Translater

12 ستمبر 2020

آکسفورڈ ویکسین سے دنیا بھر کو بہت امید تھی !

کورونا انفیکشن دن بدن بڑھتا جا رہا ہے بھارت میں ایک دن میں کووڈ19کے سب سے زیادہ 95735مریض سامنے آنے سے کل مریضوں کی تعداد 44لاکھ سے پار ہو گئی ہم بہت تیزی سے دنیا میں کورونا انفیکشن کے معاملے میں نمبر ون ہونے جا رہے ہیں اسی دوران پوری دنیا کو کورونا ویکسین کا بے صبری سے انتظار تھا ہمیں بہت امید تھی کہ کیا آکسفورڈ کورونا ویکسین آنے والی ہے شاید اس سے کورونا انفیکشن رک جائے لیکن ہماری امیدوں کو فی الحال جھٹکا لگا ہے ۔برطانیہ میں ایک شخص کے سنگین طور سے بیمار ہونے کے بعد آکسفورڈ کی کورونا ویکسین کو وی شیڈ کے تیسرے مرحلے کا نتیجہ دنیا بھر میں روک دیا گیا ہے ۔برطانیہ میں ٹی کے کے مضر اثرات کی جانکاری نہ دینے کے سبب بھارت میں اس ویکسین میں تیسرے مرحلے کا تجربہ کر رہے پونے کے انسٹی ٹیوٹ کو ڈرگ کنٹرورل جنرل آف انڈیا نے نوٹس جاری کیا ہے اس کے جواب میں سیرم نے کہا کہ وہ بڑی دوا کے قواعدی ہدایت کی تعمیل کریں گے ویکسین بنا رہی فارمہ کمپنی ایسٹرا جنیکا کے مطابق والنٹریر کو ٹی کے کے سائڈ ایفکٹ ہوا تھا اس کی جانچ جاری ہے ۔حالانکہ پہلے اور دوسرے مرحلے کے انسانوں پر تجربے میں نتیجے اچھے ملے تھے ۔تیسرے مرحلے میں برطانیہ ،برازیل ،ساﺅتھ افریکہ ،اور بھارت میں 30ہزار لوگوں پر تجربے کئے جا رہے ہیں کمپنی نے ایک بیان جا ری کر کہا کہ یہ معمولاتی رکاوٹ ہے ۔کیونکہ تجربے میں شامل شخص کی بیماری کے بارے میں ابھی کچھ زیادہ پتہ نہیں چل پایا اس کی آزادانہ طور سے جائزہ لیا جائے گا ۔اس کے بعد ہی تجربہ پھر سے شروع ہوگا ۔بڑے وسیع پیمانے پر ہونے والے تجربے سے کوئی بیماری سے نمٹنے کا امکان نہیں ہوتا لیکن اس کا جائزہ آزادانہ طور سے ہونا چاہیے ۔ہم ویکسین کی سیکورٹ ڈاٹا کی جانچ کر رہے ہیں ۔میڈیکل سیکٹر میں غلطی کا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔پہلے بھی اسٹڈی روکی گئی غیر متوقہ کارروائی کی جانچ کرنا سیکورٹ تجرے کا ضروری حصہ ہے سائنس میں ناکامی میں کوئی نہ کوئی کامیابی چھپی ہوتی ہے ۔ہو سکتا ہے ویکسین میں جو کمی اجاگر ہوئی ہے وہ ڈیولپ ہو کر ہمارے سامنے آجائے ملٹی نیشنل ایسٹرا جینکا کمپنی سے دنیا بھر میں لوگ خوشخبری امید لگائے بیٹھے تھے لیکن کمپنی نے اپنے آخری مرحلے کے ویکسین تجربے کو روک لیا ہے ۔اُدھر بھارت میں پلازمہ تھریپی کو رام بان مانا جا رہا تھا دہلی ممبئی ،اور کچھ دیگر شہروں میں پلازمہ بینک بھی بن گئے تھے ۔لیکن آئی سی ایم آر نے علاج کو بہت کارگر نہیں مانا ،دیش کے 39اسپتال میں کئے گئے مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ تھریپی سبھی میں یکساں طور سے کام نہیں کرتی صرف 13.6فیصد لوگوں کی جان نہیں بچ پائی اس لئے پختہ نہیں مانا جا سکتا کہ دنیا بھر کے لوگ یہی چاہیں گے جو دوا سامنے آئے وہ 16آنے کارگر ہو کر سامنے آئے ۔ (انل نریندر)

سوشانت کی موت کے 84دن بعد گرل فرینڈ گرفتار !

بالی اوڈ ادا کار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے 84ویں دن بعد ان سے جڑے ڈرگس کیس میں سوشانت کی گرل فرینڈ کو منگل کے روز گرفتار کرلیا گیا تھا نارکوٹیکس کنٹرول بیرو نے ان سے تین دن چلی 20گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کرلیا گیا اور ڈرگس سینڈیکٹ کا حصہ بتایا۔ این سی بی کا الزام ہے کہ معاملہ سے وابستہ جو ڈرگس ڈیل ہوئی ہے اسکو ریا نے فائیننس کیا ہے عدالت نے اسکو جو ڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا ہے ڈرگس سے جڑے ریا چکرورتی اور ان کے بھائی شووک اور کئی دیگر لوگ وائسٹ ایپ چیٹ لیک ہونے کے بعدنارکوٹکس کنٹرول بیورو نے ڈرگ اینگل سے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے ،ریا چکرورتی پر این سی بی نے سنگین الزام لگائے ہیں اور کہا کہ وہ ڈرگس سنڈ یکٹ کی سرگرم ممبر ہے اور کافی عرصے سے نشیلی سامان کے لین دین میں ملوث تھی یہی وجہ رہی کہ این سی بی کورٹ نے ان کی ضمانت عرجی خارج کر دی این سی بی نے صاف کہا کہ وہ (ریا)ڈرگس خریدنے اور بیچنے کے لئے پیسوں کا لین دین کر رہی تھی اس نے خود بتایا کہ وہ بھائی شووک چکرورتی ہاﺅس منیجر سیمول مرانڈا ،دیپش ساونت کو ڈرگس مانگنے اور پیسے پہنچانے کےلئے ہدایت دیتی تھی دیپش ،شووگ کو این سی بی نے پہلے ہی گرفتار کر لیا تھا ریا نے مانا ہے کہ وہ سوشانت کے لئے ڈرگس کی خرید کر رہی تھی ۔جبکہ سوشانت کے اسٹافر دیپیش نے بتایا کہ سوشانت اور ریا ڈرگس کےلئے اسے پیسے دیا کرتے تھے بے شک ریا چکرور تی کی سوشانت کیس میں اب تک کی سب سے بڑی گرفتاری ہوئی ہے اس سے جانچ ایجنسیوں پر بھی دباﺅ بڑھ گیا ہے ۔اور اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کیس کو فیصلہ کن منزل تک لے جائےں ظاہر ہے کہ این سی بی کی جانچ ممبئی کی گلیمر دنیا کے کئی کرداروں کے لئے بھی مصیبت بن سکتی ہے جو لوگ اداکارہ کنگا رناوت دی گئی وائی سیکورٹی کا اشو بنا رہے ہیں دراصل وہ یہ نظر انداز کر رہے ہیں کہ یہ حالت مہاراشٹر سرکار کے رویے سے پیدا ہوئی ہے جس نے جانے انجانے میں سوشانت کی موت کی جانچ معاملے میں خود کے رول کو مشتبہ بنا دیا ہے تو دوسری طرف بہار اسمبلی چناﺅ کے وقت وہاں حکمراں جنتا دل یو اور بھاجپا کو ایک بڑا اشو مل گیا ہے سوشانت نے خودکشی کی تھی یا اس کا مڈر ہوا تھا اسی کو لے کر جانچ شروع ہوئی تھی اس کے نتیجے پر تو پہنچے نہیں لیکن یہ ڈرگس کے چکر میں پڑ گئے این سی بی کو اب عدالت میں ریا پر لگے الزامات کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے پوری طرح سے ثابت کرنا ہوگا ۔ (انل نریندر)

11 ستمبر 2020

45برس میں پہلی بار چلی گولیاں !

چین نے ایک مرتبہ پھر اپنے قول سے برعکس کام کرنے کی حماقت کی ہے ۔پہلے 29-30اگست کو لداخ کے پین گونگ علاقہ میں اس نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی تھی اب واقعہ کے دس دن کے اندر ہی اس نے ایل اے سی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ہندوستانی جوانوں کے روکنے پر فائرنگ بھی کی تھی ۔سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان ایل اے سی پر 45برس میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب محافظوں نے ہتھیاروں کا استعمال کیا ۔چین کی پیپلس لبریشن آرمی (پی ایل اے)نے پیر کو شام قرب چھ بجے لیجانگ لا کے پاس گھسنے کی کوشش کی جس سے ہمارے بہادر جوانوں نے ناکام کردیا ۔حکمت عملی دور سے اہم ان چوٹیوں کو قبضانے کی منشا سے آئے فوجیوں نے اس موقع پر دس سے پندرہ راو¿نڈ ہوائی فائر بھی کئے اس کے بعد پیگونگ جھیل کے پاس یورال کے رجانگلہ میں دونوں دیشوں کی فوجیں آمنے سامنے آگئی ہیں ۔نارتھ میں مخبری چوٹی کے پاس پچاس سے ساٹھ چینی فوجی بھالے اور دھاردار ہتھیاروں سے لیس ہو کر آئے تھے ۔ہندوسانی فوج نے بتایا پی ایل اے فوجیوں نے ایل اے سی سے لگی ہماری چوکی کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تھی پندرہ جون کو گلوان وادی میں چینی فوجیوں نے پتھروں سے حملہ کیا تھا جس میں ہماری بیس جوان شہید ہو گئے تھے ۔آخر کیوں بوکھلایا ہوا ہے چین ۔پنگونگ کے ساو¿تھ محاظ پر بلیک ٹاپ اور ہیلمٹ ٹاپ پر ہندوستانی فوج کی مضبوط پوزیشن کے بعد چین کی چوکی ہندوستانی فائرنگ رینج میں ہے ہندوستانی فوج اوپر ہے اور چینی فوج نیچے ہے اس سے چین کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکتی ہے ۔چین کی دراندازی کے راستے بند ہو گئے ہیں یہ اب ہندوستانی فوج کے دبدبہ کا نتیجہ ہے ۔1975کے بعد پہلی بار ایل اے سی پر گولی چلنے سے یہاں کے لوگ دہشت میں ہیں ۔لداخ کے سرحدی گاو¿ں میں کھیتی کرنے والے ساٹھ سالہ کسان سما کہتے ہیں کہ انہوں نے آج تک اتنی بڑی تعداد میں فوجی کبھی نہیں دیکھے اور ہماری مالی تنگی بڑھتی جارہی ہے ۔اس موسم میں ہم جن علاقوں میں مویشی چرانے جاتے تھے وہاں اب کسی کو جانے نہیں دیاجارہا ہے کشمیر سے لداخ جانے والے راستوں پر مسلسل فوج کی گاڑیوں کا قافلہ دیکھا جاسکتا ہے ۔پیر کی شام کے واقعہ سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ چین بھار ت کے ساتھ جنگ کی نیت کے نئے بہانے تلاش رہا ہے ۔تین مہینہ میں یہ تیسرا موقع ہے جب چین نے جارحانہ رخ اپناتے ہوئے دراندازی کی ناکام کوشش کی ہے اس میں کوئی شبہہ نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت چین کی سرحد پر کشیدگی رو ز بروز سنگین شکل اختیار کررہی ہے ۔بھارت کے وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے بھی بھارت چین سرحد پر حالت کو سنگین بتایا ۔پچھلے 45سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے جب بھارت چین سرحد پر گولیا ں چلی ہیں ۔یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین اب کافی لمبی تیاری کے ساتھ میدا ن میں اترا ہے اور ٹھیک ویسے ہی حالات پیدا کرنے میں لگاہے جیسا پچھلے 45سال پہلے کے حالات تھے ۔ (انل نریندر)

اب دہلی بن گیاہے منشیات کا ہب!

نشہ کے کاروبار کا مکڑ جال دہلی میں پھیلتا جارہا ہے ۔نوجوان پیڑی سے لیکر عورتوں تک کو اس نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔راجدھانی میں ڈرگس کی کھپت بڑھتی جا رہی ہے دیش کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی نشہ آور چیزوں کی کھیپ دہلی آرہی ہے ۔یہاں سے دوسری ریاستوں میں بھی سپلائی ہو رہی ہے ۔دائرکٹریٹ آف ریونیو انٹیلی جینٹس (ڈی آر آئی )،نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این اسی بی )،دہلی پولیس کی کرائم برانچ کا نارکوٹرکس سیل اور اسپیشل سیل سمیت مقامی پولیس تک مسلسل دھر پکڑ میں لگی ہوئی ہے لیکن راجدھانی میں یہ کالا کاروبار پاو¿ں پھیلاتا جارہا ہے ڈی آر ائی نے نوی ممبئی کے نہاوا شیوا روڈ سے حال ہی میں ایک ہزار کروڑ روپئے مالیت کی ایک سو اکیانوے کلو گرائم ہیروئن پکڑی تفتیش میں سامنے آیا کہ اس کے تار دہلی سے جڑے ہیں ۔دہلی میں امپوٹر سکھا بھاٹیا سمیت تین لوگوں نے یہ کھیپ آہستہ آہستہ پائپوں کے اندر افغانستھان سے منگائی تھی یہ پہلی بار نہیں ہے جب دہلی کے تار بیروں ملک سے جڑے ہیں ۔دسمبر 2019میں این سی بی نے 13سو کروڑ روپئے کے انٹرنیشنل ڈرگس گینگ کا پردہ فاش کر دیا تھا ۔آسٹریلیا سے 57کلو کوکنگ اور 200کلو دوسری قسم کی نشہ آور چیز ضبط کی گئی ہے۔اس معاملے میں پانچ ہندوستانی ایک امریکی اور دو ناجیریائی اور ایک انڈونیشیائی شہری سمیت نو لوگوں کو بھارت میں گرفتار کیا گیا یہ گینگ دہلی این سی آر ،پنجاب ،اتراکھنڈ مہاراشٹر کے علاوہ آسٹریلیا ،کناڈا ،انڈونیشیا ،سری لنکا،کولنبیا ،ملیشیا ،اور نائی جیریا تک پھیلا ہواتھا ۔کرایم برانچ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ راجدھانی اب پنجاب تک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے دہلی میں ہیروئن کی کھیپ منی پور راجستھان ،مدھیہ پردیش ،اترپردیش ،جھارکھنڈ سے آٹی ہے ۔اوروہاں سے پاکستان ،افغانستھان سے اسمگلنگ کی جاتی ہے ۔کوکنگ اسمگلنگ مغربی افریقی ملکوں سے ہوتی ہے ۔جس کی کھیپ ممبئی اور گوا سے دہلی پہونچتی ہے ۔ڈرگس کے اس دھندے میں غیر ملکیوں کے علاوہ عورتیں بھی شامل ہیں گانجھے کی اسمگلنگ مغربی بنگال آندھرا پردیش اور تملناڈو کے بارڈ ر کے علاوہ اڑیسہ سے ٹرکوں کے ذریعے دہلی میں آرہی ہے دہلی پولیس نے پچھلے سال کئی بڑی کھیپ پکڑی لیکن وہ ابھی تک اس دھندے کی جڑ وں تک نہیں پہونچ سکیں ۔راجدھانی میں کونکنگ (اسنکیکس )افیم گانجھے کی کافی ڈیمانڈ ہے ۔کوکنگ کافی مہنگی ہے جس کا نشہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اس لئے اسنیکس کے طلبگار زیادہ ہیں ۔گانجھا سب سے سستا ہے کچھ نشیڑی دبائیوں کا استعمال بھی کرتے ہین اب اڑتا پنجاب نہیں ساڈی دہلی بن گئی ہے نشے کا ہب ۔ (انل نریندر)

10 ستمبر 2020

گولیوں سے بھون کر کنر گمن گا قتل!

دہلی کے شہادرا کے جی ٹی وی انکلیب علاقہ میں سنیچر کی رات اسکوٹی سوار بدمعاشوں نے ایک کنر گرو کی اس کے گھر کے باہر گولیاں برسا کر قتل کر دیا ۔متوفی کی شناخت گاو¿ں ڈھور ،پوڑی گڑھوال (اتراکھنڈ)باشندہ ایکتا جوشی 38سال کی شکل میں ہوئی ہے ۔ابتدائی جانچ کے بعد رنجش کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے پولیس حکام کا کہناہے جانچ میں ایکتا کے چیلے میں (ششیہ )تعاون نہیں کررہے ہیں ۔پولیس کے مطابق ایکتا پیدائشی طور پر کنر (ہجڑا)تھی ۔بارہویں کلاس پاس کرنے کے بعد اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ دیاتھا اور دہلی آگئی وہ اپنی گرو انیتا جوشی اور اس کے گود لئے تین بچوں کے ساتھ ڈی ڈی اے جنتا فلیٹ جی ٹی وی انکلیب میں رہتی تھی ۔انیتا نے اعلان کررکھاتھا کہ اس کے بعد وہی گرو بنے گی فی الحال سارا کام وہی سنبھال رہی تھی سارے کنر ایکتا کو ہی اپنا بڑا گرو ماننے لگے تھے ۔سنیچر کی شام انیتا ،اشیش و ایکتا (گرو کے بچے )کسی سے ملنے گئی تھی ۔رات قریب 8:15پر وہ اپنی کار سے گھر پہونچے تو وہاں طاق میں بیٹھے اسکوٹی سوار دو بدمعاشوں نے ایکتا پر چار راو¿نڈ فائرنگ کی تین گولیاں لگنے سے وہ ادھمری ہو گئی اور گر گئی آن فانا ً میں ایکتا کو پاس کے اسپتال لے جایاگیا جہاں سے اسے میکس اسپتال میں ریفر کر دیا گیا اسے وہاں لے جاتے وقت راستے میں اس کی موت ہو گئی ۔واردات گھر میں لگے سی سی ٹی وی کمیروں میں قید ہو گئی جس کی بنیاد پر پولیس ملزمان کی تلاش کررہی ہے ۔اپنے مزاج ،کام کرنے کے طریقے اور خوبصورتی کی وجہ سے ایکتا جوشی نے چند برسوں میں کنر سماج کا دل جیت لیا ہے ۔راجدھانی کے کنر سماج میں تذکرہ ہونے لگاتھا کہ وہ پوری دہلی کے سماج کی گرو بن سکتی ہے ۔پولیس جانچ کررہی ہے کہ کہیں قتل کی اہم وجہ یہ تو نہیںہے اندیشہ یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ سپاری کلنگ تو نہیں ہے اور ایکتا کو راستہ سے ہٹانے کے لئے یہ واردات کی گئی ہو ۔ (انل نریندر)

ایک طرف وہ ،دوسری طرف ہم !

ہندوستانیوں میں اور چینیوں میں کتنا فرق ہے ایک طرف وہ دوسر ی طرف ہم ،اروناچل پردیش کے کانگریس ممبر اسمبلی نیناگ ایرنگ نے پیر کو دعویٰ کیا چین کے فوج نے ریاست کے پانچ لڑکوں کو اغوا کر لیا ہے ۔یہ واقعہ سبن سٹی ضلع کے ناموںعلاقہ کا ہے ان کے مطابق تاگن فرقہ کے کچھ لڑکے جمع کو جنگل میں شکار کے لئے گئے تھے تبھی چینیوں (فوجیوں )نے انہیں یرغمال بنا لیا ۔دو کسی طرح سے بچ کر واپس آئے تو تب جاکر واقعہ کا پتہ چلا پاس ہی دھار سے ممبر اسمبلی ایرنگ نے ٹوئیٹ میں پی ایم او کو ٹیگ کرتے ہوئے مانگ کی کہ چین کی فوج کو منھ توڑ جواب دینا چاہیے پولیس نے واقعہ کی جانچ شروع کر دی ہے پچھلے مارچ میں چین کے فوجیوں نے اکیس سالہ لڑکے کو کنٹرول لائن کے قریب اساپلہ سیکٹرمیں پکڑا تھا اس وقت بھی دو لڑکے کسی طرح بچ نکلے تھے پکڑے گئے لڑکے کو چینی فوج نے 19دن بعد چھوڑ ا تھا اب ہمارے فوجیوں کی سنئیے لداخ سیکٹر میں کشیدگی کے درمیان ہندوستانی فوج نے انسانیت کا ثبوت دیتے ہوئے سکھم کی برفیلی پہاڑیوں میں بھٹکے تین چینی شہریوں کی جان بچائی ہے یہ واقعہ تین ستمبرکا ہے چین کے دو آدمی اور ایک عورت راستہ بھٹکتے ہوئے نارتھ سکھم کے پٹھاری علاقہ میں پھنس گئے تھے قریب 17ہزار 500فٹ کی اونچائی اور صفر سے بھی کم درجہ حرارت پر ان کی زندگی کو خطرہ تھا ان کے پاس آکسیجن ختم ہو چکی تھی جیسے ہی علاقہ میں تعینات ہندوستانی فوجیوں کے جوانوں نے انہیں دیکھا ، وہ فوراً مسیحٰ بن ان کے پاس پہونچے اور مدد پہونچائی انہیں آکسیجن دی جس سے ان کی جانچ بچ سکے پھر میڈیکل ہیلپ کے ساتھ کھانا و گرم کپڑے دئیے گئے ان کے ٹھیک ہونے پر ہندوستانی فوجیوں کے جوانوں نے انہیں صحیح راستہ دکھایا اور راستہ کے لئے مناسب کھانا پینا دیا۔اس کے بعد وہ چینی شہری ہندوستانی فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محفوظ لوٹ گئے یہ فرق ہے ہندوستانیوں میں اور چینیوں میں ۔ (انل نریندر)

راجناتھ کے ایران دورے کی اہمیت !

ماسکو سے لوٹتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اچانک ایران پہونچ کر بھارت سے اس کے باہمی رشتوں میں گرماہٹ بڑھا دی ہے ۔راجدھانی تہران پہونچتے ہی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے ہم منصب ورگیڈئیر جنرل عامر ہاشمی سے بات چیت کو بے حد فائدے مند قرار دیا ہے ۔ان کا ایران جانا ڈپلومیسی کے لحاظ سے بہترین قدم مانا جائیگا ۔فطری طور پر اس ملاقات سے چین اور پاکستان کی بھنویں تن گئی ہوں گی ۔مگر ڈپومیسی کی تقاضہ یہی کہتا ہے کہ اپنے دوست ممالک سے مسلسل بات چیت بنائے رکھنی چاہیے کیونکہ اس سے ہی رشتوں کو نئی تقویت ملتی ہے ۔ایران دورہ ان کا کوئی پہلے سے طے پروگرام نہیں تھا لیکن ایرانی وزیردفاع عامر ہاشمی کی درخواست پر تہران گئے تھے ایسا کرکے بھارت نے ایک بار پھر ایسا پیغام دیا ہے کے اس کے لئے ایران کی اہمیت پہلے ہی جیسی ہے پچھلے کچھ عرصہ میں امریکہ کے دباو¿ میں بھارت کو ایران سے تیل نا خریدنے دوری بنانے کے جس طرح فیصلے کرنے پڑے اس سے دنیا بھر میں یہی پیغام دیا گیا تھا کہ بھارت اور ایران کے رشتہ اب پہلے جیسے نہیں رہ گئے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین سے ایران سے تعلق بڑھانے شروع کر دئیے حال ہی میں ایران نے بھی چین کے دباو¿ میں آکر چاہ بہار ریل پروجیکٹ سے بھارت کو علاحدہ کردیاتھااس سے بھی دونوں ملکوں کے بیچ رشتہ کمزور پڑھنے کے اندیشات تقویت ملنا فطری تھا جبکہ چاہ بہار بندرگاہ کے ڈولپمنٹ میں بھارت اور ایران اتحادی رہے ہیں اب بھارت کے وزیر دفاع ایران دورے سے ایسی سبھی خدشات کو مسترد کر دیا ہے ۔خاص بات یہ رہی ہے کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی ایرانی وزیر دفاع سے ملاقات خاص درخواست پر ہوئی ہے ۔اس میٹنگ کے سلسلے میں ایک مختصر بیان میں اتوار کو بتایا گیا کہ دونوں وزیر دفاع کی ملاقات بھائی چارہ اور گرم جوشی کے ماحول میں ہوئی دونوں نیتاو¿ں نے بھارت ایران کے صدیوں پرانے تہذیبی اور معاشرتی سے لگاو¿ پر زور دیتے ہوئے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کی بات کی امریکہ کے ساتھ بے حد خراب رشتوں اور اقتصادی پیچیدگیوں کے بعد کچھ وقت پہلے ایران نے اپنے سیاسی و کاروباری مفادات کے لئے چین کے ساتھ بڑھے تعاون کی راہ پر چلنے کا اعلان کیا تھا ایسے میں راجناتھ سنگھ و ہاشمی کی ملاقات کا پیغام یہ بھی ہے کہ بھارت و ایران روایتی دوستی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑیگا ویسے بھی راجناتھ سنگھ کا ایران دورہ کرنا اور افغانستھا ن کے حالات اور خیلج فارس کی حفاظتی چنوتیوں سے وابستہ اہم ترین مسئلوں پر تبادلہ خیال کرنا بے حد سمجھداری بھرا قدم مانا جائے گا ۔راجناتھ سنگھ کا ایران دورہ بھلے بے حد مختصر ہو لیکن چین کے ساتھ ایران کی کاروباری نزدیکیوں کو دیکھتے ہوئے بھارت کو حکمت عملی بنانی چاہیے ۔بھارت نے ایسا ہی کیا ہے کیوں کہ کچھ برس پہلے تک ایران بھارت کو تیل سپلائی کرنے والے بڑے تین ملکوں میں شامل ہے لہذابھارت کو ایران سے رشتہ بہتر رکھنے ہی ہوں گے ۔اس لئے اس دررے سے دونوں ملکوں کو ہی فائدہ ہوگا ۔ (انل نریندر)

09 ستمبر 2020

روس اور بیلا روس تانا شاہوں کے قبضہ میں

سابق سووئیت یونین کے دیش رہے بیلا روس میں برسوں سے اقتدار میں جمے ڈکٹیٹر صدر شکام شوکو 9اگست کو ہوئے متنازعہ انتخابات کو لیکر بڑے احتجاج کا سامنا کررہے ہیں بیلا روس می ہزاروں افراد سڑکوں پر اتر آئے اور چناوی دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی ۔بیلا روس کی حالت 1989کی بغاوت کی یاد دلاتی ہے ۔صدر کو چنوتی دینے والے افراد سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں ۔کہیں ان کو یہ احتجاج مہنگا نا پڑ جائے ۔تقریباً یہی حال روس کا بھی ہے ۔دونوں ملکوں کے برسوں سے برسر اقتدار تانہ شاہوں کے خلاف ناراضگی بڑھتی جارہی ہے ۔روسی شہر میں کئی ہزار لوگ مقامی گورنر کی گرفتاری اور مرکزی حکومت کی منمانیوں کی مخالفت کررہے ہیں روس کے صدر ولاد میر پوتن گھبرائے ہوئے لگتے ہیں ان کے سب سے قریبی حلیف الیکسی برلن ،جرمنی کے ایک اسپتال میں زندگی اور موت سے لڑرہی ہیں ۔انہیں زہر دیاگیا ہے ۔پوتن اور بیلا روس میں الیگزینڈر لوکان شوکو دمن کاری اور اپنے حمایتیوں کو سرپرستی دئیے ہوئے ہیں دونوں نیتا سووئیت یونین کے زوال کے بعد سے پیدا بد امنی سے راحت دلانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے لوکا ن شوکو نے شووئیت یونین جیسے حالات جاری رہنے کی بات کہی تھی لیکن پوتن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں تیل کے دام بڑھ گئے ۔عام لوگوں کو فائدہ تو ہوا لیکن ان کے حمایتیوں پر مندی کی مار رہی دونوں ملکوں کی معیشت سابق سووئیت یونین کی طرز پر چل رہی ہے ۔وہیں بیلا روس کے صد ر لوکان شکو پرانے زمانے کی تانہ شاہی جیسا رویہ اپناتے ہیں پچھلے ہفتہ ایک ہیلی کوپٹر میں گھومتے اور اے کے 47دکھاتے ہوئے اپنا ویڈیو جاری کرایہ دونوں ڈکٹیٹر پرانے سووئیت یونین کے وقار کا تصوراتی ڈھول پیٹ رہے ہیں ان کی حکومت غلط اطلاعات پھیلانے میں ماہر ہے ۔پوتن اور لوکانشکو نے میڈیا میں ایسا ماحول بنایا ہے جہاں کچھ بھی سچ نہیں ہے ۔اور سب کچھ ممکن ہے ۔لوکان شکو نے ابھی حال میں اپنے پندرہ سال کے بیٹے کو فوجی پوشاک میں پیش کیا ہے پوتن آسانی سے اپنا جانشیں تیار کر سکتے کیوں کہ اس سے ان کے گروپ میں ناراضگی پیدا ہوگی انہوں نے اس سال 2036تک اقتدار میں رہنے کے لئے آئین میں ترمیم کی اس وقت ان کی عمر 84برس ہو جائے گی ۔اپنی سیاسی حریف الیکسی نواچنی کو زہر دئیے جانے کے واقعہ سے صاف ہے کہ راستے سے ہٹانے کے لئے تانہ شاہون کے پاس جب کوئی نیا ہتھکنڈا نہیں ہوتا تو وہ تشدد اور ا س طرح کی سازش کا سہا را لیتے ہیں ۔ (انل نریندر)

سرکار نے کارپوریٹ قرض کی وصولی ٹالنے کی کوشش کی

رزرو بینک آف انڈیا کے سابق سینئرحکام نے دیش کے اقتصادی نظام پر انگلی اٹھائی ہے ۔آر بی آئی کے سابق گورنر ارجیت پٹیل اور ڈپٹی گورنر ویرل اچاریہ نے دیش کی اقتصادی حالت پر سخت نکتہ چینی کی ہے ۔دونوں نے اپنی الگ الگ کتابوں میں بینکنگ سسٹم میں سرکار کے زبردست مداخلت کی اسٹوریاں بیان کی ہیں ۔پٹیل نے اپنے استعفیٰ کی وجہ تو نہیں بتائی لیکن لگتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار نے جب نئے دیوالیہ قانون کو کمزور بنانے کی کوشش کی تب پٹیل کا فرض جواب دے گیا ۔مودی سرکار نے ہی یہ قانون نافذ کیا ہے ۔دی ایمپائر اسٹیٹکس میں لکھتے ہیں کہ کیسے سرکار نے بنیوں پر دو کھرب روپئے کے اور ادائیگی کی میعاد بڑھانے کے لئے رزرو بینک پر دباو¿ ڈالا تھا اب تک ہوئے قاعدوں کو بہتر بنانے کے بجائے آرام سے چلنے کا ماہول بنایا گیا ۔ایسا ہی پٹیل نے اپنی کتاب ہندوستانی جمع کنندگان کو وقف میں لکھتے ہیں کس طرح ان کے پیسہ کا سرکا ر کنٹرول بینکوں اور دیگر مالی اداروں نے مشتبہ مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے ۔سیاسی طور پر موضوع رشتہ رکھنے والے ریاستوں ،کمپنیوں اور کئی شئیر بازار کے لئے جمع کنندگان کے پیسہ کا استعمال ہوا ہے اس وجہ سے بینکوں کے ذریعے صحیح طریقہ سے قرض دینے کے لئے ضروری چھان بین پر اثر پڑا ہے ۔قرض نا چکانے والی کمپنیوں کو فائدہ پہوچانے کے لئے مجاز پرائیویٹ کمپنیوں کے سود شرع اونچی رکھی گئی اچاریہ نے دوسری طرح کی مالی تفصیلات پیش کی ہیں ۔لگاتار دباو¿ ،بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے رزرو بینک کو مفاد عامہ میں پیسہ لگانے کی اجازت دینے والے پرانے قواعد کو نافذ کرنے کی دھمکی دی ۔پٹیل کے لئے ہمدردی جتاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں سابق گورنر کے لئے مالی مضبوطی کے لئے جاری جد و جہد نے ان کے کام کاج کو مشکل بنا دیا تھا ۔اچاریہ لکھتے ہیں کہ بھارت کے بینکنگ سسٹم میں چپ چاپ سنکٹ پھیلا رہاہے ۔ (انل نریندر)

دہلی میں کووڈمریض40فیصدی باہر ی ہیں

کووڈ 19-کے علاج کے لئے دہلی کے اسپتالوں میں داخل ہونے والا ہر چوتھا مریض باہر کا ہے ۔دس اگست سے لیکر 28اگست کے درمیان دہلی میں ایڈمٹ ہونے والے مریضوں سے باہری مریضوں کا تناصر چالیس فیصدی تک پہونچ گیا ہے کوئی دن ایسانہیں ہواجب باہر کے مریضوں کا اوسط تنا صر 25فیصدی سے کم ہو یہ ہی نہیں دیش کا سب سے بڑا اسپتال ایمس سے لیکر پرائیویٹ اسپتال میکس ،اپولو کے ڈاکٹر بھی مان رہے ہیں کہ ان دنوں دہلی میں داخل ہونے والے 40فیصد مریض دہلی سے باہر کے ہیں ۔اس سے کہا جا سکتا ہے دہلی میں بڑھتے مریضوں کی تعداد کے پیچھے یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے جس وجہ سے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی ۔اس وقت دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ اگر دہلی کے اسپتالوں کو کھول دیا جائے تو باہری مریضوں سے یہ بھر جائیں گے ۔لیکن آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی چلی گئی ۔دس اگست کو دہلی میں باہر سے آئے مریضوں کا ایڈمیشن اوسط 40.6فیصد پہونچ گیا اس دہلی میں کل 325مریض ایڈمٹ ہوئے جس میں 132مریض باہر کے تھے ایمس کے ایم ایس ڈاکٹر ڈی کے شرما کے مطابق پہلے ان کے یہاں ایڈمٹ ہونے والے کووڈ کے سبھی مریض دہلی سے لئے جا رہے تھے۔وہیں اپولو اسپتال کے پھیپھڑوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر راجیس چاولہ کا کہنا ہے کہ ہم کو دہلی کے باہر سے بہت سے ٹیلی فون آرہے ہیں آدھے سے زیادہ مریض دہلی کے نہیں ہیں اور اس مہینہ یوپی بہار کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے یہ ہی بات میکس اسپتال کے ڈاکٹر این کشور کہتے ہیں کووڈ علاج کے لئے دوسری ریاستوں سے بڑی تعداد میں لوگ دہلی کے اسپتالوں میں آرہے ہیں اور یہ تعداد 80فیصد سے زیادہ ہے دومہینہ پہلے تک میرے مریض دہلی این سی آر کے تھے اور 28اگست کو یوں تو دہلی میں 390مریض ایڈمٹ ہوئے تھے اس میں 120مریضوں کا تعلق باہر سے تھا ایمس ٹرامہ سینٹر میں بھرتی مریضوں میں نو مریض یوپی ،بہار اور ایک مریض ہریانہ سے تھا ۔26اگست کو کل 119مریض باہر سے آئے تھے اس میں 73یوپی 17ہریانہ 12مدھیہ پردیش ،بیشک ان مریضوں کی وجہ سے دہلی میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ (انل نریندر)

08 ستمبر 2020

ناروے اور سوئڈن میں اسلام مخالف ریلیاں!

یوروپ کے کئی ملکوں میں کچھ مسلم کٹر پسندوں نے کئی مرتبہ تشدد و آتش زنی کا سہار الیا ہے ،انگلینڈ و جرمنی ،فرانس میں تو آئے دن اسلامک کٹر پسند کوئی نہ کوئی حرکت کرتے رہتے ہیں ۔لیکن سوئڈن اور ناروے ان امن پسند ملکوں میں شامل ہوتا ہے جہاں اس طرح کے کوئی واقعات نہیں ہوئے لیکن اب خبر آئی ہے کہ دونوں ملکوں میں بھی نسلی تشدد جاری ہے ۔ناروئے کی راجدھانی اوسلو میں اسلام مخالف ریلی کے دوران پر تشدد جھڑپیں ہوئیں اور حکام نے فوراََ ہی ریلی کو ختم کرا دیا اس کا انعقاد اسٹاف اسلامیائی جنریشن آف ناروے گروپ نے پارلمینٹ کے پاس دھرنا دیا اس ریلی کے احتجاج میں سینکڑوں لوگ سڑکوں پر اتر آے اس دوران انہوںنے کہا کہ ذات پرستی کرنے والے لوگ نہیں چاہیے۔جس وجہ سے آمنے سامنے بھیڑ جمع ہونے سے حالات بگڑ گئے ۔اور پولیس پر انڈے اور ان کی کھڑی کردہ اڑچنوں کو ہٹا دیا پولیس کو تشدد پر کنٹرول کرنے کے لئے دونوں گرپوں پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور کئی لوگ گرفتار کئے گئے ۔پولیس کے مطابق ڈینمارک کے باشندے ایٹی مسلم لیڈر اس موسو مالیو ریلی کرنا چاہتے تھے انتظامیہ نے اس کی منظوری نہیں دی ۔بہرحال ان ملکوں میں تشدد سے نمٹنے کے لئے پولیس فورس اور تشدد سے مقابلہ کرنے والی فورس کو تعینات کیا گیا ہے ۔اور متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں بتایا جاتا ہے اب حالات پر امن ہیں ۔ (انل نریندر)

کسی کے باپ میں دم ہے تو مجھے ممبئی آنے سے روکے!

سوشانت سنگھ راجپوت کی مشتبہ موت کے بعد اداکارہ کنگنا رناوت کے بیانات نے جمعہ کے روز نیا موڑ لے لیا کنگنا اور شیو سینا نیتا سنجے راوت میں تکرار بڑھ گئی ہے ۔اور مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیش مکھ بھی یہ کہہ کر تنازعہ کا حصہ بن گئے کہ جسے ممبئی پولیس سے ڈر لگتا ہے اسے یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ،سوشانت کی موت کے بعد سے ہی کنگنا ممبئی پولیس کی نااہلی پر حملہ آور رہی ہیں کنگنا رناوت کا ممبئی پولیس کو لے کر دیا ہو ابیان اب طور پکڑ رہا ہے ،انہوںنے کہا تھا کہ انہیں ممبئی پاکستانی مقبوضہ کشمیر جیسا لگ رہا ہے ۔اس پر کئی فلمی ستاروں نے کنگنا کے خلاف ٹوئٹ کیا ہے ۔کنگنا نے کہا کہ میں ممبئی آرہی ہے کسی کے باپ میں ہمت ہے تو روک لے ۔راوت نے کنگنا کو مینٹل تک کہہ ڈالا ۔انہوں نے ٹی وی پر سوال کیا کہ کنگنا نے مہاراشٹر اور ممبئی پولیس کی بے عزتی کی ہے ۔اگر وہ ہماچل سرکار سے سیکورٹی چاہ رہی ہیں تو اب یہ ان کی ذمہ داری ہے ۔شیو سینا مہاراشٹر کے ایسے دشمنوں کا شراد کئے بنا نہیں مانے گی یہ وعدہ رہا کنگنا ممبئی گھس کر دکھائے ،جے ہند جے مہاراشٹر اس درمیان مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے اس تنازعہ میں کنگنا کی ہمایت کی ہے ۔انہوںنے کہا کہ راوت نے اگر کنگنا کو ممبئی نہ آنے کی دھمکی دی ہے تو یہ افسوسناک ہے ۔انہوںنے کہا جس طرح کی زبان کا وہ استعمال کر رہی ہیں ہم لوگ نہیں کر سکتے جس تھالی میں کھا رہی ہیں اسی میں چھید کر رہی ہیں کچھ سیاسی پارٹیاں ان کی ہمایت کر رہی ہیں ۔اگر وہ پی او کے جانا چاہتی ہیں تو چلی جائیں سرکار کو ان کے جانے کا پیسہ دینا چاہیے ۔نہیں تو پھر ہم ہی پیسہ دے دیں گے ۔ (انل نریندر)

جھگیوں میں بسے 10لاکھ افرادبے گھر ہو کرکہاں جائیں گے؟

ریلوئے بیشک بلٹ ٹرین چلانے کی اسکیم تیار کر رہا ہے لیکن راجدھانی دہلی میں ہی 20کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرین چلانا لوکو پائلٹوں کو بھاری پڑتا ہے ،ریل کی پٹریوں کے کنارے بسی جھگیاں اس میں رکاوٹ بنتی ہیں ۔کئی بار جھگیوں کو ہٹانے کی کوشش کی گئی لیکن سیاسی پارٹیوں کی دخل اندازی سے جھگیاں ہٹاﺅ کارروائی ٹھنڈے بستے میں چلی گئی ۔اب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ریلوئے جھگیاں ہٹانے کی کارروائی میں لگ گیا ہے ۔حالانکہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ریل پٹری کے کنارے بسی 48ہزار جھگیوں کو دوبارہ سے کہاں بسایا جائے ؟ناردن ریلوئے پی آر او دیپک کمار کا کہنا ہے کہ سپریم کی حکم کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد ہی ضروری قدم اُٹھائے جائیں گے ۔ریلوئے پولیس بھی اس کام میں لگے گی ۔بتا دیں کہ 59.88ایکٹر زمین پر یہ جھگیاں بسی ہیں سگنل کے پاس تک قبضہ ہے ۔جھگیوں کے سبب اس روٹ پر سفر کرنا بھی مسافروں کی حفاظت خطرے کی گھنٹی ہے ۔جب بھی شتابدی ،راجدھانی جیسی تیز رفتار ٹرینیں گزرتی ہیں تو پتھر پھینکے جاتے ہیں ۔وندے ماترم ٹرین پر بھی پتھر بازی کی خبریں آئی تھیں کئی بار تو جھگیوں میں مقیم لوگوں پر بھی چڑھ جاتی ہے ،ریلوئے حکام کا کہنا ہے کہ تقریبا 27ہزار سے زیادہ جھگیاں سیفٹی زون میں بسی ہیں ،ریلوئے قواعد کے مطابق پٹریوں کے دونوں طرف پندرہ میٹر تک کا علاقہ سیفٹی زون مانا جاتا ہے ۔ٹرینوں کی حفاظت آمد رفت کے لئے اس علاقے میں کوئی بھی تعمیر کا کام نہیں ہونا چاہیے لیکن یہاں یہ سوال بھی اہم ترین ہے کہ غریب انسان کہاں جائے گا؟پہلے ہی کورونا نے روزی روٹی کی پریشانی بڑھا دی ہے ۔اب عدالت ابھی ہماری چھت چھیننا چاہتا ہے ۔یہ بات ریلوئے پٹری لائن کے ساتھ بسی جھگی کے مکیں ببول سنگھ کا کہنا ہے ۔وہ کئی سال سے لکٹری کی کرسی اور صوبے بناتا ہے ۔غریب کو دو وقت کی روٹی کے علاوہ اور کیا چاہیے ۔جب سے کورٹ کا آرڈر آیا ہے تب سے حلق میں روٹی نہیں گئی ہے اب یہ ڈر ستا رہا ہے کہ کب انتظامیہ آکر ہماری جھگیاں توڑے گا ۔وہیں ریلوئے حکام کا کہنا ہے کہ 90کی دہائی سے ہی ریل کی پٹریوں کے کنارے جھگیاں بسنے لگی تھیں ۔اس دوران جب بھی انتظامیہ قبضے ہٹانے کی کارروائی چھیڑتا تھا تو سیاست شروع ہو جاتی تھی۔پچھلے دنوں شکور بستی سے جب جھگیاں ہٹانے کی کوشش کی گئی اور بہت سے لوگ بے گھر ہوئے تھے کسی بچے کی مو ت کو لے کر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ۔اب ریلوئے لائن سے جھگیاں ہٹانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سیاست شروع ہو گئی ۔بھاجپا پردیش صدر آدیش گپتا نے مانگ کی ہے کہ راجیو گاندھی آواس یوجنا کے تحت بنے فلیٹ ان جھگی جھونپڑی رہنے والے پریواروں کو دئے جانے چاہیے وہیں دہلی کانگریس نے عام آدمی پارٹی کی سرکار اور بھاجپا کی مرکزی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس وجہ سے ریلوئے لائن کے پاس بسی جھگیوں کو ہٹانے سے دس لاکھ لوگ بے گھر ہو جائیں گے ۔عآپ اور بھاجپا نے چناﺅ سے پہلے جھگیوں کو پختہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج بھی ان کو مکان نہیں ملا جبکہ سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت نے قریب 64184فلیٹوں کی تعمیر شروع کرائی تھی مسئلہ سنگین ہے ریلوئے کو ان جھگیوں کو ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔ (انل نریندر)

06 ستمبر 2020

آخر محدود وقفہ سوالات پر راضی ہوئی حکومت

پہلے خبر آئی تھی پارلیمنٹ کے مانسون شیشن میں نا تو وقفہ سوال ہوگا اور ناہی غیر سرکار بل لایا جاسکے گا ۔کورونا وبا کے اس دور میں پیدا غیر معمولی حالات کے درمیان ہونے جارہے اس شیشن میں وقفہ صفر سولات بھی محدود کر دیا گیا ہے ۔اور وقفہ سوالات کے انتظام کی کاروائی سے ہٹائے جانے پر احتجا ج کرتے ہوئے ترمل کانگریس اور ڈیرک ابروس نے کہا اس سے اپوزیشن ممبران کے ذریعے سرکار سے سوال پوچھنے کے اپنے حق کو کھو دے گی ۔انہوں نے ٹوئیٹ کر کہا وبا جمہوریت کا قتل کرنے کا بہانہ بن گئی ہے ۔اگر ماضی میں وقفہ سوالات نہیں ہوا گو اسپیشل مقصد کیلئے بلائے گئے تھے لیکن آنے والے شیشن تو باقاعدہ ایک آئینی کاروائی کا حصہ ہے ۔لوک سبھا میں کانگریس کے نیتا ادھی رنجن چودھری نے پچھلے ہفتہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ پارلیمنٹ شینشن میں ممبران کے سوال پوچھنے اور اشو اٹھانے کے حق میں کٹوتی نا کی جائے اور یہ عوام کے نمائندوں کے حق میں نہیں ہوگا اب یہ خبر آئی ہے کہ سرکار اب یہ محدود سوال اٹھانے پر راضی ہو گئی ہے اور سرکار غیر اندارج سوال دینے کو بھی تیار ہے ۔کچھ ضمنی سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا وزیرصرف تحریری جواب دیتے ہیں ۔مانسون شیشن چودہ ستمبر سے ایک اکتوبر تک چلے گا ۔پرائیویٹ بل بھی پیش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔وقفہ صفر کی میعاد گھٹا کر آدھا گھنٹا کر دی گئی ہے ۔کورونا کے سبب ایوان کی کاروائی صبح نو سے گیارہ اور دوپہر تین سے سات بجے تک چلے گی ۔پہلی پالی میں راجیہ سبھا اور دوسری شفٹ میں لوک سبھا کی کاروائی چلے گی ۔پورے شیشن مین کوئی چھٹی نہیں ہوگی ۔ (انل نریندر)

بدلہ لینے کیلئے کھول رہا ہے تبتیوں کا خون

مشرقی لداخ کی برفیلی چوٹیوں کے پار چین کے قبضہ والی اپنی سرزمیں کو واپس لینے کے لئے تبتی شیروں کا خون کھول رہا ہے ۔تبت سے ہجرت کر آئے لداخ میں سینکڑوں تبتی خاندانوں کی تیسری پیڑ ی اس وقت چین سے اپنا گھر واپس لینے کے لئے فوج کے ساتھ اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے پیرا کمانڈوں کی شکل میں ڈرائیگن کے خلاف میدان میں ہیں ۔اور یہ سیدھے فورس وزارت داخلہ کے ماتحت ہے ۔لداخ کے پین گون جھیل کے جنوبی کنارے سے لگے علاقہ میں بھارت کے اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے ڈولپمنٹ ریجمنٹ کی کمپنی لیڈر نیما توزن سنیچر کی رات شہید ہو گئے ۔نیما کی ترنگے میں لپٹی ہوئی لاش کے لے شہر سے چھ کلو میٹر دور ان کے گاو¿ں لائی گئی ۔تبت کی ضلع وطن پارلیمنٹ کی ممبر نام ڈول لگیاری کے م طابق یہاں پر تبتی بودھ روایتوں کے ساتھ ان کاا نتم سنسکار کیا گیا ۔نام ڈول لگیاری کے مطابق کبھی آزاد ملک لیکن اب چین کے علاقہ تبت کے نیما توزن بھارت کے اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کی ڈولپمنٹ ریجمنٹ میں کمپنی لیڈر تھے دو دن پہلے چینی فورس پی ایل اے کے ساتھ پینگون جھیل علاقہ میں ہوئی جھڑپ میں جان چلی گئی ۔ہندوستانی فوج نے اس معاملے پر کسی طرح کی رائے زنی نہیں کی ۔اس واقعہ نے چینی فوج نے مشرقی لداخ میں اکسائی چن میں فوجی سرگرمیاں شروع کر ایل اے سی پر کی پوزیشن بدلنے کی کوشش کی تھی ۔جس کو ناکام کر دیاگیا ۔کیا ہے ایس ایف ایف ؟بھارتیہ فوج کے سابق کرنل اور دفاعی معاملوں کے ماہر اجے شکلا نے اپنے بلاگ میں کمپنی لیڈر نیما تولن اور اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کا ذکر کیا ۔در اصل 1962میں تیار کی گئی اسپیشل ٹکڑی ایس ایف ایف ہندوستانی فوج کی نہیں بلکہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کا ایک حصہ ہے ۔انگریزی اخبارہندوستان ٹائمس میں شائع رپورٹ کے مطابق اس یونٹ کا کام اتنا خفیہ ہے کہ شاید فوج کو بھی معلوم نہیں ہوتاکہ یہ کیاکررہی ہے ۔ڈائرکٹر جنرل سکیورٹی کے ذریعے سے سیدھے وہ پی ایم کو رپورٹ کرتی ہے اس کی بہادری کی کہانیا ں عام لوگوں تک نہیں پہونچ پاتی ۔اسپیشل فرنٹ ائیر فورس کے جوان اور ہندوستانی فوجی 11جون 2005کو لیح میں پردھان منتری منموہن سنگھ کا خطاب سنتے ہوئے آئے بی کے بانی ڈائرکٹر بھولاناتھ اور دوسری جنگ عظیم کے فوجی بعد میں اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ رہے بجو پٹنائک کی صلاح پر بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے تبتی گوریلو کی ایسی ٹکڑی تیارکرنے کی سوچی جو ہمالیہ کے خطرناک علاقہ میں چینیوں سے لوہا لے سکیں اور کئی کاروائیوں میں شامل ایس ایف ایف لداخ وغیرہ کے تبتی نزاد لوگ کافی پہلے سے جلید ہندوستانی فوج کا حصہ ہیں کئی لوگ مانتے ہیں کہ اس میں شامل لوگ 1950کی دہائی میں ان کھمپا باغیوں کی جانشین ہیں جو تبت پر چینی حملے کے خلا ف کھڑے ہوئے ۔ (انل نریندر)

ایودھیا میں رام مندر کا نقشہ پاس ہو گیا

وزیرا عظم نریندر مودی کے ایودھیا میں رام مندر کے پوجن کے 29دن بعد بدھوار کو مندر کا نقشہ پاس ہوگیا اور شاندار مندر کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوگیا ۔ایودھیا ڈولپمنٹ بورڈ کی میٹنگ میں سبھی ممبران نے کچھ منٹوںمیں اسے منظوری دے دی ۔شری رام جنم بھومی تیرتھ زون ٹرشٹ نے رام مندر کے ساتھ ہی پوری ستر ایکڑ کی زمین کا نقشہ پاس کرایا ہے ۔اس کے لئے ٹرسٹ نے 2.11کروڑ روپئے ڈولپمنٹ فیس اور لیبل سیز پندرہ لاکھ روپئے بینک گرافٹ اور الیکٹرونک ٹرانسفر کے ذریعے جمع کر ادئیے گئے ہیں اب جلد مندر تعمیر کے لئے بنیاد کی کھدائی شروع ہو جائےگی ۔ٹرسٹ کے ممبران نے بتایا ایک کھدائی مشین کانپور سے پہلے آچکی ہے ۔اور دوسری چنئی سے روانہ ہونی ہے ۔اور دس دن میں ضروری سبھی مشینیں ایودھیا پہونچ جائیں گی ۔کولنگ میں زمین کے اندر بننے والے کھمبوںمیں لوہے کا استمال نہیں ہوگا کھمبوں کے بننے کے بعد اس پر کیپ بنے گا ۔اور اس پر پلیٹ فارم تیار ہوگا وغیرہ وغیرہ اس طرح سے مندر کی شکل دے دی جائے گی ۔پلیٹ فارم زمین کی سطح سے قریب قریب 19فٹ اونچا ہوگا ۔رام مندر تعمیر کے لئے لارسن اینڈ ٹربو کی مشینں آرہی ہیں ۔مندر کے پورے پانچ ایکڑ میں ساٹھ میٹر گہرائی تک کمپلیٹ کے قریب بارہ سو کھمبے تیارت کئے جانے ہیں ۔اور ان کھمبوں کی تعمیر میں بھاری مقدار میں سمنٹ اور کنکریٹ کی ضرورت ہوگی ۔ٹرسٹی نے کئی ایسے دان دینے والوں کی فہرست تیار کرلی ہے جو یہ سامان دستیاب کرائیں گے ۔مندر کی تعمیر کے لئے دان دینے والے دیش بدیشوں سے بھکتوں اور سنتوں کے ساتھ طالب علم بھی آگے آئے ہیں اور مجموعی طور پہ اکیس کروڑ روپئے دئیے ہیں ۔دوسری طرف ٹرسٹ کے چئیرمین مہنت نرتیہ گوپال داس نے دیش بھر کے رام بھگتوں کی جانب سے ایک کونٹل چاندی سونا سونپا ہے ۔اور ساتھ ہی ایک لاکھ روپئے کا چیک دیا ہے ۔اس کے علاوہ ماہ ویر ٹرسٹ پٹنہ نے دس کروڑ روپئے ہریدوار کے سنتوں نے پچیس لاکھ روپئے اور ہریانہ کے سنتوں نے اکتیس لاکھ روپئے ٹرسٹ کے کھاتہ میں بھیجے ہیں ۔مہنت چن نریندر داس نے بھی ایک لاکھ اکیس ہزار روپئے کا چیک دیا ۔مندر کی تعمیر کی بنیاد میں تین مہینے لگ سکتے ہیں اب وہ دن دور نہیں جب ہم ایودھیا میں ایک شاندار عظیم الشان مندر دیکھیں گے ۔جے شری رام! (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...