Translater

11 مارچ 2017

بھارت میں اسلامک اسٹیٹ کا نیا خطرہ

مدھیہ پردیش میں بھوپال، اجین پیسنجر گاڑی میں ہوئے دھماکہ کے بعد جس ڈھنگ سے آئی ایس کا جال سامنے آرہا ہے وہ نہ صرف بہت خوفناک ہے بلکہ اس سے یہ بھی صاف ہے کہ اب غیر محفوظ ریل سفر ہی نہیں بلکہ کم و بیش پورا دیش ہے۔ واردات کے فوراً بعد اس دھماکہ کو جس طرح آئی ایس کے ذریعے کرایاگیا وہ فی الحال جلد بازی کا زیادہ نمونہ لگتا ہے۔ اس معاملے میں پوری سچائی تو خیر مشترکہ جانچ پڑتال کے بعد ہی سامنے آئے گی۔یوں تو اترپردیش کے کچھ حصوں میں نوجوانوں پر آئی ایس کے دباؤ کا اندیشہ پہلے سے ہی جتایا جارہا ہے۔کچھ نوجوانوں کے دوسرے ملکوں میں جاکر آئی ایس میں شامل ہونے کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔حملہ ہوا مدھیہ پردیش میں اور دہشت گرد نکل رہے ہیں اترپردیش سے۔ جس ڈھنگ سے اس حملہ کے ماسٹر مائنڈ مانے جانے والے سیف اللہ سے اترپردیش پولیس کو قریب 11 گھنٹے تک لوہا لینا پڑا اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دہشت گردی کے واقعات کے لئے کافی ٹریننگ پا چکے ہیں۔جہادی آئیڈیالوجی کے تئیں ان کی سپردگی دیکھئے پولیس نے حتی الامکان کوشش کی کے اسے زندہ پکڑ لیا جائے لیکن اس نے کہا کہ وہ شہید ہونا چاہتا ہے اور وہی ہوا۔ راجدھانی لکھنؤ کی حاجی کالونی میں ہوئی مڈ بھیڑ میں مارے گئے مشتبہ دہشت گرد سیف اللہ نے ساتھیوں کے ساتھ امام باڑہ سمیت شہر کی کئی درگاہوں کو دہلانے کی سازش رچی تھی۔ اس کے نشانے پر بارہ بنکی کی دیوا شریف درگاہ بھی تھی۔ سیف اللہ اور کانپور سے پکڑے گئے دو ساتھی دیوا شریف میں 27 مارچ کو عرس میلہ میں جمع ہونے والی بھیڑ کو نشانہ بنانے کی سازش رچ رہے تھے۔ یہ انکشاف دونوں گرفتار مشتبہ دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ اور سیف اللہ کے پاس سے برآمد سامان سے ہوا ہے۔ لکھنؤ میں اے ٹی ایس کے گھیرے میں آئے اور کانپور میں گرفتار دہشت گردوں کے تار آئی ایس سے جڑے ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق آئی ایس سے جڑے اسی آتنکی گروپ نے منگلوار کی صبح مدھیہ پردیش کے راجا پور ضلع میں ٹرین میں دھماکہ کیا تھا اور تلنگانہ پولیس نے اس دہشت گرد کی پہچان کر اترپردیش پولیس کوجانکاری دی اور اس کے بعد دہشت گردوں کی دھڑ پکڑ شروع ہوئی۔ تلنگانہ پولیس کی اطلاع پر اس سے پہلے بھی آئی ایس کے کئی آتنکی موڈیول کو تباہ کرچکا ہے۔ سینئر افسر نے بتایا کہ آئی ایس کے اس آتنکی گروپ کا سرغنہ القاسم ہے جو کانپور کا رہنے والا ہے۔ بھوپال۔ اجین پیسنجر ٹرین میں دھماکہ کرنے والی آتنکی تنظیم کا آئی ایس سے وابستگی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ موقعہ واردات کی فوٹو اس نے شام کو بھیجے ہیں۔ انکاؤنٹر میں ڈھیر ہوئے سیف اللہ کے کمرے سے منگیر کی بنی 32 کور کی 8 پستولیں ،636 کارتوس،32 بور کے 71 کھوکھے برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ45 گرام سونا، 3 موبائل فون، مختلف بینکوں کی چیک بک، اے ٹی ایم کارڈ، پین کارڈ اور عتیق و دانش سیف اللہ کے پاسپورٹ اور ایک بائیک برآمد کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ڈیڑھ لاکھ روپے اور کچھ سعودی ریال بھی برآمد ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سیف اللہ کچھ دن پہلے سعودی عرب عمرہ کرنے گیا تھا۔ کچھ لوگ جو یہ کہتے تھکتے نہیں آتنکی ایک گروپ کے کیوں ہوتے ہیں، یا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پہلے یہ تو ثابت کرو کہ سیف اللہ آتنک وادی بنا، ان کے منہ پر سیف اللہ کے والد نے کرارا طمانچہ مارا ہے۔ آتنکی سیف اللہ کے والد سرتاج جومؤ کے منوہر نگر میں رہتے ہیں نے اپنے بیٹے کے بارے میں کہا کہ جو دیش کا نہیں وہ میرا بیٹا نہیں ہوسکتا۔ اسے یہی سزا ملنی چاہئے تھے۔ سیف اللہ کے دو بھائیوں نے بھی لاش کو سپرد خاک کرنے سے منع کردیا۔ جتنی تعداد میں مشتبہ آتنکی پکڑے جارہے ہیں ان کے پاس سے جو سامان برآمد ہورہے ہیں ان کا یہی نتیجہ ہے کہ آئی ایس سے متاثرہ دہشت گردوں نے ہمارے دیش میں نہ صرف تنظیم کی جڑیں مضبوط کرلی ہیں بلکہ بہت سے حملوں کی سازش بھی رچ چکے ہیں۔ پچھلے مہینے ہی گجرات کے راجکوٹ سے آئی ایس کے دو ’لون وولف ‘ آتنک وادی پکڑے گئے تھے یہ لوگ آئی ایس خراسن نام کی جس تنظیم کے تحت کام کررہے تھے اس کافروغ ان کچھ دہشت گردوں تک محدودنہیں ہوسکتا۔ آئی ایس نے پوری دنیا میں اپنی اسلامی سلطنت کا جو نقشہ شائع کیا ہے اس میں اس نے اس علاقے کا نام بھی خراسن دیا ہے ۔بدقسمتی سے آئی ایس جیسی خونخوار تنظیم آتنک کے راستے پر لے جانے والے تمام مواد انٹر نیٹ پر موجود ہیں اور یہ کارنامہ جہادی مواد بم اور بارود بنانا سکھانے سے زیادہ آتنکی تنظیم کے راستے پر لے جانے والے آئیڈیا لوجی سے نوجوان متاثر ہورہے ہیں۔ تشویشناک بات تو یہ بھی ہے کہ اب بڑی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان بھی دہشت گردی کے راستے پر جا رہے ہیں۔ ظاہرہے کہ یہ ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے سب سے بڑی چنوتی ہے۔ آئی ایس کے تشدد آئیڈیالوجی کو تباہ کرنا ہوگا ورنہ یہ تباہی مچا سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ریاستوں کے بیچ تال میل کے ساتھ فوکس کر کے آپریشن چلایا جائے۔
(انل نریندر)

10 مارچ 2017

طوفان سے پہلے کی خاموشی کے انڈر کرنٹ کا اشارہ

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا مہا دنگل اب اپنے کلائمکس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سنیچر کو جب الیکٹرانک ووٹنگ مشین کھولی جائیں گی تب پتا چلے گا کہ کس کی قسمت چمکے گی اور کس کی ڈوبے گی۔ ان اسمبلی انتخابات کا جب اعلان ہواتھا تو لگا تھا کہ اس مرتبہ شور کم ، الفاظ زیادہ ہوں گے۔ سوچا تھا کہ یہ چناؤ اشو پر مبنی ہوں گے لیکن جس طرح سے بیان بازی چلی ،الزام در الزام کا دور چلا اس کی شاید کسی کو امید نہیں رہی ہوگی۔ پورے چناؤ میں جس طرح کی زبان کا استعمال ہوا، جس سطح پر چناؤ کمپین پہنچی وہ کسی کو زیب نہیں دیتی۔ طے کرنا مشکل ہے کہ زمین کا شور زیادہ خطرناک تھا یا خیالی دنیا کا۔ اس شور کے کی گونج کافی عرصے تک محسوس کی جائے گی۔ بحث تو تبھی شروع ہوگئی تھی جب یوپی میں پولنگ کے 7 مرحلے طے ہوئے تھے اور کہا جانے لگا تھا کہ ڈیجیٹل دور میں جب کمیونی کیشن مشینری اور آنا جانا اتنا آسان ہوچکا ہے تب پولنگ کے انعقاد میں ایسی توسیع کا کیا جواز ہے؟ خاص کر اترپردیش کی چنوتی اتنی بھاری تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو تین دن تک اپنے چناوی حلقہ بنارس میں ڈیرا ڈالنا پڑا، روڈ شو کرنا پڑا۔ مندروں مٹھوں کے درشن کرنے پڑے۔ ان کے خلاف کانگریس ۔سپا اتحاد ،بسپا نے بھی پورے دم خم کے ساتھ کمپین چلائی۔سچ تو یہ ہے کہ اس چناؤ کا اصلی ہیرو اترپردیش کا ووٹر ثابت ہوا ہے، جس نے اپنے اشارے پر سب کو نچایا، سڑک سڑک دوڑایا، لیکن منزل کسی کودکھائی نہیں دینے دی۔ چناؤ میں لہر دکھائی دینے یا چلنے کا عکس اس بار شاید ایک خاموشی کی طرح ہے جو لہر یا انڈر کرنٹ رہا جس کی گہرائی میں اب تک کوئی پہنچ نہیں سکا۔ کہنے میں گریز نہیں کہ کسی دیش یا ریاست کا چناؤ ایک نئے آغاز کا نقطہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے بڑے معنی ہوتے ہیں۔ اکثر یہ آگے کی سمت طے کرتا ہے۔ ان پانچ ریاستوں کے نتیجے دیش کی امکانی سیاست میں اہم ترین پڑاؤ ہوں گے۔ 2019ء میں لوک سبھا چناؤ ہونے ہیں۔ اسی سال گجرات میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ سنیچر کو جب ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی اس سے پتہ چلے گا کہ دیش کے مستقبل کی سیاست کس سمت میں گھومتی ہے۔ داؤ پر جہاں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھاجپا کی ساکھ ہے وہیں یہ چناؤ سماج وادی پارٹی کا بھی مستقبل طے کرے گا۔ اگر اکھلیش یادو کامیاب ہوتے ہیں تو وہ سب سے طاقتور بن کر ابھریں گے۔ اگر وہ ہارتے ہیں تو سماجوادی پارٹی کا موجودہ نقشہ ہی بدل جائے گا۔ کم و بیش یہی حالت مایاوتی اور بہوجن سماج پارٹی کی بھی ہے۔ اگر بسپا اس چناؤ میں اچھا اور قابل اطمینان کارکردگی دکھاتی ہے تو اس کے مستقبل پربھی خطرے کے بادل منڈلانے لگیں گے۔ اتراکھنڈ میں پتا چلے گا کہ اکیلے اپنے دم خم پر کیا ہریش راوت نے بھاجپا کو چنوتی دینے میں کامیابی پائی ہے یا نہیں؟ عام آدمی پارٹی کا بھی سیاسی مستقبل ان چناؤ نتائج پر کچھ حدتک ٹکا ہوا ہے۔ پنجاب میں اس کے جیتنے کے امکانات جتائے جارہے ہیں لیکن کانگریس نے سخت ٹکر دی ہے۔ بیشک گووا میں بھی عام آدمی پارٹی نے چناؤ لڑا ہے لیکن یہاں کوئی معجزاتی نتیجے کی امید کم ہے۔ اگر پنجاب اور گووا میں اروند کیجریوال اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں تواس کا سیدھا اثر دہلی ایم سی ڈی کے انتخابات پر پڑ سکتا ہے۔ ان نتائج کا کانگریس پارٹی پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ خاص کر اترپردیش چناؤ نتائج کا ۔چناؤ کمپین ختم ہوتے ہی کانگریس میں کمپین حکمت عملی کو لیکر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ پارٹی کا ایک بڑا طبقہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کی کمپین حکمت عملی سے خوش نہیں ہے۔ خاص کر یوپی کو لیکر زیادہ ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پارٹی کے ایک نیتا نے کہا کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے چناؤ کمپین میں زوردار طریقے سے محنت کی لیکن دوسرے نمبر کے لیڈروں کا کمپین میں کوئی رول نہیں رہا۔ ضلع کانگریس کے لیڈروں کو بھی کمپین میں کوئی ذمہ داری نہیں سونپی گئی تھی۔ انہوں نے کہا راہل گاندھی نے یومیہ تین گھنٹے سے زیادہ کمپین میں محنت کی ہے اگر وہ اپنے ساتھ دوسرے نمبر کے50 لیڈروں کو جوڑ لیتے تو محنت 150 گنا بڑھ جاتی۔ کانگریس کے کئی نیتاؤں کا خیال ہے کہ جب تک پارٹی تنظیم مضبوط نہیں ہوتی چناؤ کمپین میں سخت محنت سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ پارٹی کا ایک بہت بڑا طبقہ مانتا ہے کہ کانگریس کو سماجوادی پارٹی سے اتحاد کرنے سے نقصان ہوا۔ پہلے ہی دن سے کانگریس سپا کی بی ٹیم بن گئی اور اس نے اپنے وجود پر بھی سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ لگتا ہے اس بار امید ہے کہ لوگ ایسا فیصلہ سنائیں گے جس سے پارٹیوں اور نیتاؤں کو کچھ سبق ملے۔ انہیں صحیح سیاسی سمت میں بڑھنے کا پیغام ملے۔ امید یہ بھی کرنی چاہئے کہ ووٹر فیصلہ کن رائے دیں گے اور جس پارٹی کو بھی اپنا قیمتی ووٹ دیں گے ، اتنا دیں گے کہ وہ مکمل اکثریت سے اپنے دم خم پر سرکار بنا سکے۔ معلق مینڈیٹ اور معلق اسمبلی الٹے مسائل بڑھائے گا اور دیش پیچھے چلا جائے گا۔ دیکھیں آخر سنیچر کو جنتا کیا فیصلہ سناتی ہے؟
(انل نریندر)

ملک دشمنوں کا اڈہ بنتی جواہر لال نہرو یونیورسٹی

دہلی یونیورسٹی میں رامجس کالج میں جے این یو کے طالبعلم عمر خالد کو بلائے جانے پر پچھلے بدھوار کو طلبا کے گروپوں کے درمیان لڑائی اور مارپیٹ ہوئی۔ اس میں ایک ایسی طالبہ تھی پریرنا بھاردواج جو دیش کے خلاف نعرے لگانے کی آواز سنتے ہی بھڑک گئی اور 70 نعرے لگانے والوں سے اکیلے بھڑ گئی لیکن اس نے ہار نہیں مانی۔ طالبہ پریرنا نے کہا کہ دیش کے خلاف بولنے والے لوگ حیوان کی طرح برتاؤ کررہے ہیں۔ اسے اکیلا دیکھ نہ صرف اس کے کپڑے پھاڑے گئے بلکہ اس کی چھاتی پر مکے مارنے سے بھی پیچھے نہیں رہے۔ واقعے کو بتاتے ہوئے پریرنا نے کہا کہ وہ کروڑی مل کالج میں پڑھتی ہے اور این سی سی کی کیڈٹ بھی ہے۔ پھٹے ہوئے کپڑوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ دراصل جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں دیش مخالف سرگرمیاں پچھلے کچھ عرصے سے تیز ہوئی ہیں۔ بات چاہے جے این یو کی ہو یا دہلی یونیورسٹی کی دنوں ہی دنیا کی نامور یونیورسٹیوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ انہیں نے دیش دنیا کو انگنت شخصیتیں فراہم کی ہیں۔ ایسے میں وہ اس طرح کے بیہودہ واقعات کا ہونا جائز نہیں مانا جاسکتا۔ اعلی تعلیم حاصل کررہے طلبا بھی اگر گھنونے ذہنیت کو ترک نہیں کریں گے تو اوروں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ دراصل جے این یو میں کمیونسٹوں کا بول بالا ہے۔ کچھ ایسے نام نہاد دانشور سماج میں ہیں جو اس طرح کی غلط سلط بحث کو چھڑے رکھتے ہیں۔ حقیقت میں یہ طبقہ بھارت کی ہر چیز میں کمی دیکھتا ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر بتانے کی کوشش کرتا ہے۔ کمیونسٹ مزاج اسٹوڈنٹ تنظیم ’آئیسہ‘ عمر خالد جیسے کشمیری علیحدگی پسند آئیڈیالوجی کے لوگوں کو بلا کر دیش مخالف نعرے لگواتے ہیں۔ جے این یو انہی کی وجہ سے آج دیش مخالف سرگرمیوں کا اڈہ بنتی جارہی ہے۔ اے بی وی پی ان کی مخالفت کرتی ہے اور وقتاً فوقتاً ان دونوں کے درمیان ٹکراؤ کے حالات بھی بنتے ہیں۔ طلبا کو اپنی بات کہنے کا پورا حق ہے لیکن جب وہ دیش کی آزادی، بربادی اور دیش کے ٹکڑے کرنے کی بات کرتے ہیں تو اسے کون برداشت کرسکتا ہے۔ تقریر کی آزادی کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ آپ دیش کو توڑنے کی بات کریں۔ برسوں سے کچھ نیتا اپنے آپ کو اسٹوڈنٹ لیڈر کہتے آئے ہیں لیکن جے این یو میں آگے کی پڑھائی کرنے کے لئے یہ طلبا نیتا نہیں ہیں بلکہ وہ وہاں پڑے ہوئے ہیں۔یہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو بڑھانے کے لئے جمے ہوئے ہیں اور دیش میں ان کے حمایتی بھی کم نہیں ہیں جو ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ سرکار کو جے این یو میں سختی سے پیش آنا چاہئے اور دیش کی جنتا کی گاڑھی کمائی کو برباد ہونے سے روکا جائے۔
(انل نریندر)

09 مارچ 2017

اپنے ہی سابق’ این ایس اے‘ سے بے نقاب ہوتا پاکستان

ممالک حملہ کے سازشیوں کو سزا دلانے کے مسئلہ پر اپنے رول پر ٹال مٹول کرتا رہا پاکستان اب خود اپنے ہی سابق قومی سکیورٹی ایڈوائزر محمود علی درانی کے سنسنی خیز اعتراف سے کٹہرے میں کھڑا ہوگیا ہے۔ پاکستان کی پول درانی نے کھول دی ہے۔درانی نے کہا ہے کہ ممبئی (26/11) حملہ کو پاکستان کی دہشت گردتنظیم نے انجام دیا اور یہ سرحد پار دہشت گردی کی بدنما مثال ہے۔ پیر کو وہ 19 ویں ایشیائی ڈیفنس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے درانی کا یہ بیان نیا تو نہیں ہے لیکن اس سے بھارت سے ثبوت مانگ رہے پاکستان کی پول ضرور کھل جاتی ہے۔ بھارت میں ہوئی چھان بین سے ابتدا میں ہی واضح ہوگیا تھا کہ حملہ کی سازش سے لیکر عمل تک کی خطرناک تیاری کی بنیاد پاکستان میں ہی پڑی تھی اور حملہ کے دوران بھی وہیں سے دہشت گردوں کو ہدایات جاری ہورہی تھیں۔ امریکہ سمیت دنیا کے دوسرے دیش بھی یہ بات مان چکے ہیں کہ اب درانی کے بیان کے بعد بھارت کا موقف کہیں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ بتادیں کہ اہم ترین بات یہ ہے کہ محمود علی درانی اس دوران پاکستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر تھے، جب حملہ ہوا تھا۔ حالانکہ انہوں نے اس بار پاکستان حکومت اور آئی ایس آئی کا بچاؤ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممبئی حملہ میں پاکستان حکومت و آئی ایس آئی کا ہاتھ نہیں تھا لیکن یہ بات کسی کے گلے نہیں اترتی کہ جب پاکستان میں پناہ پائے دہشت گردوں نے حملہ کیا تو پھر پاکستان سرکار کو قصوروار کیوں نہیں مانا جانا چاہئے؟ درانی نے کہا کہ حافظ سعید کے خلاف کوئی کارروائی ہونی چاہئے مگر یہ چھپی بات نہیں ہے کہ بھارت سرکار کی طرف سے سعید کے خلاف پیش کردہ تمام انکشافات اور ثبوتوں کو پاکستان حکومت مسترد کرتی رہی ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد اسے کچھ عرصے کے لئے گرفتار ضرور کیا گیا تھا لیکن پاک حکومت کی طرف سے ثبوتوں کے ناکافی ہونے کی بنیاد پر عدالت نے اسے بری کردیا تھا۔ درانی نے یہ باتیں نئی دہلی میں منعقدہ 19 ویں ایشیائی ڈیفنس کانفرنس میں کہی ہیں جہاں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کو تشریح کئے جانے پر غور وخوض کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ٹھوس پالیسی و قواعد بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ ایسی کانفرنس میں اگر درانی ممبئی حملہ کو سرحد پار دہشت گردی کی کلاسک مثال بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر دیش کو یقینی بنانے چاہئے کہ کسی دوسرے دیش پر حملہ کرنے کے لئے اس کی سرزمین کا استعمال نہ ہو، تو کیا اس کا سیدھا نتیجہ یہ نہیں نکلتا کہ بھارت میں دہشت گردوں کے حملوں کے لئے پاکستانی زمین کا استعمال ہورہا ہے اور یہ ہر حال میں روکا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

9 دن کیلئے 4 ہندوستانی نژاد افراد پر حملے

امریکہ میں نسلی حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ امریکہ میں 9 دنوں کے اندر ہندوستانی نژاد چوتھے شخص پر نسلی حملہ ہوا ہے۔ اس بار نشانا بنے شخص سکھ دیپ رائے جو خود امریکی شہری ہیں۔ نقاب پوش بدمعاشوں نے رائے کو گھر کے باہر گولی مار دی جو ان کے بازو میں لگی۔ انہوں نے بتایا میں گھر کے باہر گاڑی صاف کررہا تھا اسی وقت 6 فٹ لمبا سیاہ فام یہاں آ دھمکا، چلاتے ہوئے کہا یہ دیش چھوڑوں اور گولی ماردی۔حملہ پچھلے جمعہ کی رات 8 بجے ہوا تھا۔ اب جاکر یہ میڈیا میں آیا ہے۔ امریکی پولیس نے تو سکھ نوجوان کا نام تک نہیں بتایا تھا۔ ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹ کر بتایا کہ دیپ رائے کے والد ہرپال سنگھ سے بات ہوئی ہے وہ خطرے سے باہر ہیں۔ اس سے پہلے ہوئے نسل پرست حملوں میں ہندوستانی انجینئر شرینواس و کاروباری ہرنیش پٹیل کو امریکہ میں قتل کیا جاچکا ہے۔ شرینواس پر ہوئے حملے کے وقت ان کے دوست آلوک بھی زخمی ہوگئے تھے۔9/11 کے بعد بھی امریکہ میں ایسا ماحول نہیں تھا جو آج بن گیا ہے۔ نیویارک کے سی ایٹل علاقہ میں سکھ فرقے کے لیڈر جسمیت سنگھ کہتے ہیں کہ امریکہ میں نفرت کا ماحول ایسا ہے کہ لوگ ہر وقت خوفزدہ ہیں۔ گالی گلوج اور بدتمیزی اچانک بڑھ گئی ہے۔ ایسا ماحول پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ 9/11 حملوں کے بعد بھی سکھوں پر حملے ہوئے تھے تب انتظامیہ کی سرگرمی سے معاملہ نمٹ گیا تھا لیکن اس بات حالات بالکل الگ ہیں۔ نفرت ۔ کرائم کی بڑھتی وارداتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے بڑی چنوتی ہیں۔ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سربن پاورٹی لا سینٹر کے مطابق ٹرمپ کے صدر بننے کے 34 دن کے اندر ہی 1094 نسلی واقعات ہوئے ہیں۔ رپورٹ فروری تک کی ہے۔ دو سال میں اینٹی مسلم ہیڈ گروپ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ 2015ء میں ایسے ہی 34 گروپ تھے جو 2016 ء میں تقریباً تین گنا بڑھے ہیں اور یہ بڑھ کر101 ہوگئے ہیں۔
اسلامی ملکوں پر پابندی لگانے کے بعد ٹرمپ کی تجویز کے بعد ان تنظیموں میں ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔ یہ اس امریکہ کی تصویر ہے جو دنیا کا سب سے بڑا اور طاقتور ملک ہے جس نے ترقی کی نئی کہانی مرتب کی ہے لیکن ایسی حرکات سے امریکہ کا کھوکھلا پن اجاگر ہوتا ہے۔ حالانکہ صدر ٹرمپ نے ہندوستانیوں کے قتل اور ان پر ہوئے حملوں کی مذمت کی ہے لیکن صرف زبانی جمع خرچ کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ امریکہ میں اس وقت کے حالات اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ ٹرمپ حکومت کے لئے مشکل وقت ہے اور ان کی سرکار کو جلد ہی کچھ ٹھوس و سنجیدہ قدم دوسرے ملکوں سے آئے لوگوں میں اعتماد قائم کرنے کیلئے اٹھانے ہوں گے۔ بھارت سرکار کو بھی معاملہ کی نزاکت کو دیکھ کر سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہوگا۔ امید کی جاتی ہے کہ بہت جلد یہ ماحول بدلے گا اور جلد ہی وہاں حالات بہتر ہوجائیں گے۔
(انل نریندر)

08 مارچ 2017

قومیت اور اظہار رائے کی آزادی

اظہار رائے کی آزادی کو لے کر جو تنازعہ جے این یو میں 9فروری 2016کو دیش مخالف نعرے بازی سے شرو ع ہوا تھا دراصل تب سے ہی جاری ہے ۔تازہ تنازعہ جے این یو کیمپس کے اندر کشمیر کی آزادی ،ماں درگا کی قابل اعتراض تصویر اور جوانوں کے پوسٹرو ں کو لیکر ہے ۔بد قسمی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے کامریڈ طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا کر اور سچائی سے چھیڑ چھاڑ کر کے ہمارے لڑکوں کے دماغ میں جو زہر بھر نے کا کام کررہے ہیں ۔ ہمیں چاہئے آزادی بیشک قابل اعتراض نہیں ہے لیکن آزادی کس سے اور کیسے چاہئے ؟یہ سوال بہت اہم ہے 1947میں بھی ہمیں آزادی چاہئے تھی لیکن وہ انگریزی حکومت کے خلاف تھی جس سے دیش کو آزاد کرانا تھا اگر خالد عمر جیسے بھٹکے لوگوں کو کشمیر کی آزادی چاہئے اور اس کو پانے کے لئے ہر طر ح کے تشدد کے لئے بھی تیار ہیں تو یہ دیش بغاوت کا معاملہ بنتا ہے ۔پچھلے سال افضل گرو کی برسی پروگرام میں جس طرح خالد اینڈ کمپنی نے نعرے بازی کی تھی اور افضل تیرے قاتل زندہ ہیں اور ہم شرمندہ ہیں ہمیں چاہئے آزادی وغیرہ وغیرہ یہ کیسا دیش پریم ہے ؟ا ن کمیونسٹوں او رخود ساختہ سیکولر پسندو ں اور نام نہاد دانشوروں نے یونیورسٹیوںں میں ایسا ماحول خراب کیا ہے کہ اب اسے دہلی یونیورسٹی میں بھی پھیلانے کی کوشش جاری ہے اور کیمپس کا ماحول بگاڑ نے میں لگے ہوئے ہیں اور یہ سب کچھ افراد کی فریڈم آف اسپیچ کے نام پر ہورہا ہے اب یہ عناصر اظہار رائے کی آزادی کی جھوٹی کہانی گھڑنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
اور اپنے ذاتی اغراض کی کی تکمیل کیلئے کسی بھی حد تک جانے پر تلے ہوئے ہیں جہاں تک رامجس کالج کا تازہ معاملہ وہ تو اے وی بی پی کی طالبہ کو اور خالد کے پروگرام میں بلائے جانے پر احتجاج کرررہے تھے جو پچھلے سال جے این یو میں افضل گرو کی یا د میں ہوئے پروگرام کے منتظیمین میں سے ایک تھا افضل گرو وہ ہی ہے جس نے ہمارے جمہوریت کے مندر پالیمنٹ ہاؤس پر حملے کی سازش رچی تھی ۔ اب بد قسمتی سے جے این یو میں دیش مخالف عناصر نے بھارت کے ٹکڑے کرنے او رکشمیر کی آزادی مانگ کے نعرے لگائے تھے ان دیش مخالف عناصر کی حرکت کے بعد ،کانگریس و کمیونسٹ اور سیکولر دانشوروں اور ان کے حمایتی میڈیا اور فرقہ عناصر سے ہاتھ ملالیا اس سے یہ ظاہر کہ صرف مودی سرکار کو بد نام کرنے کی سازش ہے کچھ دیش مخالف عناصر کشمیر کی آزاد ی کی وکالت کررہے ہیں جو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے او رکوئی بھی ہندوستانی ایسی سرگرمیوں کو قبول نہیں کرسکتا ۔بد قسمتی سے کانگریس پارٹی میں بھی پی چدمبرم جیسے نیتا ہیں جو علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتے دکھائی پڑتے ہیں اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کچھ باہر ی عناصر حالات کا فائدہ اٹھاکر کیمپس کا ماحول بگاڑ نا چاہتے ہیں ۔ ہم گرمہر کور کو دھمکانے والے الفاظ کی مذمت کرتے ہیں ان واقعات کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے اور قصور واروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اس کے ساتھ ہی بھارت مخالف عناصر کی حرکتوں کو جائز ٹھہرا نا یا اس کو بڑھاوا دینے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے ۔ میرے والد کو پاکستان نے نہیں مارا ، جنگ نے ماراہے ۔ لکھی پٹی والی تصویر جو گرمہر نے دکھائی اس کا کیا مطلب ہے ؟ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ ہمارے جوانوں کو کوئی جوابی کارروائی نہیں کرنی چاہئے ، جب پاکستانی ان پر حملے کررہے ہیں ؟ وہ جنگ نہیں تھی بلکہ وہ پاکستانی تھے جنھوں نے گرمہر کے والد مارا تھا انھوں نے دیش کی سلامتی اور اتحاد کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی قیمتی قربانی دی ہے ۔ اس سالمیت کو آج جن عناصر سے خطرہ ہے ، انھیں دیش کے اندر ہی مٹھی بھر کمیونسٹوں اور نام نہاد سیکولر سیٹو ں سے اور خود ساختہ دانشوروں کی حمایت مل رہی ہے ۔ دیش کے مفادات کے خلاف کام کرنے والا کوئی بھی شخص دیش مخالف سرگرمیوں کے زمرے میں آتاہے اور کسی سے بھی دیش بھگت کو مقبول بھٹ ،افضل گرو اور برہان وانی کی قصیدہ خوانی کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہوسکتی ۔ بہتر ہوکی سبھی یہ نہ سمجھیں کہ اظہاررائے کی آزاد ی کے نام پر من مانی ہوسکتی ہے اور نہ ہی عد م اتفاق کے نام پر ۔
(انل نریندر)

بچیوں کو ڈرگس دے کر کرواتے تھے دھندہ

انسان پیسو ں کی خاطر اتنا گرجاتا ہے کہ ا س کی مثال اس دور میں وقتاً فوقتاً ملتی رہتی ہے تازہ مثال ایک میاں بیوی کی ہے جو جسم فروشی کی دلالی میں ملوث آفاق میاں بیوی کے خلاف دائر چارج شیٹ میں پولس نے کئی سنسنی خیز باتوں کا انکشاف کیا ہے پولس نے مکوکہ کے تحت درج اس معاملہ میں 3895صفحات کی چارج شیٹ کو 20فروری کو عدالت میں داخل کیا تھا اس معاملے میں اس کے پاس 125سے زیادہ گواہ ہیں اور 13ملزم بنائے گئیں ہیں ا ن میں سے آفاق اور اسکی بیوی سمیت 10ملز م گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ 3ملز م فرار ہیں اور انھیں بھگوڑااعلان کرنے کی کارروائی جاری ہے ۔ جی بی روڈ پر جسم فروشی کے لئے آئی نا بالغ لڑکیوں کو آفاق میاں بیوی ہارمون اور نشے کا انجکشن دے کر جوان بنانے کی کوشش کرتے تھے اور اس کے بعد ان کو جسم فروشی کے دھندہ میں دھکیل دیا جا تھا جس پر جسم فروشی کی مخالف کرنے والی لڑکیوں بھی زبردستی نشہ آور گولیاں دی جاتی تھیں اور نشے کی عادی ہونے پر ان کو آہستہ آہستہ اس دھندے میں جھونک دیا جاتا تھا ۔ یہ کام کوٹھے کا مالک آفاق کی بیوی سائرہ بیگم کی نگرانی میں ہوتا تھا ۔ تیس ہزار ی عدالت میں دائر چارج شیٹ میں بتایا کہ ملز م میاں بیوی دو دہائی سے تین ہزار سے زیادہ لڑکیوں کو جسم فروشی کے دھند ے میں جھونک چکے ہیں ۔ جسم فروشی کاروبار کے لئے لڑکیوں کو پھنسانے کی ذمہ داری مختلف ریاستوں میں پھیلے ایجنٹ کیا کرتے تھے اور وہ لڑکیوں کو اچھی نوکری یا شادی کا جھانسہ دیکر دہلی لے آتے تھے اور ان کو یہاں لاکر کوٹھے پر بیچ دیا جاتاتھا ان لڑکیوں کی قیمت پچاس ہزار سے لیکر دولاکھ روپے تک لگائی جاتی تھی ۔ لڑکیوں کی عمر اور جسم اور چہر دیکھ کر ان کے دام میاں یانائکہ طے کرتے تھے احتجاج کر نے پر کوٹھے کی نائکہاور سرفراز اور عرف بلی ان کو مارتے تھے اور ڈر کر ان کی بات لڑکیوں کو ماننی پڑتی تھی لڑکیو ں کو دھندے کے لئے نائکہ تیار کرتی تھی اس کو ہر ماہ چالیس سے پچاس ہزار روپے ملتے تھے گراہکوں کو برچی کٹوانی پڑتی تھی اس کے لئے 6سے زیادہ منیجر رکھے ہوئے تھے کوٹھے کی کمائی کا 60فیصدی حصہ آفاق کو ملتا تھا پیسوں کو لانے کا کام ڈرائیور کرتا تھا۔مغربی بنگال ، کرناٹک ، نیپال ، اڑیسہ ، بہار ،جھارکھنڈ اور آسام سے لڑکیاں لائی جاتی تھیں 1999سے جسم فروشی کے دھندے میں آفاق میاں بیوی نے محض 17برس کے اند ر 246کروڑ روپے کی پروپرٹی بنالی ہے ۔اب معاملہ عدالت میں چلے گا اور دیکھنا یہ ہے کہ اس نیچ میاں بیوی اور انکے حواریوں کو کو عدالت کیا سزا سنا تی ہے۔
(انل نریندر)

07 مارچ 2017

لمبے پروسیس کے بعد آخری مرحلے میں پہنچتا یوپی چناؤ

اترپردیش اسمبلی چناؤ کا آخری مرحلے میں 08مارچ ووٹ پڑیں گے ۔11فروری سے شروع ہوئی ووٹنگ اپنے 7مرحلے پورے کرنے جارہی ہے ۔ صوبے کے مہاسنگرام میں 7ویں مرحلے کی جنگ بھی بیحد دلچسپ ہونے والی ہے ہر سیٹ پر الگ الگ تجزیے ہیں ۔ کہیں ذات پات ہے تو کہیں پورانے تجزے سمجھنے کی کوشش ہورہی ہے یہاں 7ضلعوں کی 40 اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی ۔ جن میں یہ ہونی ہے ان میں غازی پور ،وارنسی ، چندولی ،مرزاپور ،ابھدوہی ،سون بھدر ،جون پور حلقے شامل ہیں ۔بھارت میں ہورہے اس اسمبلی انتخابات کو دیکھنے وہ جمہوری عمل سے روبرو ہونے کیلئے ،بنگلہ دیش ،مصر ،کرغستان ،نامیبیا ،اور روس کے چناؤ کے منتظم بلدیاتی اداروں کے نمائندوں نے صوبے کادورہ کیا ۔ اور بھارت میں چناؤ کے انتظام کے مختلف پہلو وں کا ووٹنگ الکٹرانک مشینیں وغیرہ کا باریکی سے جائزہ لیا ۔ یہ نمائندے جہاں چناؤ تیاریوں ،پولنگ بوتھ ،اور چنا ؤ کی پوری کارروائی دیکھ رہے ہیں ۔ان بین الاقوامی نمائندوں نے اقوام متحدہ وکاس پروگرام کے ساتھ ساجھداری میں منعقد کیا ۔اترپردیش اسمبلی چناؤ میں لیڈروں کا قد لوگوں کی پسند اور پارٹیوں کے وعدے اور بنیادی اشو ز کا پتہ 11مارچ چل جائے گا 18سے 25سال کے لڑکے ترقی کے حمایتی نظر آئے ان کو لگتا ہے وزیر اعظم نریند مودی دیش کیلئے اچھا کام کررہے ہیں ۔حالانکہ وہ یہ نہیں بتاپائیں کہ مودی نے کونسے اچھے کام کئے ہیں ۔مانا جارہاتھا کہ5ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ہوئی نوٹ بندی چناؤ کے دوران بڑا اشو ہوگا لیکن لگتاہے ایسا نہیں ہوا ۔دیہات میں اور شہروں میں ایک بڑا طبقہ نوٹ بندی کا حمایتی نظر آیا زیادہ تر دیہاتیوں کا کاکہنا تھا کہ نوٹ بندی سے دیش کا بہت فائدہ ہواہے اور آگے بھی جاری رہے گا ۔ عام خیال یہ ہیں کہ اکھلیش یادو نے کام کیا ہے لیکن ان کے اندورنی کنبہ کے جھگڑے نے انکا کھیل بگاڑ دیا ہے ایسا لگتاہے کہ لوگ مانتے ہیں کہ مودی کاقد بڑا ہے اور پارٹی سے اوپر ہے ۔مزیدار بات یہ ہے کہ زیاتر مقامات پرعورتیں ذات پرستی کے خانے سے خود کو تھوڑا باہر رکھتی نظر آئیں جبکہ مردذات پرستی پر اڑے دکھائی دےئے مطلب صاف ہے کہ اس چناؤ میں عورتیں اپنے حساب سے فیصلہ کررہی ہے دیہات میں سپا ،کانگریس اتحاد کے بعد بھی کوئی پارٹی کی بات نہیں کررہاہے ۔ اور اکھیلش کا تذکرہ بھی محدو د رہا ۔ چوکانے والی بات یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی پریشانیاں گنانے میں بھی زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی ۔بجلی ،سڑک ،پانی ، کے اشو ’غائب رہے اورروز گار کا مسئلہ سامنے آیا لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے ۔اودھ کے حصہ اور مشرقی یوپی کو پورے علاقے میں امیٹھی کے صنعتی علاقے جگدیش پور کو چھوڑدیں تو کہیں بھی بڑی صنعت نہیں ہے ۔وارنسی میں وزیر اعظم کا روڈ شو تھا اسی دن راہل اکھلیش کا بھی روڈ شو تھا مایاوتی کی ریلی تھی مشرقی اترپردیش کے وارنسی شہر میں مودی کے روڈ شو میں بہت زیادہ لوگ آئے اور بھاجپا کے حق ووٹ کے لئے اپیل کی گئی ۔اترپردیش میں بھاجپا 15برس سے اقتدار سے باہر ہے اس کاکہناہے ایک گھنٹہ تک چلے روڈ شو سے 8مارچ کو ہونے والے آخری دورکے چناؤ میں 40سیٹوں پر کافی فائدہ ہوگا ۔اس کے بارے میں علاقے چینلوں نے سیدھے طور پر اس روڈ شو کو دکھایا ۔یوپی چناؤ میں کاشی بہت اہم بن گیا ہے پی ایم کو پہلی بار یہاں اپنا روڈ شو کرنا پڑا دودن تک یہاں رہے بحث یہ ہورہی ہے کہ مودی جی اور راہل اکھلیش کے روڈ شو میں کس کا روڈ شو بھاری پڑا ؟وزیر اعظم نے کہاکہ ان کے روڈ شو میں جس طر ح بھیڑ آئی ہے وہ تو کمال ہی ہوگیا ہے اکھیلش کا دعوی ہے کہ ہمارے روڈ شو کے مقابلے میں پی ایم کا روڈ شو بہت ہی چھوٹا تھا ۔ادھر مایاوتی نے روڈ شو کو تماش بینوں کی بھیڑ بتایا ۔ وزیر اعظم کا انتحابی حلقہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا چناؤ بھاجپا کے ساتھ وزیر اعظم کی ساکھ سے جوڑ گیا ہے ۔ بھلے ہی بی جے پی یوپی جیت لے لیکن بنارس میں مظاہر اچھا نہیں رہا تو یہ مودی کی نجی ہار مانی جائے گی ۔ اکھلیش کی حکمت عملی ہے کہ جارحانہ تیور دکھاکر دباؤ میں لایا جائے اس لئے انھوں نے مودی کو گھیر نے میں پوری طاقت لگادی ہے اکھلیش پورا دم خم لگا کر آخری مرحلے کے چناؤ میں اپنی بڑھت لینا چاہتے ہیں یہاں لڑائی بی جے پی اور سپا کے درمیان سمٹی تو بسپا مقابلے سے باہر ہونے کاخطرہ ہے جو مایاوتی نہیں چائیں گی ۔بنارس کے ماحول سے پروانچل کی باقی سیٹوں پر ماحول بننا ہے مایا مودی سے لڑتے ہوئے دکھائی دینا چاہتی ہیں کل ملاکر کہاں جائے گا کہ بیشک اکھلیش نے شہر سے گاؤ ں تک کام تو کیا ہے لوگ یہ مان رہے ہیں لیکن قد میں مودی آگے ہیں ۔ وہیں راہل گاندھی کا تذکرہ کم ہے ۔ دکھیں 11مارچ کو اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ 
(انل نریند)

کسانوں کی موت پر معاوضہ دینا مسئلہ کا حل نہیں

کسانوں کا مسلسل خود کشیاں کرنے کا معاملہ سنگین ہے ۔وقتاًفوقتاًمیں اسی کالم میں مسئلہ اٹھاتا رہاہوں ۔سال 2015میں آٹھ ہزار سے زائد کسانوں نے خود کشی کی ۔ 2014میں یہ تعداد 56۔ 50تھی اس لئے ہر سال یہ معاملہ سنگین ہوتا جارہاہے ۔ یہ تسلی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی اس اشو کو سنجیدہ ماناہے اور اس نے سرکاری اسکیموں پر سوال کھڑے کرتے ہوئیکہا کہ معاوضے کا انتظام کرنے کے بجائے سرکار کو یہ یقینی کرنا چاہئے کہ کوئی بھی کسان خود کشی جیسا سنگین قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہوں ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیر کی رہنمائی والی تین نفری ڈیوژن بینچ نے سرکار سے کہا ہمیں لگتاہے کہ آپ غلط سمت میں جارہے ہیں کسان قرض لیتا ہے لیکن اسے وہ چکا نہیں پاتا لہذا خود کشی کرلیتا ہے او رآپ ان کے گھر والوں کو معاوضہ دیتے ہیں ۔ہمارا خیال یہ ہے کہ متاثرہ کنبے کو معاوضہ حل نہیں ہے بلکہ خود کشی روکنے کی کوشش کی جانی چاہئے اس پر سرکار کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالی سیٹر جنرل بی ایس نرسمہا نے کہا حکومت کئی منصوبے لیکر آئی ہے ا ن کے ذریعہ یہ یقینی بنایاجائے کہ کوئی شخص قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں خود کشی جیسا عمل اٹھانے مجبور نہ ہوں حالانکہ یہ بھی کہاکہ یہ ایسا مالی اسبا ب کے سبب خود کشی کرتے ہیں اور بھی کئی تکلیف دہ وجوہات کے سبب خود کشی کرتے ہیں اور کسانوں کو ان کی پیدوار کی صحیح قیمت نہیں ملتی ۔پتہ نہیں اس حقیقت کو سمجھنے سے کیونکہ انکار کیا جارہاہے ۔ حالیہ مثال لے لیں دیش کے ئی حصوں میں کسانوں کے ٹماٹر اور آلو معمولی دام میں فروخت کرنے پڑ رہے ہیں ایسی نوبت اس لئے آئی کیونکہ ا ن کے سامان کی جائز قیمت نہیں مل رہی ہے یہ پہلی بار نہیں ہوا ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے لیکن اس مسئلے پر سرکاریں ہاتھ کھڑ ے کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔کئی بار بینکوں کی مشکل شرائط کی وجہ سے کسان ساہوکاروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں او رانھیں اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے اپنی جان تک چکانی پڑتی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ سبھی سرکاریوں اس مسئلے پر سنجیدہ ہوں اور کسانوں کو بچائیں 
(انل نریند)

05 مارچ 2017

ملکی بغاوت کے مجرم سیمی سرغنہ صفدر ناگوری

ادھر خطرناک دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے سرغنہ بغدادی طرف ہار ماننے کی خبر سے دنیا نے راحت کی تھوڑی سانس لی ہے تو ادھر ہندوستان میں اس تنظیم کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی خبروں کے درمیان اندور کی خصوصی عدالت کے فیصلے سے تھوڑا اطمینان محسوس کیا جا سکتا ہے جس غداری اور غیر قانونی طریقے سے ہتھیار رکھنے کے معاملے میں کالعدم تنظیم سیمی (اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا) کے سرغنہ صفدر ناگوری اور اس 10 ساتھیوں کو مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے. ناگوری سمیت تمام دہشت گرد احمد آباد کی سابرمتی جیل میں ہیں اور انہیں اب جیل میں ہی رہنا ہوگا. عدالت نے 84 صفحات کے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسا پایا گیا ہے کہ ان تمام قانونی اور آئینی طور پر قائم حکومت ہند میں یقین نہیں ہے. ان سرگرمیاں ملک کی سالمیت کے خلاف ہیں. یہ مذہبی بنیاد پر نفرت پھیلا کر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں. ان کا مقصد انسانیت کو گہری چوٹ پہنچانا تھا. بتا دیں کہ سال 2008 میں 26۔27 مئی کی رات اندور کے الگ الگ علاقوں سے سیمی کے 11 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا. ان سے ملی معلومات کی بنیاد پر بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کی گئی تھی. ان میں جلیٹن چھڑی، ڈیٹونیٹر، سی ڈی، پین ڈرائیو، قابل اعتراض آڈیو ویڈیو مواد، پستول، دیسی ریوالور اور زندہ کارتوس شامل تھے. 25 مئی 1977 کو علی گڑھ میں قائم اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پہلی بار 2001 میں پابندی لگا تھا. 2008 میں اپنی گرفتاری سے پہلے صفدر ناگوری بہت بڑی دہشت گردانہ وارداتوں کو انجام دے چکا تھا اور بہت سے معاملات میں سازش رچ چکا تھا. جولائی، 2008 میں احمد آباد میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کو انجام دینے میں بھی سیمی کا ہاتھ تھا، جس میں 56 افراد ہلاک ہو گئے تھے. سمی نیٹ ورک کتنا پھیل چکا تھا اس کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ ناگوری کی گرفتاری سے پہلے اس نے کیرالہ کے ایرناکولم، گجرات کے پاواگڑھ اور مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں بڑے دہشت گرد تربیتی کیمپ منعقد کئے تھے، جن میں 100 سے زائد مشتبہ نوجوان شامل تھے. 1990 کی دہائی میں سیمی کا نام دہشت گردانہ سرگرمیوں میں آیا تھا اور امریکہ میں ہوئے 9/11 کے دہشت گرد حملے کے بعد 2001 میں اس پر پابندی لگا دیا گیا تھا. واقعی میں انڈین مجاہدین بھی سیمی کا ہی ایک شکل ہے، جسے محدود کیا گیا ہے. آئی ایس کو لے کر یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ بے روزگاری اور کم پڑھے لکھے نوجوان ہی اس تعصب کو آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں. حال ہی میں گجرات کے دو نوجوانوں کی گرفتاری سے یہ نئے سرے سے واضح ہے کہ آئی ایس کی جہادی نظریات سے ?پریرت ہونے والے نوجوان ملک کے کسی بھی حصے میں ہو سکتے ہیں. چونکہ ایسے نوجوان بغیر کسی بیرونی مدد کے آپ کی سطح پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں، اس لئے ان کی نگرانی اور شناخت سے زیادہ مشکل ہے. ان مشکلات کے باوجود پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مستعد رہنا ہوگا. بلاشبہ یہ لازمی ہے کہ انٹرنیٹ پر جہادی ادب اور ایسے ادب کی تلاشی میں مصروف لوگوں کی نگرانی بڑھائی جائے، لیکن اس میں عام لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا. انہیں دیکھنا ہوگا کہ ان کے ارد گرد کوئی ایسا شخص تو نہیں جو جہادی نظریات سے آلودہ ہو رہا ہے. دراصل دنیا آج جس دہشت گردی سے جوجھ رہی ہے، اس کے پیچھے مذہبی تعصب ایک بڑی وجہ ہے، فرق یہ آیا ہے کہ بھارت طویل عرصے سے اس سے برسرپیکار رہا ہے، جسے اب باقی ملک بھی قبول کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں. (انل نریندر)

آخر کار ابو بکر بغدادی نے ہار مان لی

مشرق وسطی ایشیا میں تباہی ڈھانے والا دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے خونخوارسرغنہ ابو بکر بغدادی نے بالآخر عراق میں اپنی ہار مان لی ہے. بغدادی نے فیررویل تقریرکے عنوان کے نام کے ایک بیان جاری کیا ہے اور اسے منگل کو آئی ایس کے مبلغین اور کٹھ ملاؤں میں تقسیم کیا گیا. بغدادی کا یہ بیان عراق فوج کی طرف سے آئی ایس اکثریتی موصول پر قبضے کے بعد آیا ہے. بتا دیں کہ بغدادی نے خود کو خلیفہ قرار دیا تھا. ایک وقت تھا کہ آئی ایس کا جال 18 ممالک میں پھیل گیا تھا. افغانستان اور پاکستان تک متاثر تھا. دسمبر 2016 تک آئی ایس کا قبضہ 60 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے پر تھا. قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی اور امریکی افواج اور روسی بمباری کے تعاون سے عراقی فوج نے 17 اکتوبر کو موسل سے آئی ایس کو کھدیڑنے کی مہم شروع کی تھی. جنوری 2017 تک موسل کے مشرقی حصے پر فوج کا قبضہ ہو گیا تھا. مختلف میڈیا رو رپورٹوں میں بغدادی کے کئی بار زخمی ہونے کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں. بغدادی پر بتا دیں کہ ایک کروڑ ڈالر (قریب 66 کروڑ روپے) کا انعام امریکہ نے رکھا ہے. عراقی ٹی وی نیٹ ورک السماریہ نے العربیہ رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ بغدادی نے آئی ایس دفتر سے ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں گروپ کے جنگجوؤں اور گروپ کے غیر عرب جنگجوؤں کو اپنے وطن واپس جانے اور خود کو دھماکے سے اڑانے کی ہدایات دی ہیں اور ان سے جنت میں 72 حوریں ملنے کا وعدہ کیا ہے. ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بغدادی اس وقت فوج سے گھرے ہوئے علاقے میں ہی پھنسا ہے یا کہیں اور ہے؟ رپورٹ کے مطابق آئی ایس کے کئی بڑے دہشت گرد اس وقت عراق سے کوچ کر پڑوسی ملک شام میں پہنچ چکے ہیں. میڈیا رپورٹ میں بغدادی کو حملے میں شدید زخمی بتایا گیا ہے. اس کے سر پر 10 ملین ڈالر کا انعام ہے. 
واضح رہے کہ مشرقی شام اور شمالی عراق میں آئی ایس کے قبضے کے بعد بغدادی نے 2014 میں خود کو خلیفہ قرار لیا تھا. عراق میں بہت سے آئی ایس لیڈر پڑوسی شام میں گروپ کی طرف سے کنٹرول علاقے میں بھاگ گئے ہیں. بغدادی کی پیدائش 29 جولائی 1971 کو عراق کے سامرہ میں ہوی تھی۔ بغداد کے اسلامی سائنس ادارے سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور پھر پی ایچ ڈی کی. چار اکتوبر 2011 کو امریکہ نے محدود فہرست میں شامل کیا اور اس پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا بعد میں 16دسمبر 2016کو یہ رقم بڑھا کر ڈھائی کروڑ ڈالر کر دی گئی 2014میں بغدادی القاعدہ کا کمانڈر بنا اور2014میں خلیفہ اعلان کیا گیا۔اس ہار مان لینے کی خبر لائق خیر مقدم ہے۔اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ 
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...