے ہیں، کیا یہ معاملہ صرف بینک منیجروں سے سانٹھ گانٹھ کا ہے، اس کے پیچھے بڑی مچھلیاں ہیں؟ انکم ٹیکس محکمے کے چھاپوں میں جس طرح نوٹوں کی برآمدگی ہورہی ہے اس سے تو بڑی مچھلیوں پر ہی شبہ جارہا ہے کیونکہ بنا ان کی پیٹ پر ہاتھ رکھے اس طرح کا گورکھ دھندہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ کالا دھن والوں کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ نوٹ بندی کے بعد محکمے کی طرف سے اب تک (بدھوار تک)36 چھاپوں میں 1 ہزار کروڑ روپے کی غیر اعلانیہ آمدنی کا بھی پتہ لگایا گیا ہے۔ اس رقم میں سے 20.22 کروڑ روپے 2 ہزار کے نئے نوٹ میں ہے اور محکمے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 9 نومبر سے ڈالے گئے ان چھاپوں میں کرناٹک اور گووا میں بڑی رقم ملی ہے۔ دونوں ہی ریاستوں میں 29.86 کروڑ کی نقدی اور 41.6 کلو گرام سونا چاندی اور 14 کلو گرام کے زیورات ملے ہیں۔ 8 نومبر کو جب پی ایم مودی نے 8 بجے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو پی ایم نے کہا تھا کہ انہیں پورے حالات بہتر بنانے کیلئے صرف50 دن چاہئیں اب اس میں سے تقریباً38 دن گزر چکے ہیں لیکن حالات تقریباً وہی ہیں جو9 نومبر کو تھے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم بوتھوں کے باہر لوگوں کی بھیڑ جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ نوٹ چھاپنے والے پریس کی صلاحیت اور نوٹ تقسیم کے بارے میں یہ برس2016ء کی ریزرو بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ایم مودی کی جانب سے مانگی گئی میعاد کسی بھی قیمت پر حالت بہتر نہیں ہوں گے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم تک کافی مقدار میں نئی کرنسی کی پہنچ اس بات پر منحصر کرے گی کہ سرکار واپس کتنے کی کرنسی لین دین میں لانا چاہتی ہے؟ نوٹ بندی سے پہلے 14 لاکھ کروڑ سے زائد کے بڑے نوٹ چلن میں تھے۔ اگر سرکار اس میں سے دو تہائی یعنی قریب 9 لاکھ کروڑ کی کرنسی بھی واپس چلن میں لانا چاہتی ہے تو اسے پورا کرنے میں ابھی 4 مہینے لگیں گے۔ دراصل مسئلہ 500 روپے کے کرنسی نوٹوں کا زیادہ ہے۔ دیش بھر میں نوٹ چھاپنے کے لئے دیواس، ناسک، سالبنی اور میسور ہیں۔ اگر انہیں تین شفٹوں میں بھی چلایا جائے تو ہر روز یہ قریب11.1 کروڑ نوٹ چھاپ سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان پریسوں میں آدھی سے کم مشینیں ہی معیاری پیمانے والے بڑے نوٹ چھاپتی ہیں۔ ایسے میں اگر چاروں پریس کی مشینیں ہیں اعلی سکیورٹی معیار والے بڑے نوٹ چھاپتیں ہیں تو ایک دن میں کل2778 کروڑ کے 500 کے نوٹ چھاپ پائیں گی۔ نوٹ بندی کے اعلان سے پہلے حکومت نے 2 ہزار روپے کے 200 کروڑ نوٹ یعنی 4 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ کاانتظام کررکھا تھا۔ایسے میں جب 500 روپے کا نوٹ چھاپنے پرزور دیا جارہا ہے ابھی کم سے کم 5 لاکھ کروڑ روپے کے نوٹ کی ضرورت ہے۔ایسے میں یہ اتنے نوٹ چھاپنے کے قریب 180 دن لگیں گے۔ جس میں سے 38 دن گزر چکے ہیں۔ ہاں سرکار بیرونی ممالک سے بھی نوٹ چھپوا سکتی ہے لیکن اس میں خطرہ ہے۔
(انل نریندر)

اسمبلی چناؤ سے پہلے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کا اعلان کسی بھی دن ہوسکتا ہے۔یوپی کی اکھلیش یادو سرکار نے اسمبلی چناؤ کے اعلان سے ٹھیک پہلے ایک اہم بڑا فیصلہ لیتے ہوئے منگل کو قریب27 لاکھ سرکاری ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کی سفارش منظور کردی ہیں۔ یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے۔ صوبے میں جلد اسمبلی چناؤ ہونے ہیں لہٰذا چناوی ضابطہ نافذ کئے جانے سے پہلے یہ قدم کافی غور و خوض کرنے کے بعد اٹھایاگیا ہے۔ اس فیصلے سے اندازہ ہے کہ 27 لاکھ سرکاری ملازمین اور پینشروں کو سیدھے طور پر فائدہ ہوگا۔ مرکزی سرکار نے اسی برس جون میں ساتویں پے کمیشن کی سفارشیں منظور کی تھیں۔ عموماً یہی ہے کہ مرکز کی سفارشوں کو نافذ کرنے کے بعد ریاستی سرکاریں اپنی سہولت کیلئے پے کمیشن کی سفارشیں لاگو کرتی آئی ہیں۔ یہ تنخواہیں جنوری 2017ء کی تنخواہ کے ساتھ فروری میں ملے گی۔ اس فیصلے سے سرکار پر فاضل 17958 کروڑ کا مزید اقتصادی بوجھ پڑے گا۔ ملازمین کی تنخواہ میں اوسطاً 14.22 فیصدی اضافہ ہوا ہے جو بنیادی اسکیل کے مطابق دیکھیں تو یہ اضافہ 32فیصدی بیٹھتا ہے۔ ساتھ ہی پنشنروں اور کنبہ جاتی پینشن یافتگان کی بڑھی ہوئی پنشن دی جائے گی۔ ساتویں پے کمیشن کا فائدہ سبھی ریاستی ملازمین ٹیچروں اور پڑھے لکھے ملازمین اور شہری بلدیاتی کارپوریشنوں ،آبی اداروں ، ضلع پنچایتوں و ڈولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر پبلک سیکٹر اداروں کو ملے گا کیونکہ تنخواہ کمیشن کی سفارش کا سیدھا تعلق لاکھوں سرکاری ملازمین اور پنشن یافتگان سے ہوتا ہے اس لئے کوئی بھی سیاسی پارٹی اس کی مخالفت نہیں کرسکتی۔ یہ فیصلہ سماجوادی پارٹی کے اندر چلے گھماسان کے پس منظر میں اٹھایاگیا ہے۔ جس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پارٹی تمام اندرونی اختلافات کے باوجود اسمبلی چناؤ میں اکھلیش کے کام کاج اور ڈولپمنٹ اور ان کے چہرے کے ساتھ ہی اترنا چاہتی ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں مسلم ووٹوں کے بغیر بھاجپا نے اتحادی پارٹی اپنا دل کے ساتھ 73 سیٹیں جیت لی تھیں۔ اب اسمبلی چناؤ میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے سپا بسپا میں مسلم ووٹوں کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ منگل کو کیبنٹ کی میٹنگ کے بعد وزیر اعلی اکھلیش یادو نے دوہرایا کہ اگر کانگریس سے اتحاد ہوتا ہے تو یہ گٹھ بندھن 300 سیٹیں جیتے گا۔ سرکاری ملازمین کو چناؤ سے ٹھیک پہلے بڑی تنخواہوں کا تحفہ اکھلیش کی حمایت میں ہوا بنانے میں کام آئے گا۔ لیکن یوپی میں سب سے زیادہ ذات پات چلتی ہے بیشک اکھلیش نے وکاس کرایا ہے لیکن پھر بھی ذات کی بنیاد پر ٹکٹ بٹیں گے اور قطعی فیصلہ ذات پات پر ہی ہوگا۔ ادھر بھاجپا جیت کا دعوی کررہی ہے سبھی پارٹیاں نئے نئے تجزیئے بٹھانے میں جٹ گئی ہیں۔
(انل نریندر)

16 دسمبر 2016

موجودہ ٹکراؤ میں جی ایس ٹی کا کیاہوگا

مرکزی سرکار کو گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو 16 ستمبر 2017ء تک نافذ کرناہوگا۔ پارلیمنٹ میں جو جی ایس ٹی بل پاس ہوا تھا اس کا آئینی جواز کی میعاد 16 ستمبر2017 ء کو ختم ہوجائے گی۔ اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا تو سرکار کے سامنے بڑی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔ مودی سرکار اب اگلے سال سے اس جی ایس ٹی کو نافذ کرانے کے لئے اپوزیشن پارٹی کو لبھانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ حال ہی میں ہوئی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ تو بغیر نتیجہ ختم ہوگئی تھی سرکار جی ایس ٹی بل پر سبھی ریاستوں سے رضامندی ملنے کے بعد دو دنوں کا اسپیشل سیشن بلا کر بل کو پاس کرانے کی پہل کرسکتی ہے۔ ابھی تک تو تمام ریاستوں میں جی ایس ٹی کو لیکر اتفاق رائے نہیں ہو پایا۔ 11 اور 12 دسمبر کو جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں سرکار کورضامندی کا بھروسہ تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ 16 دسمبر کو ختم ہورہے سرمائی اجلاس میں اس کے پاس ہونے کا امکان ختم ہوگیا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد پارلیمنٹ میں حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے جی ایس ٹی کو نافذ نہیں کیا گیا تو سرکار ان ڈائریکٹ ٹیکس نہیں وصول پائے گی کیونکہ جب تک موجودہ ٹیکس ختم ہوچکے ہوں گے اور نیا ٹیکس نافذ نہیں ہوگا۔ جی ایس ٹی جلد لاگو کیا جانا ضروری ہے کیونکہ ستمبر کے وسط کے بعد قانونی سپورٹ کے بغیر ٹیکس نہیں وصولا جا سکتا۔ امرواقع یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ یونٹوں پر کس طرح مرکز و ریاستیں دونوں میں کنٹرول ہو یا کسی ایک ہی کا کنٹرول ہو اس پر کوئی راستہ نہیں نکلتا دکھائی پڑ رہا ہے۔
حال ہی میں اختتام پذیر میٹنگ میں تو اس پر بحث تک نہیں ہوپائی۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ 22-23 دسمبر کی اگلی جی ایس ٹی کونسل میٹنگ میں کیا ہوتا ہے؟ لیکن اس وقت تو اس کے اعلان کردہ اپریل 2017ء سے لاگوہونے کا امکان ایک طرح سے مدھم ہی پڑ رہا ہے۔ حالانکہ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ مجوزہ بل میں تقریباً 195 دفعات ہیں جن میں سے 99 دفعات پر غور و خوض کیا گیا تھا۔ جیٹلی نے اپریل2017ء سے نافذ ہونے پر صرف اتنا کہا کہ مرکزی سرکار اس پر قائم ہے اور قائم رہنے اور نافذ ہونے میں فرق ہے۔ وجہ یہ کہ یہ اکیلے مرکز کا قانون نہیں ہے جسے آپ نے پاس کر نافذ کردیا۔ اس کے لئے کونسل کی رضامندی ہونی چاہئے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں پھر سے پاس ہونا ضروری ہے۔ کئی ریاستوں اور مرکز کے درمیان کچھ نکات کو لیکر اختلافات صاف ہیں اس معنی میں اگلی کونسل کی میٹنگ کافی اہم ہوگئی ہے۔ مرکز کی پوری کوشش ہوگی کہ کسی طرح سے اتفاق رائے بن جائے لیکن نوٹ بندی کے اشو نے جی ایس ٹی کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس وقت تو تمام اپوزیشن مودی سرکار کے خلاف متحد نظر آرہی ہے ایسے میں جی ایس ٹی کا کیا ہوگا؟
(انل نریندر)

اپنی حرکتوں سے باز آئے پاکستان

بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے جاری دہشت گردی کو بڑھاوا دینے سے باز آئے۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر کے علاقے کھٹوا میں شہیدوں کے سنمان میں ہوئی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یاد رکھے کہ دہشت گردی کے سہارے وہ جموں وکشمیر کو بھارت سے الگ نہیں کرسکتا۔ پاکستان مانتا ہی نہیں 1947ء سے وہ دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہا ہے اور تقریباً70 میں تو وہ کامیاب نہیں ہوا لیکن پاکستان کولو انٹینسسی وار راس آتی ہے۔ اس کو یہ کرائے کے جہادی مل جاتے ہیں اور آئے دن ہندوستانی فوج پر حملہ کر ہمارے جوانوں کو شہید کرتے ہیں۔ اس میں انہیں دو فائدے ہیں پہلا کہ اس کے اپنے فوجی مرنے سے بچتے ہیں ، دوسرااو ر ہندوستانی فوجیوں کو شہید کرتے ہیں۔ اس لئے ہمیں نہیں لگتا کہ وزیر داخلہ کی وارننگ کا کوئی خاص اثر ہوگا۔ وقتاً فوقتاً پاکستان کے ذریعے ہندوستان سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی پھیلانے کے ثبوت دنیا کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ بھارت اکیلا نہیں جو پاکستان کو دہشت گردی پھیلانے سے باز آنے کی وارننگ دیتا آ رہا ہے۔ افغانستان کے صدر نے بھی ایسی ہی وارننگ دی ہے۔ خود پی او کے کی تنظیم امن فورم کے نیتا سردار رئیس انقلابی نے بھی پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی پھیلانے سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ذریعے پی او کے میں چلائے جارہے دہشت گرد کیمپوں کو ختم کرنے کو بھی کہا ہے۔ 
سردار رئیس نے کہا پاکستان یہاں پر بھاڑے کے قاتلوں کو بھیج رہا ہے۔ پاکستانی سرکار اور فوج بھارت میں سرحد پار کرنے والے دہشت گردوں کو ایک کروڑ روپیہ دیتی ہے اور اس کے علاوہ انہیں دہشت پھیلانے کے لئے اسی طرح کا اسلحہ بھی مہیا کراتی ہے۔ غور طلب ہے کہ مظفر آباد سمیت سرحد سے لگے کئی علاقوں میں جیش محمد ، لشکر طبیہ سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے دہشت گردوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے اور انہیں ٹریننگ دینے میں پاک فوج و آئی ایس آئی ان کا پورا ساتھ دیتی ہے۔ پاکستان کشمیر میں لانچنگ پیڈ پر ایک بار پھر قریب 250 دہشت گرد جمع ہوئے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کو رپورٹ کے مطابق ان دہشت گردوں کا منصوبہ وادی میں حملوں کو تیز کرنا ہے۔ برہان وانی کو شہید کہہ کر نواز شریف بھی اپنا رخ ظاہرکرچکے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پھر بھی سرحد پار سے ہونے والی گھس پیٹھ اور دہشت گردی کے لئے جب پاکستان کی جواب دیہی طے کرنے کی بات اٹھتی ہے تو پاکستان یہ کہہ کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتا ہے یہ غیر سرکاری عناصر ہیں جو نان اسٹیٹ ایکٹر ہیں اور یہ اس کی نمائندگی نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ پھر پاکستان فوج اور آئی ایس آئی چوری چھپے ان کی مدد کیوں کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

15 دسمبر 2016

پانچ ریاستوں کے چناؤ ہی ہوں گے نوٹ بندی تجربے کا اصلی امتحان

نوٹ بندی کے بعد اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر گھنٹوں لگی جنتا کی لمبی لمبی قطاریں پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کی تیاریوں میں لگی بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کیلئے پریشانی کا سبب بنتی جارہی ہیں۔ خاص طور پر یوپی جہاں پارٹی و وزیراعظم نریندر مودی کا سب کچھ داؤ پر ہے۔ریاستی یونٹ کے لیڈروں نے مرکزی لیڈر شپ کو مطلع کیا ہے اگر ابھی چناؤ کی تاریخ آجاتی ہے چناؤ کمپین چلانے سے قطار میں لگے لوگوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں کسی بھی طرح چناؤ کچھ وقت کے بعد کرائے جائیں جب لوگوں میں ناراضگی تھوڑی ٹھنڈی پڑ جائے اور لائنیں کم ہوجائیں اور دیکھنے والی بات ہوگی کہ مرکزی لیڈر شپ کیسے مینج کر پاتی ہے۔ چناؤ کمیشن تو فی الحال یوپی کے چناؤ فروری کے مہینے میں ہی کرانے کے موڈ میں ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے مرکز کے نوٹ بندی کے قدم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دیش بھگتی سے جوڑی جارہی اس کارروائی سے دیش کا ہی نقصان ہوا ہے اور اس کی حمایت کررہے لوگوں کو جنتا چناؤ میں سبق سکھائے گی۔ وکاس کے جو کام تیزی سے ہورہے تھے وہ رک گئے ہیں۔ آپ کی معیشت پیچھے جارہی ہے۔ مرکزی سرکار نے معیشت کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ دیش کو ایسے الجھایا کہ جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اکھلیش نے 2 ہزار کے نئے نوٹوں کی خامیوں کی طرف توجہ مرکوز کراتے ہوئے کہا کہ یہ نیا نوٹ آنے سے کالا دھن رکھنے والوں کو الٹے سہولت مل گئی ہے جو کالا دھن وہ ہزار میں رکھا کرتے تھے اب وہ دو ہزار کے نوٹ کی شکل میں رکھ رہے ہیں۔ 2000 کے نوٹوں کی چھپائی میں بھی گڑ بڑی ہے۔ ادھر سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو نے سرکار پر الزام لگایا کہ اس نے دیش کے ایک دو بڑے صنعت کاروں کی رائے پر نوٹ بندی کا فیصلہ کیا اور کسی سیاسی پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ملائم نے پیر کو لوک سبھا میں کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد آ رہی مشکلات کے چلتے اور قطاروں میں کھڑے رہنے سے اترپردیش میں 16 لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں جبکہ دیش بھر میں 106 لوگوں کی موت ہونے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے سرکار سے کہا آپ کو یہ کام کرنا تھا تو سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کو بلانے میں کیا پریشانی تھی؟ چپکے سے رات 8 -9 بجے (8 نومبر) اپنا فیصلہ سنا دیا۔ نوٹ بندی اور اس سے لوگوں کو ہی تکلیف کے مسئلے پر اپوزیشن سرکار کو لگاتار آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ جاری ہے لیکن وزیر عظم مودی اور بی جے پی مودی کا اس بڑے تجربے کا اصلی ٹیسٹ اگلے سال ہونے والے پانچ ریاستیوں کے اسمبلی چناؤ میں ہوگا۔ بی جے پی نوٹ بندی کو غریب بنام امیر کی لڑائی میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ بھی اشارے مل رہے ہیں کہ بی جے پی اس کے ذریعے ذات برادریوں کے مکڑ جال سے نکلنے کی کوشش کررہی ہے۔ کم سے کم ایسا کرتے ہوئے دکھانے کی کوشش تو کرہی رہی ہے کہ سیاست میں اس طرح کا پہلا تجربہ ہے چاہے اسے سب سے بڑا رسک کہا جائے یا پھر برادریوں کے دائرے کو توڑنے کی کوشش۔ وزیر اعظم یہ پروپگنڈہ کرا رہے ہیں کہ نوٹ بندی نے روحانیت اور سائیکلوجیکل طور سے غریبوں کا دل جیت لیا ہے لیکن سرکار کے دعوؤں اور اپوزیشن کے احتجاج کا اصلی امتحان چناوی دنگل میں ہی ہوگا۔ چناؤ نتیجوں سے ہی پتہ چلے گا کہ کیا غریب بنام امیر کا یہ داؤ یوپی میں مایاوتی کی قیادت میں ابھر رہے دلت ۔مسلم اتحاد کو ہرا سکتا ہے یا نہیں ہیں؟ کیا پنجاب میں اکالی دل کے ساتھ رہنے سے ہو رہے نقصان کی بھرپائی بی جے پی کر پاتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح اتراکھنڈ میں کانگریس کی سرکار گرانے سے کانگریس کے تئیں پیدا ہمدردی کی کا ٹ بی جے پی اس مسئلے سے کر پاتی ہے یا نہیں؟ بھلے ہی اوپری طور پر ذات کے مکڑ جال کو توڑنے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے لیکن اندرسے ایسا نہیں ہے۔ بی جے پی سب سماج کو لبھانے کیلئے بیشک نوٹ بندی کو سامنے رکھ رہی ہو لیکن اندر اندر ذات ۔ پات کارڈ بھی کھیلے گی۔ کل ملاکر مودی اور بی جے پی کا سیاسی مستقبل کچھ حد تک آنے والے پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج پر ٹک گیا ہے۔
(انل نریندر)

سینا چیف کے بعد اب پاک آئی ایس آئی چیف

پاکستان میں کئی اہم تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ پہلے فوج کے چیف کو بدلا گیااب آئی ایس آئی چیف بدل گیا ہے۔ خفیہ معاملوں کے تجربہ کار لیفٹیننٹ جنرل مختار کو پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا نیا چیف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ قواعد نئے فوجی چیف قمر جاوید باجوا کی دیش کے معاملوں میں اہم رول نبھانے والی فوج پر پکڑ مضبوط کرنے کے لئے کی گئی ہیں۔ یہ پہلی بڑی ردو بدل کا حصہ ہے۔ نئے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار بھارت کے خلاف جارحانہ رخ اپنانے کے حق میں رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں بھارت کے رول کو محدود کرنے کے سخت قدم اٹھانے کی وکالت کی۔ نوید مختار کا خیال ہے کہ افغانستان کو بھارت کا مہرہ بننے سے روکنے کے لئے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مختار کو بھی جنرل باجوا کی طرح وزیر اعظم نواز شریف کا آشیرواد حاصل ہے اور دونوں ہی نواز کے چہیتے مانے جاتے ہیں۔ اس طرح دونوں کی تقرری سے لگتا ہے کہ نواز شریف فوج اور آئی ایس آئی پر اپنی پکڑ زیادہ مضبوط کرناچاہتے ہیں۔ جنرل مختار آئی ایس آئی کی انسداد دہشت گردی برانچ کے پہلے چیف بھی رہ چکے ہیں۔ مختار نے پانچ سال پہلے ایک پیپر میں لکھا تھا کہ امریکی فوج کے کابل چھوڑنے سے پہلے افغانستان سرکار میں اصلاح پسند طالبان کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ امریکی آرمی وار کالج میں اپنے مقالے کے دوران انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ افغانستان میں بھارت کا رول محدود ہونا چاہئے۔ بتا دیں موجودہ آئی ایس آئی چیف رضوان اختر کے پی ایم نواز شریف کی سرکار سے کچھ رشتے ٹھیک نہیں تھے۔ اخبار ڈان کے مطابق اڑی حملے کے بعد بڑے فوجی حکام اور سرکار کے درمیان ملاقات میں رضوان اور پنجاب سرکار کے وزیراعلی اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف میں تلخ بحث ہوئی تھی۔ نوید مختار کو سرکار اور فوجی لیڈر شپ دونوں کا بھروسہ مند بتایا جارہا ہے۔ وہ دونوں کے درمیان اختلافات دور کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ مختار کو آئی ایس آئی چیف پہلے ہی بنا دیتے لیکن اس وقت کے فوج کے چیف جنرل راحیل شریف نے اسکی مخالفت کی تھی۔ ان کے ہٹتے ہی نواز نے آئی ایس آئی چیف بدل ڈالا۔ پاکستان میں ہر فوج کے چیف کی طرح جنرل باجوہ نے بھی نئی ٹیم بنائی ہے اور فوج کے انتظامیہ میں کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں اور اسی سلسلے میں جنرل مختار کی تقرری کو بھی دیکھا جانا چاہئے۔بھارت کے لئے جنرل مختار سے کسی دوستانہ حکمت عملی کی امید بیکار ہے، لیکن اگر وہ اپنے شہری ایڈمنسٹریٹر کا احترام کرتے ہوئے دیش کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر لگام لگائیں اور دونوں ملکوں کے رشتو ں میں دہشت گردی کو نہ آنے دیں تو یہ اس برصغیر کے لئے بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

13 دسمبر 2016

ہندوستان کی تاریخ میں پہلا ایئر فورس سابق چیف گرفتار ہوا

ہندوستان کی فوج کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی فوج کے چیف کو دلالی لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ہم بات کررہے ہیں سرخیوں میں چھائے اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خرید گھوٹالے میں ہندوستانی ایئر فورس کے سابق چیف ایس۔ پی۔ تیاگی کی۔ اس معاملے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے تیاگی کے چچیرے بھائی سنجیو عرف جولی تیاگی اور ان کے ساتھی گوتم کھیتان کو گرفتار کیا ہے۔الزام ہے کہ ان لوگوں نے 3600 کروڑ روپے میں انگلو اٹیلین کمپنی اگستا ویسٹ لینڈ سے 12 AW-10 وی وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کی خرید کا سودا کروایا تھا۔ یہ سودا کرانے میں تینوں پر دلال کی معرفت 423 کروڑ روپے کی دلالی کھانے کا الزام ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو تینوں ملزمان کو 14 دسمبر تک کیلئے سی بی آئی حراست میں بھیج دیا ہے۔ تینوں کو آئی پی سی کی دفعہ120 بی، 420 اور انسداد کرپشن قانون 1986 کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ مسٹر تیاگی نے بھٹانگر ضلع مجسٹریٹ سجیت سورو کے سامنے اپنے خلاف عائد الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں۔ تیاگی نے وکیل کی معرفت کورٹ کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر خرید کا فیصلہ انہوں نے اکیلے نہیں لیا تھا۔ اس کی جانکاری اس وقت کے پی ایم او کو بھی تھی۔ بات سال2013ء کی سردیوں کی ہے۔ تب دیش میں یوپی اے ۔II کی سرکار تھی۔ سرکار میں وائٹ مین کے نام سے مشہور اے کے انٹونی وزیر دفاع تھے۔ یہی کوئی نومبر کا مہینہ رہا ہوگا۔ اٹلی کے ایک اخبار میں شائع خبر نے ہندوستانی میڈیا کی توجہ مرکوز ہی نہیں کی بلکہ مرکزی سرکار کو بھی سکتے میں ڈال دیا۔ ملان (اٹلی) کے اخبار میں جو خبر چھپی تھی اس کامختصر مواد یہ تھا کہ بھارت سرکار نے اٹلی۔ برٹن کی کمپنی فن مکینیکا کی سب کمپنی اگستا ویسٹ لینڈ سے3700 کروڑ روپے کے جن 12 وی آئی پی ہیلی کاپٹروں کی خرید کا سودا کیا ہے اس میں 51 ملین یورو (350 کروڑ)روپے کی دلالی کھائی گئی ہے۔ اس دلالی کو بے نقاب وہاں کے میڈیا میں فن مکینیکا کمپنی کے ایک ملازم نے ہی کیا تھا۔جو کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر دوسد اوٹسی کا مخالف بتایا جارہا تھا۔ اوٹسی کو اٹلی کی عدالت نے قصوروار ٹھہرایاتھا اور انہیں ساڑھے چار سال جیل کی سزا دی تھی۔ معاملے کی سماعت کے دوران اٹلی کی ملان عدالت کے فیصلے میں یوپی اے سرکار کا بھی تذکرہ تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کورٹ نے کہا تھا کہ یوپی اے سرکار نے جانچ میں مدد کیلئے ضروری دستاویز نہیں دئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فیصلے میں سنوراگاندھی اور بھارتیہ سیاستدانوں کے نام کا بھی ذکر آیا تھا۔ حالانکہ ان سبھی پر کوئی الزام نہیں لگائے گئے تھے۔ اٹیلین نے سنورا کا مطلب شریمتی ہوتا ہے۔ کورٹ کے دستاویز میں اس ڈیل سے وابستہ دلالوں کی آپسی بات چیت کا بھی ذکر ہے جنہوں نے مسز گاندھی کو اس سودے کا ڈرائیونگ فورس بتایا ہے۔ حالانکہ بعد میں اٹلی کی عدالت نے صاف کیا تھا کہ سودے میں کسی ہندوستانی سیاستداں کے شامل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بھاجپا نے اس اشو کو لیکر کانگریس پر حملہ بولا تھا۔ حالانکہ کانگریس کی جانب سے ان الزامات کو سرے سے مسترد کردیا گیا تھا۔ 8 ہیلی کاپٹر میں زیادہ اونچائی بھرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔ انڈین ایئر فورس سیاچن اور ٹائیگر ہل جیسی جگہوں کے لئے 6 ہزار میٹر کی اونچائی بھرنے میں اہل ہیلی کاپٹر خریدنا چاہتی تھی۔ تیاگی نے ایئر فورس چیف بننے کے بعد سودے کی شرط میں ڈھیل دے کر اڑان کی اونچائی کو گھٹا کر 4500 میٹر کردیا تھا۔ اس سے اگستا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹراس سودے کی ریس میں شامل ہوگیا۔ الزام ہے کہ اونچائی کم کرانے کے لئے ہی رشوت کا لین دین ہوا تھا۔ اس معاملے میں درج ایف آئی آر میں سابق ایئر چیف ایس پی تیاگی کا سیدھے لین دین یا رشوت لینے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے مگر یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان کے دو بھائیوں (رشتے داروں) نے بچولیئے گیوٹو ہیرکے کے ذریعے سے 1.26 لاکھ یورو (90 لاکھ روپے) اور 2 لاکھ یورو تقریباً (1.42 کرو ڑروپے) کی رقم حاصل کی۔ یہ رقم آئی ڈی ایس تیونیسیا کمپنی کی معرفت سے مشیر کار کی فیس کی شکل میں لی گئی تھی۔ تیاگی کی گرفتاری کے وقت پر کانگریس پارٹی نے سوال اٹھایا ہے۔ پارٹی کے ایک نیتا نے کہا کہ سرکار کے پاس جب پچھلے 30 ماہ سے تیاگی کے خلاف ثبوت تھے تو اس نے ان کی گرفتاری کیوں نہیں کی؟ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے خلاف دیش میں مچے کہرام سے توجہ ہٹانے کے لئے حکومت نے تیاگی کی گرفتاری کی ہے۔ یہ سوچی سمجھی چال ہے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے جہاں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ویسے انڈیا ایئر فورس کے لئے یہ شرم کی بات ہے۔
(انل نریندر)

مسلم پرسنل لاء بورڈ کو عدالت نے دکھایا آئینہ

پچھلے طویل عرصے سے اخباروں سرخیوں بنا تین طلاق کا مسئلہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ دو مسلم خواتین کی طرف سے داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان عورتوں کے حق کی بات کہی ہے جو اس کا خمیازہ بھگتی ہیں۔ ان لوگوں اور گروپوں کو بھی تقویت دی ہے جو طلاق کے ثلاثہ کی کافی عرصے سے مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ پہلی بیوی کو طلاق دے کر دوسری شادی کرنے والے ایک مسلم شخص اور اس کی دوسری بیوی کے پولیس ٹارچر سے سکیورٹی دلانے سے متعلق عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم خواتین کے آئینی حقوق اور مختلف فرقوں کے پرسنل لاء کے بارے میں جو کچھ کہا اس پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت ہذا نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اس سے مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ جس طرح کی مانگ اٹھ رہی تھی ٹھیک اسی کے مطابق کورٹ نے بھی کہا کہ کوئی بھی پرسنل لاء بورڈ آئین سے بالاتر نہیں ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف مسلم خواتین کو طاقت دیتا ہے بلکہ آئین کو بالاتر ماننے والے لوگوں کو بھی تقویت دیتا ہے کیونکہ کسی بھی دیش میں آئین ہی بالاتر ہوتا ہے اور اسی کے مطابق سسٹم چلتا ہے۔ مختلف فرقوں میں رائج پرسنل لا بورڈ کا کوئی بھی شق ہندوستانی آئین کے ذریعے شہریوں کو دئے گئے حقوق کا قبضہ نہیں کرسکتی۔ صاف ہے کہ ہائی کورٹ نے مسئلے کی حساسیت اور سپریم کورٹ کے وقار دونوں کا خیال رکھتے ہوئے متبادل اور مثبت رخ اپنایا ہے۔ اس نے فیصلہ عرضی پر دیا ہے ،تین طلاق کے جواز پر نہیں۔ اگر تین طلاق پر بات ہوتی تو کورٹ اس فرق کی ضرور تشریح کرتا جو فٹا فٹ تین طلاق کہہ کر، یا فون، اسکائپ، فیس بک وغیرہ کے ذریعے تین بار طلاق لفظ بول کر رشتہ توڑ لینے اور طے عمل کے مطابق90 دن کے فرق میں سماج میں شامل کرتے ہوئے طلاق دینے میں ہے۔ اس معاملے میں اسلام سے جوڑنے پر آمادہ پرسنل لاء بورڈ کے لوگوں اور مسلم سماج کے کٹر پسند عناصر کو یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ وہ مذہب کے نام پر کسی زیادتی کی اجازت تو نہیں دے رہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس بنیاد پر تین طلاق کی حمایت کررہا ہے کہ یہ مسلم پرسنل لاء سے جڑا ہے اور دیش کو دوسرے مذاہب کی رسم و رواج کا احترام ضرورکرنا چاہئے لیکن اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایسا کوئی بھی قانون، روایت آئین سے نہ ٹکرائے ،کیونکہ کوئی بھی مذہب آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے صاف بھی کیا ہے کہ اسلام میں طلاق کے معاملے میں ویسا رخ نہیں ہے جیسا مسلم پرسنل لاء بورڈ یا تین طلاق کے حمایتی بتا رہے ہیں۔ اب سب کی نگاہیں سپریم کورٹ کی طرف ہیں جہاں امید کی جاتی ہے مسلم خواتین سے انصاف ہوگا۔
(انل نریندر)

11 دسمبر 2016

کرپشن کو دور کرتے یہ کرپٹ بینک افسران

وزیر اعظم نے جب 8 نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ بتائی گئی تھی کرپشن دور کرنا۔ دیش کی عوام نے اس اعلان کا اس لئے بھی خیر مقدم کیا تھا لیکن جیسے جیسے دن گزرتے گئے دیش کے سامنے کرپشن کی ایک نئی شکل آنے لگی ہے ، یہ تھا بینکوں کا کرپشن۔ نئے نوٹوں کی پرانے 500-1000 کے نوٹوں کی ادلہ بدلی میں کچھ کرپٹ افسران نے کروڑوں کی ہیرا پھیری کرڈالی۔ اکثر یہ شبہ جتایا جاتا رہا ہے کہ چاہے بڑھتے ایم پی اے کا معاملہ ہو یا بڑی رقم کا مشتبہ لین دین کا، کچھ بینک افسروں کی ملی بھگت کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ کالے دھن کو سفید کرنے کے تازہ معاملوں نے واقعی ہی بینکنگ سسٹم کے اندر کرپٹ عناصر کی موجودگی ثابت کردی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بدھوار کو دیش بھر میں 50 سے زائد بینک شاخوں میں چھاپہ مارا۔ اس کا مقصد منی لانڈرنگ اور حوالہ سودوں کا پتہ لگانا ہے۔ ای ڈی نے10 بینکوں کی 50 شاخوں پر یہ کارروائی شروع کی۔ ان میں پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کے دونو بینک ہیں یہ چھاپے دہلی، ممبئی،بنگلورو ، حیدر آباد، کولکتہ اور چنئی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی مارے گئے۔ایسی بینک شاخوں کے ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے جہاں بڑی مقدار میں پرانے نوٹ جمع کرائے گئے یا پھر کھاتوں میں ایک بار میں کئی مرتبہ بھاری رقم جمع کرائی گئی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایکسس بینک کے افسران کے ساتھ سانٹھ گانٹھ میں مبینہ طور سے نوٹ بدلنے سے متعلق منی لانڈرنگ جانچ میں اب تیسری گرفتاری کی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے) راجیو کشواہا کو گرفتار کیا ہے ۔ کشواہا منی لانڈرنگ انسداد قانون کے تقاضوں کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ سی بی آئی نے 500-1000 کے نوٹوں کو منسوخ کرنے سے متعلق ریزرو بینک کی گائڈ لائنس کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرنے پر بدھوار کو بنگلورو میں سینٹرل بینک آف انڈیا کے ایک سینئر منیجر اور ایک کمپنی کے دو مالکوں کو گرفتار کرلیا۔ نوٹ بندی کے بعد سامنے آئے راجستھان میں دوسا میں واقع ایس وی بی جے بینک کے کیشئر نے 1 کروڑ روپے بدلے تھے جس کے لئے کسی بھی شناخت نامہ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ معاملہ میں دو دیگر بینک افسران کا رول بھی مشتبہ ہے۔ معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیج نے کئی راض کھولے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کیشئر نے جے پور اور دوسا کے باشندے اپنے دو دوستوں کے لئے 1 کروڑ روپے بدلنے کے لئے 22 فیصد کمیشن یعنی 22 لاکھ روپے لئے تھے۔ یہ رقم اس کے بینک کھاتے میں ایک ساتھ جمع ہوئی۔ ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پورے دیش میں نئے نئے نوٹوں کے کھیپ کیسے پکڑی جا رہی ہیں۔ ایک طرف تو غریب جنتا اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہر گھنٹوں لائنوں میں لگی ہوئی ہے اپنے ہی پیسے نکلوانے کیلئے اور دوسرے طرف کروڑوں روپے کے نئے نوٹ پکڑے جارہے ہیں؟ محکمہ انکم ٹیکس نے جمعہ کو چنئی میں 8 مقامات پر چھاپہ مار کر 90 کروڑ روپے نقدی اور 100 کلو سونا برآمد کیا۔ ان 90 کروڑ میں چلن سے باہر ہوچکے نوٹ اور نئے نوٹ شامل ہیں۔ مرکزی سرکار کے نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد سے اب تک نقدی کی قلت دور نہیں ہوپائی ہے۔ عام لوگ گھنٹوں بینک کی قطاروں میں کھڑے رہے لیکن کئی رسوخ والے لوگوں نے جوڑ توڑ سے نوٹوں کی ادلہ بدلی کرلی۔ قریب ایک ہفتے پہلے نوئیڈا کے سیکٹر51 کے باشندے صنعت کار کے گھر بجلی محکمہ کا ایک لائن مین کچھ کام کرنے آیا تھا۔ کام ہونے کے بعد اس نے پیسے مانگے تو اس کی بیوی نے اسے500 روپے کا پرانا نوٹ تھمادیا۔ کیونکہ لائن مین انڈسٹریلسٹ کا پرانا واقف کار تھا تو اس نے اس کی بیوی سے کہا یہ نوٹ تو بند ہوچکے ہیں اگر آپ کے پاس نئے نوٹ نہیں ہیں تو پیسے بعد میں دے دینا۔ ساتھ ہی اس نے بتایا کہ نئے نوٹ نہیں مل رہے ہیں کیا؟ میں بدلوا سکتا ہوں۔ اس کے دعوے کی جانچ کے لئے عورت نے اسے500 روپے کے نوٹوں کی ایک گدی (50 ہزارروپے) بدلوانے کے لئے دے دئے۔ اس لائن مین نے تین گھنٹے کے اندر ہی 50 ہزار کی رقم 2000 اور 100 روپے کے نوٹوں میں لاکر صنعت کار کی بیوی کو پہنچائی اور کہا اگر اور نوٹ بدلوانے ہیں تو وہ انہیں بھی بدلوا دے گا۔ روزانہ بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر محض 2000 روپے کے لئے دھکے کھاتے لوگوں کی پریشانی کے درمیان اتنی آسانی سے اتنی بڑی رقم بدلہ جانا بھلے ہی حیران کن ہے لیکن سرمایہ داروں اور بڑے افسرو ں کے لئے بینکوں میں نوٹ بدلوانا نقدی کے بحران کے دور میں بھی کچھ کرپٹ بینک افسران کی وجہ سے آسان بنا ہوا ہے۔بینکوں میں جب نئی نوٹوں کی سپلائی آتی ہے تو اس کا کچھ فیصد حصہ وہ عام جنتا کو بانٹا جاتا ہے باقی موٹی رقم یا تو کچھ خاص لوگوں کے لئے رکھی جاتی ہے یا پھر موٹی کمیشن لیکر بدلنے کے لئے۔ دہلی بھاجپا ٹریڈ سیل کے ذریعے پردیش دفتر میں منعقدہ ایک میٹنگ میں دہلی کی بڑی ٹریڈ انجمنوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کاروباری بدانتظامی کیلئے بینک ملازم زیادہ قصوروار ہیں کیونکہ جہاں عام کاروباری کرنٹ یا بچت کھاتوں سے پیسے نکالنے کے لئے مشکل ہورہی ہے وہیں بڑی تعداد میں بازار میں آئے نوٹ بینکوں اور بینک ملازمین کی جعلسازی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد تاجروں نے اپنے تجربوں پربھاجپا کے قومی نائب صدرشیام جاجو و پردیش بھاجپا کے پردھان منیش تیواری سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ ادھر خبر آئی ہے کہ کولکتہ میں بھاجپا کا ایک مقامی لیڈر 33 لاکھ روپے کے نئے نوٹ کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔ ساری رقم 2000 کے نوٹوں پر مبنی تھی۔ گرفتار لیڈر منیش شرما بردوان ضلع کے رانی گنج کا باشندہ ہے۔ اس کے ساتھ 6 کوئلہ مافیہ بھی گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ آخر میں سرکار پے ٹی ایم سے ساری ادائیگی کرنے کی بات کررہی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سرکار آن لائن پیمنٹ لین دین پر زور دے رہی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کی تھوڑی سی بھول بدمعاشوں کے لئے فائدے کا سودا ہوسکتی ہے۔ شاہدرہ علاقے میں بیگ دوکاندار کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ ای والٹ کا استعمال کرنے والے لوکیش جین پے ٹی ایم سے اپنے بجلی کے بل ادا کررہے تھے اسی دوران ان سے اوٹی پی (ون ٹائم پاسورڈ) مانگا گیا۔ اوٹی پی دیتے ہی ان کے پے ٹی ایم کھاتے سے 17580 روپے اڑا لئے گئے۔ نوٹ بندی کے بعد اپنا لین دین پے ٹی ایم سے ہی کررہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے پے ٹی ایم بھی محفوظ نہیں ہے۔بینکوں نے تو کرپشن کو دور کرنے کے مقصد سے ڈھنڈورا پیٹ کر یہ اسکیم رکھد دی ۔ کرپشن کو دور کرنے کے لئے کرپشن کا نیا طریقہ اپنا لیا ہے۔ سرکار اگر آج مشکل میں ہے تو اس کے لئے بینک بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...