Translater

IPL لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
IPL لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

30 مئی 2012

آئی پی ایل 5- دلچسپ رہا مگر شک کے دائرے میں


آئی پی ایل 5- شاندار طریقے سے ختم ہوا۔ ایتوار کو کھیلا گیا فائنل میچ بہت ہی دلچسپ تھا۔ اگر یہ کہیں کہ آئی پی ایل 5- کا اختتامی میچ اس سے اچھا نہیں ہوسکتا تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ شاہ رخ خاں کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز آخر کار پانچویں کوشش میں پاس ہوہی گئی۔ ایتوار کو کھیلے گئے فائنل میں کے۔ کے ۔آر نے پچھلے دو بار رہی چمپئن چنئی سپر کنگز کو پانچ وکٹ سے ہرادیا۔ میچ کا فیصلہ آخری اوور کی چوتھی گیند پر ہوا۔ ونر ٹیم کو 10 کروڑ اور ضمنی کامیاب ٹیم کو 7.50 کروڑ روپے کے انعامی رقم ملی۔ قسمت نے کے۔ کے ۔ آر کا یقینی طور سے ساتھ دیا۔ کم سے کم دو قصے ایسے ہوئے جس سے کے۔کے۔آر کی جیت ممکن ہوسکی۔ پہلا تب ہوا جب کیلس نے ایک شارٹ مارا اور باؤنڈری پر کھڑے مائک ہسی نے کیچ لپک تو لیا لیکن وہ باؤنڈری لائن کراس کرگئے۔ جس بال پر کیلس کو آؤٹ ہونا تھا وہ چھکے میں بدل گئی۔ دوسرا قصہ تب ہوا جب فین ہگس نے شکیب الحسن کو گیند پھینکی شکیب نے شارٹ مارا اور کیچ ہوگئے۔ لیکن کیچ ہونے سے پہلے وہ دو رن بنا چکے تھے۔ ایمپائر نے اس بال کو کمرسے اوپر ہونے کے سبب وائڈ قراردیا۔ وائڈ ہونے کے سبب ہلفین ہگس کو دوبارہ بال کرنی پڑی اور اس بار شکیب نے چوکا مار دیا۔ اس طرح ایک ہی بال میں کے۔ کے ۔ آر کو 7 رن مل گئے اور کے۔ کے۔ آر کو7بالوں میں 16 رن درکار تھے۔ انہی 7 رنوں نے آخری اوور کا نشانہ آسان کردیا۔ منوج تیواری نے دو چوکے لگادئے اور کے کے آر چمپئن بن گیا۔ کے کے آر کی یہ پہلی جیت تھی۔مالک شاہ رخ خان کی خوشی دیکھنے لائق تھی۔ شاندار ٹورنامنٹ کا شاندار کلائمکس رہا لیکن آئی پی ایل5- تنازعوں سے نہیں بچ سکا۔ سب سے بڑا تنازعہ تو دلی ڈیئر ڈیولس کی پرفارمنس کو لیکر تھا۔ متنازعہ کرکٹ لیگ بن کر ابھری آئی پی ایل میں گڑ بڑی کا شک ہونے لگا ہے۔ کیا آئی پی ایل کا رزلٹ پہلے ہی طے تھا۔شک کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ کوالیفائی اور کوالیفائر ٹو میں دلی ڈیئر ڈیولس کے عجیب و غریب فیصلوں اور آئی پی ایل کی ویب سائٹ میں کوالیفائر 2 کے رزلٹ کے پہلے ہی دونوں فائنلسٹوں کے نام آنے کے بعد شک ہونا لازمی ہے۔22 مئی کو کے کے آر کے خلاف کوالیفائر میں بھی سہواگ کی کپتانی میں ایسے فیصلے دیکھنے کو ملے جس سے لگا کہ دلی ہارنے کے لئے ہی اتری ہے۔ اسپن ٹریک ہونے کے باوجود سہواگ نے اس میچ میں صرف ایک اسپنر کو کھلایا جبکہ کے کے آر کی طرف سے تین اسپنر اترے۔ یہ ہی نہیں نشانے کا پیچھا کرنے اتری دلی نے رائے ٹیلر اور عرفان پٹھان سے پہلے غیر متوقعہ دھیمی بالنگ کرنے والے وینو گوپال راؤ اور پون نیگی کو بلے بازی کے لئے اتارا۔ ان دونوں کی دھیمی بلے بازی کی وجہ سے بعد میں ٹیلر اور عرفان کے لئے نشانے کو پانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ کوالیفائر 2 میں تو سہواگ نے بی سی سی آئی چیئرمین این سرینواسن کی ٹیم چنئی سپر کنگ کے فائنل میں جانے کے راستے کھول دئے۔ جمعہ کو ہوئے اس میچ میں سہواگ سے چنئی کو پچ پر ٹاس جیتنے کے باوجود پہلے گیند بازی کی۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں ٹاپ فارم میں رہے ساؤتھ افریقہ کے تیز گیند باز یورنی مارکل کو اس میچ میں نہیں کھلایا گیا۔ ان کی جگہ کوریائی آل راؤنڈر ادیرسل کو شامل کردیا۔سہواگ کے اس فیصلے پر دھونی نے بھی تعجب ظاہر کیا۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کرنے والے اسپنر شاہباز ندیم کی جگہ اس میچ میں سنی گپتا کو شامل کیا گیا اور ان سے پہلا ہی اوور کرواڈالا۔ گپتا نے تین اوور میں 47 رن لوٹائے اور ایک بھی کامیابی ان کے ہاتھ نہیں لگی۔ یہ ہی نہیں سہواگ نے اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار گیند بازی میں ہاتھ آزمائے اور ایک ہی اوور میں21 رن لئے۔ سب سے تعجب کی بات یہ رہی کہ 223 رن کا وسیع نشانہ پورا کرنے اتری دلی کے اوپنگ بلے باز وریندر سہواگ ندارد تھے۔ انہوں نے وارنر کے ساتھ اوپنگ میں مہیلا جے وردھنے کو اتارا۔ ان میں نہ تو ایسی ڈوز نظر آئی اور ان کی باڈی لنگویج نے ساری کہانی بیان کردی۔ وہ صرف ایک رن بنا کر چلتے بنے۔ مہیلا جے وردھنے نے اچھا کھیل کھیلا لیکن ایک بال پر جب وہ بیٹ ہوئے تو وہ کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ انہوں نے واپس بیٹ رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جبکہ ممکن ہے کہ وہ اسٹمپ ہونے سے بچ سکتے تھے۔ دلی ڈیئر ڈیولس نے اپنے دلی کے فینس کو نہ صرف ناراض کیا بلکہ سہواگ کے برتاؤ سے شک بھی پیدا کیا ہے۔ لیکن کل ملاکر آئی پی ایل5- کامیاب رہا اور سب نے اس کا خوب مزہ لیا۔ ایسا نہیں کہ ٹورنامنٹ میں کچھ اچھا نہیں ہوا۔ کئی نوجوان کھلاڑی سامنے آئے۔ بورڈ نے میں فیصلہ کیا ہے کہ آئی پی ایل نیلامی کا جائزہ لیا جائے گا اور اگلے سیشن میں سبھی کھلاڑیوں کی بھی نیلامی ہوگی۔
(انل نریندر)

17 مئی 2012

آئی پی ایل 5 میں اسپاٹ فکسنگ اسٹنگ آپریشن

کرکٹ میں فکسنگ کاجن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ایک ٹی وی چینل انڈیا ٹی وی نے ایک اسٹنگ آپریشن کرکے آئی پی ایل کے کچھ کھلاڑیوں کے ذریعے غلط طریقے سے پیسے کے لئے اسپارٹ فکسنگ کا خلاصہ کیا۔ چینل نے دعوی کیا کہ اس نے یہ اسٹنگ آپریشن ایک سال تک کیا۔ اس آپریشن میں چینل کے رپورٹروں نے آئی پی ایل ٹیموں کے ایجنٹ بن کر کھلاڑیوں سے ملاقات کی جس میں کئی کام شامل تھے جو بھارتیہ کرکٹ بورڈ کے قواعدکی خلاف ورزی ہے۔ آئیے دیکھیں کے اس ٹیپ میں ایک کھلاڑی سے ہوئی بات چیت کیا ہے۔ جیسا کہ ٹی وی چینل نے دعوی کیا ہے۔ رپورٹر: میچ فکسنگ کے لئے کس طرح کی مثال دی گئی ہیں؟ کھلاڑی: یہ کہا جاتا ہے کہ ایک آدھ میچ فکس کرکے کافی کمائی کرسکتے ہیں۔ پھر رپورٹر: ایک نو بال یا باؤنسر سے کام چل جاتا ہے؟ کھلاڑی: ٹھیک ہے۔ رپورٹر: آپ کے لئے یہ کوئی پریشانی نہیں ہے؟ کھلاڑی: نہیں کوئی پریشانی نہیں۔ رپورٹر: 10,15,20 میچ یا پانچ میچ آپ جتنے میچ چاہو؟ کھلاڑی: ٹھیک ہے کوئی پریشانی نہیں۔ رپورٹر: ٹیسٹ لیگ یا رنجی؟ کھلاڑی: ہم۔۔۔ ایک ۔ رپورٹر: کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کھلاڑی: ہاں ٹھیک ہے۔ رپورٹر: یہ آسان بھی ہے ہم آپ کو پورا میچ فکس کرنے کو نہیں کہہ رہے ہیں؟ کھلاڑی:ہوں۔ ۔ رپورٹر: ہم صرف اسپارٹ فکسنگ کے لئے کہہ رہے ہیں؟ کھلاڑی:۔۔۔ ہوں۔ رپورٹر: میں اس کے لئے آپ کو 50 ہزار روپے دے رہا ہوں۔ آپ کتنا چاہتے ہیں؟ کھلاڑی: اس ٹورنامنٹ کے لئے 40 ہزار ۔اس کے علاوہ چینل نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ منیش پانڈے، موہنش مشرا، منوندر بسلا نے طے سلیب سے زیادہ پیسے کے لئے ۔ ایسا کرنا بی سی سی آئی کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ سدھیندر نے نو بال پھینکنے کے لئے پیسے لئے۔ کچھ کھلاڑی ٹورنامنٹ کے دوران بھی ٹیم بدلنے کو راضی ملے۔ بی سی سی آئی نے انکینڈ(نیلامی میں شامل نہیں) کھلاڑیو ں کے لئے سلیب مقرر کیا ہوا ہے۔ وہ اس سے زیادہ پیسہ لے سکتے ہیں۔ فرنچائزی بھی انہیں ایسی پیشکش نہیں کرسکتے۔ ایسا کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ مدھیہ پردیش کے گیند باز سدھیندر جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کیلئے راضی ہوگئے اس کے لئے انہوں نے 50 ہزار روپے مانگے۔ سدھیندر آپی پی ایل 5 میں دکن چارجز کے لئے کھیلتے ہیں۔ چینل کے مطابق اندور میں کھیلے گئے ایک گھریلو میچ میں جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کیلئے 40 ہزار روپے لئے تھے۔ شلب شریواستو ٹیم بدلنے، اسپارٹ فکسنگ کے لئے راضی نظر آئے۔ انہوں نے نو بال پھینکنے کے لئے 10 لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ شلب نے بتایا کہ منیش پانڈے کی سہارا پنے ویریرس میں بنائے رکھنے کے لئے 50 لاکھ روپے کی کار دی ہے۔ شلب کے مطابق کولکتہ سے کھیلنے کے لئے من وندر بسلا نے 75 لاکھ روپے بلیک میں لئے ہیں۔ بی سی سی آئی نے سخت رویہ اپناتے ہوئے جانچ پوری ہونے تک ان مبینہ پانچ ملزم کھلاڑیوں کو فوراً معطل کردیا ہے۔ منیش مشرا ،شلب شریواستو، ٹی پی سدھیندر، امت یادو، ابھینو بالی شامل ہیں۔ جنہیں جانچ پوری ہونے تک معطل کیا گیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ اسٹنگ آپریشن اگر کچھ ثابت کرتا ہے تو بس اتنا کہ کچھ چھٹ بھئے کھلاڑی اسپارٹ فکسنگ کررہے تھے۔ اس سے پورے میچ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ رہی بات ایک ٹیم سے دوسری ٹیم بدلنے کیلئے فاضل پیسے مانگنا، بیشک قواعد کی خلاف ورزی ہے لیکن سنگین جرم نہیں۔ بلیک میں پیسہ لینا بھی اتنا بڑا جرم نہیں ہے۔ آئی پی ایل کرکٹ سے زیادہ پیسوں کا کھیل ہی ہے۔ کھلاڑی بھی چاہتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کما سکیں۔ فرنچائزی بھی کچھ چنندہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں برقرار رکھنے کیلئے طرح طرح کے لالچ دیتے ہیں۔ اگر پنے ویریرس نے پیسے دئے ہیں تو اس کا کوئی خاص فائدہ ہوا ایسا نظر نہیں آتا۔ وہ دکن چارجز کے ساتھ پاور پوائنٹ ٹیبل میں سب سے نیچے ہیں۔ ٹی وی چینل سنسنی پھیلانے کے لئے مشہور ہیں۔ یہ اسٹنگ آپریشن بھی اسی سنسنی مہم کا حصہ ہے جس میں زیادہ سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ آئی پی ایل پانچ کو بلا وجہ بدنام کرنے کی کوشش ہے اور ناظرین میں خواہ مخواہ شک پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, IPL, Match Fixing, Vir Arjun

06 مئی 2012

آئی پی ایل۔5کے جلوے



Published On 6 May 2012
انل نریندر

کچھ کھیل پریمیوں کو شبہ تھا کہ آئی پی ایل۔5کیا ویسا ہی رہے گا جیسا آئی پی ایل۔4تھا؟ اس بار آئی پی ایل کو شکل دینے والے للت مودی نہیں ہونگے؟ لیکن ماننا پڑے گا کہ للت مودی کی کمی نہیں کھلی اور آئی پی ایل 5ہر نظریہ سے ہٹ ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پہلے 16دنوں میں دہلی اور ممبئی دونوں ہی تھیں صرف گیٹ کلیکشن سے ہی 40-40کروڑ سے زیادہ کی کمائی ہوئی ہے۔دہلی میں 7،15اور 17مئی کو تین اور میچ ہونے ہیں۔اس میں بھی 40ہزار سے زیادہ ناظرین کے پہنچنے کی امید کر رہے ہیں۔اب آخری چار لائن اپ میں پہنچنے کیلئے ہع میچ زیادہ کانٹے دار ہو رہا ہے اس لئے بھی زیادہ دلچسپی ناظرین میں بنی ہوئی ہے۔دہلی میں جس طرح راجستھان رائلس سے آخری بال پر جیت درج کی وہ تو کمال ہی تھا۔اس بار دہلی ڈئیر ڈیولس ٹیم متوازی لگ رہی ہے۔چاہے وہ بیٹنگ ہو،بالنگ ہو یا فیلڈنگ ہو۔سبھی حلقوں میں وہ بینلسڈلگ رہی ہے۔ایک بات جو سامنے آرہی ہے وہ یہ کہ اکیلے بڑا اسکور کھڑا کرنے سے کام نہیں چلتا۔آپ کی بالنگ بھی اچھی ہونی چاہئے اور فیلڈنگ بھی۔200سے زیادہ اسکور بھی پار ہو رہے ہیں۔دوسری طرف جمعرات کو ممبئی اور پونے میں بہت کم اسکور کے باوجود ممبئی آخری بال پر جیت گیا۔تو یہ کہنا شائد غلط نہیں ہوگا کہ اس بار آئی پی ایل میں بیٹنگ سے زیادہ بالنگ اور فیلڈنگ بھاری پڑ رہی ہے۔سچن تیندولکر کے راجیہ سبھا ممبر چنے جانے پر کچھ حلقوں میں تنقید وں کا جواب دیتے ہوئے سچن نے کہا کہ وہ کھلاڑی ہیں اور ہمیشہ کھلاڑی ہی رہیں گے۔سچن نے کہا کہ راجیہ سبھا میں چنا جانا ایک بڑی عزت افزائی ہے اور اس میں ان کی ذمہ داریاں بڑھیں گی۔لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ میرے کرکٹ کیرئر کو ختم کر دے گا تو غلط ہے۔میرا ممبر پارلیمنٹ کے طور پر چناؤ ہوا کیونکہ میں 22سال سے کرکٹ کھیل رہا ہوں۔کرکٹ میری زندگی ہے۔اور میں اسے جی رہا ہوں۔ابھی سنیاس کا ارادہ نہیں ہے۔اپنی سب سے یاد گار پاری وہ ورلڈ کپ2003 میں پاکستان کے خلاف 98رن کی بتاتے ہیں۔سچن نے یہ بھی بتایا کہ وہ ہر اہم میچ کیلئے بہت پہلے سے ہی تیاری کرتے ہیں۔2003میں جان رائٹ نے کہا تھا کہ میں کرکٹ میں مہا شتک لگا سکتا ہوں۔میں ساماجک حلقہ میں بھی اپنا تعاون دیتا ہوں۔میں 400غریب بچوں کی پڑھائی کا خرچ اٹھاتا ہوں۔ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق سماج سیوا کرنا چاہتا ہے۔دینے کا سکھ بہت زیادہ اسیم ہوتا ہے۔اس خرچ کو سبھی لوگوں کو نبھانا چاہئے۔ورلڈ کپ 2003کی ورلڈ کپ جیت پر سچن نے کہا وان کھیڑے سٹیڈیم کے باہر کھڑی میری گاڑی پر چڑھ کرناظرین جشن منا رہے تھے۔ڈرائیور نے مجھے بتایا تو میں نے اس سے کہا کہ کار میں کھروچ لگنے کی پرواہ نہ کریں۔ورلڈ کپ کی جیت نے پورے دیش کو ایک سوتر میں باندھ دیا ہے۔یہ میری زندگی کا اہم ترین دن ہے۔ایشور سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ صحیح فیصلہ لینے کیلئے ہمیشہ میرا مارگ درشن کرتے رہیں۔آئی پی ایل۔5میں اس بار سبھی سٹیڈیموں میں ٹکٹ زیادہ رکھی گئی ہے۔اور پرسوں کی تعداد پچھلے دس سالوں کی بانسبت کم ہے۔تبھی تو مختلف سٹیڈیموں کے اندر اس بار ایک ملین یعنی 10لاکھ ناظرین موجود ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, IPL, Vir Arjun

23 ستمبر 2011

ونڈے کی گھٹتی مقبولیت کو روکنے کے لئے سچن کا سجھاؤ



Published On 23rd September 2011
انل نریندر
میرا کرکٹ سے تھوڑا من کھٹا ہوگیا ہے۔ٹیم انڈیا کے انگلینڈ دورے نے کم سے کم میرا تو کرکٹ کے تئیں تھوڑا موہ بھنگ ضرور کیا ہے۔ ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے ٹیم انڈیا نے انگلینڈ دورے میں مظاہرہ کیا وہ مایوس کن شرمناک تھا۔ ایک بھی میچ میں وہ ٹکر دینے نہیں آئے۔ یہ کھلاڑی صرف پیسوں کے لئے کھیلتے ہیں،دیش کے جھنڈے کے لئے نہیں۔اور پیسہ ان کو اتنا مل گیا ہے کہ ان کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔ سچ بتاؤں تو میں اب ہاکی یا فٹبال کا میچ دیکھنا زیادہ پسند کررہا ہوں۔ آج کل چمپئن لیگ میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی مقابلہ چل رہا ہے لیکن میرا اسے دیکھنے کا بھی دل نہیں کرتا۔ ورلڈ چمپئن بننے کے صرف پانچ مہینے بعد ٹیم انڈیا کا ایسا حشر ہوگا یہ کسی نے سپنے میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ انگلینڈ دورہ میں مہیندر سنگھ دھونی اور ان کے دھرندروں کا گھمنڈ چکنا چور ہوگیا۔پہنچی توانگلینڈ ورلڈ کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم اور ورلڈ چمپئن کا رتبہ لیکر تھی،جب دورہ ختم ہوا تو بھارت ٹیم ٹیسٹ ریکنگ میں تیسرے اور ونڈے ریکنگ میں پانچویں نمبر پر گرچکی تھی۔یہ ایک ایسا شرمناک مظاہرہ تھا جو گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ وقت میں کسی غیر ملکی دورہ میں سننے میں نہیں آیا ہو۔
بہرحال ہندوستان کے مہان کرکٹر سچن تندولکر نے ون ڈے کرکٹ کی گھٹتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی کو ایک خط لکھ کر کرکٹ کے اس فارمیٹ کی مقبولیت واپس حاصل کرنے کے لئے کئی اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ونڈے کرکٹ کے بادشاہ سچن نے اس سلسلے میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگاڈ کو تجویز پیش کی ہے کہ 25-20 اوور کے میچ کو 25-25 اوورکی پاریوں والے میچ میں تبدیل کردیا جائے۔ ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھنے والے ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر پہلے بھی ونڈے میں تبدیلی کی بات اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ انہوں نے ہر پاری میں اووروں کی تعداد گھٹانے کے علاوہ کئی اور تبدیلیاں پیش کی ہیں۔ سچن نے کہا کہ 25 اوور کی پاری کے میچ میں توازن آئے گا اور پہلے ٹاس جیتنے والی ٹیم کا ایڈوانٹیج ختم ہوجائے گا۔ میچ میں پاری میں بلے بازی کرنے والی ٹیم کی جانب سے ہی دو پاور پلے ہونے چاہئیں لیکن اس کے ساتھ چار گیند بازوں کو12-12 اوور پھینکنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ موجودہ قواعد میں ایک گیند باز10 اوور پھینک سکتا ہے۔ سچن کا خیال ہے پچ اور موسم کے حالات میں میدان کردار کے معنی رکھتا ہے اور سکے کے اچھال سے ہی میچ کا کچھ حد تک فیصلہ ہوجاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ برطانیہ میں جلٹ کپ میں دو بٹی ہوئی پاریوں کی تجویز آئی تھی جبکہ آسٹریلیا میں انٹر اسٹیٹ کرکٹ ٹورنامنٹ میں 45 اووروں کے میچ کو 20-20 اوور اور 25-25 اووروں کے میچ میں بانٹا گیا تھا۔ آسٹریلیا کرکٹ کے مطابق یہ فارمیٹ کافی کامیاب رہا تھا۔ بھارت میں سبھی کرکٹ کمنٹیٹر ہیں ۔ آپ سب کی سچن کی تجاویز پر کیا رائے ہے۔ میرے خیال میں تجاویز پر غور کرنا چاہئے۔ ہر تجاویز میں دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایسے بھی کرکٹ پریمی ہوں گے جو سچن کی تجاویز سے متفق نہ ہو۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, IPL, T20, Vir Arjun,

01 جون 2011

آئی پی ایل کی وجہ سے چھڑی کلب بنام دیش بحث


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

1جون 2011 کو شائع
انل نریندر
آئی پی ایل نے کرکٹ کی شکل کو ہی بدل دیا۔ اس کا اتنا تفریحانا خاکہ بنا دیا ہے کہ ساری دنیا میں یہ کھیل جتنا مقبول ہوا ہے شاید ہی کوئی اور کھیل اتنی تیزی سے مقبول ہوا ہو۔ اس فارمیٹ میں سبھی کچھ ہے۔ کھیل بھی ہے، تفریح بھی ہے، گلیمر بھی ہے اور پیسہ بھی۔ اس نے تو کھلاڑیوں کی ذہنیت تک بدل دی ہے۔ اب ایک نیا تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔’ کلب بنام دیش‘۔ اب کئی کھلاڑی آئی پی ایل کھیلنا زیادہ پسند کرتے ہیں بہ نسبت دیش کے لئے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے دنوں ہم نے دیکھا کہ کس طرح 27 سال کی عمر میں سری لنکا کے تیز گیند باز ملنگا نے اعلان کردیا کہ وہ اب ٹیسٹ میچوں سے رخصتی لے رہے ہیں۔ وہ صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ہی کھیلیں گے۔ ٹیسٹ سے ہٹنے کا سبب انہوں نے دائیں گھٹنے کی چوٹ بتایا ہے۔ لیکن خیال کیا جارہا ہے کہ آئی پی ایل کو اہمیت دیتے ہوئے انہوں نے اپنے دیش کے لئے کھیلنے سے منع کردیا۔ اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کے ایک کھلاڑی کرس گیل نے بھی ویسٹ انڈیز کے لئے کھیلنے سے منع کردیا تھا اور رائل چیلنجرز بینگلورو کا رخ کیا اور اپنے دمدار مظاہرے سے آئی پی ایل کے گولڈن پلیر کا خطاب جیتا۔ گیل نے کہا کہ انہیں ملال ہے کہ انہیں اپنے دیش سے زیادہ پیار اور عزت نہیں ملی۔ گیل نے کہا انہیں ٹی ۔ٹوئنٹی مقابلے میں جو پیار اور عزت ملی وہ ان کے وطن میں نہیں ملی۔ اصل وجہ یہ ہے کہ پیسہ۔ آئی پی ایل میں اتنا پیسہ آگیا ہے کہ کھلاڑی اب اپنے دیش کی بجائے آئی پی ایل میں کھیلنا پسند کرنے لگے ہیں۔
آئی پی ایل کے دوران کلب۔ بنام دیش پر شروع ہوئی بحث میں سابق کپتان کپل دیو اور سنیل گواسکر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سابق آل راؤنڈر کپل کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں آخری فیصلہ کرنے کا حق کھلاڑی کو ہونا چاہئے کیونکہ وہ اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہے۔ وہیں سنیل گواسکر فرماتے ہیں کہ بھلے ہی کھلاڑیوں کا حق ہو لیکن اگر کوئی کھلاڑی دیش پر کلب کو زیادہ ترجیح دیتا ہے تو اسے مستقبل میں بھی قومی ٹیم میں نہ چنا جانا چاہئے۔ اگر کھلاڑی کو انتخاب کرنے کا حق ہے تو ہمیں بھی اختیار ہے کہ ٹیم سلیکشن میں اس کے نام پر غور نہ کریں۔ دوسری جانب 1983 کے ورلڈ کپ ونر ٹیم کے کپتان کپل دیو کا کہنا ہے کوئی بھی شخص دیش کے لئے کھیلنا چاہتا ہے تویہ طے کرنے کا اسے اختیار ہونا چاہئے۔ مجھے اپنے دیش کے لئے کھیلنا پسند تھا اور میں کھیلا بھی لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ آپ ان دنوں کی زندگی کو پابند نہیں کرسکتے۔ کوئی بھی شخص جو کرنا چاہتا ہے اسے کرنے کی آزادی ملنی چاہئے۔
کلب بنام دیش کی بحث سری لنکائی کھلاڑی لست ملنگا کے ٹیسٹ سے سنیاس لینے کے ساتھ شروع ہوئی لیکن اس نے زور اس وقت پکڑا گوتم گمبھیر کی چوٹ کے بعد۔دراصل گمبھیر ، سہواگ، سچن ، دھونی اور ظہیر نے آئی پی ایل میں تقریباً سبھی میچ کھیلے لیکن اگلے مہینے جب قومی ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر جائے گی تب یہ آرام کریں گے۔ دھونی ، ظہیر ٹیسٹ کھیلنے جائیں گے۔ سابق کرکٹروں سے لیکر کرکٹ شائقین میں تب سے یہ بحث جاری ہے کہ آرام کا صحیح وقت کیا ہے؟
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Dhoni, Gail, IPL, Malinga, Sri Lanka, Vir Arjun, West Indies, Zahir

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...