Translater

Pranab Mukherjee لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pranab Mukherjee لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 جولائی 2012

کیا دگوجے سنگھ کی چھٹی تنظیم میں ردوبدل کی شروعات ہے؟

اب جب صدارتی اور نائب صدارتی چناؤ کا معاملہ نمٹ گیا ہے لگتا ہے کانگریس اور یوپی اے سرکار میں تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ موصولہ اشاروں سے لگتا ہے کانگریس صدر سونیا گاندھی اب تنظیم میں ردو بدل کرنے کے موڈ میں آچکی ہیں۔ خبر ہے کانگریس تنظیم میں کئی سرکردہ لیڈروں کو ہٹایا جائے گا اور کچھ کے پر کتر دئے جائیں گے اور کچھ کو کیبنٹ سے ہٹا کر تنظیم میں لایا جاسکتا ہے۔تنظیمی ردوبدل کیلئے سونیا گاندھی کے سینئر مشیروں سے صلاح مشورہ تقریباً پورا ہوچکا ہے۔ یوپی اور پنجاب کے چناؤ میں کراری ہار کو پارٹی ہضم نہیں کر پارہی ہے۔ اس سال اور2013ء میں کئی ریاستوں میں اسمبلی اور آنے والے لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر بھی یہ ضروری ہے کہ کانگریس اپنی تنظیم کو درست کرے۔ کیا شری دگوجے سنگھ کے پر کترنے سے یہ ردو بدل شروع مانی جائے؟ کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کو لیکر منگل کے روز افواہوں کا بازار گرم رہا۔ کہا گیا ہے کہ اترپردیش کی ہار کی وجہ سے سنگھ سے اترپردیش اور آسام کی ذمہ داری چھین لی گئی ہے۔ ایک وجہ یہ بھی سننے کو ملی کہ دگوجے سنگھ سے ان ریاستوں کی ذمہ داری ان کے متنازعہ بیانات کے چلتے لی گئی ہے تو دوسری طرف یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اپنی بیوی کی بیماری کی وجہ سے وہ خود ہی اپنی ذمہ داری سے آزاد ہوئے ہیں۔ بات بڑھتی دیکھ کانگریس سکریٹری جنرل اور میڈیا کے محکمے کے چیئرمین جناردن دویدی کو ان سبھی سوالوں کی تردید کرنے کیلئے آگے آنا پڑا۔ بتایا گیا ہے دگوجے سنگھ راشٹرپتی چناؤ کو لیکرکسی اور کام میں مصروف ہیں، لیکن انہیں الجھن اس وقت ہوئی جب سونیا گاندھی سے ملنے اترپردیش کے ممبران کے ساتھ کانگریس سکریٹری جنرل ڈی کے ہری پرساد 10 جن پتھ پہنچے جبکہ ریاست کے انچارج دگوجے سنگھ ہیں۔ اس سے پہلے الیکٹرانک میڈیا کے ہاتھ کانگریس پارلیمانی پارٹی کا ایک وہ خط لکھ گیا جس میں ممبران کے ساتھ سونیا گاندھی کی ملاقات کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ اس خط اور ہری پرساد کو اترپردیش کے ممبران کے ساتھ جاتا دیکھ کر اس بات کا خدشہ بڑھ گیا کہ کیا واقعی دگوجے سنگھ سے اترپردیش اور آسام کی ذمہ داری لے لی گئی ہے۔ سونیا گاندھی ان دنوں کانگریس ممبران پارلیمنٹ سے مل رہی ہیں۔ منگل کو وہ یوپی کے ممبران سے ملی تھیں۔ خبر ہے کہ کچھ وزرا نے جن میں وزیر دیہی ترقی جے رام رمیش اور وزیر صحت غلام نبی آزاد کے نام خاص ہیں ، نے مرکزی سرکار میں وزارت سے استعفیٰ دے کر پارٹی کی خدمت کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ صدر اور نائب صدر کے چناؤ کے فوراً بعد دونوں مرکزی کیبنٹ اور کانگریس تنظیم میں بڑی تبدیلی ہوگی۔ مرکزی کیبنٹ میں ردوبدل کے لئے کانگریس کے ساتھیوں کا بھی دباؤ ہے۔ شری پرنب مکھرجی کے جانے کے بعد سے وزارت مالیات کا عہدہ بھی بھرنا ضروری ہے۔ لگتا ہے کہ دونوں اور تنظیم میں ردوبدل ہوگی لیکن دیکھیں کیا ہوتا ہے؟

18 جولائی 2012

سرکار میں نمبر2-کی لڑائی کھل کر سامنے آئی

میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ مسٹر پرنب مکھرجی کے یوپی اے سرکار سے رخصت ہونے کے بعد سے اس منموہن سنگھ سرکار کو چلانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ پرنب دا اس حکومت کے سنکٹ موچک تھے وہ ہر سیاسی مسئلے کا حل نکال لیا کرتے تھے۔ اب منموہن سرکار کو پرنب بابو کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ سلسلہ شروع ہوبھی گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبر دو کا معاملہ الجھ گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبردو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکھرجی کے صدر کے عہدے کے امیدوار بننے کے بعد ان کی کرسی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ پرنب کے سرکار سے باہر جانے کے بعد راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار کی جگہ وزیر دفاع اے کے انٹونی کو وزیر اعظم کے بعد نمبردو کی جگہ دینے کا اشو یوپی اے اتحاد میں رسہ کشی کا سبب بن گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد منہ کھولنے والے مراٹھا سردار شرد پوار نے نائب صدر چناؤ کے لئے بلائی گئی میٹنگ سے دور رہ کر اپوزیشن کو یوپی اے کے اتحاد پرسوال اٹھانے کا ایک اور موقعہ دے دیا ہے۔ این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیر ذراعت شرد پوار یوپی اے I اورII میں کیبنٹ کی سینیرٹی میں پرنب مکھرجی کے بعد وہ آتے تھے۔ مکھرجی کے سرکار سے استعفیٰ دینے کے بعد نمبردو کی حیثیت انہیں ملنی چاہئے۔ مکھرجی کے استعفے کے بعد ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں شردپوار کو وزیر اعظم کی بغل میں بٹھایاگیا۔ پی ایم او کی وزرا کی سیریز والی ویب سائٹ سے بھی ان کا نام دوسرے نمبر پر تھا مگر بعد میں ویب سائٹ سے فہرست ہٹا دی گئی۔ ادھر میٹنگ کے دو دن بعد کیبنٹ میں وزرا کی سینیرٹی کے زمرے میں تبدیلی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو سرکار میں نمبردو بنا دیا گیا ہے۔ اس کے احتجاج میں این سی پی نے سنیچر کو نائب صدر کا امیدوار طے کرنے کیلئے بلائی گئی یوپی اے کی میٹنگ میں حصہ لینے سے منع کردیا۔ این سی پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق آزادی کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کیبنٹ میں سینیرٹی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نیتا نے کہا کہ این سی پی ایسی پارٹی نہیں ہے جو چھوٹے چھوٹے اشوز پر ہنگامہ کرتی آئی ہے لیکن ایسا رویہ ہماری بے عزتی ہے اور ہم یہ بے عزتی برداشت کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں۔ این سی پی نے کبھی بھی اس سے پہلے کیبنٹ میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے اور وجہ ہے شرد پوار کی بے عزتی۔ اپوزیشن نے اسے یوپی اے میں بکھراؤ کا ایک اور اشارہ دے دیا ہے۔ بھاجپا سکریٹری جنرل مختار عباس نقوی نے کہا کہ کانگریس اتحادی دھرم کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صدارتی چناؤ کے بعد یوپی اے ٹوٹ جائے گا اور دیش کو وسط مدتی چناؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوار کا تجربہ اور سینیرٹی پرنب مکھرجی کے برابر ہے۔این سی پی کے ایک نیتا نے کہا کہ اس مسئلے پر رسمی خانہ پوری سے پارٹی اپنی طرف سے کانگریس سے کوئی بات نہیں کرے گی لیکن جو ہوا وہ بیحد اعتراض آمیز ہے۔

28 اپریل 2012

اگلے صدر کیلئے ریس شروع ہوچکی ہے



Published On 28 April 2012
انل نریندر
بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی صدارتی چناؤ کے بارے میں غور و خوض او ر بحث میں تیزی آنے لگی ہے۔ دیش کے اعلی عہدے پر اس بار کون بیٹھے گا؟ سیاسی پارٹیوں نے ابھی سے ایک دوسرے کو ٹٹولنا شروع کردیا ہے۔ پارٹیاں صدارتی چناؤ کو اپنی طاقت کے مظاہرے کی ایک سخت آزمائش مان رہی ہیں۔ موجودہ صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل کے عہدے کی میعاد جولائی کے آخری ہفتے میں پوری ہورہی ہے۔ فروری مارچ کے مہینے میں اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت پانچ ریاستو ں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج اور پھر اس کے ٹھیک بعد58 راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے ایک ساتھ چناؤ ہونے کے بعدسیاسی تجزیئے بدلنے لگے ہیں۔ سیاسی نتیجہ غیر کانگریس غیر بی جے پی پارٹیوں کے حق میں زیادہ رہے اور اس سے تھرڈ فرنٹ کی سمت میں کام شروع کر ملائم سنگھ یادو اور ممتا بنرجی جیسے لیڈر سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہیں این سی پی لیڈر شرد پوار نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی بات مضبوطی سے رکھیں گے۔ خود ساختہ تھرڈ فرنٹ کے لیڈروں کو سرگرم ہوتے دیکھ دونوں کانگریس اور بھاجپا بھی اب اپنی اپنی پسند کے امیدوار آگے بڑھانے میں لگ گئے ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے یوپی اے امیدوار کو ہی رائے سنہا ہلس (راشٹر پتی بھون) پہنچانے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ یہ آغاز سونیا گاندھی نے این سی پی لیڈر شرد پوار سے شروع کیا ہے۔ بھلے ہی کانگریس کے امیدوار کے نام پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے مگر قیاس آرائی یہ ہے کہ نمبروں کے کھیل کو دیکھتے ہوئے پرنب مکھرجی کانگریس کا چہرہ ہوسکتے ہیں۔ کانگریس جانتی ہے کہ ان کے نام پر غیرا ین ڈی اے پارٹیوں کو بھی راضی کیا جاسکتا ہے۔ اگر سپا ،بسپا ،ترنمول کا ساتھ کانگریس مل جاتا ہے تو کانگریس اپنا امیدوار جتا سکتی ہے۔ کسی کانگریسی امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں موجودہ نائب صدر حامد انصاری کو ہی یوپی اے کا صدارتی امیدوار بنانے کے لئے پلان تیار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پہلی پسند سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہوسکتے ہیں۔ اس معاملے پر بھاجپا نے اپنی اتحادی پارٹیوں کے ساتھ غیر یوپی اے اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا دل ٹٹولنے کی کارروائی آہستہ آہستہ شروع کردی ہے۔ بھاجپا کلام کے علاوہ کسی دوسرے نام پر اسی صورت میں غور کرے گی جب اسے جیتنے کے لئے ضروری حمایت ان کے نام پر ملتی نظر نہ آئے۔ صدارتی چناؤ کی گھڑی بھلے ہی سماج وادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو بہت دور مان رہے ہیں لیکن پارٹی اپنا ہوم ورک پورا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ 2014ء میں لوک سبھا چناؤ کی چناوی جنگ کو سامنے رکھتے ہوئے سپا پوری شدت کے ساتھ مسلم امیدوار کی تلاش میں لگی ہے۔ اسی سلسلے میں ملائم کی ہدایت پر سپا کے دو بڑے لیڈروں نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ دوسری طرف سپا کی پسندیدہ فہرست سے عبدالکلام کا نام بھی تقریباً باہر ہوچکا ہے۔ قریشی کے ساتھ حامد انصاری کے نام پر بھی سپا میں سنجیدگی سے غور و خوض جاری ہے۔ کانگریس میں اور بھی کئی نام چل رہے ہیں لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار کو ذات پات کی حیثیت سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ڈاکٹر کرن سنگھ ، سشیل کمار شنڈے، فاروق عبداللہ اور سیم پترودہ جیسے نام بھی اچھالے جارہے ہیں۔ ریس شروع ہوچکی ہے فی الحال یہ پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کہ ہندوستان کا اگلا صدر کون ہوگا۔
Anil Narendra, APJ Abdulkalam, BJP, Congress, Daily Pratap, Hamid Ansari, Mulayam Singh Yadav, Pranab Mukherjee, President of India, Samajwadi Party, Vir Arjun

24 مارچ 2012

کیا منموہن، پرنب اور مونٹیک سنگھ 28 روپے میں گزارہ کرسکتے ہیں؟



Published On 24 March 2012
انل نریندر
پلاننگ کمیشن پتہ نہیں کونسی دنیا میں رہتا ہے۔ اس کی غریبی کی نئی تشریح تو غریبوں کا مذاق اڑانے جیسی ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق دیہات میں 22.42 روپے اور شہروں میں 28.65 روپے یومیہ خرچ کرنے والا شخص غریب نہیں ہے۔ اگر وہ غریب نہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ امیر ہیں؟ پچھلے سال ستمبر میں پلاننگ کمیشن نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے غریبی کے جو پیمانے پیش کئے تھے اس کو لیکر کافی واویلا مچا تھا۔ اس وقت غریب کا جو پیمانہ تیار کیا گیا تھا اس کے مطابق شہروں میں 32 روپے اور دیہات میں 28 روپے خرچ کرنے والا شخص غریب نہیں مانا گیا تھا۔ اقتصادی ماہرین اور سیاسی پارٹیوں کے ہنگامے پر سرکار غریبی کے نئے پیمانے تیار کرنے کو راضی ہو گئی تھی لیکن پیر کو غریبی کے جو نئے پیمانے پیش کئے گئے وہ تو پچھلی بار سے بھی زیادہ بے تکے اور بے بھروسہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص غریب ہے اسے ماننے میں سرکار کیوں ہچکچارہی ہے؟ پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین اور منموہن سنگھ کے چہیتے مونٹیک سنگھ اہلووالیہ (جنہیں وزیر اعظم وزیر خزانہ بنانا چاہتے تھے) نشانے پر ہیں۔ پلاننگ کمیشن کے نئے اعدادوشمار بتا رہے ہیں کہ دیش میں غریبوں کی تعداد گھٹ گئی ہے اور شہروں میں جس کی جیب میں28 روپے ہیں وہ تو غریب نہیں ہے۔ ان عجیب و غریب اعدادو شمار پر پارلیمنٹ میں بھاجپا اور یا لیفٹ پارٹیاں سبھی نے سرکار اور مونٹیک سنگھ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ بھاجپا کے ایس ایس اہلووالیہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کیا وزیر اعظم یا وزیر خزانہ یومیہ 28 روپے میں گزارہ کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا کونسی لائن کھینچی جارہی ہے 28 روپے کے یومیہ خرچ کو بنیاد مان کر غریبی کی روک تھام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ خط افلاس کی لائن نہیں ہے بلکہ یہ بھکمری کی لائن ہے۔ جنتادل (یو) کے ایم پی شیوآنندتیواری نے الزام لگایا کہ پلاننگ کمیشن ورلڈ بینک کے اشاروں پر کام کررہا ہے۔ جنتا دل (یو ) کے شردپوار نے اس موضوع پر بولتے ہوئے کہا کہ پلاننگ کمیشن کے نئے پیمانوں کو دیش کے غریبوں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین مونٹیک سنگھ اہلووالیہ جب بھی بولتے ہیں تو دیش میں واویلا کھڑا ہوجاتا ہے اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ پلاننگ کمیشن میں ایسے شخص کو بٹھایا جائے جو ورلڈ بینک کا سابق ملازم نہ ہوکر بنیادی حقیقت سے واقف ہو۔ شرد یادو نے کہا میری سرکار سے التجا ہے کہ پلاننگ کمیشن کو اس شخص (مونٹیک سنگھ) سے چھٹکارا دلائے یا پلاننگ کمیشن کو بند کردیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کو کیا الزام دیں، قصور تو سرکار کا ہے جو مانتی ہے۔ رپورٹ میں کمیشن نے پہلے بھی مذاق اڑایا تھا۔ رگھوونش پرساد سنگھ کی رائے بھی اسی طرح کی تھی۔ غریبوں کے ساتھ اس طرح کا مذاق غربت کے خاتمے سے متعلق اسکیموں پر سوال کھڑے کرتا ہے۔ملائم سنگھ یادو کا کہنا ہے لکھا پڑھا نہیں ہوں لیکن حقیقی طور پر دور دراز کے گاؤں میں جاکر دیکھئے ،اگر اس کی سچائی کی نظر سے دیکھا جائے تو دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی خط افلاس سے نیچے کی زندگی بسر کررہی ہے۔ حکومت نے جلد ہی نئے غذائی سکیورٹی قانون کے نفاذ کی بات کہی ہے۔ اس قانون کے تحت دیش میں ہر غریب کو 2 روپے کلو گیہوں اور3 روپے کلو چاول دیا جانا ہے۔ ایسے میں دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی کو رعایتی شرحوں پر گیہوں اور چاول مہیا کرانے سے سرکار پر مالی بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔ اس لئے سرکاریں غریبوں کی تعداد کم کرکے دکھانا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہوسکتی ہے کہ حکومت اپنی اقتصادی اصلاحات کی پالیسی کی پائیداری کو ثابت کرنے کے لئے بھی غریبوں کی تعداد کم دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ جس حساب سے اس سرکار کی اقتصادی پالیسیاں جاری ہیں اس سے تو اگر غذائی اجناس کی قیمتیں صرف10 فیصدی بڑھتی ہیں تو میرے بھارت مہان میں تین کروڑ لوگ غریبی کی ریکھا سے نیچے آجائیں گے۔ ہماری تجویز ہے کہ ہمارے ماہراقتصادیات منموہن سنگھ ، مونٹیک سنگھ اور سی رنگاراجن جیسے درجنوں اس حکومت کے اقتصادی ماہرین دیش کے دور دراز دیہات کا دورہ کریں اور دیکھیں کے آج غریب آدمی کن حالات میں زندگی بسر کرنے کو مجبور ہے۔ ایسا کرنے کے بعد طے کریں غریبوں کی تشریح کی ڈیفی نیشن۔ یہ تشریح بکواس ہے، غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Montek Singh Ahluwalia, Poverty, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

11 دسمبر 2011

مہنگائی پر بحث میں سشما اور پرنب دا میں نوک جھونک


Published On 11th December 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کے چلتے ہی اپوزیشن نے مہنگائی کے مورچے پر منموہن سرکار پر کرارا حملہ بول دیا ہے۔ اس مسئلے پر اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کی تقریر کافی اہم تھی۔ ان کے اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے درمیان نوک جھونک بھی اہم رہی۔ یہ دیکھ کر اچھا لگاکہ بھارت کی جنتا کی سب سے بڑی پریشانی دونوں اپوزیشن اور سرکار کی بیداری ہے اور جنتا کو اس سے نجات دلانے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔ سشما سوراج اور دیگر اپوزیشن لیڈروں نے مہنگائی پر بحث میں سرکار کی پالیسیوں و نیت ، وعدوں اور ارادوں کی دھجیاں اڑادیں۔ بحث کا آغاز مارکسوادی لیڈر گورو داس داس گپتا نے کیا تھا لیکن سرکار پر کرارا حملہ سشما نے بولا۔ جب پرنب مکھرجی نے مہنگائی شرح 11.8 فیصدی سے گھٹ کر6.6فیصدی ہونے کی بات کہی تو سشما نے کہا ریڑی اور بیڑی اور چھابڑی والے فیصدی کی زبان نہیں سمجھتے۔ انہیں بس یہ پتہ ہوتا ہے کہ کتنا پیسہ آتا ہے اور جاتا ہے۔ تلخ تبصرہ کرتے ہوئے سشما نے کہا اس سرکار کا امیروں کا پیمانہ ہے تو پاؤ بھر آٹا ،دو تولہ دال، ایک چمچ تیل اور ایک چٹکی نمک ہے ۔دیش کے 121 کروڑ لوگوں کو تو دو وقت کی روٹی چاہئے۔اس کے لئے ان کے پاس 242 کروڑ ہاتھ ہیں لیکن شرح سود بڑھا کر مہنگائی گھٹائیں گے تو ان ہاتھوں کا کام ضرور چھن جائے گا۔ انہوں نے کہا این ڈی اے کے عہد میں وزیر خزانہ فیصدی میں بجٹ نہیں دیتے تھے۔ ہندوستان کی معیشت کو ہارورڈ اور آکسفورڈ والے نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے سامنے ساکھ بہتر بنانے سے چھٹکارا نہیں ہوتا اس کے لئے غریب آدمی کی آمدنی بہتر ہونی چاہئے۔ قیمتوں میں اضافے کے لئے سرکار کی غلط پالیسیاں، بدعنوانی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سشما نے کہا اگر سرکار جنتا کو راحت دینے کے بجائے مایوسی اور لاچاری کی بات کرتی ہے تو اسے اقتدار سے ہٹ جانا چاہئے۔ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے ساتھ ہوئی نوک جھونک میں سشما نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا نمبروں کے کھیل سے دکھی جنتا کا پیٹ نہیں بھرتا۔ جمعہ کو بھی پرنب اور سشما کے درمیان مہنگائی پر نوک جھونک جاری رہی۔ اس وقت سشما نے پرنب سے کہا تھا کہ پیٹ اعداو شمار سے نہیں بھرتا دانوں سے بھرتا ہے۔ اس کے لئے عام آدمی کو جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ پرنب دا نے اپوزیشن خاص کر بھاجپا پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وقت اب جذباتی باتوں کا نہیں کام کرنے کا ہے۔ اگر مہنگائی کم کرنی ہے تو اپوزیشن کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ وہ مہنگائی گھٹانے کی تجویز کیوں نہیں پیش کرتی؟ اقتصادی معاملوں میں تعاون کیوں نہیں کرتے؟ پرنب دا نے کہا کیا اپوزیشن لیڈر چاہتے ہیں کہ ہم تیل کمپنیوں پر اتنا بوجھ لاد دیں کہ وہ ایک دن میں بند ہوجائیں۔ سشما سے بات کرنے کے لہجے میں پرنب نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ کھل کر بتائیں کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔ وہ چاہتے ہیں سبسڈی بڑھائی جائے یا سبسڈی کچھ سیکٹروں تک محدود رہے۔ سرکار جو کررہی ہے وہ انہیں منظور نہیں ہے۔ اگر منظور نہیں ہے تو وہ حکومت کو بتائیں کیا کرنا ہے؟ بیشک یہ صحیح ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس کچھ ٹھوس تجویزیں ہوں تو وہ سرکار کو ضرور دیں۔ لیکن ہم پرنب دا کو بتانا چاہیں گے کہ سرکار چلانا، پالیسیاں طے کرنا، جنتا کو راحت پہنچا سرکار کا کام ہے، اپوزیشن کا نہیں۔ آپ اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتے۔ اگر سرکار سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے امریکہ نواز اس وزیر اعظم اور ان کے سپہ سالار پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی پالیسیوں کو مسترد کردے۔ ان کی جگہ پرنب دا آپ خود پالیسیاں بنائیں۔ آپ ان دونوں سے کہیں زیادہ بہتر ماہر اقتصادیات ہیں۔ آپ سیاستداں ہیں جو عام آدمی کا دکھ درد بہتر سمجھتے ہیں۔ ماہر اقتصادیات وزیر اعظم نے تو دیش کا اقتصادی سسٹم ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے.
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Pranab Mukherjee, Sushma Swaraj, Vir Arjun

08 دسمبر 2011

ایف ڈی آئی پر رول بیک یا ہولڈ بیک پوزیشن واضح نہیں



Published On 8th December 2011
انل نریندر
ایف ڈی آئی پر سرکار کی پوزیشن ابھی تک صاف نہیں ہے۔ دراصل منموہن سنگھ سرکار کی نیت صاف نہیں لگتی۔ پہلے تو ممتا بنرجی سے کہہ دیا کہ آپ اس کوروکنے کا اعلان کردو لیکن جب اپوزیشن اس بات پر اڑ گئی کہ سرکار کو اعلان کرنا چاہئے تاکہ ایک اتحادی پارٹی کو تو وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج، بھاجپا کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، مارکسی ایم پی سیتا رام یچوری سمیت اپوزیشن کے لیڈروں سے تبادلہ خیال کر بتایا کہ ملٹی برانڈ ریٹیل میں 51 فیصدی ایف ڈی آئی کا فیصلہ روک لیا گیا ہے۔
سبھی پارٹیوں کے اتفاق رائے کے بعد ہی اس پر آخری فیصلہ کیا جائے گا لیکن تازہ خبر ہے کہ بدھوار کو ہوئی آل پارٹی میٹنگ میں اس پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ یعنی کل ملاکر سرکار نے اسے واپس لیا ہے یا اسے ٹالے رکھا ہے۔ ارون جیٹلی نے منگلوار کو کہا بھاجپا کو ایف ڈی آئی کے مسئلے پر رول بیک پر کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ جیٹلی نے کہا ایف ڈی آئی سے کسانوں ،چھوٹے دوکانداروں اور عام لوگوں کے مفادات پر صرف غیر ملکی کمپنیوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا بی جے پی اصلاحات کے حق میں ہے لیکن ایسی اصلاحات نہیں چاہئے جس میں مفادات کو نظر انداز کیا جائے۔ اس پرستاؤ کے پیچھے غیر ملکی دباؤ لگ رہا ہے اور ہم کسی بھی صورت میں اس کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ اس سے بھارت کے بازار چین میں بنے سستے سامان سے لد جائیں گے۔ ادھر سی پی ایم نے کہا کہ فیصلہ روکنے سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔ پارٹی تب تک اس کی مخالفت کرتی رہے گی جب تک اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔ مارکسوادی جنرل سکریٹری پرکاش کرات نے ایک پریس کانفرنس میں کہا سرکار کی منشا پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے بعد اسے لاگو کرنے کی ہے لیکن اسے پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سرکار پہلے اس ریزولوشن کو منسوخ کرے تبھی پارلیمنٹ چل پائے گی۔
ایف ڈی آئی کا پرستاؤ ہولڈ ہو یا بولڈ دونوں ہی صورت میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یہ شخصی ہار ہے اور وہ ایک بار پھر بری طرح سے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ اپنے اتنے برسوں کے عہد میں بطور وزیر اعظم منموہن سنگھ صرف دو مسئلوں پر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا چکے ہیں پہلا تھا امریکہ سے نیوکلیائی سمجھوتہ، دوسرا یہ ایف ڈی آئی کا ریزولوشن ۔ وزیر اعظم بار بار کہتے رہے ہیں کہ یہ تجویز کسی بھی حالت میں واپس نہیں ہوگی۔
اگر ایسا ہوا تو سرکار کی ساکھ پر دھبہ لگے گا۔ سیاسی حلقوں میں یہ عام اشارہ دیا جارہا ہے کہ منموہن سنگھ سرکار نے ریٹیل میں ایف ڈی آئی کا فیصلہ امریکی دباؤ میں لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتیہ ملٹی نیشنل لابی اسی مسئلے پر کام کررہی ہے تاکہ چالاکی سے چال کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں وزیر تجارت آنند شرما اس معاملے کو لاگو کرنے کے لئے ایک ایسی طاقت کی شکل میں کام کررہے ہیں جس کا اس معاملے پر ایک خاص لابی سے رشتہ ہے۔ ایف ڈی آئی پر کیبنٹ کے فیصلے کے اعلان کرنے کے فوراً بعد چنئی روانہ ہوگئے انہوں نے اپنے اسٹاف کو ایک خاص ملٹی نیشنل کمپنی سے رابطہ قائم کرنے کو کہا ہے۔اور ساتھ ہی اس فیصلے کی حمایت میں کسانوں کا رد عمل جاننے کے لئے ایک پروگرام منعقد کرنے کو بھی کہا ہے۔یہ سب اس وقت پتہ چلا جب ایک ٹی وی چینل نے اگلے ہی دن پنجاب کے کچھ کسانوں کی باتیں دکھائیں جو اس فیصلے کو لیکر اپنی خوشی ظاہر کررہے تھے۔ ان کسانوں نے سبزیوں کے دام مارکیٹ کی بہ نسبت زیادہ ملنے کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تعریف بھی کی تھی۔جنتا میں یہ پیغام جارہا ہے کہ منموہن سنگھ اور ان کے وزیر امریکہ اور ہندوستانی صنعتکاروں کے لئے کام کررہے ہیں۔وہ ان کے مفادات کو دیش کے جنتا کے مفادات سے اوپر دیکھ رہے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ اس مسئلے پر منموہن سنگھ کیا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ رول بیک یا ہولڈ بیک۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, FDI in Retail, UPA, Congress, Pranab Mukherjee, Mamta Banerjee,

کیا ایران نے امریکہ کے جدید ڈرون جہاز کو مار گرایا ہے؟



Published On 8th December 2011
انل نریندر
کیا ایران نے امریکہ کے سب سے جدید بغیر پائلٹ جہاز آر کیو170 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ایران نے ایتوار کو دعوی کیا تھا کہ اس نے امریکہ کے اس جہاز کو مشرقی حصے میں مار گرایا ہے۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ جہازوں کے بیڑے میں آر کیو170 سب سے جدید تکنیک والا جنگی جہاز ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ ان جنگی جہازوں کی تعیناتی حال ہی میں کی گئی تھی اور اس نے ہی ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے اوپر سے پرواز کی شروعات کی تھی لیکن پاکستان کا ایئرڈیفنس سسٹم اسے پکڑ نہیں پایا تھا۔ یعنی پاکستانی راڈار اس کا پتہ نہیں کرسکے۔امریکہ کو اب یہ پریشانی ستا رہی ہے کہ ایران امریکی تکنیک تک جزوی پہنچ بنانے میں اہل ہوگیا ہے۔ امریکہ کو اس بات کا ڈر ہے کہ اس کے انتہائی جدید ڈرون جہاز میں لگے آلات کا ایران کو پتہ چل جائے گا۔ اس میں کیا تکنیک اپنائی گئی ہے اس کی ایران کو جانکاری ہوجائے گی۔ حالانکہ ابھی تک ایرانی حکومت نے اس گرائے گئے جہاز کی کوئی تصویر جاری نہیں کی ہے۔ غیر مصدقہ خبروں کا دعوی ہے کہ ایک سائبر اٹیک کی وجہ سے یہ جہاز گرایا گیا۔ اس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں اس کا پتہ چلے۔ دوسری طرف امریکی افسر اب بھی ماننے کو تیار نہیں کہ اس ڈرون جہاز کو ایران گرانے میں اہل ہے۔ امریکی ڈیفنس محکمہ پینٹاگان کے ایک افسر نے کہا کہ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس جہاز کو دشمن نے مار گرایا ہے۔ لیکن اگر ایران نے واقعی اسے مارگرایا ہے تو یہ ایک معمولی بات نہیں ہے۔ اور امریکہ کے ڈیفنس محکمے کے لئے بھاری جھٹکا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ ایران اتنا اہل ہوگیا ہے کہ وہ امریکی تکنیک کابھی پتہ لگا سکے؟نیویارک ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ جہازوں کے بیڑے میں آر کیو170 سب سے جدید تکنیک والا جہاز ہے۔ یہ وہی جہاز ہے جس نے اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں واقع اڈے کی نگرانی کی تھی بلکہ اسی کے ذریعے سے وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوبامہ نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر لادن کے خلاف نیوی سیلس کی ساری کارروائی دیکھی تھی۔
اسی جہاز میں ایسے جدید ترین ویڈیو کیمرے لگے ہوئے ہیں جو اسامہ کے براہ راست حالات پہنچا رہے تھے۔ ممکن ہے ایران کے خفیہ ایٹمی ٹھکانوں یا میزائلوں کی تلاشی کے مشن پر اس ڈرون کو لگایا گیا ہو حالانکہ امریکہ کی رہنمائی والی انٹر نیشنل سکیورٹی اسسٹنٹ فورس نے ایک بیان میں کہا کہ ایران جس ڈرون کا ذکر کررہا ہے وہ ایک امریکی چھان بین کرنے والا جہاز ہو سکتا ہے جو پچھلے ہفتے مغربی افغانستان سے اڑا تھا۔ آئی ایس اے ایف نے کہا کہ ڈرون جہاز کو چلانے والے اس پر سے کنٹرول کھو بیٹھے تھے۔ اس نے ڈرون جہاز یا اس کے کھونے کی وجہ کے بارے میں حالانکہ کچھ نہیں بتایا۔ اس جہاز کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ادھر امریکہ کے ایک دوسرے اخبار لاس اینجلس ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ حکام نے بتایا کہ پچھلے مہینے تہران کے قریب ایک فوجی ٹھکانے پر دھماکہ اور امریکہ ،اسرائیل اور دیگر ملکوں کے بھی خفیہ آپریشن کا حصہ تھا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, FDI in Retail, UPA, Congress, Pranab Mukherjee, Mamta Banerjee,

30 نومبر 2011

خوردہ میں ایف ڈی آئی کا فیصلہ سرکار کو ٹال دینا چاہئے



Published On 30th November 2011
انل نریندر
خوردہ بازار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی منظوری کا اشو منموہن سنگھ سرکار کے لئے بڑا سیاسی درد سر بن گیا ہے۔ پارلیمنٹ سے لیکر سڑکوں تک حکومت کوایف ڈی آئی کے معاملے پر سخت اختلاف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوپی اے سرکار کے ملٹی برانڈ ریٹیل میں 51 فیصدی اور سنگل برانڈ ریٹیل میں 100 فیصدی کی اجازت دیکر کیبنٹ نے ایسی مصیبت مول لے لی ہے کہ کانگریس کے مخالفین تو ایک طرف سرکار کی کچھ اتحادی پارٹیاں بھی اس کے خلاف منظم ہوگئی ہیں۔ ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آیا ایسے وقت میں جب یہ حکومت مہنگائی، بلیک منی اور بیرونی ممالک میں جمع پیسے کو واپس لانے ، جن لوک پال کے مسئلے سے گھری ہوئی تھی اسے بھی اسی وقت یہ ایف ڈی آئی کا مسئلہ لانا تھا؟ حکومت کی ٹائمنگ پر حیرانی ہورہی ہے۔ پہلے کرپشن، گھوٹالوں، مہنگائی کے مورچے پر یوپی اے سرکار کی ناکامیوں کا اثر اس کی رہنمائی کررہی کانگریس کی صحت پر بھی پڑنے لگا ہے۔ سرکار کے فیصلوں کے چلتے ایک کے بعد ایک نئی مشکل پیدا ہونے سے کانگریس پارٹی کے چہرے پر بھی بل پڑنے لگا ہے۔ پارٹی کے لئے سب سے بڑی پریشانی اگلے سال پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہیں۔ پنجاب اور جھارکھنڈ میں تو اگلے دو تین مہینے میں چناؤ ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد اترپردیش جیسے پردیش کے ملک کے سامنے سب سے بڑی ریاست کا چناؤ ہے۔ جس میں پارٹی کی ہار جیت پر سکریٹری جنرل راہل گاندھی کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر اعظم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ بغیر تیاری کے ہوم ورک کئے اتنے بڑے قدم کو اٹھایا جائے؟ اس لئے تعجب فیصلے پر نہیں بلکہ اس فیصلے کی ٹائمنگ پر ہے کہ مخالفین کی بارش کے بیچ سرکار نے ریٹیل کی پتنگ اڑانے کا جو خطرہ اٹھایا ہے ۔ بھارت کا منظم اور غیر منظم خوردہ کاروبار یقیناًبہت بڑا ہے۔ 2008-09 میں کل خوردہ بازار 17594 ارب روپے کا تھا۔2004-05 کے بعد سے اوسطاً 12 فیصدی سالانہ بڑھ رہا ہے۔ 2020ء تک 53517 ارب روپے کا ہونے کا امکان ہے۔ نبارڈ کی رپورٹ بتاتی ہے منظم ریٹیل قریب855 ارب روپے کا ہے۔ اس میں 200 فٹ کے چھوٹے اسٹور سے لیکر 25 ہزار فٹ تک کے ملٹی برانڈ ہائپر مارکیٹ(بگ بازار، اسپنسر، ایزی ڈے، ریلائنس ) وغیرہ آتے ہیں۔ خوردہ کاروبار میں تیزی سے پیداوار کے باوجود ریٹیل اس اربوں کے کاروبار میں پچھلی ایک دہائی میں صرف پانچ فیصدی حصہ لے پایا ہے۔ مگر اس پانچ فیصدی حصے نے قریب ایک کروڑ روزگار پیدا کئے ہیں جو2020ء تک بڑھ کر1.84 کروڑ ہوجائیں گے۔ خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کمپنیوں کا خوف پرانا ہے۔ چھوٹے ملکوں میں چیزکوم، والمورٹ، ٹرانسکو وغیرہ جارحانہ طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ جیسے ریٹیل کے بڑے دوکانداروں کے اثر کی کہانیوں سے یہ ڈر اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ منظم ریٹیل اگر صارفین کی سہولت اور بے کاروں کو روزگار کے پھول دیتا ہے تو بدلے میں غیر منظم اور چھوٹے تاجروں کے کاروبار کو کانٹوں میں گھیر لیتا ہے۔ بھارت کے معاملے میں اس خطرے کو کچھ حقائق کے تحت پرکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں کل ریٹیل کا قریب 61 فیصدی حصہ غذائی اجناس(اناج، دال، سبزی، چائے، کافی، انڈا، چکن، مسالے) خوردہ کاروبار کا حصہ ہیں۔ یہ قریب11 ہزار ارب روپے کا بیٹھتا ہے۔ اس کاروبار پر غیر منظم سیکٹر کا راج ہے۔ ریٹیل کو لیکر صارفین کے برتاؤ کو نبارڈ کے ایک تازہ سروے میں قریب سے پکڑا گیا ہے۔ دیش کے 23 شہروں میں مختلف عمر و نوجوان صارفین کے درمیان ہوا یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ میٹرو شہروں میں قریب 68 فیصدی اناج، دال، مسالے اور 80 سے90 فیصدی دال، سبزیاں، دودھ، گوشت، انڈے وغیرہ چھوٹی دوکانوں سے خریدے جاتے ہیں۔ دوسرے درجے کے شہروں میں یہ 79 فیصدی اور 92 سے98 فیصدی (پھل، سبزی ،دودھ )وغیرہ کے درمیان ہے یعنی ریلائنس، بگ بازار، اسپنسر، ای ڈی جے جیسے بڑی کمپنیوں غذائی اجناس کے معاملے میں صارفین کا دل نہیں جیت پائیں۔ غذائی اجناس کا کل کاروبار میں منظم ریٹیل دو فیصدی سے بھی کم ہے۔ نبارڈ کے سروے کے مطابق غیر منظم ڈیلر صارفین کے گھر سے اوسطاً280 میٹر کی دوری پر واقع ہیں جبکہ منظم سیکٹر کی دکانوں کی دوری اوسطاً ڈیڑھ کلو میٹر ہے۔منظم خوردہ سے مہنگائی گھٹے گی ایسا نہیں لگتا۔ بیشک کچھ ملکوں میں ایسا ہوا ہو لیکن ہمیں نہیں لگتا بھارت میں اس کا مہنگائی پر کوئی خاص اثر پڑنے والا ہے۔ زیادہ تر خوردہ سامان کی خرید مقامی منڈیوں ، تھوک تاجروں، ایجنٹوں کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور یہاں قیمتیں کم کرنے کی خاص گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لئے غذائی اجناس کے معاملے میں منظم و غیر منظم سیکٹر کی قیمتوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارتیہ صارفین کا 80 فیصدی استعمال خرچ اور اس خرچ پر بڑھتی مہنگائی کو ریٹیل انقلاب سے کوئی مدد نہیں ملنے والی ہے۔ کسانوں کو بھی اس کا کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اسٹور اور سپلائی کا ڈھانچہ نہیں ہے۔
دیش کے درمیانے اور چھوٹے شہروں میں ریڑھی، ٹھیلہ لگانے، پھل سبزی بیچنے والے چھوٹے دوکاندار اور کسان اپنے مستقبل کو لیکر اگر فکر مند ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے بھارت کے خوردہ کاروبار سے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کو روزگار ملتا ہے ۔ اگر ایک خاندان میں پانچ افراد کو بھی بنیاد مانا جائے تو 18 کروڑ لوگ اس خوردہ کاروبار پر منحصر ہیں۔ سرکار کیلئے ان کا متبادل سسٹم ایک بہت بڑا سوال ہے۔ ان سوالوں کے باوجود منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار اپنے فیصلے پر اٹل ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کے اندر اور باہر تلخ مخالفت کے باوجود وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر کانگریس کور گروپ کی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ سرکار ایف ڈی آئی کے کیبنٹ کے فیصلے واپس نہیں لے گی۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی اس میٹنگ میں سونیا گاندھی، منموہن سنگھ، پرنب مکھرجی، آنند شرما، احمد پٹیل موجود تھے۔ سیاسی مخالفت کے چلتے ریٹیل میں غیر ملکی دوکانیں کھولنا آسان نظر نہیں آرہا ہے۔ مغربی بنگال ، یوپی کے بعد تاملناڈوکے ذریعے غیر ملکی دوکانوں کی اجازت نہ دینے کے اعلان سے مخالف ریاستوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ جن ریاستوں نے ایف ڈی آئی کی کھل کر مخالفت کی ان میں خاص ہیں اترپردیش، مدھیہ پردیش،گجرات، کرناٹک، تاملناڈو، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ وغیرہ۔ بھاجپا، انا ڈی ایم کے، ڈی ایم کے، لیفٹ پارٹی، سماج وادی پارٹی و ترنمول کانگریس سبھی اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ایف ڈی آئی کے مسئلے کو اپنے وقار کا سوال نہ بنائے اور اپنے فیصلے کو ٹال دے۔ ابھی اس مسلے پر بحث بہت ضروری ہے۔ اس کے فائدے نقصان کا صحیح تجزیہ ہونا چاہئے تبھی یہ قابل قبول ہوگا۔ صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں پورے دیش میں اس مسئلے پر اتفاق رائے ہونا  ضروری ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, FDI in Retail, Manmohan Singh, Pranab Mukherjee, Rahul Gandhi, Vir Arjun

08 اکتوبر 2011

اگلا لوک سبھا چناؤ کانگریس راہل کی قیادت میں لڑے گی



Published On 8th October 2011
انل نریندر
اب یہ واضح ہونے لگا ہے کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس پارٹی یووراج یعنی راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں چناؤ لڑے گی۔ شری دگوجے سنگھ تو بہت پہلے سے ہی کہتے آرہے ہیں راہل گاندھی کو اب دیش کی باگ ڈور سنبھال لینی چاہئے لیکن اب تو منموہن سنگھ سرکار کے نمبر دو وزیر پرنب مکھرجی نے کہہ دیا ہے لوک سبھا کا اگلا چناؤ کانگریس راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں ہی لڑے گی۔ پارٹی نے اس کے لئے اپنی پوری تیاری کرلی ہے۔ پرنب مکھرجی نے راہل کا نام آگے کرکے یہ بھی جتادیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کی ریس میں شامل نہیں ہیں۔ یہ پتہ نہیں کہ انہوں نے اپنے دل سے کہا یا حالات دیکھ کر دکھی دل سے یا پھر دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے کہا۔ بہرحال وجہ کچھ بھی رہی ہو پرنب دا کا یہ کہنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے یہ کہنے کے اگلے ہی دن پارٹی کے ترجمان راشد علوی نے اس سے آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کانگریس کا مستقبل ہیں اور کانگریس دیش کا مستقبل ہے۔ علوی کا کہنا ہے 42 سالہ راہل گاندھی کانگریس کے سب سے بڑے نیتاؤں میں سے ایک ہیں اور تمام نوجوان لیڈروں میں سے سب سے زیادہ اونچا قد رکھنے والے ہیں۔ راہل گاندھی کی تاجپوشی اس لئے بھی اب ممکن لگتی ہے کیونکہ بیشک محترمہ سونیا گاندھی کا کامیاب آپریشن ہو گیا ہے اور وہ ٹھیک ٹھاک لگ رہی ہیں مگر یہ بیماری ایسی ہے کہ سونیا کو چین سے نہیں جینے دے گی۔ خرابی صحت کے سبب سونیا کی پارٹی کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔
راہل کو آگے کرنے میں پارٹی کو یہ بھی فائدہ ہوگا کہ دیش کا تمام نوجوان طبقہ کانگریس کے تئیں راہل کے سبب راغب ہوسکتا ہے۔ اس واقعے سے ایک اور بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ موجودہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی کار گذاری سے پارٹی خوش نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا اپنے کیبنٹ میں ہی کنٹرول نہیں رہا وہ دیش کو کیا کنٹرول کریں گے۔ ان کے نمبر دو اور تین وزرا میں خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ ان کے داہنا ہاتھ کو یہ معلوم نہیں کہ ان کا بایاں ہاتھ کیا کررہا ہے۔ ایک کے بعد ایک گھوٹالے کا پردہ فاش ہونے کے بعد آج کانگریس کی ساکھ زمین پر آگری ہے۔ اس سے نکلنے کیلئے کانگریس کو پارٹی میں بھاری سرجری کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف راہل کو پردھان منتری پروجیکٹ کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ راہل کو اپنی ٹیم کھڑی کرنی ہوگی۔ اس ٹیم کو آنے والے دنوں میں اپنی پوزیشن لینی ہوگی۔ یہ کام شروع بھی ہوچکا ہے۔اس سلسلے کی شروعات پی ایم او پر اپنا کنٹرول کرنے سے ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر میں پرنسپل سکریٹری کے عہدے پرپلک چٹرجی کی تاجپوشی اور پچھلے سات سالوں سے وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری رہے پی کے نائر کی رخصتی اور کئی سینئر افسروں کی میعاد پوری ہونے کے بعد رخصتی ہونے سے نہ صرف نئے چہرے سامنے آئیں گے بلکہ پی ایم او کا ایک نیا روپ اورکام کرنے کا ڈھنگ اور نظریہ بھی سامنے آئے گا۔ سب سے بڑی بات 10 جن پتھ کی ہے۔ پی ایم او پر اس کا کنٹرول ہوگا۔ پلک چٹرجی 10 جن پتھ کے قریبی اور بھروسے مند مانے جاتے ہیں اس لئے ان کے کام میں کوئی مداخلت یا پرنسپل سکریٹری کی کوئی بھی طاقت اگر نائر کو دی گئی تو 10 جن پتھ اس کی مخالفت کرے گا کیونکہ پلک کو پی ایم او میں لانے والا 10 جن پتھ ہی ہے۔ پی کے نائر سے ویسے بھی کانگریسی نا خوش تھے۔ ٹوجی معاملے پر وزارت مالیات کے دستاویز کے سلسلے میں جسے بنانے میں نائر کا کردار بھی لگتا ہے اگلے سال پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی چناؤ راہل گاندھی کے لئے ایک ٹرائل کی شکل میں دیکھے جائیں گے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ چناؤ تک سونیا گاندھی تنظیم کی باگ ڈور آہستہ آہستہ راہل کو سونپ دیں گی۔ حال ہی میں اپنی بیماری کے دوران انہوں نے تجربے کے طور پر راہل کو پارٹی کی کمان سونپی تھی۔ راہل کی اترپردیش اسمبلی چناؤ میں اگنی پریکشا ہوگی۔ ان کومشن2012ء میں کتنی کامیابی ملتی ہے اس پر کانگریس کی نظریں لگی ہوں گی۔ کل ملا کر اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے کہ راہل گاندھی کانگریس کے اگلے پردھان منتری کے امیدوار ہوں گے۔
2G, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Pranab Mukherjee, Rahul Gandhi, Vir Arjun

02 اکتوبر 2011

سونیا گاندھی کی پہل پر پرنب چدمبرم میں جنگ بندی



Published On 2nd October 2011
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار میں جاری اتھل پتھل کو روکنے کے لئے آخر کار پارٹی صدر سونیا گاندھی کو مورچہ سنبھالنا پڑا۔ سنکٹ موچک کے طور پر سامنے آئیں محترمہ سونیا گاندھی فوری طور پر موجودہ بحران کو ٹالنے میں کامیاب ہوگئی ہیں لیکن یہ صرف سرسری طور پر ہے ۔کیونکہ ایک ساتھ فوٹو کھنچوانے سے پرنب مکرجی اور پی چدمبرم کے درمیان اختلافات ختم ہونے سے رہے۔ پرنب دادا ان دنوں بہت ناراض چل رہے ہیں۔ اتنے غصے میں کیوں ہے کہ نیویارک میں انہوں نے وزیر اعظم سے استعفیٰ تک دینے کی دھمکی دے ڈالی تھی؟ اس کے بعد اسکے جواب میں دادا حمایتی کہہ رہے ہیں کہ ان پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ نوٹ کے معاملے کو جس طرح سے پیش کیا گیا ہے یعنی انہوں نے وہ جان بوجھ کر دستاویز بنایا تھا اور پھر اسے افشاء کروادیا۔ پارٹی اور حکومت کے اندر یہ سوال کھڑا ہوا ہے کہ نوٹ بننے کی کیا ضرورت تھی جب دستاویز بن رہا تھا تو اسی وقت اس کی زبان پر غور کیوں نہیں کیا گیا۔ اس دستاویز کو آگے وزیر اعظم تک کیوں بھیجا گیا اور اسی وقت پارٹی لیڈر شپ کو کیوں نہیں بتایا گیا؟اندرونی مباحثوں کے درمیان یہ سوال پوچھے جارہے ہیں اور یہ پرنب دا کے حق میں جا رہے ہیں۔ یہ نوٹ پرنب دا کی پہل پر نہیں بنا۔ کیبنٹ سکریٹریٹ، پی ایم او، ٹیلی کام اور وزارت قانون کے افسروں کی پہل پر یہ جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد نوٹ تیار ہوا۔ اتنے محکموں کے افسر جس معاملوں میں شامل ہوں اسے کوئی بھی وزیر کیسے روک سکتا ہے اور کیوں روکنا چاہئے؟ اگر پرنب دا اس نوٹ کو روکتے یا دباتے تو آج خود بھی سوالوں کے گھیرے میں آجاتے؟ یہ بھی ایک آر ٹی آئی کے جواب میں اس نوٹ کی کاپی پردھان منتری وزارت کے ایک بڑے افسر کی اجازت دی گئی۔ کاپی دینے سے پہلے وزارت مالیات سے پوچھا تک نہیں گیا اور اب جب سب کچھ ہوچکا ہے پرنب مکرجی پر سارا گناہ تھونپا جارہا ہے۔ اس حالت میں انہیں غصہ کیوں نہ آئے؟
اپنا خیال ہے کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ چدمبرم کی مشکلوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ سونیا گاندھی کی کوششوں سے مسئلہ رکا ہے ،ختم نہیں ہوا۔ پرنب مکرجی نے نوٹ کیسے تیار ہوا اور کس کس وزارت سے گذرا اس کی تفصیل پیش کی ہے۔ لیکن جو نوٹ میں لکھا گیا ہے وہ تو جھوٹ نہیں ہے۔ نوٹ میں جو تحریر ہے اس سے چدمبرم کٹہرے میں ضرور کھڑے ہیں۔ معاملہ سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ جے پی سی میں بھی الگ سے چل رہا ہے۔ وہاں بھی تو اس نوٹ کا نوٹس لیا جائے گا۔ آج چدمبرم پارٹی کے اندر الگ تھلگ پڑے ہیں ان کی حمایت کانگریس پارٹی میں اتنا شاید ذکر نہیں ہے جتنا ڈی ایم کے سے انہیں مل رہا ہے۔ وہ کروناندھی کے خاص نمائندے ہیں اس وقت کانگریس میں کام کررہے ہیں اور ڈی ایم کے کی مشکلیں کم ہونے والی نہیں ہیں۔ نہ صرف دیاندھی مارن کے خلاف سی بی آئی نیا معاملہ درج کرنے کی تیاری کررہی ہے بلکہ ٹو جی کیس میں سی بی آئی نے تہاڑ جیل میں بند اے راجہ اور ان کے سابق سکریٹری چندولیہ اور اس وقت کے ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورہ کے خلاف آئی پی ایس کی دفعہ409 کے تحت معاملہ چلانے کی دلیل کورٹ میں پیش کی ہے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ اس معاملے میں اے راجہ اور دیگر کے خلاف جنتا کے ساتھ دھوکہ کرنے کا مجرمانہ معاملہ بنتا ہے۔ اگر یہ الزام ثابت ہوا تو عمر قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے ڈی ایم کے خوش تو ہونے سے رہی۔ ادھر راجہ نے کورٹ میں چدمبرم سے بطور گواہ پوچھ تاچھ کرنے کی مانگ کی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے اور پارٹی میں مسلسل یہ کہا جارہا ہے کہ چدمبرم کے کردار پر کوئی فیصلہ سپریم کورٹ کا موقف ہی طے کرے گا۔ وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کی ہدایت پر سرکار کی ساکھ بچانے کیلئے بھلے ہی پرنب چدمبرم ایک ساتھ کھڑے ہونے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن ایسا کرنے میں دونوں کی ہچک باقی تھی اور اب بھی ہے۔ پرنب چدمبرم سے تب سے ناراض چل رہے ہیں جب سے انہوں نے وزارت مالیات کی جاسوسی کروائی تھی۔ وہ قصہ پرنب مکرجی بھولے نہیں ہیں۔ اب بھی چدمبرم وزارت مالیات میں دخل اندازی سے باز نہیں آرہے ہیں۔ دو دن پہلے ہی انہوں نے ایک پروگرام میں یہ کہا کہ امیر زیادہ ٹیکس بھرنے کے لئے تیار رہے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ معاملہ وزارت داخلہ سے وابستہ ہے؟ کیا یہ وزارت مالیات کے اختیارات میں مداخلت تو نہیں ہے؟
2G, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Sonia Gandhi, Vir Arjun

28 ستمبر 2011

اب کیا ہوگا آگے: نظریں سپریم کورٹ پر لگیں



Published On 28th September 2011
انل نریندر
دیش کے لئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ امریکہ میں وزیراعظم اور وزیر مالیات سے ٹو جی گھوٹالے پر سوال پوچھے جارہے تھے ۔ ساری دنیا میں گھوٹالوں کی اس حکومت نے پورے دیش کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ پتہ نہیں دنیا بھارت کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ادھر دیش میں اس حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں روز نئی پرتیں کھل رہی ہیں جیسے جیسے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالے کی اوپر سے نیچے تک سب کو خبر تھی لیکن کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک وزیر اعظم ، وزیر خزانہ بھلے ہی خود گھوٹالے میں شامل نہ رہے ہوں لیکن اس سے تو اب وہ انکار نہیں کرسکتے کہ سب کچھ ان کی جانکاری میں اور کچھ حد تک ان کی رضا مندی سے ہوا ، بیشک وزیر اعظم اس وقت کے وزیر خزانہ کو کلین چٹ دے رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ انہیں وزیر داخلہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اس سے اب تک بات بننے والی نہیں۔ٹوجی گھوٹالے پر پوری طرح سے گھر چکی حکومت کے سنکٹ موچکوں کے قدم اب ختم ہونے لگے ہیں۔ سرکار کی سینئر لیڈر شپ کو اب اس گھوٹالے کے جال سے بچانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے فیصلے سے دیش کے خزانے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش ٹی آر اے آئی کی رپورٹ اسی کوشش کا حصہ تھی جو اوندھے منہ گر پڑی۔ گھوٹالے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجہ کے فیصلوں میں سرکار کی سینئر لیڈر شپ کی رضامندی کو ثابت کرنے والے تمام دستاویزی ثبوت دیش اور عدالت کے سامنے ہیں۔اے راجہ کے فیصلوں سے جو محصول کو نقصان ہوا اس کے بارے میں پہلے اگر قانونی طور پرثابت ہوجاتا تو پھر وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس نقصان کی درپردہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ لائسنس لینے والی ایک کمپنی ایئر ٹیل کی ایک چٹھی سرکار کے لئے مصیبت بنے گی۔ وزیر اعظم کو معلوم تھا کہ کمپنیاں ٹوجی اسپیکٹرم کی اونچی قیمت دینے کو تیار تھیں۔ نومبر 2007 میں سیدھی منموہن سنگھ کو لکھی چٹھی میں ایئرٹیل نے اسپیکٹرم کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ کمپنی نے بعد میں اسے بڑھا کر13752 کروڑ روپے تک کردیا تھا۔ بازار میں ان اشاروں کے باوجود راجہ نے اسپیکٹرم کو کم قیمت پر فروخت کردیا اور پی ایم او اس فیصلے میں راجہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسپیکٹرم میں کل کتنا خسارہ ہوا یا گھوٹالہ ہوا اس نقصان کے اندازہ میں کیگ نے ایئر ٹیل کی چٹھی میں مجوزہ قیمت کو ہی اہمیت اشو بنایا ہے۔ راجہ کے فیصلے سے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ کی بے توجہی کی دلیل سامنے آگئی۔ راجہ کے فیصلوں سے بدعنوانی تو صاف ہے البتہ اس فیصلے سے محصول کو نقصان کی دلیل ابھی تنازعات میں ہے۔ کیگ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگا چکی ہے جس کو سرکار نے مسترد کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں تازہ جانکاری کے بعد یہ ثابت کرنے کی آخری کوشش ہوگی کہ 2001 کی قیمتوں پر2008 میں اسپیکٹرم بیچنے سے خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ یہ ہی آخری راستہ ہے جس سے بدعنوانی کا ٹھیکرا اے راجہ کے سر پھوٹے گا اور سرکار کی لیڈر شپ دیش کا نقصان کرنے کے الزام سے بچ سکے گی۔ ویسے سی بی آئی نے اے راجہ پر کرپشن کا جو مقدمہ چلایا اس میں یہ درج ہے کہ وزیر مواصلات کے فیصلوں سے دیش کو قریب 30 ہزار کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی کو سابق وزیر مواصلات یا بے ضابطگی پر مقدمے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ راجہ کے فیصلے سے خزانے کو بھاری چپت لگی ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج وزیر داخلہ پی چدمبرم کی اسپیکٹرم میں کردار کی جانچ کو لیکر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ یوپی اے اور کانگریس ایک ناگزیں بحران میں پھنس گئی ہیں۔ جس کا فی الحال توکوئی توڑ نہیں نکل پارہا ہے۔ کانگریس صرف اس بات سے فکر مند نہیں چدمبرم پر حملہ کیا جارہا ہے بلکہ اس کی اصلی پریشانی بھاجپا کی وزیر اعظم کو لپیٹنے کی اسکیم سے ہے۔ اگر بھاجپا ایک بار پھر چدمبرم کے خلاف جانچ شروع کرانے میں کامیاب ہوگئی تو اس جانچ کی آنچ اپنے آپ وزیر اعظم تک پہنچ جائے گی۔منگلوارکو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہے۔ لیکن تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ آج تک یعنی بدھوار تک کے لئے ملتوی ہوگیا ہے۔ دیکھیں عدالت میں آج کیا ہوتا ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, CAG, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Prime Minister, Scams, Supreme Court, Vir Arjun

24 ستمبر 2011

چدمبرم حکومت اور پارٹی دونوں کے لئے لائبلٹی بن گئے ہیں



Published On 24th September 2011
انل نریندر
پونے دو لاکھ کروڑ روپے کے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ایک اہم موڑ آگیا ہے۔ اب اس گھوٹالے کے گھیرے میں اس وقت کے وزیر مالیات اور موجودہ وزیر داخلہ پی چدمبرم آگئے ہیں۔ ان پرالزام اپوزیشن یا جانچ ایجنسی سی بی آئی نے نہیں بلکہ موجودہ وزیر پرنب مکھرجی کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ پرنب مکھرجی کی جانب سے25 مارچ2011 کو وزیر اعظم کے دفتر کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ روک سکتے تھے لیکن انہوں نے 30 جنوری 2008 کو اے راجہ سے ملاقات میں انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم کرنیں بیچنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا میں اب اینٹری فیس یا ریوینیو شیرینگ کی شرحوں کو ریوزٹ یعنی جائزہ نہیں لینا چاہتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو اسپیکٹرم کی پہلے آؤ اور پہلے پاؤں کی جگہ مناسب قیمت پر نیلامی کی جاسکتی تھی۔ گیارہ صفحات پر مبنی یہ خط آنے والے وقت میں چدمبرم کے لئے مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ خط آر ٹی آئی کے تحت وویک گرگ نے حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے یہ خط سپریم کورٹ میں جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ کے سامنے دستاویز کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزارت مالیات میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور ڈاکٹر پی جی ایس راؤ نے وزیر اعظم کے دفتر میں جوائنٹ سکریٹری ونی مہاجن کو25 مارچ 2011 کو یہ خط بھیجا تھا۔ اس خط سے صاف ہے کہ پرنب مکھرجی یہ اشارہ دینا چاہ رہے ہیں کہ اگر پی چدمبرم اڑ جاتے تو شاید ٹیلی کام گھوٹالے کے چلتے دیش کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان نہ ہوتا۔ وزارت پی ایم او کو بھیجے ہوئے خط میں کہتی ہے کہ وزارت مالیات 31 دسمبر2008 تک کے لائسنس 2001 کے دام پر بیچنے کے لئے تیار ہوگئی۔
چدمبرم پر سیدھا الزام لگتا ہے کہ اے راجہ جو کچھ کررہے تھے ان کو وزیر داخلہ کی رضامندی حاصل تھی۔ یہ ہی نہیں 30 جنوری2008 کو انہوں نے اے راجہ سے میٹنگ کرکے انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم بیچنے کی اجازت دی۔ اے راجہ بھی شروع سے یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ پی ایم او اور وزارت داخلہ کی منظوری اور علم میں لاکر کیا۔ اب یہ الزام تو کچھ سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے۔ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی جگہ زیادہ قیمت پر اسپیکٹرم کی نیلامی کی جاسکتی تھی لیکن پی چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کمپنیوں کو دئے گئے یو اے ایس لائسنس کی سہولیت 5.1 سرکار کو لائسنس کی شرائط کو کسی بھی وقت بدلنے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ یہ مفاد عامہ میں ہو یا سلامتی کے لئے ضروری ہو لیکن چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وزارت مالیات نے ٹیلی کام سیکٹر میں پیداوار کی تناسب فیس طے کرنے کی بات کی تھی۔ راجہ اس سے متفق نہیں تھے۔ چدمبرم نے اس کی بھی مخالفت نہیں کی۔ وزارت مالیات 4.4 میگا ہارٹس سے اوپر کی اسپیکٹرم کرنوں کو بازار کے بھاؤ بیچنا چاہتی تھی۔ راجہ نے یہ حد 6.2 میگا ہارٹس کردی۔ چدمبرم اسی پر مان گئے لیکن کسی بھی کمپنی کو6.2 میگاہارٹس سے اوپر اسپیکٹرم کرنیں نہیں دی گئیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ سرکار4.4 میگاہارٹس سے اوپر کی نیلامی والے موقف پر قائم رہتی اور کمپنیوں سے نئے داموں پر پیسہ وصولتی لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ یوپی اے کے اندر ایک طرح سے چھڑی خانہ جنگی سے وزیر اعظم کا پریشان ہونا فطری ہی ہے۔ وزیراعظم آج کل امریکہ میں کار فرماں ہیں۔ منموہن سنگھ نے پرنب مکھرجی اور چدمبرم دونوں سے فون پر بات چیت کی ہے۔ جمعرات کی شام وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک بیان جاری کر دونوں لیڈروں سے بات ہونے کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا میں نے وزیر اعظم کو پورے معاملے سے باآور کیا ہے کہ جب تک وہ غیر ملکی دورے سے لوٹتے ہیں میں اس موضوع پر کوئی بیان نہیں دوں گا۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 27 ستمبر کو نیویارک سے بھارت واپس آئیں گے۔ ادھر وزیر خزانہ نے بھی نیویارک سے میڈیا سے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ وزیر مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا کہ چدمبرم پر سوال نہیں کھڑے کئے جاسکتے ہیں۔ وہ سرکار کی حمایت کے حقدار ہیں۔ مرکزی وزیر اطلاعات امبیکا سونی نے بھی سرکار میں دراڑ کے پیدا ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا جو بھی رپورٹیں آرہی ہیں ان میں سچائی نہیں ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ کرنے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ چدمبرم فوراً استعفیٰ دیں یا انہیں برخاست کیا جائے۔ سی پی ایم نے چدمبرم کے کردار کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے کہا کہ چدمبرم ٹو جی کیس میں ملوث ہیں اور یہ صاف ہوچکا ہے۔ نیویارک سے وزیر اعظم نے کہا انہیں چدمبرم پر پورا بھروسہ ہے۔ چوطرفہ پریشانیوں سے گھری یہ یوپی اے حکومت کے لئے وقت دن بدن مشکلوں بھرا ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس مرتبہ سارے الزام ایک سرکاری دستاویز کی بنیاد پر لگ رہے ہیں۔ اس لئے اس سرکار کے لئے اس سے نکلنا آسان نہ ہوگا ۔ رہا سوال پی چدمبرم کا وہ تو اب سرکار اور کانگریس پارٹی کیلئے ایک لائبلٹی بنتے جارہے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Salman Khursheed, UPA, Vir Arjun,

23 ستمبر 2011

اگر آپ 25 روپے روز خرچ کرتے ہیں تو آپ غریب نہیں ہیں



Published On 23rd September 2011
انل نریندر
منگلوار کو بھارت کی پلاننگ کمیشن نے ایک حلف نامہ دائر کیا ہے۔ مجھے اس کو پڑھ کر دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔ پتہ نہیں یہ پلاننگ کمیشن والے کون سی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اگر ان کی سوچ اس طرح کی ہی ہے تو اوپر والا ہی بچائے اس دیش کو۔ حلف نامے میں پلاننگ کمیشن فرماتا ہے کہ غریبی ریکھا سے نیچے (BPL) کا درجہ پانے کے لئے ایک عام شرط یہ ہے کہ ایک پریوار کی کم سے کم انکم 125 روپے روزانہ ہو۔عام طور پر ایک پریوار میں اوسطاً پانچ لوگ مانے جاتے ہیں اس طرح فی شخص کی روزانہ انکم25 روپے ہے۔ غور طلب ہے کہ زیادہ تر سرکاری یوجناؤں کا فائدہ صرف غریبی ریکھا سے نیچے کے لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔ کمیشن نے یہ حلف نامہ عدالت کے کئی بار کہنے کے بعد دائر کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق پردھان منتری دفتر بھی اس حلف نامے پر غور کرچکا ہے۔ حلف نامہ سریش تندولکر سمیتی کی رپورٹ پر منحصر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ غریبی کھانا، تعلیم اور صحت پر فی شخص خرچ کے حقیقی آنکڑے پر زندگی گذارنے پر منحصر ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق گرامین حلقے میں 26 روپے اور شہری حلقے میں 32 روپے کمانے والا اب غریب نہیں مانا جائے گا اور اتنے روپے میں صرف کھانے کا خرچہ نہیں بلکہ کرایہ، کپڑا، صحت، تعلیم،تفریح وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔یعنی مہینے میں شہروں میں965 روپے اور گاؤں میں 781 روپے خرچ کرنے والا سرکار کی نظر میں غریب نہیں ہے۔ سرکار اسے اپنی فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں دے گی۔ ظاہرہے کہ غریبی کے نئے پیمانے کو مضحکہ خیز کہا جارہا ہے لیکن ان سب سے بے فکر عام آدمی کی اس یوپی اے سرکار کے پلاننگ کمیشن کے اس نئے پیمانے پر غریبی ریکھا سے اوپر رہنے والا شہری اناج پر پانچ روپے، سبزیوں پر 1.80 پیسے، دال پر 1 روپیہ اور دودھ پر 2.30 پیسے خرچ کرتا ہے۔ تیل اور رسوئی گیس ملا کر مہینے میں112 روپے خرچ کرنے والا بھی غریب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں پانچ روپے میں آپ 136 گرام چاول یا 166 گرام گیہوں ہی خرید سکتے ہیں۔ 1.80 پیسے میں 180 گرام آلو یا 90 گرام پیاز،90 گرام ٹماٹر یا پھر 180 گرام لوکی خرید سکتے ہیں۔ ایسے ہی 1 روپے میں 20 گرام دال ہی مل پائے گی۔ڈھائی روپے سے کم میں دودھ ملے گا صرف85 ملی لیٹر اور 112 روپے میں آپ ڈیڑھ کلو رسوئی گیس سے زیادہ نہیں خرید سکتے۔ ظاہر ہے اتنے راشن میں ایک وقت کا بھر پیٹ کھانا بھی نہیں ہوسکتا۔
عام آدمی سرکار کے اس آنکڑے سے شاید دکھی ہولیکن حیرانی بالکل نہیں ہوئی، یہ سرکار غریب آدمی سے کتنی کٹ چکی ہے اسی حلف نامے سے پتہ چلتا ہے۔ اقتصادی ماہر پردھان منتری منموہن سنگھ ان کے سپہ سالار مونٹیک سنگھ آہلووالیہ، پرنب مکھرجی، پی چدمبرم جیسے لوگوں سے آپ کیا امید کرسکتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی کھلے بازار میں سبزی ، آٹا، دال ، چاول، تیل، دودھ، دوائی ، ڈاکٹر کی فیس، اسکول کی فیس، میٹرو یا بس کے کرائے کا پتہ کیا ہے،یا تجربہ کیا ہو تو زمینی حقیقت کا پتہ چلے۔ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اپنے کمپیوٹر میں انگریزی زبان میں گوگل پرسرچ کرکے یہ حلف نامہ تیار ہو تو ہوجاتا ہے لیکن زمینی حقیقت سے یہ کوسوں دور ہوتا ہے۔ اتنا دور کے عام آدمی کو غصہ اور دکھ ہوتا ہے۔
Anil Narendra, daily, Inflation, Manmohan Singh, Montek Singh Ahluwalia, P. Chidambaram, Planning Commission, Poverty, Pranab Mukherjee, Vir Arjun,

02 جولائی 2011

اب تو غریب کی تھالی سے سبزی بھی غائب ہورہی ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd July 2011
انل نریندر
حکومت نے پیٹرول پمپ ڈیلروں کے کمیشن میں اضافے کو منظوری دے دی ہے جس سے پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل 15 پیسے مزید مہنگا ہوگیا ہے۔ اس سے مہنگائی اور بڑھ جائے گی۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہی جنتا پر اب اور مار پڑنے والی ہے۔ لیکن یوپی اے حکومت کو اس سے کوئی چنتا نہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ عام جنتا کو یہ مار ابھی کچھ اور وقت جھیلنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال مارچ تک مہنگائی شرح چھ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ان کے وزیر مالیات پرنب مکھرجی فرماتے ہیں کہ ڈیزل ، رسوئی گیس اور مٹی کے تیل کے داموں میں حال ہی میں کئے گئے اضافے کو واپس نہیں لیا جائے گا۔ امریکہ کے دورے پر پہنچے پرنب نے بدھوار کو کہا کہ داموں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بڑھتی مہنگائی کے سبب غریب آدمی کی تھالی سے سبزیاں بھی غائب ہونے لگی ہیں۔ ماہر اقتصادیات پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مونٹیک سنگھ آہلوالیہ نے بڑھتی قیمتوں کو دلیل آمیز قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا اصل اصول ہے کہ کھپت کم کرو تو مہنگائی کم ہوگی۔ چیزوں کی قیمتیں کم ہوں گی تو مالیاتی خسارہ کم ہوگا۔ اس لئے مہنگائی گھٹانے کیلئے ہی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
ڈیزل کی بڑھی قیمت کا اثر اب عام آدمی کی تھالی پر دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ بازار میں سبزیوں کے دام اونچائی چھونے لگے ہیں۔ تھوک بازار کی بہ نسبت خوردہ بازار میں یہ تیزی زیادہ نظر آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ ڈیزل کی بڑھی قیمت کا حوالہ دیکر خوردہ کاروباری سبزیوں کی منمانی قیمتیں وصول رہے ہیں۔ ایک ماہ کے اندر تھوک بازار میں ٹماٹر کے دام 10 گنا بڑھے ہیں وہیں خوردہ تاجروں نے اس کی قیمت 20 گنا تک بڑھا دی ہے۔ مہنگائی کے چلتے اب سلاد سے ٹماٹر بھی غائب ہوگیا ہے۔تھالی سے ہری سبزیاں بھی آہستہ آہستہ ندارد ہو رہی ہیں۔ڈیزل کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں جو اچھال آیا ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ خوردہ کاروباری اس کا منمانا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دہلی کی آزاد پور تھوک منڈی میں جو ٹماٹر 30 مئی کو 1.60 پیسے کلو بک رہا تھا وہ 28 جون تک 15 روپے تک بکا۔ اور خوردہ بازار میں اس کی قیمت 45 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ جو آلو30 مئی کو 8 روپے کلو تھا وہ22 جون کو 12.50 پیسے اور 28-29 جون کو ٹماٹر خوردہ میں 30-45 روپے فی کلو بک رہا ہے۔ آلو کے دام 15 سے20 روپے ، پیاز 20 سے30 روپے کلو۔ پھول گوبھی 30-40 روپے اور ٹماٹر کی آمد متاثر ہوئی ہے جس کا اثر ان کے داموں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھنڈی جو پہلے 7 روپے میں بکتی تھی وہ اب20 روپے میں بک رہی ہے۔ لوکی5 سے 15 روپے، توری 20 سے60 روپے کلو، کریلا 10 سے 35 روپے اور آلو 7 سے15 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی اس دیش کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے بھارت کی 95 فیصد عوام براہ راست طور پر متاثر ہوتی ہے اور منموہن سرکار کے پاس اس کو گھٹانے کا نہ تو کوئی فارمولہ ہے اور نہ ہی قوت ارادی۔ وزیر اعظم اور ان کے وزیر مالیات و ان کے سپہ سالاروں کو زیاد ہ فکر گروتھ ریٹ کی ہے۔ بین الاقوامی ساکھ کی ہے۔ امریکہ ہماری اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں کیا سوچتا ہے ، یہ وزیر اعظم کے لئے زیادہ ضروری ہے بہ نسبت بھارت کی عوام۔
Tags: Anil Narendra, Cooking Gas, Daily Pratap, Diesel, Montek Singh Ahluwalia, Petrol Price, Pranab Mukherjee, Price Rise, Vir Arjun

29 جون 2011

جاسوسی، فون ٹیپنگ اور سٹنگ آپریشن سرکار کیلئے عام ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
29جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے دفتر میں مبینہ جاسوسی کے معاملے کو سرکار اور کانگریس بھلے ہی دبانے کی کوشش کررہی ہو لیکن کانگریس اور حکومت کے مختار بنے سپر ترجمان دگوجے سنگھ نے اس معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ پرنب مکھرجی اور وزیر اطلاعات و نشریات امبیکا سونی کے بیانات سے متفق نہ ہوتے ہوئے دگوجے سنگھ نے کہا کہ وہ رپورٹ سے حیرت زدہ ہیں اور کہا کہ اس معاملے کی جانچ ہونی چاہئے۔ اندر خانے جانچ شروع بھی ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں انٹیلی جنس بیورو نے سی بی ڈی ٹی کے سابق سربراہ سدھیرچندرا سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیر ادخلہ پی چدمبرم کا وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے دفتر میں جاسوسی کے واقعہ کو کچھ خاص نہ بتانا آزاد بھارت کا سب سے بڑا مذاق ہے اور پارٹی نے وزیر خزانہ کے وزیر اعظم کو لکھے خط کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو کے حکام نے گذشتہ جمعرات کو چندرا سے پوچھا کہ وزارت مالیات میں جاسوسی کے معاملے میں معائنہ کرنے کے لئے آئی بی کو مطلع کرنے سے پہلے نجی جاسوسوں کو کیوں بلایا گیا؟ اس بارے میں آئی بی حکام میں وزارت مالیات نے ان متنازعہ عناصر کو ہٹانے کا کام کرنے والی نجی خفیہ ایجنسی کا نام پتہ لگانے کے لئے بھی جانچ شروع کردی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان نے دعوی کیا کہ مکھرجی کو اپنے دفتر میں جاسوسی کا شبہ تھا۔ انہوں نے اس مسئلے پر وزیر اعظم کو خط لکھا تھا۔ بھاجپا چاہتی ہے کہ اس خط کو عام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ بلاک چدمبرم یا کسی کی ذاتی املاک نہیں ہے۔
موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پرنب مکھرجی ہی نہیں سکیورٹی اور جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر ایک مرکزی وزیر بھی تھے۔اور قریب 30 گھنٹے تک ان کا فون ٹیپ ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں اتر پردیش سرکار میں مایاوتی کے قریبی اور رسوخ دار ایک افسر شاہ کا اسٹنگ آپریشن بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں سینٹرل بورڈ آف اکسائز اینڈ کسٹم (سی بی ای سی) کے چیئرمین نے بھی اپنا فون ٹیپ کئے جانے کا الزام لگایا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ سی بی ای سی نے چیئرمین این مجمدار پچھلے سال سی بی ای سی کا چیئرمین بننے کے بڑے دعویداروں میں تھے۔ تب ڈی آر آئی (ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹیلی جنس) کے افسروں نے ان کا اور ان کے آسام میں رہنے والے دوست اور کولکاتہ میں رہنے والی بہن کے ٹیلی فون ٹیپ کرنے کا حکم دیا تھا۔ بتاتے ہیں کہ فون ٹیپنگ کے ٹھوس امکانات کو دیکھتے ہوئے مجمدار نے اس معاملے کو ڈی آر آئی کے سامنے اٹھایا ہے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک مرکزی وزیر بھی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں تھے۔ تقریباً30 گھنٹے سے زیادہ وقت تک ان کا فون ٹیپ ہونے کی اطلاع ہے۔ اس بارے میں خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایجنسیاں ضرورت پڑنے پر سرکار کی اجازت کے بعد لوگوں کی بات چیت وغیرہ پر نگرانی رکھتی ہیں۔ حالانکہ یہ نگرانی کا عمل اتنا آسان نہیں ہے۔ لیکن پرنب مکھرجی کے دفتر کو نگرانی کے دائرے میں لانے کی بات پوچھنے پر وہ خاموشی اختیارکرلیتے ہیں۔ یہاں تک وزارت داخلہ کے افسر بھی اس معاملے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ سابق سینئر افسر ضرور اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ پرنب دا کے دفتر میں نگرانی کا کام ہوا ہے۔ سرکار بیشک چھپانے کی کوشش کرے لیکن سچ باہر نکل ہی آئے گا۔
 Tags: Anil Narendra, CBDT, Congress, Daily Pratap, DRI, P. Chidambaram, Phone Taping, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

24 جون 2011

پرنب مکھرجی کی جاسوسی انتہائی سنگین معاملہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 یوپی اے حکومت پر لگتا ہے گرہن کا سب سے زیادہ اثر ہوا ہے۔ ایک کے بعد دیگر گھوٹالوں میں پھنستی جارہی ہے یہ سرکار۔ ابھی بابا رام دیو کا معاملہ، انا ہزارے سے تنازعہ سلجھا نہیں تھا کہ ایک اور گھوٹالہ سامنے آگیا ہے۔ یہ گھوٹالہ تونہیں لیکن انتہائی سنگین معاملہ ضرور ہے۔ یہ ہے مرکزی وزیر مالیات پرنب مکھرجی کے دفتر میں ٹیپنگ کرنے کا اشو۔ ایک انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس ‘ نے ایک سنسنی خیز رپورٹ شائع کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ایک خط لکھاتھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے دفترنارتھ بلاک میں ان کی میز کے نیچے اورکم سے کم 15 دیگر میزوں کے نیچے چیونگم لگی پائی گئی تھی۔ وزیر مالیات کے دفتر میں ، ان کے مشیر اچیتا پال کے پرائیویٹ سکریٹری منوج پنت دو کانفرنس کمروں میں ایسی ہی چیونگم میزوں کے نیچے لگی پائی گئی ہیں۔ ان چیونگم کے اوپر ٹرانسمیٹر فٹ کیا جاتا ہے تاکہ جو بھی بات چیت ہو اسے سنا جا سکے۔ اسے ٹیپ کیا جاسکے۔ ان چیونگموں پر حالانکہ کوئی مائک تو نہیں لگا ملا لیکن نشان ضرور پائے گئے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پرنب دادا کی کوئی پوری جاسوسی کررہا تھا۔
اب دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ پرنب مکھرجی اس کی شکایت وزارت داخلہ سے نہیں کرتے جو عام طور پر ہونا چاہئے تھا۔ وہ سیدھے وزیر اعظم سے کرتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ وہ معاملے کی جانچ کریں۔ اس واقعے سے کئی باتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کانگریس کے اندر کوئی گڑ بڑ ضرور ہے اور زبردست رسہ کشی پائی جاتی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ میں نے اسی کالم میں دو دن پہلے لکھاتھا کہ کانگریس پارٹی میں دو خیمے بن چکے ہیں۔ ایک خیمہ سونیا گاندھی و کانگریس پارٹی کا ہے تو دوسرا وزیر اعظم منموہن سنگھ و ان کے وزراء کا ہے جو حکومت کی حمایت لیتے ہیں۔ یعنی پارٹی بنام حکومت ۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کا پرنب دا سے 36 کا آنکڑا ہے اور دونوں الگ الگ خیمے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے پرنب مکھرجی نے وزیر اعظم سے شکایت کی تھی وزارت داخلہ سے نہیں۔نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک کا علاقہ انتہائی محفوظ زون مانا جاتا ہے مگر وزارت مالیات میں کسی نے ٹیپنگ آلات لگائے تو یہ کون ہوسکتا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے بغیر اندرونی ذرائع کے کوئی باہری طاقت یا شخص ان دفاتر میں پہنچ ہی نہیں سکتا کیونکہ یہاں سکیورٹی اتنی سخت ہے۔ کیا کانگریس نے خود اپنے وزیر مالیات کی جاسوسی کروائی ہے؟ سبرامنیم سوامی کا تو کہنا ہے یہ جاسوسی پی چدمبرم نے کروائی ہے۔ کیا یہ کام کسی باہری دیش کاہے؟ جو چیونگم پائی گئی وہ غیر ملکی معرکہ کی ہے اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر ملکی حکومت یا طاقت نے جاسوسی کروائی۔ یہ بھی امکان ہے کہ کسی صنعتی گھرانے نے یہ جاسوسی اس لئے کرائی ہو تاکہ انہیں پتہ لگ سکے کہ وزارت مالیات میں کیا چل رہا ہے؟
پورے معاملے سے کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ مثلاً جب پرنب مکھرجی کو اس کا پتہ تھا تو انہوں نے آئی بی کو اس کی جانکاری کیوں نہیں دی؟ کیونکہ آئی بی کے دائرہ اختیار میں یہ کام آتا ہے اور سرویلانس اور اینٹی سرویلانس میں وہ مہارت رکھتی ہے۔ پرنب مکھرجی نے سی ٹی بی ٹی کو چھان بین کے لئے کیوں کہا۔ کیونکہ ان کا یہ کام نہیں اور اسے معلوم بھی نہیں کہ ایسے حالات میں کیسے نمٹنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سی ٹی بی ٹی نے کسی پرائیویٹ خفیہ ایجنسی کو بلا کر جانچ کروائی۔ آئی بی کو اس لئے نہیں بلایا گیا کیونکہ وہ وزارت داخلہ کے ماتحت ہے اور پرنب مکھرجی وزارت داخلہ کو ملوث نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بعد میں آئی بی کو بلایا گیا اور آئی بی نے کلین چٹ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ چیونگم تو ملی ہے لیکن مائیکرو فون نہیں ملا۔ آئی بی تو کہے گی ہی؟ سرکار یہ نہیں چاہے گی کہ سچ سامنے آئے اور اس معاملے کودبانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ نارتھ بلاک اور ساؤتھ بلاک کے دفاتر کو ہر روز بند کرنے کی ذمہ داری ایک الگ محکمے کی ہے۔ بغیر چابیوں کے یہ دفتر کب اور کیسے کھلے تاکہ بگنگ ڈیوائز فٹ کی جاسکیں؟ کیا کوئی اس محکمے کا آدمی ملا ہوا تھا؟
وزارت مالیات پرنب مکھرجی اور ان کے مشیروں کی وزارت کے اندر جاسوسی کو لیکر جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے الزام لگایا ہے کہ سونیا گاندھی کے کہنے پر پرنب مکھرجی کی جاسوسی کروائی گئی۔ ڈاکٹر سوامی نے کہا کہ سونیا گاندھی کے کہنے پر حسن علی معاملے میں وزیر خزانہ کی جاسوسی کرائی گئی ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے جاسوسی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانکاری کے مطابق سپریم کورٹ کے دباؤ میں پرنب مکھرجی جھکتے نظر آرہے تھے۔کئی بڑے ناموں کا خلاصہ ہوسکتا تھا اس لئے پرنب مکھرجی کی جاسوسی کرائی گئی۔ وہیں سوامی کے الزام کے بعد سیاسی گہما گہمی تیز ہوگئی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور تیز طرار بھاجپا کی نیتا سشما سوراج نے اس جاسوسی کانڈ کو امریکہ کے وارگیٹ اسکینڈل کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر مالیات کے دفتر کی جاسوسی کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ وزیر مالیات خود اسے مسترد کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ وہ انہیں کے دباؤ میں ہوسکتے ہیں لیکن دیش اصلیت جاننا چاہتا ہے۔ اپوزیشن کے حملوں کو دیکھتے ہوئے سرکاری مشینری بھی سرگرم ہوگئی ہے اور سرکار کی میڈیا سے متعلق کیبنٹ گروپ نے بھی اس بارے میں غور کیا ہے اور اس کے بعد کانگریس نے صفائی دینے کے بجائے بھاجپا کے الزاموں کو ان کی پانچ ریاستوں میں چناؤ میں ہار کی مایوسی قرار دیا ہے۔ دیش جاننا چاہتا ہے کہ اس میں سچ کیا ہے؟ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ اس معاملے سے کئی طرح کے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ سرکار کو اس معاملے میں لیپا پوتی کرنے کے بجائے وزیروں کی جاسوسی کرنے والوں کا خلاصہ کرنا چاہئے۔ یہ معاملہ دیش کی معیشت سے وابستہ ہونے کے علاوہ دیش کی سلامتی سے بھی جڑا ہوسکتا ہے۔ معاملے کی پوری جانچ ہونی چاہئے اور سچائی جنتا کے سامنے آنی چاہئے۔ پرنب مکھرجی ایک بہت سلجھے ہوئے ، سمجھدار وزیر ہیں۔ اگر انہیں دال میں کچھ کالا نہیں دکھائی دیتا تو وہ جانچ کی مانگ کرتے ہی نہیں؟ اور پھر وزارت داخلہ کو چھوڑ کر براہ راست وزیر اعظم سے شکایت کیوں کی ؟
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Sushma Swaraj, UPA, Vir Arjun

09 جون 2011

دیاندھی مارن سے وزیر اعظم اور کانگریس نے کنی کاٹی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
9 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ڈی ایم کے لیڈر دیاندھی مارن بری طرح سے پھنستے جارہے ہیں جیسے ڈی ایم کے کے دیگر وزرا و یوپی اے کے لیڈروں نے یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کروایا ٹھیک اسی طرح مارن نے اب وزیر اعظم منموہن سنگھ کے لئے ایک نیا در سر کھڑا کردیا ہے۔ منموہن سنگھ پہلے ہی اے راجا، کنی موجھی تنازعے کو لیکر کٹہرے میں کھڑے ہوئے ہیں۔ اب دیاندھی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ 2004 سے2007 تک ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کو لیکر یوپی اے پہلے ہی انگلیاں جلا بیٹھی ہے۔ کیونکہ اے راجا اور سریش کلماڑی کو بچانے کا انجام وہ دیکھ چکی ہے۔ اب شاید ہی پردھان منتری دیاندھی مارن کو بچانے کی کوشش کریں۔ دیاندھی کے خلاف سنگین الزام ہے۔پرواسی بھارتی ایس ۔شیوشنکرن کو ان کی کمپنی ایئرسیل کو فروغ کرنے کیلئے مجبور کرنے کا ملزم مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا جانا اب طے لگتا ہے۔ مارن کے خلاف الزامات اور متعلقہ ثبوتوں کے بارے میں سی بی آئی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو مفصل رپورٹ دے دی ہے۔ شیو شنکرن نے سوموار کو سی بی آئی کو بتایا تھا کہ کس طرح ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے انہیں ایئر سیل بیچنے کے لئے دیاندھی مارن نے مجبور کیا تھا۔ ایئر سیل معاملے میں دیاندھی کے کردار پر وزیر اعظم کو مفصل رپورٹ دینے کی تصدیق کرتے ہوئے سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کپڑا منتری کے خلاف لگائے گئے الزام کافی سنگین ہیں اور ان کی پوری جانچ کی ضرورت ہے۔ شیو شنکرن نے جانچ ایجنسی کو ان لوگوں کے نام پتے دئے ہیں جو مارن کی ذیاتیوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ مارن انہی لوگوں کے ذریعے سے شیو شنکرن پر ایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباؤ بنا رہے تھے۔ان میں ایئر سیل سے جڑے وکیل اور چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بھی شامل ہیں۔ شیو شنکرن کا کہنا تھا کہ ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے مارن نے ان کے کاروباری اسٹیٹ کو پوری طرح سے تباہ کردیا اور انہیں دیش سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔
آج کی تاریخ میں بدعنوانی کا اشو گھر گھر تک موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ تبھی تو بدعنوانی اور کالی کمائی کو لیکر آج کی صورتحال میں لوک آیکت کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کانگریس لیڈر شپ دیاندھی مارن سے دوریاں بڑھا رہی ہے اور سرکار یا کانگریس شاید ہی انہیں اب بچا پائے۔ دیاندھی مارن کووزیر مالیات پرنب مکھرجی سے ملاقات کے درمیان صاف اشارے دے دئے گئے ہیں کہ پردھان منتری پہلے ہی سے کہہ چکے ہیں کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ معاملے میں سبھی الزامات کی جانچ کی جائے گی جس میں مارن کے خلاف بھی الزام شامل ہے۔ ان الزامات پر سی بی آئی جانچ کی تازہ رپورٹ پردھان منتری کے دفتر کو پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی ایم کے چیف کروناندھی کا اب کیا موقف ہوتا ہے۔ دو دن پہلے کروناندھی نے پردھان منتری کو کنی موجھی کی گرفتاری کے لئے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اب اگر دیاندھی مارن حراست میں لئے جاتے ہیں تو کروناندھی کیا کریں گے؟ کیا وہ یوپی اے سرکار سے اپنے وزرا کو ہٹنے کا حکم دیتے ہیں؟ یا حمایت واپسی کا تو وہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں یہ آگے دیکھنے والی بات ہوگی۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Karunanidhi, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

18 مئی 2011

راہل جی اب آپ پیٹرول پمپ پر جاکر دھرنا کیوں نہیں دیتے؟

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 18مئی2011
انل نریندر
پیٹرول کی قیمت میں5 روپے فی لیٹر کے اضافے کے خلاف سڑکوں سے لیکر انٹر نیٹ اور فیس بک میں بھی زور شور سے احتجاج جاری ہے۔ لوگوں نے جم کر فیس بک میں سرکار کو طعنے مارے ہیں۔ ایک زور دار تبصرہ تو یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو اسی طرح دھرنے پر بیٹھ جانا چاہئے جیسے وہ گریٹر نوئیڈا کے گاؤں میں جا بیٹھے تھے۔ فیس بک پر دلچسپ تبصرہ کرنے والے مشہور سماجی کارکن امن چھنا نے لکھا ہے کہ راہل جی کو فوراً بائیکل لیکر قریب کے پیٹرول پمپ کا دورہ کرنا چاہئے، وہاں دھرنا دینا چاہئے اور گرفتاری دینی چاہئے۔ لیکن کانگریس کے پاس شاید اس کا بھی جواب حاضر ہے۔ کانگریس کا ہاتھ غریب کے ساتھ ہے اور بیچارہ غریب تو پیٹرول خریدتا ہی نہیں۔ سڑکوں کے ساتھ ساتھ فیس بک پر پیٹرول کی قیمتوں میں ا ضافے کے خلاف تحریک چھڑی ہوئی ہے۔
رہی بات غریب کی تو غریب تو پہلے ہی سے بری طرح پس رہا ہے۔ پیٹرول کے دام بڑھنے کے بعد بھی وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے اتوار کو کہا کہ اگلے ہفتے ڈیزل اور رسوئی گیس کے دام بڑھانے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ان کے دام بڑھے تو اس کا سیدھا اثر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں پر پڑنے والا ہے۔
جنتا کے کئی اہم خرچے پہلے ہی بڑھ چکے ہیں۔ مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں نے آپ کی جیب کو آہستہ آہستہ ڈھیلا کرنا شروع کردیا ہے اور گھر کے بجٹ کو بری طرح سے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ سنیچر سے پیٹرول کی قیمت63 روپے37 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی سے روز آنے جانے میں دو لیٹر پیٹرول خرچ کرتے ہیں تو پچھلے 12 مہینے میں آپ کا خرچ قریب 1 ہزار روپے ماہانہ بڑھ جائے گا اور مستقبل قریب میں پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے اور بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں دودھ کی۔ ممکن ہے آپ کے گھر میں کل راشن جتنے روپے کا آتا ہے اکیلے دودھ کا خرچ اس سے زیادہ پیچھے نہیں رہے گا۔ ایک سال پہلے فل کریم دودھ 28 روپے فی لیٹر ہوا کرتا تھا اب یہ 36 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اگر آپ کے گھر روزانہ دو لیٹر دودھ آتا ہے تو پچھلے ایک سال میں دودھ کا خرچ500 روپے ماہانہ بڑھ گیا ہے۔
گرمی کے سیزن میں یہ دام اور بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اب ذرا اسکول کی فیس پر نظر ڈالیں، ہم بات صرف ٹیوشن فیس کی کررہے ہیں جس میں اضافہ صاف نظر آتا ہے۔ دہلی میں اوسط درجے کے اسکول کی ٹیوشن فیس10 فیصد تک بڑھی ہے اور این سی آر میں یہ اضافہ40 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اسکول فیس اور باقی خرچوں میں بے حساب اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ اور ڈولپمنٹ چارج اور دیگر کھیل سرگرمیوں و دیگر مدوں میں خرچے کافی بڑھ گئے ہیں اور کہنے کو ای ایم آئی پچھلے ایک سال میں قرض کی شرح پر2.5 فیصد بڑھی ہے۔
آج کی تاریخ میں آپ کی جیب کا دشمن نمبر یہ ای ایم آئی بن گئی ہے۔اور عام طور پر اگر آپ نے دس لاکھ روپے 20 سال کے لئے قرض لے رکھا ہے تو اس کی قسط میں ماہانہ 1700 روپے جڑ جاتے ہیں۔ اور کار لون و پرسنل لون کی قسط کی بات رہی الگ۔ دوائیں سرکارکے کنٹرول بالی بازار میں نہیں ملتیں جبکہ وہ سستی ہیں مگر دکاندا روں کو 10فیصدبڑھانے کی اجازت ہے لیکن کمپنیاں اپنی منمانی کرتی ہیں اور دواؤں کی قیمتیں مقرر کرنے سے پہلے ہی ان کے دام بڑھا کر چھاپ دئے جاتے ہیں جن میں زیادہ توازن نہیں ہے جن کی قیمت 5 سے18 فیصد بڑھی ہے پھر یہ بھی پتہ نہیں کہ آپ جو دوا لے رہے ہیں وہ اصلی ہے یا نقلی ؟

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...