Translater

27 جون 2026

عاصم منیر کے قتل کی سازش؟

جو لوگ بھی اسرائیل اور اس کی خونخوار خفیہ ایجنسی موساد سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ موساد سیاسی قتل کروانے میں ماہر ہے ۔اسرائیل کی تاریخ میں ایسے درجنوں معاملے ہیں جہاں اس نے اپنے دشمنوں کے لیڈروں کو موت کی نیند سلایا ہے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔28 فروری کو جب امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو سب سے پہلا کام موساد نے یہ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ و ایران کے ٹاپ ملیٹری کمانڈروں کو مروا دیا تھا ۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسرائیل امریکہ کی جنگ بندی سے بہت مایوس ہے اور اس ایم او یو کو تڑوانے کی پوری کوشش کررہا ہے ۔مشرق وسطیٰ میں کئی ملکوں میں حیرت انگیز حملے ہورہے ہیں ۔یہ کون کررہا ہے پتہ نہیں چلارہا ہے ۔کچھ حیرانی نہیں ہوئی جب ایک تازہ خبر آئی کہ موساد پاکستانی ملیٹری چیف عاصم منیر اور پاکستانی نمائندہ وفد کے جینوا میں قتل کا پلان بنا رہا تھا ۔میں نے اپنے 18 جون کے اداریہ میں جس کا عنوان تھا : کاغذوں پر دستخط : زمین پر دھویں کی آخری لائن میں لکھا تھا : آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے ۔سمجھوتہ تڑوانے کے لئے ایرانی لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ جنگ بندی ٹوٹ جائے۔ میری پیشگوئی اس معنی میں کامیاب ہوئی ۔حالانکہ تھوڑا ہٹ کر یہ رہا کہ موساد ایرانی لیڈروں کو تو نشانہ پر نہیں لے پایا لیکن اس نے پاکستانی نمائندہ وفد پر نشانہ لگانے کی کوشش ضرورکی ہے ۔بتادیں کہ برازیل کے ایک سینئراور جانے مانے صحافی پے پے ایسکودار کے اس سنسنی خیز دعوے نے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ایسکوبار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پاکستانی کے فوجی چیف جنرل عاصم منیر اور سوئزرلینڈ دورہ پر گئے پاکستانی نمائندہ وفد کے قتل کی سازش رچی تھی ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ یہ پلان تب فیل ہو گیا جب پاکستان کی فوج کو بے حد بھروسہ مند خفیہ جانکاری ملی تھی کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی ہدایت پر موساد جنرل عاصم منیر اور پوری پاکستانی نمائندہ ٹیم کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔ایسکوبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عمان کے ذریعے سے اسرائیل کو سخت سندیش بھیجا تھا اگر پاکستانی نمائندہ وفد یا جنر ل عاصم منیر کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا سخت جواب دیاجائے گا ۔یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پاکستان ایک نیوکلیائی کفیل ملک ہے اس کا مطلب صاف تھا ان دعوؤں کے سامنے آتے ہی پاکستان نے انہیں سرے سے مستر دکر دیا ۔اے آر وائی نیوز کے چیئرمین کامران خاں نے ایک سینئر پاکستانی سیکورٹی افسر کے حوالے سے بتایا کہ یہ رپورٹ پوری طرح بکواس اور بے بنیاد ہے ۔افسر نے صاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کا سوئزرلینڈ دورہ پوری طرح محفوظ اور بغیر کسی سیکورٹی خطرے کے پورہ ہوا قتل کی سازش کا دعوے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور پوری طرح بناوٹی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ملک ایسی خبروں کی کبھی بھی تصدیق نہیں کرتا اور انہیں خیالی بتاتا ہے ۔
(انل نریندر)

25 جون 2026

مذاکرات کودیامناب 168 نام

 
سوئزرلینڈ میں اتوار کوامریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے ایرانی نمائندہ وفد کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔ماننا پڑے گا نریٹیو سیٹ کرنے میں ایرانیوں کا جواب نہیں ہے ۔جیسے اپنے شہیدوں کو ناتو بھولتے ہیں اور نہ ہی دنیا کو بھولنے دیتے ہیں ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مظالم داستان دیکھیں ۔اور سنیں ۔ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق یہ نام مناب اسکول پر امریکی اسرائیلی میزائل حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں کے احترام میں دیاگیا ۔اس اسکول (مناب) پر 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن حملہ ہوا تھا ۔دراصل ایران پچھلے 3 ماہ سے کمپین مناب چلارہا ہے ۔اور اسے خود نشر کررہا ہے ۔ہر اسٹیج پر ایران اس کمپین کے ساتھ نظر آتا ہے ۔سوئزرلینڈر اور یہاں تک کہ فیفا ورلڈکپ فٹبال میں بھی یہ نظر آیا۔ آئیے اس کے پیچھے کی کہانی بھی جانتے ہیں ۔۔سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ مذاکرات کرنے سے پہلے ایران نے فیصلہ لے کر پوری دنیا کو چونکادیا ہے ۔دراصل ، ایران اور سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ بات چیت کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔امریکہ سے بات چیت کے لئے ایران کا نمائندہ وفد اسی جہاز میں پہنچاجس پر مناب 168 لکھا تھا ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بیلجیم کے خلاف میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اترے ایران کے فٹبال کھلاڑیوں کی جرسی پر مناب 168 لکھاتھا ۔حملے میں ماری گئیں بچیوں کے احترام میں ایران دنیا کو ان کا پیغام دینے کی کوشش کررہا ہے کہ لڑائی کے پہلے دن ہی جس طرح امریکہ اسرائیل نے انسانیت کی ساری حدیں پارکرتے ہوئے بے قصور مناب اسکول کی بچیوں کو مارڈالا اور حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں ان کے احترام میں اورا نہیں انصاف دلانے کے لئے مناب 168 کمپین چلائی جارہی ہے ۔آئی آر جی سی کے مبینہ ٹھکانہ پر حملے کی آڑ میں میزائل گرائی گئی تھی ، لیکن میزائل گراتے وقت یہ بھی نہیں دیکھا گیا میزائل ایک بچوں کے اسکول پر جاگری ۔امریکہ اس سے انکار کرتا رہا پہلے تو اس نے کہنا شروع کردیا کہ یہ میزائل خودا یران نے غلطی سے مار دی ۔لیکن پھر امریکی میڈیا نے اس کا پردہ فاش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ میزائل امریکی میزائل لانچر سے چھوڑی گئی تھی جو بحرین ایئر بیس سے لانچ ہوئی تھی ۔ایران نےجوابی کاروائی کرتےہوئے بحرین کے اس امریکی بیس کو نشانہ بنایا ۔اور تباہ کیا ۔ایرانی نمائندہ وفد پر پہلے رائٹ میں اسلام آباد پہنچنا تھا تو جس جہاز میں وہ آئے تھے اس کی کرسیوں پر شہید ہوئی بچیوں کے اسکو ل بیگ ،کتابیں ،کھانے کے ٹفن وغیرہ رکھے تھے تاکہ ساری دنیا ہوئے اس ظلم کو دیکھ سکے ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر اور اسرائیل کے مظالم کی داستان سنے اوردیکھے ۔یہ دونوں دیش اپنے فائدے کے لئے کس حد تک جاسکتے ہیں ۔اس لئے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں امریکی شہر لاس انجلس نے ایران اور بیلجیئم کے بیچ ہوئے میچ کے دوران کئی ایرانی سامعین نے مناب و حملے کے مارے گئے بچیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والی تصویریں اورجرسی لہرائیں ۔ایران کے کھلاڑی مناب 168 اسٹیکروالی جرسی پہنے نظر آئے ۔ایک حمایتی نے ایک اسٹیکر دکھایا جس پر ایک اسکولی بیگ بنا تھا اور اس پر 168 لکھا تھا ۔ہیرائٹ اینجل گئے مینا ب اسکول کے 168 بچوں کی یاد رکھیں ۔بتادیں کہ بھارت میں اپریل میں ہوئی برکس سمٹ میں بھی ایران مناب 168 لکھے جہاز میں بھارت آیا تھا ۔امریکہ سے امن بات چیت کے لئے پاکستان کے دورہ سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر واقر غالیباف نے ایران کے میناب کا اشارہ دیتے ہوئے ایکس پر تصویریں شیئر کیں ۔جس میں مناب حملے میں ماری گئیں اسکولی بچیوں کی ہوائی جہاز کی سیٹوں پر فوٹو چپکی ہوئی تھی ۔اور وہ ان کے سامنے کھڑے ہو کر مانو کہہ رہی ہوں اس فلائٹ میں میرے ساتھی مسافر ہیں ۔
(انل نریندر)

23 جون 2026

شانتی و امن کا دشمن :نیتن یاہو

جب بھی پچھلے 80 برسوں کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں دو ناموں کا خاص تذکرہ ہوگا جب بھی انسانیت کے قتل عام کا ذکر آئے گا اس میں پہلا نام جرمنی کے تاناشاہ ڈولف ہٹلر کا ہوگا اور دوسرا نام اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا ہوگا ۔نتین یاہو اس صدی کے نمبر 1 ولن بن کر ابھرے ہیں ۔جب بھی مشرق وسطیٰ میں امن کی بات ہوتی ہے تو اس میں نیتن یاہو کوئی نہ کوئی اڑنگا لگا دیتے ہیں۔ آپ تازہ مثال ہی دیکھ لیں امریکہ اور ایران کے بیچ امن بات چیت چل رہی ہے ۔ایم او یو پر بھی دستخط ہوگئے ہیں لیکن نیتن یاہو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور اب تو وہ کھل کر اپنے اکلوتے دوست دیش امریکہ کو بھی کھل کر گالیاں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ تم پاگل ہو چکے ہو اور میں اگر تمہیں نہ بچاتا تو آج تم جیل میں ہوتے ۔نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی کابینہ کے وزراء کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طاقتور ساتھی پر حملہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ امریکہ کے علاوہ اس کے ساتھ آج کوئی نہیں ہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شخصی تنقیدوں سے پریشان ہیں۔انہوں نے ٹرمپ کو پوری دنیا میں اسرائیل کے تئیں ہمدردی رکھنے والے ایک واحد سربراہ مملکت ہے ۔انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے ۔آخر نیتن یاہو کیوں کسی بھی امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے نیتن یاہو کے سیاسی وجود اور سروائیول اہم وجہ ہیں ۔نیتن یاہو اپنی گدی محفوظ رکھنے کے لئے کبھی غزہ پر حملے کررہے ہیں کبھی لبنان پر تو کبھی ایران پر ۔ان کے اس برتا ؤ پر ٹرمپ سختی سے بولتے بھی نہیں اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ،۔ایپسٹین فائل ! دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے پاس وہ بدنام بلیک میل کرنے والی ایپسٹین فائل ہے جس میں ٹرمپ سمیت درجنوں سربراہ مملکت پھنسے ہوئے ہیں ۔یہ بات ٹرمپ سمجھتے ہیںتبھی تو اسرائیل کو روک نہیں پارہے ہیں ۔نیتن یاہو کی ایک مجبوری ہے وہ ہے ان کے خلاف چل رہے کرپشن کے کیس۔ نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ اور دیوانی مقدموں کے ساتھ باقاعدہ عدالتی کاروائی چل رہی ہے ۔نیتن یاہو نے اسے آگے بڑھنے سے یہ کہہ کر روک رکھا ہے کہ اسرائیل اس وقت جنگ لڑرہا ہے اور یہ پہلی ترجیح ہے اس لئے اسے فی الحال ٹالاجائے ۔نیتن یاہو اس سے اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے باقاعدہ اسرائیل کے صدر سے گزارش کی تھی کہ نیتن یاہو کے خلاف کیسوں کو ختم کردیں ، وہ معافی دے دیں لیکن اسرائیلی صدر نہیں مانے ۔ان مقدموں سے بچنے کے لئے اور امکانی جیل کی سزا سے بھی بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں لڑائی جار ی رکھتے ہیں اب جب امریکہ ایران امن بات چیت جینیوا میں چل رہی ہے اور ایم او یو پر آگے مذاکرات جاری ہیں نتین یاہو نے اس میں بھانجی مارنے کے لئے لبنان پر جنگ چھیڑ دی ہے ۔نیتن یاہو کی تو اب اسرائیل کے اندر بھی مخالف شروع ہو گئی ہے ۔اسی سال کے آخر میںاسرائیل میں عام چناؤ ہونے ہیں جس میں نیتن یاہو کی سرکار جاسکتی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو پر پچھلے کئی برسوں سے رشوت خوری ،جعلسازی ،بے اعتمادی کے سنگین الزام لگے ہیں ۔اسرائیل کی تاریخ میں نیتن یاہو پہلے ایسے وزیراعظم ہیں جو عہدے پر رہتے ہوئے عدالتی کاروائی کا سامنا کررہے ہیں ۔فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ لڑائی زوروں پر تھی ۔اسرائیل ،امریکہ ایئر اسٹرائک کے بعد نیتن یاہو نے دیش میں ایمرجنسی لگا دی تھی اس دوران سیکورٹی وجوہات سے عدالتی کاروائی کو بھی ٹال دیا گیا تھا ۔اور یہ اب بھی ٹالی جارہی ہے ۔جب تک اسرائیل کسی سے لڑائی بند نہیں کرتا نیتن یاہو اسی بہانے عدالتی کاروائی ٹالتے رہیں گے جیسے میں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی صدر ہائجیک ہرگوس سے نیتن یاہو کو معافی دینے کی وکالت کی تھی ۔ ہرگوس نے صاف کیا کہ اسرائیل ایک قانون سے چلنے والامتحدہ ملک ہے او ر وہ بغیر کسی بھاری دباؤ کے اپنے جوڈیشیل فیصلے خود لے گا ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے قتل کی سازش!

اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایسی نئی معلومات دینے کا دعویٰ کیا ہے ، جس میں ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام لگ...