Translater

‏Anil Ambani لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Anil Ambani لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

14 مارچ 2012

موہالی سیمی فائنل فکس تھا: اخبار کاسنسنی خیز خلاصہ



Published On 14 March 2012
انل نریندر
کرکٹ میچ میں فکسنگ کا جن بوتل سے باہر آگیا ہے۔ انگلینڈ کے مشہور اخبار ' دی سنڈے ٹائمس' نے انکشاف کیا ہے کہ 2011ء ورلڈ کپ موہالی میں کھیلا گیا بھارت ۔ پاک سے سیمی فائنل فکس تھا۔برطانوی اخبار نے دہلی کے ایک سٹوریہ سے بات چیت اور اپنی جانچ کی بنیاد پر دعوی کیا ہے۔ دی سنڈے ٹائمس بہت ہی مقبول اخبار ہے جس کے بھروسے پر کم ہی شبہ ہوتا ہے۔ ایسی سنسنی خیز رپورٹ وہ بغیر ٹھونس ثبوت اور جانچ کے نہیں شائع کرسکتا۔ضرور انہوں نے اپنے ثبوت اور ان کے بارے میں تصدیق کی ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے سٹے بازوں نے کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے کی پیشکش کی تھی۔ فکسنگ کے اس بھنور میں ایک بالی ووڈ اداکارہ کے شامل ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔ میچ پچھلے سال30 مارچ کو موہالی میں کھیلا گیا تھا اور اس میچ میں بھارت نے پاکستان کو ہرایا تھا۔ سٹے بازوں کا دعوی ہے کہ وہ انگلش کاؤنٹی انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹیسٹ میچ آئی پی ایل اور جہاں تک بنگلہ دیش پریمئر لیگ تک کے مقابلے فکس کرتے ہیں۔ اخبار نے فکسنگ سے متعلق سبھی اطلاعات اور ثبوت آئی سی سی کو سونپ دئے ہیں۔ اس کے ترجمان نے اس پر کہا کہ ہم اطلاعات فراہم کرانے کے لئے اخبار کے شکر گذار ہیں۔ ہم ان الزامات کی جانچ کریں گے۔ جائز ناجائز بازاروں میں کرکٹ میں سٹے بازی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جس طرح ہر میچ پر لاکھوں ڈالر سٹے پر لگتے ہیں اس سے سٹے بازوں کو میچ سے متاثر کرنے کے اندیشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ برطانیہ کے اخباروں نے پہلے بھی میچ فکسنگ، اسپاٹ فکسنگ کے دعوے کئے ہیں۔ 2010ء میں نیوز آف دی ورلڈ نے تین پاکستانیوں سلمان بھٹ، محمد آصف اور محمد عامر پراسپاٹ فکسنگ کے الزام لگائے۔ جانچ کے بعدتینوں کو لندن کی ایک عدالت نے قصوروار قراردیا اور جیل بھیجا۔ ایک دوسرے معاملے میں پچھلے مہینے ایک سابق گیند باز مارون ویسٹ فیلڈ کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ موہالی کے میچ میں شبے کی کئی وجوہات نظر آتی ہیں۔ سچن تندولکر(85) رن کے چار کیچ چھوڑنا۔ مہیندر دھونی (85) رن کا کیچ بھی چھٹا تھا۔ پاک گیند باز عمر گل کی انتہائی خراب کارکردگی، مصباح الحق کے 56 تن76 گیند کی دھیمی بلے بازی اور پاکستانی کپتان شاہد آفریدی کا تیسرا پاور پلے دیر سے لینا۔ آخر بالی ووڈ حسینہ کون ہے جسے بنیادبنا کر ورلڈ کپ 2011ء کا بھارت۔ پاک میچ فکس کیا گیا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ بالی ووڈ میں ایک فلم کرچکی یہ حسینہ اور کچھ ماڈلنگ بھی کرتی یہ اداکار ہ دہلی کی ہے۔ یہ ملان اور پیریس وغیرہ میں ریمپ واک کرچکی ہے۔ سنڈے ٹائمس نے اس کا چہرہ چھپاتے ہوئے اس کی بکنی میں ایک فوٹو بھی چھاپی ہے۔ اخبار کے مطابق اس نے دلالوں کے اشارے پر کھلاڑیوں سے رابطہ قائم کیا اور انہیں اپنے جال میں پھنسا لیا۔ اخبار کے مطابق پیسہ اور حسن کا جال ہی وہ نیٹ ورک ہیں جس کے ذریعے سے دلال یہ سب کرتے ہیں۔ اخبار نے دلال کے حوالے سے دعوی کیا ہے آخر سچن کے چار کیچ کیوں چھوڑے گئے؟ کیوں عمرگل نے آٹھ ہی اوور میں68 رن دئے؟اس الزام میں کچھ تو دم ہے کے کچھ کھلاڑی پیسے کے لئے ایمانداری کا سودہ کرلیتے ہیں اور کچھ چھوٹی موٹی اطلاعات جیسے پچ کا مزاج کیسا رہے گا، موسم کیسا رہے گا، ٹاس کون جیتے گا وغیرہ اطلاعات لینے کے لئے پیسہ لیتے ہیں لیکن ان سے میچ کے نتیجوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ میچ کے نتیجے پر سیدھے سیدھے تب اثر پڑتا ہے جب ایک یا کئی کھلاڑی مل کر سٹے بازوں کا ساتھ دیں۔ میچ فکس کرنے یا دلال کے مطابق نتیجے نکالنے کے لئے یہ کھلاڑی دھیمی رفتار سے بیٹنگ کرسکتے ہیں، کیچ ڈراپ کرسکتے ہیں، ڈھیلی گیندے پھینک کر زیادہ رن دے سکتے ہیں، اب یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی (یا ہندوستانی) کھلاڑی کچھ پیسوں کے لئے ایسے ہی ہائے وولٹیج میچ فکس کرسکتے ہیں؟ جواب نہیں بھی ہوسکتا ہے،کیونکہ ٹورنامنٹ جیتنے پر انہیں کہیں زیادہ رقم ملتی جو دلالوں نے انہیں پیشکش کی تھی۔بلے بازی کو دھیمی رفتار سے رن بنانے کے لئے 34.30 لاکھ روپے دئے گئے جبکہ گیند بازوں کو زیادہ رن لٹانے کے لئے39 لاکھ روپے دئے گئے۔ 5 کروڑ 54 لاکھ روپے کی بھاری بھرکم رقم اس کھلاڑی یا افسر کو دینے کی پیشکش کی گئی جو میچ کے نتیجے کی گارنٹی دے سکے۔ اس میچ میں شبے کی گنجائش اس لئے بھی پیدا ہوئی ہے کیونکہ شعیب اختر کے کیریئر کا یہ آخری میچ تھا لیکن کپتان شاہد آفریدی نے مقابلے سے کچھ دیر پہلے انہیں باہر بٹھا دیا۔ پاکستان کی جانب سے چار کھلاڑی کامران اکمل،عمر اکمل،وہاب ریاض اور یونس خان کھیلے جن پر پہلے ہی سے فکسنگ کے الزام تھے۔ میچ سے کچھ وقت پہلے ہی پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے پاکستان ٹیم کو فکسنگ کی وارننگ دی تھی۔ موہالی میں کھیلے گئے اس سیمی فائنل میں بھارت نے 260/9 اور پاکستان 231/10 نتیجہ بھارت29 رن سے جیتا تھا۔
Anil Ambani, Daily Pratap, Match Fixing, Sunday TImes, Vir Arjun

04 اکتوبر 2011

2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں انل امبانی کا کردار؟



Published On 4th October 2011
انل نریندر
سی بی آئی نے دعوی کیا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ریلائنس دھیرو بھائی امبانی گروپ کے مالک انل امبانی کے کردار کی آگے کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں کلین چٹ نہیں دی گئی ہے۔ آئی اے ڈی جی کے چیئرمین انل امبانی کو کلین چٹ دئے جانے سے متعلق خبریںآنے کے بعد سی بی آئی نے ایتوار کو اپنے ترجمان کے ذریعے سے اس بارے میں پوزیشن صاف کردی ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ انل امبانی کے کردار کی جانچ اس لئے بھی کرنا ضروری ہے کیونکہ تہاڑ جیل میں بند ان کے تین بڑے افسران نے کسی بھی طرح کے غلط کام میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ ریلائنس انل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے تین گرفتار سینئر افسر جانچ کے دوران دئے گئے اپنے بیانوں سے مکر گئے ہیں اس لئے حقیقی طور پر فوائد حاصل کرنے والوں کا پتہ لگانے کیلئے آگے کی جانچ کی جارہی ہے۔
سی بی آئی نے کہا کہ آئی اے ڈی اے جی کے تین افسران گوتم دوشی، سریندر تیپارا اور ہری نائر نے مجرمانہ سیکشن کی دفعہ161 کے تحت دئے گئے اپنے بیان میں فیصلے کے لئے پوری ذمہ داری لی تھی لیکن دہلی ہائیکورٹ میں وہ اس سے مکر گئے۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش وکیل کے کے گنگوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا کہ انہوں نے فیصلے کی ساری ذمہ د اری لی تھی لیکن بڑی عدالت میں ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران وہ بولے کہ ہم تو ملازم تھے اور ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا۔ سی بی آئی نے عدالت کو اس گھوٹالے میں امبانی ۔ ٹاٹا گروپ ، ویڈیو کون کی بالادستی والی ڈیٹم اور اٹارنی جنرل جی ای واہنوتی کے خلاف مختلف الزامات میں اپنی جانچ کی مفصل جانکاری دی اور کہا کہ انل امبانی کے خلاف جانچ جاری ہے۔ لیکن اسے اس گھوٹالے میں دیگر کے خلاف مقدمہ چلانے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
جانچ ایجنسی کے ذریعے دو دن پہلے سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوان ٹیلی کام میں9.9 فیصدی شیئر کے معاملے کو لیکر انل امبانی اور دیگر ملازمین کے رول کی جانچ کی جارہی ہے۔ یہ شیئر ماریشس کی کمپنی ڈیلفی کو فروخت کئے گئے تھے۔ سی بی آئی نے جانچ کی پیش رفت کے بارے میں 29 ستمبر کوسپریم کورٹ میں پیش’’ وضاحت خط‘‘ میں کہا کہ جانچ میں ایسا کوئی زبانی یا تحریری ثبوت نہیں ملا ہے جس سے لگتا ہے مختلف کمپنیوں کے دوبارہ زندہ اور پیسے کی منتقلی میں انل امبانی ملوث ہیں۔
سی بی آئی نے یہ جواب اس معاملے میں دائر عرضی گذار وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے عدالت کو دئے گئے ایک خط کے جواب میں دیا گیا۔عدالت میں سی بی آئی نے کہا عرضی گذار نے اس خط کے اس کی جانچ کی غیر جانبداری اور ایمانداری کے بارے میں غلط رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنتا جاننا چاہتی ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں شری انل امبانی کا صحیح کردار کیا تھا؟ اگر سی بی آئی کی جانچ پر شک کیا جارہا ہے تو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ جو بار بار متضاد بیان دے رہی ہے۔ کبھی کلین چٹ دیتی ہے تو کبھی کہتی ہے کہ آگے جانچ کرنا ضروری ہے اور ہم نے انل امبانی کو کوئی کلین چٹ نہیں دی ہے؟
2G, Anil Ambani, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Reliance Telecom, Supreme Court, Swan Telecom, Vir Arjun

18 اگست 2011

انا کی آندھی ہے ، یہ دوسرے گاندھی ہیں

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 18th August 2011
انل نریندر
منگل 16 اگست کا دن ہمیشہ یادرہے گا۔ یہ کوئی فلم سے کم نہیں تھا۔ پورے دن سسپنس ، ڈرامہ، اموشن سبھی دیکھنے کو ملے۔ سارے دیش کی نظریں انا ہزارے پر لگی ہوئی تھیں ،دیکھیں آج انا کیا کرتے ہیں۔ انا اپنے کہنے پر کھرے اترے، تمام طرح کے دعوؤں کے باوجود انا اپنے موقف پر اٹل رہے اور رہیں گے۔ منگل کی صبح دہلی پولیس کے سینئر افسر قریب ڈھائی سو جوانوں کولیکر میور وہار فیز I میں واقع سپریم انکلیو میں پرشانت بھوشن کے فلیٹ پہنچے۔ قریب آدھے گھنٹے تک بات چیت کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو پولیس نے انا کو اسی فلیٹ میں جس فلیٹ میں رکے تھے وہاں سے حراست میں لے لیا۔ انا کو جیسے ہی انووا کار میں کرائم برانچ کے آدمی لیکر باہر نکلے تو گاڑی کو ہجوم نے گھیر لیا۔ لوگوں نے یوپی لنک روڈ جام کردیا۔ انا ہزارے کو علی پور روڈ پر واقع دہلی پولیس کے آفیسر میس میں لایا گیا۔ بعد میں انا کو امن بھنگ کرنے کے اندیشے میں گرفتار کرنے کا اعلان ہوا۔ انا کے حمایتیوں کے ڈرسے پولیس نے انہیں نامعلوم مقام پر بھیجنے کی تیار کی۔ پولیس انا کو گاڑی میں بٹھا کر لے گئی۔ تقریباً دو گھنٹے تک انا کو لیکر سسپنس بنا رہا۔ دہلی پولیس نے بھی اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کردیا۔ تقریباً 12.15 بجے انا کولیکرپولیس کی ٹیم راجوری گارڈن میں واقع پولیس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچی۔ یہاں خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت میں انا ہزارے کو پیش کیا گیا۔ انا کے حلف نامہ دینے سے منع کرنے پر انہیں جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا۔ دن میں 3.15 بجے انا ہزارے کو لیکر پولیس کی ٹیم تہاڑ جیل کے لئے روانہ ہوئی لیکن ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر جمع بھیڑ نے احتجاجی مظاہرے شروع کردئے۔ پتھراؤ میں انا ہزارے کو لے جارہی کار کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ تقریباً پونے چار بجے شام انا ہزارے کو لیکر پولیس تہاڑ جیل پہنچی۔ جیل کے حکام نے انا کو جیل نمبر 4 میں رکھے جانے کا فیصلہ لیا۔ ان کے دیگر ساتھیوں اروند کیجریوال ، شانتی بھوشن، کرن بیدی کو بھی گرفتار کر تہاڑ لایاگیا۔
انا کی گرفتاری کی خبر پورے دیش میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ کچھ ماحول ویسا ہی تھا جو ایک زمانے میں جے پی تحریک کے وقت میں بنا تھا۔ جنتا سڑکوں پر اترآئی تھی۔ نعرے لگ رہے تھے ، عورتیں ،بچے، بوڑھے سبھی متحد ہوتے نظر آئے۔ جے پی تحریک اور انا تحریک میں ایک بہت بڑا فرق نظر آیا وہ تھا الیکٹرانک میڈیا کا آنا۔ ٹی وی سے زمین آسمان کا فرق آگیا ہے۔ انا کو پولیس تہاڑ جیل لے گئی یہ خبر بھارت کے کونے کونے میں تو پہنچی ہی بلکہ بیرونی ممالک تک اسی وقت پہنچ گئی۔ دیش کے کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ دھرنے مظاہرے شروع ہوگئے۔ مرکزی سرکار کو شاید یہ امیدنہ رہی ہوگی کہ انا کو ایسی عوامی حمایت ملے گی۔ وناش کالے وپرت بدھی یہ کہاوت منموہن سنگھ سرکار پر انا ہزارے کو تہاڑ لے جانے سے صحیح ثابت ہوتی ہے۔ انا کو اسی تہاڑ جیل میں لے جایا گیا جہاں اے راجہ، کنی موجھی، سریش کلماڑی جیسے بدعنوان لوگ بند ہیں۔ جو آدمی کرپشن کے خلاف گاندھی گری سے احتجاج کررہا ہے اس کو اسی جیل میں لے جایا جائے جہاں بدعنوانی میں ملوث لوگ رکھے گئے ہیں، کتنا تضاد ہے۔ تہاڑ میں قیدیوں تک انا کی حمایت میں نعرے لگنے لگے۔ ذرائع کی مانیں تو جب انا کو شام میں تہاڑ جیل لایاگیا تو یہاں کے سیکورٹی ملازمین تک کو انا کودیکھنے کی خواہش تھی۔ کچھ قیدیو ں کا کہنا تھا کہ ہمیں بند کریں تو بات سمجھ میںآتی ہے مگرانا ہزارے جیسے شخص کو گرفتار کرنا کہاں تک صحیح ہے؟ یہ تو ایک عام آدمی کی پریشانی ہے وہ دیش کو کھوکھلا کرنے والوں کو سزا دلوانے کے لئے لوکپال بل لانے کیلئے گاندھی گری کو ساتھ لیکر انشن کررہے ہیں۔ ان کا اس میں کیا قصور ہے جو ان کو بند یا سزا دی جارہی ہے؟ ایسے لوگوں کو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ذرائع تو یہاں تک بتاتے ہیں کہ کچھ قیدیوں نے باہر نکل کر ان کے مشن میں حصہ بننے کی بھی بات کی اور کچھ نے ایک دن کا انشن کرنے کی بات کی۔ جب انا ہزارے جیل میں بند تھے تو ان کے ہزاروں حمایتی جیل کے باہر مظاہرہ کررہے تھے اور نعرے بازی ہورہی تھی۔ اسی وقت انڈیا گیٹ پر کینڈل مارچ ہورہا تھا۔ چھترسال اسٹیڈیم میں جہاں مظاہرین کو رکھا گیا تھا وہاں جم کر نعرے لگ رہے تھے۔ پورے دیش سے جنتا کے سڑکوں پر آنے کی رپورٹیں ٹی وی پر چل رہی تھیں۔ سرکار انا کی حمایت کو دیکھ کر بوکھلا گئی اور دہلی پولیس نے وہ کام کیا جو اس نے شاید پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ اس نے تہاڑ میں انا کو بغیر شرط چھوڑنے کا حکم بھیج دیا۔ اس پر دہلی پولیس نے تھوڑی ہوشیاری سے کام لیا ۔ اس نے 4 جون کو جس طرح بابا رام دیو کے حمایتیوں کو رام لیلا میدان سے طاقت کے زور پر باہر نکالنے کے لئے لاٹھیوں کا سہارا لیا تھا ، اس بار وہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ اور پولیس نے سوجھ بوجھ سے سارے معاملے کو ہینڈل کیا۔
انا کی تحریک اب پورا رنگ دکھاچکی ہے۔ انا اشونہیں جیسے بابا رام دیو کا اشو نہیں بلکہ اصل اشو بدعنوانی اور مہنگائی ہے۔ جنتا کا خیال ہے کہ کرپشن کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے اور یہ سرکار نہ تو کرپشن کو روکنے میں نہ مہنگائی کم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ میں سندر نگر میں رہتا ہوں منگلوار کی شام کو جب میں گھر لوٹا تو ہماری سندر نگر ایسوسی ایشن سے بھیجا گیا ایک سرکولر پڑا ملا تھا۔ یہ سرکولر سارے سندر نگر کے باشندوں کو بھیجا گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ آج شام 7 سے8 بجے تک بتی گل رکھیں اور بدعنوانی سے پاک تحریک کی حمایت کریں۔ جب جنتا میں اس طرح کا جذبہ ہو تو آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کے انا کی تحریک کتنی عوامی بن چکی ہے۔ انا ٹھیک کہتے ہیں کہ عوامی لوکپال بل سے بدعنوانی مٹ نہیں سکتی لیکن کم ضرور ہوسکتی ہے۔ 65 فیصد تک بدعنوانی کم ہوجائے تو انا کی مہم کامیاب مانی جائے گی۔
فی الحال انا تہاڑ میں ہی اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس آرٹیکل کے لکھنے تک جو خبریں آرہی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ انا اپنی شرطوں کو منواکر ہی تہاڑ جیل سے جے پی پارک یا رام لیلا میدان انشن کیلئے جا سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ منگل کی رات جیل انتظامیہ نے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنی شرطیں پوری ہونے تک جیل سے باہر آنے سے منع کردیا جس وجہ سے انہیں تہاڑ جیل کے انتظامی بلاک میں ہی رات گذارنی پڑی۔ تہاڑ جیل کے ترجمان سنیل گپتا نے بتایا کہ انا ہزارے کی شرطیں اعلی افسروں تک پہنچا دی گئیں تھیں۔ وہیں جنتا کی نبض پہچاننے میں منموہن سرکار نا کام رہی ہے۔ یہ حکومت شروع سے ہی انا تحریک کو ملنے والی عوامی حمایت کو صحیح طریقے سے جانچنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی وجہ سے جہاں ایک طرف حکومت نے اپنے کھوکھلے پن اور بوکھلاہٹ کی تصویر پیش کی ہے وہیں وناش کالے وپرت بدھی بھی گنوا بیٹھی ہے۔ گاندھی وادی انا ہزارے کا ستیہ گرہ تیور اور ان کی حمایت میں منگلوار کو دیش بھر میں عوامی سیلاب سرکار کے لئے بھاری ثابت ہوا۔ لوکپال کے اشو پر انا کو انشن سے روکنے کی کوشش میں سرکار کو منہ کی کھانی پڑی اس لئے انا کوصبح گرفتار کرنے والی دہلی پولیس رات تک انہیں تہاڑ جیل سے باہر لانے کیلئے منتیں کرتی رہی۔ پولیس نے ان کے خلاف سبھی معاملے واپس لے لئے لیکن انا جیل میں رہنے پر اڑے رہے۔ انہوں نے باہر آنے کیلئے جے پی پارک میں انشن کرنے کی تحریری اجازت دینے کی شرط رکھی۔ گرفتاری کے بعد انا نے کہا آزادی کی دوسری تحریک شروع ہوگئی ہے اور مجھے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لیکن میری گرفتاری سے تحریک قطعی رکنے والی نہیں۔ بدعنوان لوگوں کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ یہ تبدیلی کی لڑائی ہے جب تک تبدیلی نہیں آئے گی تب تک عوامی حکومت حاصل نہیں ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ سبھی لوگ گرفتاری دیں اور دیش میں کوئی بھی جیل خالی نہ بچے۔ سبھی حمایتی 8 دنوں تک اپنے کام سے چھٹی لیں اور تحریک میں کود پڑیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد میں شامل ہونے سے یہ تحریک مضبوط ہوگی۔
Anil Ambani, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, delhi Police, Lokpal Bill, Tihar Jail, Vir Arjun

10 اگست 2011

امریکی معیشت کے چرمرانے کا اثر ساری دنیا پرہوگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th August 2011
انل نریندر
جب دنیا کی سب سے مضبوط مانی جانے والی امریکی معیشت ڈگمگا جائے تو اس کا اثر باقی ملکوں پر پڑنا فطری ہی ہے۔ ساری دنیا کے معاشی جگت میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ مالی ساکھ کے سب سے خاص AAA کلب سے امریکہ کو بے دخل کرنے کے بعد دنیا کی حکومتیں اور مالیاتی ریگولیٹری ہنگامی تیاریوں میں لگ گئی ہیں۔ امیر اور ابھرتے ممالک کے گروپ جی وزراء مالیات نے ایتوار کو ہی فون پر ہنگامی بات چیت شروع کردی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر دنیا کے بازاروں پر پڑا ہے۔ پچھلے ہفتے دنیا کے بازاروں میں قریب 2500 ارب ڈالر کا چونا لگ چکا ہے۔ ادھر اپنے دیش میں شیئر بازار میں گراوٹ سونامی لہر بن کر آئی اور دیکھتے دیکھتے سینسکس غوطہ کھا گیا۔ بمبئی اسٹاک ایکسچینج کا سنسکس 540 پوائنٹ ٹوٹ کر کھلا اور 17 ہزار پوائنٹ کی سطح سے کافی نیچے چلا گیا۔نفٹی میں بھی 130 پوائنٹس کی گراوٹ آئی ہے اور یہ پانچ ہزار کا لیول توڑنے کے قریب پہنچ گیا۔ گراوٹ کی سب سے زیادہ مار انفورمیشن ٹکنالوجی کی بڑی کمپنیوں پر پڑی۔ انفورسز ،بندرا پانچ فیصدی سے زیادہ کے شیئر ٹوٹ گئے۔ ٹاٹا موٹرز ، ریلائنس انڈسٹریز، آئی سی آئی سی آئی بینک، بھارتیہ ایئر ٹیل جیسی بڑی کمپنیوں میں بھی زبردست بکوالی ہوئی۔ غور طلب ہے کہ سینسکس میں پچھلے چار دن میں ہی ایک ہزار پوائنٹس کی گراوٹ آچکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اب تک مختلف اسٹاک ایکسچینجوں میں 200 لاکھ کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ کوئی دیش اس سے اچھوتا نہیں رہا۔ شیئروں کی گراوٹ کی ہلچل چین سے لیکر آسٹریلیا تک دیکھی گئی ہے۔
ادھر گرتے شیئر بازاروں کے درمیان بھارت میں سونے کی مانگ نے سارے پرانے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ پیر کی صبح ایم سی ایکس پر کاروبار کے دوران سونا 25 ہزار روپے 10 گرام تک چلا گیا۔ امید کی جارہی تھی کہ دیوالی تک سونا ریکارڈ سطح تک جا سکتا ہے لیکن دنیا بھر کے بازاروں میں گراوٹ کے درمیان سرمایہ کاروں کی سیف زون کی تلاش نے سونے کو ابھی اس بلندی تک پہنچادیا۔
ایم سی ایکس پر کاروبار کی شروعات کے ساتھ ہی سونا 350 روپے یعنی 1.4 فیصدی اوپر چلا گیا۔ اشیائے ضروریہ کے ماہرین مانتے ہیں کہ اگلے کچھ دنو ں میں سونا 27 ہزار روپے فی 10 گرام تک کی سطح پر پہنچ جائے تو زیادہ تعجب نہ ہوگا۔ امریکی ڈالر کی کمزوری کے ساتھ ہی سونے میں تیزی بڑھتی جائے گی۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار شیئر بازاروں سے پیسہ نکال کر محفوظ سمجھے جانے والے سونے میں پیسہ لگا رہے ہیں۔
دنیا بھر کے شیئر بازاروں میں بکوالی کے پیمانے سے پیر کی صبح کچے تیل کے دام کافی گرگئے۔ ماہ ستمبر کی ڈلیوری والے نیویارک مین لائٹ کروڈ کنٹریکٹ 2.86 فیصدی تک لڑھک تک84.55 فیصدی ڈالر فی بیرل پر آچکا تھا۔ اسی طرح پرینٹ نارتھ سیکروٹ بھی 2.66 فیصدی پھسل کر 106.48 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کررہا تھا۔اشیائے ماہرین کے مطابق، امریکی کریڈٹ کی دوبارہ ہوئی ریٹنگ میں بھی ڈاؤن گریڈنگ کے چلتے بازار میں غیر یقینی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کا بھروسہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس سے تیل کی ڈیمانڈ بھی متاثر ہوگی۔ غور طلب ہے کہ امریکہ دنیا میں تیل کا سب سے زیادہ کھپت کرنے والا ملک ہے اور اس کی کریڈٹ ریٹنگ پچھلے70 برسوں میں پہلی بار AAA سے گھٹ گھٹ کرAA+ رہ گئی ہے۔ ایک بار پھر ہندوستانی معیشت کا امتحان ہوگا۔
AAA Rating, America, Anil Ambani, Daily Pratap, USA, Vir Arjun

فسادات کی زد میں آیا لندن

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th August 2011
انل نریندر
لندن میں پچھلے تین دنوں سے دنگوں کا دور دورہ جاری ہے۔ نارتھ لندن کے ٹوٹنہم علاقے میں جمعرات کو پولیس فائرنگ میں ایک شخص کی موت سے بھڑکے فسادات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ خیال رہے جمعرات کو مبینہ طور پر پولیس فائرنگ میں 29 سالہ شخص مارگ ڈگن کی موت واقع ہوگئی تھی۔ جس کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ لیکن سنیچر کے بعد ان مظاہروں نے فساد کی شکل اختیار کرلی۔ افریقی نژاد کے سیاہ فام لوگوں نے پولیس پر جم کر پتھراؤ کیا۔ اخبار دی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو مارگ ڈگن نامی شخص کے قتل کے بعد مقامی سیاہ فاموں نے انصاف کی مانگ کرتے ہوئے سنیچر کی شام پانچ بجے کے قریب ٹوٹنہم کے ہائی وے روڈ پر ایک پرامن مظاہرہ کیا۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ لوگوں کا غصہ دیکھتے دیکھتے تشدد میں بدل گیا۔ موقعے پر سینکڑوں مظاہرین جمع ہوگئے۔
فسادیوں کو قابو کرنے کے لئے دنگا پولیس نے قابو پانے کی کوشش کی لیکن جب ایسا کیا تو فسادیوں نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ بول دیا اور ان کو آگ کے حوالے کردیا۔ معاملہ یہیں نہیں رکا، فسادیوں نے دکانوں کے شیشے توڑ کر اندر رکھا سامان لوٹنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی دکانیں لٹ گئیں۔ فسادیوں کو ٹرکوں میں سامان لاد کر بھاگتے دیکھا گیا۔ ٹوٹنہم میں بڑی تعداد میں افریقی اور کیربیا فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس خطے میں باقی لندن کے مقابلے میں بیروزگاری زیادہ ہے۔ ٹوٹنہم میں پہلی بار تشدد ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فسادات قریب 25 سال پہلے 1985 میں ہوئے برطانیہ کے خوفناک دنگوں سے ملتے جلتے ہیں۔پولیس افسر بلیک لاک کو قتل کردیا تھا۔500 سے زیادہ لڑکوں نے سڑکوں پر اترکر پولیس پر حملے ، بسوں میں آگ لگانے، دکانیں لوٹنے جیسی حرکتوں کو انجام دیا تھا۔ سڑکوں پر گشت لگا رہیں پولیس کی دو کاروں کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔ اس بار کے فسادات حالانکہ 1985 کے فسادات جتنے خوفناک نہیں لیکن تقریباً اسی طرح کے ہیں۔
یہ فساد ابھی بھی جاری ہے۔ بی بی سی ٹی وی کے کچھ ملازمین اور سیٹلائٹ ٹرک بھی حملے کے شکار ہوئے ہیں۔ واقعہ پر موجودہ بی بی سی کے نمائندے نے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ فائر برگیڈ کی گاڑیاں بھی تشدد کا شکار بنی ہیں۔ ایک چشم دید گواہ نے کچھ یوں سڑک کا منظر بیان کیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت جنگ کا منظر پیش کررہا ہے۔ میں نے پانچ لڑکوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے چہروں کو ڈھکا ہوا تھا۔ا نہوں نے کچرے کی ٹرالی کو آگ لگادی اور اسے پولیس کی طرف پھینک دیا۔ پولیس کے مطابق پولیس نے ایک گاڑی کو روکا جس میں لڑکا مارگ ڈگن بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق مارگ نے پولیس پر بغیر وجہ فائرننگ شروع کردی۔ اس کے بعد پولیس نے گولی چلائی۔ یہاں سے معاملہ شروع ہوا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے مارگ ڈگن کو بغیر وجہ مارا اور انہیں انصاف چاہئے۔ ٹوٹینہم سے بھڑکے تشدد این فیلڈ، بکسن، ڈاسٹون، اسلنگٹنگ، مستابو تک پھیل گئے ہیں۔ حملوں کے سلسلے میں اب تک100 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حملوں میں تقریباً دو درجن سے زیادہ پولیس والے بھی زخمی ہوچکے ہیں۔ انگلینڈ ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ جہادیوں کا بھی برطانیہ سب سے بڑا اڈہ بن گیا ہے۔ کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ لندن کے شہریوں نے وہاں شرعی قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی نژاد سیاہ فام تشدد نظریئے کے ہوتے ہیں۔ یہ فسادات کہیں اور زیادہ نہ پھیل جائیں ابھی تک تو ہندوستانی ۔ پاکستانی نژاد کے لوگ بچے ہوئے ہیں لیکن اگر فساد بڑھتا ہے تو وہ بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
Tags: Anil Ambani, Daily Pratap, London, London Riots, UK, Vir Arjun

07 اگست 2011

سونیا کی غیر موجودگی میں پارٹی اور حکومت

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 7th August 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ برسوں سے شریمتی سونیا گاندھی نے کانگریس صدارت کی کرسی سنبھالی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب وہ اتنے وقت تک پارٹی سرگرمیوں سے دور رہیں گی۔ سونیا جی کا امریکہ کے سلوآن کیٹرنگ کینسر میموریل میں ایک آپریشن ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق آپریشن کامیاب رہا اور اب وہ آئی سی یو سے باہر آگئی ہیں۔ ایسا لگتا ہے سونیا جی کو ہسپتال میں دو تین ہفتے رہنا پڑے گا۔ پھر اگر ڈاکٹروں نے اجازت دے دی تو وہ وطن واپس لوٹ آئیں گی اور انہیں لوٹنے کے بعد بھی کم سے کم ایک مہینہ آرام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے کچھ دنوں میں کانگریس پارٹی کو سونیا کی صلاح سے محروم رہنا پڑ سکتا ہے۔ جانے سے پہلے سونیا گاندھی نے چار نفری کمیٹی بنائی ہے جو پارٹی کا کام کاج دیکھے گی۔ راہل گاندھی ، احمد پٹیل، اے کے انٹونی، جناردھن دیویدی اس ٹیم کے ممبر ہیں۔ اس انتخاب پر بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ نیتاؤں کے منہ ضرور لٹکے ہوئے ہیں کہ میڈیم نے یہ ذمہ داری انہیں کیوں سونپی ہے۔
پرنب مکرجی نے جو پارٹی اور سرکار کے سنکٹ موچک ہیں ، کا نام نہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ ویسے تو پارٹی یا سرکار کو کوئی بھی پریشانی ہو تو پرنب دا ہی اسے سلجھاتے ہیں۔ وزیر اعظم بھی اس میں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی پی چدمبرم، دگوجے سنگھ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سونیا نے پارٹی اور سرکار کا کام کاج چلانے میں فرق کیا ہو۔ وزیر اعظم ، کپل سبل ،چدمبرم سرکار چلا رہے ہیں تو احمد پٹیل ، جناردھن دیویدی پارٹی کو چلائیں گے۔ راہل گاندھی دونوں میں ہیں کامن ہوں گے۔ یہ ہی حال اے کے انٹونی کا بھی ہے۔
یہ پہلی مرتبہ ہے جب راہل گاندھی کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کچھ لوگ اسے ان کی تاج پوشی کی شروعات مان رہے ہیں۔ یعنی وزیر اعظم منموہن سنگھ کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ دیر سویر راہل گاندھی کو وزیر اعظم تو بننا ہی ہے، اس لئے سونیا گاندھی چاہیں گی کہ اب یہ کام جلد سے جلد ہوجائے۔ آنے والے ایک دو مہینے بھارت کی سیاست میں اہم ہیں۔ سرکار اس وقت بحران سے گذر رہی ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت سمیت کئی ایسے اشو ہیں جنہیں سونیا گاندھی کے لوٹنے تک ٹالنا شاید آسان نہیں ہوگا۔ اگر کسی بھی بڑے مسئلے کا فیصلہ لینا پڑے تو قطعی فیصلہ کون لے گا؟ راہل گاندھی؟ ہم دعا کرتے ہیں کہ سونیا جی جلدسے جلد ٹھیک ہوکر گھر لوٹیں۔ لیکن بیماری کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ابھی تو یہ کھلے عام معلوم نہیں کے انہیں بیماری ہے کیا اور کس بیماری کا آپریشن ہوا ہے۔
ساری قیاس آرائیاں ہسپتال کے نام سے لگائی جارہی ہیں لیکن اتنا ضرور ہے بیماری کچھ زیادہ سنگین ہے نہیں تو سونیا اتنے دن باہررہنے پر کبھی راضی نہ ہوتیں۔ ضرور ایسی کوئی مجبوری رہی ہوگی جو ہندوستان کے ہسپتالوں و ڈاکٹروں کو نہیں چنا گیا اور امریکہ جانا پڑا۔ سونیا جی کو طویل عرصے تک آرام کی ضرورت ہوگی اس لئے پارٹی کو بھی دوررس حکمت عملی اسی حساب سے طے کرنی چاہئے۔ پارٹی اور سرکار میں تال میل ضروری ہے۔ خاص طور پر اس سنکٹ کے وقت میں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سونیا کی غیر موجودگی میں یہ تال میل کیسا بیٹھتا ہے؟ ہم سونیا جی کی تیزی سے صحت یابی کی توقع کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ بھگوان انہیں جلدصحت یاب کرے۔
Tags: Anil Ambani, Congress, Daily Pratap, Memorial Sloan-Kettering Cancer Center, Rahul Gandhi, Sheila Dikshit, Sonia Gandhi, Vir Arjun

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ...