اس دیش کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ کھیلوں میں سیاست اتنی بڑھ گئی ہے کہ فضول کے جھگڑوں میں الجھنے کی کب فرصت ہے لیکن اصلی اشوز پر کوئی توجہ نہیں دیتا؟ سریش کلماڑی لندن اولمپک جائیں گے یا نہیں ،ثانیہ مرزا کی ماں کیوں لندن جا رہی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ وقت بربادی کے اشوز پر دن رات بحث ہورہی ہے لیکن کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ لندن اولمپک میں بھارت کتنے میڈل جیت کر لائے گا؟ لندن اولمپکس میں ہندوستانی کھلاڑیوں کے لئے سب سے بڑی چنوتی کیا ہے؟ یہ سوال کھلاڑیوں ،کوچ اور افسران سے پوچھا جائے تو زیادہ تر کا جواب ہوگا کھلاڑیوں کی فارم، قسمت اور باقی ٹیموں کا دم خم۔ لیکن دیش کا ایک بڑا طبقہ کچھ اور ہی سوچ رہا ہے۔ ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہوگی بیجنگ 2008 اولمپکس میں جیتے تین میڈل کی برابری لندن اولمپکس میں کرنا۔ کھیل واقف کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس اس برس سنہرہ موقعہ ہے کہ وہ تین میڈلوں سے آگے بڑھے۔ یہ بھارت کے لئے حوصلہ بڑھانے والی بات ہوسکتی ہے۔ اولمپک برطانیہ کی راجدھانی لندن میں ہورہے ہیں اور برطانیہ کی مشہور ریٹنگ ایجنسی پرائس پاور ہاؤس کوپرس نے اپنے تجزیئے میں پیشگوئی کی ہے کہ بھارت لندن میں 6 میڈل جیت سکتا ہے۔ بھارتیہ کھلاڑی اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ان سے اس بار کتنی امید لگائی گئی ہے۔ لندن اولمپکس بھارتیہ کھیلوں کی سمت اور راہ عمل بن سکتے ہیں۔ بیجنگ سے اچھا مظاہرہ ہندوستانی کھیلوں کو میلوں آگے لے جا سکتا ہے لیکن بیجنگ سے کمزور مظاہرہ بھارتیہ کھیلوں کو میلوں پیچھے بھی دھکیل سکتا ہے۔ نشانے بازی، مکے بازی، کشتی، تیر اندازی، بیٹ منٹن اور ٹینس جیسے کھیل ہیں جو اولمپکس سے بھارت کو میڈل دلا سکتے ہیں۔ بیجنگ میں جیتے ایک طلائی اور دو تانبے کے میڈل بھارتیہ کھیلوں کی ترقی اور تبدیلی کی تصویر کو لندن میں پیش کریں گے۔ اگر لندن میں بھارت 4 میڈل بھی جیت پایا تو یہ مان لینا چاہئے بھارتیہ کھیل آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے۔ بڑی کامیابی ملتی ہے تو صاف ہوجائے گا کہ بھارتیہ کھلاڑیوں نے میڈل جیتنے اور بڑے مقابلوں میں کامیاب ہونے کا منتر سیکھ لیا ہے۔ حالانکہ مکے بازی، کشتی ، نشانے بازی، تیر اندازی، ٹینس، بیٹ منٹن وغیرہ کھیلوں میں بھارت کے پاس ورلڈ چمپئن کھلاڑی ہیں لیکن اولمپکس کے سامنے کسی بھی مقابلے کے معنی نہیں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بیجنگ میں جیتے میڈل بھارتیہ کھلاڑیوں کیلئے سخت چنوتی بن کر کھڑے ہیں۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ ہم بھارت کے شاندار پردرشن کے نام پر تین چار میڈلوں کی بات کرتے ہیں جبکہ ہمارا پڑوسی دیش چین 1983 کے لاس اینجلس کے تین میڈلوں سے2008 میں بیجنگ اولمپک میں 57 طلائی اور100 سے زیادہ دیگر میڈل جیت کر میڈل ٹیلی میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون پر آگیا تھا۔ بھارت 112 برسوں کی اپنے اولمپک تاریخ میں کل 20 ہی میڈل جیت پایا ہے جن میں11 میڈل تو ہاکی کے نام ہیں۔ کھیلوں میں یہ اصول اب کہیں پیچھے چھوٹ چکا ہے کہ میڈل جیتنے سے زیادہ اہم حصہ لینا ہے۔ کھلاڑی بھی جانتے ہیں کہ اولمپک میں کامیابی انہیں راتوں رات اسٹار بنا دے گی۔
Translater
London لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
London لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
19 جولائی 2012
28 دسمبر 2011
لندن پیرس سے بھی زیادہ ٹھنڈ دہلی میں
Published On 28th December 2011
انل نریندر
دہلی کے شہریوں کو لگ رہا تھا کہ اس سال دہلی میں سردی اتنی نہیں پڑے گی جتنی پڑتی ہے۔ لیکن دیر سے ہی صحیح جب ٹھنڈ اپنے رنگ میںآئی تو اس نے سارے ریکارڈ توڑ دئے۔ گذرتے سال میں اگر آپ لندن ،پیرس یا نیویارک گئے ہوں تو اپنی یادیں تازہ کرلیں۔ اس سال نیا سال منانے کے لئے آپ کو لندن، پیرس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ دہلی میں لندن، پیرس و نیویارک سے زیادہ سردی ہے۔ وہاں گئے بغیر آپ دہلی میں ہی یوروپ کا مزہ اٹھا سکتے ہیں۔ دراصل سورج غروب ہوتے ہی اپنی دہلی بھی انہی شہروں کی طرح ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں ایتوار کو کم از کم درجہ حرارت 2.9 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ پچھلے 10 سالوں میں دہلی میں سردی کا یہ ریکارڈ ہے۔ دہلی کا کم از کم درجہ حرارت لندن اور پیرس سے بھی کم ہوگیا۔ ان دونوں شہروں میں کم از کم 4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رہا۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں کا زیادہ تر درجہ حرارت دہلی کی بہ نسبت کم ہوتا ہے۔ لندن میں یہ 7 اور پیرس میں11 ڈگری سیلسیس رہا اس کی وجہ وہاں کی راتیں تو سرد ہیں لیکن دن میں یہ راحت ملنے والی نہیں۔ دہلی میں تو کم سے کم تھوڑی راحت ہے کہ دن کا درجہ حرارت یہاں 19 سے 20 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے۔ ہاں دہلی کے شہریوں کے لئے تھوڑے سکون کی بات یہ ضرور رہی کہ ان دنوں کہرے کا زور اتنا نہیں جتنا گذشتہ برسوں میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ دن میں سوریہ دیو کے درشن ہوجاتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ دن کا درجہ حرارت زیادہ ہے یعنی دن میں مزے کی دھوپ سینکئے اور تیار ہوجائے رات میں لندن پیرس کا مزہ اٹھانے کے لئے ۔ یہ سلسلہ اور کتنے دن چلتا ہے دیکھئے۔ دلچسپ اور عجب بات تو یہ ہے کہ نارتھ انڈیاکے میدانی علاقے میں پہاڑوں سے بھی زیادہ سردی پڑ رہی ہے۔ مثال کے طور پرراجستھان کے چورو میں ایتوار کو درجہ حرارت 1.4 ڈگری تھا۔ ہریانہ کے جھجھر میں 0.3 اور حصار میں 0.0 تھا جبکہ امرتسر میں یہ 0.6 رہا۔ ادھر ہماچل کے شملہ میں 6 ڈگری درجہ حرارت تھا۔ نینی تال میں بھی 6 ڈگری اور مسوری میں 4.3 رہا۔اگر ہم یوروپ کی بات کریں تو روم میں 8، لندن میں 7، پیرس میں 5، برلن میں 2 ڈگری سیلسیس رہا۔ موسم کی بھی عجب بازی گری ہے جہاں کرسمس میں برف کی امید ہوجاتی ہے وہاں درجہ حرارت اوپر چڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس ہریانہ کے جھجھر کے کھیتوں میں برف کی دو سینٹی میٹر موٹی پرت جم گئی تھی۔ تقریباً پورے شمالی ہند میں مسلسل سرد ہواؤں سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔سردی کی وجہ سے 131 لوگ مر چکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی ٹھنڈ سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ ماؤنٹ آبومیں تو ٹھنڈ نے تو 75 سال پرانا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ یہاں درجہ حرارت0 سے 4.3 ڈگری نیچے آگئے۔ اس سے یہاں مکانوں کی کھڑکیوں ، کاروں اور شیشوں ، پیڑ کی پتیوں اور جھیل میں برف کی چادر چڑھ گئی ہے۔ لداخ کے لیہہ میں بھی اس موسم کا سب سے سرد ترین دن رہا یہاں0 سے18.2 ڈگری درجہ حرارت نیچے رہا۔ گلمرگ ،پہلگام میں کم از کم درجہ حرارت0 سے8.4 اور 7.4 ڈگری سیلسیس نیچے رہا۔ اترپردیش میں کانپور سب سے ٹھنڈا رہا جہاں درجہ حرارت0.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے 24 گھنٹے میں آگرہ میں کم از کم درجہ حرارت1 ڈگری رہا جو عام 7 ڈگری سے کم تھا۔ راجدھانی لکھنؤ کا درجہ حرارت2.9 ڈگری، فیض آباد میں 3.3 ، گورکھپور میں 4.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ کیا یہ گلوبل وارمنگ کا اثر ہے؟ اس حساب سے وہ دن بھی آسکتے ہیں جب دہلی میں برف پڑنے لگے گی۔
Anil Narendra, Cold Wave, Daily Pratap, India, London, Paris, Vir Arjun
04 نومبر 2011
محض پابندی سے نہیں سخت سزا سے ہی فکسنگ پر لگام ممکن
Published On 4th November 2011
انل نریندر
پاکستان کرکٹ کے لئے منگلوار کا دن بیحد شرمناک ثابت ہوا۔ اس کے دو کرکٹروں سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور تیز گیند باز محمد آصف کو لندن کی عدالت نے اسپارٹ فکسنگ کا قصوروار قراردیا ہے۔ ساؤتھ ورک کراؤن کورٹ کی 12 نفری جیوری نے 27 سالہ بٹ کو غلط طریقے سے پیسہ لینے کی سازش اور دھوکہ دھڑی کا قصوروار پایا ہے۔ وہیں آصف کو دھوکہ دھڑی کی سازش کا قصوروار مانا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے 20 ویں دن عدالت نے انہیں قصوروار ٹھہرایا۔ سزا جلد سنائی جائے گی اور تب تک وہ ضمانت پررہیں گے۔ بٹ کو زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا اور آصف کو زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں تیسرے ملزم محمد عامر کو مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ اس نے پہلے ہی جرم قبول کرلیا تھا۔ عامر کو سکینڈل میں اس کے کردار کے لئے سات سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ معلوم ہو کہ بند ہوچکے برطانوی جریدے 'نیو آف دی ورلڈ 'نے اسٹنگ آپریشن کرکے اس اسکینڈل کا خلاصہ کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ آصف اور بٹ نے سٹے باز مظہر مجید سے مل کر انگلینڈ کے خلاف لارڈس میں ہوئے ٹیسٹ میچ میں نو بال پھینکنے کی سازش رچی تھی۔ اس خلاصے کے بعد ان تینوں کے ہوٹل کے کمروں میں چھاپے مارے گئے جس میں نقدی برآمد ہوئی تھی۔ آصف پر غلط طریقے سے پیسہ لینے کے لگے الزام پر جیوری بٹی ہوئی تھی جس کے بعد اس پر پھر سے غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپارٹ فکسنگ معاملے میں جیوری کے فیصلے سنانے کے ساتھ ہی سلمان بٹ اور محمد آصف عدالت کے اندر بغیر کوئی رد عمل ظاہر کئے اپنی جگہ پر ایسے بیٹھے رہے جیسے کے پتھر کی مورتی بن گئے ہوں۔ برطانوی میڈیا اور عدالت میں موجود دیگر لوگ دونوں کے چہرے پر آئے اثرات پڑھنے کیلئے ان کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن تب تک ان دونوں کے چہرے اتر چکے تھے اور وہ بس جیوری کی طرف دیکھے جارہے تھے۔ یہ بھی عجیب و غریب اتفاق رہا کہ جب جیوری نے بٹ کو قصوروار قراردیا اس سے کچھ ہی دیر پہلے ان کی اہلیہ گل حسن نے دوسرے لڑکے کو جنم دیا۔ اسپارٹ فکسنگ کے اس معاملے میں فیصلہ آنے کے بعد عالمی کرکٹ دنیا میں رد عمل ہونا فطری ہے۔ حالانکہ پی سی بی یعنی پاکستان کرکٹ بورڈ اس فیصلے پر خاموش ہے۔ اس کا کہنا ہے یہ قانونی معاملہ ہے اور آئی سی سی اس کی جانچ کررہی ہے لیکن آئی سی سی کے سابق سی ای او احسان مانی نے کہا کہ لندن کی عدالت کا فیصلہ پی سی بی کے لئے سخت سندیش ہے اور آصف اور بٹ اسی کے لائق تھے۔ متنازعہ دورے پر پاک ٹیم کے منیجر رہے یاور سعید نے اس پورے معاملے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا مجھے بہت دکھ محسوس ہورہا ہے کیونکہ اس وقت ایک منیجر کے طور پر میں نے سبھی کھلاڑیوں کو برے لوگوں سے دور رہنے اور صرف کھیل پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاح دی تھی۔ انہیںیہ سمجھناچاہئے جب اگر دیش کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ ایسی بدتر حرکت کریں تو اس کے آپ کو برے انجام کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ٹیم انڈیا کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا صرف کھلاڑی ہی میچ فکسنگ نہیں کرتے کبھی کبھی امپائر بھی پرستاروں کی ملی بھت سے ایسا کرتے ہیں لیکن اس رپورٹ کو دبادیا جاتا ہے۔ یہ کرپشن کی سب سے بڑی مثال ہے اس کے آگے سب پھینکے ہیں۔ سابق آئی پی ایل چمپئن للت مودی نے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ مجھے اس پر کبھی شبہ نہیں رہا کہ پاک کرکٹر میچ فکسنگ میں شامل رہتے ہوں۔ انہیں جیل میں ڈال دینا چاہئے تاکہ باقی کھلاڑیوں میں خوف پیداہو۔ ویسے قارئین کو بتادیں کہ اسپارٹ فکسنگ کے ریٹ اتنے زیادہ ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کرکٹروں کو کوئی خاص بڑی رقم بطور فیس نہیں ملتی ان کے لئے اس سے اوپر اٹھنا مشکل ہے۔ ایک ٹیسٹ میچ کے لئے فکسنگ ریٹ 7.5 کروڑ روپے ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کا0.3 کروڑ روپے۔ 10 اوور کا 60 لاکھ روپے اور نو بال کا 7.5 لاکھ روپے۔ پاکستانی کھلاڑی جب پڑھتے اور سنتے ہوں گے کہ بھارت کے کرکٹروں کو کتنا پیسہ ملتا ہے تو ظاہر ہے وہ اپنے آپ کو چھوٹا محسوس کرتے ہوں گے۔ حال ہی میں بی سی سی آئی نے ٹیم انڈیا کے لئے نئے گریڈ کا اعلان کیا ہے۔ گریڈ اے میں سالانہ 1 کروڑ روپے، بی گریڈ میں50 لاکھ روپے، سی گریڈ میں 25 لاکھ روپے۔جب پاکستانی کھلاڑی یہ دیکھتے ہیں کہ بھارتیہ کھلاڑیوں کو اتنا پیسہ ملتا ہے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے کی سوچتے ہیں اور کرکٹ میں لمبی پاری نہیں کھیلی جاسکتی۔ کچھ ہی برسوں کے لئے آپ ٹاپ پر ہوتے ہیں اس لئے جلدی سے جلدی پیسہ کمانے کی دوڑ لگی رہتی ہے۔ دراصل اس سے بھارت میں اچھوتا نہیں رہا، محمد اظہرالدین، اجے شرما، منوج پربھاکر، اجے جڈیجہ ان کھلاڑیوں میں ہیں جن پر تاحیات پابندی لگی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ سٹے باز جان کو موسم اور پچ کی جانکاری دینے پر آسٹریلیائی کرکٹ بورڈ نے مارکوا اور شین وارن پر جرمانہ لگایا تھا۔ نومبر2010 ء میں پاکستان کے وکٹ کیپرذوالقرنین حیدردوبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف پانچواں ونڈے میچ چھوڑ کر آگئے اور الزام لگایا کہ انہیں خراب کارکردگی کے لئے دھمکی دی جارہی ہے۔ اسی کی بنیاد پر انہوں نے ریٹائرڈ منٹ مانگی ہے۔ پیسہ کا لالچ کبھی کبھی کھلاڑی کو ساری حدیں توڑنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس میں سٹے بازوں اور دلالوں کا بھی بڑا یوگدان ہے اور بھارتیہ سٹے باز تو اس میں ماہر ہیں۔ یہ سخت قانون اور سخت سزا سے ہی رک سکتا ہے۔ بی سی سی آئی نے 2000 ء میں کرکٹ سے فکسنگ کو' آؤٹ' کرنے کی سمت میں سخت قدم اٹھائے اور اپنے کھلاڑیوں پر پابندی لگائی۔ اس کے اچھے نتیجے رہے کم سے کم اس کے بعد کسی ہندوستانی کرکٹ کھلاڑی پر فکسنگ کا الزام تو نہیں لگا۔ حالانکہ سابق کرکٹروں کا کہنا ہے پابندی تو ٹھیک ہے لیکن اس کے ساتھ سزا بھی ہونی چاہئے۔ انگلینڈ کی عدالت نے راستہ دکھا دیا ہے اب دنیا کے سبھی کرکٹ بورڈوں اور سرکاروں کو بھی ایسا کرنا چاہئے۔ مجھے محمد عامر پر ضرور تھوڑا دکھ ہورہا ہے۔ اچھا نوجوان بالر ہے ۔ان کے چکر میں وہ پھنس گیا ہے اور اپنا شاندار مستقبل چوپٹ کرلیا ہے۔ ان تینوں کے ایجنٹ اور مبینہ سٹے باز مظہر مجید نے سٹے بازی معاملے کا حصہ ہونا نہ صرف قبول کرلیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی مانا ہے کہ اس نے ان تینوں کھلاڑیوں کو 77 ہزار پاؤنڈ اسٹرلنگ دی تھی
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, London, Match Fixing, Pakistan, Vir Arjun
13 اگست 2011
جس برطانوی سامراج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا،وہاں اندھیری رات ختم نہیں ہورہی
جب انگریزوں کی حکومت بھارت پر تھی تو انگریز یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ’دی سن نیورسیٹس‘ یعنی سورج کبھی بھی غروب نہیں ہوگا۔برطانوی سامراج یعنی برطانوی عہد میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ وہ اتنا پھیلا ہوا تھا کہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں انگریزوں کا راج ہوا کرتا تھا۔ انگریزوں نے راج کرنے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ آہستہ آہستہ حالات بدلتے گئے۔ آج حالت یہ ہے کہ انگلینڈ میں سورج نکلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ وہاں ایسی کالی رات چھائی ہوئی ہے کہ روشنی کا موقعہ تک نہیں مل رہا ہے۔پچھلے پانچ چھ دنوں سے انگلینڈ میں ایسا خوفناک فساد بھڑکا ہوا ہے جو اس کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے جمعرات کے روز کہا کہ پولیس نے مانا کہ فسادات سے نمٹنے کیلئے اس کی حکمت عملی غلط تھی۔ انہوں نے کہا تشدد کے لئے اب تک 1300 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انگلینڈ کی لوک سبھا ہاؤس آف کامن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ تشدد کے دوران کئی شہروں میں ہوئے نقصان کی بھرپائی کیلئے ایک کروڑ پاؤنڈ کے راحت پیکیج کا اعلان کیاگیا ہے۔ گذشتہ 4 اگست کو پولیس کی فائرنگ میں ایک لڑکے مارک ڈگن جو افریقی نژاد سیاہ فام ہیں ، کے مرنے کے بعد 6 اگست کو ناٹنگھم سے شروع ہوئے دنگے آہستہ آہستہ مانچسٹر،سیلفرڈ، لیورپول، ناٹنگھم، لیسٹر اور بکنگھم تک پھیل گئے۔
انگلینڈ کے لوگ مہذب مانے جاتے ہیں لیکن سنیچر سے بھڑکے فسادات نے ثابت کردیا ہے کہ یہ سب سے بڑے لٹیرے بھی ہیں۔ جن 1300 لوگوں کو کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایسے لوگ ہیں جن سے فساد بھڑکانا، لوٹ مار کرنے کی امید تک نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان میں سے شاید ہی کسی کے خلاف پہلے جرائم کا ریکارڈ درج ہوا ہے۔ ان میں سب سے چھوٹا ایک11 سالہ بچہ بھی ہے تو ان میں کروڑپتی ماں باپ کی اولاد 19 سالہ ایک لڑکی لاراجنسن بھی ہے۔ ایک ٹیچر بھی پکڑا گیا ہے۔ گرفتار لوگوں میں ایک ہاؤس وائف بھی ہیں۔ زیادہ تر کو لندن کی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ امید تو تھی کہ کورٹ انہیں رہا کردے گی لیکن دنگوں میں ملزمان کو کورٹ نے ابھی بری نہیں کیا ہے۔ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام لارا جانسن کا ہے۔لارا ابھی جیل میں ہے ۔ ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام سارا جانسن کا ہے۔اس کے والد رابرٹ جانسن ارپنگٹن میں ایک بڑے مکان میں رہتے ہیں۔ اس میں سوئمنگ پول ، ٹینس کوٹ سمیت سبھی سہولیات مہیا ہیں۔ لارا لندن کے سب سے مہنگے اسکولوں میں سے ایک اولوے گریمر اسکول میں پڑھی ہے لیکن اس کے کار لوٹ کے مال سے بھری ہوئی پائی گئی۔ اس کی کار میں پانچ ہزار پاؤنڈ کی مالیت کا سامان بھرا ہوا تھا۔ اس میں سے ایک توشیبا ٹی وی، مائیکرو یو اور موبائل فون بھی تھا۔ لندن اور دوسرے شہروں میں جیسے غنڈوں کا راج چل رہا ہو۔ انگلینڈ کے آبائی لوگ ہی لوٹ مار میں آگے نظر آئے۔ ان لٹیروں غنڈوں نے ایشیائی نژاد لوگوں کو بھی اپنا نشانہ بنایا۔بکنگھم میں اپنے فرقے کے لوگوں کو فسادیوں سے بچانے کی کوشش کررہے تین برطانوی ایشیائی شہریوں کو (پاکستانی مسلمان) ایک تیز آتی کار نے کچل ڈالا۔ مرنے والوں کی شناخت شہزاد ، ہیری حسین اور منور علی کے طور پر کی گئی ہے۔ شہزاد اور حسین آپس میں بھائی ہیں۔ بکنگھم سے آئی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں پھیلے تشدد کے دوران تینوں مسجد سے باہر نکل کر اپنی کار کی دھلائی کرنے کیلئے سڑک پرکھڑے تھے۔ فسادیوں کی ایک تیز کار نے انہیں کچل دیا۔ تینوں متوفین کی عمریں 30-31 اور 20 سال بتائی جاتی ہیں۔ برطانیہ کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ مانچسٹر میں ہوئے فسادات اور لوٹ مار کے واقعات بیحد شرمناک جرائم ہے جو اتنے وسیع پیمانے پر پچھلے 30 برسوں میں نہیں ہوا۔ اتنے خونریزی کبھی نہیں دیکھی گئی۔
انگلینڈ میں جب فساد پھیلا اور ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں نے دیکھا کہ پولیس انہیں قابو نہیں کرپا رہی ہے تو لٹل انڈیا کہے جانے والے لندن کے بیچ میں بسا ساؤتھ ہال میں ہندوستانی، پاکستانی ، بنگلہ دیشی چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان یا وہاں کے سرکاری ملازم ہوں سبھی اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے مورچہ سنبھال لیا۔ کرپانیں اور ہاکی لیکر یہ سب سڑکوں پر اتر آئے۔ پیر کی رات کو ان سیاہ فام فسادیوں نے ساؤتھ ہال کی ایک زیور کی دکان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ دکان ایک پنجابی خاندان کی تھی جو ویسٹ ایلنگ میں رہتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارے ساؤتھ ہال میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایشیائی دکانوں پر خاص کر جوہری کی دکانوں پر حملہ اور لوٹ مار کا امکان ہے۔ تقریباً300 افراد سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے شری گورو سنگھ سبھا گورودوارہ و ایک بڑی مسجد کے باہر مورچہ سنبھال لیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تسلیم کیا ہے کہ پولیس نے فسادات کو ٹھیک ڈھنگ سے ہینڈل نہیں کیا۔ جب انگریزوں کے اپنے گھر کی بات آتی ہے تو وہ گولی چلانے تک سے کتراتے ہیں۔ قارئین کو تعجب ہوگا کہ اتنے خوفناک فسادات میں بھی پولیس کو گولی چلانے کی چھوٹ نہیں تھی۔ اب جاکر ربڑ کی گولیاں یا پانی کی بوچھاریں استعمال کی جارہی ہیں۔ یہ وہی انگریز ہیں جنہوں نے جلیانوالا باغ میں سینکڑوں امن پسند ہندوستانیوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔ تحریک آزادی میں دیش بھکتوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئی تھیں اور اب اپنے گھر میں گولی چلانے تک پر بھی پابندی ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ پورے لندن شہر میں محض 350500 پولیس جوان ہیں۔ ان میں سے صرف 2740 کے پاس ہتھیار ہیں باقی سب ڈنڈوں سے ہی دنگے پر قابو پانے میں لگے ہیں۔ فوج تک کو نہیں بلایا گیا ہے۔ جب ہم یہ سب دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم بھارت میں دنگوں سے انگریزوں سے کہیں بہتر نمٹنے میں اہل ہیں۔
برطانیہ میں بھڑکے دنگوں نے ایک بار یہ سوال ضرور کھڑے کردئے ہیں اور صاف کردیا ہے کہ یہ صرف قانون اور نظم کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ٹوری او ر لبرل ڈیموکریٹک محاذ حکومت کی پالیسیاں اور اس کی لاپرواہی کافی حد تک ذمہ دار ہے۔ اصل میں کبھی دنیا بھر میں اپنی حکومت پھیلانے والا برطانیہ خود آج ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ تقریباً50 لاکھ لوگ دوسرے ملکوں سے آکر نہ صرف بسے ہیں بلکہ وہاں کے شہری بھی بن گئے ہیں اور یہ تعداد برطانیہ کی کل آبادی کی 8 فیصدی کے قریب ہے۔ انگریزوں کے موازنے میں ایشیائی اور افریقی اور کریبیائی لوگوں کی معیار زندگی سے لیکر اقتصادی حالت میں بھی بھاری فرق ہے۔ انگریزوں کے مقابلے میں وہاں سیاہ فام لوگوں میں بے روزگاری کی شرح تین گنا ہے۔ بہت سے ایشیائی اور دوسری نسل کے لوگوں نے وہاں خوشحالی کے جھنڈے بھی گاڑھ رکھے ہیں۔لیکن عام انگریز اب بھی اپنے یہاں رہ رہے دوسرے دیش کے لوگوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپا رہے ہیں۔ ابھی جو فساد بھڑکا ہوا ہے اس کے پیچھے افریقی کریبیائی نژاد کے ایک لڑکے مارک ڈگن کی پولیس فائرنگ سے ہوئی موت کو سبب بتایا جارہا ہے۔ بیشک اس واقعہ نے چنگاری کو بھڑکانے کا کام کیا مگر چار دنوں میں لندن سمیت مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اندر ہی اندر جو آگ سلگ رہی تھی وہ بھڑک اٹھی ہے۔ جن علاقوں میں فساد پھیلا ہے وہاں ہندوستانی ، پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ فسادیوں نے جس طرح سے ہڑدنگ مچا رکھا ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ ان فسادات میں ایسے عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں صرف لوٹ مار سے مطلب ہے۔ کچھ شوقیہ لوگ جنہیں ایسے کاموں میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی وہ بھی اس میں کود پڑے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے ان فسادات کے لئے برطانیہ کی حکومت بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ اس نے بجٹ اور دیگر خرچوں میں جو کٹوتی کی تھی اس کا خمیازہ وہاں کے غریب ،بیروزگار نوجوانوں کو زیادہ بھگتنا پڑا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر وقت دیش خاص کر ترقی یافتہ ملکوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس بات پر غور کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ دنیا میں جن جمہوری ممالک کی دہائی دی جاتی ہے ان میں انگلینڈ بھی ایک ہے۔ بھارت کے لئے بھی اس میں ایک سبب ہے۔ ہیو ناٹس اور ہیونس کا بڑھتا فرق نہ تو دیش کے لئے ٹھیک ہے اور نہ ہی ہماری جمہوریت کیلئے۔ امیری بڑھتی جارہی ہے غریبوں اور امیروں میں فرق کم نہیں ہورہا ہے۔ بہرحال انگلینڈ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کیلئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ وہ ان فسادات کو جلد سے جلد روکیں اور سرکار کی ان پالیسیوں پر پھر سے غور کریں جن کے سبب یہ فساد بھڑکے ہیں اور یہ کام جلد کرنا ہوگا کیونکہ 2012ء میں لندن میں اولمپک کھیل ہونے والے ہیں۔ اگر ہندوستانی ٹیم جو ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہیں وہ بھی کہیں دنگوں کے سبب بیچ میں ہی ٹور منسوخ کرکے ملک واپس لوٹ آئے جیسا انگلینڈ ٹیم نے ممبئی فسادات کے دوران کیا تھا تو انگریزوں کو کیسا لگے گا؟
انگلینڈ کے لوگ مہذب مانے جاتے ہیں لیکن سنیچر سے بھڑکے فسادات نے ثابت کردیا ہے کہ یہ سب سے بڑے لٹیرے بھی ہیں۔ جن 1300 لوگوں کو کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایسے لوگ ہیں جن سے فساد بھڑکانا، لوٹ مار کرنے کی امید تک نہیں کی جاسکتی تھی۔ ان میں سے شاید ہی کسی کے خلاف پہلے جرائم کا ریکارڈ درج ہوا ہے۔ ان میں سب سے چھوٹا ایک11 سالہ بچہ بھی ہے تو ان میں کروڑپتی ماں باپ کی اولاد 19 سالہ ایک لڑکی لاراجنسن بھی ہے۔ ایک ٹیچر بھی پکڑا گیا ہے۔ گرفتار لوگوں میں ایک ہاؤس وائف بھی ہیں۔ زیادہ تر کو لندن کی عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ امید تو تھی کہ کورٹ انہیں رہا کردے گی لیکن دنگوں میں ملزمان کو کورٹ نے ابھی بری نہیں کیا ہے۔ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام لارا جانسن کا ہے۔لارا ابھی جیل میں ہے ۔ ان لٹیروں میں سب سے چونکانے والا نام سارا جانسن کا ہے۔اس کے والد رابرٹ جانسن ارپنگٹن میں ایک بڑے مکان میں رہتے ہیں۔ اس میں سوئمنگ پول ، ٹینس کوٹ سمیت سبھی سہولیات مہیا ہیں۔ لارا لندن کے سب سے مہنگے اسکولوں میں سے ایک اولوے گریمر اسکول میں پڑھی ہے لیکن اس کے کار لوٹ کے مال سے بھری ہوئی پائی گئی۔ اس کی کار میں پانچ ہزار پاؤنڈ کی مالیت کا سامان بھرا ہوا تھا۔ اس میں سے ایک توشیبا ٹی وی، مائیکرو یو اور موبائل فون بھی تھا۔ لندن اور دوسرے شہروں میں جیسے غنڈوں کا راج چل رہا ہو۔ انگلینڈ کے آبائی لوگ ہی لوٹ مار میں آگے نظر آئے۔ ان لٹیروں غنڈوں نے ایشیائی نژاد لوگوں کو بھی اپنا نشانہ بنایا۔بکنگھم میں اپنے فرقے کے لوگوں کو فسادیوں سے بچانے کی کوشش کررہے تین برطانوی ایشیائی شہریوں کو (پاکستانی مسلمان) ایک تیز آتی کار نے کچل ڈالا۔ مرنے والوں کی شناخت شہزاد ، ہیری حسین اور منور علی کے طور پر کی گئی ہے۔ شہزاد اور حسین آپس میں بھائی ہیں۔ بکنگھم سے آئی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں پھیلے تشدد کے دوران تینوں مسجد سے باہر نکل کر اپنی کار کی دھلائی کرنے کیلئے سڑک پرکھڑے تھے۔ فسادیوں کی ایک تیز کار نے انہیں کچل دیا۔ تینوں متوفین کی عمریں 30-31 اور 20 سال بتائی جاتی ہیں۔ برطانیہ کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ مانچسٹر میں ہوئے فسادات اور لوٹ مار کے واقعات بیحد شرمناک جرائم ہے جو اتنے وسیع پیمانے پر پچھلے 30 برسوں میں نہیں ہوا۔ اتنے خونریزی کبھی نہیں دیکھی گئی۔
انگلینڈ میں جب فساد پھیلا اور ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں نے دیکھا کہ پولیس انہیں قابو نہیں کرپا رہی ہے تو لٹل انڈیا کہے جانے والے لندن کے بیچ میں بسا ساؤتھ ہال میں ہندوستانی، پاکستانی ، بنگلہ دیشی چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان یا وہاں کے سرکاری ملازم ہوں سبھی اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے مورچہ سنبھال لیا۔ کرپانیں اور ہاکی لیکر یہ سب سڑکوں پر اتر آئے۔ پیر کی رات کو ان سیاہ فام فسادیوں نے ساؤتھ ہال کی ایک زیور کی دکان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ دکان ایک پنجابی خاندان کی تھی جو ویسٹ ایلنگ میں رہتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارے ساؤتھ ہال میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایشیائی دکانوں پر خاص کر جوہری کی دکانوں پر حملہ اور لوٹ مار کا امکان ہے۔ تقریباً300 افراد سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے شری گورو سنگھ سبھا گورودوارہ و ایک بڑی مسجد کے باہر مورچہ سنبھال لیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تسلیم کیا ہے کہ پولیس نے فسادات کو ٹھیک ڈھنگ سے ہینڈل نہیں کیا۔ جب انگریزوں کے اپنے گھر کی بات آتی ہے تو وہ گولی چلانے تک سے کتراتے ہیں۔ قارئین کو تعجب ہوگا کہ اتنے خوفناک فسادات میں بھی پولیس کو گولی چلانے کی چھوٹ نہیں تھی۔ اب جاکر ربڑ کی گولیاں یا پانی کی بوچھاریں استعمال کی جارہی ہیں۔ یہ وہی انگریز ہیں جنہوں نے جلیانوالا باغ میں سینکڑوں امن پسند ہندوستانیوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔ تحریک آزادی میں دیش بھکتوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئی تھیں اور اب اپنے گھر میں گولی چلانے تک پر بھی پابندی ہے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ پورے لندن شہر میں محض 350500 پولیس جوان ہیں۔ ان میں سے صرف 2740 کے پاس ہتھیار ہیں باقی سب ڈنڈوں سے ہی دنگے پر قابو پانے میں لگے ہیں۔ فوج تک کو نہیں بلایا گیا ہے۔ جب ہم یہ سب دیکھتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم بھارت میں دنگوں سے انگریزوں سے کہیں بہتر نمٹنے میں اہل ہیں۔
برطانیہ میں بھڑکے دنگوں نے ایک بار یہ سوال ضرور کھڑے کردئے ہیں اور صاف کردیا ہے کہ یہ صرف قانون اور نظم کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ٹوری او ر لبرل ڈیموکریٹک محاذ حکومت کی پالیسیاں اور اس کی لاپرواہی کافی حد تک ذمہ دار ہے۔ اصل میں کبھی دنیا بھر میں اپنی حکومت پھیلانے والا برطانیہ خود آج ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ تقریباً50 لاکھ لوگ دوسرے ملکوں سے آکر نہ صرف بسے ہیں بلکہ وہاں کے شہری بھی بن گئے ہیں اور یہ تعداد برطانیہ کی کل آبادی کی 8 فیصدی کے قریب ہے۔ انگریزوں کے موازنے میں ایشیائی اور افریقی اور کریبیائی لوگوں کی معیار زندگی سے لیکر اقتصادی حالت میں بھی بھاری فرق ہے۔ انگریزوں کے مقابلے میں وہاں سیاہ فام لوگوں میں بے روزگاری کی شرح تین گنا ہے۔ بہت سے ایشیائی اور دوسری نسل کے لوگوں نے وہاں خوشحالی کے جھنڈے بھی گاڑھ رکھے ہیں۔لیکن عام انگریز اب بھی اپنے یہاں رہ رہے دوسرے دیش کے لوگوں کو آسانی سے قبول نہیں کرپا رہے ہیں۔ ابھی جو فساد بھڑکا ہوا ہے اس کے پیچھے افریقی کریبیائی نژاد کے ایک لڑکے مارک ڈگن کی پولیس فائرنگ سے ہوئی موت کو سبب بتایا جارہا ہے۔ بیشک اس واقعہ نے چنگاری کو بھڑکانے کا کام کیا مگر چار دنوں میں لندن سمیت مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اندر ہی اندر جو آگ سلگ رہی تھی وہ بھڑک اٹھی ہے۔ جن علاقوں میں فساد پھیلا ہے وہاں ہندوستانی ، پاکستانی اور بنگلہ دیشی نژاد لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ فسادیوں نے جس طرح سے ہڑدنگ مچا رکھا ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ ان فسادات میں ایسے عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں جنہیں صرف لوٹ مار سے مطلب ہے۔ کچھ شوقیہ لوگ جنہیں ایسے کاموں میں شامل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی وہ بھی اس میں کود پڑے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے ان فسادات کے لئے برطانیہ کی حکومت بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ اس نے بجٹ اور دیگر خرچوں میں جو کٹوتی کی تھی اس کا خمیازہ وہاں کے غریب ،بیروزگار نوجوانوں کو زیادہ بھگتنا پڑا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر وقت دیش خاص کر ترقی یافتہ ملکوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس بات پر غور کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ دنیا میں جن جمہوری ممالک کی دہائی دی جاتی ہے ان میں انگلینڈ بھی ایک ہے۔ بھارت کے لئے بھی اس میں ایک سبب ہے۔ ہیو ناٹس اور ہیونس کا بڑھتا فرق نہ تو دیش کے لئے ٹھیک ہے اور نہ ہی ہماری جمہوریت کیلئے۔ امیری بڑھتی جارہی ہے غریبوں اور امیروں میں فرق کم نہیں ہورہا ہے۔ بہرحال انگلینڈ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کیلئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہے کہ وہ ان فسادات کو جلد سے جلد روکیں اور سرکار کی ان پالیسیوں پر پھر سے غور کریں جن کے سبب یہ فساد بھڑکے ہیں اور یہ کام جلد کرنا ہوگا کیونکہ 2012ء میں لندن میں اولمپک کھیل ہونے والے ہیں۔ اگر ہندوستانی ٹیم جو ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہیں وہ بھی کہیں دنگوں کے سبب بیچ میں ہی ٹور منسوخ کرکے ملک واپس لوٹ آئے جیسا انگلینڈ ٹیم نے ممبئی فسادات کے دوران کیا تھا تو انگریزوں کو کیسا لگے گا؟
Anil Narendra, Daily Pratap, London, London Riots, Vir Arjun
10 اگست 2011
فسادات کی زد میں آیا لندن
لندن میں پچھلے تین دنوں سے دنگوں کا دور دورہ جاری ہے۔ نارتھ لندن کے ٹوٹنہم علاقے میں جمعرات کو پولیس فائرنگ میں ایک شخص کی موت سے بھڑکے فسادات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ خیال رہے جمعرات کو مبینہ طور پر پولیس فائرنگ میں 29 سالہ شخص مارگ ڈگن کی موت واقع ہوگئی تھی۔ جس کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ لیکن سنیچر کے بعد ان مظاہروں نے فساد کی شکل اختیار کرلی۔ افریقی نژاد کے سیاہ فام لوگوں نے پولیس پر جم کر پتھراؤ کیا۔ اخبار دی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو مارگ ڈگن نامی شخص کے قتل کے بعد مقامی سیاہ فاموں نے انصاف کی مانگ کرتے ہوئے سنیچر کی شام پانچ بجے کے قریب ٹوٹنہم کے ہائی وے روڈ پر ایک پرامن مظاہرہ کیا۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ لوگوں کا غصہ دیکھتے دیکھتے تشدد میں بدل گیا۔ موقعے پر سینکڑوں مظاہرین جمع ہوگئے۔
فسادیوں کو قابو کرنے کے لئے دنگا پولیس نے قابو پانے کی کوشش کی لیکن جب ایسا کیا تو فسادیوں نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ بول دیا اور ان کو آگ کے حوالے کردیا۔ معاملہ یہیں نہیں رکا، فسادیوں نے دکانوں کے شیشے توڑ کر اندر رکھا سامان لوٹنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی دکانیں لٹ گئیں۔ فسادیوں کو ٹرکوں میں سامان لاد کر بھاگتے دیکھا گیا۔ ٹوٹنہم میں بڑی تعداد میں افریقی اور کیربیا فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس خطے میں باقی لندن کے مقابلے میں بیروزگاری زیادہ ہے۔ ٹوٹنہم میں پہلی بار تشدد ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فسادات قریب 25 سال پہلے 1985 میں ہوئے برطانیہ کے خوفناک دنگوں سے ملتے جلتے ہیں۔پولیس افسر بلیک لاک کو قتل کردیا تھا۔500 سے زیادہ لڑکوں نے سڑکوں پر اترکر پولیس پر حملے ، بسوں میں آگ لگانے، دکانیں لوٹنے جیسی حرکتوں کو انجام دیا تھا۔ سڑکوں پر گشت لگا رہیں پولیس کی دو کاروں کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔ اس بار کے فسادات حالانکہ 1985 کے فسادات جتنے خوفناک نہیں لیکن تقریباً اسی طرح کے ہیں۔
یہ فساد ابھی بھی جاری ہے۔ بی بی سی ٹی وی کے کچھ ملازمین اور سیٹلائٹ ٹرک بھی حملے کے شکار ہوئے ہیں۔ واقعہ پر موجودہ بی بی سی کے نمائندے نے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ فائر برگیڈ کی گاڑیاں بھی تشدد کا شکار بنی ہیں۔ ایک چشم دید گواہ نے کچھ یوں سڑک کا منظر بیان کیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت جنگ کا منظر پیش کررہا ہے۔ میں نے پانچ لڑکوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے چہروں کو ڈھکا ہوا تھا۔ا نہوں نے کچرے کی ٹرالی کو آگ لگادی اور اسے پولیس کی طرف پھینک دیا۔ پولیس کے مطابق پولیس نے ایک گاڑی کو روکا جس میں لڑکا مارگ ڈگن بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق مارگ نے پولیس پر بغیر وجہ فائرننگ شروع کردی۔ اس کے بعد پولیس نے گولی چلائی۔ یہاں سے معاملہ شروع ہوا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے مارگ ڈگن کو بغیر وجہ مارا اور انہیں انصاف چاہئے۔ ٹوٹینہم سے بھڑکے تشدد این فیلڈ، بکسن، ڈاسٹون، اسلنگٹنگ، مستابو تک پھیل گئے ہیں۔ حملوں کے سلسلے میں اب تک100 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حملوں میں تقریباً دو درجن سے زیادہ پولیس والے بھی زخمی ہوچکے ہیں۔ انگلینڈ ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ جہادیوں کا بھی برطانیہ سب سے بڑا اڈہ بن گیا ہے۔ کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ لندن کے شہریوں نے وہاں شرعی قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی نژاد سیاہ فام تشدد نظریئے کے ہوتے ہیں۔ یہ فسادات کہیں اور زیادہ نہ پھیل جائیں ابھی تک تو ہندوستانی ۔ پاکستانی نژاد کے لوگ بچے ہوئے ہیں لیکن اگر فساد بڑھتا ہے تو وہ بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
فسادیوں کو قابو کرنے کے لئے دنگا پولیس نے قابو پانے کی کوشش کی لیکن جب ایسا کیا تو فسادیوں نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ بول دیا اور ان کو آگ کے حوالے کردیا۔ معاملہ یہیں نہیں رکا، فسادیوں نے دکانوں کے شیشے توڑ کر اندر رکھا سامان لوٹنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی دکانیں لٹ گئیں۔ فسادیوں کو ٹرکوں میں سامان لاد کر بھاگتے دیکھا گیا۔ ٹوٹنہم میں بڑی تعداد میں افریقی اور کیربیا فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس خطے میں باقی لندن کے مقابلے میں بیروزگاری زیادہ ہے۔ ٹوٹنہم میں پہلی بار تشدد ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فسادات قریب 25 سال پہلے 1985 میں ہوئے برطانیہ کے خوفناک دنگوں سے ملتے جلتے ہیں۔پولیس افسر بلیک لاک کو قتل کردیا تھا۔500 سے زیادہ لڑکوں نے سڑکوں پر اترکر پولیس پر حملے ، بسوں میں آگ لگانے، دکانیں لوٹنے جیسی حرکتوں کو انجام دیا تھا۔ سڑکوں پر گشت لگا رہیں پولیس کی دو کاروں کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔ اس بار کے فسادات حالانکہ 1985 کے فسادات جتنے خوفناک نہیں لیکن تقریباً اسی طرح کے ہیں۔
یہ فساد ابھی بھی جاری ہے۔ بی بی سی ٹی وی کے کچھ ملازمین اور سیٹلائٹ ٹرک بھی حملے کے شکار ہوئے ہیں۔ واقعہ پر موجودہ بی بی سی کے نمائندے نے بتایا کہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ فائر برگیڈ کی گاڑیاں بھی تشدد کا شکار بنی ہیں۔ ایک چشم دید گواہ نے کچھ یوں سڑک کا منظر بیان کیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت جنگ کا منظر پیش کررہا ہے۔ میں نے پانچ لڑکوں کو دیکھا جنہوں نے اپنے چہروں کو ڈھکا ہوا تھا۔ا نہوں نے کچرے کی ٹرالی کو آگ لگادی اور اسے پولیس کی طرف پھینک دیا۔ پولیس کے مطابق پولیس نے ایک گاڑی کو روکا جس میں لڑکا مارگ ڈگن بیٹھا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق مارگ نے پولیس پر بغیر وجہ فائرننگ شروع کردی۔ اس کے بعد پولیس نے گولی چلائی۔ یہاں سے معاملہ شروع ہوا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے مارگ ڈگن کو بغیر وجہ مارا اور انہیں انصاف چاہئے۔ ٹوٹینہم سے بھڑکے تشدد این فیلڈ، بکسن، ڈاسٹون، اسلنگٹنگ، مستابو تک پھیل گئے ہیں۔ حملوں کے سلسلے میں اب تک100 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حملوں میں تقریباً دو درجن سے زیادہ پولیس والے بھی زخمی ہوچکے ہیں۔ انگلینڈ ایک جوالہ مکھی پر بیٹھا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں خبر آئی تھی کہ جہادیوں کا بھی برطانیہ سب سے بڑا اڈہ بن گیا ہے۔ کچھ دن پہلے میں نے پڑھا تھا کہ کچھ لندن کے شہریوں نے وہاں شرعی قانون نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی نژاد سیاہ فام تشدد نظریئے کے ہوتے ہیں۔ یہ فسادات کہیں اور زیادہ نہ پھیل جائیں ابھی تک تو ہندوستانی ۔ پاکستانی نژاد کے لوگ بچے ہوئے ہیں لیکن اگر فساد بڑھتا ہے تو وہ بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
Tags: Anil Ambani, Daily Pratap, London, London Riots, UK, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !
کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...

