Translater

28 ستمبر 2013

راجیوگاندھی کاخواب تعبیر :جافنہ خطے میں نئی صبح کا آغاز

25 برس سے بھی زائد عرصے سے جاری خانہ جنگی میں تباہ ہوچکے سری لنکا کے شمالی صوبے میں ہوئے چناؤ میں سورگیہ راجیو گاندھی کا خواب تعبیر ہوگیا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ راجیوجی کی یہ خواہش تھی کہ جافنہ کا حل جمہوری چناؤ ہیں نہ کے پربھاکرن کی بندوقیں۔ ایک بار جب انہوں نے ہندوستانی امن فوج جافنہ بھیجی تھی تو میں ان سے ملنے گیا تھا۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ امن فوج کی لبریشن ٹائیگرز بہت مخالفت کررہی ہے کہیں یہ قدم ہمیں بھاری نہ پڑ جائے۔ تو سورگیہ راجیو نے کہا تھا کہ سری لنکا کو اگر تباہی سے بچانا ہے اور جافنہ کے تملوں کو بچانا ہے تو جافنہ خطے میں چناؤ ہونے چاہئیں تبھی وہاں قیام امن ہوگا۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ تاریخ ہے۔ راجیو جی کو اپنی جان کی قیمت چکانی پڑی۔ پورے واقعے کو ’مدراس کیفے ‘فلم میں جان ابراہیم نے خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ قارئین کو اگر پورے واقعے کی جانکاری چاہئے تو یہ فلم ضرور دیکھیں۔ ان انتخابات میں تمل پارٹیوں کی شاندار کامیابی نے ایک بار پھر وہاں کے تمل اکثریتی علاقے کی آزادی سے وابستہ چنوتیوں کو سامنے لا دیا ہے۔ پانچ تمل پارٹیوں کے اتحاد ،تمل راشٹریہ یونائیٹڈمحاذ، یونائیٹڈ پیپلز فریڈم الائنس کو حاشیے پر ڈال دیا ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں علیحدگی پسند اور خطرناک لبریشن ٹائیگرز کے لیڈر پربھاکرن نے الگ تمل ملک کے قیام کے لئے دہائیوں تک خونی جنگ چھیڑی تھی۔ برسوں تک یہ لڑائی چلی۔ یہ پورے سری لنکا خاص کر اس کے تمل اکثریتی نارتھ اور مشرقی علاقو ں میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہوگئے۔ بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ بعدمیں پربھاکرن اور اسکی گوریلا تنظیم تمل لبریشن ٹائیگرز کو حکومت نے سختی سے کچل دیا تھا اور سری لنکا کے فوج کے خلاف بے قصور تملوں پر مظالم کے تمام الزامات بھی لگے تھے۔ تمل اکثریتی اس علاقے میں صوبائی کونسل کے لئے ہوئے ایک چناؤ میں توقع کے خلاف ہی پانچ پارٹیوں کے محاذ ٹی این اے نے جافنہ سمیت علاقے کے پانچ اضلاع میں زبردستی کامیابی حاصل کی ہے مگر جس طرح سے اس محاذ کو 80 فیصدی کے قریب ووٹ ملے ہیں اس کے سیاسی مفادات بہت دلچسپ ہیں۔ ان نتیجوں کا صاف مطلب ہے کہ سری لنکا کی مہندراراج پکشے حکومت اور وہاں کی فوج نے بیشک تمل باغیوں کا صفایا کردیا ہو لیکن حکومت اور یکساں شہریت جیسے تملوں کے ایشو اب بھی کافی اہم ہیں۔ تمل باغیوں کے گڑھ رہے اس خطے میں صوبائی کونسل کے لئے ہوا یہ پہلا چناؤ واقعی بہت اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے سری لنکا کی اقلیتی تملوں نے دکھا دیا ہے کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنا حق پانا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقت راجیو گاندھی سمجھ گئے تھے اور انہوں نے اپنے طریقے سے اسے پورا کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سری لنکا میں راج پکشے کی حکومت جافنہ خطے میں کس حد تک تملوں کو ان کا حق دیتی ہے اور قومی دھارا میں جوڑنے کو تیار ہے۔ حالانکہ ان چناؤ کے ذریعے راج پکشے حکومت نے کافی حد تک اپنے داغ دھونے کی کوشش کی ہے لیکن اگر انہوں نے تملوں کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کیا تو وہ سری لنکا کے لئے بے مفاد ہوگا۔
(انل نریندر)

نیروبی حملے میں برطانوی و امریکی دہشت گرد؟

کینیا کی راجدھانی نیروبی میں ممبئی جیسا دہشت گردانہ حملہ منگلوار کو چوتھے دن بھی نہیں ختم ہوپایا۔ پیر کو کینیا کے صدر اوہوروکے یوہوٹا نے کہا تھا کہ سبھی بندوقچی مار دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ویسٹ گیٹ مال کو دہشت گردوں سے آزادکرایالیاگیا ہے۔ مال پر فوج نے اپنا کنٹرول کرلیا ہے لیکن منگلوار کو مال میں پھر سے دھماکے سنائی دئے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم الشباب نے دعوی کیا ہے کہ ابھی اس کے پاس کچھ یرغمال ہیں لیکن وہ پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ تنظیم نے دھمکی دی ہے کہ جب تک کینیا صومالیہ سے اپنی فوجیں نہیں ہٹا لیتا اس کے حملے جاری رہیں گے۔ تنظیم نے کینیا کے حکام کے دعوے کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں کوئی امریکی یا برطانوی شامل نہیں ہیں۔ اس سے پہلے کہا گیا تھا پانچ امریکی اور برطانوی وائٹ ونڈو اس حملے میں شامل رہے ہیں۔کینیا کی وزیر خارجہ آمنہ محمد نے بتایا کہ حملہ آور امریکہ سے آئے تھے اور وہ بنیادی طور پر امریکی صوبے سینیٹا اور میسوری سے تعلق رکھتے تھے۔ مال سے بچ کر بھاگے لوگوں میںآتنکی بھی ہیں اور 65 لوگوں کی ابھی تلاش ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یا تو وہ محفوظ نکل گئے ہیں یا پھر مال کی پانچویں منزل میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ نیروبی کے ایم پی شاہ ہسپتال کے ٹراما سینٹر میں زخمی لوزیانا کے ڈاکٹر منوندر چوبیسی گھنٹوں زخمیوں کی جان بچانے میں لگے رہے۔ اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد62 تک پہنچ چکی ہے جس میں تین ہندوستانی بھی شامل ہیں۔ حملے کے فوراً بعد الشباب نے ٹوئٹر پر حملوں میں شامل 9 لوگوں کی فہرست جاری کی تھی۔ اس میں تین امریکی، دو صومالیائی اور ایک برطانوی شہری ہے۔ کینیڈا اور فن لینڈ کا بھی ایک دہشت گرد فہرست میں شامل تھا۔
سی این این کی خبر کے مطابق امریکی حکومت اس بات کی جانچ کررہی ہے کہ حملہ آوروں میں امریکی شہری کے شامل ہونے کی بات کس حد تک صحیح ہے۔ متعلقہ حکام اور صومالیائی نژادامریکی لیڈروں نے کہا کہ الشباب نے افریقہ میں لڑنے کے لئے امریکہ کے منی پولس شہر سے لڑکوں کی بھرتی کی ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ حملوں کی پلاننگ میں ایک برطانوی خاتون کے شامل ہونے کا شبہ ہے۔ ذرائع کے مطابق2005ء میں لندن ٹرانسپورٹ سسٹم پر حملہ کرنے کے دوران مارے گئے برطانوی شخص کی بیوہ کے اس میں شامل ہونے کے بھی اشارے ہیں۔ مال کے اندر سے ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ ایک عورت بھی حملہ آوروں میں شامل تھی حالانکہ کینیا کے وزیر داخلہ جوزف اولے لینکو نے اس سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ سبھی حملہ آور مرد تھے اور ہوسکتا ہے کہ کچھ حملہ آور عورتوں کے کپڑے پہنے ہوں۔ القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے ذریعے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد مارے جانے کے بعد مانا جارہا تھا کہ دنیا کی یہ سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم القاعدہ کمزور پڑ جائے گی لیکن القاعدہ آج پہلے سے بھی زیادہ خوفناک شکل میں سامنے آئی ہے۔ اس کی الگ الگ تنظیمیں دنیا کے الگ الگ حصوں میں خوف کی علامت بنی ہوئی ہیں۔
(انل نریندر)

27 ستمبر 2013

پہلی بار بھاجپا میں نظر آیا اتحاد طاقت اور مودی کابڑھتا طوفان!

بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھوپال میں ہوئی ریلی کئی معنوں میں اہمیت کی حامل رہی۔نریندر مودی کے وزیر اعظم عہدے کی امیدواری کے بعد یہ بھوپال میں پہلی ریلی تھی۔ جس طرح سے راجدھانی بھوپال میں لاکھوں لوگ جمع ہوئے وہ یہ صاف اشارہ دے رہے تھے کہ مودی کا طوفان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بیشک کانگریس مودی کو طول نہ دے اور کہے کہ مودی فیکٹر 2014 ء لوک سبھا چناؤ میں کوئی خاص اثر نہیں ڈالے گا لیکن جس طرح نوجوان طبقہ مودی کی ریلیوں میں آرہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ مودی کے دیوانے ہورہے ہیں۔ یہ نوجوان طبقہ شاید بی جے پی سے اتنا نہ جڑا ہو لیکن نریندر مودی سے جڑتا ضرور آرہا ہے۔ بھوپال ریلی میں سینئرلیڈر ایل۔کے۔ اڈوانی شیوراج سنگھ چوہان، راجناتھ سنگھ و دیگر بی جے پی کے لیڈرشاید پہلی بار اتنی تعداد میں اسٹیج پر موجودتھے۔ اس سے پہلے دو تین باتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اس سے پارٹی میں اتحاد کا اشارہ ملتا ہے۔ سارے اختلافات کے باوجود سب کا اکٹھا ہونا پارٹی کے لئے ضروری ہے۔ دوسری بات جیسا اڈوانی چاہتے تھے کے ان ریاستوں کا چناؤ ان وزرائے اعلی کی وہاں کی سرکار (مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ) کی کارکردگی پرلڑا جائے نہ کے مودی کی مقبولیت کے بل پر۔وہ بھی پورا ہوتا دکھائی پڑا۔ نریندر مودی نے شیوراج سنگھ چوہان کی جم کر تعریف کی۔ یہ بحث بھی ختم ہوگئی کے بی جے پی میں تو وزیر اعظم کی امیدواری کے لئے دوڑ لگی ہے اور پارٹی میں اتحاد نہیں ہے۔ اب نہ تو کوئی دوسری لائن کا لیڈر رہا اور نہ پہلی لائن کا۔ مودی اتفاق رائے سے بی جے پی کے ’پی ایم ان ویٹنگ‘ بنائے گئے ہیں۔ سب سے بڑا فرق مودی فیکٹر کا یہ ہے کہ پہلے اتنے نامناسب حالات کے باوجود جنتا بی جے پی کو کانگریس کا پائیدار متبادل نہیں مانتی تھی اور کہتی تھی کے اس پارٹی میں نیتاؤں میں اتحاد نہیں ہے۔جو پارٹی متحد نہیں ہوسکتی اور اس کے نیتا وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں لگے ہوں وہ دیش کو کیا چلائے گی۔ اب اس طرح کی دلیلوں اور شش و پنج کا دور بھی ختم ہوگیا ہے۔ اور اب جنتا بھی بی جے پی کو کانگریس کا متبادل ماننے لگی ہے۔ مودی کے وزیر اعظم کے امیدوار بننے کے بعد بی جے پی کا یہ سب سے بڑا پبلک شو رہا۔ قریب پانچ لاکھ لوگوں کی بھیڑ کے سامنے بی جے پی کی سینئر لیڈر شپ ایک اسٹیج پرتھی۔
اسٹیج پر موجود لال کرشن اڈوانی شروع میں تو تھوڑے کھنچے کھنچے نظر آئے لیکن بعد میں نہ صرف انہوں نے اچھی تقریر کے لئے مودی کی طرف ہاتھ بڑھا کر مبارکباد دی بلکہ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہونا بھی احساس دلاتے ہوئے مودی کا ہاتھ ہلا کر ایکتا کا واضح اشارہ دیا۔ مودی نے اپنی تقریر میں نوجوانوں کی سطح سے ہی کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کی اپیل کی۔ مہاتما گاندھی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ بھاجپا ورکر بابائے قوم کا خواب پورا کرے۔ شیو راج سنگھ سرکار کی تعریف کرتے ہوئے مودی نے کہا بھاجپا کے حق میں دیش میں ہوا چل رہی ہے۔ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان کے اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی یقینی ہے اس لئے ورکروں کو بے رہی ہوا کو اپنے حق میں لاکر ووٹنگ مشین تک پہنچانا ہوگا۔ یوپی اے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کانگریس پر الزام لگایا کہ عام چناؤ میں کانگریس نہیں سی بی آئی چناؤ لڑے گی۔ مودی نے دعوی کیا کانگریس پارٹی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اورراجستھان اور دہلی میں لوک سبھا چناؤ میں امیدوار کے طور پر سی بی آئی کو میدان میں اتارے گی۔ لال کرشن اڈوانی نے گاؤں تک بجلی پہنچانے کے لئے مودی ۔ شیوراج رمن سرکار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا گجرات ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی بھاجپا سرکاروں نے شاندار کام کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ مرکز میں اگر دم ہے تو وہ سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کے یہاں بھی چھاپے پڑوائے۔ جن کو اقتدار کے ذریعے غلط طریقے سے فائدہ پہنچایا گیا۔ شیوراج نے کہا جلد ہی کانگریس کے پاپ کی لنکا جل کرراکھ ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

درگا شکتی ناگپال نے اکھلیش سرکار کو تھوک چاٹنے پر مجبور کیا!

آخر کار ایس ڈی ایم درگا شکتی کو شکتی مل گئی۔ اکھلیش یادو سرکار کو تھوک کر چاٹنا پڑا۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے درگا شکتی ناگپال کی معطلی واپس لیتے ہوئے ان کی بحالی کردی۔ ایس ڈی ایم صدر کے عہدے پر رہتے ہوئے درگا کو 27 جولائی کو معطل کیا گیا تھا۔ حالانکہ سرکار کا کہنا تھا کھادل پور میں واقع ایک مذہبی عبادتگاہ کی دیوار گرانے کے معاملے میں انہیں معطل کیا گیا لیکن مانا جارہا تھا کے ریت مافیا کے دباؤمیں درگا کی معطلی کی گئی تھی۔ یہ ہی وجہ رہی کے نہ صرف مقامی سطح پر ریاستی سرکار کو اس کی مخالفت جھیلنی پڑی بلکہ قومی سطح پر بھی سپا کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ درگا پنجاب کیڈر کی آئی ایس افسر ہیں اور بعد میں انہوں نے یوپی کیڈر لے لیا اس لئے پنجاب سرکار نے انہیں اپنے یہاں لینے کی پیشکش کی تھی۔ یہ ہی نہیں آئی ایس ایسوسی ایشن بھی درگا شکتی ناگپال کی حمایت میں ریاستی حکومت کے سامنے آ گئی تھی۔ نہ صر سیاسی اور سماجی تنظیمی سطح پر اس کا معاملہ اٹھابلکہ سپریم کورٹ تک پہنچایا گیا۔ ایک طرف جہاں درگا کی معطلی کی مخالفت ہورہی تھی وہیں سپا اپنی ضد پر اڑی تھی۔ سپا نیتا یوپی ایگرو کے چیئرمین نریندربھاٹی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مذہبی مقام کی دیوار گرنے پر 41 منٹ میں انہوں نے درگا کو معطل کردیا تھا۔ درگا کو لیکر اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ روی کانت سنگھ کے ذریعے بھیجی گئی رپورٹ راس نہ آنے پر اکھلیش سرکار کے نشانے پر وہ بھی آگئے۔ درگا کی معطلی کے ٹھیک ایک ماہ بعد27 اگست کو کمارروی کانت کا تبادلہ کردیاگیا۔ درگا کی مخالفت میں نہ صرف مقامی سپا نیتا بولے بلکہ قد آور وزیر اعظم خاں ، شیو پال یادو اور وزیر اعلی بھی مخالف تھے۔ اپریل میں ایس ڈی ایم صدر کے طور پر تعیناتی کے بعد درگا نے 27 جولائی تک غیرقانونی کھدائی کے الزام میں 297 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی۔ تعیناتی کے دوران اپنے عہد میں ناجائز کھدائی کرنے والوں سے 82.5 لاکھ محصول بھی وصولا جو ان کی معطلی کا سبب بنا۔ درگا نے یوپی سرکار کی پول کھول دی۔
ریاست میں سرگرم کھان مافیا کئی سال تک درگا شکتی کو یادکرے گا۔ ان کی معطلی کے بعد ہی ریاستی سرکار نے سبھی ضلعوں میں ناجائز کھدائی کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دئے۔ نوئیڈا گریٹر نوئیڈا میں تو معطلی کے بعد اچانک پولیس کی سرگرمی بڑھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے 20 سے زیادہ ڈمپر تھانے میں دکھائی دینے لگے۔ یمنا ندی ہویا ہنڈن اس کے کنارے بسے گاؤں میں چل رہی ناجائز ریت کی سپلائی ختم کرنے کیلئے پولیس افسران کو خود کھادر میں اترنا پڑا۔ بھاجپا ضلع پردھان ہریش ٹھاکر نے کہا اکھلیش سرکار نے درگا شکتی ناگپال کی معطلی غلط کی تھی اور معطلی واپس لیکر حکومت نے اپنی بھول سدھاری ہے۔ آئی ایس ریٹائرڈ گنیش شنکر ترپاٹھی کا کہنا ہے درگا شکتی کو جس معاملے میں معطل کیا گیا تھا اصل میں وہ اشو نہیں تھا۔ اس کو سیاسی طول دینے سے واویلا کھڑا ہوا۔ ان کی بحالی تو پہلے سے طے تھی۔ چارج شیٹ داخل ہونے میں وقت لگتا ہے ۔دیر سے ہی صحیح مگر سرکار نے صحیح فیصلہ کیا ہے۔
(انل نریندر)

26 ستمبر 2013

15 ہزار کروڑخرچ والی اسکیم ’’آدھار کارڈ ‘‘پر سوالیہ نشان؟

آدھار کارڈ سرکاری فائدہ اسکیم کا فائدہ پہنچانے کے لئے ضروری نہیں ہے۔ بصد احترام سپریم کورٹ نے پیر کو یہ حکم دیا۔ اس سے سرکار کو سبھی لوگوں کو آدھار نمبر دینے کی اسکیم کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ جسٹس جی ۔ایس۔ چوہان اے ایس بوپ ڈے کی ڈویژن بنچ نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کے کسی ناجائز شہری کو نہ ملے۔بنچ کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ایس۔ کے بدھا سوامی کی مفاد عامہ کی عرضی پر غور کررہی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو خاص پہچان نمبر یو آئی ڈی دینے کی آدھار اسکیم غیر آئینی ہے کیونکہ اس کے بارے میں اب تک کوئی قانون نہیں بنا۔ عرضی کے مطابق سرکار بھلے ہی یہ کہہ رہی ہو کہ آدھار کارڈ بنوانا آپ کی خواہش پر ہے چاہے تو اسے بنوائیں نہ بنوائیں مگر جس طرح سے اسے اسکیموں کا فائدہ لینے کے لئے ضروری بتایا جارہا ہے اس سے آدھار کا دعوی جھوٹا ثابت ہورہا ہے۔ لوگ کئی کئی گھنٹے لائن میں لگ کر آدھار نمبر حاصل کررہے ہیں۔ لوگوں کو یہ ڈر ہے کہ کہیں یہ نمبر نہ ہونے کے سبب انہیں اسکیم سے محروم نہ کردیا جائے؟ دیش میں ناجائز طور سے گھسے لوگوں کو بھی پہچان نمبر دیا جارہا ہے۔ قومی سکیورٹی کے لئے یہ سنگین خطرہ ہے۔ عرضی گزار نے کہا کہ آدھار نمبر لینے والوں سے ان کی شخصی معلومات مانگی جارہی ہیں۔ ان میں انگلیوں کے نشانے اور آنکھ کی پتلی کے بایومیٹرک پرنٹ لئے جارہے ہیں۔ ایسے پرنٹ لینا پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ ان پرنٹ کا بیجا استعمال نہیں ہوگا یا یہ سرکار کے پاس محفوظ رہیں گے اس بارے میں کوئی سسٹم سزا یا قانون نہیں ہے۔ جلد بازی میں سرکاری آرڈیننس سے آدھار لاگو کرنے کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا ہے۔سپریم کورٹ کے حکم سے لوگوں میں الجھن کی پوزیشن بن گئی ہے۔ آدھار اسکیم کولیکر پہلے دن سے ہی سوال اٹھتے رہے ہیں۔
کئی سطح پر افسروں نے کہا تھا کہ ضرورتمندوں کو دئے جانے والی ادائیگی یا سہولت کو آدھا کارڈ کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہئے۔ اس طرح کی تجاویز کی وجہ سے سرکار نے ڈائریکٹر بینیفٹ اسکیم یا کسی اور معاملے میں آدھار کارڈ کو ضروری نہیں کیا لیکن بغیر اس کے فائدہ حاصل کرنے والوں کے بینک آکاؤنٹ سے لیکر رسوئی گیس اور دوسرے کنکشن لینے تک کو آدھار کے ساتھ جوڑدیا گیا۔ لہٰذا جہاں ڈی بی ٹی اسکیم کا فائدہ ملنے لگا ہے وہاں غذائی گارنٹی کے تحت 2-3 روپے کلو میں اناج دیا جانا ہے وہاں سبھی جگہ ابھی تک آدھار کارڈ کو ہی بنیاد مانا گیا ہے۔ جو بات اب سپریم کورٹ نے کہی وہی بات لوک سبھا کی اسٹینڈنگ کمیٹی پچھلے تین سال سے مسلسل کہہ رہی تھی کے بغیر قانون کے آدھار کارڈ بنوانا غیر قانونی ہے لیکن سرکار نے اس کی ایک نہ سنی۔قومی آبادی رجسٹر میں نام لکھانا قومی شناختی کارڈ بنانا، ضروری تھا لیکن سرکار نے این پی آر کو کم اور نندن نلوک منی کی سربراہی والی یو آئی ڈی اے آئی کو زیادہ توجہ دی۔ اب تک دیش بھر میں 43 کروڑ آدھار کارڈ بن چکے ہیں جس پر قریب 15 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں جبکہ این پی آر بھی یہ ہی کام کررہی ہے۔ این پی آر بنانا قانونی طور پر ضروری ہے۔لیکن وزیر اعلی منموہن سنگھ اس کو لیکر اس اتھارٹی کے چیئرمین کوکیبنٹ کا درجہ دیا ہوا ہے۔ اس لئے مرکزی سرکار قانونی طور سے ضروری سسٹم کو توجہ دینے کے بجائے یوآئی ڈی اے آئی کے لئے تھلے کا منہ کھولتی چلی گئی۔ مرکزی سرکار کی ڈی بی ٹی اسکیم ؔ آدھار کارڈ سے ہی چل رہی ہے۔ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے تین بار (42 ویں ،53 ویں ،65ویں) رپورٹ میں خاص پہچان اتھارٹی بل 2010ء کو واپس لینے اور آدھار کارڈ بنانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی سفارش کی لیکن سرکار نے اس پر توجہ نہیں دی۔ وزارت داخلہ نے آدھار کارڈ اسکیم پر اعتراض کیا تھا اس کا کہنا تھا جو کام این پی آر کررہا ہے وہی کام آدھار بھی کررہا ہے۔ یعنی سرکار کی دو ایجنسی ایک ہی کام کررہی ہیں جس سے اب تک15 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کا کیا قدم ہوگا؟ کیا آدھار کارڈ کی ضرورت نہیں ہے؟ مرکزی سرکار کو اس بات کا بھی جواب دینا ہوگا کہ بغیر ہوم ورک کئے وزیر اعظم نے دیش کا اتنا پیسہ کیوں لگوادیا؟ جنتا میں کنفیوزن ہے مرکزی سرکار پوزیشن صاف کرے۔
(انل نریندر)

پاکستان میں مذہبی تشدد میں اب تک 800 سے زائد اموات!

پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں پر اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے پیچھے ان غیرمسلموں کو ملک سے بھگانا مقصد ہے یا ماردینا۔ ایتوار کو پاکستان کے پیشاور شہر میں ایک تاریخی گرجا گھر پر فدائی حملہ آوروں نے تابڑ توڑ گولیاں چلائیں۔ پیشاور میں واقع سینٹس چرچ میں طالبان کے دو فدائین آتنکیوں کے حملے کے وقت چرچ میں 600-700 لوگ تھے۔ اس حملے کے بعد عیسائیوں نے پاکستان میں جگہ جگہ مظاہرے شروع کردئے ہیں۔ حملے میں عورتیں، بچوں سمیت کم سے کم42 لوگ مارے گئے ۔ 140 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ حملہ اس وقت ہوا جب ایتوار کے معمولاتی دعائیہ کے بعد گرجا گھر سے باہر نکل رہے تھے۔ اسے پاکستان کی تاریخ میں عیسائی فرقے پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ مانا جارہا ہے۔ پیشاور کے کمشنر صاحبزادہ محمدانیس نے بتایا کے تشدد زدہ کوہاری گیٹ ضلع میں واقع قدیم اس گرجا گھر پر حملے سے آس پاس کی عمارتیں بھی تباہ ہوگئیں۔ اقلیتوں پر پاکستان میں مسلسل حملے بڑھ رہے ہیں۔ پیشاور میں 11 ستمبر کو خالصہ نمبرون کے سابق ناظم جان گل کے مکان کے باہر نامعلوم لوگوں نے بم پھینکا تاکہ علاقے میں خوف پیدا ہوجائے اور اقلیتیں علاقہ چھوڑ کر چلی جائیں۔ پیشاور کے علاقے فرنٹیئر کورٹ کی ٹیم پر کار میں بمدھماکے میں18 لوگ مارے گئے تھے اور 146 زخمی ہوئے تھے۔21 جون کو حسینی مدرسے میں دھماکے میں15 لوگ مرے۔ اس سے پہلے22 مئی کو ایک مسجد اور ایک مدرسے پر فدائی حملے میں15 لوگ مرے۔ حملے کے وقت لوگ نماز ادا کررہے تھے۔16 اپریل کو سیاسی جماعت اے این پی کی پیشاور ریلی میں دھماکہ ہوا جس میں16 لوگوں کی جان گئی۔ یہ ہے لہو لہان پیشاور کی داستان۔ پاکستان میں حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخواہ میں طالبان نے بم دھماکہ کرکے پاکستانی فوج کے ایک میجرجنرل اور ایک سینئر افسر سمیت تین فوجیوں کو موت کی نیند سلادیا تھا۔ سڑک کے کنارے لگے آئی ڈی میں ریمورٹ سے دھماکہ کیا گیا۔
اس وقت سوات ڈویژن کے کمانڈر جنرل افسر میجر جنرل ثناء اللہ اور لیفٹیننٹ کرنل کی موت ہوگئی۔ اس دوران امریکہ نے لشکر طیبہ ،القاعدہ اور طالبان کی مدد کے الزام میں نارتھ ویسٹ پاکستان کے پیشاور میں ایک مدرسے کو دہشت گرد تنظیم قراردیا ہے۔ یہ ایسا پہلا مدرسہ ہے جس پرامریکہ نے پابندی عائد کی ہے۔ اس کا سرکاری نام جامیہ تعلیم القرآن ولحدیث ہے۔ اب کوئی بھی امریکی شہری اس مدرسے کے ساتھ کسی طرح کا تعلق نہیں رکھ سکتا۔پاکستان میں پچھلے سال جنوری میں مذہبی فرقوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے 302 حملوں کے معاملوں میں کم سے کم717 لوگوں کی موت ہوگئی اور 1108 لوگ زخمی ہوئے۔ یہ بات امریکی کانگریس کے ذریعے تشکیل مختار کمیشن کی رپورٹ پاکستان مذہبی تشدد پروجیکٹ ،پاکستان ریلیجنس وائلنس پروجیکٹ میں کئی گئی ہے۔ کمیشن پچھلے18 مہینے میں پاکستان میں موجود مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہورہے مبینہ معاملوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد میں شیعہ فرقے کے لوگ شامل ہیں۔
(انل نریندر)

25 ستمبر 2013

وگیان بھون سے نصیحت لینا آسان ہے اسے بنیادی سطح تک لاؤ تم مانیں!

فرقہ وارانہ نفرت دور کرنے کے لئے بلائی گئی قومی ایکتا پریشد کی میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مظفر نگر فسادات کو سیاسی نفع نقصان کے نظریئے سے دیکھنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور ساتھ ہی کہا فساد کرنے یا پھیلانے والوں پر سخت کارروائی ہو، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کا کیوں نہ ہو۔ کشتواڑ، مظفر نگر، نوادہ میں فرقہ وارانہ فسادات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکاروں کو ایسے واقعات سے سختی سے نمٹنا چاہئے اور بھی بہت کچھ کہا۔ وگیان بھون میں بلائی گئی قومی ایکتا پریشد کی میٹنگ میں تقریر کرنے میں اور اصلیت میں بہت فرق ہے۔ وزیر اعظم نے جوکہا اس سے سبھی متفق ہوں گے اور ہونا بھی چاہئے لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہورہا ہے؟ ہم وزیر اعظم سے بھی پوچھتے ہیں کہ آج پورے دیش میں فرقہ وارانہ شورش کیلئے ذمہ دار کون ہے؟ کیا مرکزی حکومت اور اس کی خوش آمدی اور ووٹ بینک کی سیاست اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہے؟ جب تک مرکزی حکومت یہ کہے کہ دیش کے وسائل پر طبق�ۂ خاص کا پہلا حق ہے ان کو بڑھاوا دینے کے لئے مختلف اسکیمیں چلائی جائیں، ان کی پڑھائی کے لئے خاص سہولیات دی جائیں تو دیش کے باقی طبقے کیا سمجھیں گے؟ مسئلہ تو یہ ہے کہ مرکزی سرکار دوہرے پیمانے اپناتی ہے۔ اگر کانگریس حکمراں ریاستوں میں مثال کے طور پر آسام میں ہندو مسلم فساد ہو تو وزیر اعلی ترون گگوئی اس کے لئے نہ تو ذمہ دار مانے جاتے ہیں اور نہ ان سے کوئی سوال جواب ہوتا ہے۔ اگر راجستھان کے بھرت پور میں ایک مذہبی عبادتگاہ میں گھس پر طبق�ۂ خاص کے لوگوں کو مار دیتے ہیں تو وزیر اعظم وہاں کے کانگریسی وزیراعلی سے کوئی سوال جواب نہیں کرتے لیکن 2002ء کے گجرات فسادات پر آج بھی نریندرمودی کو لپیٹنے سے باز نہیں آتے۔ گجرات فساد کو تو 11 سال گزر چکے ہیں لیکن وزیر اعظم صاحب نے حال ہی میں ہوئے مظفر نگر فسادات پر کونسا سپا سرکار یا وزیر اعلی اکھلیش یادو سے سوال جواب کئے ہیں؟ اترپردیش میں جب سے اکھلیش یادو کی سرکار آئی ہے تب سے اب تک 105 فرقہ وارانہ فسادات اور 35 خونی جھگڑے ہوچکے ہیں۔ اب تک یوپی کی تاریخ میں تین بار فوج بلائی گئی ہے اور تینوں بار سپا ہی کی حکومت تھی لیکن وزیر اعظم نے کبھی بھی اپنا منہ نہیں کھولا۔شاید اس لئے کیونکہ انہیں پارلیمنٹ میں بل پاس کروانے ہیں۔کراس ووٹنگ کی صورت میں سماجودا ی پارٹی کے ووٹ چاہئے تھے۔ قومی ایکتا پریشد کی میٹنگ محض رسم ادائیگی بن کر رہ گئی۔ اس میٹنگ میں سوائے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ایسی میٹنگیں تب تک بے نتیجہ رہیں گی جب تک بڑی اپوزیشن پارٹیاں سیکولرزم کی منمانی تشریح کرتی رہیں گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ سیکولرزم کی منمانی تشریح ہی نہیں کی جارہی ہے بلکہ اس کی بنیاد پر پالیسیاں بھی بنائی جارہی ہیں۔وزیراعظم نے بھاجپا وزرائے اعلی کو تو نصیحت کر ڈالی لیکن اترپردیش کی اکھلیش سرکار کو کچھ نہیں کہا؟ مظفر نگر میں پہلے سیاست ہوئی اور پھر اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے فرقہ وارانہ فساد بھڑکائے گئے۔ آج تمام مسلمان نہ تو کانگریس کی حمایت کررہے ہیں اور نہ ہی سماجوادی پارٹی کی۔ کیونکہ وہ مان کر چل رہے ہیں سپا سرکار نے مرکز کی سرپرستی میں فساد کروایا اور پھر مسلمانوں کو حفاظت دینے میں ناکام رہی۔ سنئے دیش میں بڑی مسلم تنظیم جمعیت العلمائے ہند کے سکریٹری جنرل مولانا محمود مدنی کیا فرماتے ہیں؟ مولانا مدنی نے مظفر نگر اور آس پاس کے علاقوں میں پچھلے دنوں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات کو 2002ء کے گجرات دنگوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں عام جنتا اکھلیش یادو سرکار سے ناراض ہے اور اس نے آنے والے لوک سبھا چناؤ نتیجوں پر اس کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔جس طرح سے مظفر نگر میں فسادات کو انجام دیا گیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اس میں اور گجرات کے فسادات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ سبھی کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ الزام تراشی اور ایک طرفہ سیکولرزم کے فریم میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا جو کام ہورہا ہے اس سے اگر سیکولرزم کے بہانے کسی ایک طبقے کی خوش آمدی ہوگی تو دوسرے طبقے کا دور چلے جانا فطری ہے۔ اگر اقلیتوں کی خوش آمدی اور ووٹ بینک کارڈ کھیلا جائے گا تو پھر کوئی نہ کوئی اکثریتی طبقے کی خوش آمدی کے لئے آگے آئے گا۔ ضروری ہے سب سے پہلے سیکولرزم کی ایک سب کو قابل قبول تشریح ہونی چاہئے۔
(انل نریندر)

کیا بابا رام دیو کو ریڈ الرٹ کے سبب لندن میں روکا گیا؟

یوگ گورو بابا رام دیو کو لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر روکنے اور پوچھ تاچھ کی وجہ سے ابھی تک صاف نہیں ہوا کہ بابا رام دیو کو روک کر ان سے امیگریشن اور کسٹم حکام نے 6 گھنٹے سے زیادہ پوچھ تاچھ کیوں کی تھی؟ اگلے دن سنیچر کو بھی پوچھ تاچھ کا سلسلہ جاری رہا۔ سنیچروار کو بابا اپنے ایک برطانوی ایم پی کے ساتھ ہوائی اڈے پوچھ تاچھ کے لئے پہنچے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہی انہیں جانے کو کہہ دیا گیا۔ دو دن کی اس پوچھ گچھ میں ابھی تک تفصیل سامنے نہیں آ سکی کہ اس کا کیا مقصد تھا؟ ذرائع کے مطابق رام دیو سے دوسرے دن ویزا کے بارے میں سوال کئے گئے تھے۔ موضوع تھا ٹورسٹ ویزا یا بزنس ویزا۔ حالانکہ پوچھ تاچھ کے اسباب کو لیکر الگ الگ دعوے کئے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے رام دیو نے بھی کہا کہ انہیں پوچھ تاچھ کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران بھارت سرکار سے ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ بابا نے الزام لگایا کے ان کے خلاف ریڈ الرٹ جاری کر برطانوی حکام کو گمراہ کیا گیا تھا۔ بابا نے دعوی کیا کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں شامل نہیں ، نہ ہی کوئی غلط کام کیا۔ بابا نے کہا انہوں نے کسٹم حکام سے مسلسل اس پوچھ تاچھ کی وجہ جاننی چاہی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ وہ صرف یہ کہتے رہے کے اس کے بارے میں ابھی نہیں بتایا جاسکتا۔بابا رام دیو کو اس طرح گھنٹوں روکنا ٹھیک نہیں ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارت سرکار نے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا؟ ریڈ الرٹ تو عام طور پر خطرناک مجرموں کے خلاف جاری ہوتا ہے ؟ یا پھر برطانوی حکام نے بابا اپنے ساتھ اگرکچھ دوائیں لے جارہے تھے اس پراعتراض کیا ہے؟ رام دیو نے الزام لگایا کے پورے معاملے میں انہیں بھارت سرکار کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔ ہوائی اڈے کے باہر اخبار نویسوں سے بات چیت کے دوران رام دیو نے کہا پوچھ تاچھ کے دوران مجھے بتایا گیا کہ میرے نام کو لیکر ریڈ الرٹ جاری ہوا ہے جبکہ ایسا الرٹ آتنکیوں یا مجرموں کے لئے جاری کیا جاتا ہے۔ میں مفصل تفصیل کا انتظار کرنا چاہوں گا لیکن مجھے شک ہے کہ بھارت سرکار نے برطانوی امیگریشن حکام کو گمراہ کیا ہے۔ پورے معاملے میں بی جے پی نے اعتراض جتایا ہے۔ پارٹی صدر راجناتھ سنگھ نے اس معاملے کو بیحد سنگین قراردیا ہے اور کہا مرکزی سرکار کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ نئی دہلی میں میڈیا سے انہوں نے کہا یوگ گورو کو روکنے کی وجہ کے بارے میں پتہ نہیں چل پایا لیکن جہاں تک مجھے جانکاری ہے بابا کے پاس ایک ایسی ڈائری تھی جس میں منتر لکھے تھے اور ان منتروں کی وجہ سے انہیں روکا گیا تھا۔ یہ ڈائری ضبط کر لی گئی ہے۔ انہیں سنیچر کو دوبارہ پوچھ تاچھ کے لئے بلایاگیا۔ بہرحال گرفتاری کی وجہ کا کوئی پتہ نہیں لگ سکا۔ پتنجلی یوگ پیٹھ کے سوامی وویکانند کی 120 ویں جینتی پر لندن میں ایک تقریب کا انعقاد ہورہا ہے۔ اسی تقریب میں حصہ لینے کے لئے رام دیو لندن گئے ہیں۔ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ بابا بزنس ویزا یا وزٹ ویزا پر آئے تھے اور ان کے پاس کچھ دوائیاں بھی تھیں اس وجہ سے ان سے پوچھ تاچھ ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

24 ستمبر 2013

ممبئی 26/11 کی طرز پرنیروبی میں غیر مسلموں پر آتنکی حملہ!

سنیچر کو کینیا کی راجدھانی نیروبی کے ایک شاپنگ مال میں ایک زبردست دہشت گرد حملہ ہوا جو اب تک جاری ہے۔ اس حملے نے ہمیں ممبئی26/11 حملے کی یاد تازہ کرادی ہے۔ اسی طرز پر اس حملے میں القاعدہ حمایتی صومالی دہشت گردوں نے غیر ملکیوں اور سفارتکاروں کے درمیان مقبول ترین ویسٹ گیٹ سینٹر مال پر 26/11 حملے کی طرز پر دستی بم پھینکتے ہوئے اے۔کے47 سے اندھادھند گولیاں برسائیں۔ جس میں 72 لوگوں کی موت ہونے کی خبر ہے۔ قریب 200 لوگ اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں ان میں چار ہندوستانی ہیں۔ بھیڑ بھرے مال میں داخل ہوئے دہشت گردوں نے وہاں لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔ چونکہ یہ مال یہودیوں کا ہے اور یہاں پر بہت سے یہودی غیر ملکی نژاد لوگ جاتے ہیں اس لئے اسرائیلی فوج بھی وہاں پہنچ چکی ہے اورکینیا کے فوجیوں کے ساتھ مال سینٹر کو بحال کرانے کے لئے مورچہ سنبھالا ہوا ہے۔ قریب ایک ہزار لوگوں کو محفوظ طریقے سے نکال لیاگیا ہے۔ تادم تحریر 49 لوگ لا پتہ بتائے جاتے ہیں۔ نیروبی میں 1998ء کے بعد سب سے خوفناک حملہ ہے۔ چشم دید کے مطابق صومالیہ اسلامی انتہا پسند تنظیم الشباب کے 10سے 15 دہشت گردوں نے اپنے چہرے پر کالے نقاب ڈھنکے ہوئے تھے اور مال میں داخل ہوتے ہیں انہوں نے لوگوں سے ان کا تعارف حاصل کیا اور کہا کہ مال کے اندر موجود مسلمان ایک طرف ہوجائیں ہم صرف غیر مسلموں کو مارنے آئے ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کو مال سے چلے جانے کو کہا۔ باقی بچے لوگوں پر تابڑ توڑ گولیاں برسانی شروع کردیں۔ حملے میں 72 لوگ مارے گئے ہیں اور200 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ امریکہ ،برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کے شہری اس حملے کا شکار بتائے جارہے ہیں۔ یہ اطلاع دیتے ہوئے کینیا کے وزیر داخلہ جوزف اولے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج مال کے اندر داخل ہوچکی ہے لیکن دہشت گردوں نے کئی لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج انہیں بچانے کے لئے ان سے لوہا لے رہی ہے۔اس مال کو نشانہ اس لئے بنایا گیا کیونکہ یہ اسرائیلی بالادستی والا مال ہے۔ یہاں اکثر غیر ملکی لوگ آتے ہیں۔ مرنے والوں میں دو کینیائی ،فرانسیسی اور ایک جنوبی کوریا کے شہری کے مرنے کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔ صومالیائی کٹر پسند باغی گروپ الشباب نے حملے کی ذمہ داری لی ہے جس میں خاص طور سے غیرمسلموں کو نشانہ بنایاگیا۔حملے میں مرنے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ پہنچنے کی امید ہے۔ مرنے والے ہندوستانیوں میں ایک 8 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے بتایا کے حملے میں تاملناڈو کے باشندے 40 سالہ سری دھر نٹراجن اور بینک آف بڑودہ شاخ کے منیجر کا 8 سالہ بچہ پرمانشو جین ہے۔ اسلام آباد سے ملی خبر کے مطابق مال پر حملہ کرنے والے الشباب کو سکیورٹی اور ٹریننگ معاملوں کے سرغنہ پاکستانی شخص کو اس کارروائی کا ماسٹر مائنڈ مانا جارہا ہے۔ دلان وال جنرل نے اپنی2010ء کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ پاکستانی شہری ابو موسیٰ موباسا شباکا سکیورٹی اور ٹریننگ چیف ہے۔اس حملے نے بیرون ممالک میں بسے ہندوستانیوں کی سلامتی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔بھارت سرکار کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگی۔
(انل نریندر)

مظفر نگر فساد میں ہوئی گرفتاریوں پر اٹھے کچھ ضروری سوال؟

مظفر نگر فسادات کے معاملے میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اشتعال انگیز تقریریں کرنے کے الزام میں بھاجپا ممبر اسمبلی سنگیت سوم ،بی ایس پی ایم ایل اے نور سلیم رانا کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ نور سلیم کو لکھنؤ میں ایک دن پہلے گرفتار کیا گیا اور بھاجپا کے سریش رانا کو گہری سکیورٹی میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے سبھی ملزمان کو14 دن کی جوڈیشیل ریمانڈ میں جیل بھیج دیا ہے۔ ان کی ضمانت پر 23-24 ستمبرکو سماعت ہوگی۔سنگیت سوم میرٹھ سردھنہ حلقے اور نور سلیم رانا مظفر نگر کے چرٹھاول اسمبلی حلقے سے ممبر اسمبلی ہیں۔ سوم پر کوال گاؤں میں مبینہ طور پر ویڈیو سی ڈی جاری کرنے کے ساتھ اشتعال انگریز تقریریں کرنے کا بھی الزام ہے جبکہ نور سلیم پر مظفر نگر کے چرٹھاول میں بھڑکاؤ تقریریں کرنے کا الزام ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ آج تک اسٹنگ آپریشن میں اعظم خاں کا نام آنے کے باوجود نہ تو وہ ملزم بنائے گئے اور نہ ہی کوئی کارروائی ہورہی ہے۔ جن16 لیڈروں کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کئے گئے تھے ان میں سے4 بھاجپا کے ایم ایل اے ہیں جن پر فساد بھڑکانے کا الزام ہے۔ان میں کانگریس کے نیتا بھی ہیں جبکہ ایک سپا کے نیتا کا نام نہیں ہے۔ ودھان منڈل کا مانسون اجلاس ختم ہوتے ہیں مظفر نگر فسادات میں گرفتاریاں شروع ہوگئی ہیں لیکن بھاجپا کے لیڈروں کی گرفتاری تو ہوئی مگر کارروائی ایک طرفہ چل رہی ہے۔ اس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔اول تو گرفتاریاں پہلے ہونی چاہئیں تھیں اور ہوئیں بھی تو صرف ایک طرفہ گرفتاریوں کا کیا مطلب ہے؟ پولیس مظفر نگر فسادات میں درج کی گئی دو اہم ایف آئی آر پر گرفتاریاں کر رہی ہے۔پہلی ایف آئی آر 30 اگست کو ہوئی جس میں بسپا کے ایم پی اور دو ممبران اسمبلی سمیت 1 درجن لیڈر نامزد ہوئے ہیں جبکہ دوسری ایف آئی آر7 ستمبر کو ہوئی مہا پنچایت کے سلسلے میں کی گئی ہے۔ اول تو پولیس نے الٹی گنتی شروع کی اور ایف آئی آر بعد میں درج کی جس میں بھاجپا کے نیتا نامزد ہیں۔ ان کی گرفتاریاں شروع ہوئی ہیں۔ اب سوال یہ ہے پہلی ایف آئی آر میں درج بسپا نیتاؤں کی گرفتاریاں ساتھ ساتھ کیوں نہیں ہوئیں؟ کیا ویسے ہی گھیرا بندی بسپا نیتا کے خلاف درج ایف آئی آر میں گرفتاریوں کے لئے کی گئی ہے؟ سوال یہ ہے اگر کی گئی تو صرف ممبر اسمبلی نور سلیم ہی کیوں گرفتار ہوئے؟ پولیس نے پہلے ہی ایک ایف آئی آر میں درج کانگریس کے سابق ایم پی سعیدالزماں اور ان کے بیٹے سلمان اور کانگریس لیڈر نوشاد قریشی و احسان قریشی کی گرفتاریاں کیوں نہیں ہوئیں؟ ان کے خلاف بھی عدالتی وارنٹ ہے کیا کوال سانحہ کے بعد پکڑے گئے چاروں ملزمان جنہیں تھانے سے چھڑادیا گیا اب تک پولیس نے انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا،کیا وہ فرار ہیں؟ مہا پنچایت بلانے والی بھارتیہ کسان یونین کے لیڈروں میں سے کتنے لوگوں کی گرفتاریاں ہوئیں؟ فی الحال پولیس کے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔ مظفر نگر میں 30 اگست کو ہوئی مہا پنچایت کے اسٹیج پر موجود سپا کے کچھ عہدیداران کو کیوں بخش دیا گیا؟ بھاجپا نیتاؤں کا الزام ہے کہ انہیں نامزد بھی نہیں کیاگیا۔ آخر یہ امتیاز کیوں؟ یقین مانئے کے ابھی بھی مظفر نگر علاقے میں معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ ایک چھوٹی سی چنگاری پھر بھڑکا سکتی ہے تشدد۔ جب تک پوری غیر جانبدارانہ کارروائی نہیں ہوگی دنگا شانت نہیں ہوگا۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...