Translater

Kapil Sibal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Kapil Sibal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

28 اکتوبر 2011

سرو شکشا ابھیان کی حقیقت




Published On 28th October 2011
انل نریندر
میرا بھارت مہان! ساری دنیا میں اس وقت بھارت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کی اقتصادی حالت موجودہ وقت میں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی اقتصادی حالت ہے لیکن زمینی حقیقت جب ہم دیکھتے ہیں تو تھوڑی حیرانی ضرور ہوتی ہے کہ آج بھی ایجوکیشن جیسا اہم حلقہ اتنا پچھڑا ہے؟ تعلیم کا حق قانون اور سرو شکشا ابھیان کے باوجود پچھلے سال قریب 82 لاکھ بچوں کا اسکول میں داخلہ نہیں ہوپایا ہے۔ اتنا ہی نہیں اسکولوں کی بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ لڑکیوں کے 41 فیصدی اسکولوں میں ٹوائلٹ تک نہیں ہیں۔ راجیوں میں پرائمری شکشا پر تبصرہ کرنے کے لئے انسانی بہبود برائے ترقی وزیر شری کپل سبل کی صدارت میں راجیوں کے تعلیمی وزیروں کی ایک میٹنگ میں بچوں کے اسکولوں پر سنجیدگی سے تبصرہ ہوا۔ 6 سے14 سال تک کے بچوں کو ضروری طور پر سکولوں میں بھیجنے کے لئے تعلیم کا حق قانون نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے نافذ ہونے کے ایک سال سے زیادہ کا وقت گذر جانے کے باوجود پرائمری شکشا کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔ سکولوں اور ٹیچروں کی کمی تو الگ موضوع ہے حالات یہ ہے کہ سروشکشا ابھیان کی بھی ہوا نکل گئی ہے اور مرکزی سرکار کو اسی سے ملتا جلتا نیا ابھیان چلانے کا فیصلہ لینا پڑا۔ مگر اس میں فرق یہ ہوگا کہ اسے غیر سرکاری مشینری سے ملایا جائے گا۔ اب پرائمری سکولوں میں اس مشینری کا سیدھا دخل رہے گا۔ اس مشینری کے ورکروں کا کام ہوگا کہ وہ سکول اور سماج کے درمیان پل کا کام کریں گے۔ اگر کسی گاؤں میں کوئی بچہ سکول نہیں جارہا ہے تو اس کی جانکاری علاقے کے سکول کو دینی ہوگی اور بچے کے گھر والوں کو بیدار کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو سکول بھیجیں۔ سبل نے بتایا کہ اس ابھیان کا نام ''تعلیم کا حق'' رکھا گیا ہے۔ جس کی شروعات پردھان منتری 11 نومبر کو کریں گے۔ اس ابھیان کے تحت13 لاکھ سکولوں کو شامل کیا جائے گا جن کے پرنسپلوں کو پردھان منتری کی اپیل جاری کی جائے گی جس کا پیغام ہوگا کہ وہ کسی بھی بچے کو سکول جانے سے محروم نہ ہونے دیں۔
کپل سبل نے راجیوں کے تعلیمی وزیروں سے کہا ہے کہ وہ پرائمری سکولوں کی حالت ٹھیک کریں۔ انہوں نے کئی راجیوں میں اب بھی تعلیم کا ادھیکار قانون نافذ نہ کرنے پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں کئی بار راجیوں سے اپیل کی جاچکی ہے مگر صرف18 راجیوں نے ہی اس قانون کو نافذ کیا ہے۔ مہاراشٹر، پشچم بنگال، گجرات اور تاملناڈو جیسے کئی بڑے راجیہ ایسے ہیں جنہوں نے اس قانون کو اب تک نافذ نہیں کیا ہے۔ اس کے چلتے لاکھوں بچے سکول نہیں جارہے ہیں۔سکولوں کی بلڈنگوں کی بدحالی اور ٹیچروں کی کمی پر بھی دھیان دینا بہت ضروری ہے۔ اس وقت قریب 44 لاکھ ٹیچر پورے دیش میں کام کررہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ شری کپل سبل نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی ہمت دکھائی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ دن پورے دیش میں جلد آئے گا جب ہر گاؤں میں کوئی بچہ سکول جانے سے محروم نہیں ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun

ہندوستانی فوج کے چیتا ہیلی کاپٹر لوٹانے کی اصل کہانی




Published On 28th October 2011
انل نریندر
خراب موسم کی وجہ سے ہندوستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ایتوار کو پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) میں غلطی سے پہنچ گیا۔ ہندوستانی فضائی سینا کا چیتا ہیلی کاپٹر دوپہر قریب ایک بجے راستہ بھٹک کر کنٹرول لائن کے دوسری طرف پہنچ گیا۔ پاکستانی سینا نے اپنے دو لڑاکو جہازوں کو اڑا کر ہیلی کاپٹر کو اسکائی علاقے میں اترنے پر مجبور کردیا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار چاروں ہندوستانیوں سے قریب چار گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی اور انہیں چھوڑدیا گیا۔ شام قریب 6 بجے دومیجر (پائلٹ اور اسسٹنٹ پائلٹ) ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک جونیئرافسر واپس کارگل پہنچے۔ حادثے کی جانکاری ملتے ہی بھارت کے فوجی سرگرمیوں کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ایم او) سرگرم ہوگئے اور معاملے کو سلجھانے کے لئے ہاٹ لائن پر اپنے پاکستانی افسروں سے بات کی۔پاکستان نے بھارت کا چیتا ہیلی کاپٹر واپس کرکے ساری دنیا میں اپنی نیک نیتی کا پیغام دینے کی کوشش کی۔اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اتنے تناؤ کے بعد بھی وہ انسانیت کا تقاضہ نہیں بھولا ہے اور بھارت کو اس کے اس قدم کی تعریف کرنی چاہئے۔ ہم پاکستان کا اس بات کے لئے تو شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے ہماری غلطی کو سمجھا اور ہمارے فوجی اور ہیلی کاپٹر کو صحیح سلامت چھوڑدیا لیکن پاکستان کے ذریعے ہندوستانی ہیلی کاپٹر کو چھوڑنے کے پیچھے اصل کہانی اور ہے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمارا ہیلی کاپٹر دو وجوہات سے واپس کیا ہے۔ پہلا کہ ہیلی کاپٹر میں کل چار سواریاں تھیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ کوئی پانچواں آدمی ہیلی کاپٹر میں رہا ہو جو جاسوسی کرنے کے لئے بیچ میں کہیں اترا ہو اور دوسری بات یہ کہ چیتا ہیلی کاپٹر میں جاسوسی کرنے کے لئے کوئی آلات نہیں تھے۔ ہیلی کاپٹر کوئی جاسوسی مشن پر نہیں تھا۔ دراصل ہیلی کاپٹر لیہہ سے بمبار (دراس سیکٹر) میں ایک مینٹیننس مشن پر تھا۔خراب موسم کی وجہ سے وہ راستہ بھٹک گیا تھا۔ کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کو پاکستان نے نیک نیتی کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کے دخل کے بعد چھوڑا تھا۔ ایک نیوز چینل کے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج کے سینئر افسروں نے امریکہ سے جڑے معاملے میں دخل دینے کو کہا تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بنایا اور آخر میں بھارت اور پاکستان کے سینئر فوجی افسروں نے آپس میں بات چیت کی۔ جس کے بعد سنکٹ کا حل نکلا اور چیتا ہیلی کاپٹر بھارت واپس آیا۔ دلچسپ اور چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ جس پاکستان آرٹیلٹی ہیلی پیڈ (نمبر90) پر جو ایل او سی کے بالکل قریب بنایا گیا ہے ، کے بارے میں ہندوستانی فوج کو کوئی معلومات ہی نہیں تھی۔ ہمیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ایل او سی کے اتنے قریب پاکستانی فوج نے کب یہ ہیلی پیڈ بنایا۔ خیر! خبریہ ہے کہ پاکستان نے اس چیتا ہیلی کاپٹر کا جی پی ایس ڈاٹا چورا لیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس ڈاٹا میں بہت اہم جانکاریاں تھیں۔ یہ ہندوستانی حفاظت نظریئے سے بہت اہم تھیں۔ ڈاٹا میں ہیلی کاپٹر سے بھارت کے تمام ہیلی پیڈ کے رابطے کا بیورہ تھا۔ ڈاٹا میں بھودوے کوٹ کے حلقے میں آنے والے فوج کے سبھی ہیلی پیڈ کا کوڈ نیم بھی درج تھا۔ ہندوستانی فوج کے سینئر افسر چیتا ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ہیلی کاپٹر میں جی پی ایس لگا ہوا تھا تو وہ کیسے راستے سے بھٹک گیا؟ شرمناک تو یہ ہے کہ چیتا ہیلی کاپٹر ایل او سی کے پار بھیرول سیکٹر کے جس ہیلی پیڈ پر اترا (پاکستانی آرٹیلٹی نمبر90)، وہ کارگل سیکٹر سے لگا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستانی فوج کو اس کی جانکاری نہیں تھی۔ شروعاتی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا ہیلی کاپٹر کو جبراً اتارنے کے لئے مجبور کرنے کا دعوی بھی غلط ہے۔ نہ تو ہندوستانی پائلٹ کو پتہ تھا کہ انہوں نے ہیلی کاپٹر کہاں اتارا ہے اور نہ ہی پاکستان کو اس کی بھنک لگی تھی۔ ذرائع کے مطابق بھودوے کوٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل روی دستانے ایتوار کی صبح کارگل کے پاس دورے پر جانے کے لئے نکلے تھے۔ان کے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) میں کوئی تکنیکی خرابی آگئی اور اسے اترنا پڑا۔ دستانے کو دوسرے ہیلی کاپٹر سے سرینگر لے جایا گیا۔ اے ایل ایچ کو ٹھیک کرنے کے لئے مینٹی ننس انجینئر کو لیکر چیتا نے اڑان بھری۔ باقی کی کہانی تو آپ کو پتہ ہی نہیں ۔ اصل میں کیا ہوا اس کا شاید ہی صحیح پتہ چلے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun

14 جولائی 2011

سرکار سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے میں ناکام، بابا رام دیو کی جیت


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 14th July 2011
انل نریندر
اگرمرکزی وزارت داخلہ ، مرکزی وزیر شری کپل سبل اور دہلی پولیس نے یہ سمجھا تھا کہ رام لیلا میدان میں آدھی رات کو سوئے لوگوں پر کی گئی لاٹھی چارج وغیرہ کو سپریم کورٹ کے ججوں سے چھپا لیں گے تو بہت بڑی غلط فہمی میں تھے۔ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں سے اس رات پولیس نے کیا برتاؤ کیا اس کے بارے میں بصداحترام جج صاحبان کو پہلے ہی معلوم تھا۔ بصد احترام جسٹس ڈاکٹر بلبیر سنگھ چوہان و جسٹس سوتنتر کمار پہلے ہی سے تیار آئے تھے۔ انہوں نے اپنا ہوم ورک اچھے سے کر رکھا تھا۔ ان کے تلخ سوال اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔ بدعنوانی اور کالی کمائی کے مسئلے پر ستیہ گرہ کرنے پر رام لیلا میدان سے طاقت کے زور پر بے دخل کردہ بابا رام دیو نے رات کے اندھیرے میں ہوئی کارروائی کا ٹھیکرا سپریم کورٹ میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے سر پھوڑنے کی کوشش کی تھی ، وہیں اس کارروائی میں دہلی پولیس کے جواب سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جج صاحبان نے نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا۔ دونوں ججوں نے پیر کو دہلی پولیس سے کچھ چبھتے ہوئے سوال پوچھے۔ جج ایک سے تین جون کے درمیان کے واقعات کے ساتھ ہی ان حالات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے پولیس نے دیر رات بربریت اور ان کے حمایتیوں کو طاقت کے زور پر باہر کرنا پڑا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے رام لیلا میدان میں ستیہ گرہ کررہے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر 4 جون کی رات میں پولیس کی بربریت آمیز کارروائی پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے میں 6 جون کو منموہن سنگھ سرکار اور دہلی کی شیلا سرکار کے اعلی افسروں سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کمشنر بی کے گپتا سے بھی شخصی طور سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے پہلے بابا رام دیو کی جانب سے ان کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رام لیلا میدان میں نہتے ستیہ گرہیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کی جڑ ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کیونکہ بابا رام دیو کو دہلی سے بے دخل کرنے کا کوئی حکم نہیں تھا۔ اس لئے عدالت کو وزیر داخلہ سے شخصی طور سے جواب طلب کرکے پتہ لگانا چاہئے کہ اس بارے میں کب اور کن حالات میں فیصلہ لیا گیا تھا۔ جیٹھ ملانی نے الزام لگایا کہ پرامن طریقے سے ستیہ گرہ کررہے اشخاص نے ان ذیاتیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔
دونوں جج جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار پوری تیاری سے آئے تھے۔ انہوں نے کیس کے سارے پہلوؤں پر گہرائی سے مطالع کیا ہوا تھا اور بصد احترام ججوں نے دہلی پولیس سے سوال کیا کہ حکام کے ذریعے کی گئی ذیاتیوں کے خلاف یوگ گورو کے حمایتیو ں کی شرکت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی؟ عدالت عظمی نے کہا کہ پچھلے حلف نامے میں یہ صاف نہیں ہوپایا کہ یکم جون سے 3 جون کے درمیان کیا ہوا؟ اس نے کہا ڈی وی ڈی ، تصاویر اور دستاویزوں سے صاف طور سے پتہ چلتا ہے کہ اس جگہ پر یوگا کی پریکٹس کرائی جارہا تھی۔ عدالت نے حکام سے اس رات کی صفائی دینے کو کہا۔ کن حالات کے تحت انہیں رام دیو کا یہ پروگرام روکنا پڑا تھا۔ ڈویژن بنچ نے اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ پولیس نے تمبوؤں سے گھیرے گئے اس مقام سے لوگوں کو باہر نکالنے کیلئے آنسو گیس کے گولوں اور پانی کی دھار کا استعمال کیا ۔ سپریم کورٹ نے کہا یہ امید نہیں کی جاتی کہ کسی بھی گھیرے گئے حصے میں آنسو گیس اور پانی کی دھار کا استعمال کیا جائے۔ کیا ایسا نہیں تھا کہ رات ساڑھے گیارہ بجے جب لوگ سوئے ہوئے تھے تو آپ نے لاٹھیاں برسائیں؟ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کمشنر کسی سے بات چیت کررہے تھے۔
سپریم کورٹ نے پیر کو 4 جون کی پولیس کارروائی کوتار تار کر سرکار کو بے نقاب کردیا۔ پولیس کا جھوٹا حلف نامہ عدالت کو گمراہ نہیں کرسکا۔ پولیس اپنے اس دعوے کو ثابت نہیں کرسکی کہ اس نے آنس گیس اس لئے چھوڑی کیونکہ بابا رام دیو کے حمایتی تشدد پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لئے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ بابا رام دیو کو چاہئے کہ وہ دہلی پولیس کو راج بالا کی حالت کے بارے میں سپریم کورٹ میں آواز اٹھائیں۔ راج بالا زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ بابا کو چاہئے وہ اگلی سماعت میں خواتین حمایتیوں سے آبروریزی کی کوشش کا بھی ذکر کریں جیسا کہ انہوں نے الزام لگایا ہے۔ ہم بصد احترام ججوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کے دباؤ میں نہیں آئے اور انہوں نے اس کالی رات کے معاملے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, delhi Police, Kapil Sibal, P. Chidambaram, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

18 جون 2011

انا کے لوک پال بل کو جوک پال بل بنانے کی کوشش

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
18 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 لگتا ہے کہ انا ہزارے کے لوک پال بل پر صدی کے سب سے بڑے چاند گرہن کا اثر ہوگیا ہے۔ لوک پال بل جوک پال بل بن کر رہ گیا ہے۔ دیش کو بہت امید تھی کہ سول سوسائٹی کے نمائندے اورحکومت کے درمیان شاید کوئی رضامندی ہوجائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔انا اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ سرکار ہماری دلیلیں سننے کوتیار نہیں تھی اور محض اپنی بات کرتی رہی۔ سرکار یہ ہی چاہتی ہے کہ لوک پال کے نام پر11 نفری ایک باڈی بنے جو اعلی سطح کے کچھ معاملوں میں بدعنوانی کی جانچ کرے۔ اس کے پاس اپنی کوئی جانچ ایجنسی نہیں ہے جبکہ سول سوسائٹی چاہتی ہے کہ اس باڈی کو سبھی سطح پر کرپشن کی جانچ اور سزا طے کرنے کا حق ملے۔اس کے پاس جانچ کی اپنی مشینری ہو تاکہ وہ حکومت سے آزاد رہے۔ وزیر اعظم اور جج صاحبان کو جانچ کے دائرے میں لانے پر اتفاق رائے نہیں ہوپایا۔ دونوں ہی فریقین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 15 جون کی اس میٹنگ میں وزیر اعظم اور بڑی عدلیہ اور پارلیمنٹ کے اندر ممبران کے برتاؤ کو مجوزہ لوک پال کی جانچ کے دائرے میں لانے کے مسئلے پر کچھ بات چیت نہیں ہوئی۔ بات چیت کے بعد کپل سبل نے اخبار نویسوں سے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے 20 اور21 جون کو ہونے والی اگلی میٹنگ میں دونوں فریق اپنی اپنی تجاویز غور کے لئے رکھیں گے پھربھی دونوں تجویزوں پر اتفاق رائے نہیں بنی تو کیبنٹ کے سامنے دونوں کا ایک مشترکہ پرستاؤ بھیجا جائے گا۔اس میں رضامندی اور غیر رضامندی کے نکات پر واضح طور سے نشاندہی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا دونوں تجاویز جنتا کے سامنے لائی جائیں گی۔ اس عمل میں حکومت سیاست پارٹیوں کو بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔ کمیٹی کے ممبر اروند کیجریوال نے کہا کہ غیر رضامندی کے باوجود 20 اور 21 جون کو میٹنگ میں شامل ہوں گے اور اپنا موقف رکھیں گے۔ تاکہ جنتا دیکھ سکے کے کونسا مسودہ موزوں ہے۔ اس اہم میٹنگ سے مایوس انا ہزارے نے جمعرات کو کہا کہ لوک پال مسودہ بل کو دو ایڈیشن کے کیبنٹ کو بھیجنے کے سرکار کے فیصلے پر تعجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار کی سخت لوک پال قانون بنانے کی کوئی منشا نہیں ہے اور اگر کمزور قانون بنا تو وہ 16 اگست سے پھر انشن کریں گے۔ انہوں نے کہا جب اپریل میں میں نے انشن کیا تھا تو سرکار نے ہماری سبھی تجاویز ماننے کا وعدہ کیا تھا۔ اب حکومت اپنے وعدے سے مکر رہی ہے۔ بابا رام دیو کی تحریک کو جس طرح توڑنے اور مروڑنے کی کوشش کی گئی تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ لاٹھی کھانے اور گولیاں کھانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ہزارے کے ساتھی اروند کیجریوال نے کہا سرکار ایک سخت قانون بنانے اور اس کا سہرہ لینے کا موقعہ کھو رہی ہے۔ اب سرکار لوک پال نہیں بلکہ جوک پال(مذاقیہ) بل لانا چاہتی ہے۔کیا سماج کے ممبر سرکار کو بلیک میل کررہے ہیں۔ اس پر انا ہزارے نے کہا کہ اگر قومی مفاد اور سماج کے مفاد میں کوئی بات اٹھانا ’’بلیک میل ‘‘ کرنا ہے تو ہمیں یہ بھی الزام قبول ہے۔
یہ جتنا اعتراض آمیز ہے اتنا ہی مایوس کن کہ کانگریس پارٹی اور مرکزی حکومت بابا رام دیو کے بعد اب انا ہزارے کی تحریک کو ٹائیں ٹائیں فش کرنے میں لگی ہے۔ پہلے تو کانگریس کے ترجمانوں نے ، پھر خود وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے جس طرح انا ہزارے کے رویئے کے بہانے ان کے مطالبات کو مسترد کیا اس سے اس خدشے کی توثیق ہوتی ہے کہ سرکار نے بدعنوانی کے مسئلے پر دیش کی توجہ ہٹانے کیلئے ہر ہتھکنڈہ اپنایا ہے۔ یہ مضحکہ خیز ہے کہ کانگریس انا ہزارے کو بدنام کرنے کےئے کبھی تو آر ایس ایس کا مکھوٹا بتانے کی حماقت کرتی ہے تو کبھی یہ کہتی ہے کہ مٹھی بھر سول سوسائٹی کے لوگ کیا جنتا کے چنے ہوئے نمائندوں سے اوپر ہیں؟ ہم سرکار سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر انا ہزارے یہ چاہ رہے ہیں کہ ایک مضبوط لوک پال بنایا جائے تو آخر اس میں نامناسب ، غیر آئینی کیا ہے؟ اگر کانگریس کی نظر میں اپوزیشن اور خاص طور سے بھاجپابدعنوانی کے معاملے میں ایماندار نہیں تو پھر انا اور ان کے ساتھیوں اور حمایتیوں کو کیا فیل کئے جانے کی کوشش ہورہی ہے؟ اگر انا کی حمایت میں صرف مٹھی بھر لوگ ہیں توپھر یہ بکھیڑا کیوں پھیلایا جارہا ہے؟ اگر مرکزی اقتدار بدعنوانی سے لڑنے کے لئے پرعزم ہے تو اس کا اظہار کیوں نہیں کرتی؟
ہم سرکار اور کانگریس پارٹی سے براہ راست سوال کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ایک بار منتخب ہونے سے ہی کسی حکومت اور منتخب ممبران پارلیمنٹ ، نمائندوں کو اگلے پانچ سال کے لئے بدعنوانی، قتل، غبن یا آبروریزی کی اجازت ملی ہوئی ہے؟ سرکار کا نظریہ تو صاف ہے ۔ ہم پانچ سال کے لئے چنے گئے ہیں۔ہمیں راج کرنے کیلئے بس پارلیمنٹ کے اندر اپنا حساب کتاب ٹھیک رکھنا ہے۔ نمبرو ں کا حساب جٹانا ہے۔جنتا چیختی ہے تو چیختی رہے۔ آخر کتنے دن چلائے گی، تحریک انشن کرے گی ؟ اصل میں یہ حکومت جب پریشر بنتا ہے تو بوکھلا جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال 4 جون کو رام لیلا میدان میں دیکھنے کو ملی کہ گھبراہٹ میں پہلے تو سرکار ساری باتیں مان جاتی ہے اور بعد میں سب سے آہستہ آہستہ مکر جاتی ہے اور تحریک چلانے والے لیڈروں کو ڈرانے ، دھمکانے کا کام کرنے لگتی ہے۔ ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ جب یہ خبر آئی کہ لوک پال بل بنانے کی مہم کی رہنمائی کررہے انا ہزارے کے ٹرسٹ کے کھاتوں پر انکم ٹیکس کی نظر ٹیڑھی ہو گئی ہے۔ لوک پال پر مسودہ کمیٹی کی میٹنگ سے عین پہلے انکم ٹیکس محکمے کے افسروں نے انا کے دفتر پر دستک دے دی۔ ذرائع کے مطابق محکمے کے حکام نے ٹرسٹ کے دفتر جاکر جانچ کی اور قریب پانچ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی۔ سرکار ہر حالت میں بابا رام دیو اور انا ہزارے کی کوشش کو ناکام کرے گی۔ اس کے لئے ضرورت کے مطابق وہ سام ، دام، ڈھنڈ بھید سبھی ہتھکنڈو ں و ہتھیاروں کا استعمال کرے گی لیکن انا و بابا دونوں ہی ڈرنے والے نہیں ہیں اور وہ جنتا کی امیدوں پر کھرا اتریں گے۔ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اب بھارت کی عوام بیدار ہوچکی ہے اور سارے دیش میں جو آندھی شروع ہوئی ہے وہ رکنے والی نہیں۔ سرکار چاہے جتنی کوشش کرے۔ لوک پال بل کو جوک پال بل بنانے کی کوشش کرے ۔ حساب تو اسے ہی جنتا کو دینا ہوگا۔
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Kapil Sibal, Kejriwal, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Vir Arjun

10 جون 2011

وزیراعظم کی وزرا پر نکیل کسنے کی کوشش کا خیر مقدم


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
10 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کالی کمائی اور بدعنوانی کے خلاف بڑھتے چوطرفہ دباؤ سے گھری منموہن سرکار پریشان لگ رہی ہے۔ خاص کر وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ۔ وہ اپنی حکومت کی گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے اب قدم اٹھانے کی بات کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک ہے اپنے وزرا کو املاک کی تفصیل ظاہر کرنے کی ہدایت دینا۔ وزیر اعظم کا یہ قدم اعلی سطح پر انتظامیہ نے شفافیت لانے کی سمت میں انتہائی اہم مانا جارہا ہے۔منموہن سنگھ نے اپنے وزراء کے لئے ضابطہ رہنما اصول جاری کئے ہیں۔ ان کے تحت ہر وزیر کو اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی املاک کی تفاصیل دینی ہوگی۔ اتنا ہی نہیں وزراء کو اپنے مفادات کی بھی جانکاری دینی ہوگی۔ مثلاً اگر کسی وزیر کا رشتہ دار غیر ملکی کمپنی میں کام کرتا ہے تو اس کی پوری تفصیل بھی دینی ہوگی اور سرکار سے اس کی پہلے سے منظوری لینی ہوگی۔ ریاستوں کو بھی یہ فرمان لاگو کرنا ہوگا۔ انہیں 31 اگست تک وزراء کو اپنی املاک کی تفصیل دینے کو کہا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے سبھی وزراء کو خط لکھ کر اپنی املاک اور سالانہ کمائی ہی نہیں بلکہ اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ ان کے بچوں, رشتہ داروں کے نام ہوئی املاک کو بھی ظاہر کرنے کیلئے کہا ہے۔اتنا ہی نہیں وزراء کو اس بار خاص طور سے کارپوریٹ دنیا سے اپنے کاروباری رشتوں ،روابط کا خلاصہ کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ اگر ان کے خاندان کا کوئی فرد اپنی کوئی فرم شروع کرتا ہے یا پھر کسی کاروباری فرم کے بورڈ کا ممبر بنتا ہے تو اس کی جانکاری بھی سرکار کو دینی ہوگی۔ضابطے کے تحت سبھی وزراء کو پراپرٹی، دینداریوں، کاروباری مفادات اور دیگر کنبے کے غیر ملکی سرکار یا تنظیم کے تحت روزگار سے متعلق معلومات بھی دینی ہوگی۔ تفصیل میں منقولہ غیر منقولہ املاک، نقدی، زیور، حصص اور جمع رقم کی بھی تفصیل بیان کرنی شامل ہے۔
وجہ کچھ بھی رہی ہو چاہے وہ بابا رام دیو کی تحریک کا دباؤ ہو یا پھر انا ہزارے کا دباؤ۔ وزیر اعظم کے اس قدم کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ منموہن سرکار میں کئی کروڑ پتی وزیر پہلے ہی سے موجود ہیں۔ نیشنل الیکشن واچ کی ایک رپورٹ جو وزراء کے ذریعے 2009 ء میں داخل حلف نامے پر مبنی ہے، کا کہنا ہے کہ شری پرفل پٹیل پہلے ہی 79.9 کروڑ کی املاک کے مالک ہیں۔ کپل سبل 31.97 کروڑ اور وی سینٹ پالا25.16 کروڑ، ویر بھدر سنگھ22.52 کروڑ روپے کے پراپرٹی کے مالک ہیں۔یوپی اے سرکار میں اس وقت47 وزیر کروڑ پتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے کھلنائک اور سابق وزیر اے راجا کے معاملے میں پردے کے پیچھے کچھ صنعتی گھرانوں سے ان کی سانٹھ گانٹھ اور انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم کے خریدنے کیلئے شرد پوار کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی سپریہ پھلے اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی وجہ سے سرکار کی فضیحت ہوئی تھی۔شاید وزیر اعظم کی نئی ہدایات کا سبب یہ ہی ہوسکتا ہے۔جہاں ہم وزیراعظم کے اس قدم کا خیرم مقدم کرتے ہیں وہی یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ نوکر شاہوں پر بھی نکیل کسنی چاہئے۔ وزراء سے کہیں زیادہ افسر شاہی نے لوٹ کھسوٹ مچائی ہوئی ہے۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Kapil Sibal, Manmohan Singh, Praful Patel, Sharad Pawar, Vir Arjun, Virbhadr Singh

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...