Translater

07 اکتوبر 2016

اس دیوالی میں ’’چینی‘‘ ہوگی تھوڑی کم

وزیر اعظم نریندر مودی نے دیوالی کے مبارک موقعہ پر دیش کے عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے میرے پیارے بھارت واسیوں آپ سب اس بار اتنا کریں کہ آنے والے دیوالی کے تہوار پر اپنے گھروں میں روشنی، سجاوٹ، مٹھائی ان سب میں محض بھارت میں بنی چیزوں کا استعمال کریں۔ امید کرتا ہوں کہ آپ اس پردھان سیوک کی بات کو ضرور مانیں گے۔ آپ چھوٹے چھوٹے قدموں میں اگر میرا ساتھ دیں تو میں آپ سے وعدہ کرتاہوں، ہمارے بھارت کو دنیا کی سب سے آگے والی لائن میں کھڑا ہونے کا مقام ملے گا۔ وندے ماترم! نریندر مودی وزیر اعظم۔ تہواروں کا مہینہ ہے، لیکن دیوالی پہلے جیسی نہیں ہوگی کیونکہ اس دیوالی میں ’’چینی‘‘ تھوڑی کم ہوگی۔ چینی یعنی دیوالی کے موقعہ پر بازاروں میں دکھائی دینے والے چینی سامان کا بائیکاٹ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا میں بھی یہ اپیل کی جارہی ہے۔ چینی سامان کے بائیکاٹ کو لیکر کئی انجمنوں نے تحریک چھیڑنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ سب اس لئے کہ بھارت کو چین کو سبق سکھانا ہے۔ چین صرف پیسے کی مار کو سمجھتا ہے۔یہ سب اس لئے ضروری ہے کیونکہ ہندوستان کے بازاروں میں اربوں روپے کا کاروبار کرنے والا چین اب کھل کر پاکستان کی حمایت کررہا ہے۔ پاکستان پر بھارت کے ذریعے سرجیکل اسٹرائک کے جواب میں چین نے بھارت کے خلاف اقتصادی حملہ کیا ہے۔ چینی پروڈکٹس کا بائیکاٹ اس لئے ہونا چاہئے تاکہ ہندوستانیوں کا پیسہ کسی ایسے ملک میں نہ جائے جو نہ صرف بھارت کی زمین قبضائے بیٹھا ہے بلکہ بھارت کے موسٹ وانٹڈ آتنکی مسعود اظہر کی طرفداری کرتا ہے۔ برہمپتر ندی کا پانی روکتا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں دیوالی کے موقعہ پر چینی سامان کا کتنا کاروبار ہوا اس کا اعدادو شمار دیکھیں تو آپ زیرو ہی گنتے رہ جائیں گے۔ 2006ء میں دیوالی میں چینی سامان کا کاروبار 11 ہزار کروڑ کا تھا جو 2012ء میں بڑھ کر 32 ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہوگیا ہے یعنی تین گنا۔ ایک اندازے کے مطابق چینی سامان کی وجہ سے ہندوستانی بازار کو تقریباً 200فیصدی کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ صرف یہ پریشانی ہی نہیں بلکہ چینی سامان کے بائیکاٹ کے لئے سوشل میڈیا پر لمبی کمپین جاری ہے۔ لوگ بھارت میں چینی سامان پر پابندی لگانے کی مانگ کررہے ہیں۔ اتنا غصہ بھارت کی عوام کو پاکستان سے ہے اتنا ہی غصہ چین کے خلاف بھی ہے کیونکہ ہندوستان کا سب سے بڑا دشمن اب چین کا سب سے بڑا دوست ہے۔ اس دیوالی پر چینی سامان کا بائیکاٹ ضرور کریں۔
(انل نریندر)

پاکستان کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمارے جوان تیار ہیں!

ایل او سی یعنی کنٹرول لائن پر ہمارے جواب کبھی بھی کشیدگی میں نہیں رہتے۔ پی او کے میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد ہندوستانی فوج کے لئے چیلنج اور بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی جوان نیند ، بھوک کی پروا ہ کئے بغیر دن بدن مستعد ہیں۔ شاید ہی کوئی جوان 6 گھنٹے کی بھی نیند پوری کر پا رہا ہو سبھی 3-4 گھنٹے کی نیند لیکر کام چلا رہے ہیں۔ پچھلے ستمبر میں سرحد کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافے سے کنٹرول لائن کا ماحول بیشک گرم تھا لیکن سرجیکل اسٹرائک کے بعد سبھی جوانوں کی چھٹیاں منسوخ ہوچکی ہیں اور ان کا یومیہ معمول بدل گیا ہے۔ انہیں نہ کھانے کی فکر ہے نہ سونے کے لئے وقت۔ کیرم ،شطرنج یا فٹبال کھیلنا، فلمیں یا ٹی وی دیکھنا ، یہاں تک کہ ترقی امتحان کی تیاری کرنا بھی چھوٹ گیا ہے۔ عام دنوں میں یہ چیزیں جوانوں کی چھٹی کا ایک معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔ اب ان کی ساری توجہ ہر پل تیار رہنے پر ہے۔ ایک دوسرے افسر نے بتایا کنٹرول لائن کے پار کارروائی محض پہلا قدم ہے۔ یہ ایک آپریشن ہے اور ہم ایک جوابی کارروائی کی تیاری کررہے ہیں۔ فوجیوں کو کسی بھی حملے کا جواب دینے کو کہا گیا ہے انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان فوراً یا ہفتے بھر بعد یا ایک مہینے بعد کوئی ناپاک حرکت کرے۔ مگر سرحد پر اچانک حملے کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ سرجیکل اسٹرائک کی بات پاکستان کے ساتھ لگاتار خراب ہورہے رشتوں کو دیکھتے ہوئے بھارت کنٹرول لائن پر سخت چوکسی برت رہا ہے۔ سیٹیلائٹ کے ذریعے آتنکی گھس پیٹھ پاک فوج کی ہر پل کی ہلچل پر گہری نگاہ رکھی جارہی ہے۔ ہندوستانی خلائی ریسرچ آرگنائزیشن اسرو کے سیٹلائٹ کی مدد سے سرحد پار کے علاقوں کی تصویریں اور ویڈیو حاصل کی جارہی ہیں۔ذرائع کے مطابق اسرو کے کنٹرول روم میں فوج کی ناردن کمان کو کنٹرول لائن اور سرحد پار کی ہلچلوں کی سیدھی تفصیلات بھیجی جارہی ہے۔ کائیٹوسیٹ 1- اور کائیٹو سیٹ2- اور ریسور سیٹ ۔2 یہ بھارت کے ایسے سیٹلائٹ ہیں جو آسمان میں اتنا اڑتے ہیں کے پاکستانی راڈار میں نہیں آپاتے۔ زمین سے500 کلو میٹر سے زیادہ اونچائی پر موجود یہ سب سیٹلائٹ پاکستان کی ہر چیز کو آسانی سے کھینچ سکتا ہے اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بڑے بنگلے میں کھڑی کاروں کی تعداد تک آسانی سے گن سکتا ہے۔ آسمان میں موجود بھارت کا یہ قابل قدر جاسوس پاکستان میں کہیں بھی کھڑے کئے گئے ٹینک اور جنگی جہازوں کو گن سکتا ہے۔ اڑی میں جو جوابی کارروائی کی گئی تھی اس میں بھی ہمارے سب سیٹلائٹ نے آتنک وادیوں کی پوزیشن کی پختہ جانکاری ہماری فوج کو دی تھی تاکہ انہیں پتہ ہو کہ یہ کہاں چھپے ہیں۔ پاکستان کہاں ہم پر کارروائی کرسکتا ہے۔
(انل نریندر)

06 اکتوبر 2016

سماجوادی پارٹی میں ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر مچا گھمسان

سماجوادی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی کم ہونے کے بجائے بڑھتی نظر آرہی ہے۔ پارٹی میں سینئرسطح پر جاری گھمسان پیر کو اور تیز ہوگیا۔ہونا بھی تھا کیونکہ معاملہ2017ء اسمبلی چناؤ میں ٹکٹوں کے بٹوارے کا تھا۔ ٹکٹ تقسیم کے اختیار کی مانگ کررہے وزیر اعلی اکھلیش یادو سے صلاح مشورہ کئے بنا چاچا شیو پال نے امیدواروں کی فہرست جاری کردی۔ اتنا ہی نہیں اکھلیش کے قریبیوں پر بجلی بھی گرادی۔ سپا پردیش پردھان شیو پال یادو نے پیر کو صبح 10:30 بجے 26 امیدواروں کی فہرست جاری کی ان میں9 نئے امیدوار ہیں جبکہ17 کے ٹکٹ بدلے گئے ہیں۔ ان میں سی ایم کے کچھ قریبی لیڈروں کے بھی ٹکٹ کٹے ہیں۔ ابھی نوجوان لیڈروں کی بحالی کی جدوجہد جاری تھی کہ وزیر اعلی کی صلاح لئے بغیر امیدواروں کی فہرست آگئی اور پارٹی میں گھمسان کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ زیادہ تر لیڈروں کے درمیان ملائم خاندان میں سینئر سطح پر خاص طور سے اکھلیش کی اپنے والد اور چاچا سے تقریباً بول چال بند ہوگئی۔اکھلیش یادو نے کہا کہ پارٹی امیدواروں کے ٹکٹ بدلے جانے کو لیکر انہیں کوئی معلومات نہیں ہے۔ ویسے بھی سیاست میں کب کیا ہوجائے کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اکھلیش نے کہا جس کے پاس ترپ کا اکا ہوگا وہی جیتے گا۔ سماجوادی پارٹی کے لئے جس طرح 2017ء کے چناؤ اہم ہیں اسی طرح اکھلیش یادو اور شیو پال کے لئے امیدواروں کے انتخاب میں ان کا کردار اہم ہے۔ شاید 2017ء کے تجزیوں کو دیکھتے ہوئے اس کی کوشش کی جارہی ہے کس کے ساتھ کتنے ایم ایل اے ہیں۔ پارٹی میں وزن کا یہ پیمانہ ہوتا ہے۔ اکھلیش اگر پھر وزیر اعلی بننا چاہتے ہیں تو یہ تبھی ممکن ہوگا جب ان کی سرکار اور پارٹی کی ساکھ وکاس کرنے والی ہوگی۔ اکھلیش اگر اپنے آدمیوں کو ٹکٹ نہیں دلا سکے تو وزیر اعلی کیسے بنیں گے؟ اکھلیش یہ سمجھتے ہیں اور اس معاملے میں پیچھے نہیں رہنا چاہتے کہ وہ ایک پروگرام میں پبلک طور پر کہہ چکے ہیں کہ امتحان تو میرا ہونا ہے اس لئے ٹکٹوں کی تقسیم کا حق بھی مجھے ہی ہونا چاہئے۔ یہ بات وہ پارٹی کے چیف اور اپنے والد ملائم سنگھ کو بھی بتا چکے ہیں کیونکہ سپا میں پردیش پردھان ہی ریاستی پارلیمانی بورڈ کا صدر ہوتا ہے اس لئے سپا میں گھمسان روکنے کیلئے اکھلیش کو پارلیمانی بورڈ کا صدر بنانے کی مانگ اٹھی تھی۔ اس کے لئے آئین میں ترمیم ضروری ہے لیکن پارٹی میں اس کیلئے کارروائی شروع نہیں ہوسکی۔ سپا ایک اہم مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔ ٹکٹوں کے بٹوارے میں سارا دارومدار منحصر کرتا ہے۔فی الحال شیو پال کا پلڑا بھاری ہے۔
(انل نریندر)

انپڑھ ۔جاہلوں کی ٹولی پاکستان کو لے ڈوبے گی

پاکستان کے ایک سینئر صحافی حسن نثار نے ایٹمی دھمکی دینے والوں کو پاگلوں کا ہجوم بتایا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں جو انپڑھوں کی ٹولی ہے وہی اس دیش کو لے ڈوبے گی۔ ہم بھارت کو ایٹمی دھمکی دے رہے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ ان کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے ہم تو 20 کروڑ رہیں اگر حملہ ہوا تو ان کا تو تھوڑا بہت نقصان ہوگا لیکن پاکستان دنیا کے نقشے سے ختم ہوجائے گا۔ حسن نثار نے کہا کہ بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال جو کہہ رہے ہیں اسے مان لو ورنہ حقیقت میں پاکستان ختم ہوجائے گا۔ نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پاگلوں کا جو ہجوم اور انپڑھوں کا جو ٹولہ ہے ان جاہلوں کو پتہ نہیں کہ ایٹم بم کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت بڑی بدمعاشی ہے کہ پاکستان نے اکسا اکسا کر ایک دشمن بنا لیا ہے۔آؤٹ آف دی وے جاکر دشمن بنایا ہے پھر ایٹم بم بنایا۔ ایٹم بم بنا تو لیا لیکن اپنے بچوں کو کتاب نہیں دی، اپنے مریضوں کو علاج کے لئے سہولت نہیں دی، اپنے لوگوں کو انصاف نہیں دیا۔ نثار اتنے پر ہی نہیں رکے انہوں نے کہا کہ پاکستان آئے دن بھارت کو ایٹمی حملے کی دھمکی دیتا رہتا ہے بغیر اس بات کے سوچے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف ایٹمی جنگ چھیڑدی تو پاکستان دنیا کے نقشے میں تاریخ بن کر رہ جائے گا۔ آج پاکستان کی ساری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے۔ امریکی صدر دفتر وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر ایک آن لائن عرضی ڈالی گئی ہے۔ اس میں پاکستان کو دہشت گردی کا اسپانسر ملک قراردینے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس عرضی کی لوگ جم کر حمایت کررہے ہیں۔ اب تک قریب 5 لاکھ لوگوں نے اس کی حمایت کی ہے۔ یہ اوبامہ انتظامیہ سے اس بارے میں جواب ملنے کے لئے ضروری تعداد سے پانچ گنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر ڈائی گئی آن لائن عرضی کو ایک شخص نے 21 ستمبر کو ڈالا تھا۔ اس شخص نے خود کو عارضی نام والابتایا۔ وائٹ ہاؤس سے اس سلسلے میں جواب ملنے کے لئے 30 دن میں ایک لاکھ دستخطوں کی ضرورت ہے۔ ایک ہفتے کے اندر ہی عرضی پر ایک لاکھ لوگوں کی حمایت کی تعداد پار کر گئی۔ عرضی کے مطابق اوبامہ انتظامیہ 60 دن میں عرضی پر جواب دے سکتا ہے۔ ادھر سخت لہجے میں مذمت کیلئے برطانیہ سے اپیل کرنے والی برطانوی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود نئی عرضی پر دستخط کرنے والوں کی تعداد 10 ہزار کی حد کو پار کر گئی ہے۔ برطانوی حکومت اس پر رد عمل دینے کی حقدار ہوگئی ہے۔ اب برطانوی سرکار اس عرضی پر جواب دینے کے لئے ضروری نمبروں کی حد پوری کرگئی ہے لیکن نشانہ 29 مارچ 2017ء تک 1 لاکھ دستخط حاصل کرنا ہے۔
(انل نریندر)

05 اکتوبر 2016

متنازعہ بیان دے کر سلمان پھر پھنسے

فلم اداکار سلمان خان کی میں بہت عزت کرتا ہوں وہ نہ صرف ہٹ فلمیں ہی بناتے ہیں بلکہ ان کی فلمیں لیک سے ہٹ کر ایک مثبت پیغام دینے والی ہوتی ہیں لیکن مجھے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ایسے بیان پتہ نہیں کیوں دے دیتے ہیں جس سے تنازعہ کھڑاہوجائے؟ پہلے وہ بیان دیتے ہیں بعد میں ان کے والد سلیم خان صفائی دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اب ان کے تازہ بیان کو ہی لے لیجئے ، بالی ووڈ میں پاکستانی اداکاروں کا بائیکاٹ اور پابندی چل رہی ہے۔ انڈین موشن پکچرس پروڈیوسر فیڈریشن پاکستانی اداکاروں پر پابندی لگادی ہے۔ پاکستانی اداکار بھارت چھوڑ رہے ہیں۔ بالی ووڈ میں پاکستانی اداکاروں پر پابندی کے خلاف سلمان خان کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا پاک اداکاروں پر پابندی صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ آتنک وادی نہیں ہیں اور بھارت میں ویزا ہی لے کر آتے ہیں۔ سلمان نے کہا کہ کلا اور دہشت گردی کو نہیں جوڑنا چاہئے۔ سلمان نے یہ بیان دے کراپنے آپ کو بلاوجہ کنٹروورسی میں گھسیٹ لیا ہے۔ پاکستانی اداکاروں کی حمایت کرنے پر سلمان خان مہاراشٹر نو نرمان سینا کے نشانے پر آگئے ہیں۔ سلمان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایم این ایس کے چیف راج ٹھاکرے نے انہیں صلاح دی ہے کہ وہ صرف اپنی فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی اپنا منہ کھولیں۔ ممبئی میں سنیچر کو ایک پریس کانفرنس میں راج ٹھاکرے نے سلمان خان کو خبردار کیا کہ اگر وہ اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں تو ان کی آنے والی فلموں پر پابندی لگادی جائے گی۔انہوں نے کہا وہ بیوقوف (سلمان) کچھ بھی بک بک کرتا رہتا ہے۔ پچھلی مرتبہ اس نے کچھ اسی طرح کا بیان یعقوب میمن کو لیکر دیا تھا۔ اسے اپنا منہ صرف اپنی فلموں کی شوٹنگ کے دوران ہی کھولنا چاہئے۔ آخر ہمیں بھارت میں ان پاکستانی اداکاروں کی ضرورت کیا ہے؟ کون جانتا ہے کہ وہ مخبر بھی ہوسکتے ہیں۔ ڈیوڈ ہیڈلی کے ساتھ کیا ہو؟ وہ ویزا لیکر آیا بعد میں پتہ چلا کہ وہ دہشت گردوں کے لئے ٹوہ لے رہا تھا۔ سلمان پر حملہ جاری رکھتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا ان جیسے لوگوں کو صرف اپنا بزنس دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی اداکار بھارت میں پیسہ کماتے ہیں ،پاکستان میں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ جس روپے کا استعمال دہشت گردوں کی مدد میں ہوتا ہے۔ آتنکی بھارت کے بے قصور لوگوں کو مارتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سلمان نے شہیدوں کے لئے تو کبھی ٹوئٹ نہیں کیا۔ سلمان کو پاکستان میں جاکر کام کرنا چاہئے۔ چاہے پاکستانی فلمی اداکار ہوں چاہے پاکستانی کرکٹ کھلاڑی ہوں یہ بھارت کے کبھی ہمدرد نہیں ہوسکتے۔ فواد خان نے پاکستان پہنچ کریہ صاف کردیا۔ انہوں نے کہا میرے لئے دیش پہلے آتا ہے اور بھارتیوں کا دل بہت چھوٹا ہے۔ ادھر عمران خان نریندر مودی کو سبق سکھانے کی بات کررہے ہیں۔ہم پاکستانی اداکاروں کے حمایتیوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کیا پاکستان نے کبھی لتا منگیشکر ،امیتابھ بچن کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے؟ انوپم کھیر کو تو کراچی کا ویزا تک نہیں ملتا۔اب تو پاکستان ہندوستانی فلموں کی نمائش پر بھی پابندی لگانے کی بات چل رہی ہے۔ یہ وقت دہشت گردی اور دہشت گردوں کے حمایتی پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کا ہے۔ فضول کے تنازعوں میں نہیں پڑنا چاہئے۔ فواد خان نے تو اڑی حملے کی مذمت تک کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عدنان سمیع نے سرجیکل اسٹرائک کے کھل کر حمایت کی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کو بڑھاوا دیتا ہے۔
(انل نریندر)

گھبرائے پاکستانیوں نے مقبوضہ کشمیر سے کیمپ ہٹائے

جیسا کہ میں بار بار اس کالم میں کہتا رہا ہوں کہ اگر ہم ایل او سی کو پار کرکے ان دہشت گردوں کے لانچ پیڈوں کو تباہ کردیتے ہیں تو مجبوراً ان جہادی تنظیموں کو اپنے کیمپوں کو پیچھے ہٹانا پڑے گا اور ان کے درمیان ہمارے سکیورٹی کیمپوں میں فاصلہ بڑھ جائے گا اور ہمیں ردعمل کے لئے زیادہ وقت اور مواقع مل جائیں گے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فوج کی سرجیکل اسٹرائک کے بعد دہشت گرد مقبوضہ کشمیر چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ بھارت کی سرجیکل اسٹرائک کا اثر اب صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کے مظفر آباد کے پاس پاکستانی فوج نے قریب درجن بھر آتنک وادی کیمپوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد کی ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سامان کو کوئی نقصان نہ ہو۔ سرحد پار سے آ رہی خفیہ اطلاعات کے مطابق حملے کے ایک دن کے اندر آتنکی بیس کیمپوں کو خالی کر کے چلے گئے ہیں۔ خفیہ ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی راجدھانی مظفر آباد کے آس پاس دہشت گردوں کے کئی بیس کیمپ چل رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 500 دہشت گرد ٹریننگ لے رہے تھے۔ ان دہشت گردوں میں300 لشکر طیبہ ، جیش محمد اور دیگر تنظیموں کے تھے۔ یہیں سے دہشت گردوں کو لانچ پیڈ پر بھیجا جاتا تھا جہاں سے پاکستانی فوج انہیں کور فائر کرکے گھس پیٹھ کرنے میں مدد کرتی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کو ڈر ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ خطہ بتا کر ان بیس کیمپوں پر بھی سرجیکل اسٹرائک کر سکتا ہے۔ ان وجوہات سے دہشت گردوں کو پاکستان کے اندر علاقوں میں بھی موجود کیمپوں میں لے جایا گیا ہے۔ جن نئے علاقوں میں ان کیمپوں کو منتقل کیا گیا ہے ان میں سے منشیرہ، مظفر آباد سے 50 کلو میٹر دور خیبر پختونخواہ صوبے میں ہے جبکہ نوشیرہ اور ہمییامہ (جہلم) 250 کلو میٹر دور پنجاب صوبے میں ہے۔ کاؤنٹر انٹیلی جنس کے جاسوسوں نے بتایا کہ ان کیمپوں میں صبح اندھیرے 2:30 بجے سے ہی سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ یہاں نئے لڑکوں کو سخت جسمانی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ رات 10:00 بجے عشاء کی نماز کے ساتھ ان کیمپوں کی سرگرمیاں ختم ہوتی ہیں۔ افسران کے مطابق ان کیمپوں کو الگ الگ کام دئے جاتے ہیں اور ٹریننگ چاٹ کو یہاں تین ٹکڑوں میں بانٹا گیا ہے۔ کاؤنٹر انٹیلی جنس افسر نے بتایا پکڑے گئے دہشت گردوں سے کی جانے والی پوچھ تاچھ کی بنیاد پر ہمیں پتہ چلا ہے کہ لانچ پیڈ پر لے جانے سے پہلے ایک دہشت گرد کو تین قسم کی ٹریننگ سے گزرنا پڑتا ہے۔بیسک ٹریننگ، دورۂ عام (جسمانی ٹریننگ) اور دورۂ خاص (ہتھیاروں کی ٹریننگ) وغیرہ شامل ہیں۔
(انل نریندر)

04 اکتوبر 2016

ورلڈ میڈیا نے پوچھا اگر حملہ نہیں ہوا تو بے چینی کیوں

مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ذریعے سرجیکل اسٹرائک کے حقائق کو سبھی پاکستانی اخباروں نے غلط بتایا ہے لیکن وہاںیہ ضرور پوچھا جانے لگا ہے کہ اڑی حملے کو لیکر آخر نواز شریف سرکار کی تھیوری دنیا کیوں مانے گی جبکہ پاکستان خود ہی دہشت گردوں پر قابو نہیں کرپارہا ہے۔ دی نیوز انٹرنیشنل اخبار میں ایک شخص ایاز امیر نے لکھا ہے کہ اڑی حملے کوہم بھارت کے ذریعے خود حملہ کر متاثر دکھانے کی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندہ خاتون لودھی نے بھی یہ بات رکھی لیکن کیا اسے دنیا ماننے کوتیار ہے؟ دوسری طرف اس اسٹرائک پر ورلڈ میڈیا کیا کہہ رہا ہے؟ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں ایک گمنام پاکستانی فوجی افسر کے حوالے سے کہا ہے کہ سرجیکل اسٹرائک بدھوار کی دیر رات شروع ہوئی، یہ قریب 6 گھنٹے تک چلی۔ پاکستان کے دہشت گردوں نے حملے کی یوجنا بنائی تھی اور انہیں روکنے کے لئے یہ کارروائی کی گئی۔ انگریزی اخبار نیویارک ٹائمس نے ایک عنوان ہندوستانی افسر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سرجیکل اسٹرائک سے پاکستان پریشان ہوگیا ہے۔ اسٹرائک کے بعد اب پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے اقتصادی اور ڈپلومیٹک محاذ پر الگ تھلگ کرے گا اس کے لئے کئی مرحلوں میں ڈپلومیسی بنائی جارہی ہے۔ اس میں فوج صرف ایک متبادل ہے۔ برطانیہ کا اخبار ڈیلی میل لکھتا ہے کہ بھارت نے شروع کیا ’آپریشن پے بیک‘ پی او کے میں آتنک وادیوں کے بیس پر حملہ کیا۔ 38 جہادیوں اور ان کے 2 ہینڈلروں کو مار ڈالا۔ اڑی میں 18 کی موت پر جواب دیتے ہوئے یہ کارروائی کی۔ چار گھنٹے تک اس آپریشن میں فوج نے اپنی پوری صلاحیت دکھائی یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارت نے سرجیکل اسٹرائک کا کھلے عام انکشاف کیا۔ ملک کی سلامتی کے خطروں کو دور کرنے کیلئے یہ پی ایم مودی کی طاقتور اپروج ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کا دی ایکسپریس ٹریبیون کہتا ہے کہ بھارتیہ فوج نے سیز فائر کو خلاف ورزی کر ہمارے دو فوجیوں کو مار ڈالا اور اسے سرجیکل اسٹرائک کا نام دیا۔ یہ مودی سرکار کی اپنا چہرہ بچانے کی کوشش ہے۔ پاکستان کا مشہور اخبار ’دی ڈان‘ لکھتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔ ہندوستانی فوج کی کارروائی کیا سرجیکل اسٹرائک تھی؟ سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت میں اسے لیکر کنفیوزن ہے۔ برطانیہ کے اخبار’دی ٹیلیگراف‘ نے لکھا ہے کہ ہندوستانی جوانوں نے غلام کشمیر میں گھس کر 6سے8 دہشت گرد کیمپوں پر حملے کئے ان کیمپوں میں وہ لوگ تھے جو گھس پیٹھ کر بھارت میں دہشت گردانہ واقعات کو انجام دینا چاہتے تھے۔ ایک سعودی اخبار ’الجزیرہ‘ نے بھی لکھا ہے کہ جہاں یہ فوجی کارروائی کی گئی وہاں کے لوگ بھی ڈرے ہوئے ہیں۔ اس نے سرحدی علاقے کے باشندے سیف اللہ کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے کہ اب گولیاں چلنی شروع ہوئیں تو آس پاس کے لوگ ڈر گئے۔ حالانکہ اب کچھ نہیں ہورہا ہے اور حالات ٹھیک ہوگئے ہیں لیکن کشیدگی برقرار ہے۔ اگر بھارت نے یہ سرجیکل اسٹرائک نہیں کیا تھا تو آتنکی تنظیم جماعت الدعوی کے سرغنہ حافظ سعید یہ دھمکی کیوں دیتے ہیں؟ کہ بھارت کو ہم بتائیں گے کہ اصلی سرجیکل اسٹرائک کیا ہوتی ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کو جلد ہی اس کا پتہ چل جائے گا؟ اقوام متحدہ میں آپ کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے، ہم بدلہ ضرور لیں گے۔ اگر سرجیکل اسٹرائک نہ ہوئی ہوتی تو پاکستانی فوج کی پانچویں بٹالین ایل او سی کی طرف کیوں بڑھتی؟ یہ پاکستانی فوج کی ریزرو بٹالین ہے۔ یہ ہی نہیں پاکستان نے اپنے جوانوں کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی ہیں۔ پی ایم نواز شریف نے اپنی کیبنٹ کی ایمرجنسی میٹنگ میں کہا کہ جنگ تھونپی گئی تو ہم منہ توڑ جواب دیں گے۔ ویسے ایک دوسرے واقعہ میں ایران 27 ستمبر سے لگاتار پاکستانی سرحد پر گولی باری اور موڑتار داغ رہا ہے۔ ایران بارڈر گاڈس کا کہنا ہے پاکستان2014 کے معاہدے کے مطابق سنی باغی گروپوں پر لگام نہیں لگا رہا ہے اور یہ گروپ ایران میں آتنکی حملوں کو انجام دے رہے ہیں۔
(انل نریندر)

ڈریگن کی ڈبل اسٹرائک

چین نے پاکستان سے دوستی نبھاتے ہوئے ایک بار پھر اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا ہے۔ ڈریگن نے بھارت کے خلاف ڈبل اسٹرائک(دوہرہ حملہ)کیا ہے۔ ایک طرف ڈریگن (چین) نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کے ذریعے آتنک وادی اعلان کرانے کی کوشش پر اس کے ذریعے لگائی گئی تکنیکی بندش کو آگے بڑھادیا گیا ہے۔ وہیں دوسری طرف چین نے اپنے سب سے مہنگے پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیر کے تحت برہمپتر کی معاون ندی کا بہاؤ روک دیا ہے۔ چین کے اس دوہرے حملے کی ٹائمنگ تو دیکھئے ایک طرف ہم پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کررہے ہیں تو دوسری طرف چین اس اسٹرائک پر تو پاکستان کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ یہ نیا حملہ کردیا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ذریعے کی گئی کارروائی پر چین خفت مٹا رہا ہے لیکن اس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اس کا سدا بہار دوست ہے۔ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش پر چین کی طرف سے لگائی گئی تکنیکی روک کی میعاد پیرکو پوری ہورہی تھی مگر چین نے آگے اعتراض نہ کیا ہوتا تو اظہر کو دہشت گرد اعلان کرنے والا ریزولوشن خود بخود پاس ہوجاتا۔ تکنیکی روک کے آگے بڑھ جانے کے بعد کمیٹی کو اب اس مسئلے پر غور کرنے کیلئے اور متعلقہ فریقین کو آگے غور کرنے کیلئے وقت مل گیا ہے۔ یہ معاملے کئی مہینوں کیلئے آگے بڑھ گئے۔ ادھر تبت میں چین نے برہمپتر ندی کی معاون ندی کے پانی کا بہاؤ روک دیا ہے۔ اس سے بھارت ۔ بنگلہ دیش میں برہمپتر ندی کا بہاؤ متاثر ہوسکتا ہے۔ چین نے اپنی ندی شیام بکتو کا بہاؤ ایسے وقت روکا ہے جب بھارت اڑی حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ سندھو آبی معاہدہ سے متعلق بات چیت معطل کرنے کا مبینہ فیصلہ کرچکا ہے لیکن اگر چین برہمپتر کا پانی روک سکتا ہے تو بھارت بھی سندھو ندی کا پانی کیوں نہیں روک سکتا۔ ہمارے بھی جموں و کشمیر میں کئی آبی پروجیکٹ ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔ اگر چین بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کرسکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟ ویسے چین نے ایسا کرکے بھارت کو سندھو ندی کے بارے میں نظرثانی کرنے کے دور رس نتائج سے ایک طرح سے آگاہ کردیا ہے۔ جیش محمد کے خطرناک سرغنہ مسعود اظہر کو آتنکی قرار دینے پر لگائے اپنے ویٹو کی میعاد تین مہینے تک بڑھا دی ہے ، یہ اس نے تب کیا ہے جب بھارت سمیت پوری دنیا خود چین بھی دہائیوں سے دہشت گردی سے پریشان ہے۔ تازہ اڑی حملے کی وہ مذمت بھی کرچکا ہے۔ اب وہ مسعود اظہر کے مسئلے پر بھارت کو دی گئی یقین دہانی سے بھی مکر رہا ہے۔ چین نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ پاکستان کا سدا بہار دوست ہے اور بھارت کا دشمن۔
(انل نریندر)

02 اکتوبر 2016

دہشت گردی کو لیکر آج پوری دنیا میں پاکستان الگ تھلگ ہوا

آج پاکستان اپنی کرتوت کی وجہ سے ساری دنیا میں بے نقاب ہوگیا ہے۔ اڑی میں 18 ستمبر کو دہشت گردوں کے حملے میں ہندوستان کے 18 جوان شہید ہونے کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو الگ تھلگ کرنے اور اس پر دباؤ بنانے کی جو حکمت عملی قدم اٹھائے ہیں وہ کامیاب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ بھارت کی جوابی کارروائی پر پاکستان کو کسی بھی دیش کی حمایت نہیں ملی۔ کسی نے بھی ہمدردی تک ظاہر نہیں کی۔ اگر پاکستان آج اس حالت میں ہے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے بھارت ہی نہیں بنگلہ دیش، افغانستان، برطانیہ، شام، ایران، عراق جیسے کئی ممالک پاکستان اسپانسر دہشت گردی سے متاثر ہیں۔ کچھ دن پہلے ہی افغانستان نے اقوام متحدہ کے جنرل اجلاس میں دہشت گردی کو لیکر پاکستان پر تلخ کٹاش کیا۔ افغانستان کے نائب صدر سرور دانش نے کہا کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو پاکستان ٹریننگ اور ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر لاگ لپیٹ کے پاکستان میں رچی گئی سازشوں سے اس کی سرزمیں پر دہشت گرد تنظیم بے رحمی سے بے قصور شہریوں پر حملے کررہے ہیں جبکہ پاکستان کو افغانستان بار بار پاکستان سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو تباہ کرنے کو کہا ہے۔ بھارت کے الزامات پر مہر لگاتے ہوئے افغان لیڈر نے کہا کہ دراصل پاک کی دہشت گردی کو لیکر دوہری پالیسی ہے اور وہ اسے اچھے برے دہشت گردی کے طور پر دیکھتا ہے۔ جس سے بین الاقوامی سرحد خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پاکستان نے افغانستان پر اسی سال کم سے کم 3 بڑے حملے کروائے ہیں۔ 24 اگست 2016 ء کو کابل میں امریکی یونیورسٹی پر حملے میں 17 لوگ مارے گئے تھے۔ 19 اپریل 2014ء کو حملے میں75 لوگ مارے گئے اور 350 زخمی ہوئے۔ اس سے 4 دن پہلے 15 اپریل 2016 ء کو طالبان نے ایک شہر پر حملہ کرکے سینکڑوں کو مار ڈالا۔ بنگلہ دیش بھی پاکستان کی سرگرمیوں سے نارا ض ہے۔ سال 2015ء میں ڈھاکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے کئی افسر دہشت گرد تنظیم جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کو مالی مدد دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ 19 جنوری 2015ء میں پاکستان میں تربیت یافتہ آئی ایس کے 4 دہشت گرد بنگلہ دیش نے پکڑے ہیں۔ 12 جون 2016ء کو بنگلہ دیش نے 3192 پاک حمایتی دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ لندن اور میڈریڈ میں ہوئے بم دھماکوں میں پاکستانی نژاد آتنک وادیوں کا ہاتھ تھا۔ 2015ء سے 2016 ء میں دہشت گردانہ واقعات میں ملوث ہونے پر 50 سے زیادہ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ نیویارک کے ٹائمس اسکوائر میں 2010ء میں ہوئے کار دھماکے میں پاکستانی نژاد دہشت گرد فیصل شہزاد کا سیدھا ہاتھ تھا اس کے علاوہ درجنوں بار امریکہ کو دہلانے کی سازشوں میں پاکستانی نژاد دہشت گردوں کا ہاتھ رہا ہے۔ اگر ہم بلوچستان کی بات کریں تو وہاں پاکستان نے انتہا کررکھی ہے۔ بلوچستان میں پاکستان کا ظلم لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ اب پاکستانی مسلح افواج نے بلوچ نیتا ظفر علی بکتی کو اغوا کرکے ان کو قتل کردیا تھا۔ بلوچ نیتا شیر محمد بکتی نے ٹوئٹ کر بلوچستان ری پبلکن پارٹی کے نیتا ظفر علی بکتی کے شہید ہونے کی جانکاری دی۔ اس سے پہلے ظفر علی کے بھائی و بی آر پی کے سرکردہ لیڈر غلام محمد بکتی کو بھی پاکستانی سکیورٹی فورس نے مار ڈالا تھا۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ بے گناہ لوگوں کا خون بہاکر یہ لوگ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں اور کون سی آزادی لینا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں کون غلام ہے؟ غلام تو ہم ہیں جو پی او کے میں رہتے ہیں اور پاکستان کی مرضی کے بغیر سانس نہیں لے سکتے۔ یہ درد دل بیاں کیا ہے پونچھ کے راولکوٹ بس کے ذریعے حال میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر یعنی پی او کے سے لوٹ رہے وہاں کے شہریوں نے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جسے آزاد کشمیر کہتا ہے اس کے حالات ایسے بنا دئے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ جو گھر سے باہر نکلتے ہیں وہ گھر آنے کی کوئی امید نہیں رکھتے۔کشمیرمیں پچھلے کچھ عرصے سے ہورہے مظاہرے اور آتنکی حملوں پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے پی او کے کے شہری حاجی فضل حسین ، حاجرہ بیگم، عمران حسین نے کہا کہ جو لوگ جموں و کشمیر میں آزادی کی بات کرتے ہیں انہیں صرف ایک مہینے کے لئے اس پار بھیج دو۔ انہیں پتہ چل جائے گا کہ آزادی کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا ہندوستان کی طرف سے ہر طرح کی رعایت ہے جن چیزوں کو یہاں کے لوگ مہنگی کہتے ہیں اگر انہیں وہ چیزیں ہمارے یہاں خریدنی پڑیں تو ہوش اڑ جائیں گے۔ حاجی افضل حسین کا کہنا ہے کہ ہم 7 لوگوں کا کنبہ ہے اور ہمارا ہر مہینے 15 ہزار روپے کا بجلی کا بل آتا ہے۔ یہاں پر آپ جہاں مرضی سے گھوم لیں ، ہم تو پاکستانی حکومت، فوج، مجاہدوں اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر زندہ رہتے ہیں۔ بھارت کے اس دعوے پر پاکستان کے چیف جسٹس نے مہر لگا دی ہے پاک دہشت گردوں کے حمایتی ہیں اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے جب پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیرجمالی کہیں کہ دیش کی کچھ سیاسی پارٹیاں دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہیں۔ایک تقریب میں جمالی نے یہ بات کہی ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیحد مایوس کون ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیاں اپنے خود کے مفاد حاصل کرنے کیلئے دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں پاکستان بے نقاب ہوچکا ہے۔ ساری دنیا اس کی اصلیت جاننے لگی ہے۔ اب تو سبھی مانتے ہیں پاکستان بین الاقوامی دہشت گردی کی فیکٹری بن چکا ہے۔
(انل نریندر)

چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات

بہار کے دبنگی لیڈر اور آر جے ڈی کے سابق ایم پی شہاب الدین پھر جیل پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس کی ضمانت منسوخ کردی تھی۔ اس نے سیوان کورٹ میں سرنڈر کردیا۔ قتل کے معاملے میں 11 سال تک جیل میں رہنے کے بعد20 دن پہلے ہی شہاب الدین کو پٹنہ ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی۔ عدالت نے جس طرح سے بہار سرکار کو پھٹکار لگائی اور اس کی نکتہ چینی کی کہ وہ تمام اپوزیشن اور دبنگوں کے حمایتیوں کے لئے سخت سندیش ہے۔ سپریم کورٹ نے صاف پوچھا کہ جب شہاب الدین کو ضمانت مل رہی تھی تو کیا سرکار سو رہی تھی؟ جسٹس پی سی گھوش اور امیتابھ رائے کی بنچ نے پانچ صفحات کے حکم میں کہا کہ ہم نے معاملے کے سبھی پہلوؤں پر غور کیا۔ ضمانت قانون کو دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ ہائی کورٹ کا حکم ان سب پہلوؤں اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے دیا گیا ہے اس لئے ہم ضمانت منسوخ کرتے ہیں۔ عدالت نے راجیو قتل کانڈ میں مقدمے کو جلد پورا کرنے کا بھی حکم دیا۔ حقیقت میں 35 قتل معاملوں میں شہاب الدین کو ضمانت ملنا بہار میں اتحادی سرکار کے محکمہ قانون کی غیر جانبداری پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر ضمانت کا معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں جاتا تو کیا ہوتا؟ شہاب الدین کے وکیل نے دلیل دی کہ ان کے موکل کو ہسٹری شیٹر کہا جاتا ہے جبکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر جواب دیا کہ دو معاملوں میں تو اسی عدالت نے اسے ہسٹری شیٹر مانا ہے کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہ عدالت غلط ہے؟ ہم اس بارے میں واقف ہیں کہ ہسٹری شیٹر کو ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ سمجھنے کی بات ہے کہ یہ فیصلہ بہار سرکار کے خلاف قابل ملامت تبصرہ ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آر جے ڈی کے دباؤ میں نتیش سرکار نے جان بوجھ کر مقدمہ ایسے پیش کیا کے جج کو ضمانت دینی پڑی۔ امید کی جاتی ہے کہ شہاب الدین کے خلاف تمام التوا مقدموں میں تیزی آئے گی۔ بہار سرکار کے تازہ رویئے سے یہ بھی مناسب ہوگا کہ شہاب الدین کے تمام مقدموں کو بہار سے دوسری ریاست میں منتقل کیا جائے۔ بہار میں موجودہ سرکار کے رہتے انصاف کی امید کم ہی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...