Translater

16 جولائی 2011

دہلی میں سیکس ریکٹ بھی ہوا ہائی ٹیک


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 16th July 2011
انل نریندر
ایک زمانہ تھا کا سوشل مناظرکے معاملے میں ممبئی پہلا شہر ہوا کرتا تھا لیکن اب دہلی نمبر ون ہوگیا ہے۔تمام طرح کے فیشن ریستوراں ،ہوٹل وغیرہ اب دہلی میں بھی کھل چکے ہیں اور تو اور سیکس ٹریڈ میں بھی دہلی نمبر ون ہوگیا ہے۔ او ریہ دھندا ہائی ٹیک ہوچکا ہے۔دودن پہلے دہلی کی مہرولی پولیس نے ایک ہائی پروفائل سیکس ریکٹ کا پردہ فاش کرکے دودلالوں سمیت 5کال گرل کو گرفتار کیا ہے۔ان میں سے ایک لڑکی گروہ کی سرغنہ ہے جو اپنی کار سے لڑکیوں کو گراہک تک پہنچاتی تھی ایک لڑکی ممبئی جبکہ چار دیگر دہلی کے مختلف علاقوں کی رہنے والی ہیں۔ کافی امیر گھر سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں ان میں سے ایک دہلی پولیس کے حوالدار کی بیٹی بھی ہے یہاں ہم بتارہے ہیں آر ڈی اور مہنگی گاڑیوں میں سے ایک ہے اس کی قیمت 20سے 25سے شروع ہوکر 70سے 80لاکھ روپے کے درمیان بتائی جاتی ہے مختلف ماڈلوں کے حساب سے قیمت ہوتی ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب لڑکیوں کو دلال اتنی مہنگی گاڑیوں میں لے جاتے ہیں جو گراہکوں سے کتنا چارج کرتے ہوں گے؟ اتنی شاندار گاڑی میں جارہی لڑکیوں پر پولیس شبہ بھی نہیں کرسکتی۔اس لئے اس تھیوری کو تقویت ملتی ہے کہ ضروراس گروہ کے بارے میں پولیس کو کسی نے خبر کی ہے۔ اور اس کو چوکس کیا؟سیکس ریکٹ چلانے کے معاملے میں گرفتار نغمہ خاں کے بارے میں یقین کریں تواسے سونوپنجابن نے ہی پھنسواکر گرفتار کروایا ہے نغمہ نے ایک ہیڈ کانسٹبل اور ایک کانسٹبل کو سونو پنجابن کا ایجنٹ بتایا دراصل ان کانسٹبل اور سیکس ریکٹروں کے تعلق خاص طور سے سرخیوں میں ہیں نغمہ کا الزام ہے کہ اسی پولیس والے نے جسم فروشی کے کاروبار میں اس کی مخالف گروپ کے لیڈر کے اشاروں پر اس کی گرفتاری کی ہے۔ پچھلے دنوں دمکوکا میں گرفتار سونو پنجابن نے پکڑے جانے پر پولیس کے سامنے نغمہ کو دہلی کی سب سے بڑی جسم فروشی کے کاروباری کی سرغنہ بتایا تھا۔ نغمہ کے ساتھ گرفتار کئے گئے سنجے بھاٹیہ اور وجے بھاٹیہ دراصل سونو پنجابن کے رشتے کے بھائی ہیں لیکن یہ دونوں اس کے مخالف گروپ کے ساتھ تھے ۔
دکھ کی بات تو یہ ہے کہ راجدھانی دہلی جسم فروشی کے کاروبار کی منڈی بنتی جارہی ہے پچھلی کچھ دہائیوں میں دہلی کو ایک سے ایک بڑے سیکس ریکٹ گروہوں کے سرغنوں نے اپنا ٹھکانہ بنایا بات دودہائی کے پہلے کی کریں تو راجدھانی میں کرن نام کے سیکس ریکٹ کے ایک سرغنہ نے پاؤں پھیلاتے ہوئے سب کو چونکادیا تھا۔اس کے بعد انل شیرا کا نام سامنے آیا اس کے بعد کمل جیت نے کئی سال اس دھندے میں اپنا سکہ چلایا۔گریٹر کیلاش میں مقیم کمل جیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دیش کے سب سے بڑے سیکس ریکٹ گروہ کا سرغنہ تھا اس کے گروہ میں ہزار سے زائد لڑکیاں ہوا کرتی تھیں۔لیکن پولیس کا دباؤ بڑھنے پر وہ دہلی چھوڑکر بھاگتا رہا اور تھک ہار کر آخر کار کئی برس پہلے اس نے اپنا دھندہ بند کردیا اس کے بعد سونو پنجابن مقبول ہوئی اس کی خاصیت یہ رہی کہ گزشتہ 8برسوں میں اس نے کسی حریف گروہ کو دہلی میں پاؤں جمانے نہیں دئیے ۔ ذرائع کی مانیں تو کچھ برس پہلے راجیو رنجن عرف اچھاداری بابا نے جب دہلی میں اپنے پیر پھیلانے چاہے تو سونو نے اسے پکڑوادیا ۔ بابا نے ریکٹ میں بھی ہائی پروفائل لڑکیوں ماڈل ایئر ہوسٹس نامی گرامی کالجوں کی لڑکیاں تھیں۔ سونو پنجابن پر مکوکا لگا اور وہ تہار جیل میں بند ہے۔بہر حال راجدھانی دہلی دیش میں سیکس ریکٹ کے کاروبار میں بھی نمبر ون بن گئی ہے او ریہ سب کچھ دہلی پولیس کی ناک کے نیچے چل رہا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Call Girl, Daily Pratap, delhi Police, Sex Racket, Vir Arjun 

خون سے لہولہان ممبئی اور مرکزی وزارت داخلہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 16th July 2011
انل نریندر
ممبئی میں ہوئے سلسلے وار دھماکوں نے مرکزی وزارت داخلہ ،انٹلی جینس بیورو اور دہشت گرد معاملوں کی بڑی دھوم دھام سے بنائی گئی قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے)کی چوکسی اور باخبر رہنے کے سارے دعوؤں کی پول کھول کر رکھ دی ہے وزارت داخلہ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا اچھا ریکارڈ چل رہا تھا جنتا کو ان میں بھروسہ ہونے لگاتھا کہ آخر کار ایسا وزیر آیا ہے جس نے دھماکو ں کا سلسلہ تھوڑا ضرور روکا ہے 26نومبر 2008ممبئی حملوں کے بعد سے کوئی دھماکہ نہیں ہوا تھا چھوٹے چھوٹے بم دھماکوں کا سلسلہ تو چلتا ہی رہا لیکن جس طرح سے پارلیمنٹ ہاؤس یا اکشر دھام مندر یا ممبئی میں بڑے حملے ہوئے تھے ویسا کوئی نہیں ہوا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ کیلئے یہ دھماکے اس لئے بھی بڑی شرمندگی نظر آرہے ہیں کیوں کہ یہ ٹھیک اس وقت ہوئے ہیں جب آتنکی حملوں کے لئے خاص طور سے تشکیل این آئی اے کی ٹیم پہلے سے ہی ممبئی میں موجود تھی۔پیر کے روز داخلہ سکریٹری بھی ممبئی کے دورے پر بھی حالانکہ ان کا یہ دورہ ذاتی تھا لیکن وہ این آئی اے ٹیم ممکنہ خطرے کو کیسے نہیں بھانپ پائی، خاص طور پر جب پچھلے کچھ دنوں سے الرٹ پر تھی تمام سوالوں کے باوجود مرکزی وزارت میں ہوئی ردوبدل کی آنچ سے اپنی کرسی بچانے میں کامیاب رہے تھے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی شان میں آتنکیوں نے گستاخی کردی مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق جنوری سے اب تک تقریباً آدھا درجن خفیہ وارننگ کے بعد بھی دہشت گرد بدھو وار کو ممبئی میں 11منٹ کے فرق سے تین دھماکے کرنے میں کامیاب رہے جبکہ اس سلسلے وار دھماکوں سے کچھ گھنٹے پہلے ہی امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ہندوستان کو ممبئی سمیت کچھ شہروں میں ممکنہ آتنکی حملوں کی وارننگ دے دی تھی۔ اتنا ہی ممبئی میں 26نومبر2008کو ہوئے آتنکی حملے کے بنیادی ملزم عامراجمل قصاب کا 24واں جنم دن بھی بدھوار کو تھا ان سب کے باوجود سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی چوکسی دھری کی دھری رہ گئی وزارت آتنکی حملوں کے اندیشہ کو لے کر کس قدر لاپرواہ بنی ہوئی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں وزارت نے جب اپنی ماہانہ رپورٹ پیش کی تھی اس وقت اس بات کو لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی پچھلے 6مہینوں میں کوئی آتنکی حملہ نہیں ہوا شاید وزارت اس ممکنہ خطرے کو بھانپ نہیں سکی تھی مرکزی وزیر داخلہ کے طو رپر پی چدمبرم کے وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلی بار ہے جب کسی دہشت گرد تنظیموں نے ایک ساتھ تین دھماکے کئے دھماکے کرکے سیدھی چنوتی دی ہے اس سے پہلے ہوئے پُنے کے جرمن بیکری اور بنارس گھاٹ پر ہوئے دھماکے میں بھی وزارت کے ہاتھ ابھی تک خالی ہیں۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جرمن بیکری دھماکے میں وزارت ایک بار معاملے کو تقریباً کھولنے کا دعوی کرچکی تھی لیکن بعد میں اس معاملے کو غیر سلجھا قرار دے دیا گیا۔
بے شک بدھ کے روز ممبئی دھماکوں میں ممبئی کی عوام نے ہمیشہ کی طرح واردات کا مقابلہ حوصلہ صبر سے کیا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ممبئی اب ویسی نہیں رہی جیسی ہوا کرتی تھی ممبئی پر 1993سے اب تک آدھے درجن سے زائد آتنکی حملے ہوچکے ہیں جن میں 2008کا حملہ بھی شامل ہے اس سبھی حملوں میں کم ازکم 700لوگ مارے گئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب بھی تشدد رکنا کا نام نہیں لے رہا عام طو رپر ممبئی پر ہوئے حملوں کے پیچھے دلیل ہوتی ہے اگر بھارت کی مالیاتی راجدھانی اور تفریحی سرگرمیوں کے خاص مرکز پر حملہ ہوتا ہے تو وہ دیش کے لئے زبردست دھچکا ہوسکتا ہے ساتھ ہی ان حملوں سے دہشت گرد گروپ دنیا کی نظر اپنی طرف راغب کرسکتے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ یہ کہانی کا محض ایک سرا ہے ممبئی میں رہنے والے کئی لوگ آپ کو بتائیں گے کہ شہر 1993سے ڈھلان پر لڑکھڑانے لگا تھا جب بابری مسجد مسماری کے بعد پورا شہر دوہفتے تک فرقہ وارانہ فسادات میں جھلستا رہا فسادات کے دو مہینوں کے بعد انڈرورلڈ نے بدلہ لینے کی کارروائی کے طو رپر سلسلہ وار بم دھماکہ کئے جن میں 250سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں ،جن میں کئی مسلمان بھی تھے۔کئی لوگ مانتے ہیں کہ قانون کا سایہ اس دن سے اٹھنے لگا 1998میں دو جلدومیں فرقہ وارانہ فسادات پر آئی رپورٹ کو ہر حکومت نے نظر انداز کیا اور فسادات میں مبینہ طور سے شامل لیڈروں اور پولیس ملازمین پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن اسی وقت انتظامیہ نے ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جو بم دھماکوں میں شامل تھے اس سے سرکار پر الزام لگا کہ وہ مسلم مخالف ممبئی شہر میں رہ رہے دو بڑے فرقوں کے درمیان اعتماد ختم ہونے لگا۔ ممبئی شہر پر کافی سراہی گئی کتاب ’’ممبئی فیبلس‘‘کے منصف کا کہنا ہے ممبئی کو اب تک ایک قانون پسند اور روشن خیال شہر کی شکل میں جانا جاتا رہا ہے لیکن اب تک تصوارات تصویر بن چکا ہے۔ 1990کے درمیان سے ہی سیاست دانوں بلڈروں،جرائم پیشہ ہندو کٹر پسند ،مسلم کٹر پسندوں کی سازش اب شہر کی رگوں میں دوڑتی ہے اب بھی تصویر کچھ بدلی بدلی دکھائی نہیں دیتا شہر ان سازشوں سے چرمرا گیا ہے اسی لئے اس پر حملہ کرنا مشکل نہیں لگتا۔اس کی راتوں کی چمک ،فلمی ستارو ں کے بنگلہ ، ہندوستان کے سب سے امیرشخص کی سب سے مہنگی عمارت ،اور ان سب پرتوں کے نیچے ممبئی شہر ایک تھکا ہوا کڑواہٹ سے بھرا ہوا شہر بن کر رہ گیا ہے۔اس کی بڑی آبادی جھونپڑپٹیوں میں رہتی ہے ۔ہزاروں لوگ آج بھی سڑکو ں پر رات گزارتے ہیں ۔ ان سب کے چلتے شہر خوش نما نہیں ہوسکتا ہر دھماکہ یا آفت کے بعد ممبئی اسپرٹ کا حوالہ اب بوسیدہ ہوگیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Bomb Blast, Congress, Daily Pratap, Mumbai, NIA, P. Chidambaram, Vir Arjun

15 جولائی 2011

کیبنٹ ردوبدل : پرانی بوتل میں نئی شراب


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 15th July 2011
انل نریندر
آخر کار وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی کیبنٹ میں کافی دیر انتظار کرا کر ردوبدل کر ہی دی ہے۔ وزیر اعظم نے اسے اپنی وزارتی کونسل کی آخری ردوبدل اعلان کرکے اس کی پائیداری کا اشارہ تو دے دیا لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ وہی پرانی بوتل میں نئی شراب ڈالنے کے برابر ہے۔ کھودا پہاڑ اور نکلی چوہیا ثابت ہوا ہے۔ چاروں طرف سے گھری منموہن سرکار سے امید کی جاتی تھی کہ وہ ایسی ردو بدل کریں گے جس سے آنے والے دنوں میں اس حکومت کی گرتی ساکھ اور بھروسے پر لگام لگے۔ امید تو یہ بھی کی جاتی تھی کہ اہم وزارتوں میں بھی ضروری تبدیلی کرنے کی ہمت دکھائیں گے۔جس سے منہ پھاڑتے مسائل سے نمٹنے کیلئے عزم نظر آئے۔ لیکن وزیر اعظم پھر لاچار سیاستداں و ریمورٹ سے چلنے والے وزیر اعظم ثابت ہوئے ہیں۔ نہ تو وزیر مالیات بدل سکے اور نہ ہی وزیر داخلہ۔ ہاں کچھ نئے نوجوان چہروں کوکیبنٹ میں ضرور شامل کیا گیا ہے جس میں راہل گاندھی کا بڑھتا اثر صاف جھلکتا ہے۔ ماحولیات وزارت سے جے رام رمیش کا تبادلہ صاف اشارہ کرتا ہے یہ حکومت محض صنعت کاروں کوخوش کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جے رام رمیش کو دیہی ترقی وزارت دے کر اپنا سیاسی فائدہ دیکھ رہی منموہن سرکار کو ویدانتا ، کوسکو اور لواسا سمیت ماحولیات سے وابستہ تمام معاملوں میں بڑھتے کارپوریٹ ورلڈ کی مداخلت پر لگام لگانے والے وزیر کو ہٹانے کا جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ کیبنٹ ردوبدل نے وزیر اعظم کے اتحاد کی اس سیاسی مجبوری کو بھی اجاگر کیا ہے جس کا ذکر انہوں نے مدیروں کے ساتھ کیا تھا۔ ڈی ایم کے کیلئے دو وزارت کے عہدے محفوظ رکھنے کے اتحادی دھرم بتا رہے منموہن سنگھ نے دراصل اسی اتحادی دھرم کا ثبوت دیا ہے۔ جیسے ممتا کے دباؤ میں ریل وزارت انہی کے نمائندے کو دے دی گئی ہے۔ بیشک وہ اس وزارت کے قابل ہوں یا نہ ہوں۔ وزیر اعظم کی یہ کیبنٹ ردوبدل محض سیاسی ضرورت کے حساب سے کچھ خالی جگہ بھرنے کی ایک کوشش کا آئینہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کا صاف سندیش تو یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم پر سونیا گاندھی کی بالادستی اور درمیانے طبقے کی سیاست بھاری پڑی۔ اس لئے وزارت داخلہ ،مالیات ، ڈیفنس اور خارجہ سمیت تمام بڑے محکمو ں میں ادھر ادھر کرنے کی وزیر اعظم کی چاہت کانگریس کے سیاسی کردار کے بیریئر کو توڑ نہیں پائی۔ اگر بینی پرساد ورما کو کیبنٹ سطح اور راجیو شکلا کو اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ اتر پردیش میں اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں تو پنجاب کا کوئی نمائندہ کیوں نہیں لیا گیا۔ کیونکہ چناؤ تو پنجاب میں بھی ہونے والے ہیں۔ ویرپا موئلی کو وزارت قانون سے ہٹا نے کے پیچھے ان کی اپنی ذمہ داریوں کی صحیح طرح سے تکمیل نہ رہی ہے۔ کیا سرکار یہ چاہتی تھی کہ موئلی اس کے سارے غلط کاموں کا بچاؤ کرتے؟ اگر یہ وزیر اعظم کی کیبنٹ میں آخری ردوبدل ہے جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے تو اس کی امید کم ہی ہے کہ سرکار کا چال چلن بدلے گا اور کچھ بہتر ہونے کی امید رکھی جائے۔ اس ردوبدل کے ذریعے کوئی مثبت پیغام دینے کی کوشش کررہی ہے۔ مرکزی اقتدار کے لئے سب کچھ نہیں ہوسکتا ۔ دو نیتا تو وزارت میں حلف لینے نہیں پہنچے اور باقی میں ناراضگی کا لاوا پھوٹ گیا ہے۔ اس لیپا پوتی سے پتہ نہیں یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کو کتنا فائدہ ہوگا؟
Tags: Anil Narendra, Cabinet, Daily Pratap, Manmohan Singh, Prime Minister, Sonia Gandhi, UPA, Vir Arjun

ایک بار پھر ممبئی شہر بنا آتنکیوں کا نشانہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 15th July 2011
انل نریندر
پچھلے کافی عرصے سے ہندوستان پرکوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا تھا۔ حملے تو ہوتے رہے ہیں لیکن کوئی سلسلہ وار ٹائم بلاسٹ نہیں ہوئے تھے۔ یوں تو تین دن پہلے آسام کے کام روپ دیہات ضلع کے رانگیا کے پاس ایک دھماکے کے بعد گوہاٹی پوری حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے مقامی شرپسندوں کا ہاتھ تھا۔ اس حادثے میں 50 سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بدھ کے روز ممبئی میں جیسا دہشت گرد حملہ ہوا ، ایسا حملہ کافی دنوں کے بعد ہوا ہے۔ ہم بھول گئے تھے کہ ایسے حملے پھر ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اس سلسلہ وار دھماکے کے بارے میں کوئی بھنک تک نہ لگ سکی۔ وزارت داخلہ نے مانا ہے کہ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کے بارے میں مرکز یا ریاستی حکومت کی خفیہ مشینری کو ذرا بھی بھنک نہ لگ سکی اور بدھ کی شام بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر ہوئے ان تین دھماکوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ پچھلے چھ مہینے کے دوران دہشت میں کوئی دہشت گردی کی واردات نہیں ہونے کے بعد سکیورٹی و خفیہ مشینری کافی حد تک بے پرواہ ہوگئی تھی۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے تین مقامات پر 10 منٹ کے اندر ہوئے جس میں21 لوگ مارے گئے، 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ سانتاکروز میں ایک غیر استعمال شدہ بم ملا جو نہیں پھٹا تھا۔ پچھلے 18 سال میں بدھوار کو 14 ویں مرتبہ ممبئی آتنکی حملے کا شکار ہوئی۔ قریب 6.15 بجے جھاویری بازار میں واقع چاندی و زیورات کے کاروباری دیپک سین نے اپنے نوکر سے میل منگوائی۔ وہ میل کی پڑیا کھول رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکے نے اس کی دوکان کی ٹیوب لائٹیں، شوکیس کے کانچ توڑ دیا۔ سین نے آگ کا ایک بڑا گولہ سا اوپر کی طرف جاتا دیکھا۔ سامنے کی کھانے پینے کی دوکانیں آگ پکڑ چکی تھیں۔ سامنے سڑک پر کھڑے پاپڑ بیچ رہے خوانچے والے کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ تین درجن سے زیادہ لوگ بری طرح جھلس کر زمین پر گر پڑے اور لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی پلوں میں لوگ پھر چوکس ہوگئے اور زمین پرپڑے بے سہارا زخمیو ں کو لیکر مطلوبہ گاڑیوں سے کے کے جی ٹی ہسپتال کی طرف جانے لگے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق جھاویری بازار میں کچھ لمحوں میں دو دھماکے ہوئے۔ بتایا جاتا ہے یہ دونوں دھماکے ایک موٹر سائیکل و ایک اسکوٹر میں رکھے گئے آتشی سامان سے ہوئے۔ تقریباً یہ ہی منظر کچھ منٹ کے اندر پہلے اوپرا ہاؤس پر پھر دادر ریلوے اسٹیشن کے پاس دوہرایا گیا۔ اوپرا ہاؤس ہیروں کے کاروبار کانہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑا مرکز ہے۔یہاں ہوا دھماکہ پنچ رتن بلڈنگ و پرساد چیمبر کے درمیان ٹاٹا روڈ کی کھاؤ گلی میں ہوا جبکہ دادر کا دھماکہ بیسٹ کے ایک بس اسٹاپ کی چھت پر کیا گیا۔ جھاویری بازار کو پچھلے 18 برسوں میں تیسری مرتبہ آتنکی حملے کا شکار ہونا پڑا ہے جبکہ دادر اور اوپرا ہاؤس میں پہلی بار دھماکہ کیا گیا ہے۔ بدھوار کو جھاویری بازار میں ہوئے دھماکے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جب ایک شہر میں دھماکے ہوں تو دوسرے بڑے شہروں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ میرے پاس کئی ایس ایم ایس آئے کہ دہلی کے ساکیت اور ڈیفنس کالونی میں بھی بم ملے ہیں۔ یہ سب ایک افواہ تھی اور دہلی میں اوپر والے کے رحم و کرم سے کوئی بم نہیں ملا۔
سوال یہ اٹھتا ہے یہ دھماکے کس نے کروائے اور کیوں؟ جہاں تک یہ کس نے کروائے اس کی صحیح معلومات تو بعد میں حاصل ہوگی شاید کبھی یقینی طور سے نہ مل سکے لیکن مقصد کا تھوڑا اندازہ ضرور ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے بار بار جھاویری بازار کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ بزنس کو متاثر کرنا مقصد ہے۔ اوپرا ہاؤس بھی ایک ایسا ہی بزنس سینٹر ہے۔ دونوں ہی مقامات پر بھیڑ ہوتی ہے۔ دھماکوں سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ صاف جھلکتا ہے۔ ممبئی میں سیریل دھماکوں میں جیسی تباہی پہلے مچتی رہی ہے ویسی اس بار نہیں ہوسکی، اس کی وجہ دھماکوں کا اتنا طاقتور نہ ہونا ہے۔ اس میں خراب پلاننگ بھی ہوسکتی ہے لیکن کیونکہ ان دھماکو ں میں آئی ڈی تکنیک کا استعمال ہوا ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی بڑی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے۔ یہ مقامی انڈر ورلڈ کا کھیل نہیں ہے۔ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی، لشکر طیبہ، داؤد ابراہیم گروہ کا ہاتھ ہو؟ یہ کسی ایسی تنظیم نے بھی کروائے ہوں جو ہند۔ پاک مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہو۔ پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے بات چیت کا دور طویل عرصے کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ حملہ اسے توڑنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔
اخباروں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ آئی ایس آئی کے اشارے پر ہوئے اس دھماکے میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد نے اس کام کو انجام دینے کا بیڑا اٹھایا۔ اس میں حزب المجاہدین، انڈین مجاہدین نے ساتھ دیا۔ ذرائع کے مطابق بدھوار کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھارت میں کچھ کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے داؤد سے کہا ۔آئی ایس آئی کی پہل پر داؤد اپنے گرگوں کے ساتھ چار ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ میں شامل ہوگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے داؤد کے کئی لوگوں کو لاہور کے بہاولپور میں ہتھیار چلانے اور کمانڈو ٹریننگ بھی دلوائی اور جو ابھی بھی جاری ہے۔جس طرح ممبئی میں دھماکہ ہوا ہے اس میں کم اور درمیانی صلاحیت والے بم کا استعمال کیا گیا۔ اس میں آئی ای ڈی کا بھی استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کے بم کا استعمال انڈین مجاہدین کرتے ہیں۔ حزب کی عادت ہے کہ بم دھماکے میں کسی ہندومذہبی مقام پر درمیانی صلاحیت کے بم کا استعمال کرتا ہے۔ ممبئی میں جھاویری بازار میں ممبا دیوی مندر کے پاس بم پھٹا ہے۔ اس کے علاوہ حزب المجاہدین بھی بم میں گاڑی کا استعمال کرتا ہے جو ممبئی میں ہوا۔انڈین مجاہدین ایک طرح سے لشکر کی سلیپر سیل کی طرح کام کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید اس پر اور مزید معلومات ملیں۔ بھارت کی خفیہ اور سکیورٹی مشینری کو چست درست کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسے حملے اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہمیں پوری طرح سے تیار رہنا ہوگا۔
Tags: 13/7, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, Hizbul Mujahid, India, Indian Mujahideen, ISI, Lashkar e Toeba, Mumbai, Osama Bin Ladin, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

14 جولائی 2011

سرکار سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے میں ناکام، بابا رام دیو کی جیت


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 14th July 2011
انل نریندر
اگرمرکزی وزارت داخلہ ، مرکزی وزیر شری کپل سبل اور دہلی پولیس نے یہ سمجھا تھا کہ رام لیلا میدان میں آدھی رات کو سوئے لوگوں پر کی گئی لاٹھی چارج وغیرہ کو سپریم کورٹ کے ججوں سے چھپا لیں گے تو بہت بڑی غلط فہمی میں تھے۔ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں سے اس رات پولیس نے کیا برتاؤ کیا اس کے بارے میں بصداحترام جج صاحبان کو پہلے ہی معلوم تھا۔ بصد احترام جسٹس ڈاکٹر بلبیر سنگھ چوہان و جسٹس سوتنتر کمار پہلے ہی سے تیار آئے تھے۔ انہوں نے اپنا ہوم ورک اچھے سے کر رکھا تھا۔ ان کے تلخ سوال اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔ بدعنوانی اور کالی کمائی کے مسئلے پر ستیہ گرہ کرنے پر رام لیلا میدان سے طاقت کے زور پر بے دخل کردہ بابا رام دیو نے رات کے اندھیرے میں ہوئی کارروائی کا ٹھیکرا سپریم کورٹ میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے سر پھوڑنے کی کوشش کی تھی ، وہیں اس کارروائی میں دہلی پولیس کے جواب سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جج صاحبان نے نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا۔ دونوں ججوں نے پیر کو دہلی پولیس سے کچھ چبھتے ہوئے سوال پوچھے۔ جج ایک سے تین جون کے درمیان کے واقعات کے ساتھ ہی ان حالات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے پولیس نے دیر رات بربریت اور ان کے حمایتیوں کو طاقت کے زور پر باہر کرنا پڑا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے رام لیلا میدان میں ستیہ گرہ کررہے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر 4 جون کی رات میں پولیس کی بربریت آمیز کارروائی پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے میں 6 جون کو منموہن سنگھ سرکار اور دہلی کی شیلا سرکار کے اعلی افسروں سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کمشنر بی کے گپتا سے بھی شخصی طور سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے پہلے بابا رام دیو کی جانب سے ان کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رام لیلا میدان میں نہتے ستیہ گرہیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کی جڑ ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کیونکہ بابا رام دیو کو دہلی سے بے دخل کرنے کا کوئی حکم نہیں تھا۔ اس لئے عدالت کو وزیر داخلہ سے شخصی طور سے جواب طلب کرکے پتہ لگانا چاہئے کہ اس بارے میں کب اور کن حالات میں فیصلہ لیا گیا تھا۔ جیٹھ ملانی نے الزام لگایا کہ پرامن طریقے سے ستیہ گرہ کررہے اشخاص نے ان ذیاتیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔
دونوں جج جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار پوری تیاری سے آئے تھے۔ انہوں نے کیس کے سارے پہلوؤں پر گہرائی سے مطالع کیا ہوا تھا اور بصد احترام ججوں نے دہلی پولیس سے سوال کیا کہ حکام کے ذریعے کی گئی ذیاتیوں کے خلاف یوگ گورو کے حمایتیو ں کی شرکت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی؟ عدالت عظمی نے کہا کہ پچھلے حلف نامے میں یہ صاف نہیں ہوپایا کہ یکم جون سے 3 جون کے درمیان کیا ہوا؟ اس نے کہا ڈی وی ڈی ، تصاویر اور دستاویزوں سے صاف طور سے پتہ چلتا ہے کہ اس جگہ پر یوگا کی پریکٹس کرائی جارہا تھی۔ عدالت نے حکام سے اس رات کی صفائی دینے کو کہا۔ کن حالات کے تحت انہیں رام دیو کا یہ پروگرام روکنا پڑا تھا۔ ڈویژن بنچ نے اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ پولیس نے تمبوؤں سے گھیرے گئے اس مقام سے لوگوں کو باہر نکالنے کیلئے آنسو گیس کے گولوں اور پانی کی دھار کا استعمال کیا ۔ سپریم کورٹ نے کہا یہ امید نہیں کی جاتی کہ کسی بھی گھیرے گئے حصے میں آنسو گیس اور پانی کی دھار کا استعمال کیا جائے۔ کیا ایسا نہیں تھا کہ رات ساڑھے گیارہ بجے جب لوگ سوئے ہوئے تھے تو آپ نے لاٹھیاں برسائیں؟ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کمشنر کسی سے بات چیت کررہے تھے۔
سپریم کورٹ نے پیر کو 4 جون کی پولیس کارروائی کوتار تار کر سرکار کو بے نقاب کردیا۔ پولیس کا جھوٹا حلف نامہ عدالت کو گمراہ نہیں کرسکا۔ پولیس اپنے اس دعوے کو ثابت نہیں کرسکی کہ اس نے آنس گیس اس لئے چھوڑی کیونکہ بابا رام دیو کے حمایتی تشدد پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لئے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ بابا رام دیو کو چاہئے کہ وہ دہلی پولیس کو راج بالا کی حالت کے بارے میں سپریم کورٹ میں آواز اٹھائیں۔ راج بالا زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ بابا کو چاہئے وہ اگلی سماعت میں خواتین حمایتیوں سے آبروریزی کی کوشش کا بھی ذکر کریں جیسا کہ انہوں نے الزام لگایا ہے۔ ہم بصد احترام ججوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کے دباؤ میں نہیں آئے اور انہوں نے اس کالی رات کے معاملے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, delhi Police, Kapil Sibal, P. Chidambaram, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

منموہن سنگھ کی حالت پر رحم بھی آتا ہے اور مایوسی بھی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 14th July 2011
انل نریندر
ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری دیش ہے۔ اور جمہوریت میں وزیر اعظم سب سے بڑا ہوتا ہے۔ کم سے کم ہونا تو چاہئے لیکن جب ہم اپنے وزیر اعظم کی حالت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں دکھ بھی ہوتا ہے اور مایوسی بھی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے نہ تو جنتا کے چنے ہوئے وزیر اعظم ہیں اور نہ ہی سیاستداں۔ وہ غیر سیاسی شخصیت ہیں۔ یہ وہ خود بھی مان چکے ہیں۔ اب تو ان کے انتہائی قریبی لوگ بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے سابق ساتھی و پریس مشیر سنجے بارو جو ان کے طریقہ کار سے اچھی طرح واقف ہیں ، نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ منموہن سنگھ کے پاس کوئی سیاسی طاقت نہیں ہے۔ سنجے بارو کا تبصرہ نہ صرف وزیر اعظم بلکہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے لئے بھی پریشانی کا سبب بنے گا۔ جن کے ہاتھ میں اقتدار کی ڈور ہے اور جو ’’ریموٹ ‘‘سے سرکار کو چلا رہی ہیں۔ سنجے بارو منموہن سنگھ کے بہت بھروسے مند شخص تھے اور انہیں پریس سکریٹری کے طور پر واپس لانا چاہتے تھے لیکن 10 جن پتھ نے اپنی ٹانگ اڑادی اور اپنے بھروسے مند شخص ہریش کھرے کی تقرری وزیر اعظم کے پریس سیکریٹری کے طور پر کروادی۔ سنجے بارو نے نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزیر اعظم کے پاس سیاسی اقتدار نہیں ہے اور انہیں اپنی طاقت کا استعمال کرنا چاہئے جو سیاسی سسٹم کی پیچیدگی کے سبب ایسا نہیں کرپا رہے ہیں۔ وزیر اعظم صرف پارٹی کے سیاسی نیتا ہی نہیں بلکہ دیش کے لیڈر بھی ہیں اور ان کے پاس یقینی طاقت ہونی چاہئے تاکہ وہ کچھ مشکل فیصلے سرکار کی طرف سے کر سکیں۔ سنجے بارو کے معمولاتی رابطے میں رہے کچھ سینئر صحافیوں کے مطابق سنجے بارو منموہن سنگھ سے مسلسل ملتے رہے اور انہیں صلاح دی ہے کہ اپنی پوزیشن میں بہتری لائیں۔ کیونکہ وہ پہلے ہی جنتا کا اعتماد کھوچکے ہیں۔ سنجے بارو نے وزیر اعظم سے بھی یہ کہا ہے کہ اگر ان کی پوزیشن گرتی ہے ایسے میں سونیا گاندھی کیا کرسکتی ہیں۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت اپنے وزراء تک ہی نہیں چلتی ۔اس کی تازہ مثال تب ملی جب ان کی کیبنٹ کے ایک وزیر مملکت نے ان کے احکامات کو نظر انداز کردیا۔ آسام میں ایک ٹرین پٹری سے اتر جانے کے ایک دن بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پیر کو ریل وزیر مملکت مکل رائے سے جائے حادثے پر جانے کو کہا تھا لیکن رائے نے ان کی بات نہیں مانی اور وہ وہاں نہیں گئے۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر نے ان کی ہدایت پر توجہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس وزارت کا چارج ہے ، نہ ہی ان کے پاس ۔ رائے نے کہا میں ریل منتری نہیں ہوں۔ وزیر اعظم ریل منتری ہیں۔ رائے نے کولکاتہ میں اخبار نویسوں سے کہا کہ میں تو بس تین وزیر مملکت میں سے ایک ہوں۔ وزیر اعظم ہی ریل منتری ہیں۔ رائے یہیں نہیں رکے انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا پٹری ٹھیک کردی گئی ہے اور معائنہ کرنے کے لئے وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ رائے نے اپنی پارٹی صدر ممتا بنرجی کے ساتھ جانا زیادہ ضروری سمجھا بہ نسبت وزیر اعظم کے حکم کی تعمیل کے؟ اب آپ ہی بتائیں کہ منموہن سنگھ کی حالت پر رحم بھی آتا ہے اور مایوسی بھی ہوتی ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Rail Accident, Vir Arjun

13 جولائی 2011

ڈوپنگ معاملے نے ہماری اولمپک امیدوں پر پانی پھیرا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 13th July 2011
انل نریندر
کامن ویلتھ کھیلوں میں جب ہندوستانی کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے میڈلوں کی جھڑی لگا دی تھی ، تو سبھی کو لگنے لگا تھا کہ اس مرتبہ جب اولمپکس آئے گا تو اس میں بھی ہندوستان شاندار کھیل کا مظاہرہ کرسکے گا لیکن پچھلے 15 روز میں جو کچھ ہوا اس سے ہر کھیل شائقین کو زبردست دھکا لگا ہے۔ 15 دنوں کے اندر بڑے 8 ایتھلیٹوں کے ڈوپنگ یعنی (نشے بازی ) میں پکڑے جانے کے معاملے نے پوری کھیل دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کا اثر اب دہلی سے لے کر این آئی ایس پٹیالہ تک دکھائی دینے لگا ہے۔ دیش کی ساکھ داؤ پر لگی ہے کیونکہ داغی کھلاڑیوں کے میڈل چھیننے سے بھارت کی میڈل فہرست چھوٹی ہوسکتی ہے۔ ڈوپنگ کے لئے محض غیر ملکی کوچ کو ذمہ دار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔آخر جب کھیل وزیر اس معاملے کے لئے افسر، کھلاڑی اور کوچ کو ذمہ دار مان رہے ہیں تو کارروائی سب پر کیوں نہیں؟ محض کوچ پر ہی کیوں، کیا اس لئے کہ وہ غیر ملکی ہے ، جس سے آسانی سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے اور زیادہ سوال جواب نہ ہو۔ بلا شبہ اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا کہ اس معاملے کی جانچ کیلئے ایک کمیٹی کی تشکیل دی گئی ہے۔ اس میں شبہ ہے کہ اس طرح کی جانچ کمیٹی سے شاید کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ شبہ اس لئے بھی ہے کہ 2009ء میں جب کئی کھلاڑی ڈوپنگ میں پکڑے گئے تھے تو وہاں کئی ہیوی ویٹ لفٹر فیڈریشن کے افسروں سے استعفیٰ لیکر معاملے کو رفع دفع کردیا گیا تھا۔ اگر اسی وقت اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی تو شاید دیش کو آج جو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے بچ جاتے۔ ڈوپنگ اسکینڈل سے دیش کے اولمپک تمغوں کے خوابوں پرپانی پھر گیا ہے۔ اشونی اکنجی، مندیپ کور اور سمی جوز اور منجیت کی جس ریلے چوکڑی اولمپک میں کم سے کم ایک ایک میڈل کی امید تھی جو ٹوٹ چکی ہے۔
ڈوپ کے جال میں8 ایتھلیٹ پھنسے ہیں۔ ان میں سے 3 سمی ، زونا اور ٹیانا کے بی نمونے بھی جمعرات کو پازیٹو پائے گئے ہیں۔ ان تینوں پر دو دو سال کی پابندی لگ سکتی ہے۔ ڈوپنگ کے اس معاملے کا اثر دیگر ایتھلیٹوں کے حوصلے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2012ء میں اولمپکس سے پہلے کھیلوں کی تیاریاں کہیں پٹری سے نہ اترجائیں۔ قریب ایک دہائی کی مشقت کے بعد تیار ریلے ٹیم کے ساتھ کوچ، ایکسپرٹ اور ڈاکٹر جڑے ہوئے تھے جو مستقبل میں درمیانی دوری کے دیگرایتھیلٹوں کے لئے بھی کارگر ثابت ہوتے۔ اب وہ گھڑی گذر چکی ہے۔ کھیل کیمپوں میں جوش کا ماحول ختم ہوچکا ہے۔ کھلاڑی اس اندیشے میں مبتلا ہیں کہ انٹرنیشنل ایونٹ سے پہلے انہیں ڈوپنگ کی منفی ساکھ سے نکلنا پڑے گا۔
کھلاڑی شاید ہی جانتے ہوں کہ کس دوا کا کیا اثر ہوتا ہے۔ کئی ماہرین اور نامی کھلاڑی عرصے سے اس کیلئے فیڈریشن اور ڈاکٹروں کے علاوہ اہمیت کے طور پر کوچ کو ہی ذمہ دار مانتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو اسٹرائڈ لینے کیلئے راغب کرنے کے معاملے میں اکثر کوچ ہی ذمہ دار پائے گئے ہیں۔ خاص طور پر غیر ملکی کوچ جو خود کو صرف ریزلٹ تک محدود رکھتے ہیں اور جنہیں دیش کی بدنامی سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ ڈوپنگ کا تازہ معاملہ یہ ہی بتاتا ہے کہ ابھی ایسا سسٹم نہیں بن سکا ہے کہ کھلاڑی ممنوعہ شے کا استعمال نہ کرسکیں۔ جس طرح ڈوپنگ کے رہ رہ کر معاملے سامنے آرہے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے یہ دعوی کرنا مضحکہ خیز ہوگا کہ بھارت ایک کھیل طاقت کی شکل میں دنیا میں ابھر رہا ہے؟
Tags: Anil Narendra, Athlete, Daily Pratap, Doping Test, Vir Arjun

راہل کی پد یاترا رنگ لا رہی ہے بسپا میں بوکھلاہٹ



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 13th July 2011
انل نریندر
راہل گاندھی کی کسان سندیش یاترا ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ اپوزیشن پارٹیوں میں بھی اس یاترا کے اثر سے پیدا صورتحال پر غور و خوض کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ راہل گاندھی نے پد یاترا کرکے سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کو دکھا دیا ہے کہ وہ جنتا کے درمیان جاکر ان کا دکھ درد بانٹنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ کسی اور پارٹی کے کسی بھی لیڈر نے حال ہی میں ایسی پد یاترا نہیں کی؟ اپنے گھروں کے ایئر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر سیاست کرنے والے لیڈروں کو اس نوجوان سیکٹریٹری جنرل نے یہ دکھا دیا کہ اگر آپ جنتا کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو سر آنکھوں پر بٹھا لے گی۔ کانگریس پارٹی کو اس پد یاترا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو ورکر پچھلے دو دہائی سے گھربیٹھے ہوئے تھے وہ اب باہر سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ پچھلی دو دہائی سے زیادہ ، جب سے پہلی بار کانگریس نے ملائم سنگھ یادو نے اتحاد کیا تھا ،تب سے کانگریس ورکر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گیا تھا۔ اب اتنے برسوں بعد اسے تھوڑی امید کی کرن ضرور نظر آئی ہے اور وہ باہر سڑکوں پر آگیا ہے۔ اگر راہل نے ایسی ہی پد یاترا مشرقی اترپردیش و دیگر حصوں میں بھی کرلی تو کانگریس کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے۔اتر پردیش کی بڑی اپوزیشن پارٹی راہل کی پد یاترا کا سیاسی فال آؤٹ کا جائزہ کرنے میں لگ گئی ہیں۔ چاہے بسپا ہو یا سپا یا پھر بھاجپا۔ سبھی پارٹیاں پھر سے اپنی حکمت عملی بنانے پر کچھ حد تک مجبور ہوئی ہیں۔ کانگریس کا اہم مقابلہ بسپا سے ہونے والا ہے۔
بہن جی نے بسپا تنظیم کی چولیں کستے ہوئے حکمت عملی میں ردو بدل کی ہے۔ پارٹی کی حکمت عملی میں سب سے زیادہ سیٹ جیتنے کی دوڑ میں سپا کو مات دینے کے ساتھ کانگریس کے عروج کو روکنے کیلئے بھی خاص توجہ دی جائے گی۔ مایاوتی نے پارٹی تنظیم و عہدیداران کی مسلسل میٹنگوں کے سلسلے میں ایتوار کو پارٹی کے زونل کوآرڈینیٹروں کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے لئے۔ پارٹی تنظیم کو ریاستی حکومت کے بے شمار کارناموں کی تعریفیں اور پبلسٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پارٹی الگ الگ ذاتوں کے درمیان نئے سرے سے دبدبہ بنانے کی نئی کوشش کرے گی۔
سرو سماج کے لوگوں کو اور زیادہ جوڑنے اور مینڈیڈ بڑھانے کے لئے پارٹی کے سبھی ذمہ دار لوگوں کو ہدایتیں بھی دے دی گئی ہیں۔ اب بسپا کے ایجنڈے نے پردیش کے پسماندہ علاقوں مشرقی اترپردیش و بندیلکھنڈ اوپر آگیا ہے۔مانا جارہا ہے کہ راہل گاندھی کی پدیاترا و کسان پنچایب حکمت عملی کے اگلے حصے کے طور پر یہی دونوں علاقے ہیں۔ لہٰذا بسپا ان علاقوں میں اپنے سرو سماج کے تجزیوں کو پہلے سے ہی درست کرلینا چاہتی ہے۔ ایتوار کو مایاوتی نے جو ہدایات جاری کیں اس سے صاف نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اترپردیش میں جلد چناؤ ہوسکتا ہے۔ بہن جی نے سبھی عہدیداران کو صاف کہہ دیا ہے کہ وہ تیار رہیں، چناؤ کبھی بھی ہوسکتا ہے۔ وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ کانگریس کو نشانے پر رکھیں۔ بدعنوانی، مہنگائی کے مسئلے کو لیکر اسے گھیریں۔ باخبر ذرائع کی مانیں تو تین گھنٹے تک چلی اس میٹنگ میں مایاوتی نے یہ تسلیم کیا کہ پارٹی کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ حالانکہ اس کیلئے انہوں نے باہر سے پارٹی میں آئے لوگوں کو ہی ذمہ دار مانا ہے۔ انہوں نے عہدیداران سے کہا کہ وہ جنتا کے درمیان جاکر یہ پروپیگنڈہ کریں کہ جو لوگ سرکار کی ساکھ خراب کررہے ہیں وہ بنیادی طور پر بسپا ئی نہیں ہیں۔ راہل گاندھی کی پد یاترا نے بسپا کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ کانگریس کی حکمت عملی یہ ہی ہے کہ 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں مقابلہ بسپا اور کانگریس کے درمیان ہوگا، اور کانگریس کو اجیت سنگھ کی حمایت تو مل ہی جائے گی، ملائم سنگھ یادو سے بھی کوئی نہ کوئی سیٹنگ ہو ہی جائے گی۔
Tags: Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Bhatta Parsaul, Congress, Daily Pratap, Greater Noida, Mayawati, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

12 جولائی 2011

کراچی میں دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 12th July 2011
انل نریندر
پاکستان کے شہر کراچی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ پاکستان کی کاروباری مانے جانے والی راجدھانی کراچی میں پچھلے پانچ چھ روز سے جاری تشدد میں ہزاروں خاندان پھنس گئے ہیں۔ کئی مقامات پر پھنسے لوگوں کو نیم فوجی فورس کی مدد سے علاقوں سے نکالا گیا ہے۔ حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ جمعہ کے روز حکومت نے دیکھتے ہی گولی مارنے کا فرمان جاری کردیا ہے۔ اس کے باوجود تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب تک مرنے والوں کی تعداد100 کے پار ہوچکی ہے۔ تشدد زدہ علاقوں میں ہزاروں لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں اور وہ محفوظ مقامات کے لئے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ فسادیوں کے ذریعے راکٹ داغنے اور گولہ باری سے ملک کی کمرشل راجدھانی میں پانچ دن سے تمام کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ کئی مقامات پر پھنسے ہوئے لوگوں نے مقامی ٹی وی چینلوں کو بتایا کہ انہوں نے چار دنوں سے کچھ کھایا پیا نہیں اور سڑکیں بند ہونے سے مسلسل گولیاں چل رہی ہیں جس وجہ سے وہ محفوظ مقامات کی طرف نہیں جا پارہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) نے تشدد کے خلاف ایک دن کا ’یوم ماتم‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود زیادہ تر دکانیں بند رہیں اور لوگ گھروں سے نہیں نکلے۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس برس جون تک کراچی میں1138 لوگ مارے گئے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تشدد کو کنٹرول کرپانے میں ناکام رہنے کیلئے پاکستان حکومت کی مذمت کی ہے۔
کراچی میں تازہ تشدد کے کئی اسباب ہیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے حکمراں محاذ چھوڑنے کے بعد حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی ) کے ساتھ ٹکڑاؤ بڑھ گیا ہے۔ اس کے بعد اقتدار میں شامل پشتو زبان بولنے والی اے ایم پی حمایتیوں اور اردو زبان بولنے والے ایم کیو ایم حمایتیوں میں نسلی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ 1947ء میں بھارت سے مہاجرین کی شکل میں پاکستان آئے تھے۔ اردو بولنے والے مسلمانوں کو پاکستان میں اتنے برس گذرنے کے باوجود آج بھی مہاجر کہا جاتا ہے۔ مہاجروں کی قیادت ایم کیوایم کرتا ہے۔ مہاجر اپنے ساتھ دوہرے برتاؤ کے سبب شروع سے ہی پشتونوں اور پنجابیوں کے ساتھ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ادھر پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے پچھلے پانچ دنوں سے کراچی کو دہلادینے والے تشدد کے واقعات کے لئے طالبان کو ذمہ دار قراردیا ہے۔ ان واردات میں کم سے کم اب تک 100 لوگوں کی جانیں تلخ ہو چکی ہیں۔ رحمان ملک نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کہا کہ لوگوں کو دہشت اور کشیدگی میں پہنچانے کیلئے پاکستان میں سرگرم طالبانی لوگ بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’’طالبان نے اپنے خلاف سکیورٹی فورس کے آپریشن کے دوران کچھ مقامات کو خالی کردیا لیکن پولیس اور قانون پر تعمیل کرنے والی ایجنسیاں ان کی تلاش کررہی ہیں۔ ‘‘ ملک نے دعوی کیا کہ کراچی کے شمالی حصے میں طالبان کا نیٹ ورک سرگرم ہے۔ وہ دیش کے سب سے بڑے شہر میں آتنک واد کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ آج اگر کراچی جل رہا ہے تو اس کے لئے پاکستان حکومت اور ان کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ تشدد کے چلتے پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری شہر کراچی کو زبردست اقتصادی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جیو نیوز نے خبردی ہے کہ کراچی میں کاروباری ادارے بند رہنے سے ہر روز 10 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔جیسے بیج بوؤ گے ویسی ہی فصل کاٹو گے۔ اگر کراچی کا حال بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے تو اس کے لئے خود پاکستان ذمہ دار ہے۔
Tags: Amnesty International, Anil Narendra, Daily Pratap, Karachi, MQM, Pakistan, Taliban, Terrorist, Vir Arjun

سلواجوڈوم، کویا کمانڈو توڑنے کا حکم



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 12th July 2011
انل نریندر
شاید چھتیس گڑھ میں سلواجوڈوم اور کویا کمانڈو کو توڑنے کے سپریم کورٹ کے حالیہ دئے گئے حکم کے پیچھے نظریہ یہ ہی رہا ہوگا کہ ماؤوادی ہوں یا کوئی دیگر علیحدگی پسند تنظیم اس سے لڑنے کیلئے حکومت قانون کا راستہ نہیں ترک کرسکتی۔ کویا کمانڈو کے تحت ایسے قبائلی نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا ہے جو نہ تو اچھے پڑھے لکھے تھے اور نہ ہی انہیں کسی باقاعدہ سرکاری فورس کی طرح تربیت دی گئی اور صرف تین ہزار روپے مہینے کا بھتہ دے کر انہیں ماؤ وادیوں سے لڑنے میں جھونک دیا گیا۔ اس سے ایک طرف یہ لڑکے اور ان کے رشتے دار ماؤ وادیو ں کے نشانے پر آگئے ہیں دوسری جانب جائز طریقوں اور قانون کے تئیں جوابدہی سے ان کے ناواقفیت رہنے کی وجہ ان کی کارروائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق اکثر سوال کھڑے ہوتے تھے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ حکومت ماؤ وادیوں سے ایسے نہیں لڑ سکتی۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا دوسرا پہلو بھی ہے کہ سب سے بڑی تشویش تو چھتیس گڑھ میں اسپیشل پولیس افسر (ایس پی او) جن کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے کی سلامتی کو لیکر فکرمند ہوگئی ہے۔ چھتیس گڑھ انتظامیہ و پولیس افسران نے بتایا تقریباً 4800 اسپیشل پولیس افسر اب نکسلیوں سے کیسے مقابلہ کرپائیں گے۔ وہ نہتے ہو جائیں گے اور نکسلیوں کے لئے آسانی سے نشانہ بن سکتے ہیں۔ راجدھانی میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹر میں ریاست کے سب سے زیادہ نکسلی متاثرہ علاقے بستر کے پولیس افسران کی میٹنگ میں جس میں بستر خطے کے سبھی ضلعوں کی پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ڈائریکٹر جنرل پولیس و ریاست کے اعلی پولیس افسر شامل تھے۔ میٹنگ میں سپریم کورٹ کے حکم پر تعمیل کو لیکر غور و خوص ہوا۔ سبھی کی رائے تھی کہ جب ایس پی او کی تقرری کی گئی تب انہیں ٹریننگ دی گئی اور انہیں ہتھیار بھی دئے گئے۔ ریاست میں نکسلیوں کے خلاف لڑائی میں ایس پی او نے اہم کردار نبھایا اور کئی تھانوں میں ایس پی او کی بدولت ہی پولیس کو تب نقصان ہوا اور کچھ مقامات پرپولیس نے کامیابی حاصل کی۔ وہیں ایس پی او کے مقامی ہونے کے سبب وہ سکیورٹی فورس کے لئے ابھی تک مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ ایس پی او وہاں کی مقامی بولی جانتے ہیں۔ وہاں کی جغرافیائی پوزیشن سے واقف ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کون نکسلیوں سے ملے ہوئے ہیں اور کون نہیں۔ یہ ہی نہیں علاقے کے کویا کمانڈو کی تشکیل ہونے کے بعد نکسلیوں کے لئے یہ سب سے بڑے درد سے ثابت ہوئے ہیں اور نکسلی انہیں اپنا سب سے بڑا دشمن مانتے ہیں۔ ایسے میں اگر ان سے ہتھیار لئے جائیں تو ان کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی۔
چھتیس گڑھ کے علاوہ جھارکھنڈ، اڑیسہ اور آندھرا پردیش جیسی کئی اور ریاستیں بھی نکسلی تشدد سے بری طرح متاثر ہیں۔ لیکن چھتیس گڑھ کو چھوڑ کر سلواجوڈوم جیسا تجربہ اور کہیں نہیں ہوا۔ آندھرا پردیش میں اسپیشل فورس کی تعیناتی سب سے کارگر ثابت ہوئی ہے۔ اس طرح کی پہل پر کسی عدالت کو اعتراض نہیں ہے۔ سلواجوڈوم کو اگر سپریم کورٹ نے مسترد کیا ہے تو اس کی بنیادی آئینی ہے جو کام پولیس یا سکیورٹی فورس کا ہے اس میں شہریوں کو نہیں لگایا جاسکتا۔ ماؤوادی یا نکسلی مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکومت ہند کی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔ اس ٹال مٹول والی پالیسی کی وجہ سے سکیورٹی فورس کو بھی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس مسئلے سے کیسے نمٹے۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم یقینی طور سے ان انسانی حقوق تنظیموں کی جیت ہے جو سلواجوڈوم کو منسوخ کروانے پر بہت دنوں سے لگی ہوئی تھیں۔ جہاں اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت کو سلامتی کے جائز اور آئینی طریقوں سے ہی ماؤ وادیوں سے نمٹنا بہتر ہوگا اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے پرائیویٹ ملیشیا (فوج) بنانا حل نہیں ہے۔ وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت کوئی دوررس و کارگر ماؤ وادی ، نکسلی تشدد سے نمٹنے کی ٹھوس پالیسی بنائے۔
Tags: Anil Narendra, Bastar, Chhattis Garh, Daily Pratap, Salwa Judam. Maoist, Supreme Court, Vir Arjun

10 جولائی 2011

عامر خان تم نے ’’دہلی بیلی‘‘ فلم کیا سوچ کربنائی؟



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th July 2011
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے عامر خان کی فلم ’’دہلی بیلی‘‘ کافی موضوع بحث ہے۔ فلم کے مقالے ، مناظر اور گانوں کو لیکر تنازعہ چھڑا ہوا ہے۔ میں نے آخر اس فلم کو دیکھنے ، سمجھنے کیلئے ہمت کی۔ میں نے فلم دیکھی اور مجھے فلم دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ مجھے عامر خان سے ایسی بے ہودہ فلم بنانے کی کبھی امید نہیں تھی۔ سنیما ہالمیں بیٹھ کر فلم دیکھنا مشکل ہوگیا۔ فلم کی نہ تو کوئی کہانی ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔ نہ تو یہ مزاحیہ، نہ گینگسٹر اور نہ ہی خاندانی فلم ہے۔ کہا جارہا ہے اسی لئے اسے فلم'A' کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے تاکہ نوجوان اور بچے اسے دیکھ نہ سکیں۔ لیکن سبھی جانتے ہیں کہ کتنے سنیما ہالوں میں یہ قانون کتنی سختی سے نافذ ہوتا ہے؟کیا کانپور، پٹنہ، ریواڑی یا پٹیالہ جیسے شہروں میں سنیما گھروں میں نوجوانوں کو جانے سے کوئی روکتا ہے؟ اس کا ایڈلٹ فلم ہونے کا کوئی بہانا نہیں ہے۔ فلم کے کچھ مناظر کسی پورن گرافی فلم سے ملتے ہیں۔ مقالوں میں اتنی گالیاں ہیں کہ ناظرین کو شرم آجاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آج کی نوجوان پیڑھی کو یہ سب اچھا لگتا ہو لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم ایسی فلمیں دکھا کر آخر سماج اور نوجوان پیڑھی کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ کہا یہ بھی جارہا ہے کہ فلم باکس آفس میں بہت اچھی جارہی ہے۔ باکس آفس سے ناظرین کو کیا تعلق؟ باکس آفس سے تو پروڈیوسر، ڈسٹری بیوٹر کا تعلق ہوتا ہے۔ میں نے کبھی بھی فلم کو اس لئے نہیں دیکھا کہ باکس آفس میں وہ سپر ہٹ ہے۔ نوجوان پیڑھی کو یہ فلم بہت پسند آرہی ہے۔ عامر خان اگر پوری پورن فلم (ننگی) بنا دیتے تو شاید اس سے بھی زیادہ ہٹ ہوتی اور زیادہ پسند کی جاتی۔ سوال انہیں یہ پوچھنا چاہئے کہ کہاں تو انہوں نے ’’لگان‘‘ اور ’رنگ دے بسنتی‘ جیسی بڑی اچھی فلمیں بنائیں اور کہاں یہ کوڑا کڑکٹ؟ عامر خان جی آپ اپنے بچوں کو کیا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟ طالبعلم زندگی کے بارے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے لیکن آج بھی طالبعلم و طالبات کے معاملے میں ماحول، سنیما، ٹی وی الگ الگ اثرات رکھتے ہیں۔ اس دور میں طاقت، توانائی، اہلیت کے امکانات بھرپور رہتے ہیں اور والدین کے ساتھ سماج اور قوم بھی اس نوجوان پیڑھی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اس فیصلہ کن دور میں پڑھائی لکھائی کے ساتھ عمدہ نظریات، عمدہ کلچر اور عمدہ معاشرہ سونے پر سہاگا جیسے ہیں۔ لیکن ان کے لئے ماحول ملنا تھوڑا مشکل ہوجاتا ہے سنیما نوجوانوں پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ ’دہلی بیلی‘ جیسی فلموں سے ہم اپنی نوجوان پیڑھی کو آخر کیا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟ یہ معاشرہ ہی نوجوانوں کی زندگی کے آخر تک کام آتا ہے۔ کیا ہمیں اس طرف دھیان دینا نہیں چاہئے؟ یا پھر محض فلم ہٹ ہونے سے ہی آپ کا تعلق رہ گیا ہے؟ اگر محض باکس آفس کو ہی دیکھا جائے تو شاید ’دہلی بیلی‘ فلم میں ڈی کے باس ، گانے، گالیوں کے استعمال اور فحاشیت پھیلانے کا الزام بے معنی نظر آئے گا۔ عامر خان نے دہلی میں اپنی پریس کانفرنس میں تب یہ کہا کہ پچھلے تین دنوں میں فلم نے26 کروڑ روپے کا کاروبار کیا ہے تو ان کا یہ ہی مطلب رہا ہوگا کہ میں بھارت کے سینسر بورڈ سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے اس فلم کو سرٹیفکیٹ کیوں دیا؟ ’ڈی کے باس بھاگ بھاگ‘ گانا اتنا بھاگا ہے کہ لفظ فحاشی اور بھدے ہونے کے باوجود اب رکنے والا نہیں۔ وزارت اطلاعات نے بھی سینسر بورڈ سے پوچھا ہے کہ آخر کیسے اس گانے کو پاس کردیا گیا ہے جبکہ اس گانے میں صاف طور پر گالیوں کی بھرمار ہے۔وزارت اطلاعات کو سینسر بورڈ سے یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے اس فلم کو کس بنیادپر ، کیا سوچ کر سرٹیفکیٹ 'A' دیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ جواب دے کہ اس لئے ہم نے اسے ایڈلٹ فلم کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ لیکن دیش کے کتنے ایڈلٹ فلم دیکھ رہے ہیں؟ سینسر بورڈ کے ممبر و صحافی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری پنکج شرما بھی اس فلم اورعامرخان سے ناراض ہیں۔ ناراضگی کا عالم یہ ہے کہ وہ خود سینسر بورڈ کے ممبر ہونے پر بھی افسوس ظاہر کررہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ سماج میں کئی سماجی برائیاں بھی ہیں تو کیا ہم انہیں بھی فلموں کے ذریعے پیش کریں گے، جیسا عامر خان اس فلم کے ذریعے سے گالیوں اور فحاشیت کا پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے اس فلم پر اپنا تحریری اعتراض سینسر بورڈ کے چیئرمین کے سامنے رکھا ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس فلم پر سینسر بورڈ اور وزارت اطلاعات و نشریات کو پھر سے سوچناچاہئے۔ یہ وزارت اطلاعات و نشریات وزارت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
فلموں کا نوجوانوں پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ فلم کی بات تو چھوڑیئے ٹی وی سیریلوں کا بھی اثر پڑتا ہے۔ پچھلے دنوں دہلی کی باشندہ ایک خاتون نے سی آئی ڈی سیریل دیکھ کر اپنے محبوب کو راستے سے ہٹانے کیلئے ایسی خونی سازش رچی کے پولیس بھی چکرا گئی۔ خاتون کی شناخت کرشنا 43 سال کی شکل میں ہوئی ہے۔ کرشنا نے اپنے محبوب کی 46 لاکھ میں سپاری دی۔ اسے اپنے ساتھ دوبئی سے دہلی لے کر آئی اور یہاں کرائے کے قاتلوں کو کمرہ دلوایا۔ محبوب کو یہاں لے کر آگئی اور شراب میں نشے کی گولیاں ملا کر پلانے کے بعد اس کو قتل کرکے وہاں سے فرار ہوگئی۔ یہ پوری کہانی اس نے سی آئی ڈی سیریل میں دیکھی تھی۔جس پر اس نے خود عمل کرلیا۔ جس وقت ’دہلی بیلی‘ ریلیز ہوئی تھی اسی وقت امیتابھ بچن کی فلم ’بڈھا ہوگا تیرا باپ‘ بھی ریلیز ہوئی تھی۔ یہ کتنی صاف ستھری فلم ہے۔ ان کے اینگری ینگ مین والے پرانے انداز کو نئے انداز میں دکھانے کی ایک اچھی کوشش ہے۔ ذرا اس کو مہذب کے دائرے سے باہر نکل کر دیکھیں تو اس فلم میں نیا نظریہ اور روشن خیالی کو ہمارے سامنے رکھا ہے۔ عام طور پر فلمی کہانیاں گہرائی میں جاکر ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش کرتی ہیں اور اسی میں ان کی خوبصورتی بھی ہے لیکن اس فلم میں وہ کئی بار زندگی کے ایسے کسی پہلو کو اجاگر کردیتی ہے جو عام سماجی نظریئے سے ہمیں نہیں دکھائی دیتا۔بڈھا ہوگا تیرا باپ‘ میں ایک بزرگ جرائم پیشہ سے نمٹتا ہے۔ سماج کو غلط عناصر سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک طرح سے فلم ایک بزرگ کی خود اعتمادی اور جوابدہی کے احساس کو دکھاتی ہے۔ ’دہلی بیلی‘ میں عامر خان کی کیا جوابدہی ظاہر کرتی ہے؟ ڈبل معنی ، مقالے ،ہاٹ سین اور گالیوں بھرے گانے کو لیکر اس فلم پر پابندی لگانے کی مانگ کو لیکر داخل عرضی پر سماعت کے بعد مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے عامر خان کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے 12 جولائی تک جواب دینے کے لئے وقت دیا ہے۔ عرضی گذار ڈاکٹر اجے سیٹھ کا کہنا ہے کہ لوگ خاص طور سے عامر خان کو ایکٹنگ کی دنیا کا بھگوان مانتے ہیں اور انہوں نے کئی مشعل راہ فلمیں بنائی ہیں لیکن ان کی نئی پروڈیوس کردہ فلم ’دہلی بیلی‘ فحاشی ہے۔ اور اس میں گالیوں کا بھی خوب استعمال کیا گیا ہے جو کہ ہندوستانی معاشرے کے خلاف ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس میں کچھ بلو فلم جیسے مناظر ہونے کے باوجود سینسر بورڈ نے اسے کلیئر کردیا ہے۔ اس سے پہلے بھاری مخالفت کے سبب نیپال میں بھی اس فلم پر پابندی لگادی گئی تھی۔ میں نوجوان پیڑھی سے معافی چاہوں گا کہ میرے دقیانوسی نظریات سے شاید وہ متفق نہ ہوں۔
Tags: Aamir Khan, Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Belly, Vir Arjun

کیسے بنا شری پدمنابھ سوامی مندر



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th July 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ نے سات رکنی کمیٹی کو ترواننت پورم میں واقع شری پدمنابھ سوامی مندر کے تہہ خانوں کو کھولنے پر پابندی لگادی ہے۔ جسٹس آر وی روندرن اور جسٹس اے کے پٹنائک کی ڈویژن بنچ نے عرضی گذار شراون کوٹ کے راجہ رہے ،راجہ مارتنڈ ورما اور کیرل حکومت سے کہا ہے کہ وہ قدیم مندر کے تقدس اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے مناسب تجاویز کے ساتھ عدالت آئیں۔ اور راجہ مارتنڈ ورما کے وکیل نے جرہ کے دوران کہا کہ مندر پبلک پراپرٹی ہے اور راج پریوار کے کسی بھی فرد نے بیشمار دولت یا پراپرٹی پر کسی کے حق کا دعوی نہیں کیا ہے اور اس کا کوئی بھی حصہ خاندان کے کسی فرد سے وابستہ نہیں ہے۔ پراپرٹی بھگوان پدمنابھ سوامی کی ہے۔ مندر کی پراپرٹی کے بارے میں مورخوں کا کہنا ہے کہ اس خزانے کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے تو اس کی قیمت لگانا مشکل ہوگا پھر بھی کہا جارہا ہے کہ اس کی بازار مالیت 1 لاکھ کروڑ سے 10 گنا زیادہ ہوگی۔
پدمنابھ سوامی مندر شراون کوٹ شاہی فیملی نے بنوایا تھا۔ بھگوان وشنو کا یہ مندر کیرل کے قلعے کے اندر ہی بنا ہوا ہے۔ اس مندر کو 108 دویہ دشمے میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ دویہ دیشم یعنی وشنو جی کا گھر۔ یہاں بھگوان وشنو کی سوتی ہوئی مورتی ہے۔ شراون کوٹ کے راجہ اپنے آپ کو وشنو کا بھگت کو سیوک مانتے ہیں۔ مندر کے بننے کی کئی کہانیاں ہیں۔ اس میں سے ایک جو سب سے زیادہ مشہور ہے وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ دیواکر منی نے بھگوان کرشن کی تپسیا کی تھی اور انہیں درشن دینے کو کہا۔ بھگوان ایک شرارتی بچے کی شکل میں انہیں درشن دینے آئے اور پوجا کے لئے رکھے شیو لنک کو نگل گئے۔ منی نے غصے میں اس بچے کا پیچھا کیا لیکن وہ جاکر ایک بڑے پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔ اچانک وہ پیڑ گرگیا اور بھگوان وشنو کی مورتی میں بدل گیا۔ منی سمجھ گئے کہ وہ بھگوان وشنو کا ہی اوتار تھا۔ منی نے بھگوان سے کہا یہ مورتی بہت لمبی ہے اسے تھوڑا چھوٹا کریں تاکہ میں اور دوسرے بھگت ایک بار میں اس کے درشن کرسکیں۔ اتنا کہتے ہی وہ مورتی چھوٹی ہوگئی لیکن پھر بھی اس کا قد کافی بڑا رہا۔ آج بھی اس مورتی کو تین گیٹ والے مندر میں رکھا گیا ہے۔ اس کے دروازے سے وشنو جی کا سر دکھائی دیتا ہے۔ اسے شیو جی کی طرح پوجا جاتا ہے ، دوسرے دروازے سے پیٹھ دکھائی دیتیہے ، جس کی نابھ میں کمل کا پھول نکل رہا ہے اسے بھرما کا سوروپ کہتے ہیں اور تیسرے دروازے سے بھگوان وشنو کے پیر دکھائی دیتے ہیں ، جسے موکش کا دوار مانا جاتا ہے۔ کیرل کا یہ مندر کھجوراہوں کے مندروں جیسی فنکاریوں اور مورتی سے بھرا ہے۔ اسی وجہ سے ترواننت پورم کا نام ملا۔ ترواننت پورم یعنی بھگوان کا پوتر گھر۔
کیرل کے شری پدمنابھ سوامی مندر سے سونے کی اب تک کی سب سے بڑی برآمدگی ہوئی ہے۔ ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ خزانے کی اس برآمدگی نے ایک بحث چھیڑ دی ہے کہ پوجا استھلوں پرایشور کو کیا حقیقت میں گولڈ کی ضرورت ہے؟ لوگ پیلی چمکدار دھات کی پوجا کررہے ہیں یا پھر اپنے بھگوان کی۔ اب یہ مندر دنیا کا سب سے امیردھارمک استھل بن گیا ہے۔ویٹیکن کے بعد شاید پچھلے ہفتے سے اس بحث نے بھی زور پکڑا ہے کہ آخر یہ سونا کس کا ہے؟ بھگوان کا ہے یا پھر کیرل کے عوام کا؟
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Kerala, Kerala High Court, Raja Martande Verma, Shri Padmanabh Swami Temple, Supreme Court, Treasure, Vir Arjun

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...