Translater

08 جون 2024

بھاجپا وجے رتھ کو اکھلیش یادو نے روکا !

ایک جون کو آخری مرحلے کی پولنگ کے بعد جب سنیجر کو اگزٹ پول آئے تو ایسا لگ رہا تھا کے یوپی میں لڑائی ایک طرفہ ہے لیکن جب 4 جون کو گنتی ہوئی تو پتا چلا بھاجپا کا وجے رتھ اکھلیش یادو نے روک لیا ۔سماجوادی پارٹی نے یوپی میں 62 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے کانگریس نے 17 سیٹوں پر سپا نے 37 سیٹےں جیتی جب کے کانگریس نے 17 میں سے 6 سیٹیں جیتی 2019 کے عام چناﺅ میں بھاجپا کو 62 سیٹیں ملی تھی پی ایس پی کو 10 ،سپا کو 5 ،اپنا دل کو 2 ،کانگریس کو 1 سیٹ ملی تھی۔چناﺅ نتائج سے پہلے وزیرداخلہ اور بھاجپا کے چانکیہ امیت شاہ 75 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہے تھے ۔خود وزیراعظم مودی بڑی مشکل سے دیڑ لاکھ ووٹ سے جیتے مگر شروعاتی رجہان میں پیچھے چل رہے تھے یوپی ایسی ریاست ہے جہاں سے اقتدار اور اپوزیشن دوں کی ہستیاں میدان میں تھیں۔مودی جی تو بنارس اور بریلی سے راہل گاندھی اور کنوج سے اکھلیش یادو نے نہ صرف شاندار چناﺅ لڑا اور ان کے امیدواروں نے جنتا کو متاثر کرنے والے مسلوں کو زوردار طریقہ سے اٹھایا ۔کانگریس نے مالی تنگی اور کھیتی اور آئین کو کمزور کرنے کا اشو زور شور سے اٹھایا دونوں پارٹیوں نے لوگوں کے بیچ ریزرویشن کا بھی اشو اٹھایا ۔ایک تجزیہ نگار کا کہنا تھا مجھے لگ رہا تھا کے یوپی میں بھاجپا کو کم سے کم 50 سیٹیں تو مل ہی جائیں گی لیکن 33سیٹوں پر سمٹنا بتاتا ہے کے پی ایم مودی اور امت شاہ کے غرور کو مسترد کر دیا عام لوگوں کو اپوزیشن پارٹیاں سمجھانے میں کامیاب رہیں۔کے اگر مودی مضبوط ہوئے تو آئین خطرے میںپڑ جائےگا ۔کہا جاتا ہے کے نوجوان اکھلیش نے امت شاہ کو ایسی مات دی کے وہ عمر بھر یاد رکھے گے ۔اکھلیشن یادو نے اس مرتبہ پرانا گڑ تو بھاجپا سے چھینا اور بندیل کھنڈ بھی قبضہ کر لیا ۔یادو لینڈ کی سیٹوں کے ساتھ ہی بندیل کھنڈ کی سبھی سیٹیں جیتی اور 2وزرا کو ہرانے کی طاقت دکھاکر مدھیہ پریش میں حالات ہی بدل دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کے ہر جگہ سائیکل دوڑا دی۔اکھلیش یادو کے والد ملائم سنگھ یادو نے سال 2004 میں یوپی سے 35 ایم پی کو جتایا تھا ان کے ساتھ ہی یہ پارٹی کا بھی ریکارڈ تھا اب ان کے بیٹے 20 سال بعد ریکارڈ توڑتے ہوئے یوپی سے 37 سیٹیں جیتی ہیں۔اس میں سے ایک وہ خود بھی ہیں اور کنوج سیٹ پر ایک اور ریکارڈ بنایا 1996 سے اب تک اس سیٹ پر ان کے علاوہ کوئی امیدوار نہیں رہا جس میں 1 لاکھ یا اس سے زیادہ فرک سے اپنے حریف کو ہرایا ہو اس بار اکھلیش نے کنوج سے 1 لکھ 70 ہزار 922 ووٹوں سے جیت حاصل کی ۔مودی جی کے رتھ کو اگر کسی نے روکا ہے تو وہ ہے اکھلیش یادو۔ (انل نریندر)

بیساکھیوں کی سرکار !

موصولہ اشاروں سے یہی لگ رہا ہے کی مودی جی تیسری بار پردھامنتری بننے جا رہے ہیں ۔لیکن اس بار وہ بھاجپا کے پی ایم نہیں ہو گے بلکہ این ڈی اے کے پی ایم ہوں گے بیشک مودی جی نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے 3 مرتبہ وزیراعظم بننے کا ریکارڈ برابر کر لیا ہو لیکن مودی جی نے اٹل بہاری واجپئی اور ناہی اتحادی سرکار چلانے کے عادی ہیں ۔پنڈت جواہر لعل نہرو اکثریت سے تینوں بار تھے ۔جبکہ مودی جی تیسری مرتبہ اقلیت میں ہیں ۔مودی جی کا جو ریکارڈ پچھلی دہائی سے زیادہ کا رہا ہے تو وہ ایک تانہ شاہ کی طرح سرکار چلاتے رہیں ہیں جہاں نہ تو کوئی ان کا وزیر احتجاج کر سکتا ہو نہ ہی کسی افسر کی وہ سنتے ہوں ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کے مودی جی اپنے ساتھیوں اور اتحادی ساتھیوں کی سننے پر مجبور ہوں گے ؟اپنی طاقت پر سرکار نہ بنا پانے میں وہ اپنی اتحادی پارٹیوں پر پوری طرح منحصر ہوں گے اور یہ ان کے رویہ میں نہیں اپنے لمبے سیاسی کرئیر میں نریندر مودی نے کبھی اتحادی سرکار کی قیادت نہیں کی ۔اس بار بھاجپا کو اکیلے دم پر اکثریت نہیں ملی اسے سرکار چلانے کےلئے ہر وقت اتحادی پارٹیوں پر منحصر رہنا پڑیگا ۔پچھلی دو سرکاروں کے وقت بھاجپا کے پاس واضح اکثریت تھی اس لئے اسے اس بات کی فکر نہیں تھی اتحادی پارٹیاں کس موڑ پر اس کا ہاتھ چھوڑ سکتی ہیں ۔اس بار ویسی یقینیت نہیں رہےگی اس تنی ہوئی رسی پر بیلنس بناتے ہوئے چلنے جیسا ہوگا زرا سا بیلنس بگڑنے سے خطرناک ہو سکتا ہے ۔پھر جو دو پارٹیاں تیلگو دیشم پارٹی اور جنتا دل متحدہ کے پاس سرکار چلانے کےلئے فیصلہ کن سیٹیں ہیں ان کے ساتھ بیلنس بنانا سب سے اہم ہوگا ۔15 برس وزیراعلیٰ اور 10 برس وزیراعظم رہتے ہوئے ایک طرفہ راج کرنے کے عادی ہو چکے نریندر مودی کا اب اتحادی سرکار کے ساتھ سامنا ہوگا ۔انہیں اتحادی پارٹیوں کی مانگے ماننی ہوں گی اور ایک طرفہ فیصلے لینے کے بجائے اجتمائی فیصلے لینے ہوں گے ۔پہلی بار ان کا اتحادی سرکار سے سامنا ہو رہا ہے اس سے پہلے بھی این ڈی اے تو تھا لیکن وہ برائے نام تھا نہ تو کوئی کنوینر تھا اور نہ ہی این ڈی اے کی میٹنگ ہوتی تھی کیوں کہ بھاجپا کے پاس مکمل اکثریت تھی ۔مگر اس بار این ڈی اے میں شامل ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو اور جراگ پاسوان بھی مول بھاﺅ کی پوزیشن میں ہے ۔مودی جی کو حلف لینے کی اتنی جلدی ہے کے انہوںنے روایتی توڑ دی ۔چناﺅ نتائج آنے کے بعد سب سے پہلے پارٹی کی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں منتخب ایم پی اپنا نیتا چنتے ہیں اور جو وزیراعظم بننا ہے ۔مودی جی کو گھراہٹ تھی کے انہوںنے سب سے پہلے این ڈی اے کی میٹنگ بلا لی اور اپنے آپ کو پی ایم اعلان کر وا لیا ۔ثبوت کے طور پر فوٹو بھی کھجوالی ۔یہ اتحادی سرکار بیساکھیوں پر اور کتنے دن چلےگی یہ اوپر والا ہی جانتا ہے اس سرکار میں اتنے تضاد ہیں یہ کبھی بھی کسی موڑ پر گر سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کے دیش کو ایک بار پھر عام چناﺅ کا سامنا کرنا پڑے ۔ابھی تو سودے بازی چل رہی ہے اتحادی پارٹیوں نے بڑی بڑی شرتے رکھی ہیں۔سننے میں آ رہا ہے خیر اگر سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے تو بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ بیساکھیوں کی سرکار کتنی اور کیسے چلے گی ۔یہ وقت ہی بتائے گا۔ (انل نریندر)

07 جون 2024

مودی جی آپ کی اخلاقی ہار ہے !

2014 کا لوک سبھا چناو¿ تاریخی رہا یہ سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا اس میں تاناشاہی پر لگام کسی ،آئین کو بچایا ،خوف کا ماحول ختم کیا ،سرکاری ایجنسیوں کے بےجا استعمال پر لگام کسی ،عدالتوں کو کھلی ہوا میں سانس لینے کا موقع دیا ۔آج اگر مودی جی کا یہ حال ہے تو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہیں ۔ان کا غرور انتہا پر پہونچ گیا تھا میں بائیولوجیکل نہیں ہوں میں اکیلا سب پر بھاری ایک ایک کو دیکھ لوں گا ۔منگلسوتر چھین لے گا ،بھینس چھین لیں گے ،زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو آپ کی پراپرٹی بانٹ دیں گے دہشت گردوں کو دے دیں گے ناجانے ایسے کتنے نچلے سطح کے جملے اس چناو¿ میں کہے ۔آپ نے ایودھیا میں آدھے ادھورے رام مندر میں بھگوان رام کی پران پرتیسٹھا کر دی جو شاستروں کے خلاف تھی ۔چاروں شنکراچاریوں نے اس کی مخالفت کی لیکن آپ نے سب کو نظر انداز کر دیا ۔ہم رام کو لائے ہیں رام ہم کو لائیں گے ۔رام نے آپ کو آئینہ دکھا دیا ۔رام مندر میں بھگوان رام کی پران پرتیسٹھا کے بعد مودی جی کو امید تھی کہ اس کا فائدہ انہیں اور بھاجپا کو ملے گا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ بھاجپا نہ صرف فیض آباد (ایودھیا) سے ہار گئی بلکہ رام مندر کے اردگرد بنی سبھی لوک سبھا سیٹوں پر ہار گئی ۔ایودھیا منڈل میں آپ کی رپورٹ کارڈ زیرو رہی ۔اب کی بار 400 پار کا نعرہ آپ نے بڑے زور شور سے دیا تھا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دلتوں اور پسماندہ اور غریبوں اور قبائلیوں اور انتہائی کمزور طبقات کو یہ یقین ہوگیا کہ آپ کو 400 پار سیٹیں اس لئے چاہیے تاکہ آپ آئین بدل سکیں اور ریزرویشن ختم کر دیں آپ اگنی ویر یوجنا لائے اور نوجوانوں کو سال بھر میں ریٹائر کر دیا ۔پھر آپ کے ایک ایم پی پرشوتم روپالا نے چھتیریوں ،راجپوتوں کے خلاف ایسا بیان دے دیا جس کا اثر گجرات سے لیکر ہریانہ ،راجستھان تک ہوا ۔آپ دوسری پارٹیوں کو توڑ کر نیتاو¿ں کو لائے۔دل بدل کر بھاجپا میں آئے 56 میں سے 22 ہی جیت سکے ۔آپ نے برسوں سے بھاجپا کی تپسیا کررہے ورکروں اور نیتاو¿ں کو نظر انداز کر ان دل بدلوو¿ں کو ترجیح دی ۔نتیجہ سامنے ہے آپ اپنے کیبنیٹ کے ممبروں تک کو نہیں بچا سکے ۔مودی سرکار کے 4 کیبنیٹ وزیروں سمیت 18 وزیر چناو¿ ہا رگئے ۔امیٹھی سے اسمرتی ایرانی کو بھی ان کا غرور ،بدتمیزی لے ڈوبی ۔آپ نے آر ایس ایس کو بھی ٹھینگا دکھا دیا۔بیچ چناو¿ میں عآپ کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہہ دیا کہ بھاجپا کو سنگھ کی ضرورت نہیں ہے ۔واجپائی سرکار کے وقت ہم مضبوط نہیں تھے اور اب ہم بہت بڑے ہو گئے ہیں ہمیں سنگھ کی ضرورت نہیں ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سنگھ کے ورکر جو آپ کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے تھے گھر بیٹھ گئے ۔آپ کے ووٹروں کو گھر سے باہر نہیں لا سکے ۔سنگھ میں اس بات کی بھی ناراضگی تھی کہ ان کی کوئی سن نہیں رہا ہے ۔ورکر وں کی نا سننے کی شکایت صرف یہ ہی نہیں تھی بھاجپا ورکروں میں بھی تھی اسی وجہ سے پولنگ فیصد کم ہوا ۔مودی جی آپ نے تمام چناو¿ میں کوئی قومی مسئلہ نہیں اٹھایا ۔آپ اپوزیشن کے نگیٹو وار میں ہی پھنس گئے ۔آپ نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ انہیں آپ کی دس سال کی سزا ہے ؟ دوسری طرف تین اپوزیشن لڑکوں نے آپ کی ہوا خراب کر دی ۔راہل گاندھی ،اکھلیش یادو،تیجسوی یادو آپ کی پیٹھ پر نہیں کھیلا بلکہ آپ نے اشو پر ٹکے رہے ۔راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور بھارت نیائے یاترا نے تمام اپوزیشن کو سنجیونی دی ۔کانگریس نے جو چناو¿ منشور بنایا اس کی کاٹ مودی جی آپ نہیں کر سکے ۔جنتا کے بیچ مہنگائی ،بے روزگاری ،سماجی انصاف ،آئین بچاو¿ ،گھرکر گیا۔اپوزیشن نے پوری لوک سبھا نگیٹو سیٹ کر دی ۔اور آپ اس کی کاٹھ نہیں کر سکے ۔آپ مودی کی گارنٹی ہی کہتے رہے ایک جگہ ہی آپ نے یہ نہیں کہا کہ بھاجپا کی گارنٹی ۔دراصل آپ اپنی پارٹی سے بہت اوپر اٹھ گئے آپ اپنے آپ کو بھگوان ماننے لگے آپ کے وفادار آپ کو کبھی وشنو کا اوتار بتاتے تو کبھی بھگوان جگناتھ آپ کے چیلے ہیں بتاتے رہے ۔آپ کی اپنی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ دو چناو¿ میں وارانسی سے مسلسل بھاری فرق سے کامیاب ہوتے رہے آپ اس بار صرف 1 لاکھ 52ہزار 513 ووٹوں سے ہی کامیاب ہو سکے ۔2019 میں آپ 4 لاکھ 79ہزار 505 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ 2014 میں3 لاکھ 71 ہزار 784 ووٹوں سے جیتے تھے ۔آپ کے سیاسی حریف اجے رائے بھلے ہی ہار گئے لیکن انہوں نے4 لاکھ 60 ہزار 457 ووٹ پائے لگاتار وہ دو لوک سبھا چناو¿ میں ہار کے بعد اس چناو¿ میں کانگریس بہتر پرفارمنس دینے میں کامیاب رہی ۔پارٹی 99 سیٹوں پر جیتی ،راہل ،اکھلیش یادو ،تیجسوی یادو اور ممتا بنرجی ایم کے اسٹالن ایک سنجیدہ لیڈر کے طور پر اس چناو¿ میں اترے اب آپ دیش واسی کھلی ہوا میں سانس لے سکتے ہیں ۔نا تو ای ڈی کا ڈر ہوگا نا تو سی بی آئی اور نا ہی انکم ٹیکس محکمہ کا ڈر ہوگا ۔ججوں کو بھی ابھی خوف کے ماحول سے چھٹکارہ ملے گا اس لئے کل ملا کر مودی جی یہ آپ کی اخلاقی ہار ہے جسے آپ کو قبول کرنا چاہیے ۔بیشک جوڑ توڑ کرنے میں آپ ماہر ہیں سرکار تو بنا لیں لیکن آپ کے غرور والی سیاست شری رام نے ختم کر دی ہے ۔جے شری رام ! (انل نریندر)

04 جون 2024

لوک سبھا ہی نہیں سکھو سرکار کی قسمت کا فیصلہ بھی !

ہماچل میں لوک سبھا کی 4 سیٹوں کے ساتھ 6 اسمبلی سیٹوں کابھی ضمنی چناﺅ ہوا یہ سیٹیں سکھو سرکار کی قسمت طے کریں گی بھاجپا کے دعویٰ ہے کے آج 4 جون کو سکھو سرکار گر جائے گی اور وہا بھی ڈبل انجن کی سرکار ہو گی ۔وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے اسمبلی چناﺅ کے لئے زیادہ مہم چلائی کیوں کہ ان کی کرسی کا فیصلہ انہیں 6 سیٹوں پر ہار جیت پر طے ہوگا کچھ مہینے پہلے کانگریس کے 6 ممبران اسمبلی نے سرکار گرانے کی کوشش میں بھاجپا سے مل گئے تھے ۔جب تو کسی طرح سے سکھو سرکار بچ گئی کیوں کہ اس وقت اسمبلی سپیکر نے ان ممبران اسمبلی کی ممبر شپ منسوخ کر دی تھی اسی وجہ سے یہ 6 سیٹیں خالی ہو گئی تھی اب ان کا لوک سبھا چناﺅ کے ساتھ ہی چناﺅ ہوا ۔2022 کے اسمبلی چناﺅ میں 68 ممبری اسمبلی میں 40 سیٹیں جیت کر کانگریس نے سرکار بنائی تھی ۔بھاجپا 25 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی لیکن 3 آزاد ممبروں نے کامیابی حاصل کی تھی ۔لیکن حال ہی میں کانگریس نے بغاوت ہو گئی اور 6 ممبران اسمبلی میں بغاوت کر دی تھی اور سرکار سے 3 آزاد ممبروں نے بھی حمایت واپس لے لی تھی اب اگر یہ 6 سیٹیں جیت گئی تو آزاد ممبر اسمبلی بھی بھاجپا کو حمایت دینے کے لئے تیار بیٹھیں ہیں ابھی 34 ممبر اسمبلی ہیں اور ممبران اسمبلی کی تعداد بھی 68 سے گھٹ کر 62 رہہ گئی ہے ان 6 سیٹوں پر کانگریس چناﺅ ہار گئی تو اس کی 34 سیٹیوں رہ جائیگی اور بھاجپا کے پاس 31سیٹیں ہو جائیگی ۔3آزاد ممبران اسمبلی کی حمایت لیکر ان کی تعداد 34ہوگی ایسے میں بھاجپا آپریشن لوٹس چلا سکتی ہے اگر کانگریس کے ایک دو ممبران نے پالا بدلہ یا وہ غیر حاضر ہو گئے تو سکھو سرکار کا گرنا طے ہے ۔اگر سکھو کے وزیر وکرم آدتیہ سنگھ منڈی چناﺅ جیت جاتے ہیں تو ان کی سیٹ بھی خالی ہو جائیگی ۔ایسے میں اسمبلی میں کانگریس کی تعداد گھٹ کر 33 ہو جائیگی ایسے میں وزیراعلیٰ سبھی 6 سیٹیں جیتنے کے لئے زور آزمائی کر رہے ہیں ۔کیوں کہ وکرم آدتیہ نے ہی سکھو سرکار گرانے کے لئے بغاوت کی قیادت کی تھی انہوںنے دہلی میں بھاجپا کے لیڈروں سے بھی ملاقات کی تھی لیکن کسی طرح سے سرکار بچ گئی تھی ۔یہاں راہل گاندھی نے چناﺅ کمپئن کی تھی مگر اب چناﺅ تک پرینکا گاندھی نے مورجہ سنبھالا ہوا تھا ۔ (انل نریندر)

امریکہ میں کیا جیل سے صدارتی چناﺅ لڑ سکتے ہیں؟

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پورن سٹار کا منہ بند رکھنے کے لئے جو رقم دی تھی اس کے لئے اپنے کاروباری ریکارڈ میں مسلسل ہیرا پھیری کی ۔انہیں یقین تھا کے وہ کبھی پکڑے نہیں جائے گے ۔لیکن وہ بچ نہیں سکے ۔صدارتی چناﺅ ست پہلے عدالت کے اس فیصلہ سے امریکی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے ۔معاملہ 2016 میں اب ان کے صدر چنے جانے سے پہلے کا ہے حلانکہ ہش منی معاملے میں ٹرمپ اپنی اپیل کے بارے میں پلان بنا رہے ہیں اور 11 جلائی کو سزا سنائے جانے کا انتظار کر رہے ہےں جس میں جیل کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ٹرمپ معاملے میں خود پورن اسٹار اسٹورنی ڈینیلس سمیت 22 لوگوں نے گواہی دی تھی ۔عدالت کے 12 جیوری ممبر نے اس معاملے میں 6 ہفتہ تک سماعت کی اور ٹرمپ کو قصور وار پایا حلانکہ خد کو وہ بی قصور بتا رہے ہیں ۔2016 میں جب ٹرمپ صدارتی چناﺅ کی دوڑ میں تھے تو انہوںنے اسٹورنی کا منہ بند رکھنے کے لئے 1.3 لاکھ ڈاکر ادا کئے تھے جو ان کے وکیل نے پورن اسٹا رکو دئے تھے اس عاملے میں 11 چیک پر دستخط کئے گئے اور ٹرمپ کے سابق وکیل مائکل کوہن کی کمپنی میں جمع کئے گئے الزام ہے کے ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد کوہن کو پیسے لوٹائے اس کے لئے انہوںنے 10 مہینے تک کئی چیک دئے اور رکارڈ میں قانونی فیس دکھایا گایا ٹرمپ نے نیو یارک بزنس ریکارڈ میں غلط جانکاری دی تھی ۔5 اپریل 2023 کو سابق امریکی مین ہیرن کورٹ میں 34 الزام عائد کئے تھے ٹرمپ اور اٹورنی کی ملاقات جولائی 2006 میں ایک گولف ٹورنمنٹ کے دوران ہوئی تھی اس وقت اٹورنی 27 سال کی تھی بعد میں دونوں ڈنر پر ملے اور دونوں میں تعلق بنا ۔اپنی کتاب میں اٹورنی نے اس ذکر کیا ۔صدر جو بائڈن کے چناﺅ کیمپئن نے جوری کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔بائڈن - ہیرس 2024 کمیونیکیشن کے ڈائرکٹر مائکل ٹائیلرس نے کہا ہم نے نیو یارک میں دیکھا کے قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے پورن اسٹار کو پیسے کی ادائیگی کو جھوپانے کے قصوروار ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارتی امیدواری پر اب کوئی خطرہ نہیں ہے ۔پھر بھی انہیں 5 نومبر سے پہلے سزا ہو بھی جاتی ہے تو وہ تب بھی چناﺅ لڑ سکیں گے 15 نومبر کو ہونے والے چناﺅ میں ٹرمپ کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں جیل سے ہی حلف دلایا جا سکتا ہے ۔مجرمانہ معاملوں میں سزا کے لئے کورٹ نے 11 جولائی تاریخ طے کی ہے حلانکہ ٹرمپ نے کوئی تشدد آمیز جرم نہیں کیا ہے وہ پہلی بار قصوروار پائے گئے ہیں امریکہ میں یہ اجب ہے کے بنہ کسی کرائم ہسٹری والے لوگوں کو صرف کمرشئل ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے لئے نیویارک کی عدالت نے جیل کی سزا سنائی جائے یا جرمانے کی سزا زیادہ عام ہے ٹرمپ نے اپنے خلاف فیصلے سنائے جانے کے بارے میں کہا کے یہ شرمناک ہے یہ ایک متنازعہ جج کی طرف سے کیا گیا ہے ۔الزام تراشی کرپٹ سماعت تھی اسلی فیصلہ تو 5 نومبر کو لوگ سنائے گے وہ جانتے ہیں کے یہ کیا ہوا اور ہر کوئی جانتا ہے کے میں بے قصور ہوں اور اپنے دیش کے لئے لڑ رہا ہوں ۔میں اپنے آئین کے لئے لڑ رہا ہوں ہمارے پورے دیش میں اس وقت کرپشن کا بول بالا ہے ۔ٹرمپ نے الزام لگایا بائیڈن انتظامیہ نے اپنے سیاسی حریف کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا ہے وہیں بائیڈن نے جوری کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ (انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...