Translater

30 جنوری 2016

کوڑے کا پہاڑبنتی ہماری دہلی

راجدھانی دہلی میں کیجریوال سرکاراور دہلی میونسپل کارپوریشن میں رسہ کشی کے درمیان دہلی کوڑے کا پہاڑ بنتی جارہی ہے۔ جمعرات کو قریب ڈیڑھ لاکھ صفائی ملازمین ہڑتال پر رہے۔ اس سے نہ تو اسکولوں میں پڑھائی ہو پا رہی ہے اور نہ سڑکوں پر صفائی۔ اب ایم سی ڈی ملازمین نے دہلی سرکار کے وزرا کے گھروں کے سامنے کوڑا ڈالنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس کی ابتدا جمعرات کو دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے گھر کے باہر کوڑا پھینک کر کی۔ منیش سسودیا ، اروند کیجریوال ہائے ہائے کے نعرے ، بچے مر گئے ہائے ہائے کے نعرے بھی لگائے۔ مودی ۔ بی جے پی ہائے ہائے کے نعرے بھی لگے۔ صفائی کرمچاری، نرس و ٹیچر تنخواہیں نہ ملنے پر ہڑتال پر ہیں۔بڑھتی گندگی کو لیکر دہلی ہائی کورٹ میں بدھوار کو بیحد سخت رخ اختیار کرتے ہوئے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کو پھٹکار لگا کر پوچھا کہ کیا وہ دہلی کو کوڑے کا پہاڑ بنانا چاہتے ہیں؟ ہائی کورٹ نے یہ سخت ریمارکس دہلی میں کوڑا نپٹانے کے لئے لینڈ فل سائٹوں کے انتظام پربھی کی۔ عدالت نے کہا طے پیمانوں کے مطابق لینڈفل سائٹوں کی زیادہ اونچائی 70فٹ سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے جبکہ موجودہ وقت میں جہاں کوڑا اکٹھا کیا جارہا ہے ان جگہوں کی اونچائی 150 سے170 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ تنخواہ نہ ملنے سے تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے صفائی ملازمین کی ہڑتال پر بھی ہائی کورٹ نے سخت موقف اپنایا۔ اس معاملے میں مرکز اور دہلی سرکار کے علاوہ تینوں کارپوریشنوں کو نوٹس جاری کیا۔ صفائی ملازمین کی ہڑتال پر عدالت نے پوچھا کہ دہلی سرکار اس بات کا جواب دے کہ ’سوچ بھارت‘ مہم کے تحت مرکز سے ملا پیسہ کہا گیا؟ ہائی کورٹ نے کہا صفائی کے نام پر جب لوگوں سے ٹیکس وصولہ جارہا ہے تو دہلی کو صاف کیوں نہیں رکھا جارہا ہے۔عدالت نے کارپوریشن کے ملازمین کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ صفائی نہ ہونے پر کوئی بہانا نہیں چلے گا۔ دراصل دہلی کی عام آدمی حکومت و مرکز کے درمیان آپسی لڑائی کا خمیازہ دہلی کے باشندے بھگت رہے ہیں۔ صفائی ملازمین کی مانگ ہے کہ انہیں تنخواہ کی ادائیگی مہینے کی پہلی تاریخ کو 2003 ء سے ایریئر نہیں دیا گیا، اس کی فوراً ادائیگی ہو۔ اقتصادی بدحالی کو دور کرنے کے لئے تینوں کارپوریشنوں کو ایک کیا جائے۔ دہلی سرکار اور دہلی میونسپل کارپوریشن کے ٹکراؤ میں پچھلے چار مہینے سے تنخواہ کے لئے بری طرح پس رہے کارپوریشن ملازمین نے اب انتظامیہ سے آر پار کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ادھر دہلی سرکار دعوی کررہی ہے کہ ایم سی ڈی کو پوری رقم دی جاچکی ہے۔ اپنا مالی حساب کتاب نہیں دے رہی ہیں۔ تینوں میونسپل کارپوریشن کا 1576 کروڑ روپے ڈی ڈی اے پر پراپرٹی ٹیکس کی شکل میں بقایا ہے اسے کیوں نہیں وصولہ جارہا ہے؟ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے باوجود اروند کیجریوال سرکار کارپوریشنوں کو تیسرے مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق 3 ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کیوں نہیں کررہی ہے؟ پردیش کانگریس کی چیف ترجمان شرمشٹھا مکرجی نے کہا کہ دہلی سرکار اپنی پبلسٹی اور ممبران اسمبلی کی تنخواہ بڑھانے پر تو خرچ کررہی ہے لیکن کارپوریشنوں کو فنڈ نہیں دے رہی ہے۔ اسی طرح سے مرکزی سرکار نے ’سوچ بھارت مہم‘‘ اور’ یوگ دوس‘ پر کروڑوں روپے خرچ کردئے لیکن کارپوریشنوں کو مالی بحران سے نکالنے پر کوئی توجہ نہیں دی۔دہل میونسپل کارپوریشن کے مالی بحران سے لیکر تنخواہ کی دقت کی بنیادی وجہ کارپوریشن کا بٹوارہ ہونا تھا۔ سرکار سے الاٹمنٹ و آمدنی تو جوں کے توں رہی لیکن کارپوریشن کے بٹوارے کے بعد ایک ایم سی ڈی کے 105 محکمے بن گئے ہیں۔ ایک محکمے میں 30 کمیٹیوں کی جگہ90 کمیٹیاں بن گئی ہیں۔ ایم سی ڈی کے تین کمشنر ، ایک درجن سے زائد ایڈیشنل کمشنر، تین میئر ، تین ڈپٹی میئر اور تین لیڈر آف دی ہاؤس اور تین اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور پھر تین وائس چیئرمین کے ساتھ 272 وارڈوں اور کارپوریشنوں کے کونسلر بھی بن گئے۔ تینوں کی ایم سی ڈی میں 75 محکموں کے شعبہ جاتی صدور سے لیکر افسران و ملازمین کی تنخواہ کا بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ کارپوریشن کے بٹوارے کے بعد ماہانہ 500 کروڑ روپے خرچ ہونے لگا ہے۔ یونیفائڈ ایم سی ڈی کا بجٹ 6699 کروڑ کا ہوتا تھا وہیں تینوں کو اپنا بڑھا خرچ چلانے کے لئے 2016-17 میں مجوزہ بجٹ 14347.31 کروڑ روپے رکھنا پڑا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس پورے مسئلے کو کیسے سلجھایا جائے۔
(انل نریندر)

آخر ہم کیوں نہیں سمجھ پاتے پاکستان کی فطرت

پاکستان سے پتہ نہیں کیوں بھارت کے حکمراں اس بات کی امید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے اشو پر وہ بھارت سے تعاون کریں گے؟ بار بار پاکستان کی طرف سے منفی برتاؤ ہی سامنے آتا ہے۔ ہم بار بار اس بات پر زور ڈالتے ہیں کہ پٹھانکوٹ۔ ممبئی حملوں کے قصوروار پر سخت کارروائی ہو اور پاکستان ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے ان کو ٹال دیتا ہے۔تازہ مثال ہے پاکستان کی ایک عدالت نے اس عرضی کو مسترد کردیا جس میں ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ زکی الرحمان لکھوی اور دیگر مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے مانگے گئے تھے۔ اس سے 26/11 حملوں کی سماعت کو جھٹکا لگا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ سال 2008ء میں ہوئے ممبئی حملے کو لیکر ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں نے مشتبہ اور دہشت گردوں کے درمیان بات چیت ریکارڈ کی تھی۔ اس میں مشتبہ آقا دہشت گردوں کو ہدایت دے رہے ہیں۔ سرکاری فریق اس کی تصدیق کے لئے مشتبہ افراد کی آواز کا سیمپل لینا چاہتا تھا تاکہ اسے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکے۔ عدالت کی دلیل تھی کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو ملزمان کی آواز کے سیمپل لینے کی اجازت دے۔وزیر خارجہ سشما سوراج پچھلے مہینے پاکستان گئیں تھیں، تب پاکستان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ26/11 ممبئی حملے کے مقدمے کا نتیجہ جلد نکلے اس کے لئے قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ بھارت قدم اٹھائے جانے کی لگاتار مانگ کرتا آرہا ہے۔ تازہ خبر راجستھان کے باڑھ میر علاقے سے آئی ہے پاکستان نے اب ایک نیا سلسلہ غباروں کا شروع کیا ہے۔ راجستھان کے باڑھ میر میں جس غبارے کو انڈین ایئرفورس کے جنگی جہازوں نے منگلوار کو مار گرایا تھا وہ پاکستان سے آیا تھا۔ امریکہ میں بنے تین میٹر دائرے والے اس غبارے پر ہیپی برتھ ڈے لکھا تھا جو 25 ہزار فٹ کی اونچائی پر اڑ رہا تھا۔ ممکن ہے کہ پاکستان نے ٹرائل کی شکل میں یہ بیلون حملے کی اسکیم بنائی ہو اور بھارت کو چکمہ دینے کے لئے برتھ ڈے بیلون بھیجا ہو۔ بھارت پٹھانکوٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے چیف مولانا مسعود اظہر اور 26/11 کے ماسٹر مائنڈ جماعت الدعوی کے چیف حافظ سعید پر سخت کارروائی کا مانگ کرتا رہا ہے۔ کارروائی کرنا تو دور رہا حافظ پاک میں پھل پھول رہا ہے اور کھلے عام بھارت کو دھمکا رہا ہے۔ لاہور میں جماعت الدعوی کے ہیڈ کوارٹر میں کچھ دن پہلے ایک مجلس میں حافظ سعید نے بھارت پر نیوکلیائی حملے تک کی دھمکی دے دی۔ ہم دوستی کا ہاتھ جب بھی بڑھاتے ہیں پاکستان کو یہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہمیں تازہ حملہ کر کے کرارا جواب دیتے ہیں۔ پھر بھی نہ ہی ہم انہیں سمجھتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی فطرت کو۔
(انل نریندر)

29 جنوری 2016

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کا کامیاب دورۂ بھارت

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا سہ روزہ بھارت دورہ کامیاب رہا۔ یوم جمہوریہ پر مہمانی خصوصی کی حیثیت سے جہاں یوم جمہوریہ پریڈ کو دیکھ کر لطف اٹھایاوہیں انہیں ہندوستان کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ لگا۔ پیرس حملے کے بعد اولاند کے اس دورہ کی خاص اہمیت تھی۔ اس بار تو باقاعدہ فرانس کی ایک فوجی ٹکری نے بھی راج پتھ پر پریڈ میں حصہ لیا اور فرانسیسی بینڈ نے بھی پریڈ میں شرکت کی۔ فرانس کے صدر کا یہ دورہ کئی سیکٹرز میں اہم رہا۔ فرانسوا اولاند نے دہشت گردی کے مسئلے پر مودی حکومت کے موقف کی پر زور حمایت کی۔ اسی ماہ کے شروع میں پٹھانکوٹ ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کے تار پاکستان سے وابستہ ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اولاند نے کہا فرانس پٹھانکوٹ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو سخت سندیش دیتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے بھارت کی طرف سے اٹھائے گئے قدم پوری طرح سے جائز ہیں، دلائل پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا بھارت اور فرانس پر ایک ہی طرح کا خطرہ ہے ہتیارے حملہ کرتے ہیں، لیکن وہ ایسی حرکت کے لئے مذہبی آڑ لیتے ہیں۔ ان کا اصلی مقصد نفرت پھیلانا ہے۔ اولاند نے کہا کہ ان کے دورہ کے دو مقصد ہیں۔ فرانس 1998ء میں بھارت کے ساتھ اپنی سانجھے داری میں تبدیلی چاہتا تھا مگر یہ اب ممکن ہوپایا ہے۔ دونوں دیش بڑی جمہوریت ہیں اس لئے سانجھے داری کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ دونوں دیش توانائی میں دنیا میں اونچے مقام پر ہوسکتے ہیں۔ بھارت اپنی توانائی کی 40 فیصدی ضرورتیں اپنے ذرائع سے ہی پوری کرے۔ فرانس اس سیکٹر میں اپنی ٹکنالوجی بھارت سے شیئر کرنا چاہتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا میں ایک سال میں پانچ بار اولاند سے ملا ہوں اور الگ الگ اسٹیج پر ہوئی ان ملاقاتوں میں کئی اشوز پر بات ہوئی۔ ہماری 125 کروڑ کی آبادی ہے، 2022ء تک 50 لاکھ غریب لوگوں کو گھر دینا ہے۔ ان کاموں میں فرانس ہماری بڑی مدد کرسکتا ہے کیونکہ وہ ٹکنالوجی میں ماہر ہے۔ بھارت کے چیمبرس آف انڈسٹریز (فکی) کے ذریعے منعقدہ ہند۔ فرانس تجارت سیشن میں فرانس کے وزیر مالیات و پبلک اکاؤنٹس مائیکل ساون نے کہا کہ فرانسیسی کمپنیوں نے بھارت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں یہ کمپنیاں 10 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کریں گی۔ ساون نے کہا کہ بھارت میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ فرانس تیسرا بڑا غیر ملکی سرمایہ کار دیش بن گیا ہے۔ یہاں400 سے زیادہ فرانسیسی کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ جن کا مشترکہ کاروبار 20 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ایک انتہائی اہم اشو تھا فرانس کے جنگی رافیل جہازوں کا۔ یہ خوشی کی بات ہے 25 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی اور فرانسیسی صدر اولاند کے درمیان قیمت کو چھوڑ کر جہازوں کی خرید پر رضامندی بن گئی ہے۔ ابھی قیمتوں پر تھوڑا اختلاف ضرور ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یوپی اے عہد کے ٹنڈر کے مطابق 36 رافیل جنگی جہازوں کی قیمت قریب 66 ہزار کروڑ ہوتی ہے اس میں قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے دام کو ذہن میں رکھا گیا ہے۔ بھارت کی مانگ پر جہاز میں تبدیلی پر ہوئے خرچ بھی اس میں شامل ہیں۔بھارت کی کوشش ہے کہ قیمت گھٹا کر قریب59 ہزار کروڑ کی جائے۔ اس معاملے میں ایک دوسرا اشو ایڈوانس ادائیگی کا بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق کم سے کم 50 فیصدی ایڈوانس رقم دینی ہوگی۔ اس میں 15 فیصدی فوری ادا کرنا ہوگا۔ ابتدا میں فرانس کچھ شرائط کو ماننے پر راضی نہیں تھا لیکن وزیر اعظم مودی نے کافی حد تک رکاوٹیں دور کرلی ہیں۔ کل ملا کر فرانسیسی صدر کا سہ روزہ دورۂ بھارت کامیاب رہا۔
(انل نریندر)

اوبامہ کی پاکستان کو کھری کھری

امریکی صدر براک اوبامہ نے ایک بار پھر دہشت گردی کے مسئلے پر پاکستان کو کھری کھری سنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے پاکستان اپنی سرزمیں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کرسکتا ہے اور ایسا کرنا چاہئے۔ ایک انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنی زمین سے چل رہے آتنکی نیٹ ورک کو ناجائز قرار دینے کے ساتھ ہی ان کو پوری طرح تباہ کردینا چاہئے۔ پٹھانکوٹ حملے کے بعد جہاں صدر اوبامہ کی صلاح و وارننگ کا سوال ہے بھارت کے لئے لائق خیر مقدم ہے۔ اوبامہ نے یہ ٹھیک کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کو یہ دکھانے کا موقعہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کو لیکر سنجیدہ ہے۔ پٹھان ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کو بھارت کی طرف سے طویل عرصے سے جھیلے جارہے ہیں۔گھناؤنی دہشت گردی کی ایک اور مثال قرار دیتے ہوئے ابامہ نے پاک وزیر اعظم نواز شریف سے ملنے کے لئے بھی پی ایم مودی کی تعریف کی۔ جیسا میں نے کہا کہ اوبامہ نے پاکستان کو نصیحت کے ساتھ ہدایت دیتے ہوئے جوکہا اسے اپنے یہاں ہر طرح کے آتنکی نیٹ ورک کو تباہ کردینا چاہئے، وہ لائق خیر مقدم ہے، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکہ دوہری باتیں کرتا ہے اور اس پر کسی طرح کا یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایک طرف نکتہ چینی کرتا ہے دوسری طرف پاکستان کو ایف۔16 جنگی جہاز دینے کی بات ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ بھارت کے خلاف استعمال ہونے والے ہیں اربوں ڈالر کی مدد کرتا ہے تاکہ پاکستان میں جہادی تنظیمیں اور مضبوط ہوں۔ امریکہ کی مجبوری بھی ہم سمجھ سکتے ہیں۔ انہیں ہر حال میں افغانستان سے بھاگنا ہے اور ایسا کرنے کے لئے انہیں پاکستانی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ امریکہ ایک اور دہشت گردی کے خلاف مہم کی قیادت بھی کررہا ہے۔ دوسری طرف دونوں دیشوں کے تئیں براہ راست کارروائی کرنے سے بھی بچ رہا ہے جو اس بہانے دہشت گردی کا درپردہ طور سے حمایت کرنے میں لگے ہیں۔ اگر ہم صدر اوبامہ کے تبصرے اور بھارت آئے یوم جمہوریہ کے مہمان خصوصی فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کے بیان کو بھی جوڑ لیں جس میں انہوں نے پٹھانکوٹ حملے کے سلسلے میں پاکستان سے جواب طلب کرنے کی ہماری پالیسی کو صحیح ٹھہرایا ہے ، تو اتنا تو صاف ہی ہوجاتا ہے کہ دنیا کے بڑے دیش ہمارے پڑوسی کو دہشت گردی کا اسپانسر مانتے ہیں۔ یہ مایوس کن ہی ہے کہ جب امریکی صدر اپنے عہدکے آخری دور میں ہیں تب بھی وہ پاکستان کے معاملے میں دوہری باتیں کرکے بھارت کو کوری تسلی دینے کا کام کررہے ہیں۔ مناسب تو یہ ہوگا کہ پاکستان کے سلسلے میں اوبامہ اپنے قول اور فعل ایک کریں تاکہ دہشت گردی سے صحیح ڈھنگ سے لڑا جاسکے۔
(انل نریندر)

28 جنوری 2016

بھاجپا پردھان امت شاہ کیلئے کانٹوں بھری راہ

وزیر اعظم نریندر مودی کے بھروسے مند امت شاہ کو ایتوار کے روز دوبارہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا صدر چن لیا گیا۔ جیسے امیدتھی ان کا انتخاب بلا مقابلہ ہوا۔ حالانکہ امت شاہ کے مقابلے صدر کے عہدے کی دعویداری کیلئے کسی اور لیڈر نے اپنا پرچا داخل نہیں کیا لیکن شاہ کے طریق�ۂ کار سے پہلے ہی ناخوش بھاجپا کے بزرگ لیڈروں نے ان کے چناؤ پروگرام کا بائیکاٹ کر اپنا احتجاج ایک طرح سے جتادیا ہے۔ شاہ کو دوبارہ بی جے پی کی کمان سونپنے کے پیچھے کیا ان کی قابلیت تھی یا پھر نریندر مودیسے قریبی وابستگی؟ حالانکہ مودی۔ شاہ خیمے کا ماننا ہے کہ شاہ کے سیاسی ٹیلنٹ اور ان کی تنظیمی خوبیوں کی بدولت ہی انہیں پارٹی صدر کی دوبارہ سے کمان ملی ہے۔ امت شاہ مئی 2014 میں اس وقت بھاجپا کے پردھان بنے تھے جب اس وقت کے پارٹی صدر راجناتھ سنگھ سرکار میں شامل ہوگئے تھے۔ 51 سالہ امت شاہ کی نئی میعاد 3 سال کی ہوگی۔ بھلے ہی نریندر مودی کے بھروسے کی بدولت بی جے پی کی کمان ایک بار پھر ملی ہو لیکن ان کے لئے مستقبل کی راہ نہ صرف چیلنج بھری ہے بلکہ آسان بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ شاہ اور مودی سرکار دونوں کی پرفارمینس کا اثر پارٹی کے مستقبل پر سیدھا پڑے گا۔ اس سال جن پانچ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام راجیہ میں چناؤ ہونے ہیں ان میں آسام کو چھوڑ کر باقی ریاستوں میں بھاجپا کو زیادہ بڑی امید نہیں ہے۔ ایسے میں شاہ کے لئے پہلی چنوتی آسام کی ہے جہاں سے بھاجپا نیتاؤں نے امید باندھی ہوئی ہے اور مسلسل دعوے کئے جارہے ہیں کہ اگلے سال بھی بھاجپا کی راہ آسان نہیں ہونے والی ہے کیونکہ اگلے سال 7 ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی چنوتی اترپردیش میں ہوگی۔ شاہ کو بھاجپا کے سپریم عہدے پر لانے اور ان کی انتظامی صلاحیت پر پہلی مہر اترپردیش نے ہی پچھلے لوک سبھا چناؤ میں لگائی تھی۔اب شاہ پر اترپردیش کو لیکر زیادہ دباؤ رہے گا کیونکہ دہلی بہار کے نتیجوں نے مخالفین کو شاہ کی حکمت عملی و چناؤ انتظام پر سوال کھڑے کرنے کا موقعہ دیدیا ہے۔ ابھی تک تو بھاجپا مرکز میں سرکار بننے کی خوشی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی شخصی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتی رہی ہے لیکن جہاں ایک طرف مودی کی مقبولیت کا گراف گر رہا ہے وہیں سرکار کی کارگزاری پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ مرکزی سرکار مسلسل نئی اسکیموں کا اعلان کررہی ہے۔ ترقی کے دعوؤں کی گونج ہے، وزیر اعظم غیر ملکی دوروں کے ذریعے روز روز نئی دوستی کے نئے باب کھول رہے ہیں مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام لوگوں میں سرکار کے کام کاج کو لیکر کوئی جوش نہیں ہے۔اچھے دنوں کی امید مدھم پڑ گئی ہے۔ اس سال پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں ان میں کیرل، تاملناڈو جیسی ریاستوں میں بھاجپا کی طاقت صرف اپنے دم خم پر مقابلے میں رہنے کی نہیں لگتی۔ شاہ کے سامنے ایک چنوتی یہ بھی ہوگی کہ ایسی ریاستوں میں ساتھیوں کی تلاش کرنا۔ قریب سال بھر بعد اترپردیش اسمبلی چناؤ ہوگا۔ شاہ کی اگنی پریکشا اسی سے اگلے لوک سبھا چناؤ کے رجحان سے طے ہوگی۔بھاجپا اور آر ایس ایس میں تال میل بنائے رکھنا بھی پارٹی اور سرکار کیلئے ضروری ہوگی۔ پارٹی کے اندر بھی ناراضگی ہے ۔ بھاجپا پر جب کبھی سنگھ حاوی ہوتا ہے تو کچھ نیتا اسے و ورکروں میں ناراضگی کا رویہ دیکھنے کو ملا ہے۔ جس نیتا کے منہ میں جو آتا ہے بیان دے ڈالتا ہے اس کا مضر اثر سرکار اور پارٹی کے لئے کچھ بھی ہو۔ اگر اس پر کنٹرول نہیں ہوا تو پارٹی اور سرکار دونوں مشکل میں پڑتی رہیں گی۔ دہلی بہار کی سب سے کراری ہار کے بعد بھی امت شاہ کو پارٹی صدر کے عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ شاہ پی ایم کے سب سے بھروسے مند ہیں اور آر ایس ایس نہیں چاہتا کہ پارٹی صدر بدلنے کے بعد سرکار اور تنظیم میں کوئی فرق دکھائی دے۔ امت شاہ کو بدھائی۔
(انل نریندر)

فائلیں عام ہونے کے بعد بھی نہیں سلجھی نیتا جی کی موت کی گتھی

نیتا جی سبھاش چندر بوس کی 119 میں جینتی پر ان سے جڑی100 خفیہ فائلوں کو سنیچر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے عام کردیا۔ یہ قدم لائق خیر مقدم ہے۔ ایسی اور بھی فائلیں ہیں جن میں سے 25 فائلیں ہرمہینے نیشنل آرکائز ڈیجیٹل شکل میں جاری کرے گی۔ ان فائلوں کے عام ہونے کے باوجود نیتا جی کی موت کی گتھی سے پردہ نہیں اٹھ سکا۔ کہا تو یہ جارہا ہے کہ 18 اگست1945ء تائیپے (تائیوان) میں جاپان کی فوج کے ایک بمبار جہاز سائیگون (ویتنام) ایئر اسٹرپ سے اڑان بھرنے کے20 منٹ بعد ہی تباہ ہوگیا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس اس میں سوار تھے۔ مرکزی سرکار نے اس واقعہ کے تقریباً70 برس بعد نیتا جی سے جڑی 100 فائلیں جنتا کے سامنے رکھی ہیں۔ ان فائلوں کے سامنے آنے سے اب زیادہ شبہ نہیں رہ گیا کہ آزادی کے تقریباً 40 برسوں تک کانگریس کی مختلف سرکاروں نے نیتا جی سے وابستہ معاملے کو دبانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سوال یہ ہے کہ ان فائلوں کو عام نہ کرکے اتنے برسوں تک معمے سے پردہ نہ اٹھنے دینے کی جوابدہی کس کی ہے؟ آخر اپنے عظیم ہیرو کے بارے میں سچ کونسا دیش نہیں جاننا چاہے گا؟ ممکن ہے اس خفگی سے اور نیتا جی کے خاندان پرخفیہ نظر رکھنے سے بھی نیتا جی کے بارے میں معمے کو طول دینے میں مدد ملی ہے۔ ان کے بارے میں یہ سچائیاں پہلے بھی باہر آسکتی تھیں لیکن مودی سرکار نے انہیں پبلک کرنے کا ہمت بھرا فیصلہ کیا۔ لیکن ہم اب بھی امید کرتے ہیں نیتا جی کے پراسرار طریقے سے لاپتہ ہونے کی گتھی سلجھانے میں کچھ تو مدد ملے گی۔ حالانکہ سرکار کے اس قدم کے سیاسی معنی نکالے جارہے ہیں۔ مغربی بنگال میں مئی کے آس پاس اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ نیتا جی کا درجہ یگ پرش جیسا ہے۔ پچھلے سال ستمبر میں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نیتا جی سے جڑی 64 فائلوں کو پبلک کرکے ماسٹر اسٹاک کھیلا تھا تب اکتوبر میں مودی نے 100 فائلوں کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ سنیچر کو مودی نے فائلیں عام کرکے ایک طرح سے ممتا کو جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس معاملے کو لیکر سرکار نے تین جانچ کمیشن بھی بنائے تھے ان میں سے دو کا ماننا تھا کہطیارہ حادثے میں ہی نیتا جی کی موت ہوئی تھی جبکہ تیسرے مکھرجی کمیشن کا کہنا تھا نیتا جی طیارہ حادثے کے بعد زندہ تھے۔ اس بارے میں نیتا جی کے رشتے داروں کی رائے بھی الگ الگ ہے۔ جرمنی میں مقیم نیتا جی کی بیٹی انیتا بوس طیارہ حادثے کو سچ مانتی تھی جبکہ نیتا جی کے پڑپوتے چندر بوس نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کہ نیتا جی کی اہلیہ کو کبھی اس جھوٹی کہانی میں یقین نہیں رہا۔ کیا نیتا جی عرفگمنامی بابا روس چلے گئے تھے؟ 18 اگست 1945ء کو تائیپے میں ہوئے طیارہ حادثے میں نیتا جی بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور ہسپتال میں انہوں نے دم توڑدیا تھا۔ ایک دوسری تھیوری یہ بھی ہے کہ دیش کی آزادی کی لڑائی جاری رکھنے کے لئے نیتا جی سابق سوویت یونین (روس) چلے گئے تھے جہاں بعد میں ان کو قتل کردیا گیا۔ تیسری تھیوری نیتا جی بیرون ملک سے چپ چاپ بھارت لوٹ آئے اور اترپردیش کے فیض آباد میں 1985ء تک گمنامی بابا کے طور پر رہے، ہزاروں صفحات پر مبنی دستاویزات کی پڑتال میں وقت لگے گا لیکن نیتا جی کی موت کے مبینہ معمے کو سلجھانے کی جو امید کی جارہی تھی وہ شاید اب بھی پوری نہ ہو۔ نیتا جی کے خاتمے کا معمہ برقرار ہے۔
(انل نریندر)

26 جنوری 2016

دہلی سرکار کے اعلان کا خیر مقدم ہے

ہیلتھ ایک ایسا سیکٹر ہے جو سب کو سیدھا متاثر کرتا ہے۔ ہر شہری کو اچھی ہیلتھ سروس ملے، سستی دوائیں ملیں یہ ہر سرکار کا فرض بھی ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ دہلی حکومت نے اس سمت میں ٹھوس قدم اٹھایا ہے۔غریبوں کو سرکاری ہسپتالوں میں سستی دوائیں ملیں، ڈاکٹر جو دوا چاہے وہ دستیاب ہو سرکار کی ترجیح یہ ہونا چاہئے ۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ دہلی سرکار کے سبھی اسپتالوں میں 1 فروری سے سبھی دوائیں مفت ملیں گی۔ ابھی ڈاکٹر جو دوا لکھتے ہیں اس کے نہ ملنے کی شکایتیں زیادہ آتی ہیں۔ 1 فروری سے ڈاکٹر جو دوا لکھیں گے وہ ہسپتال میں ہوں گی۔ ہسپتالوں میں ضرورت کی کچھ اور چیزیں بھی ہیں جو فری ہوں گی۔ ڈاکٹر مریضوں سے دستانے، پٹی یا دیگر سامان نہیں منگائیں گے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سرکاری ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور چیف میڈیکل افسروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد اخبار نویسوں سے کہا کہ ہسپتال اچھے، ڈاکٹر و ملازم اچھے ہیں لیکن سسٹم خراب ہے جسے ٹھیک کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1 فروری کو ایک ہیلپ لائن نمبر جاری کریں گے۔ اگر دوا نہیں ملے تو فوٹو کھینچ کر اس نمبر پرڈ النے کے لئے لوگوں سے کہا جائے گا۔ فوٹو ڈالنے پر وہ دوا وہاں دستیاب کرائی جائے گی۔ باہری رنگ روڈ پر منگولپوری سے مدھوبن چوک کے درمیان ایلیویٹڈ روڈ کا افتتاح کرتے ہوئے کچھ دن پہلے وزیر اعلی نے یہ بھی کہا تھا کہ دہلی سرکار کے ہسپتالوں میں یکم فروری سے عوام کا سٹی اسکین اور ایم آر آئی کی فیس نہیں دینی پڑے گی۔ وزیر اعلی نے کہا پی ڈبلیو ڈی محکمے نے تین پروجیکٹ کو وقت سے پہلے اور منظور شدہ بجٹ سے بھی کم میں پورا کیا ہے۔اس سے تقریباً 350 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ اس رقم کو عوام کی بھلائی کے لئے خرچ کیا جائے گا۔ دہلی سرکار کی ترجیح تعلیم اور ہیلتھ سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔ سرکاری پروجیکٹ میں بچنے والی رقم کا استعمال ان سہولیات کے لئے کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے کہا پی ڈبلیو ڈی کا نام آتے ہی اسے کرپشن کے اڈے کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔ دہلی کے پی ڈبلیوڈی نے اس خیال کو بدل دیا ہے۔ 300 کروڑ روپے میں تعمیر ہوئے منگولپوری سے مدھوبن چوک تک تقریباً3.9 کلو میٹر کا سگنل فری کوریڈوربنانے کیلئے 423 کروڑ روپے کا بجٹ منظور ہوا تھا جسے پی ڈبلیو ڈی نے 300 کروڑ میں ہی پورا کردیا۔ اس سے تقریباً123 کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔ ہم دہلی سرکار کے ذریعے 1 فروری سے سبھی ہسپتالوں میں مفت دوائیں اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تعلیم اور ہیلتھ دو ایسے سیکٹر ہیں جہاں چاہے مرکزی سرکار ہویا ریاستی حکومت ہو سبھی کو اس سمت میں توجہ دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

اوم شری ہنومنتے نمے :جے شری رام

ہمارے شاستروں میں لکھا ہوا ہے کہ اس دور میں سب سے زیادہ پوجا ہنومان جی اور ماتا کی ہوگی۔اس صدی کے آغاز سے ہی سائیں بابا کی پوجا بھی شروع ہوگئی ہے۔ ہنومان جی اور ماتا کے بھگت ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے ہمیں زیادہ تعجب نہیں ہوا جب اخباروں میں شائع ہوا کہ امریکی صدر براک اوبامہ کو بھی ہنومان جی طاقت دیتے ہیں۔ویسے یہ حیرت میں ڈالنے والی بات ہے کہ ہندوؤں کے عقیدت مند ہنومان دنیا کے سب سے طاقتور مرد اور امریکہ کے صدر براک اوبامہ کو بھی پریرنا دیتے ہیں۔ بھگوان ہنومان کی چھوٹی مورتی ان چنندہ چیزوں میں شامل ہے جنہیں اوبامہ ہمیشہ اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ وہ جب بھی تھکا ہوا یا مایوس محسوس کرتے ہیں تو انہیں ہنومان جی سے پریرنا ملتی ہے۔ براک اوبامہ نے ویڈیو بلاگنگ ویب سائٹ یو ٹیوب کو دئے گئے ایک انٹرویو میں یہ جانکاری دی ہے۔ یہ انٹرویو امریکہ میں ان کے کم عمر حمایتیوں و شہریوں کے لئے یوٹیوب نے جاری کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ہنومان جی کی چھوٹی مورتی کو وہ ہمیشہ اپنی جیب میں رکھتے ہیں جب انہیں پریرنا لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تب وہ مورتی نکال کر شردھا کے جذبے سے اسے دیکھتے ہیں۔ ایسی چیزیں ان کے لئے شخصی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں وہ مالا بھی شامل ہے جو وائٹ ہاؤس میں انہیں ملاقات کے دوران پوپ فرانسس نے دی تھی۔ اسی طرح بھگوان بودھ کی ایک مورتی ایک سنت نے دی تھی۔ اتھوپیا دورے کے وقت تحفے میں پوتر عیسائی مذہبی نشان کراس بھی انہی خاص چیزوں میں سے ایک ہے۔ اوبامہ نے کہا کہ وہ ان سبھی چیزوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب وہ تھکے ہوئے ہوتے ہیں تو وہ خود اعتمادی میں کمی محسوس کرتے ہیں تب ان کا ہاتھ خود بخود جیب کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ خود کو پہلے کی طرح پراعتماد اور کام کرنے کیلئے با ہمت پاتے ہیں۔ اوبامہ نے کہا کہ میں ہمیشہ انہیں اپنے پاس رکھتا ہوں۔ میں اتنا اندھ وشواسی نہیں ہوں، اس لئے ایسا نہیں کہ مجھے لگے کہ یہ ضروری ہے میں انہیں اپنے پاس رکھوں ہی رکھوں لیکن انہوں نے کہا یہ چیزیں انہیں صدارتی عہدے تک پہنچانے میں ان کے لمبے سفر کی یاد دلاتی ہیں۔ امریکی صدر نے کہا اگر مجھے تھکاوٹ ہو یا خود اعتمادی میں کمی محسوس ہو تو میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر کہہ سکتا ہوں کہ میں اس چیز سے پار پا لوں گا کیونکہ کسی نے مجھے ان اشوز پر کام کرنے کا مخصوص اختیار دیا ہے جو انہیں متاثر کرنے والا ہے۔ بتادیں کہ براک اوبامہ کے والد بنیادی طور پر کینیا کے مسلمان تھے۔ ان کی ماں امریکہ میں عیسائی برادری سے تھیں۔ اوبامہ کے بچپن کا کچھ حصہ انڈونیشیا میں بھی گزرا ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان ہیں۔ اوم شری ہنومنتے نمے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...