امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیوجب بھارت کے چار روزہ دورہ پر آئے تھے تو بھارت کے وزیراعظم و سرکردہ سفارتکاروں سے تو ملے ہی تھے۔ ساتھ ہی کئی ہندوستانی مشہور سیاحتی مقامات پر بھی گئے ۔انہیں میں سے ایک آگرہ کے تاج محل کا دورہ سوشل میڈیا میں موضوع بحث بنا ۔امریکی وزیرخارجہ نے تاج محل کے سامنے اپنی اہلیہ کے ساتھ یادگاری فوٹو سوشل میڈیا پر شیئر کی ۔یہ فوٹو جلد ہی سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی ۔اس معاملے نے اس وقت ایک الگ موڑ لے لیا جب حیدر آباد میں قائم ایرانی سفارتخانہ نے روبیو کے تاج محل دورہ پر کھلے طور پر طنز کیا ۔ایرانی قونصل خانہ نے اپنے بیان میں یاد دلایا کہ ان کے مطابق تاج محل مغل بادشاہ (شاہ جہاں) کی ایرانی نژاد بیگم ممتاز محل کی محبت کی نشانی ہے اوراس کی تعمیر میں فارسی فنکاروں کی صلاحیت شامل تھی ۔بیان میں امریکہ کی بھی تنقید کی گئی اور امریکی سرکار پر دہرے اسٹنڈرڈ اپنانے کا الزام لگایا گیا ۔سفارتخانہ نے لکھا : اگر مارکو روبیو کو تاریخ اور فن کی سمجھ ہوتی تو وہ یہاں تصویر کھچوانے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے یہ یادگار ایک بادشاہ کی ایرانی اہلیہ کی محبت میں بنایا گیا تھا اور اسے ایرانی آرٹسٹوں کے ٹیلنٹ نے گھڑا تھا آج ان کی سرکار ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دے رہی ہے ۔اور دوسری تہذیبوں کی بے عزتی کرتی ہے ۔ایرانی طنز کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہوگیا ۔کچھ ماہرین فن نے روبیو کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے پش منظر کو سمجھے بنا ایسے مقامات پر تصویریں کھچوانا مناسب نہیں ہے۔ کچھ رائے زنی اس سے بھی آگے بڑھ گئی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سلسلے میں دیکھاجانے لگا ہے ۔ایک ماہر آثار قدیمہ نے کہا کہ یہ عمارت ایک ایرانی ملکا کے لئے فارسی فنکاروں نے بنائی تھی ۔اور یہ ایک ایسی تہذیب کی علامت ہے جسے ان کی سرکار اس وقت میں خطرے میں ڈال رہی ہے اور ان کا احترام نہیں کررہی ہے ۔بتادیں سنگ مرمر ( جو راجستھان کے مکرانے سے آیا تھا) سے بنا ۔تاج محل دنیا کے سات عجائبوں میں سے ایک ہے ۔جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کی پیار کی یاد میں 1632 عیسوی میں بنوانا شروع کیا تھا جو 1653 عیسوی صدی میں بن کر تیار ہوا تھا ۔اس کے بنانے والے ہندواسلامی ،مغل سمیت کئی آرٹسٹوں کا فن شامل ہے ۔اس وسیع اور شاندار عمارت کو قریب 20 ہزار مزدوروں نے مغل فنکار استاذ احمد لاہوری کی رہنمائی میں بنایا تھا ۔اس مقبرے کو بنانے میں اس وقت قریب 20 لاکھ روپے خرچ آیا تھا ۔آج کے حساب سے یہ لاگت قریب 827 ملین ڈالر تقریباً 52 عشاریہ 8 ارب روپے ہے ۔اس عمارت کی تعمیر میں تقریباً 28 لاگ الگ طرح کے پتھروں کا استعمال کیا گیا جو ہمیشہ چمکتے رہتے ہیں ۔اس کی دیواروں پر بے حد خوبصورت نقاشی کی گئی ہے ۔تاج محل کو 1983 میں یونیسکو نے عالمی وراثت مقام ڈکلیئر کیا تھا ۔
(انل نریندر)