Translater

15 ستمبر 2026

ووٹ دو ڈالر لو!

بھارت میں حکومتوں کے ذریعے ریوڑیاں بانٹنے کا چلن اب امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ دنیا کے سب سے پرانے اور ترقی یافتہ جمہوری ملک امریکہ میں بھی لوگوں کو سیدھے نقلی یا مفت تحفہ دینے کی سیاست چل نکلنی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں کہا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چنائو میں ان کی ریپبلکن پارٹی جیت حاصل کرلیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کریںگے۔ یہ ایک بہت مہنگی اسکیم ہے جس میں ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آئے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار امریکی ڈالر دیئے جائیںگے۔ ٹرمپ نے اسے ڈیویڈینٹ کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا امریکہ کی مالی طاقت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہ ہر ایک بالغ شہری کو یہ ادائیگی کریںگےبشرطیکہ نومبر کےچنائو میں ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوںمیں جیتے۔ ٹرمپ نے ادائیگی کی ایک شرط بھی بتائی انہوں نے کہا کہ اس رقم کو امریکہ کے اندر ہی خرچ کرنا ہوگا۔ یعنی فیض یافتہ ان پیسوں کودیش کے باہر خرچ نہیں کرسکتا حالانکہ انہوں نے یہ صاف نہیں کیاکہ اسکیم کوکس طرح سے لاگو کیا جائے گا اور اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔امریکہ میں ماہ نومبر میںہونے والے مڈ ٹرم چنائو کے نتیجے ٹرمپ کے لئے تاریخی ہونے والے ہیں۔اس لئے اب وہ ریوڑیاں بانٹنے پر اتر آئے ہیں۔لگتا ہے کہ انہوں نے بھی بھارت میں چلی ریوڑی پراتھا کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔کچھ سال پہلے انہوں نے بھارت کے چناوی سسٹم کی تعریف کی تھی۔ کہیں اب یہ نہ کریںکہ بھارت کے چنائو کمیشن کو امریکہ میںچنائو کروانے کے لئے بلا لیں اور کہیں کہ یہاں بھی ایس آئی آر کروادو؟5 ہزار ڈالر دینے کی ریوڑی کے پیچھے دو اہم پہلو نظرآتے ہیں۔ پہلا ٹرمپ کی مقبولیت نچلی سطح پر آگئی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز؍ سی این این ؍ایس ایس آر ایس و انوائٹی سروے کے اوسط میں ٹرمپ کے خلاف 60 فیصد امریکیوں نے ووٹ دیا ہے۔مقبولیت کی گراوٹ کی وجہ بڑھتی مہنگائی ، گھٹتے روزگار اور ایران جنگ سے ہار ہے۔دوسرا: اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس جیتے تو دونوں ایوان میں اکثریت ملنے کے بعد وہ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ لائیںگے ایسے میں ٹرمپ کو اقتدار گنوانے کا خطرہ ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ جیت کی کوشش میں ایس آئی آر کی طرز پر ووٹر لسٹ کی جانچ کروانے کا اعلان کرچکے ہیں۔سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں مفت اسکیموں کے اعلان کی پرانی روایت ہےاگر ایسی ہی روایت امریکہ میں شروع ہورہی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر ہوگا۔سوال یہ بھی ہے کیا اس کے لئے امریکی پارلیمنٹ منظوری دے گی؟ کیا یہ وہاں کی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جائے گا؟ سب سے بڑی بات کے کیا ووٹر اس کے جھانسے میں آئیں گے؟ یہ رقم امریکی بجٹ کا 17 فیصدی ہے۔ بتادیں ایران جنگ کی وجہ سے پہلے ہی ہر امریکی خاندان پر 3 ہزار ڈالر کا مزید بوجھ بڑھ چکا ہے۔
(انل نریندر)

ووٹ دو ڈالر لو!

بھارت میں حکومتوں کے ذریعے ریوڑیاں بانٹنے کا چلن اب امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ دنیا کے سب سے پرانے اور ترقی یافتہ جمہوری ملک امریکہ میں بھی...