Translater

CIA لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
CIA لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

01 جون 2012

لادن کی خبر دینے والے ڈاکٹر افریدی کو 33 سال کی قید


پچھلے سال القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارگرانے کی کارروائی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل افریدی کو ایک عدالت نے ملکی بغاوت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 33 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سن کر تعجب بھی ہوا اور عجیب غریب بھی لگا۔ خبر قبائلی علاقے کے سیاسی نمائندے مطاہر زیب خان نے پاکستانی اخبار ڈان کو بتایا کہ شکیل کو چار نفری قبائلی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے انہیں33 سال کی قید اور 3.2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد شکیل کو پیشاور کی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ شکیل کو پاکستان جرائم دفعہ کے بجائے برطانوی قانون فرنٹئر کرائم ریگولیشن ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دیش سے بغاوت کے معاملے میں موت کی سزا کی سہولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ہدایت پر ایبٹ آباد میں ایک ٹیکا مہم چلائی تھی تاکہ اس کی مدد سے اسامہ اور اس کے خاندان کے لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے جاسکیں۔ مہم سے ملے ثبوتوں کی بنیاد پر ہی امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف گذشتہ مئی مہینے میں کارروائی کرکے مار گرایا تھا۔ پاکستان کے ذریعے اٹھائے گئے اس قدم سے یہ ثابت ہوجاتا ہے پاکستان آتنک واد سے لڑنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اندر خانے پاکستان ہر طبقے کے آتنک وادی چاہے وہ القاعدہ کا ہو یا پھر لشکر طیبہ سے وابستہ، اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اس آدمی سے بدلہ لے رہا ہے جس نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ دنیا کے کسی اور کونے میں شاید ڈاکٹر افریدی کا سنمان کیا جاتا ہو لیکن پاکستان میں وہ ایک ملک دشمن ہے جس نے دیش کے خلاف غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کی تھی۔ اگر پاکستان کے دوہرے گیم اس قصے سے بے نقاب ہوتے ہیں تو امریکہ پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع یعنی مخبر کو بچا نہیں پایا۔ اس قصے سے پاکستان اور امریکی رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری بل کلنٹن نے فیصلے کو غیر انصافی اور دشمنی پر مبنی بتایا۔ ساتھ ہی امریکی سینیٹ کے ایک پینل نے اسلام آباد کو دی جانے والی مدد میں کٹوتی بھی کردی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ افریدی کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے پر افسوس ہے، انہوں نے جو مدد کی وہ دنیا کے سب سے خطرناک قاتلوں میں سے ایک کا خاتمہ کرنے میں کی، یہ صاف طور پر پاکستان کے اور ہمارے اور پوری دنیا کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا کسی بھی دیش کے قانون کے خلاف ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ہماری آزادانہ عدلیہ ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی بحال کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ رشتوں میں ایک اور باب جڑ گیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کا یہ قدم آتنک وادیوں کے حوصلے کو بڑھانے والا ہے۔
(انل نریندر)

10 جنوری 2012

پاکستان کے اصل سی آئی اے ایجنٹ



Published On 10th January 2012
انل نریندر
گذشتہ ہفتے پاکستان کے کچھ سینئر صحافی ہمارے دفتر میں آئے تھے۔ ہم نے ان کے خیر مقدم کے لئے شاندار پروگرام بنایا تھا۔ ان میں جناب محمود شام، ایاز بادشاہ قابل ذکر تھے۔ دراصل یہ لوگ حیدر آباد میں منعقدہ اردو ایڈیٹرز کا نفرس میں شرکت کے لئے دہلی آئے تھے۔انہوں نے دہلی میں دو دن قیام کیا۔ ان سے کافی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں طرف کی کئی نئی معلومات ملیں۔ میں نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں کہا ''پاکستان آج صحافیوں چاہے وہ اخبار کے ہوں یا ٹیلی ویژن کے ہوں ،کیلئے دنیا کا سب سے خطرناک دیش بن گیا ہے۔ پاکستان میں آزادانہ رائے رکھنے والے صحافیوں کے لئے یہ ایک مشکل دور ہے۔ اپنے فرض کی تعمیل کے دوران اس پیشے سے جوڑے 11 لوگوں کو 2011ء میں مار ڈالا گیا۔ ان لوگوں کا قتل یا تو نسلی گروپوں کے درمیان ہونے والی گولہ باری یا کٹر پسندانہ تشدد یا پھر سیاسی نظریات کے چلتے کیاگیا۔ مثال کے طور پر گذشتہ برس سلیم شہزاد کے اغوا اور قتل میں سرکار کی مشینری کا ہاتھ ہونے کا الزام تھا جبکہ اس معاملے کی جانچ کے لئے قائم کمیشن ابھی ہوا میں ہی تیر چلا رہا ہے۔ سلیم شہزاد نے مسلح فورس کے ان لوگوں کا پردہ فاش کیا تھا جن کا القاعدہ یا طالبان کے ساتھ قریبی رشتہ تھا۔ پچھلے دنوں بلوچستان میں راشٹروادی نظریات یا پھر سکیورٹی فورس کے ذریعے کی جارہی ذیاتیوں کو اجاگر کرنے والے کئی صحافیوں کو قتل کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے خوفزدہ صحافیوں کو امریکہ جیسے ملکوں میں پناہ دئے جانے کی درخواست کرنی پڑی۔ کراچی میں کچھ صحافیوں کو نسلی گروپ یا سیاسی پارٹیوں کے ذریعے مل رہی دھمکیوں کے چلتے بیرون ملک میں محفوظ ٹھکانے تلاشنے پڑے۔ اس سلسلے میں میں نے پاکستان کے سینئر صحافی مسٹر نجم سیٹھی کا ایک آرٹیکل مڈ ڈے میں پڑھا انہوں نے بتایا کہ اب سکیورٹی نظام کے کرتا دھرتا لوگوں کی سمجھ پر چبھتے ہوئے سوال اٹھانے کے چلتے کچھ سینئر صحافیوں کے خلاف بربریت آمیز پروپگنڈہ چلایا جارہا ہے۔ ان کو امریکہ کی خفیہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہونے تک کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان کے موجودہ امریکی مخالف ماحول میں اس طرح کے الزامات لوگوں کو بھڑکانے کے لئے لگائے جارہے ہیں۔ مان لیجئے کہ اگر آپ نے کہہ دیا کہ ایبٹ آباد میں ہوئے امریکی حملے نے فوج کی نا اہلیت کی پول کھول دی ہے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ یا آپ نے کہہ دیا کہ سیاسی مسائل کا کنٹرول فوج پر ہونا چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے یہ کہہ دیا کہ فوج کو طالبان کے ساتھ کسی طرح کی امن بات چیت میں شامل نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اس سے ان کو پاکستانی خطے میں پھر منظم ہونے کا موقعہ مل جائے گا تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ڈرون جہازوں کے حملوں کے چلتے وزیرستان میں طالبان اور القاعدہ کے کٹر پسندوں کو ختم کرنے میں بڑی مدد کی تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ نے کہہ دیا کہ فوج کے لئے مختص بجٹ کا جو ملک کی کل رقم کا ایک چوتھائی ہے، جانچ پارلیمنٹ کی کمیٹی یا پاکستان کے آڈیٹر جنرل کے ذریعے کی جانی چاہئے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کو تجارتی سیکٹر میں انتہائی مطلوب ملک کا درجہ دینا چاہئے جسے بھارت نے پاکستان کو 16 برس پہلے ہی دے دیا تھا۔یا ویزا شرطوں میں ڈھیل دینی چاہئے، یا فلمی صنعت سے وابستہ لوگوں کو مدد کرنے کے لئے بھارت سے ثقافتی رشتے بڑھانا چاہئیں۔ یا میڈیا گروپ کے ذریعے چلائی جارہی 'امن کی آشا' پروگرام کو سرکارکو حمایت دینی چاہئے تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سابق امریکی سفیر حسین حقانی اور آئی ایس آئی چیف شجاع پاشا کے معاملے میں ایک اور یکساں استعفے کی پالیسی اپنانے چاہئے ،ایک کے اوپر امریکی سرکار کو پاکستانی فوج کے اوپر سرکار کیلئے کنٹرول کی حمایت مانگنے کا الزام ہے جبکہ دوسرے پر عرب حکمرانوں سے منتخبہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے اپیل کرنے کا الزام ہے تو آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ سرکار کو قومی سلامتی سے زیادہ عوام کی حالت بہتر بنانے والی پالیسیاں بنانی چاہئیں تو کیا آپ سی آئی اے ایجنٹ ہوگئے۔
بدقسمتی سب سے بڑی یہ ہے کہ جن لوگوں نے امریکہ کے بڑھتے اثر کو بے نقاب کیا ہے اس کی مخالفت کی ہے انہیں ہی بدنام کرنے کیلئے ان پر سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے۔ پاکستان میں آج صحافی عوام کے مفاد میں کسی بھی طرح کی آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے میں کہتا ہوں صحافیوں کے لئے آج کی تاریخ میں پاکستان سب سے زیادہ خطرناک ملک ہے۔ اس دنیا میں اور ان حالات میں بھی یہ صحافی اپنے فرائض کو نبھا رہے ہیں ان کو ہمارا سلام۔
Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Vir Arjun

04 اکتوبر 2011

امریکہ کا القاعدہ کو دوہرا جھٹکا



Published On 4th October 2011
انل نریندر
امریکہ اور القاعدہ لشکر طیبہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ لشکر اور القاعدہ نے مل کر امریکہ کے ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پینٹاگان کو اڑا نے کی سازش رچی تو ادھر یمن کی پہاڑیوں پر امریکہ نے ایک ہوائی حملہ کرکے القاعدہ کی یمن شاخ کو خطرناک آتنک وادی انور الاولاکی کو مار ڈالا۔ پہلے بات کرتے پنٹاگان پر حملے کی سازش کی۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے بتایا کہ ایک 26 سالہ امریکی شہری رضوان فردوس پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم خاص کر القاعدہ کو بیرونی ممالک میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے کیلئے دھماکوں سامان اور وسائل مہیا کرانے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔ رضوان فردوس کو فرسنگم سے گرفتار کیا گیا۔ ایک حلف نامے کے مطابق 2011 جنوری کے آغاز میں تعاون کرنے والی گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی۔ بات چیت میں فردوس نے بتایا تھا کہ اس نے پنٹاگان پر چھوٹے بے پائلٹ جہازوں سے حملہ کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ اس میں د ھماکو ہوتے ہیں اور جہاز کو جے پی سی سسٹم کے ذریعے چلایا جانا تھا۔ اپریل 2011ء میں فردوس نے اپنی سازش کی تفصیل بنا کر اس میں ایک دوسرے مقام پر حملے کو بھی شامل کیا۔ 2011ء کے مئی اور جون میں فردوس نے چھپا کر دو پین ڈرائیو سونپے جس میں پنٹاگان اور کیپرول پر حملے کی سازش کا قدم بہ قدم اور باقاعدہ تمام تفصیل تھی۔ سازش کے مطابق اس حملے کیلئے ریمورٹ کنٹرول سے چلنے والے تین جہازوں اور چھ افراد کا استعمال کیا جانا تھا جس میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے خود کوامیر بتایا ہے۔ عربی زبان میں امیر کا مطلب قیادت کرنے والا ہوتا ہے۔ فردوس کی گرفتاری امریکی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک شاندار کامیابی ہے۔ وقت رہتے ایک خطرناک سازش کا پردہ فاش کرکے انہوں نے ایک بڑا سازشی حملہ ہونے سے بچا لیا۔
ادھر اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد امریکہ نے القاعدہ کو ایک اور زبردست جھٹکا دیا ہے۔ یہ جھٹکا القاعدہ کی یمن شاخ کے خونخوار آتنک وادی انور الاولاکی کا مارا جانا ہے۔ اولاکی امریکی نژاد دہشت گرد تھا۔ فٹا فٹ انگریزی بولنے اور انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ میں حملوں کے ذریعے آتنک وادیوں کی بھرتی کرنے کے چلتے اس نے القاعدہ میں اہم درجہ حاصل کرلیا تھا۔ ایک بار پھر امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے قابل قدر کام کرکے دکھایا ہے۔ اس کار میں اولاکی سفر کررہا تھا اس پر ڈرون اور جیٹ جہازوں سے حملہ کیا گیا۔ وہ حملے میں مارا گیا۔ یمن کی حکومت نے کہا پہاڑی صوبہ جاف کے کاشف شہر کے باہر صبح9:55 پر الاولاکی کو نشانہ بنایا گیا، وہ ماراگیا ہے۔ جاف راجدھانی ثنا سے 40 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ مقامی قبائلیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ اولاکی دو کاروں کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ اس کے ساتھ القاعدہ کی یمن شاخ کے دو اور آتنکی بھی تھے۔ جس وقت اس پر ہوائی حملہ ہوا وہ الجاف کے پاس واقع مرند صوبے میں جارہا تھا۔ اولاکی میکسیکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین یمن کے تھے۔ اس نے اپنی تعلیم یونیورسٹی سے امریکہ میں حاصل کی۔ اولاکی سینڈیگو میں دو لوگوں سے رابطے میں تھا جنہوں نے9/11 کے حملے میں خودکش اغوا کاروں کا کردار نبھایا تھا۔ ایف بی آئی نے اس سے پوچھ تاچھ کی لیکن ایجنسی کو اسے حراست میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ملی اور اسے چھوڑدیا گیا۔2004 ء میں اولاکی یمن آیا۔ وہ ایک مذہبی پیشوا بن گیا اور اس نے برسوں سے انٹرنیٹ پر اپنے رہنما اصولوں میں امریکہ کی مخالفت کی اور جہاد کی اپیلیں کرتا رہا۔ امریکہ کو یہ دوہری کامیابی اس کی آتنک مخالف چوکسی کے سبب ملی۔ اس کی خفیہ جانکاری حاصل کرنے کی مشینری ایک بار پھرایک طرف تو اپنے دیش میں خطرناک حملے کو روکنے میں کامیاب رہی دوسری طرف ایک کٹر امریکی مخالف آتنک وادی کو صاف کرنے میں کامیابی حاصل کر پائی۔ ہندوستان کی خفیہ اور جانچ ایجنسیوں کو امریکی سسٹم سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ ہم آج تک کسی بھی جانچ میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ہمیں حملے سے پہلے کوئی اطلاع بھی ملتی ہے۔ یوں ہی نہیں امریکہ کی سرزمین پر9/11 حملے کے بعد سے ایک بھی حملہ نہیں ہوسکا۔
 9/11, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, FBI, Haqqani Network, USA, Vir Arjun

30 ستمبر 2011

حقانی نیٹ ورک پر پاک امریکہ میں بڑھتی تلخی



Published On 30th September 2011
انل نریندر
امریکہ کے ایک سینئر کانگریسی سنیٹر ٹیڈ پو نے پاکستان کو دی جانے والی سبھی طرح کی اقتصادی امداد پر روک لگانے کیلئے امریکی نمائندگان کو ایک تجویز پیش کی ہے۔ ٹیکساس سے اس ایم پی کی طرف سے پیش کی گئی یہ تجویز (ایم آر 3013) اگر پاس ہوجاتی ہے تو پاکستان کو نیوکلیائی ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے دی جارہی رقم کے علاوہ سبھی طرح کی امدادی رقم پر روک لگ جائے گی۔ ٹیڈ نے حال ہی میں ایوان میں یہ تجویز پیش کرنے کے بعد کہاکہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا پتہ لگنے کے بعد پاکستان امریکہ کیلئے بھروسہ توڑنے ،دھوکہ باز اور خطرناک ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مبینہ ساتھی اربوں ڈالر کی امداد لے رہا ہے اور دوسری طرف امریکیوں پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو حمایت دے رہا ہے ۔اس لئے اسے دی جارہی مدد روکی جائے۔ امریکہ1948 سے اب تک ایک اندازے کے مطابق 30 ارب پونڈ (قریب 22 کھرب 93 ارب روپے) کی سیدھی مدد دے چکا ہے۔ اس کی آدھی رقم پاکستان کو فوجی مدد کی شکل میں دی جا چکی ہے۔ 1962 میں امریکی مدد کی رقم سب سے زیادہ 2.5 ارب ڈالر (122.42 ارب روپے) تھی۔ 1990 کی دہائی میں مدد متوازن سطح پر تھی۔ صدر جارج بش نے پاکستان کو نیوکلیائی پروگرام کے چلتے مدد کرنا بند کردی تھی۔ 1965اور1971 میں ہند۔ پاک جنگ کے دوران اور بعد میں امریکہ نے کوئی مدد نہیں دی۔ ایک وقت کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں سوئی بھی امریکہ سے آتی ہے۔امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جارہی اقتصادی، فوجی مدد سے صاف ہے کہ امریکہ کے بغیر پاکستان کچھ نہیں ہے۔ امریکی مدد سے ہی پاکستان میں ترقیاتی کام چلتے ہیں۔ اگر یہ مدد آنی بند ہوگئی تھی پاکستان میں ہر چیز ٹھپ ہونے کا خطرہ ہے۔
کچھ دنوں سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی اہم وجہ حقانی نیٹ ورک کی مدد کو لیکر ہے۔ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کو کارروائی کرنے کے لئے کہا ہے۔ پینٹاگان کے ترجمان نے کہا پچھلے ایک ہفتے سے ہم پاکستان سرکار کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اپنے خطے میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے آگے کہا کہ ہم پاکستان حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ افغان سرحد سے ملحق اپنے خطے میں موجود ان دہشت گردوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے جو افغانستان میں داخل ہوکر امریکی اور افغانیوں پر حملہ کررہے ہیں۔ ایک دیگر سینئر امریکی افسر نے کہا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہ ہے اور یہ سنگین تشویش کا موضوع ہے۔ امریکہ اس نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی دیکھنا چاہتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حقانی نیٹ ورک بنیادی طور سے افغانستان کے جلال الدین حقانی کی قیادت میں سرگرم ایک انتہا پسند تنظیم ہے۔ افغانستان ۔ پاکستان سرحدی خطے میں اس کے پاس 15 ہزار انتہا پسندوں کی فوج ہے۔ اس کے بڑے لیڈر ہیں جلال الدین حقانی، سراج الدین حقانی، بدرالدین حقانی،صغیر اور نصیر الدین حقانی وغیرہ وغیرہ۔ بنیادی طور سے اس کے فدائی حملے کروانا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ قتل، زرفدیہ اور ہتھیاروں کی خریدو فروخت کے ذریعے پیسہ پیدا کرنے سے یہ اپنا نیٹ ورک چلاتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا اثر جنوبی افغانستان کے پکتیا اور پاتھکا اور وادک ، لوگر اور غزنی علاقوں میں زیادہ ہے۔
پاکستان نے امریکہ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا امریکہ نے ہی حقانی نیٹ ورک کو کھڑا کیا ہے ۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے سوویت روس کے افغانستان میں زبردستی قبضے کے خلاف یہ طالبانی گروپ بنایا تھا اور انہی سے اسے ٹریننگ دلائی۔ ملک نے ایتوار کو اسلام آباد میں کہا حقانی گروپ کا جنم پاکستان میں نہیں ہوا اور امریکہ کو اب ان چیزوں کے بارے میں نہیں بولنا چاہئے جو 20 سال پہلے ہوئیں تھیں۔ ملک نے کہا حقانی نیٹ ورک اب افغانستان میں سرگرم ہے اور جو لوگ اس کے مخالف دعوی کررہے ہیں انہیں پاکستان میں اس کی موجودگی کے بارے میں ثبوت دینا چاہئے۔ حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کے رشتوں سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان آئی تلخی سے افغان طالبان نے پہلی بار پاکستانی حکومت کی حمایت لیتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ اس معاملے کی آڑ لیکر امریکہ پاکستان میں بد امنی پھیلاکر حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ امریکہ پر پوری طرح منحصر ہوجائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی کوشش پاکستانی عوام اور وہاں کی حکومت کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے کی بھی ہے۔ وہ یہ دکھانا چاہتا ہے پاکستان آتنک وادیوں کی پناہ گاہ ہے۔ کل ملاکر امریکہ اور پاکستان کے درمیان تلخی بڑھتی جارہی ہے۔ میں نے ایک خبر یہ بھی پڑھی ہے کہ امریکی فوج پاکستان کے کچھ آتنکی ٹھکانوں پر بڑا حملہ کرنے کی اسکیم بھی بنا رہی ہے ۔
Afghanistan, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, Haqqani Network, ISI, Pakistan, Vir Arjun

19 جون 2011

الظواہری کے آنے سے امریکہ کی مشکلیں بڑھیں گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پتہ نہیں کیا اثربڑے گا؟ اس کے افغانستان اور پاکستان میں اور دنیا کے دیگر حصوں میں مسئلہ کم ہوگا یانہیں۔ اس میں ایک بار پھر اضافہ ہوگا۔ یہ کچھ سوالات ہے جو امریکی حکام کو ضرور پریشان کررہے ہوں گے۔ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوتا جارہا ہے۔ القاعدہ کے نئے چیف کااعلان ہوچکاہے ۔ پیشہ سے آنکھوں کے ڈاکٹر اورمصرکی ’’اسلامی جہاد کی کٹر تنظیم کی تشکیل میں اہم کردار نبھانے والا ابن الظواہری کو اب القاعدہ کاچیف بنادیا گیا ہے۔ اسامہ بن لادن کا داہنہ ہاتھ مانے جانے والے الظواہری لادن سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کاکہنا ہے کہ 9/11 حملوں کے الظواہری کا ہی دماغ کار فرما تھا۔ سال 2001میں جن 22مشتبہ دہشت گردوں کی فہرست جاری کی گئی تھی۔ اس میں اسامہ بن لادن کے بعد الظواہری کا دوسرانمبر تھا۔ امریکہ نے الظواہری کے سر پر 25ملین ڈالر کا انعام رکھاہوا ہے بتایا جاتا ہے الظواہری آخری مرتبہ اکتوبر 2001میں افغانستان کے شہر قوس میں نظر آیا تھا۔ افغانستان میں طالبان کے خاتمے کے بعد سے وہ روبوش ہے۔ حالیہ برسوں میں الظواہری القاعدہ کا بڑا ترجمان بن کر سامنے آیا۔ ایک خط لکھاہے کہ اور اس نے 1974میں قاہرہ کے میڈیکل کالج سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی اور 4 سال بعد یہی سے سرجری میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسے عرب دنیا کے سب سے خطرناک کٹر تنظیم مسلم بردر ہڈ کے لڑنے کے سبب محض پندرہ سال کی عمر میں پہلی بار گرفتار کیاگیاتھا۔
الظواہری کی تاج پوشی سے پریشان امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کابھی وہی حشر ہوگا جو اس نے اسامہ کے ساتھ کیاہے۔ امریکہ کے جوائنٹ ا سٹاف مائک ملون نے کہا جیسا ہم نے لادن کو پکڑنے اور مارنے کی دونوں کی کوشش ہم الظواہری کے ساتھ بھی یقینی طور پر ایسا ہی طریقہ اپنائے گے۔امریکہ کی مشکل بڑھ سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں حالات دن بہ دن بس سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ اسامہ بن لادن آپریشن سے پاکستان میں حل چل بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانی فوجی چیف اشفاق کیانی آئی ایس آئی کے چیف پاشا پر دباؤ بڑھتا جارہاہے۔ جنرل کیانی کو امریکہ کے تئیں نرم رویہ اپنانے کے الزام میں ہٹانے کی مہم چل رہی ہے۔ آئی ایس آئی نے لادن کے ٹھکانے کے بارے میں امریکی حکام کو ٹھوس جانکاری دینے کے الزام میں پانچ جاسوسوں کو گرفتار کرلیاہے۔ان میں ایک پاکستانی فوج کامیجر بھی شامل ہے۔ ادھر ایک امریکی سیلٹر نے میٹنگ میں سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل مورل کاپوچھا کہ پاکستان امریکہ کو آتنک واد سے لڑنے کے مسئلے پر کتنی حمایت دے رہاہے؟ تو جواب میں مورل نے کہا کہ دس میں تین نمبر کا مطلب امریکہ پاکستان کی سرگرمیوں سے بالکل نہ خوش ہے۔ انگریزی اخبار ڈا نیویارک ٹائم کے مطابق امریکہ میں اس بات کی سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پاک سرکار نے ان لوگوں پر تو کوئی کارروائی نہیں کی جنہوں نے اسامہ بن لادن کو چھپانے میں مدد کی تھی۔ لیکن جن لوگوں نے اسامہ بن لادن کو مارنے میں مدد کی تھی۔ انہیں ہی گرفتار کرلیا ہے۔آنے والے دن امریکہ کے لئے اس معاملے میں چنوتی سے بھرے ہوں گے۔
Tags:Afghanistan, Aiman Al Zawahiri, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

25 مئی 2011

اوبامہ کی دھمکی کا پاکستان نے اسی انداز میں دیا جواب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ آپریشن اسامہ کارروائی دوہرانے میں دیر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران اوبامہ نے کہا اپنی سلامتی کے لئے وہ پاکستان میں دوبارہ اپنی فوج بھیجنے سے نہیں چوکیں گے۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکہ کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کے خلاف سازش اور رچی جائے،اس پر امریکہ کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا سرغنہ پاکستان میں پایا جاتا ہے تو امریکہ فوج کو دوبارہ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تئیں پاکستان کا جو دوہرا پیمانہ اس کی بڑی بھول ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس ذہنیت سے دور ہٹ کر کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کو محسوس کرے اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر ہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔

Tags: America, Anil Narendra, China, CIA, Daily Pratap, ISI, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Shuja Pasha, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...