Translater

19 ستمبر 2026

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو جائے گی ۔سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ ایران حمایتی یمن کے حوثی باغیوں نے اسلام کے سب سے مقدس شہر مکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔سعودی عرب نے ایران حمایتی حوثی باغیوں پر مکہ کی طرف ڈرون بھیجنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا ہے ۔سعودی عرب نے مکہ میں حملے کو اپنی ریڈ لائن بتایا ہے ۔لیکن حوثی باغیوں نے حملے سے انکار کیا ہے کہا ہم نے کوئی ایسا حملہ نہیں کیا ہے ۔سعودی عرب وہی پرانا گھسا پٹا الزام لگارہا ہے ۔حوثی باغیوں کی نیوز ایجنسی سبا کے مطابق تنظیم سے مکہ یا دیگر کسی مقدس مقامات کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مکہ کے ایئر اسپیس میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ۔سعودی عرب نے منگل کے روز مکہ اور دیش کے دوسرے بڑے شہر جدہ سمیت کئی علاقوں کے لئے سیکورٹی الرٹ جاری کیا ہے ۔مکہ وہ شہر ہے جہاں مسلمانوں کے لئے مقدس کعبہ موجود ہے ۔کعبہ کی طرف ہی منہ کرکے دنیا بھرکے مسلمان روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 57سے زیادہ مسلم ممالک کی نمائندگی کرنے والی آرگنائزیشن اسلام کوآردڈینیشن نے بھی مقدس مقامات کی پاکیزگی کی خلاف ورزی کی کوشش کی مذمت کی ہے ۔مکہ ڈرون تنازہ کے بیچ حوثی کے  فوجی ترجمان یحیٰ ساریا نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں سعودی عرب کے جنگی جہازوں نے یمن کے پانچ صوبوں پر 52 ہوائی حملے کئے ہیں ۔ایف -15 اور ٹاؤفن جنگی جہازوں نے کئی شہروں الزیف ،البیدا ، سادہ اور عمران میں حملے کئے ہیں ۔اسکولوں ، پلوں ، سڑکوں اور دوسرے شہری سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ۔حوثی گروپ نے ان حملوں کا جواب دینے کی بھی دھمکی دی ہے ۔چونکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے سے انکار کر دیا ہے ۔اس لئے اس واقعہ کی جانچ ضروری ہے ۔امریکہ -ایران لڑائی کے دوران بھی ایسے حالات بن چکے ہیں ۔اس پورے خطہ میں ایسی طاقت موجود ہے جو لڑائی کو بڑھائے رکھنا چاہتی ہے ۔ایسے میں کسی بھی طرح کے غلط تجزیہ کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔خیال رہے کہ یمن کے قریب 20 فیصد علاقہ میں حوثیوں کا قبضہ ہے ان کی تنظیم کا نام انصار اللہ یعنی اللہ کے مددگار ہے اوریہ شیعیٰ اکثیریتی انجمن ہے اور یمن میں اپنا الگ حصہ مانگ رہا ہے ۔امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم مانتا ہے لیکن بھارت سمیت زیادہ تر مسلم ممالک بھی اسے آتنکی نہیں مانتے ۔حوثیوں کو فوری طور پر قابو میں کرنے کی صلاحیت سعودی عرب میں نہیں لگتی ۔بہت سوں کو یہ غلط فہمی ہوگی لیکن تذکرہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی مدد اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اطلاعات کے ذریعے کررہی ہیں ۔ہر جنگ کی قیمت آخرکار جنتا کو ہی بھگتنی پڑتی ہے ہمارے سامنے امریکہ ایران ،اسرائیل لبنان ، جنگ ہے ۔ساڑے چھ ماہ بعد بھی کوئی صلح کی راہ نظر نہیں آرہی ہے اس سے پہلے سعودی اور حوثیوں کی جنگ نہایت خطرناک موڑ پر پہنچے اس بیچ بچاؤکرکے رکوانا ضروری ہے ۔اور کسی بھی قیمت پر مقدس مذہبی مقامات کی حفاظت ہونی چاہیے ۔
(انل نریندر)

17 ستمبر 2026

کیا بھارت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے؟

نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں بغیر کسی دیش کا نام لئے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کی شاید امید بہت کم لوگوں کو تھی اور یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنا شروع کردی ہے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں جس پر سبھی متعلقہ ممالک نے اپنی منظوری دی ہےاور جوائنٹ اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں مطلب سب ممالک کی اس میں رضامندی ہے۔ اعلانیہ دستاویز میں دو تین نقطہ ایسے ہیں جو اب تک کی ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے میل نہیں کھاتے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں اسرائیل اور امریکہ کا نام لئے بغیر فلسطین اور لبنان کا ذکرکیا گیاہے اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کا پر امن حل تلاشنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دلچسپ یہ بھی تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایک دوسرے کے برعکس دونوں محاذ میں کھڑے ایران اور یو اے ای بھی مشرق وسطیٰ کے حالات پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کرنے والے ملکوں میں شامل تھا۔برکس اعلانیہ دستاویز میں ٹرمپ امریکی ٹیرف کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن کہا گیا کہ کئی ملکوں کو نا انصافی پر مبنی ، ایک طرفہ منمانے قدموں سے نقصان ہوا ہے ۔ چونکہ اعلانیہ دستاویز میں بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں اس کا مطلب صاف ہے کہ پہلی بار امریکہ اور ٹرمپ کا نام لئے بغیر بھارت ٹیرف کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ اب اسے بھارت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی مانا جائے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کا اس پر کیا اثر اور رد عمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اعلانیہ دستاویز میں غزہ اور قبضے والے فسلطینی علاقوں انسانی حالات پر بھی توجہ گئی اور تشویش جتائ گئی۔ اس میں غزہ میں سیز فائر بنائے رکھنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی مدد پہنچانے کی اپیل کی گئی۔اس میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کئے جانے کی بھی مخالفت کی گئی۔ اس میں بین الاقوامی انسانی حقوق قانون میں ایسے سبھی ذکر کرکے مذمت کی گئی ہے۔اعلانیہ دستاویز میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر معاملہ میں بین الاقوامی انصاف عدالت کے انترم احکامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اعلانیہ میں دو ملک ’ٹو نیشن تھیوری‘کی حمایت کو دوہرایا گیا ہے اس کے تحت 1967 کی سرحدوں کو یقینی بنائے رکھنا شامل ہے۔ اس میں اسرائیل سے لبنان میں جنگ بندی کی تعمیل کرنے اور لبنان میں بچے ہوئے علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ برکس اعلانیہ دستاویز میں بیشک اسرائیل کا سیدھے طور پر نام نہیں لیا گیا لیکن فلسطین اور لبنان کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایک سفارتی ماہر نے پوچھا کے بھارت اسرائیل رشتے کتنے مضبوط ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور بھارت کے رشتوں پر کوئی اثر ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔ اسی طرح ٹرمپ کے ٹیرف اور دادا گیری پر برکس میں لئے گئے موقف پر بھارت اور امریکہ کے رشتوں پر کیا اثر ہوگا یہ بھی آنے والے دنوںمیں پتہ چلے گا۔ایران ۔ امریکہ جنگ پر صاف طور پر برکس اعلانیہ دستاویز میں ایران کی حمایت کی گئی ہے۔ بیشک اعلانیہ دستاویز میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکہ کی جانب سے ایک طرفہ اقتصادی پابندیوں اور پرامن نیوکلیائی اداروں پر حملوں کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے خلاف لگائی گئی ایک طرفہ پابندیوں کی مذمت کی جاتی ہے۔ ان کا وسیع طور پر اثر ہوتا ہے اور ان میں غریب لوگوں پر عام طور پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ برکس کے وہ دو دلچسپ ممبر ملکوں روس اور ایران پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ٹرمپ کی برکس مخالفت جگ ظاہر ہے ۔ وہ کئی بار برکس کو امریکہ مخالف بتا چکےہیں اور برکس کے ساتھ جڑنے والے ملکوں پر مزید ٹیکس لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بھارت نے بھی اس برکس اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں تو کیا بھارت امریکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیںاور کیا ہم یہ مانیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں اب زبردست تبدیلی آنے والی ہے۔ کیا محض ایک ایوینٹ تھا اور  فوٹو اپیل چنی تھی؟
(انل نریندر)

15 ستمبر 2026

ووٹ دو ڈالر لو!

بھارت میں حکومتوں کے ذریعے ریوڑیاں بانٹنے کا چلن اب امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ دنیا کے سب سے پرانے اور ترقی یافتہ جمہوری ملک امریکہ میں بھی لوگوں کو سیدھے نقلی یا مفت تحفہ دینے کی سیاست چل نکلنی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں کہا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چنائو میں ان کی ریپبلکن پارٹی جیت حاصل کرلیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کریںگے۔ یہ ایک بہت مہنگی اسکیم ہے جس میں ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آئے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار امریکی ڈالر دیئے جائیںگے۔ ٹرمپ نے اسے ڈیویڈینٹ کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا امریکہ کی مالی طاقت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہ ہر ایک بالغ شہری کو یہ ادائیگی کریںگےبشرطیکہ نومبر کےچنائو میں ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوںمیں جیتے۔ ٹرمپ نے ادائیگی کی ایک شرط بھی بتائی انہوں نے کہا کہ اس رقم کو امریکہ کے اندر ہی خرچ کرنا ہوگا۔ یعنی فیض یافتہ ان پیسوں کودیش کے باہر خرچ نہیں کرسکتا حالانکہ انہوں نے یہ صاف نہیں کیاکہ اسکیم کوکس طرح سے لاگو کیا جائے گا اور اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔امریکہ میں ماہ نومبر میںہونے والے مڈ ٹرم چنائو کے نتیجے ٹرمپ کے لئے تاریخی ہونے والے ہیں۔اس لئے اب وہ ریوڑیاں بانٹنے پر اتر آئے ہیں۔لگتا ہے کہ انہوں نے بھی بھارت میں چلی ریوڑی پراتھا کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔کچھ سال پہلے انہوں نے بھارت کے چناوی سسٹم کی تعریف کی تھی۔ کہیں اب یہ نہ کریںکہ بھارت کے چنائو کمیشن کو امریکہ میںچنائو کروانے کے لئے بلا لیں اور کہیں کہ یہاں بھی ایس آئی آر کروادو؟5 ہزار ڈالر دینے کی ریوڑی کے پیچھے دو اہم پہلو نظرآتے ہیں۔ پہلا ٹرمپ کی مقبولیت نچلی سطح پر آگئی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز؍ سی این این ؍ایس ایس آر ایس و انوائٹی سروے کے اوسط میں ٹرمپ کے خلاف 60 فیصد امریکیوں نے ووٹ دیا ہے۔مقبولیت کی گراوٹ کی وجہ بڑھتی مہنگائی ، گھٹتے روزگار اور ایران جنگ سے ہار ہے۔دوسرا: اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس جیتے تو دونوں ایوان میں اکثریت ملنے کے بعد وہ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ لائیںگے ایسے میں ٹرمپ کو اقتدار گنوانے کا خطرہ ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ جیت کی کوشش میں ایس آئی آر کی طرز پر ووٹر لسٹ کی جانچ کروانے کا اعلان کرچکے ہیں۔سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں مفت اسکیموں کے اعلان کی پرانی روایت ہےاگر ایسی ہی روایت امریکہ میں شروع ہورہی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر ہوگا۔سوال یہ بھی ہے کیا اس کے لئے امریکی پارلیمنٹ منظوری دے گی؟ کیا یہ وہاں کی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جائے گا؟ سب سے بڑی بات کے کیا ووٹر اس کے جھانسے میں آئیں گے؟ یہ رقم امریکی بجٹ کا 17 فیصدی ہے۔ بتادیں ایران جنگ کی وجہ سے پہلے ہی ہر امریکی خاندان پر 3 ہزار ڈالر کا مزید بوجھ بڑھ چکا ہے۔
(انل نریندر)

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ...