Translater

21 مئی 2016

14 سال بعد گودھرا سانحہ کا کلیدی ملزم گرفتار

گجرات اے ٹی ایس نے بدھوار کو 2002ء کے سرخیوں میں چھائے خطرناک گودھرا کانڈ کے کلیدی ملزم فاروق محمد بھانا کو آخر کار گرفتار کرلیا۔ یہ 14 سال سے فرار تھا۔ غور طلب ہے کہ یہ گودھرا کی سابرمتی ایکسپریس ٹرین سے گھر لوٹ رہے 59 کار سیوکوں کو زندہ جلا کر مار ڈالنے کے واقعہ کا اہم سازشی ہے۔ بھانا کو اے ٹی ایس نے بدھوار کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پنچ محل ضلع میں ایک ٹول ناکے بندی پر دبوچ لیا۔ اے ٹی ایس کے ڈائریکٹر جنرل جے کے بھٹ نے بتایا کہ اس وقت وہ اپنے بیٹے سے ملنے ممبئی سے گودھرا آ رہا تھا۔بھٹ نے کہا کہ بھاناکلیدی ملزمان میں تھے ایک تھا۔ اسی نے 27 فروری2002ء کو گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے ڈبے ایس۔6 میں آگ لگانے کی سازش رچی تھی۔ 55 سالہ بھانا 2002 ء سے ہی فرار چل رہا تھا۔ ابتدائی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ گودھرا کانڈ کے بعد وہ فرضی پاسپورٹ بنواکر پاکستان چلا گیا۔ چال سال بعد وہ پاکستان سے لوٹا اور الگ الگ ریاستوں میں گھومتا رہا۔ بھٹ کے مطابق بھانا نے اپنا نام بدل کر شیخ عمر رکھ لیا اور ممبئی میں پراپرٹی لیڈر کا کام کرنے لگا۔ وہ مقامی بلدیاتی اداروں میں چھوٹے موٹے ٹھیکے بھی لینے لگا۔ اپنی پہچان چھپانے کے لئے اس نے گودھرا کانڈ کے بعد اپنی داڑھی بڑھا لی تھی۔ 
پچھلے دو مہینے سے اس پر نگاہ رکھی جارہی تھی۔ 2002ء میں جب یہ واردات ہوئی تب وہ گودھرا کے پولم بازار علاقہ سے کونسلر تھا۔ اس پر الزام ہے گودھرا ریلوے اسٹیشن کے قریب امن گیسٹ ہاؤس میں 26 فروری کو دیگر ملزمان کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں اس نے سابرمتی ایکسپریس کے ڈبے ایس۔6 میں آگ لگانے کی سچائی تیار کی تھی۔ بھانا نے کوچ میں آگ لگانے سے متعلق مولانہ حسین عمر جی کو خصوصی ہدایت میٹنگ میں دی تھیں۔ گجرات اے ٹی ایس کے مطابق گودھرا کانڈ کو انجام دینے کے لئے قریب 140 لیٹر پیٹرول کا انتظام بھانا کے کہنے پر کیا گیا تھا۔اس نے ایک دوسرے کونسلر بلال حاجی نے دیگر ملزمان کو مولانا عمر جی سے ملی ہدایات کے مطابق ٹرین کے ڈبے کو آگ لگانے کو کہا تھا۔ مولانا عمر جی کو اس واقع کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں چھوڑدیا گیا۔ بھٹ نے بتایا کہ میٹنگ میں ایک سلیم پان والا بھی شامل تھا جو ریلوے ٹکٹوں کی بلیک کیاکرتا تھا۔ اس کے علاوہ عبدالرزاق اور دوسرے کونسلر بلال حاجی سمیت دیگر لوگ بھی میٹنگ میں شامل ہوئے تھے۔ پولیس افسر بھٹ نے بتایا کہ گودھرا کانڈ کے سلسلے میں پولیس اب تک94 ملزمان کو گرفتار کرچکی ہے۔ 2011ء میں اسپیشل عدالت نے اس معاملے میں 11 ملزمان کو پھانسی اور20 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان لوگوں کا معاملہ فی الحال گجرات ہائی کورٹ کے پاس ہے۔ 7 ملزم اب بھی فرار ہیں۔ خیال رہے کہ 27 فروری 2002ء کو کٹر پسندوں نے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کی سلیپر بوگی ایس۔6 کو آگ کے حوالے کردیا تھا۔ اس ڈبے میں ایودھیا سے لوٹ رہے کار سیوکوں کو زندہ جلایا گیا تھا۔ اس کے اگلے دن گجرات میں دنگے بھڑک گئے ان میں 1 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے جلائی گئی ٹرین کا خود معائنہ کیاتھا۔ شری نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیر اعلی تھے۔ اس کانڈ کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ سے لیکر نچلی عدالت ،سکیورٹی ایجنسیوں نے مختلف سطحوں پر جانچ کمیٹیاں بنائیں۔ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی نریندر مودی کے خلاف آج تک ایک طبقہ نے مہم چھیڑ رکھی ہے اور ان پر گجرات دنگوں میں ڈھیل دینے کا الزام لگانے سے باز نہیں آتے۔ اب جب اہم ملزم فاروق محمد بھانا گرفتار ہوچکا ہے تو امید کی جاتی ہے کہ 2002ء میں سابرمتی ایکسپریس کانڈ کی پوری سچائی دیش کے سامنے آجائے گی اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

مسعود اظہر کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس

انٹرپول کی طرف سے پٹھان کوٹ آتنکی حملے کے بنیادی ملزم جیش محمد کے سرغنہ مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبدالرؤف کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری ہونا ہندوستان کی ڈپلومیٹک کامیابی ہی ہے۔ پٹھانکوٹ حملہ معاملہ میں مسعود اظہر اور رؤف کے خلاف این آئی اے کے غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد انٹر پول نے یہ نیا ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کے جاری ہونے پر دونوں دہشت گردوں کو کسی بھی دیش کی پولیس گرفتار کرسکتی ہے۔ ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کے لئے این آئی اے نے ویڈیو سمیت کئی ثبوت پیش کئے۔ مسعود اظہر کے تین ساتھیوں کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری ہوا ہے۔ ان میں عبدالرزاق ،کاشف خان، شاہد لطیف بھی شامل ہیں۔ عبدالرؤف ، مسعود اظہر کا بھائی ہے کاشف خان اور شاہد لطیف وہ لوگ ہیں جو پاکستان سے پٹھانکوٹ کے آتنکیوں کو ہدایت دے رہے تھے۔ مسعود اظہر کے خلاف یہ پہلا ریڈ کارنر نوٹس نہیں ہے۔ بھارت کی پارلیمنٹ اور جموں و کشمیر اسمبلی پر دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں اس پر پہلے بھی ایک ریڈ کارنر نوٹس جاری ہوچکا ہے۔ اسی طرح رؤف پر بھی 1999ء میں ہندوستانی ہوائی جہاز کواغوا کرنے کے معاملے میں ریڈ کارنر نوٹس جاری ہوا تھا۔ اس ریڈ کارنر نوٹس سے کسی سطح پر کوئی خاص فرق تو نہیں پڑے گا کیونکہ مسعود اظہر کھلے طور پر پاکستان کے علاوہ کسی اور دیش میں نہیں جاتا اس لئے ریڈ کارنر نوٹس جاری ہونے کے باوجود پاکستان کی صحت پر فوری طور پر اثر پڑنے کے آثار کم ہی ہیں لیکن پھر بھی اس کی اہمیت ضرور ہے۔ سب سے پہلے تو پاکستان کے کٹر حمایتی چین کے لئے اظہر کی طرفداری کرنا اب زیادہ مشکل ہوگا۔ اگر وہ اپنے دیش کے کسی شہری یا عیسیٰ ڈالکن کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کی بنیاد پر اس کے بھارت آنے کی مخالفت جتا سکتا ہے۔ پھر وہ ایسے ہی نوٹس سے دوچار مسعود اظہر کے حق میں کیسے دے سکتا ہے؟ صاف ہے کہ اگر مستقبل میں اقوام متحدہ کی سطح پر اظہر پر پابندی کے لئے نئے سرے سے پہل ہوتی ہے تو چین کو پاکستان کا ساتھ دینے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے گا۔ بہرحال پاکستان سے یہ امید تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ مسعود اظہر کے خلاف کارروائی کرے گا۔ پاکستانی فوج بھلے ہی دہشت گردوں کے خلاف زور دار کارروائی کا دعوی کررہی ہو لیکن یہ کارروائی صرف ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف ہے جو پاکستان میں گڑ بڑ کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت اگر چاہے بھی تو، مسعود اظہر اور لشکر کے چیف حافظ سعید کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی۔ پاک سرکار ہمیشہ یہی کہتی ہے کہ ان لوگوں کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لمبی لڑائی میں یہ نوٹس ایک چھوٹی سی کامیابی ہے۔ جو دیر سویر زیادہ بڑے نتیجوں پر پہنچ سکتی ہے۔
(انل نریندر) 

20 مئی 2016

فورڈ فاؤنڈیشن سے پابندی ہٹانے کیلئے 250 کروڑ کا آفر تھا:جوشی

غیر سرکاری انجمنوں (این جی او) کو مبینہ طور پر غیر قانونی ایف سی آر اے نوٹس بھیجنے کے معاملے میں گرفتار وزارت داخلہ کے اپر سکریٹری آنند جوشی نے سی بی آئی کے سامنے کئی سنسنی خیز انکشاف کئے ہیں۔ جوشی گرفتاری سے بچنے کیلئے بڑی سازش میں لگے تھے لیکن سی بی آئی نے عین موقعے پر انہیں دبوچ کر ان کا پلان بگاڑ دیا۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنے خاندان کو انگلینڈ بھیجنے کے فراق میں تھے، جس کے بعد وہ بھی ان کے پیچھے کسی طریقے سے جا سکتے ۔ معلوم ہوکہ سی بی آئی نے انہیں پچھلے ایتوار کو تلاش کرلیا۔ سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق وہ تلک نگر میں ایک گھر میں ملے۔ سی بی آئی کو کچھ اہم دستاویزات ملے ہیں جن سے اشارے ملتے ہیں کہ جوشی کئی این جی او کو پریشان بھی کررہے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ غیر ملکی ذریعے سے غلط طریقے سے فنڈ لینے کا کیس جھیل رہی سماجی رضاکار تستا سیتلواڑ کی این جی او سے جڑی فائلوں کو انہوں نے غائب کردیا۔ حالانکہ آنند جوشی نے الٹے ہوم منسٹری کے سینئر افسران پر ہی ذہنی اذیت کا الزام لگایا تھا۔ جوشی نے سی بی آئی کو پوچھ تاچھ میں بتایا کہ فورڈ فاؤنڈیشن سے پابندی ہٹانے کیلئے 200 سے 250 کروڑ روپئے لین دین کی بات چل رہی تھی۔ ساتھ ہی جوشی نے خود پر لگے الزامات اور اعلی افسران کے فیصلے پر کئی تکنیکی سوال کھڑے کئے ہیں۔سی بی آئی اس معاملے میں جوشی کے سینئر افسر اور شکایت کنندہ ایڈیشنل سکریٹری بی کے پرساد سے بھی پوچھ تاچھ کرے گی۔ سی بی آئی ذرائع کے مطابق جوشی کے بیان کو ریکارڈ کرلیاگیا ہے۔ اس کے سبھی پہلوؤں پر جانچ ہوگی۔ چار دن تک پراسرار طریقے سے لاپتہ جوشی کو سی بی آئی نے ایتوار کی شام کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ابتدائی پوچھ تاچھ میں ذرائع کے مطابق جوشی نے بتایا کہ بین الاقوامی این جی او فورڈ فاؤنڈیشن کے انڈیا چیپٹر کی طرف سے پابندی ہٹانے کے لئے نومبر۔ دسمبر مہینے سے200 سے250 کروڑ روپے کی پیشکش کی جارہی تھی لیکن وہ تکنیکی اسباب سے اس کی مخالفت میں تھے۔ ذرائع کے مطابق جوشی کا تبادلہ قریب 15 دن بعد فورڈ فاؤنڈیشن کو پابندی لسٹ سے ہٹا دیا گیا۔ تکنیکی طور پر اس فیصلے کے بعد فورڈ فاؤنڈیشن کو غیر ملکی پیسے کے لئے وزارت داخلہ کی منظوری کی ضرورت نہیں تھی۔ جوشی پر الزام ہے کہ انہوں نے قریب 50 این جی او کو غیر قانونی طریقے سے ایف سی آر اے نوٹس بھیجے تھے۔ اس کے علاوہ گجرات کی سماجی کارکن تستا سیتل واڑ کی انجمن ’سبرنگ ٹرسٹ‘کی فائلیں اپنے گھر لے گئے تھے جو ان کے دائرہ اختیار کے باہر تھا۔ اس الزام میں جواب میں جوشی نے کہا کہ بغیر اعلی افسر کے حکم کے وہ اتنی این جی او کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تھے۔
(انل نریندر)

پاک فوج کے چیف نے نواز شریف کو کٹہرے میں کھڑا کردیا

پاکستان میں پناما پیپرس کو لیکر وزیر اعظم نواز شریف مشکل میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ پاک فوج کے چیف جنرل راحیل شریف نے بدھوار کو وزیر اعظم سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی تھی۔ اس میں جنرل راحیل شریف نے ان سے جلد سے جلد معاملے کی جانچ شروع کروانے کو کہا۔ اعلی سطحی ذرائع نے بتایا کہ جنرل شریف کا کہنا ہے کہ پناما پیپرس کی جانچ میں پھیلے تنازعے سے پاکستان کا حکمرانی سسٹم اور قومی سلامتی دونوں ہی متاثر ہورہی ہیں اس لئے معاملے کو جلد سے جلد نپٹائے جانے کی ضرورت ہے۔ سرکار اپوزیشن دونوں نے ہی معاملے کی جوڈیشیل جانچ کس طرح سے آگے بڑھے گی اس پر اختلافات کی وجہ سے معاملہ اٹکا ہوا ہے۔
اپوزیشن نے نواز شریف سے ان سات سوالوں کے جوابات مانگے ہیں۔ پاکستان کی متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا ہے کہ وہ جب بھی پارلیمنٹ میں آئیں ان سوالوں کا جواب لے کر آئیں۔ کیا وزیر اعظم کے بیٹوں اور بیٹی کے اتفاق شوگر ملس اور چودھری شوگر ملس میں شیئر ہیں؟ کیا انہوں نے ٹیکس ریٹرن میں جو معلومات دی ہیں؟ کیا انہوں نے آف شور کمپنیوں سے ہونے والی آمدنی کو دکھایا ہے؟ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے کنبے کے مالکانہ حق والی آف شور کمپنیوں کے نام کیا ہیں؟ پی ایم اورا ن کے خاندان کے میفیئر اپارٹمنٹ میں کس طرح کے مفادات وابستہ ہیں؟ میفیئر اپارٹمنٹ خریدنے کے لئے پیسے کہاں سے آئے؟ کیا وزیر اعظم جانتے ہیں کلثوم نواز پہلے ہی میفیئر کو خریدنا قبول چکی ہیں؟ وزیر اعظم نے 1985 اور 2016 ء کے درمیان کتنی پراپرٹی خریدی؟ پناما پیپرس میں اپنے لڑکوں کا نام آنے کے بعد سے ہی نواز شریف الجھن میں ہیں اور اپوزیشن ا کے استعفے کے ساتھ پورے معاملے کی جانچ کی مانگ کررہی ہے۔ انہوں نے پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے جانچ کے لئے جوڈیشیل کمیشن مقرر کرنے کی بھی سفارش کی تھی، لیکن چیف جسٹس نے اسے جانچ کے موضوع اور کمیشن کا دائرہ اختیار واضح کرنے کی سفارش کے ساتھ حکومت کو تجویز بھیج دی تھی۔ وزیر اعظم کے لڑکوں کے خلاف الزامات ہیں کہ بیرونی ممالک میں ان کی کئی کمپنیاں ہیں جن میں جمع پیسے کا استعمال لندن میں پراپرٹی خریدنے کے لئے کیاگیا۔ لیکن وزیر اعظم نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ ان کے لڑکوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ شریف نے پاک پارلیمنٹ میں کہا کہ وہ ممبران کو اس بات سے باآور کرانا چاہتے ہیں کہ دیش سے ایک نیا پیسہ بھی باہر نہیں گیا۔ انہوں نے ممبران سے اپیل کی کہ وہ جانچ کے لئے کمیشن مقرر کرنے میں تعاون دیں۔ تحریک انصاف پارٹی کے لیڈر عمران خاں نے کہا ، ہم وزیر اعظم سے لمبی کہانی نہیں سننا چاہتے۔ دستاویزوں میں پوزیشن صاف ہے۔ میاں نواز شریف پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

19 مئی 2016

میونسپل ضمنی چناؤ نتائج:بھاجپا اور عاپ کو جھٹکا، کانگریس کو سنجیونی

قریب ایک برس کی میعاد کیلئے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے 13 وارڈوں میں ایتوار کو ہوئے ضمنی چناؤ بھاجپا ،کانگریس اور آپ تینوں کے لئے سیمی فائنل کی طرح تھے۔ نتیجے چونکانے والے مانے جاسکتے ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں بھاجپا کی۔اس کے لئے نتیجہ مایوس کن رہا کیونکہ تینوں ایم سی ڈی میں اس کی حکومت ہے پارٹی لیڈر شپ دعوی کررہی تھی کہ کارپوریشنوں میں اس کی پرفارمینس اس چناؤمیں اس کی جیت یقینی کرے گی لیکن صرف تین سیٹیں ہی جیت کر یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ لیڈروں کی غیرموجودگی اس پارٹی کو جنتا نے ناکارہ کردیا ہے۔ بھاجپا کے لئے تشویش کا موضوع یہ بھی ہونا چاہئے کہ جن 13 سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہوئے تھے ان میں سے7 پر بھاجپا چناؤ جیتی ہوئی تھی اس حساب سے اسے 4 سیٹوں کا تو نقصان جھیلنا ہی پڑا ساتھ ہی اسے بری طرح ہار کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان نتائج سے بھاجپا کے حکمت عملی ساز اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ بیشک اس کی سیٹیں کم ہوئی ہیں لیکن ووٹ فیصد بڑھا ہے۔ اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو تقریباً32 فیصدی ووٹ ملے تھے ان ضمنی چناؤ میں اس کا ووٹ فیصد بڑھ کر34.1 فیصدی ہوگیا۔ اب بات کرتے ہیں کانگریس پارٹی کی ۔ ان ضمنی چناؤ میں کانگریس کے لئے کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا پارٹی میونسپل کارپوریشن چناؤ2007،2012، دہلی اسمبلی چناؤ2013 اور 2015 میں کبھی ان 13 وارڈوں میں پہلے نمبر پر نہیں رہی ہے۔ کانگریس کیلئے یہ ضمنی چناؤ خاصہ تشفی بھرا مانا جاسکتا ہے اور اس نے 4 سیٹیں حاصل کیں، پانچویں بھی ایک طرح سے کانگریس کے کھاتے میں گئی کیونکہ یہاں سے جیتا باغی کونسلر کانگریسی ہے۔ کانگریس کے لئے ایک خوشی کی بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جن 13 وارڈوں میں ضمنی چناؤ ہوئے ان میں سے اس کی کوئی بھی سیٹ نہیں تھی۔ یاد رہے اسمبلی چناؤ (2015) میں ہوئے چناؤ میں کانگریس کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔ اس کی اہم وجہ تھی کہ کانگریس کا ووٹ بینک کھسک کر عام آدمی پارٹی کے کھاتے میں چلا گیا تھا، لیکن ان نتیجوں نے ظاہر کردیا ہے کہ ضمنی چناؤ میں اس کا کھویا ہوا مینڈیٹ ایک بار پھر سے واپس لوٹنے لگا ہے۔ کانگریسی لیڈروں نے پچھلے کچھ مہینوں سرگرم سیاست کی ہے اور کئی اشوز پر تحریک و مظاہرے کرکے اپنی موجودگی درج کرائی۔ اسی کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔ پارٹی کیلئے یہ نتیجہ اگلے سال ہونے والے ایم سی ڈی چناؤ میں اس کو سنجیونی فراہم کریں گے۔کانگریس 2007 کے بعد سے میونسپل کارپوریشن کے اقتدار سے دور ہے۔ اس دوران دہلی میں اس کی سرکار ضرور رہی لیکن 2013ء میں یہاں سے بھی اس کی رخصتی ہوگئی۔ 2015 اسمبلی چناؤ میں تو اس کا پورا صفایا ہی ہوگیا اور اسمبلی میں ایک بھی کانگریسی ممبر نہیں ہے۔ اس کا روایتی ووٹ بینک عام آدمی پارٹی کے خیمے میں چلا گیا اس لئے اس ضمنی چناؤ میں اس کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ پارٹی نے تو بس اپنا کھویا ہوا مینڈیٹ پانے کی لڑائی لڑی تھی۔ 
ضمنی چناؤ میں کانگریس پارٹی کو 4 سیٹیں ملی ہیں اور اس کو24.8فیصد ووٹ ملا ہے۔ اب بات کرتے ہیں عام آدمی پارٹی کی۔ اس کے لئے یہ نتیجہ چونکانے والا ہی کہا جائے گا۔ یہ چناؤ پارٹی کے لڑنے والے کونسلر امیداوروں سے زیادہ ممبران اسمبلی کی اگنی پریکشا تھی۔ اس طرح سے آپ کے 67 میں سے12 ممبران کی ساکھ داؤں پر لگی ہوئی تھی۔ دراصل عام آدمی پارٹی نے اپنے کام کے طریق�ۂ کار سے اور اپنے برتاؤ کی وجہ سے اس ضمنی چناؤ کو آنے والے سال دہلی میں تینوں کارپوریشنوں کے چناؤ کا سیمی فائنل بنانے کی بے انتہا کوشش کی۔ کیونکہ عام آدمی پارٹی اس وقت دہلی میں برسراقتدار ہے اس لئے پارٹی ساکھ بچائے رکھنے کے لئے زیادہ سیٹوں پر جیت حاصل کرنا چاہتی تھی۔تبھی جاکر پارٹی اپنے حق میں ہوا بناتی۔ عاپ کو کم سے کم 12 سیٹوں پر جیتنے کی پوری امید تھی۔ پارٹی ذرائع کی مانیں تو پارٹی کے اندرونی سروے میں بھی عاپ کو13 میں سے12 سیٹیں جیتتی دکھائی پڑ رہی تھیں۔ ضمنی چناؤ سے پہلے عاپ کی دہلی پردیش انچارج کی دیکھ ریکھ میں ایک سروے کرایا گیا تھا اس میں عام لوگوں کی نبض ٹٹولنے کی کوشش کی گئی تھی۔ 
یہ چناؤ دہلی سرکار کے پچھلے سوا سال کے کام کاج کیا لٹمس ٹیسٹ بھی ایک طرح سے تھا۔ یہ کہنا بھی کچھ لوگوں کا ہے کہ اب عاپ سرکار سے جنتا کا بھروسہ اٹھنے لگا ہے اسی لئے پارٹی کو13 وارڈوں میں محض5 سیٹیں ہی جیتنے پر تسلی کرنی پڑی۔ عاپ کے اسمبلی اسپیکر اور اسمبلی ڈپٹی اسپیکر کے حلقوں سے لڑے امیدواروں کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عاپ سرکار اور پارٹی کے نیتا بار بار دعوی کررہے تھے کہ یہ ضمنی چناؤ دہلی سرکار کے کارناموں پر لڑا جارہا ہے۔ کیونکہ حکومت نے بہت کام کئے ہیں اس لئے اس کی جیت یقینی ہے لیکن چناؤ کے نتیجے اس کے اس دعوے پر سوال ضرور کھڑے کریں گے۔ ہاں پارٹی یہ دعوی تو کرسکتی ہے کہ کارپوریشن میں اس کا کوئی بھی نمائندہ نہیں تھا اب 5 نمائندے تو پہنچ گئے ہیں۔ پارٹی نے ایم سی ڈی میں بھی اینٹری پا لی ہے۔
وزیر اعلی اروندکیجریوال نے کسی بھی وارڈ میں چناؤ کمپین نہیں کی لیکن ضمنی چناؤ کی نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ان وارڈوں میں منعقدہ پروگراموں میں حصہ لیا تھا۔ وہیں نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے ساتھ ہی کمار وشواس ، سنجے سنگھ، دلیپ پانڈے سمیت دیگرلیڈر اور دہلی سرکار کے وزرا نے امیدواروں کے حق میں جم کر کمپین چلائی سوائے کانگریس کے دونوں بھاجپا اور عام آدمی پارٹی کے لئے یہ نتیجے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

18 مئی 2016

ایک اور قلم کا سپاہی شہید ہوگیا

بہار میں جنگل راج نہیں مہا جنگل راج ہے۔سیوان میں ہندوستان سماچار پتر کے سینئر جرنلسٹ راجدیو کے قتل نے ایک بار پھر کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ یہ پہلا موقعہ نہیں جب کسی صحافی کی آواز کو یوں خاموش کردیا گیا۔ بین الاقوامی انمن کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کی ریسرچ کے مطابق دیش میں سال 1992 سے اب تک 91 صحافیوں کو موت کی نیند سلا دیاگیا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ صرف چار فیصد معاملوں میں ہی انصاف ملا،وہ بھی تو آدھا ادھورا۔96 فیصدی معاملوں میں جرائم پیشہ کو معافی مل گئی۔ 23 فیصدی معاملوں میں قتل کے پیچھے پوشیدہ منصوبہ پتہ نہیں چل سکا۔ صرف 38 معاملوں میں منصوبے پتہ نہیں چل سکا۔ صرف18 معاملوں میں مقصد واضح ہوپایا۔ جن کی موت کی وجہ پتہ چلی ان میں کئی کو انصاف نہیں ملا۔ کچھ کو ملا بھی تو وہ بھی آدھا ادھورا۔ 88 فیصدی صحافی جو اپنی ڈیوٹی کررہے تھے، مارے گئے وہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ تھے۔4فیصدی ریڈیو جرنلسٹ تھے۔ بے خوف ملزمان نے 13 مئی کی رات سیوان میں ’’ہندی ہندوستان ‘‘ کے بیورو چیف جرنلسٹ راجدیو رنجن کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ انہیں قریب سے گولیاں ماری گئیں۔ رنجن دفتر سے لوٹ رہا تھا۔ رات8 بجے کے قریب ٹاؤن تھانہ علاقہ کے اوور برج کے قریب نامعلوم جرائم پیشہ نے انہیں گولی ماری۔ جرائم پیشہ موٹر سائیکل پرتھے اور واردات کو انجام دے کر بھاگنے میں کامیاب رہے۔ 46 سالہ راجدیو رنجن کی موت سے ایک دن پہلے جرائم پیشہ نے جارکھنڈ کے بھترا میں صحافی اندر دیو یادو کو تابڑ توڑ گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ راجدیو رنجن اور اندر دیو یادو کے سرے عام بے رحمانہ قتل کو لیکر بہار اور جھارکھنڈ میں ہی نہیں دیش میں ہر طرف غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے سڑک تک احتجاج کی آوازیں صاف سنائی دے رہی ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار ے قاتلوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے کہا کہ قاتل کوئی بھی ہو بخشا نہیں جائے گا۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی اور سیوان کے ایم پی اوم پرکاش یادو نے اس واقعہ کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی مانگ کی ہے۔ راجدیو کے قتل کے احتجاج میں پورا سیوان یکم دم پوری طرح بند رہا۔ راجدیو رنجن کے بیٹے آشیش رنجن نے بھی قتل معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ وزیر مالیات اور مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات ارون جیٹلی نے بھی ٹوئٹ کرکے کہا میں سیوان میں جرنلسٹ راجدیو رنجن اور بھترا میں اندر دیو یادو کے قتل کی سخت مذمت کرتا ہوں اور اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جانی چاہئے اور قصورواروں کو سزا دی جانی چاہئے۔ راجدیو رنجن کی بیوی نے قاتلوں کو پھانسی کی سزا دئے جانے کی مانگ کرتے ہوئے اپنے شوہر کو اپنی آخری سانس تک انصاف دلانے کے لئے سنگھرش کرنے کا عہد کیا ہے۔ بھاجپا کے پردیش پردھان منگل پانڈے اور دیگر بھاجپا نیتاؤں نے سیوان شہر میں دھرنادیا۔ پانڈے نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ متوفی صحافی کے رشتے داروں نے الزام لگایا ہے کہ راجدیو کا قتل آر جے ڈی نیتا محمد شہاب الدین کے گرگوں کے ذریعے کیا گیا اور بہار پولیس کے پاس اس معاملے کی منصفانہ جانچ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ ایسے میں اس معاملے کی سی بی آئی کو جانچ سونپی جانی چاہئے۔ انہوں نے متوفی کے ورثا کو 25 لاکھ روپے معاوضے کے طور پر دئے جانے کی بھی مانگ کی۔ راجدیو کی بیوی آشا دیوی نے اپنے شوہر کے قتل اور نامعلوم جرائم پیشہ کے ذریعے شخصی اسباب سے نہیں بلکہ ان کے پیشے کی وجہ سے کئے جانے کا دعوی کیا۔ انہوں نے کہا ان کے شوہر کی کسی سے کوئی شخصی دشمنی نہیں تھی۔ صحافی کا قتل جمہوریت کے چوتھے ستون پر حملہ ہے۔ کیا نتیش کمار کا یہی گڈ گورننس ہے؟ کہنے کی ضرورت نہیں صحافتی دنیا کے سب سے خطرناک پیشے میں شامل لوگ صحافت صرف اس لئے کرتے ہیں تاکہ سماج کی سچائی کو سامنے لا سکیں اور سچائی کو سامنے لانے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے ۔ ہم صحافی کوشہادت کا درجہ دیتے آئے ہیں اور آگے بھی دیتے رہیں گے لیکن اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پنجابی کے عظیم کوی پانش کے الفاظ میں کہوں تو’ ہم لڑیں گے ساتھی کیونکہ لڑنے کی ضرورت ہے‘فی الحال اس جنگ کا پہلا مقام راجدیو رنجن کے قاتلوں کو انصاف کے کٹگہرے تک پہنچانا ہے۔ ہم راجدیو رنجن اور اندر دیو کے کنبوں کے ساتھ اس دکھ کی گھڑی میں کھڑے ہیں اور دونوں شہیدوں کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

اظہار رائے کی آزادی کا حق لامحدود نہیں

ہتک عزت کے معاملے میں جیل کی سزا ختم نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے ہتک عزت سے جڑے قانون کی سزا کی شقات کے آئینی جوازکی جمعہ کے روز تصدیق کردی۔ دیش کی عدالت عظمی نے کہا اظہار رائے کی آزادی کا حق کوئی لا محدود حق نہیں ہے۔ عدالت نے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی، دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی اور دیگر کی طرف سے دائر عرضیوں کی ایک سیریز پر یہ حکم صادر کیا۔ جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس پرفل سی پنتھ کی ڈویژن بنچ نے کہ ہم نے مانا ہے سزا کی سہولت آئینی طور سے جائز ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا حق کوئی لامحدود حق ہیں ہے۔ بنچ نے دیش بھر کے جج صاحبان کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہتک عزت کی ذاتی شکایتوں پر سمن جاری کرنے پر انتہائی چوکسی برتیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ مجرمانہ ہتک عزت سے وابستہ آئی پی سی کی دفعہ 499 اور 500 اور آئی پی سی سیکشن کی دفعہ119 آئینی طور سے صحیح ہے۔ قریب ڈیڑھ سو سال پرانے اس ہتک عزت قانون کو صحیح ٹھہرانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر فطری طور پر رد عمل ہونا ہی تھا۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ہتک عزت کے معاملے کو دیوانی معاملے کی طرح دیکھا جاتا ہے اس لئے امید کی جارہی تھی کہ بھارت کی عدالت عظمی بھی دنیا بھر میں یکایک قبول ہوتے جارہے نکتہ نظر اور جمہوری تقاضوں کو ذہن میں رکھ کر ہتک عزت قانون کے آئینی جواز پر غور کرے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔غور طلب ہے کہ بھارت میں ہتک عزت ایک کرائم کا معاملہ ہے جس میں الزام ثابت ہونے پر دو سال کی سزا ہوسکتی ہے اس کے علاوہ جرمانہ بھی بھرنا پڑ سکتا ہے۔ اس قانون کے آئینی جواز کو چنوتی دینے میں کانگریس نائب صدر راہل گاندھی، عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال اور بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی بھی تھے۔ یہ تینوں ہتک عزت کے کسی نہ کسی معاملے میں ملزم ہیں اس لئے متعلقہ قانون کو چیلنج دینے میں ان کی شخصی دلچسپی رہی ہوگی۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کو چیلنج ایسے سیاستدانوں اور صحافیوں نے دیا تھا جن میں سے کچھ کا کام بھی دوسروں پر مسلسل الزام لگا کر کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے۔ حالانکہ حالت اس کے برعکس بھی ہے اور اس وقت سماج میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوگئے ہیں جن کا کام کسی بھی سیاسی بیان یا صحافت پر و تبصرے پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردینا ہے۔ یہ کام ایک اچانک ٹھیس اور اس کے ازالے کے لئے نہیں بلکہ ایک دھندے کے طور پر کئے جاتے ہیں۔ موجودہ ہتک عزت قانون حکومتوں ، طاقتور لیڈروں اور کرپٹ افسروں و بدعنوان صنعتکاروں کو ہی راس آتا ہے جنہیں تنقیدوں اور انکشافات سے اپنے ملے کام کا خوف ستاتا ہے۔ دوسری طرح اس قانون نے کرپشن کے خلاف لڑنے والے سیاسی سماجی رضاکار اور صحافیوں کے کام کو غیر ضروری طور سے بہت خطرے بھرا بنا رکھا ہے۔ اگر بات بات پر سیاستداں کی زبان تھام لی جائے گی یا صحافی کے قلم اور کیمرہ نشانے پر لیا جائے گا یا ہمیشہ کوئی نہ کوئی اسکینڈل اچھالا جاتا رہے گا تو نہ تو ہیلتھی ماحول بن پائے گا اور نہ ہی کسی کی ساکھ محفوظ بچ پائے گی۔ اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہئے اور اس سے دکھی لوگوں کو عدالت کی پناہ میں جانے کا حق بھی ہونا چاہئے۔ اگر عدلیہ سے سخت کارروائی کی مانگ کا حق نہیں رہے گا تو اس کے جواب میں تشدد ہی واحد ایک راستہ بچے گا اور وہ جمہوریت کیلئے اور بھی خطرناک ہوگا لیکن پارلیمنٹ چاہے تو اس قانون کی جوازیت یا اس کی شقات پر نظرثانی کی پہل کرسکتی ہے۔
(انل نریندر)

17 مئی 2016

گھٹتی کھیتی کی زمین، 13ریاستوں میں خشک سالی

مرکزی وزیر زراعت ومملکت سنجیو بالیان نے حالی ہی میں راجیہ سبھا میں ایک پریشان کن جان کاری دی ہے انہوں نے بتایا ہے کہ دیش میں ہر برس اوسطا 30 ہزار ایکڑ کھیتی لائق زمین کم ہورہی ہے دیش میں کھیتی لائق زمین 2010-11 میں 18.201 کروڑ ہیکٹر سے معمولی سے گھٹ کر 2011-12 میں 18.196 کروڑ ہیکٹر رہ گئی ہے۔2012-13 میں یہ 18.195کروڑ ہیکٹر تھی ۔ واضح رہے دیش کی 64 فیصدی آبادی آج بھی زراعت سے متعلق کاموں سے جڑی ہوئی ہیں۔ تقریبا 1.1 کروڑ ہیکڑ زمین پر پچھلے پانچ برسوں میں کھیتی نہیں ہوئی ہے۔ زیادہ تر مقامات پر ایک ہی فصل کی جاتی ہیں ان پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے سبز انقلاب شروع کیا گیا ہے۔ بالیان نے بتایا ہے کل 2.6 کروڑ ہیکٹر زمین ایسی ہے جسے کھیتی کے لائق بنایا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کی تمام چیلنجوں کے بعد بھی زراعت سیکٹر میں کافی ترقی کرنے کے اشو پر انہوں بتایا کہ زراعت سیکٹر میں سرمایہ کاری کے معاملے میں بھارت اس دیش سے کافی پیچھے ہے۔ اسرائیل میں سینچائی کے لئے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاملناڈو، مہاراشٹر اور گجرات جیسے کئی ریاستوں میں اپنے یہاں اس سیکٹر میں کافی اچھا کام کیا ہے۔ دیش میں اوسطا ہر سال تیس ہزار ہیکٹر کھیتی لائق زمین کم ہونے اور تیرہ ریاستوں میں زبردست خشک سالی آنے کے درمیان ماہرین ماحولیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خشک سالی سے نپٹنے کے لئے قلیل المدت پہل کرنے اور ملک بھر میں آبی وسائل، پرانے ریزروائر، کنوؤں کو پھر سے کام کے لائق بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ کھیتی لائق زمین بے شک کم ہوئی ہے لیکن یہ تشفی کی بات یہ ہے کہ گراوٹ کے باوجود کل پیداوار میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ بھارت میں زراعت کی سب سے بڑی پریشانی سینیچائی کی ہے اور صرف پندرہ فیصد زمین کی کارآمد ہے۔ دیش کی تیرہ ریاستوں کی 306 دیہات میں خشک سالی کے حالات ہے اور اس سے4.2560 لوگ ہی متاثر ہے آبی سیکٹر کی ٹیلی رپورٹ کے مطابق زمین پر جتنا پانی دستیاب ہے اس میں سے 97.3 فیصد جراثیمی اثرات سے پاک ہے اور باقی 2.7 فیصد تازہ پانی ہے۔ اس 2.7 فیصد تازہ پانی میں سے 2.1 فیصد برف کی شکل میں اور 0.6 فیصد رقیق پانی کی شکل میں دستیاب ہے۔ اس رقیق پانی میں 98 فیصد زمینی اور 2فیصد سطحی پانی ہے ۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ سنگین صورت حال کااشارہ ہے کیونکہ زمین کے اندر آبی سطح مسلسل گھٹ رہی ہے اور دیش کے بڑھے جغرافیائی علاقے سے خشک سالی کی وجہ سے حالات مزید سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ ماہر ماحولیات ہما راوت کاکہنا ہے کہ ہمیں پانی کو وقت کے حساب سے خرچ کرنا چاہئے تاکہ ہمارے ہاتھ میں کچھ آئینی اختیارات آجائیں۔
(انل نریندر)

سادھوی پرگیہ ٹھاکر کی رہائی کا راستہ صاف

ہمارے دیش کی یہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ ووٹوں کی خاطر بے قصور لوگوں کو قصوروار بنا کر برسوں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک درد ناک واقعہ میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو برسوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید میں رہناپڑا۔2008 مالیگاؤں کے بم دھماکے معاملے میں قومی جانچ ایجنسی( این آئی اے) کی طرف سے بم دھماکوں کی ملزمہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور دیگر پانچ افراد کو کلین چٹ دیئے جانے پر حیرت نہیں ہوئی ہے۔ کیونکہ ایک عرصے سے کہاجارہا ہے کہ ان کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ مالیگاؤں بم دھماکوں کی جانچ این آئی اے کی دو ٹیموں نے کی تھی۔ پہلی ٹیم کی رہنمائی آئی جی سنجیو سنگھ نے کی اور دوسری ٹیم کے چیف آئی جی جے پی سنگھ تھے۔ سنجیو سنگھ کی ٹیم اپنی چارج شیٹ اس معاملے میں دائر کرنے والی تھی جب نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے سرکار حلف لے رہی تھی۔ اس ٹیم نے گواہوں کے 164 بیان ریکارڈ کرلئے تھے۔ دوسری ٹیم جس کے چیف جے پی سنگھ تھے سبھی 164گواہوں کے بیان دوبارہ لئے گئے۔ ان سبھی گواہوں نے کہا ہے کہ پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت کو پھنسانے کے لئے ڈرایا دھمکایا گیا تھاان سبھی گواہوں نے کہاکہ وہ اپنا بیان نئے سرے سے دینا چاہتے ہیں اور انہیں اس دھماکے کی سازش کا پتہ نہیں تھا۔ اس ٹیم نے بیانات سے ہی این آئی اے نے گزشتہ جمعہ کو اسپیشل کورٹ میں کہا کہ ان سبھی ملزمان کے خلاف کمزور ثبوت ہیں اور ان پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے۔ بتادیں کہ مالیگاؤں کے دھماکوں کے چند دنوں بعد ہی راشٹریہ کانگریس کے صدر شرد پوار نے ہندو تنظیموں پر بھی نظر رکھنے کی گزارش کی تھی۔ اس بیان کے بعد ہی بھگو ا آتنک واد پر بحث کھل کر شروع ہوئی اورکچھ ہی دنوں بعد ہی سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو گرفتار کرلیا گیا۔ این آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل شرد کمار نے دعوی کیا ہے کہ کیس کو قطعی کمزور نہیں کیا گیا ہے جب کہ ہماری جانچ پوری نہیں ہوئی تھی۔ ہمیں اے ٹی ایس کی جانچ کی حساب سے چلنا تھا۔ اب ہم نے جانچ پوری کرلی ہے اور اپنی چارج شیٹ داخل کردی ہے۔سرکاری وکیل گیتا گوڑ بے نے عدالت میں جمعہ کو چارج شیٹ دائر کی اس کلین چٹ کے بعد ان سبھی کی رہائی کا راستہ صاف دکھائی دے رہا ہے، لیکن اسی کے ساتھ کانگریس ودیگر پارٹیوں اور خاص کر خود کو سیکولر بتانے والی پارٹیوں کی طرف سے چیخ وپکار شروع ہوگئی ہے۔ ان پارٹیوں کے کچھ لیڈر ایسا برتاؤ کررہے ہیں جیسا کہ وہ جانچ ٹیموں میں شامل رہے ہوں یا پھر جج کی کرسی پر بیٹھے ہوں۔ آخر وہ کس بنیاد پر اس الزام کے سارے دیش کو گمراہ کررہے ہیں کہ مودی سرکار ان لوگوں کی رہائی کے حق میں تھی؟ اگر پرگیہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مالیگاؤں میں بم دھماکے کرنے کی سازش میں شامل ہونے کے پختہ ثبوت تھے تو پھر آج جو لیڈر عوام کو ورغلا رہے ہیں انہوں یہ بھی تو بتانا چاہئے کہ یوپی اے عہد کے دوران ان لوگوں کو سزا دینا یقینی کیوں نہیں کیاجاسکا؟ آخر 2011سے لے کر 2014 تک این آئی اے یہ کام کیوں نہیں کرسکی؟ اس سے پہلے ممبئی پولیس کا دہشت گردی انسداد کادستہ( اے ٹی ایس) یہ کام کیوں نہیں کرسکا؟ بتا دیں کہ 29 دسمبر 2008 کو مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں دھماکے ہوئے تھے۔ اسی دوران گجرات کے مہسانا میں بھی ایک دوسرا بم دھماکہ ہواتھا۔ یہ نوراتر کے قریب ہوا تھا۔ 24اکتوبر 2008 کو پولیس نے تین لوگوں اور سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ، شیو نارائن، گوپال سنگھ، کال سانکرا، اور شام بھنور لال ساہو کو گرفتار کیا گیا جن لیڈروں کو یہ لگ رہا ہے کہ این آئی اے نے سیاسی دباؤ میں فیصلہ کیا ہے انہیں مالیگاؤں میں ہی 2006 میں ہوئے بم دھماکوں کے سلسلہ میں پکڑے گئے آٹھ ملزمان کی رہائی پر کچھ کہناچاہئے۔ جنہیں چند دنوں پہلے چھوڑا گیا ہے۔ کسی نتیجہ پر نہ پہنچنے والی آدھی ادھوری جانچ پر آنکھ بند کر بھروسہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں آج جتنا یہ ضروری ہے کہ مالیگاؤں 2006 اور 2008 میں دھماکے کرنے والے سزا کے مستحق بنے اتنا ہی یہ بھی جانچ کے نام پر کھلواڑ کرنے والے بے نقاب ہو۔ چاہے بے قصور پرگیہ ٹھاکر کا معاملہ ہو یا ان لڑکوں کاہو جنہیں زبردستی دہشت گردی کے نام پر پھنسایا جاتا ہے۔
( انل نریندر)

15 مئی 2016

ایگزیکٹو میں عدلیہ کی بڑھتی مداخلت کا سوال

فائننس بل پر بدھ کے روز راجیہ سبھا میں وزیر خانہ ارون جیٹلی نے جوڈیشیری پر سرکاری کام کاج میں دخل اندازی کا سنگین الزام لگایا۔ انہوں نے عدلیہ کے دائرۂ اختیار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا اس سے سرکار کوپریشانی ہورہی ہے۔ عدلیہ کی تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس نے ایگزیکٹو اور آئین سازیہ کے دائرہ اختیار پر قبضہ کیا ہے۔ ایسے میں اب سرکار کے پاس بجٹ بنانا اور ٹیکس لینے کا کام ہی رہ گیا ہے۔ عدلیہ کو یہ کام بھی لے لینا چاہئے۔ ارون جیٹلی نے جو کہا ہے اس پر بحث درکار ہے۔سورگیہ پی وی نرسمہا راؤ کے عہد میں ہی عدلیہ کی سرکاری کام کاج میں دخل اندازی شرو ع ہوگئی تھی۔ حکومتوں نے بھی اپنی مصیبت ٹالنے کیلئے معاملوں کو عدالتوں کے سپرد کردیا۔ پچھلے دنوں تو اتراکھنڈ میں فلور ٹیسٹ جیسا کام بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہوا۔ ریزرویشن کے معاملوں میں بھی ریاستی حکومتوں نے سیاسی دباؤ کے چلتے غیر آئینی قدم سوچ سمجھ کر اٹھائے تاکہ عدالتیں اسے نامنظور نہ کردیں۔کیونکہ آئین ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سیاست میں گراوٹ کی وجہ چاہے کوئی عدلیہ کی انتہائی سرگرمی پر جتنی پاورفل ہوجائے لیکن نظام حکومت تینوں حصوں کے توازن سے ہی چلتی ہے۔ ہمارے آئین سازوں نے تینوں کے درمیان ہر سطح پر کوئی موٹی سیما ریکھا تو نہیں کھینچی لیکن اس سے یہ توقع ضرور کی تھی کہ وہ اپنے دائرے تک ہی محدود رہے۔ جیٹلی نے کہا جس طرح سے عدلیہ کی مداخلت بڑھی ہے اس سے ایک دن سرکار کا کام صرف بجٹ بنانا رہ جائے گا اور سارا کام عدلیہ کے پاس چلا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں تھوڑی مشکل ہو لیکن عدلیہ ہر سیکٹر میں حکم دینے لگی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایگزیکٹو یا آئین سازیہ اگر عدلیہ کے دائرہ اختیار میں دخل دے تو اسے کوئی بھی مناسب نہیں ٹھہراسکتا، بلکہ اسے تانا شاہی کا ایک اثر مانا جائے گا۔ اسی طرح جمہوری نظام کے دوسرے میدانوں میں عدالتی دخل اندازی بھی صحیح نہیں مانی جاسکتی۔ حال میں سپریم کورٹ نے خوشک سالی پر بھی ایک راحت فنڈ بنانے کا حکم دیا۔ وزیر اعظم نے خود پہل کرتے ہوئے خوشک سالی سے متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلی سے اپیل کرکے کہا کہ ان کے یہاں کیا ضرورت ہے، وہ کیا کرسکتے ہیں، وغیرہ معاملوں پر غور کیا ۔ خوشک سالی اور سیلاب سے حکومت کیسے نمپٹے، کیا کریں ، ایسی ہدایت دینے کا کام عدلیہ کا نہیں ہے۔
دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو کہتے ہیں کہ کیونکہ سرکاریں اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے نہیں نبھاتیں اس لئے عدالتوں کو ایسے حکم دینے پڑتے ہیں تاکہ جنتا کو انصاف مل سکے۔ 1990 ء کی دہائی میں جب جوڈیشیری کی سرگرمی کا دور شروع ہوا تو یہ تھوڑا فائدہ مند لگتا تھا۔ آہستہ آہستہ ایسا لگتا ہے کہ مان لو جوڈیشیری واقعی باقی دوسرے دونوں حصوں کے اختیارات اور فرائض دونوں پر قبضہ کررہی ہو۔ کچھ ایسے معاملے ہوتے ہیں جو ایگزیکٹو یا آئین سازیہ سے بھی واسطہ رکھتے ہیں اور عدلیہ سے بھی مگر کسی کے بنیادی اختیارات کی خلاف ورزی ہورہی ہے یا کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہو، تو اس معاملے کو عدالت لے جانا اور اس پر سماعت ہونا فطری اور مناسب ہے لیکن اگر پالیسی سازی و ایڈمنسٹریٹو سیکٹر میں عدالتوں کا دخل ہوتا ہے تو وہ ایک غلط مثال قائم ہوتی ہے۔ کوشش دونوں طرف سے ہونی چاہئے۔ عدالتوں کو سمجھنا ہوگا کہ وہ دیش کے ہر مسئلے کا ازالہ کرنے یا کروانے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ ساتھ ہی آئین سازیہ۔ ایگزیکٹو اپنے رول اس طرح نبھائیں کہ عام حالات میں عدلیہ کو مداخلت کرنے کا موقعہ نہ ملے۔
(انل نریندر)

’وائف سواپنگ‘ یعنی بیویوں کی ادلہ بدلی کامقدمہ

سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک افسر سے الگ رہ رہی ان کی بیوی نے اپنی ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ ان کے شوہر کے علاوہ بحریہ کے چار افسران ان میں سے ایک کی بیوی ’وائف سواپنگ‘ میں شامل ہے۔ سال 2013ء میں کوچی میں تعینات ایک بحریہ کے افسر کی بیوی نے بحری جوانوں کی بیویوں کی ادلا بدلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ شوہر کے سامنے ہی اس سے اجتماعی آبروریزی کی گئی۔ شکایت کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی۔ اس لئے معاملے کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ سی بی آئی سے معاملے کی جانچ کرائے۔ ریاستی حکومت نے اس کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ریاستی پولیس اس معاملے کی جانچ کرسکتی ہے اور اسپیشل ٹیم جانچ کرہی رہی ہے۔متاثرہ خاتون نے اپنی شکایت میں اپنے شوہر لیفٹیننٹ روی کرن کبدولا، لیفٹیننٹ ایشور چند ودیاساگر، کیپٹن اشوک اکتا اور اس کی بیوی پرینا اکتا ودو دیگر فوجی افسران کو ملزم بنایا گیا ہے۔ متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ جب اس کے شوہر کی کوچی میں پوسٹنگ تھی تو وہ انہیں بیویوں کی ادلا بدلی پارٹیوں میں لے جاتے تھے۔ وہاں ایسی پارٹیاں اکثر ہوتی رہتی تھیں۔ ایسی ہی ایک پارٹی میں جب انہیں کسی اور افسر کے ساتھ جانے کو کہا گیا تو اس نے منع کردیا۔ اس پر اس کی پٹائی کی گئی اور انہیں ٹارچر کیا گیا۔ متاثرہ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی تھی۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر، جسٹس آر بانومتی اور جسٹس یو یو للت نے کیرل پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا کہ وہ معاملے کی جانچ کے لئے ڈی آئی جی سطح کے افسر کی سربراہی میں ایف ایس آئی ٹی بنائیں اور تین ماہ میں جانچ پوری کریں۔ سی بی آئی جانچ کی مانگ مسترد کرتے ہوئے جسٹس بانومتی نے کہا کہ یہ صاف ہے کہ آئینی عدالتوں کی سی بی آئی جانچ کی ہدایت دینے کے خصوصی اختیارات کا استعمال خاص حالات میں اور بہت ہی اہم معاملوں میں کیا جانا چاہئے۔ بنچ نے معاملے کے حقائق اور حالات کو دیکھنے کے بعد کہا کہ عدالت کو نہیں لگتا کہ اسے ریاستی پولیس یا اسپیشل ٹیم سے لیکر سی بی آئی کے حوالے کیا جائے۔ ریاستی پولیس اس معاملے کی بہتر جانچ کرسکتی ہے۔ عدالت نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ معاملوں کو سی بی آئی کو منتقل کرنے کے اپنے غیر معمولی اختیارات کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں۔ عدالت ایسے ہی معاملوں کو سی بی آئی کو منتقل کرے جس کا قومی یا بین الاقوامی سطح پر اثر ہو یا وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہو۔ عدالت نے دہلی ہائی کورٹ میں معاملے کو منتقل کرنے سے بھی انکار کردیا۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...