Translater

13 فروری 2021

پاکستان کی راہ پر چلی نیویارک اسمبلی !

نیویارک اسمبلی میں ہر سال 5فروری کو کشمیر امریکہ دیوس منانے کا ریزولیشن پاس کیا گیا ہے نیویارک اسٹیٹ گورنر اینڈریوز وایومی نے اسٹیٹ اسمبلی میں ہر 5فروری کو کشمیر امریکہ دیوس منانے کی تجویز رکھی تھی ۔جسے پاس کر دیا گیا ہے ۔5فروری کو پاکستان بھی یوم کشمیر مناتا ہے اور جیسے ہی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی مین کشمیر -امریکہ دیوس منانے کی تجویز پاس کی گئی تھیک ویسے ہی نیویارک میں تعینات پاکستانی سفیر نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا تجویز پاس ہونے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔اور اس تجویز کو اسمبلی کے ممبر نادر سمیچ اور دیگر12ممبران نے رکھوایا تھا تجویز میں کہا گیا ہے کشمیری فرقہ نے ہر مشکل کو پار کیا ہے ۔اورعزم کا ثبوت دیا ہے اور اپنے آپ کو نیویارک نژاد فرقوں کے ایک ستون کے طور پر پیش کیا ہے ۔اس میں کہا گیا ہے کہ نیویارک اسٹیٹ وراثتی تہذیب اور ذات و مذہبی شناختوں کو تسلیم کرکے سھی کشمیری لوگوں کی مذہبی اور آمدو روفت و اظہار رائے کی آزادی سمیت انسانی حقوق کی حمایت کرنے کے لئے کوششیں واشنگٹن میں مقیم ہندوستانی سفارت خانہ کے ایک ترجمان نے اس تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کشمیر امریکہ دیوس سے متعلق نیویار ک اسمبلی میں پیش ریزولیشن کو دیکھا ہے ۔امریکہ کی طرح بھارت بھی ایک زندہ مثال جمہوری دیش ہے ۔1.35 ارب لوگوں کے اکثریت وادی فروغ فخر کی بات ہے ۔انہوں نے کہا بھارت جموں کشمیر سمیت اپنے خوشحال اور تہزیبی تانے بانے اور اپنی وراثت کا اتسو مناتا ہے ۔جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے جسے الگ نہیں کیا جا سکتا ہم لوگوں کو تقسیم کرنے کے لئے جموں کشمیر کی ایک پائیدار و سماجی تانے بانے کو غلط طریقہ سے دیکھانے کے منفی مفادات کی کوشش کو لیکر تشویش ظاہرکرتے ہیں ۔ترجمان نے تجویز پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم بھارت امریکہ ساجھیداری اور وراثت بھرے ہندوستانی فرقہ سے جڑے سبھی معاملوں پر نیویارک اسٹیٹ میں منتخب نمائندوں سے بات کریں گے ۔یہ تجویز 3 فروری کو اسمبلی میں پاس کی گئی تھی جس میں سے 5 فروری 2021 کو نیویارک اسٹیٹ میں کشمیر امریکہ دیوس اعلان کرنے کی درخواست کی گئی ہے نیویارک میں پاکستان کے کونسل خانہ نے اس پرستاو¿ کو پاس کرانے کے لئے امریکن پاکستانی ایڈوکیسی گروپ کی تعریف کی گئی ۔ (انل نریندر)

مہوا موئیترا کیخلاف تحریکیں مخصوص حق کی خلاف ورزی کا نوٹس؟

لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے ایڈرس پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران ترنمول کانگریس کی فائر بینک ایم پی مہوا موئترا کی زبردست تقریر نے مودی سرکار کو دھو کررکھ دیا ہے ۔یہ تقریر اتنی تلخ تھی کہ لوک سبھا میں موجود حکمراں پارٹی کے ایم پی تلملا اٹھے اور اپنی تقریر کے دوران مہوا موئترا نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کو لیکر بھی تبصرہ کیا تھا اس کا بھاجپا ممبران اور حکومت کی طرف سے احتجاج کیاگیا ۔پارلیمانی امور وزیر (مملکت) ارجن میگھوال نے ان کے تبصرہ پر اعتراض جتایا اور کہا اس طرح کا تذکرہ نہیں کیا جاسکتا اس پر چئیر پر بیٹھے چیئرمین این کے پریم چندرن نے کہا کہ اگر ہوا موئترا کی بات میں کچھ قابل اعتراض بات پائی جاتی ہے تو اسے ریکارڈ میں نہیں رکھا جائے گا لیکن بات یہی ختم نہیں ہوئی پارلیمانی امور پرہلا جوشی نے کہا کہ ان کے ریمارکس کو لیکر مہوا کے خلاف مخصوص حق اختیار تجویز لائی جاسکتی ہے ۔لوک سبھا میں شکریہ کی تحریک پر ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا کے تبصرے پر ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا سرکار کے وزراءاور بھاجپا ممبران پارلیمنٹ کے خلاف کاروائی کی مانگ کی تھی ۔بعد میں سرکار کے اشارے بھی کاروائی کے تھے ۔لیکن منگلوار کو یہ معاملہ ٹھنڈا نظر آیا کیوں کہ سرکار کی طرف سے کسی کاروائی کا اشارہ نہیں ملا ۔ذرائع کا کہنا ہے سرکار آئینی قوانین کے مطابق ہی آگے بڑھے گی ۔مغربی بنگال کے آنے اولے اسمبلی چناو¿ میں نفع نقصان کابھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔بھاجپا نہیں چاہتی ہے کسی طرح کی کاروائی ترنمول کانگریس کو ایسے نازک وقت میں کوئی سیاسی فائدہ ہو ۔مہوا موئترا کی تقریر یوٹیوب پر بھی موجود ہے ۔ (انل نریندر)

ایل اے سی پر ٹینشن کم کرنے کی شروعات!

مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر کشیدگی کم کرنے کی سمت میں بھارت اور چین نے اہم قدم اٹھایا ہے ۔فوج کے ذرائع نے بتایا دونوں ملکوں کی جانب سے تعینات ٹینکوں میں کچھ کمی کی گئی ہے اس سے ایل اے سی پر جاری کشیدگی میں کمی آئے گی چونکہ دونوں ملکوں کے فوجی ایک دوسرے کی رینج میں تھے اس سے پہلے چین نے کہا کہ پنگونگ جھیل کے جنوبی اور شمالی کنارے میں چین اور بھارت کے فرنٹ لائن پر تعینات فوجیوں کو پیچھے کرنے کی کاروائی شروع ہو گئی ہے ۔چین کے اخبار گلوبل ٹائمس نے دعویٰ کیا ہے پینگونگ جھیل کے جنوبی اور شمالی کنار ے سے ہندوستانی اور چینی فوجی پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔بیشک مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول یعنی ایل اے سی پر بھارت اور چین کے فوجیوں کے درمیان پیچھے ہٹنے کی کاروائی شروع ہو گئی ہے ۔لیکن ابھی یہ شروعارت ہے اور دونوں ملکوں میں پوری طرح تعطل ختم ہونے میں لمبا وقت لگے گا ۔فرنٹ لائن پر ابھی فوجی تعینات ہیں ۔اور پینگونگ جھیل کے جنوبی کنارے اہم مورچوں پر ہندوستانی فوجی بھی موجود ہیں ۔بتا دیں کہ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ چین اور بھارت کے فرنٹ لائن پر تعینات فوجیوں کے درمیان پینگونگ جھیل کے ساو¿تھ اور نارتھ کنارے پر انگیجمنٹ کاروائی شروع ہوگئی ہے ۔حالانکہ ہندوستانی ذرائع کے مطابق دونوں طرف تعینات ٹینکوں میں ہی کمی کی گئی ہے لیکن فرنٹ لائن پر فوجی ابھی بھی تعینات ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے بھارت اور چین کے درمیان کمانڈروں کی میٹنگ میں اس پر کافی حد تک اتفاق رائے ہو گیا تھا ۔پینگونگ جھیل کے نارتھ کنارے یعنی فنگر ایریا میں چینی فوجی فنگر 8-سے پیچھے چلے جائیں گے ۔اور ہندوستانی فوجیوں کے فنگر 3-سے پیچھے جانا ہوگا ۔قریب آتھ دس مہینہ تک ان دونوں ایریوں میں No Petroling جاری رہے گی ۔ذرائع کے مطابق چین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ چینی فوجی بھلے ہی فنگر 8- کے پیچھے چلے جائیں گے لیکن وہ فنگر 4- تک پیٹرولنگ کرتے رہیں گے ۔اور گشت کا حق نہیں چھوڑیںگے ۔پیٹرولنگ کو لیکر کیا تہ ہوا ابھی اس بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ۔لیکن ذرائع کے مطابق ابھی پیچھے ہٹنے کی کاروائی شروع ہوئی ہے جیسے جیسے آگے بڑھے گی کئی باتیں صاف ہوںگی ہمیں ان چینیوں پر یقین نہیں ہے ۔لیکن اگر یہ حقیقت میں پیچھے ہٹنے پر راضی ہوگئے ہیں تو یہ بھارت کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا ۔مہینوں سے جاری تعطل آہستہ آہستہ ٹوٹ رہا ہے ۔یہ اچھی بات ہے امید ہے کہ یہ کاروائی ایمانداری سے آگے بڑھائے گا چین ۔ (انل نریندر)

12 فروری 2021

قدرت نے برپایا قہر تو دیو دوت بنے جانباز!

قدرت نے جب قہر برپایا تب تب ہمارے بہادر جوانوں کے جانباز دیو دوت بن کر متاثرین کی مدد کیلئے آکھڑے ہوئے دوسروں کی جان بچانے میں ان جانبازوں نے اپنی ہی جان کی بازی لگا دی ۔ چمولی ضلع کی رشی گنگا وادی کے تپوون علاقے میں آئے سیلاب سے بھی جان و مال کا بھاری نقصان ہوا اور تپون ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ وآس پاس کے علاقے میں تباہی کا منظر چھا گیا ۔ قدرتی آفت میں مرے و لاپتہ لوگوں کی ابھی بھی تلاش جاری ہے فوج و اایئر فورس آئی ٹی بی پی ، این ڈی آر ایف و ایس ڈی آر ایف کے جوان قریب ڈیڑھ کلو میٹر لمبی تپون سرنگ میں زندگی اور موت سے لڑ رہے لوگوں کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں اب مسلح فورس کے جواب بھی راحت رسانی و بچاو¿ کام میں شامل ہیں ۔ وہیں پولس اور مقامی انتظامیہ اور آفت مینجمینٹ سے جڑے لو گ بھی راحت و بچاو¿ کے کام میں ان دیو دوتوں کےساتھ ہاتھ میں ہاتھ ملا کر قد م سے قدم بڑھا رہے ہیں صبح میں سورج کی کرن دکھائی دینے سے پہلے ریزکیو آپریشن شروع ہوجا تا ہے رات کو تاریکی تک جاری رہتا ہے کوشش یہی ہے کہ سرنگ میں پھنسے لوگوں کو کسی بھی حالت میں باہر نکالا جائے ٹنل میں جس طرح کیچڑ بھری ہوئی وہ اس میں ہلکے ہلکے قدم با قدم بڑھا رہے ہیں ۔ وہ ان دیو دوتوں کی راہ میں اڑچن ہٹا ررہے ہیں اور ملبہ ہٹا کر ٹنل کے اندر ایک قدم آگے بھی بڑھنا کسی مصیبت سے کم نہیں کب اور کہاں پاو¿ں پھنس جائے بچاو¿ آپریش میں لگی ٹیموںکو قدم قدم پر مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے پھر بھی ان جانبازوں کا حوصلہ کم نہیں ہوا ہے جان ہتھیلی پر رکھ کر فوج و پیرا ملٹری فورس کے جوان دوسروں کی جان بچانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ پیر کی طرح منگل وار کو بھی صبح سویرے سے ہی تلاش کا کام جاری رہا ہم ان جانبازوں کو سلام کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اپنے مشن میں بغیر کسی جانی نقصان کے کامیاب ہوجائیں۔ (انل نریندر)

لال قلعہ پر جھنڈہ لہرانے کا ملزم سدھو آخر کار گرفتار!

یوم جمہوریہ پر لال قلعہ میں ہوئے تشدد اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں دہلی پولس نے اداکار دیپ سدھو کو پیر کی رات میں کرنال بائی پاس سے گزرتے ہوئے دبوچ لیا پچھلے چودہ دن سے پولس اس کی تلاش میں تھی وہ واردات کے بعد سے فرار چل رہا تھا۔ اس پر پولس نے 1لاکھ روپئے کا انعام بھی رکھا ہوا تھا۔ اسپیشل سیل کے ڈی سی پی سندیپ یادو نے بتایا کی گرفتاری کے وقت دیپ سدھو بائی پاس پر ایک شخص کا انتظار کر رہا تھا او ر اسی کی گاڑی سے بہار کے پرنیہ فرار ہونے کے فراق میں تھا تبھی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ساڑھے دس بجے رات میں پولس موقعے پر پہونچ گئی اور اسے دبوچ لیا ۔ گرفتار کے بعد پولس نے اسے عدالت میں پیش کیا جہاں سے اسے سات دن کی پولس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ۔دیپ سدھو کہ گرفتاری کا تذکرہ سندھو بارڈر پر کسانوں کے درمیان خوب جاری رہا کسانوں کا کہنا تھا کہ یوم جمہوریہ پر جو کچھ بھی ہوا وہ کسان آندولن کی بدنامی کا اصل ذمہ دار وہی ہے کسانوں نے کہا کہ اگر منصفانہ تحقیقات ہوئی تو پوری واردات کا سچ سامنے آجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ دیپ سدھو کو کس نے لال قلعے بھیجا اور کس مقصد سے بھیجا ؟ کسان آندولن کے اسٹیج سے بول رہے نیتا دیپ سدھو کو اس دن کے واقع کے لئے ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے ساتھ ہی مرکزی حکومت پر کسان آندولن کو بدنام کرنے کا بھی الزام لگا رہے تھے ۔ اسٹیج سے ٹھیک سامنے بیٹھے پٹیالہ سے آئے نوجیت سنگھ نے کہا کہ 75دن سے زیادہ کو وقت ہوگیا ہے ۔ کسان سندھو بارڈرپر با دستور بیٹھے ہوئے ہیں ۔ اس کے باوجود کسان کبھی بھی بھڑکے نہیں اور نہ کوئی جھگڑا کیا مگر اس دن 26جنوری کو جو کچھ ہوا وہ دیپ سدھو کی وجہ سے ہوا مجھے لگتا ہے یہ کروایا گیا تاکہ کسان آندولن کو بدنام کیا جاسکے ، مگر جانچ ہوئی تو سچ سامنے آجائے گا کسان نیتا نے کہا کہ گرفتاری بہت پہلے ہوجانی چاہئے تھی عدالت نے دیپ سدھو کو پولس ریمانڈ میں بھیج دیا ہے پولس نے بھی کہا ملزم پورے معاملے کا اہم سازشی ہے دیپ سدھو کو گرفتاری کے بعد تیس ہزاری عدالت میں میٹرو پولٹن مجسٹریٹ کی گپتا کی سامنے سخت حفاظت میں پیش کیا گیا ۔ سرکار ی وکیل نے عدالت کو بتایا کی ملزم دیپ سدھو دنگا بھڑکانے میں سب سے آگے تھااس کے خلاف ویڈیو گرافی میں کافی ثبوت ہیں وہ ڈنڈلئے اپنے حمایتوں کے ساتھ لال قلعے میں گھسا تھا اس نے لوگوں کو بھڑکایا جس کے سبب سرکاری پراپرٹی کو نقصان پہونچا ہے انہوںنے کہا ایک سازش کے تحت ٹریکٹر مارچ کے دوران طے روٹ و قواعد کے خلاف ورزی کی گئی لال قلعہ پر ایک فرقے کا دھارمک جھنڈا لہرا کر قومی ترانے کی بے عزتی کی گئی ہے ۔ اس دوران ہوئے جھگڑے کے دوران لال قلعے پر چالیس پولس والے بھی زخمی ہوئے تھے ملزم و اس کے ساتھیوں نے پولس پر بھی حملہ کیا دیپ سدھو سے پوچھ تاچھ میں خلاصہ ہوا ہے لاک ڈاو¿ن کے بعد اس کے پاس کوئی کام نہیں تھا ایسے میں پچھلے سال اگست میں جب کسان آندولن شروع ہوا تو وہ اس کے تئیں ہمدردی جتانے کیلئے مائل ہوگیا اور مظاہرے کی جگہ پر جانے پر اسے بڑی تعداد میں نوجوان نظر آتے گئے وہ کسانوں کے آندولن میں جذباتی طور سے جڑ گیا تھا اس کا خیال تھا کہ سرکار کسان کی کی آواز نہیں سن رہی ہے جس وجہ سے ان کی تحریک کچھ کمزور پڑ رہی ہے ایسے میں اس نے اپنے حمایتوں کے ساتھ کسان مارچ ریلی کے دوران لا ل قلعہ یا انڈیا گیٹ پر پہونچ کر دھارمک جھنڈا لہرانے کی سازش رچی دیپ سدھو کا فیس بک اکاو¿نٹ دو موبائل سیٹ سے چل رہا تھا ایک موبائل دیپ سدھو کا تھا جبکہ دوسرا اس کی لیڈی فرینڈ کیلی فورنیا سے اپڈیٹ کر رہی تھی ۔ سدھو کسان آندولن سے متعلق جو بھی ویڈیو بنایا وہی خاتون دوست اسے فیس بک پر اپلوڈ کرتی تھی اب دیکھنا یہ ہے کہ جانچ میں کیا یہ نتیجہ نکا ل پاتی ہے کہ یہ ساری سازش کس کے کہنے پر رچی اس نے تو باقی سار ی باتیں تو مان لی ہے لیکن سازش کا خلاصہ ابھی ہونہیں سکا۔ (انل نریندر)

11 فروری 2021

ہستیوں کے ٹویٹ کی جانچ کرے گی مہاراشٹر سرکار!

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیش مکھ نے بھارت رتن لتا منگیش کر ، سچن تیندلکر کے ساتھ ہی اکچھے کمار سمیت مشہور ہستیوں کی طرف سے کسانوں کے خلاف مظاہرے کے سلسلے میں دئےے گئے ٹویٹ کی جانچ کے احکامات دئے ہیں ۔ دیش مکھ نے اسے بہت ہی سنگین بتاتے ہوئے خفیہ محکمے کو ٹویٹ کے پسے منظر کی جانچ کرنے کے احکامت دیئے ہیں ان ٹویٹس کے لبو و لہجے ایک جیسے ہیں۔ اور ایک ہے وقت میں پوسٹ کئے گئے ہیں ۔ جسے لیکر شبہ ظاہر کیا گیا ہے اس وجہ سے جانچ کو کہا گیا ہے کانگریس کے ترجمان سچن ساونت اور دیگر کانگریس لیڈروںنے کسان آندولن پر پاپ سنگر ریحانہ کے ٹویٹ کے جواب میں کئی ہستیوں کے ٹویٹ کی بھی شکایت مہاراشٹر کی موجودہ ادھو ٹھاکرے سرکار سے کی تھی انہوں نے الزام لگایا ہے اس میں کچھ ایسے لفظ ہیں جو شبہ پیدا کرتے ہیں ۔ سرکار اب ان ہستیوںکے ٹویٹ کی جانچ کرکے کسی نتیجے پر پہونچنے کی کوشش کرے گی کہ کیا ان فلمی ستاروں نے کسی دباو¿ میں آکر یہ ٹویٹ کئے تھے یا نہیں کانگریس نتیاو¿ںنے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فلمی ہستیوں کی جانب سے مرکزکی بھاجپا رہنمائی والی سرکار کی حمایت میں دباو¿میں آکر ہوسکتا ہے ٹویٹ کئے گئے ہوں ۔ کانگریس نیتا سچن سانگوان نے کہا ان فلمی ہستیوں کے ذریعے کئے گئے ٹویٹ کے درمیان ایک جیسا پیٹرن دیکھنے کو ملا زیادہ تر نے ایک ہی جیسے الفاظ اور ہیز ٹیگ کا استعمال کیا ۔ ساونت نے دلیل دی کی اس سے شبہ پیدا ہوا کہ کیا وہ کسی باہری دباو¿ میں تو نہیں تھے انہوں نے کہا مشہور ہستیوں کا اگر کسی کا ڈر ہے تو انہیں سیکورٹی دی جانی چاہئے ۔ (انل نریندر)

یہ کسانوں کی سرمایا داروں سے آزادی کی لڑائی ہے !

مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف بہادر گڑھ ۔دہلی بارڈر پر واقع ٹکری میں دھرنے پر بیٹھے ایک اور کسان نے اتوار کو پھانسی لگا کر خود کشی کر لی پولس نے بتایا کہ کسان نے ایک سوسائیڈ نوٹ چھوڑا ہے ، جس میں مرکزی سرکار کے خراب رویے سے پریشان ہونے کی بات لکھی ہے اس نے بتایا متوفی کی پہچان ہریانہ کے جند ضلع کے سنگھوال گاو¿ں کے باشندے 52سالہ کرم ویر سنگھوال کے طور پرہوئی ہے پولس نے بتایا کہ رات میں ہی وہ اپنے گاو¿ں سے ٹکری بارڈر آیا تھا اور وہ اتوار کو بہادر گڑھ کے بائی پاس بنے نئے بس اسٹینڈ کے پاس ایک پیڑ پر پلاسٹک کی رسی کا پھندہ گلے میں ڈال کر جان دے دی بھارتی کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے اتوار کو بھوانی کے کتلانا میں مشترکہ محاذ کی طرف سے منعقدہ کسان ریلی میں گئے تھے ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کو منسوخ نہ ہونے پر اناج کو روپئے کی طرح سنبھال کر تجوری میں رکھنا پڑے گا جب تک تینوں زرعی قوانین واپس نہیں ہوجاتے تب تک گھر واپسی نہیں ہوگی۔ یہ کسانوں کی سرمایا داروں سے آزادی کی لڑائی ہے ٹکیت کا کہنا تھا کہ کچھ لیڈروں نے کسانوںکے سکھ اور غیر سکھ میں باٹنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوپائے اب ہریانہ اور پنجاب کے لوگ متحد ہوگئے ہیں ۔ خاص سسٹم مضبوط ہے اور آج اس کی ضرورت بھی ہے ٹکیت نے سرکار سے مانگ کی تینوں قانون واپس لئے جائیں اور ایم ایس پی پر قانون بنایا جائے اور گرفتار کسانوں کو چھوڑ اجائے جب تک سرکار ان تینوں قوانین کو واپس نہیں لیتی تب تک یہ آندولن جاری رہے گا اور یہ عوام کا آندولن ہے اور یہ فیل نہیں ہوگا انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف آندولن مضبوط ہوتے جا رہا ہے اور کئی کھاپ نیتا مہا پنچایت میں موجود تھے ۔ دادری سے آزادممبر اسمبلی اور سانگوان کھاپ کے چیف سوب بیر سانگوان بھی موجود رہے ۔ انہوں نے پچھلے سال دسمبر میں ریاستی حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی اور ریاستی سرکار کو کسان مخالف قرار دیا تھا ۔ کسان انجمنوں کے درمیان ٹکیت نے کہا کہ منچ اور پنچ نہیں بدلیں گے اور پنجاب سے بھارتی کسان یونین کے لیڈر بلویر سنگھ راجے والے کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ہمارے بڑے لیڈر ہیں ۔ ہم یہ لڑائی مضبوطی سے لڑیں گے کسان انجمنوں کے ارادے پکے لگتے ہیں وہ آر پار کی لڑائی لڑنے کے مونڈ میں ہے ہم پھر دہراتے ہیں سرکار کو ان تینوں قوانین کو ملتوی کردینا چاہئے اور ان کسانوں کی مانگوں کو (جو انہیں بھی صحیح لگتی ہیں)نئے قانون میں شامل کرکے پاس کرے ۔ کسان ماننے والے نہیں ہیں ۔ وہ بہت لمبی لڑائی لڑنے کے مونڈ میں ہے سرکار کو بلا تاخیر کوئی ہل نکالنا ہوگا یہ حکومت کے مفاد میں بھی ہے اور دیش کے بھی اور کسانوں کے بھی مفاد میں ہے ۔ (انل نریندر)

10 فروری 2021

ہر سیکینڈ 1.81لاکھ روپئے کماتے ہیں بیزوس !

دنیا کے سب سے امیر شخص 57سالہ جیف بیزوس اپنا رول بدل رہے ہیں اور پچھلے ہفتے انہوں نے ایمزون کا سی ای او کا عہدہ چھوڑ کر نگراں چیئر مین کی ذمہ داری سنبھالیں گے پچیس سالوں سے جیف بیزوس خلائی پروگراموں سے وابستہ کمپنی بلو اوریجن ، ارتھ فنڈ ،دا واشنگٹن پوسٹ اخبار پر توجہ دینا چاہتے ہیں ۔ بیزنس انسائڈر کے مطابق بیزوس نے 2020میں ہر سیکینڈ 1.81 لاکھ روپئے کمائے اور وہ ہمیشہ وقت سے آگے چلتے ہیں ۔ 1982میں ہائی اسکول میں زیر تعلیم بیزوس نے کہا تھا کہ زمین محدود ہے اگر دنیا کی آبادی اور معیشت مسلسل بڑھتی رہی تو خلاءمیں جانا ہی واحد راستہ بچے گا۔ اسی نظریہ کو لیکر سال 2000میں انہوں نے بلو اوریجن بنائی تھی ااس کے دو سال بعد ایلن مسک نے اسپیس ایکس نام کی کمپنی قائم کی تھی لیکن وہ کچھ خاص نہیں کر پائی مانا جارہا ہے کہ خلا ءمیں امکانات کو دیکھتے ہوئے بیزوس اس طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ بلو اوریجن اسی سال اپریل سے سیاحوں کو خلاءمیں بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے بیزوس چاند پر کالونی بسانا چاہتے ہیں ۔ ایمزون بیزوس ایک لیب کہتے ہیں ۔ جہاں گراہکوں سے برتاو¿ جڑے ہوئے تجربے حاصل ہوتے ہیں ہر گراہنک کے برتااو¿ کے ریکارڈ کو دیکھا جاتا تھا گراہکوں کے برتاو¿ کو دیکھنے کیلئے چیف سائنٹسٹ اینڈریوس ویگانڈ کو ہائر کیا ۔ ایمازون جب بازار میں اتری تو سرمایا کاروں کو دکھا کی طویل ؑعرصے میں منافعہ دیکھیں اور دوسری کمپنیوں کو مقابلہ ختم کرنے میں زیادہ پیسہ خرچ کیا اس سے کمپنی گھاٹے میں رہی ایمازون نے 20سال پہلے فائر نام سے فون لانچ کیا تھا۔ جو وائس ، اسسٹینٹ اور 4کیمروں کے ساتھ فون فیل ہوگیا لیکن اس وائس اسٹینٹ ٹکنک کا استعمال کر کے تیار الیکسا آج ایمازون کے سب سے کامیاب پروڈیکٹس میں سے ہے قابل ذکر کہ 1995میں ایمازون قائم کرنے والے بیزوس کمپنی کو ایک معمولی آن لائن بک سیلر سے حال ہی میں 1.7لاکھ کروڑ ڈالر یعنی تقریبا ً 122لاکھ کروڑ روپئے مالیت کی ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں بدل چکے ہیں ۔ اس سفر میں انہوں نے دنیا کا سب سے امیر شخص کہلانے کا اعجاز بھی حاصل کرلیا ۔ بک سیلر سے لے تک آج ریل اور لوجسٹک کے گلوبل بزنس میں پرچم لہرانے والی ایمازون کی ترقی کی کہانی بیزوس نے ہی لکھی ہے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2020میں کمپنی کا کاروبار 38فیصد گروتھ کے ساتھ 386عرب ڈالر تک پہونچ چکا ہے ۔ سال بھر پہلے کے مقابلے میں 2020میں کمپنی کا منافع بڑھ کر 21.3عرب ڈالر تک پہونچ گیا ہے۔

ایک بار پھر بھاجپا نے پریورتن یاترا کا داو ¿ں چلا!

مغربی بنگال کے نادیہ ضلع سے سنیچر کو بھاجپا کی پریورتن یاترا کی شروعات پارٹی صدر جے پی نڈا نے کی تھی انہوںنے ممتا بنرجی سرکار پر کسانوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست کو وزیر اعظم کسان یوجنا سے دور رکھا اسمبلی چناو¿ کے بعد بنگال کی عوام ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی کو الوداع کہہ دے گی وہیں مالدہ کہ ایک ریلی میں نڈا نے پوچھا بنگال میں جے شری رام کے نعروں پر ممتا کو غصہ کیوں آتا ہے ؟ اس دوران بھاجپا صدر نے کسانوں کے ساتھ کھچڑی اور سبزی بھی کھائی اپنے سیاسی زمین مضبو ط کرنے وجنتا تک پہونچنے کیلئے بھاجپا کا یاترا و¿ں کا پرانا فارمولہ ہے جو اسے سیاسی فائدہ دیتا رہا ہے لیکن حالات ایسے بنے ہیں بھاجپا نے سب سے پہلے1990میں رام رتھ یاترا سے سیاسی پرواز شروع کی تھی تب صدر لال کرشن اڈوانی تھے اس پہلی رتھ یاترا میں موجود وزیرا عظم نریندر مودی بھی اہم رول میں تھے اور اس کے بعد ایڈوانی اور دیگر نیتاو¿ں نے مختلف عنوانات سے آدھا درجن سے زیادہ یاترائیں نکالیں اور بھاجپا کا مینڈیٹ بڑھایا اور دیش کے کونے کونے تک پارٹی کو پہونچا دیا ۔ حالانکہ یہ یاترئیں سیاسی تنازع اور ٹکراو¿ کا بھی سبب رہی ہیں ایڈوانی کی پہلی سوم ناتھ یاترا کو بیچ میں روک لیا گیا تھا۔ بہار میں اس وقت وزیرا علیٰ لالو پرشاد یادو کی سرکار تھی اور ایڈاونی کو گرفتار کیاتھا اس کے بعد وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو¿ کے منڈل کمیشن کی شفارشوں کو لاگو کرنے کا سیاسی جواب مانا گیا تھا ۔ اس کے بعد 1991-92میں پارٹی کے صدر رہے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کی ایکتا یاترا بھی جموں کشمیر کے سری نگر لال چوک پر ترنگا لہرا نے کو لیکر سرخیاں بٹوریں ۔ رتھ یاتراو¿ن کے ذریعے بھاجپا نے اپنے اشوز کو دیش بھر میں پہونچایا اور اسے اس کا فائدہ بھی ملا۔ چناوی کامیابیاں کم یا زیادہ رہی ہوں لیکن 1990کے بعد بھاجپا کا ووٹ بینک بڑھتا رہا ۔ اور اب اس کی پہونچ دیش کے سبھی راجیوں تک ہوگئی ہے اب جبکہ مغربی بنگال ، تامل ناڈو ، آسام ، کیرل، اور پوڈو چیری کی ماپنچ اسمبلیوں کے چناو¿ ہونے ہیں وہاں بھی اپنے مینڈیٹ بڑھانے کیلئے اسی طرح کی رتھ یاتراو¿ں کو کر رہی ہے ۔ نومبر میں تمل ناڈو میں ویتری ویل رتھ یاتر نکالی تھی جسے لیکر اس کے اور انّا ڈی ایم کے درمیان ٹکراو¿ ہوا تھا اب مغربی بنگا ل میں بھی یہی حالت بنی ہوئی ہے بھاجپا نے مغربی بنگال کے چناو¿ کو جیتنے کیلئے پرویورتن یاتر کا سہارا لیا ہے وہ ریاست میں پانچ مقامات سے یاترا نکالے گی جو راجیہ کے سبھی 294اسمبلی حلقوں سے گزرے گی ۔ پہلی تو جے پی نڈ انے شروع کردی ہے اور اب دوسری رتھ یاترا امت شاہ 11فروری کو کوچ وہار سے ہری جھنڈی دکھا کر کرنے والے ہیں ۔ دیکھیں ممتا کی سخت مخالفت کے سبب بھاجپا کی رتھ یاترا کتنی کامیاب رہتی ہے؟ (انل نریندر)

چمولی میں آبی قہر نے کیدارناتھ حادثے کی یاد تازہ کردی!

اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں اتوار کے روز قدر ت نے ایک بار پھر بھاری تباہی مچا دی نیتی وادی میں رینی گاو¿ں کے بڑے حصے میں رشی گنگا کے کنارے پر صبح قریب 9:15گلیشئر کا ایک حصہ ٹوٹ کر ندی میں گر گیا جس سے زبردشت سیلاب آگیا ۔ اچانگ آئے آبی قہر سے ندی پر بن رہے این ٹی پی سی کے رشی گنگا جل بجلی پروجیکٹ پوری طرح سے تباہ ہوگیا ۔ دھولی گنگا ندی پر زیر تعمیر تپون پر بنائے جا رہے آبی بجلی پروجیکٹ کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے مقامی انتظامیہ کے مطابق ان دونوں جگہوں پر متعدد افراد کی موت ہوئی ہے تپون باندھ پر واقع ایک سرنگ سے ملبا ہٹا کر پچیس لوگوں کو بچایا گیا ان کا پتہ ان کے پاس موجود موبائل کے سگنل سے چلا حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ تروندر سنگھ راوت چمولی گئے تے وزیر اعظم نریندر مودی نے راحت رسانی پر پوری نگا ہ رکھی قریب ساڑھے چار گھنٹے کے بعد شری نگر باندھ کی جھیل میں پانی کا تیز بہاو¿آیا اور مگر حالات کنٹرول میں آگئے نہیں تو سیلاب کا اثر رشی کیش و ہریدوار تک ہوسکتا تھا ۔ تپون وشنو گاڈ میں 2978کروڑ روپئے نو رشی گنگا پروجیکٹوں میں چالیس کروڑ روپئے کا نقصان ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے اس کے علاوہ ایک ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کا نقصان کا اندازہ لگایا جارہاہے اب تک راحت ااور بچاو¿ کام کے دوران چمولی ضلع پولس نے پندرہ لاشوں کی ملنے کی خبر دی اور ایک سو پچاس سے زیادہ لوگوں کا ابھی تک پتہ نہیں چل پایا رات میں پانی کی سطح بڑھنے کے سبب کچھ دیر بچاو¿ آپریشن روکنا پڑا تھا لیکن صبح چار بجے سے ایک بار پھر راحت رسانی کا کام شروع ہوگیا ۔ آئی ٹی بی بی دہرادون میں تعینات ڈی آئی جی روپانی کمار کا مطابق تپون کی بڑی ٹنل کو70 سے80میٹر تک کھولا گیا ہے اور اس کی صفائی جاری ہے اس کامطلب یہ ہے کہ کسی کے پاس اس کا واضح جواب نہیں ہوگا کہ یہ حادثہ کیسے ہوا؟ گلیشئروں پر ریسرچ کرنے والے ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے اس حصے میں ہی ایک ہزار سے زیادہ گلیشئر ہیں اور سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ درجہ حرار ت بڑھنے کی وجہ سے بڑی چٹانیں ٹوٹ گئیں اور ان کی وجہ سے پیدا خلاءسے بھاری مقدار میں پانی نکلا اور چٹانیںکھسنیں لگیں بھارت سرکار کے واڈیہ انسٹی ٹیوٹ آف جیو لوجی سے حال ہی میں ریٹائر ہوئے ڈی پی ڈوبھال کہتے ہیں کہ ہم انہیں مردہ برف کہتے ہیں کیونکہ یہ گلیشئروں کے پیچھے ہٹنے سے الگ ہوجاتے ہیں اور اس میں عام طور پر چٹانوں اور کنکریوں کا ملبا ہوتا ہے اس کا امکا ن بہت زیادہ ہے کیونکہ نیچے کی طرف بھار ی مقدار میںملبہ بہہ کر آیا اور کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہوسکتا ہے کہ گلیشئر کی کسی بھی جھیل میں چٹانیں گری ہیں جس کی وجہ سے بھار ی مقدار میں پانی نیچے آگیا اور سیلا آگیا ہو گلیشئر برف کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے جسے برفیلا پہار بھی کہتے ہیں یہ اکثر ندی کی طرح دکھائی پڑتے ہیں اور بہت دھیمی رفتار سے پگھلتے ہیں گلیشئر بننے میں کئی سال لگ جاتے ہیں یہ ایسی جگہوں پر بنتے ہیں جہاں برف گرتی ہے اور گلتی نہیں پانی میں برف آہستہ آہستہ ٹھوس ہوجاتی ہے وزن کی وجہ سے آگے جاکر پہاڑوں سے خسکتی ہے ہندو کش ہمالیائی زون میں گلوبل وارممنگ کی وجہ سے بڑھ رہے درجہ حرارت کے سبب گلیشئر پگھل رہے ہیں ۔ اور اس کی وجہ سے گلیشئر جھیلیں خطرناک طریقے سے بڑھ رہی ہیں ۔ اور کئی نئی جھیلیں بن رہی ہیں لیکن جب ان کی آبی سطح خطرناک پوائنٹ پر پہونچ جاتی ہے تو وہ اپنی سرحدوں کو لاک کردیتی ہے اور جو بھی راستے میں آتا ہے اسے بہا لے جاتی ہے ۔ سال 2013میں جب کیدارناتھ اور کئی علاقوں میں قہر آمیز سیلا ب آیا تھا تب کئی تھیرویاں پیش کی گئیں تھیں لیکن ماہر ین کا کہنا ہے کہ سرکار نے کیدارناتھ حادثے سے کوئی سبق نہیں لیا ۔ خیر پوسٹ مارتم تو ہوتا رہے گا لیکن اب ضرورت پھنسے لوگوں کو زندہ نکالنے کی ہے ، ہم جو لوگ اس سہانے میں نہیں رہے انہیں ہم شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

09 فروری 2021

غیرمستحکم رویہ کے سبب خفیہ معلوما ت نہیں لیں گے !

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف تحریک ملامت کی کاروائی شروع ہونے سے پہلے بائیڈن انتظامیہ ان سے ایک بڑا حق چھیننے کی تیاری میں ہے امریکہ کے صدور کو عہد ہ میعاد ختم ہونے کے بعد بھی اکثر خفیہ اطلاعات اور خفیہ راز کے بارے میں جانکاریاں دی جاتی ہیں ۔ حالانکہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے حالیہ ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سابق صدرٹرمپ کو ان کے غیر مستقل مجازی کے سبب خفیہ معلومات نہیں دی جانی چاہئے انہوں نے سی بی سی نیوز کو دئے گئے انٹر ویو میں کہا میں یہ قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ان سے خفیہ معلومات شیئر کرنے کی ضرورت نہیں اور انہیںخفیہ معلومات دینے کی کیا اہمیت ہے ؟ وہ کیا اثر ڈال سکتی ہیں اس کے بجائے حقیقت تو یہ ہے کبھی بھی ان کی زبان پھسل سکتی ہے اور وہ کچھ بھی راز کھول سکتے ہیں ۔ جمعہ کو بائیڈن کے انٹرویو کے کچھ حصے دکھائے گئے اس میں بائیڈن نے یہ سب باتیں کہیں وہیں وائٹ ہاو¿ س کے ترجمان نے کہا تھا کہ ٹرمپ کو خفیہ معلومات شیئر کرنے کے بارے میں جائزہ لیا جار ہا ہے ۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے کچھ ممبران پارلیمنٹ یہاں تک کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے بھی یہ جانکاری لیتے ہوئے سوال اٹھائے تھے۔ ایوان بالہ سینیٹ میں کل یعنی منگل سے تحریک ملامت (پارلیمانی مقدمہ )چلانے کی کاروائی شروع ہونی ہے ان پر یہ مقدمہ پارلیمنٹ میں ہوئے جھگڑے کیلئے کیا جارہا ہے حالانکہ ان کے بچ نکلنے چانس زیادہ ہیں مگر اس سے پہلے ایوان میں پوری تفصیل سے ان پر لگے الزامات پر بحث ہوگی۔ (انل نریندر)

جو سچ بولتا ہے اسے غدا ر یا دیش دشمن مانا جاتا ہے !

شیو سینا ایم پی سنجے راوت نے جمعہ کو ریپبلک ٹی وی کے چیف ارنب گو سوامی کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھایا انہوں نے راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کے ایڈریس پر شکریہ کی تحریک پر بولتے ہوئے کہا کہ دھرمیندر پردھان کہہ رہے ہیں کہ سچ سنا کرو اس سے نجات حاصل ہوتی ہے ہم تو چھ سال سے سچ سن رہے ہیں ۔ اور جھوٹ کو بھی سچ مان رہے ہیں ۔ لیکن آج جو دیش میں ماحول ہے اس میں جو سچ بولتا ہے اسے غدار یا ملک دشمن کہا جاتا ہے ۔ جو سرکار سے سوال پوچھتا ہے اور پر ملک دشمن کو مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے ہمارے ایوا ن کے ساتھی سنجے سنگھ پر دیش دشمن کا مقدمہ ہے اور وہیں نام ور صحافی راج دیپ سر دیشائی جسے سرکار نے پدم شری دیا ہے اس پر بھی ملک سے بغاوت کا مقدمہ لگا دیا گیا ہے ،ششی تھرور جنہوں نے اقوام متحدہ میں بھارت کیلئے کام کیا ان پر یہی مقدمہ عائد کردیا گیا ہے ۔ ایسے ہی سندھو بارڈ رپر روپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا ہے ۔ سنجے راوت نے کہا ہمارے قانون کی کتاب میں آئی پی سی کی ساری دفعات ختم کر دی گئیں ہیں اور صرف ملک دشمن کا قانون برقرار رکھا گیا ہے مودی کو زبردشت اکثریت ملی ہے ہم اس بات کو مانتے ہیں لیکن حکومت اکثریت کے غرور سے نہیں چلتی اکثریت بڑا اوزار ہوتا ہے ہمارے مراٹھی کے سنت تکارام نے کہا کہ آپ کا جو اصول ہے اسے آس پاس رکھنا چاہئے لیکن آج کے وقت میں جو بھی سرکار کی تنقید کرتا ہے اسے بدنام کر دیا جاتا ہے۔ 26جنوری کو ہمارے قومی پرچم کی توہین ہوئی اور ہمارے وزیر اعظم دکھی ہوئے پورا دیش دکھی ہوگیا ہے لیکن لال قلعے پر ترنگے کی توہین کرنے والا کس کا آدمی ہے ؟ اس بات پر یہ چھپ رہتے ہیں ۔ دیپ سدھو ابھی تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا 200سے کسانوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔ ہمارے دیش میں ابھی دیش پریمی صرف ارنب گوسوامی ہے ۔ جس کی وجہ سے ایک بے قصور آدمی کو مہاراژشٹر میں خودکشی کرنی پڑی کنگنا رنوت دیش پریمی ہیں ارنب گوسوامی نے بالا کوٹ کی معلومات سب کو پہلے ہی بتادی اور اسے حکومت کی سیکورٹی ملی ہوئی ہے یہاں ارنب گوسوامی نے وزیر پرکاش جاویڈکر کے بارے میں کیا نہیں لکھا ؟ اس نے جس زبان کا استعمال کیا اس پر ہم سب کو شرم آنی چاہئے سنجے روات نے مزید کہا جب سکھوں نے مغلوں سے لڑائی کی تب انہیں دیش بھکت کہا گیا انگریزوں سے لڑا تو دیش بھکت کہا گیا اور ہم اب اپنے ہی حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں تو انہیں خالستانی کہا جا رہا ہے ۔ کسان آندولن کی حمایت میں 75سابق افسران کے ایک کھلے خط میں کہا گیا ہے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہرے کی تئیں مرکزی حکومت کا رویہ شروع سے ہی ٹال مٹول اور ٹکراو¿ بھرا رہاہے ایک ہندی کے اخبار جن ستا کے مطابق دہلی کے سابق ایل جی نجیب جنگ سمیت 75اعلیٰ افسران کی طرف دستخط شدہ خط میں کہا گیا ہے غیر سیاسی کسانوں کو ایسے غیر ذمہ دار حریف کے طور پر دیکھا جارہا ہے جن کا احترام کیا جانا چاہئے اور ان کی ساکھ خراب نہیں کی جانی چاہئے جنہیں ہرایا جانا ہے یہ سبھی لوگ آئینی ضابطہ گروپ کا حصہ ہیں خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے رویے سے کبھی کوئی حل نہیں نلکے گا اگر بھارت سرکار واقعی دوستانہ طریقے پر حل چاہتی ہے تو اسے اوچھے من سے قدم اٹھانے کے بجائے قانون واپس لینا چاہئے ۔ (انل نریندر)

مرکز کی تجویز سے دہلی سرکار سے ٹکراو ¿ بڑھے گا!

جب سے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت بنی ہے اختیارات کو لیکر آئے دن ٹکراو¿ کے حالات بنے رہتے ہیں ۔ لفٹیننٹ گورنر کے بہانے مرکز اور ریاستی سرکار کے اختیارات کا معاملہ بہت بڑھ گیا تو سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی اور کچھ وقت تک پھر حالات بحال ہوگئے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے اختیارات کا صاف طور پر بٹوارہ ہو یہی وجہ ہے کہ کچھ وقفے کے بعد پھر کوئی ایسا اشو یا نکتہ سامنے آجاتا ہے جس پر دہلی اور مرکزی سرکار کے دمیان کھینچ تان بڑھنے لگتی ہے اب بدھ کے روز مرکزی حکومت نے جس طرح لیفٹننٹ گورنر کو زیادہ اختیارات دینے کی ایک تجویز کو کیبنٹ نے منظوری دی ہے اس سے صاف ہے کہ دہلی سرکار کے ساتھ ایک بار پھر ٹکراو¿ کے حالات بنیں گے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر و دہلی حکومت کے اس دمیان اختیارات کو لیکر جاری جنگ کے درمیان اب مجوزہ بل میں ایل جی کو دہلی سرکار کو طے حد میں آئینی اور انتظامی تجاویز پندرہ دن پہلے بھیجنے ہونگی ایسے اشو پر جس پر ایل جی اور دہلی سرکار کے نظریات ایک جیسے نہیں ہونگے اسے آخری منظوری کیلئے صدر جمہوریہ کے پاس بھیجنے کی سہولت تو ہے ہی ۔نئے تجویز میں کہا گیاہے جب تک صدر فیصلہ نہیں لیتے ایل جی کو فیصلہ لینے کا اختیار ہوگا۔ بشرطیہ کہ وہ معاملہ ایسا ہو جس پر فوری فیصلہ کرنا ضروری ہو عام معاملوں میں ایل جی کو یہ اختیار نہیں ہوگا ۔ یہ سہولت اس لئے اہم ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ دہلی سرکار کو ہرمعاملے میں ایل جی سے توثیق کروانا ضروری نہیں ہے ۔ بلکہ انہیں جانکاری دی جاسکتی ہے اس فیصلے کے بعد ایل جی کی طاقت کچھ حد تک کم ہوگئی تھی ایل جی کے اختیارات بڑھانے کو لیکر سرکار کی طرف سے باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن پارلیمنٹ کے اسی سیشن میں یہ بل پیش ہوسکتا ہے جس پر حکمراں فریق اور اپوزیشن میں ٹکراو¿ بڑھ سکتا ہے حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ترامیم سے گورنرس میں بہتری آسکتی ہے اختیارات کی واضح تفصیل کو لیکر سپریم کورٹ نے جنوری 2019میں آئے فیصلے کے بعد اختیارات کو وضاحت کرنے کی ضرورت پڑی ہے ۔ ظاہر ہے ،اس تازہ تجویز سے دہلی سرکار کی طرف سے سوال اٹھنا ایک معمولاتی حصہ ہے دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے دہلی میں جنتا کے ذریعے چنی گئی سرکار کے اختیارات چھین کرلیفٹننٹ گورنر کو دینے کا کام کیا گیا ہے ۔ اور اب دہلی سرکار کے پاس فیصلے لینے کی طاقت نہیں رہے گی ۔سوال یہ ہے کہ اگر دہلی سرکار کا یہ الزام صحیح ہے تو مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ جمہوریت اور آئین کے خلاف کیا گیا ہے یہ بات قابل تشویش ہے کہ کیا مرکزی کیبنٹ کے اس ترمیم کے ذریعے سچ میں دہلی سرکار کے اختیارات کو محدود کیا جار ہا ہے ؟ یقینی طور پر دہلی میں جمہوری طریقے سے چنی گئی سرکار اور اپنی حد میں کام کرنے کا اختیار ہونا چاہئے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی پہلو ہے کہ دہلی قومی راجدھانی بھی ہے اور اس ناطے مرکزی حکومت کو ممکنہ پالیس سطح پر کئی معاملوں پر دھیان رکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہوگی ۔ کہا جا رہا ہے کہ تازہ ترمیم انتظامیہ کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اور دہلی سرکار اور ایل جی کے درمیان ٹکراو¿ کم کرنے کیلئے کئے جا رہے ہیں ۔ لیکن آئینی اور انتظامی تجویز پر آگے قدم بڑھانے کے لئے ایل جی کے پاس بھیجنے کی جو شرط رکھی گئی ہے ،کیا اس سے آنے والے دنوں میں مرکز اوردہلی سرکار کے درمیان آنے والے کھینچ تان اور ٹکراو¿ کے حالات اور نہیں بڑھیں گے ؟ اور آئین سازیہ اور انتظامیہ کے کام میں اگر کوئی ٹکراو¿ یا تعطل پیدا ہوتا ہے اس سے کسی کا فائدہ نہیں ہوگا۔ اور ٹکراو¿ضرور بڑھے گا۔ (انل نریندر)

07 فروری 2021

نئے میسجنگ ایپ کا سہارا لیتے آتنکی !

واٹس ایپ جیسے میسجنگ سروس کو لیکر بحث جاری ہے ۔ اس درمیان خبر ملی ہے پاکستان میں سرگرم آتنکی تنظیموں نے ایک نئے ایپ کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے ان میں ترکی کی ایک کمپنی کی طرف سے بنایا گیا ایپ بھی شامل ہے جموں کشمیر کے سینئر سیکورٹی افسران نے بتایا کہ دہشت گردوں کےساتھ ہوئی موڈ بھیڑ میں ملے ثبوتوں اور سرینڈر کرنے والے دہشت گردوں سے پاکستانی تنظیموں کی ناپاک سازش پر ملی جانکاری کی بنیاد پر تین نئے میسجنگ ایپ کا پتہ چلا ہے جن میں اسے ایک امریکہ اور دوسرا یوروپی کمپنی نے بنایا ہے تیسرا ایپ ترکی کی کمپنی نے بنایا ہے ۔ کشمیر وادی میں کارندوں کی بھرتی میں لگے آتنکی لگاتار ان تینوں ایپ کا استعمال کر رہے ہیں ۔ لیکن حفاظتی نظریہ سے ان کے نام نہیں بتائے گئے ہیں ۔ یہ نئے ایپ انٹرنٹ کی کم رفتار میں بھی کام کر سکتے ہیں ان کا ان علاقوں میں بھی استعمال ممکن ہے جہاں صرف سن 2000کی دھائی میں دستیاب ڈاٹا فور گلوبل ایولوشن یا 2Gانٹرنیٹ سروس دستیاب ہو ۔ معلوم ہو کہ مرکزی سرکار نے 2019میں جموں کشمیر کا خصوصی درجہ واپس لینے کے بعد وہاں انٹرنیٹ سروس ٹھپ کر دی تھی سال 2020کی شروعات میں وادی میں 2G سروس بحا ل کی گئی تھی سیکورٹی ایجنسیاں وادی میں پہلے سے ہی ورچول سم کارڈ کے خطرے سے لڑ رہی ہیں ۔ ایسے میں نئے ایپ ان کے لئے نئی چنوتی بن کر سامنے آئے ہیں ۔

کورونا کی زد میں آچکے ہیں 30کروڑ ہندوستانی !

آل انڈیا میڈیکل سائنس ریسرچ کونسل (آئی سی ایم آر)کے تازہ سروے (سیرو)میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دس برس یا اس سے 21فیصدی آبادی کے ماضی میں کورونا وائرس انفیکشن کی زد میں آنے کے ثبوت ملے ہیں اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں اصلاً کورونا انفیکشن متاثرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے پچھلے ہفتے سامنے آئے سیرو لوجیکل سروے کے اعداد و شمار کے مطابق دیش میں اب تک 30کروڑ آدمی یعنی ہر چوتھا شخص کورونا وائرس سے متاثر ہوچکا ہے حکومت نے سنیچر کو بتایا کہ آئی سی ایم آر کا تیسرا قومی سیرو سروے 7دسمبرسے 8جنوری کے درمیان کیا گیا تھا ۔ سروے پیش کرتے ہوئے آئی سی ایم آر کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر بلرام بھارگو نے بتایا کہ اس میعاد میں 18برس و اس سے زیادہ عمر کے 28,589؛لوگوں پر سروے کیا گیا جس میں 21.4فیصد لوگوں میں ماضی میں کورونا وائرس کی زد میں آنے کا انکشاف ہوا جبکہ دس برس سے 17برس کی عمر کے 25.3فیصد بچوں میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی جبکہ دیہاتی علاقو ں میں 19.1فیصد آبادی میں سارس سی او وی ۔2کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں ۔ جبکہ شہری جھگی بستیوںمیں 31.7فیصد پایا گیا ۔جبکہ 60برس سے زیادہ عمر کے 23.4فیصد بزرگوں کا بھی کبھی نہ کبھی انفیکشن کے زد میں آنے کا پتہ چلا ہے بھارگو نے بتایا سروے کی میعاد میں 7.71ہیلتھ ملازمین کے بھی خون کے سمپل لئے گئے اور ان میں سے25.7فیصد لوگوں کو ماضی گذشتہ میں انفیکشن کی زد میں آنے کی تصدیق ہوئی وہیں کورونا وائرس کے حالات کو لیکر وزارت صحت نے کہا دیش میں کورونا وائرس کی شرح 5.42فیصدہے اور یہ کم ہورہی ہے ۔ اور پچھلے تین ہفتوں سے دیش کے 47اضلاع میں کوئی بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا اور 251ضلاع میں ایک بھی کووڈ کی موت نہیں ہوئی مرکزی وزارت صحت نے کہاکہ بھارت نے محض 19دنوں کے اندر 45لاکھ لوگوں کو کووڈ 19کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے اور تیزی سے ویکسی نیشن پروگرام جاری ہے اور ٹیکہ لگوانے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے کورونا انفیکش سے ٹھیک ہوئے لوگوں کو دو خوراک کے بجائے صرف ایک انجیکشن لگانے کی ضرورت ہوسکتی ہے اگر وہ ماڈرن یا فائزر کا کو وڈ 19کا ٹیکہ لگوا رہے ہیںاور آنے والے وقت میں ٹیکہ کے سپلائی کے محدود ہونے کی صورت میں انجیکش کم کرنے کی تجویز بنائی گئی ہے آپ اپنے ڈاکٹر کے صلاح سے ہی ٹیکہ لگوائیں ۔ (انل نریندر)

پاک پر ایرانی سرجیکل اسٹرائیک!

پاکستانی دہشت گردوں کے مسلسل حملے سے ناراض ایران کی فوج نے امریکہ اور بھارت کی راہ پر چلتے ہوئے مبینہ طور سے پاکستان سر حد میں گھس کر سرجیکل اسٹرائیک کیا اور اپنے دو فوجیوں کو چھڑا لیا بتایا جاتا ہے کہ ایران کے انتہائی تربیت یافتہ ریولیشنری گارڈس نے پاکستانی آتنکی تنظیم جیش العدل کے اڈوں پر حملہ کر کے قریب ڈھائی سال سے قید میں رکھے گئے اپنے جوانوں کو چھڑالیا ایران کی نیوز ایجنسی کے مطابق جیش العدل ایک کٹر پسند وہابی دہشت گرد گروپ ہے جو جنوب مغربی پاکستان میں ایران کی سرحد پر سر گرم ہے ۔ فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ جیش العدل نے ہی فروری 2019میں ایرانی فوج پر حملے کی ذمہ داری لی تھی جس میں کئی ایرانی جوان ہلاک ہوگئے تھے ایرانی فوج نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر منگل کی رات اس سرجیکل اسٹرائیک کو انجام دیا ایران فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس کی کاروائی کامیاب رہی اور پچھلے ڈھائی سال سے قید العد ل کے قبضے میں قیدیوں کو چھڑا لیا گیا ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے ایرانی فوجی صحیح سلامت دیش واپس لوٹ آئے ہیں ۔ ایک ایجنسی کے مطابق 16 اکتوبر2018کو جیش العدل نے ایرانی فوج کے بارہ بارڈر گارڈس کا اغوا کیا تھا ۔ اس واقع کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں انجام دیا گیا اس کے بعد دونوں دیشوں کی فوج نے جوانوں کو چھڑانے کیلئے ایک مشترکہ کمیٹی بھی بنائی تھی اور جیش العدل نے ان میں سے پانچ قیدیوں کو نومبر 2018 میں چھوڑ دیا تھا 21مارچ 2019کو پاکستان ی فوج نے اپنی کاروائی میں ایرانی فوج کے دیگر چار افراد کو چھڑا لیا تھا ۔ واضح ہو کہ ایران نے اس تنظیم کو دہشت گرد انجمن اعلان کیا ہوا ہے یہ تنظیم ایران کے خلاف مصلحہ مہم چلائے ہوئے ہے اس میں بلوچ سنی مسلمان ہیں جو ایران میں سنیوں کے حقوق کی حفاظت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ بتادیں 2مئی 2011کو امریکی فوج کہ ایک اسپیشل کاروائی کے تحت پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں داخل ہوئے القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادین کو مار کر ساتھ لے گئے ۔ اسی طرح 28-29ستمبر 2016کی رات وہ شاید پاکستان کبھی نہیں بھول پائے گا جب ہندوستان پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں گھس کر آتنکی کیمپوں پر سرجیکل اسٹرائیک کرکے وہاں موجود کئی آتنکی مار گرائے تھے ۔ اب اس سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں پاکستان سرکار یا فوج کو ایران کے ذریعے کوئی کوئی جان کاری بھی دی گئی نہ ہی جان کاری تھی اسی وجہ سے دہشت گردوں پر آنن فانن حملے کے بعد پاکستانی فوجی بھی بچاو¿ میں کو د پڑے لیکن کئی گارڈس کے اسپیشل ٹریننگ یافتہ ایرانی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے ۔جیش العدل ایک وہابی بلوچ سنی مسلمانوں کی بنائی ہوئی تنظیم ہے یہاں کے مالدار لوگوں سے اسے پیسہ ملتا ہے اور بدلے میں وہ جنوب مشرقی ایران میں شہریوں و فوجیوں پر آتنکی حملے کرتا رہتا ہے وہیں ایران نے کئی بار پاکستان کو دہشت گردانہ سرگرمیاں روکنے کیلئے خبر دار کیا لیکن حملے جاری رہے ۔ اس واقع سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے پاکستان اپنی سرزمین سے ان آتنکی گروپوں کو نہ صرف الگ تھلگ کردیتا ہے بلکہ ان کی مدد بھی کرتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے او ر اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے جو بھارت سالوں سے کہہ رہا ہے ایک بار پھر پاکستان بے نقاب ہوا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...