Translater

Akhilesh Yadav لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Akhilesh Yadav لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

19 مئی 2012

ہاتھی مورتی گھوٹالہ 9 لاکھ کی مورتی90 لاکھ میں

اترپردیش میں اس وقت کی وزیر اعلی کے عہد میں ہوئے گھوٹالوں کی پرتیں کھلنے لگی ہیں۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا یادگاروں وپارکوں کی تعمیر اور ان میں لگے ہاتھیوں کی مورتیوں و دیگر مورتیوں کو لگانے میں پانچ ہزار نہیں بلکہ40 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔لکھنؤ کے امبیڈکر پارک میں لگی ہاتھی کی مورتیوں کو بنوانے و انہیں لگوانے میں کروڑوں روپے کی سرکاری پیسہ کی بندربانٹ کی گئی ہے۔آگرہ کے ایک سنگتراش کی شکایت پر حضرت گنج پولیس تھانے نے اس معاملے میں دھوکہ دھڑی ، غبن، دھمکی دینے کی رپورٹ درج کرائی ہے۔ ہاتھی کی مورتیوں کی ادائیگی کے معاملے میں ملزم لکھنؤ ماربل کے مالک ادتیہ اگروال کے وبھوتھی کھنڈ میں واقع دفتر پر ایتوار کے روز جانچ کرنے پہنچی پولیس کی ٹیم کو کئی اہم دستاویز ہاتھ لگے ہیں جن میں دعوی کیا جارہا ہے کہ مایاوتی سرکار نے 9لاکھ روپے کی مورتی کے لئے90 لاکھ روپے ادا کئے۔ جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی کی مورتیوں کی تعمیر کے لئے پی ڈبلیو ڈی نے کسی بھی طریقے سے ٹنڈر نہیں مانگے تھے۔ اس کے لئے نہ تو کوئی ٹنڈر جاری کیا گیا اور نہ ہی کسی اخبار میں اشتہار نکال کر مشتہر کیا گیا۔ چہیتوں کو ٹھیکہ دینے کے لئے صرف کوٹیشن کی بنیاد پر چپ چاپ طریقے سے کروڑوں کے ٹنڈر پاس کردئے گئے۔ اب پولیس انہی حقائق کی بنیاد پر اس گھوٹالے میں نامزد افسروں اور ان کے رشتے داروں کی پراپرٹی کی تفصیلات ٹٹولنے میں لگ گئی ہے۔ ڈی آئی جی لکھنؤ کی ہدایت پر پولیس کی تین ٹیمیں اسٹیٹ تعمیراتی کارپوریشن ،تحصیل آفس اور پاسپورٹ دفتر میں جانچ کرنے پہنچی ہیں۔ ٹیم نے جب اسٹیٹ تعمیراتی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹراروند کمار گپتا سے پوچھا کہ سرکاری کام کے لئے بغیر کوئی ٹنڈر جاری کئے ہی آخر کوٹیشن کی بنیاد پر کروڑوں کا کام کیسے دے دیا گیا۔ اس کے لئے کسی بھی اخبار میں کوئی اشتہار شائع نہ کراکر چپ چاپ طریقے سے یہ کھیل کھیلا گیا؟ اس پر منیجنگ ڈائریکٹر کوئی جواب نہیں دے سکے۔ پولیس کی دوسری ٹیم تحصیل دفتر میں اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ گھوٹالے میں نامزد 8 افسران و ملازمین و ان کے رشتے داروں کے پاس کتنی پراپرٹی ہے؟ غور طلب ہے کہ آگرہ کے فتحپور سیکری گاؤں پورہ کے باشندے مدن لال نے ایتوار کو وبھوتی کھنڈ تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ لکھنؤ ماربلس کے مالک ودیہ اگروال کے رشتے دار ادتیہ اگروال نے پتھر ہاتھی کی مورتی بنانے کے لئے 48 لاکھ روپے دینے کو کہا تھا انہیں 1 لاکھ روپے ایڈوانس دینے کے بعد 6 لاکھ56 ہزار روپے اور دے دئے گئے۔ منگل کے روز وزیر اعلی اکھلیش یادو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یادگاروں و پارکوں کی تعمیر میں مورتیوں میں تو گھوٹالہ ہوا ہی ساتھ ہی ان یادگاروں اور پارکوں میں لگائے گئے کھجور کے پیڑوں کی خرید میں بھی گڑ بڑی کی بات پتہ چلی ہے۔وسیع پیمانے پر ہوئی ان پیڑوں کی اناپ شناپ خرید کی ساری تفصیل اکٹھی کرائی جارہی ہے۔ تعمیر کی لاگت میں زمین کی قیمت کا تخمینہ اور یادگاروں و پارکوں میں بنی کئی عمارتوں و مہنگے پتھروں کی باؤنڈری کو کئی بار توڑا جانا شامل ہے۔ سارا حساب کتاب جلد سامنے آجائے گا۔ بسپا عہد میں ہوئے گھوٹالوں کی پرتیں اب آہستہ آہستہ کھلنے لگی ہیں۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Lucknow, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun 

17 مئی 2012

یوپی اے سرکار کا مشروط فیصلہ ٹھگا محسوس کررہے ہیں بے روزگار نوجوان

سیاسی پارٹیاں چناؤ کے دوران اکثر ایسے ایسے وعدے کردیتی ہیں جنہیں وہ بھی جانتی ہیں کہ اگر جیت گئے تو انہیں پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ سماجوادی پارٹی نے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں ایسا ہی ایک وعدہ کیا تھا۔ یہ تھا سرکار ہر بے روزگار کو بھتہ دے گی۔ سپا نے وعدہ تو کردیا تھا لیکن تبھی لگنے لگا تھا کہ جو حالت اترپردیش کے سرکاری خزانے کیہے اس میں اسے پورا کرنا بہت ٹیڑھی کھیر ہوگی۔ وہی ہوا۔ ووٹ کی خاطر چناوی ایجنڈے میں بے روزگاروں کو بھتہ دئے جانے کے وعدے سے لگتا ہے کہ ''منتری جی'' پلٹ گئے ہیں۔ بھیا جی عرف مکھیہ منتری اکھلیش یادو کے ذریعے ایک فیصلے کے بعد اسمبلی چناؤ میں سائیکل پر مہر لگانے والے بے روزگار نوجوان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ اکیلے غازی آباد میں لائن لگاکر بھتے کی خاطر نام درج کرانے کے لئے پولیس کی لاٹھیاں کھانے والے 20 ہزار بے روزگاروں میں سے زیادہ تر کے ہاتھ مایوسی لگی ہے۔ 15 مارچ کے بعد لوگوں نے روزگار کاریالہ میں رجسٹریشن کرایا ہے۔ وزیراعلی نے 15 مارچ کے بعد کرائے گئے رجسٹریشنوں کو بے روزگار بھتے کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں اہلیت اور عمر کے تعین کے ساتھ ہی ہزاروں بے روزگاروں کے ارمانوں پر پانی پھر گیا ہے۔اکیلے غازی آباد شہر میں کل رجسٹرڈ 46186 بے روزگاروں میں محض29 فیصد یعنی 13228 بے روزگاروں کو ہی بھتہ مل سکے گا۔ 32958 بے روزگاروں کو ریاستی سرکار کے اس فیصلے کے بعد فہرست سے باہر کا راستہ دیکھنا پڑے گا۔ انہیں نوکری تو شاید ہی ملے اب بھتہ بھی نہیں ملے گا۔ بیشک ریاستی سرکار سے کچھ نوجوان متاثر ہوں گے لیکن کئی لاکھ بے روزگاروں کو اس کا فائدہ بھی ہوگا۔ اترپردیش سرکار نے پردیش کے 9 لاکھ بے روزگار لڑکے لڑکیوں کو بے روزگاری بھتہ دینے کے اپنے لبھاونے پرستاؤ پر جمعہ کو مہر لگادی ہے۔ کیبنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اسکیم کا فائدہ ہائی اسکول پاس 30 سے40 برس کے لوگ ہی لے سکیں گے جو سرکاری یا غیر سرکاری ملازمت میں نہیں ہیں۔ اس برس 11013 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ بے روزگاری بھتہ پانے والوں سے وقت وقت پر کام لیا جاسکتا ہے اور کام نہ کرنے پر بھتہ روکا جاسکتا ہے۔ بے روزگاروں کو ہر سال اپنے بے روزگار ہونے یا پھر روزگار مل جانے کی اطلاع خود دینی ہوگی۔ ہر ایک بے روزگار کو ماہانہ ایک ہزار روپے کا بے روزگاری بھتہ دیا جائے گا یہ ہر تین مہینے میں ادا ہوگا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس اسکیم کا فائدہ 15 مارچ تک رجسٹرڈ ہوئے لوگوں کو ہی ملے گا اور جو بنیادی طور پر اترپردیش کے باشندے ہیں اور فی الحال بھی ریاست میں ہی رہ رہے ہیں۔ اسکیم کا فائدہ اقتصادی طور پر کمزور خاندان کے لوگ لے سکیں گے۔ کیبنٹ کے ذریعے کئے گئے فیصلے کے مطابق بے روزگار شخص کے خاندان کے ممبر کی آمدنی 36000 روپے سالانہ سے کم ہو اور اس کے والدین یا سسر ،ساس جیسے بھی حالت ہو ان کی آمدنی ایک لاکھ 50 ہزار روپے سالانہ اور اس سے کم ہو۔ خزانہ خالی ہے، اسکیم لاگو کرنا مجبوری۔ کچھ نوجوان اپنے آپ کو اس لئے ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیں کیونکہ سپا نے اپنے چناوی مینی فیسٹو میں وعدہ کیا تھا کہ سرکاری نوکریوں میں بھرتی کے لئے زیادہ سے زیادہ عمر حد35 سال ہوگی اس سے زیادہ عمر کے بے روزگاروں کو ہر مہینے ایک ایک ہزار روپے بھتہ دیا جائے گا۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Daily Pratap, Samajwadi Party, Unemployment, Uttar Pradesh, Vir Arjun

17 مارچ 2012

اکھلیش کی اگنی پریکشا تو اب شروع ہوئی ہے



Published On 17 March 2012
انل نریندر
اترپردیش میں اکھلیش یادوکی پاری کا آغازگیا ہے۔ جمعرات کوکھانٹی ،گنوئی رنگ ڈھنگ میں اور نئے تیور اورفلیور کے ساتھ اپنے بلبوتے پر اترپردیش میں پہلی بار اکثریت کے ساتھ قابض ہوئی سپا کے 38 سالہ نوجوان چہرہ اکھلیش یادو اور ان کے کیبنٹ ممبران نے عہدراز داری کا حلف لیا۔ ریاست کے گورنر بی ایل جوشی نے مقامی لا ماٹینیئر کلب میدان میں منعقدہ ایک شاندار تقریب میں ریاست کے نوجوان وزیر اعلی کی پاری کا آغاز ہوا۔ اکھلیش کے ساتھ19 وزراء نے بھی حلف لیا۔ اکھلیش کے ساتھ ان کے وزراء نے بھی حلف لیا۔ حالانکہ اس سیپہلے اکھلیش کے والد شری ملائم سنگھ یادوتین مرتبہ ریاست کے وزیر اعلی بنے لیکن انہیں ہر مرتبہ دوسرو ں کی حمایت کی بیساکھی پر کھڑا ہونا پڑا لیکن اس بار اقتدار کے لئے واضح مینڈیٹ ملا ہے تو نئے وزیر اعلی کے لئے چنوتیوں کا پہاڑ سامنے ہے۔ تقریب سے ہی تنازعات کا آغاز ہوگیا ہے کیونکہ آزاد ممبر اسمبلی رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کو کیبنٹ وزیر بنانا چونکانے والا تھا۔ راجہ بھیا کے خلاف اقدام قتل، ڈکیتی، اغوا سمیت 8 مجرمانہ معاملے درج ہیں۔ اکھلیش نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ راجہ بھیا کے خلاف لگے الزامات سیاسی سازش کے تھے۔ اکھلیش اور ریاست میں بہت فرق آگیا ہے۔ یہ وہی اکھلیش ہیں جنہوں نے ڈی پی یادو کے پارٹی میں داخل ہونے پر اعتراض کیا تھا۔ اکھلیش کیلئے ایک بڑی چنوتی غنڈہ راج نہ لوٹنے کی ہے۔ ادھر اکھلیش حلف لے رہے تھے تو ادھر ان کی پارٹی والے گریٹر نوئیڈا کے دادری علاقے میں بسپا کنبے کو مارنے پیٹنے لگے تھے۔ قابل غور ہے اسی علاقے میں سابق وزیر اعلی مایاوتی کا گاؤں بادل پور بھی ہے۔ ان کے راج میں سپا ورکروں کی بہت پٹائی ہوئی تھی اب فطری ہے وہ بدلہ لینا چاہیں گے۔ اسی پر اکھلیش کو لگام لگانی ہوگی۔ ان کی کیبنٹ اور پارٹی میں بہت سینئر لیڈر ہیں۔ ان پر بھی لگام لگانا آسان نہیں ہوگا۔بچہ کہہ کرکچھ وزیر، سنتری، اپنی منمانی کرنا چاہیں گے۔ دیکھیں اکھلیش اس مسئلے کا حل کیسے نکالتے ہیں اور سینئروں کی منمانی کو کیسے روکتے ہیں۔ 11 لاکھ نوجوانوں کی امیدوں پر کھرا اترنا آسان نہیں ہوگا۔ بے روزگاری بھتے کا چناوی وعدہ پورا کرنے کے لئے اکھلیش کو ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے اکٹھے کرنے ہوں گے۔ پارٹی نے اس سے پہلے کے عہد میں جہاں 500 روپے مہینہ بھتہ دیا تھا وہیں اب وہ بے روزگار نوجوانوں کو 1ہزار روپے دینے جارہی ہے۔ اکھلیش نے دو برس میں گاؤں کے لئے 20 گھنٹے اور شہر کو22 گھنٹے بجلی دینے کا وعدہ کیا ہے۔ کسانوں کی طرح غریب بنکروں کو بھی مفت بجلی دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ صنعت اور زراعت کو بھرپور بجلی دینے کے ساتھ پرائیویٹ و سرکاری سیکٹر میں بجلی پیداوار کو ترجیح دیتے ہوئے نئے بجلی گھر بنانے اور پرانے ٹھیک کرانے اور بجلی چوری روکنے کے اقدام کا اعلان کیا ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ابھی بجلی پیداوار اور دستیابی کی جو حالت ہے اس سے زیادہ تر شہروں کو 16-18 گھنٹے بجلی نہیں مل پاتی جبکہ گاؤں میں تو اوسطاً محض9 گھنٹے بجلی کی سپلائی ہوتی ہے کیونکہ بجلی گھر قائم کرنے میں چار برس لگتے ہیں اس لئے فی الحال بجلی کی حالت میں قابل قدر بہتری لانا اکھلیش کے لئے چنوتی ہوگی۔ مفت بجلی دینے سے ڈیڑھ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا فاضل بوجھ اس پاور کارپوریشن پر پڑے گا جو پہلے ہی سے 8 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے خسارے میں چل رہی ہے۔ اب باری آتی ہے ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ دینے کے مسئلے کی۔ سپا نے ہائی اسکول اور انٹر پاس طلباء کو مفت لیپ ٹاپ و ٹیبلیٹ ٹی سی بانٹنے کا وعدہ کیا ہے اور اس پر عمل کے لئے ریاستی کیبنٹ نے اپنی مہر لگا دی ہے۔ اس برس ہائی اسکول پاس طالبعلم کو تعداد25 لاکھ اور انٹر پاس 11 لاکھ رہنے کا اندازہ ہے۔ اگر ٹیبلیٹ پی سی کی کم از کم قیمت 50 ڈالر یعنی 2500 روپے مانی جائے تو ہائی اسکول پاس طلبا کو دینے کیلئے اسے سالہ625 کروڑ روپے خرچ آئیں گے۔ دونوں کو ملا کر اکھلیش کو 3800 کروڑ روپے کا انتظام کرنا ہوگا۔ ماہرین نے اندازہ لگایا ہے اگر سپا سرکار اپنے وعدوں پر عمل شروع کرنے لگی تو اسے قریب 66 ہزار کروڑ روپے سالانہ کا انتظام کرنا پڑے گا جبکہ دنیا جانتی ہے کہ ریاست کی اقتصادی حالت کافی کھوکھلی ہے۔ پچھلے مالی سال میں یہ 18959 کروڑ رکے خسارے کا بجٹ تھا۔ اس برس یہ خسارہ اور بھی چھلانگ لگاسکتا ہے۔ ایسے میں اکھلیش کی سرکار کو اپنے چناوی وعدے پورے کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اتنا طے ہے کہ اگر اکھلیش سرکار نے واقعی پختہ سیاسی عزم دکھایا تو اس نشانے کو پانا مشکل بھی نہیں ہے۔ ہمیں اکھلیش کو مبارکباد دینے کے ساتھ امید کرتے ہیں کہ وہ ریاست کی عوام کی امیدوروں پر کھرا اتریں گے۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

08 مارچ 2012

مایا کے خلاف نگیٹو ووٹ اور اکھلیش یادو کی آندھی



Published On 8 March 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں ان میں نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ اسباب کے لمبے چوڑے تجزیئے ہونے لگے ہیں۔ موٹے طور پر جو اہم وجہ مجھے لگی وہ کچھ اس طرح ہے۔ پہلے ہم بات کرتے ہیں اترپردیش کی۔یہاں چناؤ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ سائیکل نے ہاتھی کو پست کردیا۔ سماجوادی پارٹی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ تھی مایاوتی حکومت کے خلاف ناراض ووٹ ۔ یوپی کی عوام نے طے کردیا تھا کہ مایاوتی کی بسپا سرکار کو ہرانا ہے اور سامنے متبادل کی شکل میں اس کوسپا کے نوجوان لیڈر اکھلیش یادو نظر آئے۔ اکھلیش یادو ریاست کے عوام کی نبض کو سمجھنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی اور زمین پر چلنے والے اکھلیش نے ایک نئی امید کی کرن پیدا کی۔ محنت تو راہل گاندھی نے بھی کم نہیں کی تھی ۔ انہوں نے بھی دو مہینے سے یوپی بھر میں خاک چھانی۔ 20 سے زیادہ ریلیاں کیں لیکن جنتا ایسا نیتا چاہتی تھی جس کے پاس وہ چاہ کر اپنی نالی، بجلی، پانی کے مسئلے کو سامنے رکھ سکے۔ وہ ہر بات راہل سے آکر دہلی میں نہیں کہہ سکتے تھے۔ راہل کی کڑی محنت پر یوپی کانگریس یونٹ نے پانی پھیردیا۔ چناوی ماحول تو راہل نے بنا دیا لیکن فصل کاٹنے کے لئے تنظیم تیار نہیں تھی۔ کوئی بوتھ کمیٹی نہ تھی اور نہ ہی ضلع کمیٹی ۔ جن مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے کانگریس نے ہر ہتھکنڈہ اپنا یا انہوں نے ملائم کی جھولی میں جانا بہتر سمجھا۔ مسلم ووٹ سپا ۔ کانگریس اور بسپا میں بنٹا یکمشت کسی کو نہیں گیا لیکن اکثریت سپا کے ساتھ گئی۔ مایاوتی اپنی ہار کے لئے خود ذمہ دار ہیں۔ ان کا تاناشاہی طریقہ عوام کو نہیں بھایا۔ مہارانیوں کی طرح ان کے برتاؤں سے خود ان کے پارٹی والے دکھی تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ دلت ووٹ بھی پوری طرح سے بسپا کو ملا۔ آخر وہ ووٹ دیتے بھی کیوں؟ جن دلتوں کی بہبود کے لئے مایاوتی اقتدار میں آئیں اسی دلت کو کالج میں ایک کلرک کی نوکری لینے کے لئے چار لاکھ روپے رشوت دینی پڑتی تھی۔ لوگ بھوکے مر رہے تھے اور بہن جی ہاتھی بنوانے میں لگی ہوئی تھیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں نہ تو کسی کالج میں چناؤ ہوا اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کے چناؤ ہوئے۔ سارا چناوی عمل ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ نوجوانوں میں بہن جی کے تئیں ناراضگی تھی۔ کسانوں کی زمین بلڈروں کو اونے پونے بھاؤ میں لٹا دی اور پیسہ بنانے کی فیکٹری بن گئی۔ بہوجن سماج پارٹی کے خلاف لوگوں کا متبادل کیا تھااسی لئے انہوں نے دوسری لیڈر شپ کی لائن کے لیڈر کو کڑا کرنے کی کوشش کی اور کوئی نوجوان چہرہ تھا ان کے پاس پیش کرنے کو۔ متبادل کے طور پر ریاست کی عوام کو اکھلیش یادو کی شکل میں نظر آیا۔ نیتا جی (ملائم) شاید اپنے بلبوتے پر یہ چناؤ نہ جیت پاتے۔ آج بھی ان کے غنڈے راج کو کوئی نہیں بھولا۔ 2007ء میں ان کا اسی طرح صفایا ہوا تھا کیونکہ ہر تھانے میں ہر گاؤں میں تحصیل میں ملائم کھڑا ملا۔ دراصل سپا کے ورکر اقتدار میں آنے سے سبھی ملائم بن جاتے ہیں اور وہاں غنڈہ راج آ جاتا ہے۔ اسی سے ناراض عوام نے مایاوتی کو موقعہ دیا تھا۔ اکھلیش یادو کے لئے یہ سب سے بڑی چنوتی ہوگی اپنے ورکروں پرلگام رکھنا۔ پارٹی کے برسر اقتدار آتے ہی دو مقامات پر تو گولی چل چکی ہے، مارپیٹ ہوچکی ہے۔ یوپی کی عوام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سیاستدانوں سے زیادہ وہ پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ بھاجپا کو یہ ہی حکمت عملی مار گئی۔ اس بار یوپی کا سارا چناؤ خود آر ایس ایس نے لڑا۔ سنجے جوشی، نتن گڈکری نے امیدواروں سے لیکر ریلیوں تک سب کچھ سنگھ کے اشاروں پر کام کیا۔ سنگھ نے کہا کے اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا ہو دہلی گجرات سے نہیں بلانا اور نہ بلایا گیا۔ اوما بھارتی کو زبردستی لا کر یوپی کے نیتاؤں میں گھمسان کردیا۔ بھاجپا اس چناؤ میں ایک بٹی ہوئی پارٹی کی طرح اتری اور اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ اس چناؤ میں بھاجپا کی اتنی ہار نہیں ہوئی ہے جتنی سنگھ کی ہوئی ہے۔ بھاجپا تو پہلے سے بھی زیادہ گر گئی ہے۔
اسی حکمت عملی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتراکھنڈ میں بھاجپا کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اتراکھنڈ کی بدقسمتی دیکھئے وہاں رمیش پوکھریال نشنک چناؤ جیت گئے جنہیں کرپٹ ہونے کے الزام میں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور بھون چندر کھنڈوری جو وزیر اعلی تھے چناؤ ہار گئے جن کی ایماندار ساکھ پر بھاجپا نے داغ لگادیا تھا۔ اس سے تو شاید بہترہوتا نشنک کو ہی وزیر اعلی بنائے رکھتے اور چناؤ سے تین مہینے پہلے انہیں ہٹا کر پارٹی کو نقصان پہنچ گیا۔ چناؤ میں شخصیت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ پنجاب میں پرکاش سنگھ بادل اور کیپٹن امریندر سنگھ آمنے سامنے تھے جہاں بادل انتہائی ملنسار ، عوام کے دکھ درد میں ساتھ دینے والے ہیں وہیں کیپٹن کا مہاراجہ اسٹائل نہیں بدلا۔ انہوں نے وہی شاہی انداز میں چناؤ لڑا جب جنتا کو بادل اور امریندر میں سے ایک کو چننے کا موقعہ ملا تو انہوں نے بادل کو ترجیح دی۔ پنجاب میں اکالیوں کے خلاف ماحول تھا لیکن کانگریس اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ 44 سال میں یہ پہلا موقعہ ہے کے حکمراں پارٹی محاذ پھر سے چناؤ جیتا ہے۔ اترپردیش اسمبلی کے چناؤ نتیجے خاص کر اکثریت کا دعوی کرنے والی کانگریس کے لئے بیحد مایوس کن اور پریشانی کا باعث ہیں۔ پارٹی کو کہا ں تو دگوجے سنگھ جیسے بڑبولے نیتا 125 سیٹوں کا دعوی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ کانگریس کو صرف وہاں28 ہی سیٹیں مل سکی ہیں۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں22 سیٹیں جیتنے والی اس پارٹی کا تجزیہ تھا تو اس کی بنیاد پر اسے 100 سیٹیں ملنی چاہئے تھیں۔ اتحادی راشٹریہ لوکدل جس نے مغربی اترپردیش میں آندھی آنے کا دعوی کیا تھا کل 9 سیٹیں ہی جیت سکی جو پچھلی جیت سے کم ہیں۔ چناؤ میں کانگریس کی خراب کارکردگی کی حد تو تب ہوگئی جب ان کے گڑھ کہے جانے والے سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی میں کانگریس سبھی پانچوں سیٹیں ہار گئی جبکہ اس چناؤ میں اپنی پوری طاقت جھونکنے والے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے والے ضلع امیٹھی میں کانگریس پانچ میں سے تین سیٹیں گنوا بیٹھی۔ امیتا سنگھ جیسی قد آور لیڈر امیٹھی میں ہار گئی۔ تمام ڈرامے کرنے کے باوجود سلمان خورشید اپنی بیوی لوئس خورشید کی ضمانت نہیں بچا سکے۔ چناؤ میں اپنے بڑ بولے پن کے لئے سرخیوں میں بنے رہے مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما کے بیٹے راکیش ورما دریا باد چناؤ دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہے۔ ویسے اگر سرکردہ لیڈروں کی ہار کی بات کریں تو بھاجپا کا حشر بھی کانگریس جیتا ہی رہا۔ سوائے اوما بھارتی کے چناؤ میدان میں اترے سبھی دھرندر چناؤ ہار گئے۔ بھاجپا پردیش پردھان سوریہ پرتاپ شاہی سابق اسپیکر راجہ پتی رام ترپاٹھی اور قومی نائب صدر کلراج مشر ودھان منڈل کے لیڈر اوم پرکاش سنگھ اور سابق پردیش پردھان کیسری ناتھ ترپاٹھی کو بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اترپردیش کے چناؤ میں عوام کا ان پارٹیوں کو مسترد کرنا ان کے لئے ایک سبق مانا جائے گا۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Elections, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Rahul Gandhi, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

19 فروری 2012

کانگریس کے نئے اینگری ینگ مین راہل گاندھی


Published On 19th February 2012
انل نریندراترپردیش اسمبلی چناؤ مہم کے دوران ہم نے کانگریس کے یووراج راہل گاندھی کے کئی انداز دیکھ لئے ہیں۔ کہاں تو ایک خاموش مہذب چہرہ جو دلتوں کے گھر روٹی پانی کھا پی کر ان کے درد کو سمجھنے والا، نرم گو مزاج کا تھا اور کہاں وہ اب داڑھی بڑھا کر فلمی انداز میں اسٹیج پر کاغذ پھاڑ رہے ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ راہل کا غصہ تھوڑا اور بڑھنے کے ساتھ ہی نہ صرف نظر آنے لگا ہے بلکہ ان کے تیوروں میں بھی جارحیت آگئی ہے۔ یہاں تک کہ اب وہ اسٹیج سے ہی پارٹیوں کے وعدوں کے کاغذ پھاڑ کر اپنا غصہ کھلے عام لوگوں میں احساس کرانے لگے ہیں۔ شاید وہ یوپی کے نوجوانوں کو بہلانا پھسلانا چاہتے ہیں۔ ''خاموش مزاجی تمہیں جینے نہیں دے گی، اس دور میں جینا ہے تو کہرام مچادو''ان کے اسی تیور پر کانگریس نے انہیں ''اینگری ینگ مین'' کے لقب سے نواز دیا ہے۔ راہل کانگریس کے ''یووراج '' تو ہیں ساتھ ہی ساتھ وہ کانگریس پارٹی کے چناوی مہم کے اکیلے سپر اسٹار بھی ہیں۔ ویسے بھی اس بار گاندھی خاندان نے بھی اپنی پوری طاقت چناؤ میں جھونک دی ہے۔ محترمہ سونیا گاندھی ،راہل ،پرینکا و رابرٹ وڈیرا سبھی اس بار میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ اتنی طاقت تو گاندھی خاندان نے شاید پہلے کبھی نہ جھونکی ہو۔ خیر کانگریس کو راہل کے کرشمے کا انتظار ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یوپی میں جیسے جیسے چناؤ کے مرحلے ختم ہورہے ہیں کانگریس کا حوصلہ اور جذبہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ 

کانگریس تو اب دعوی کررہی ہے کہ اترپردیش میں چناؤ اب صرف راہل بنام دیگر تک رہ گیا ہے۔ اس لئے سپا بسپا سے لیکر بھاجپا تک کے لیڈر اپنی تقریروں میں صرف راہل گاندھی پر ہی نشانہ لگا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ راہل بابا نے تو خواب ہی پا لیا ہے کہ اس چناؤ میں کانگریس کو اپنے دم پر تاج تک پہنچالیں گے اور ایسے میں جب جب رکاوٹیں دکھائی پڑتی ہیں تو انہیں غصہ آجاتا ہے۔ اب اس غصے کو بھنانے کا سیاسی پن بھی انہوں نے سیکھ لیا ہے اس لئے اب وہ جب اینگری نوجوان لیڈر کے تیور دکھاتے ہیں تو سامنے بیٹھے لوگ خوب تالیاں بجاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی اس دن لکھنؤ کی ایک چناوی ریلی میں ہوا۔ ڈی اے وی کالج کے میدان میں منعقدہ چناؤ ریلی میں ہلکی داڑھی والے راہل گاندھی نے مائک تھاما اور اس کے بعد وہ کسی بالی ووڈ ہیرو کی طرح بول پڑے۔ چہرے پر غصے کے انداز کو لیکر وہ بولے کے سپا ،بسپا نے سالوں سے صرف وعدے کئے ہیں حقیقت میں کچھ نہیں کیا۔ اسی کے چلتے آپ کے حالات بدتر ہوئے ہیں۔ میرے ہاتھ میں سپا کی چناوی فہرست ہے یہ ہی کہ چناؤ جیتے تو سڑک دیں گے، بجلی دیں گے، روزگار دیں گے۔ اگر روزگار نہیں دے پائے تو بڑھی ہوئی بے روزگاری بھتہ دیں گے۔ یہ وہی لسٹ ہے جو پچھلے چناؤ میں بھی سپا نے آپ لوگوں کو دی تھی۔ آپ لوگوں کو کام چاہئے وعدے کی لسٹ کی ضرورت نہیں۔ ایسے میں سپا کی یہ فہرست میں پھاڑ رہا ہوں۔ یہ کہہ کر انہوں نے ہیرو گری کے انداز میں ہاتھ میں لیا کاغذ پھاڑ کر نیچے پھینک دیا۔ راہل کے اس ایکشن پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بھاجپا کے قومی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ ایسا کرکے راہل نے اپنا بچپنا دکھایا ہے۔ یہ ہی لگتا ہے کہ انہیں ابھی سیاسی سوجھ بوجھ نہیں ہے۔ سب سے اچھا تبصرہ سپا کے یوپی پردھان اکھلیش یادو کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل کا غصہ ایک ڈرامہ ہے اور اسٹنٹ ہے ،کبھی پرچہ پھاڑتے ہیں تو کبھی لوگوں کو اپنی ریلی سے چلے جانے کو کہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دن وہ اسٹیج سے کود جائیں۔ راہل گاندھی کے یہ تیور کیا رنگ دکھاتے ہیں اس کا پتہ تو ووٹوں کی گنتی پر ہی چلے گا۔
Akhilesh Yadav, Angry Young Man, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Priyanka Gandhi Vadra, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...