Translater

J Dey لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
J Dey لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

01 دسمبر 2011

ممبئی انڈر ورلڈ ہمیشہ میڈیا کا استعمال کرتا رہا ہے


Published On 1st December 2011
انل نریندر
کچھ سال پہلے مدھر بھنڈارکر کی ایک فلم آئی تھی ''پیج تھری'' اس میں کرائم رپورٹر بنے اتل کلکرنی پیج تھری بیٹ کرنے والی مہلا رپورٹر سے کہتا ہے کہ اچھی رپورٹنگ ہوتی ہے تو وہ صرف کرائم رپورٹنگ ہوتی ہے ۔ تم جو کرتی ہو اسے انٹرٹینمنٹ کہتے ہیں جنرلزم نہیں ۔ حالانکہ یہ ایک فلمی ڈائیلاگ تھا لیکن کم سے کم ممبئی میں کرائم رپورٹنگ میں بہت زیادہ خطرہ ہے اور چیلنج بھی ہے۔ زیادہ کشیدگی بھی ہے۔ اس مایا نگری میں انڈرورلڈ کی دہشت ہمیشہ رہتی ہے۔ اس دہشت کو انڈرورلڈ نے میڈیا کے ذریعے بیاں کیا ہے۔ تیل مافیاؤں کے خلاف لکھنے والے ممبئی مڈ ڈے کے سینئر کرائم رپورٹر جوترمے ڈے کے قتل کے معاملے میں ممبئی پولیس نے ایک انگریزی اخبار ''ایشین ایج'' کی ایک سینئر رپورٹر کو حال ہی میں گرفتار کیا ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر کرائم ہیمانشو رائے نے بتایا انگریزی اخبار ایشین ایج کی معاون بیورو چیف جگنا وورا کو جے ڈے کے قتل کی سازش میں شامل ہونے کے سبب گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جگنا پر جے ڈے کی موٹر سائیکل کا نمبر مافیا سرغنہ چھوٹا راجن کو دینے کا شبہ ہے۔ دراصل جے ڈے قتل کے قریب ایک ماہ بعد چھوٹا راجن نے ایک نیوز چینل کو فون کرکے جے ڈے کے قتل کی ذمہ داری لی اور اس نے ڈے کے قتل کی وجہ بھی بتائی۔ اس نے کہا ڈے چھوٹا راجن کے جانی دشمن داؤد ابراہیم کے لئے کام کررہا تھا اور اس نے داؤد کے کہنے پر میرا قتل کرنے کیلئے کئی بار مجھے بیرونی ممالک میں کسی شہر میں ملنے کے لئے کہا تھا۔
جے ڈے کے قتل میں جگنا بری طرح پھنس چکی ہے۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے ذرائع کی مانیں تو جگنا نے ثبوت مٹانے کی کافی کوشش کی لیکن پولیس کے ہاتھ اس کے خلاف کافی کچھ لگ چکا ہے۔ جگنا اپنے قریبی رشتے دار کے بینک اکاؤنٹ کو چلا رہی تھی ، جس میں مشتبہ لین دین ہوا۔ ان میں ایک بار دوبئی سے باقی دو بار کئی جگہوں سے لین دین ہوا۔ یہ لین دین جے ڈے کے قتل سے کچھ وقت پہلے ہوا۔ اس کے علاوہ کرائم برانچ کو جے ڈے کے گھر سے کئی اہم دستاویز بھی ملے ہیں۔ دراصل جے ڈے کے قتل کے بعد سے ہی جگنا پر پولیس کی نظر تھی۔ ذرائع کے مطابق جے ڈے قتل کانڈ کے ایک دوسرے ملزم ونود اسرانی کی چینبور کے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات راجن کے کہنے پر ہوئی تھی اور اسی ملاقات میں جگنا نے اسرانی کو یہ بتایا کہ جے ڈے کا قتل کب اور کیسے کرنا ہے۔ پولیس سے ملی جانکاری کے مطابق کرائم برانچ کو جگنا کے گھر سے کچھ کاغذات ملے ہیں ۔ ان میں ایک ڈائری سے پھٹے ہوئے پرچے بھی برآمد ہوئے ہیں ان میں کچھ نمبر لکھے ہیں۔ اس میں ملنے کی جگہ لکھی ہے اور پلاننگ کے بارے میں بھی لکھا ہوا ہے اور پھر اسے پین سے گھس کر کاٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پولیس کے پاس اس قتل سے وابستہ ساری کہانی تیار ہے۔ پولیس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جے ڈے کے قتل کے بنیادی ملزم ونود اسرانی کی گرفتاری کے دو دن بعدچھوٹا راجن نے ونود کے بھائی کو خود فون کیا تھا۔ یہ فون پولیس ٹیپ کررہی تھی۔ اس فون میں چھوٹا راجن نے جگنا کو کافی برا بھلا کہا تھا۔ اس نے یہاں تک کہا کہ جگنا نے غلط باتیں بول کر جے ڈے کو مروادیا۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے ذرائع کی مانیں تو اسی فون کی وجہ سے جگنا اس قتل کانڈ میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کورٹ میں کرائم برانچ کے ثبوت کتنے ٹھوس ثابت ہوتے ہیں۔
Anil Narendra, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, J Dey, Vir Arjun

05 جولائی 2011

داؤد اور چھوٹا راجن کی دشمنی کا ہوئے شکار جے ڈے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 5th July 2011
انل نریندر
مڈ ڈے کے سینئر صحافی جے ڈے کے قتل کے معاملے میں چھوٹا راجن کا نام آرہا ہے۔ سینئر صحافی جوترمے ڈے کے قتل کے معاملے میں ایتوار کو مافیہ سرغنہ چھوٹا راجن کے مبینہ ساتھی اور دلال کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جے ڈے کے قتل میں اس شخص کا کردار تھا۔ چھوٹا راجن کے مبینہ ساتھی اور دلال ونود اسرانی عرف ونود چینگور سمیت 216 لوگوں کو اب تک اس قتل کے معاملے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے جے ڈے کے قتل کے پیچھے چھوٹا راجن کا ہاتھ ہے۔ راجن کو اندیشہ تھا کہ جے ڈ ے اس کے ٹھکانے کے بارے میں انکشاف کرسکتے ہیں، اس لئے اس نے اس صحافی کا ہی صفایا کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ ممبئی پر انڈر ورلڈ راج چلتا ہے۔ بیرونی ممالک میں محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے یہاں زندگی اور موت کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ چھوٹا راجن کون ہے؟ چلئے اس کے بارے میں آپ کو بتائیں۔ راجن سداشیو نکھلجے عرف چھوٹا راجن کی پیدائش ممبئی کی درمیانی کلاس بستی تلک نگر میں ہوئی تھی۔ 80 کی دہائی میں وہ سنیما گھروں کے باہر ٹکٹ بلیک کرتا تھا۔ جلد ہی اس کی پہچان راجن نائر عرف بڑا راجن سے ہوگئی۔ لڑکے کا حوصلہ راجن کو پسند آگیا ہے اور اس نے نکھلجے کو اپنا داہنا ہاتھ بنا لیا۔ جب بڑا راجن کا قتل ہوا تو نکھلجے نے اس کی جگہ لے لی اور تب سے وہ چھوٹا راجن بن گیا۔
چھوٹا راجن داؤد ابراہیم کاسکر گروہ میں شامل ہوگیا اور داؤد کا قریبی بن گیا۔ داؤد تب ممبئی کا سب سے بڑا ڈان تھا۔1986ء میں داؤد کے دوبئی چلے جانے کے بعد راجن اور چھوٹا شکیل اس کے ہندوستانی کاروبار میں نمائندے بن گئے۔ 1992ء میں ایودھیا میں بابری مسجد گرادی گئی ۔1993ء کی شروعات میں ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے اس میں داؤد کا ہاتھ تھا۔ اس واقعے نے چھوٹا راجن کو بغاوت کے لئے مجبور کردیا ۔ ظاہر ہے ڈی کمپنی میں فرقہ وارانہ پھوٹ پڑ چکی تھی۔ داؤد اور راجن تب سے پکے دشمن بنے ہوئے ہیں اور بھارت میں کاروبار کے لئے لڑ رہے ہیں۔ چھوٹا راجن کا دعوی ہے کہ وہ ہندوستان سے پیار کرتا ہے اس لئے داؤد کی بے پناہ طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔ اپنے ہندوستانی پریم کی مثال دینے کیلئے اس نے 1996 ء میں نوپالی ممبر پارلیمنٹ مرزا دلشاد بیگ کو مروادیا تھا۔بتایا جاتا ہے مرزا، داؤد اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا آدمی تھا۔ اس کے ذریعے نیپال سے بھارت میں منشیات اور آتنک واد ایکسپورٹ کئے جاتے تھے۔
حالانکہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا لیکن عام رائے ہے کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں چھوٹے راجن کے رابطے میں رہتے ہیں۔ اسے داؤد کے خلاف جنگ میں استعمال کرتی ہیں اس لئے راجن کے چھوٹے موٹے جرموں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر بڑی کارروائی سے پہلے ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں اور پولیس راجن کو مطلع کردیتی ہے تاکہ ان کے لوگوں پر قہر نہ ٹوٹے۔ چھوٹا راجن مشرقی ایریا میں کہیں روپوش ہے۔ شاید ملیشیا یا پھر انڈونیشیا میں اس کی طبیعت ابھی تک ٹھیک نہیں رہتی۔ اس کا سکہ بھی آج بدستور جاری ہے۔ اس سال مئی میں بائیکرس نے داؤد کے بھائی اقبال کاسکر کے ڈرائیور کو مارڈالا۔ تب لگا کے کچھ برسوں کی خاموشی کے بعد دوبئی میں ایک بار پھر سے گروہی جنگ چھڑنے والی ہے۔ اس کے بعد اگلے دو مہینے میں جے ڈے کا قتل ہوگیا جس کے پیچھے راجن اور داؤد کی آپسی دشمنی ہو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
Tags: Anil Narendra, Babri Masjid, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, ISI, J Dey, Vir Arjun

30 جون 2011

جے ڈے قتل کے پیچھے چھوٹا راجن کا مقصد کیا تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
30 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ممبئی پولیس نے دعوی کیا ہے مڈڈے کے سینئر صحافی جوترمے ڈے کو اندر ورلڈ چھوٹا راجن کے کہنے پر مارا گیا ہے۔ ڈے کے قتل میں مبینہ طور سے شامل 7 لوگوں کو دیش کے الگ الگ حصوں سے گرفتار کرکے پیر کے روز ممبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے سبھی ملزمان کو4 جولائی تک پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنراروپ بھٹناگر اور کرائم برانچ کے چیف ہیمانشو رائے نے پیر کے روز ایک جوائنٹ پریس کانفرنس میں ڈے کے قتل کی گتھی سلجھالینے کا دعوی کیا ۔ رائے کے مطابق چھوٹا راجن نے اس قتل کے لئے ممبئی کے خطرنا ک چارج شوٹر روہت کنگ پن جوزف عرف ستیش کالیا کو 2 لاکھ روپے کی سپاری دی تھی۔ کالیا نے پولیس کو بتایا ہے کہ قتل تک اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ مارا جانے والا شخص ایک صحافی ہے۔ڈے کے صحافی ہونے کی جانکاری کالیا کو نیوز چینلوں سے ملی، جس کے بعد راجن کی طرف سے اسے3 لاکھ روپے اور دلائے گئے۔ پولیس کے مطابق کالیا کو چھوٹا راجن نے قتل کے دن یعنی11 جون سے 20 دن پہلے تک ایک شخص کو مارنے کے لئے کہا تھا۔ اس شخص کی موٹر سائیکل کا نمبر اور اس کے ملنے کے دو ٹھکانوں کے بارے میں بھی چھوٹا راجن نے بتایا۔ سپاری لینے کے بعد کالیا نے اپنے ساتھی نلیش شیڈوسے رابطہ قائم کیا۔نلیش نے اس کے بعد اس قتل میں شامل پانچ افراد کو جس میں تھے ارون ڈاکے، سچن گائیکوار، ابھیجیت شنڈے اور منگیش کو اپنے ساتھ لیا۔ ڈے کے قتل میں استعمال ہتھیار 32 بور کا ریوالور اور چیکوسلواکیہ کی بنی گولیاں ان لوگوں کو اتراکھنڈ کے کاٹ گودام میں ہی دی گئیں۔ قتل سے پہلے حملہ آوروں سے ممبئی کے لوور پریل میں اس علاقے کی پہچان کی جہاں مڈڈے کا دفتر ہے۔ یہ لوگ پہلے ڈے کو لوور پریل علاقے میں ہی مارنا چاہتے تھے لیکن یہ علاقہ بھیڑ بھرا ہونے کی وجہ سے بعد میں قتل کی اسکیم کو پوئی میں منتقل کردیا گیا۔ حملہ آوروں نے اس پورے معاملے کو انجام دینے کے لئے چار ٹیمیں بنائیں اور اس کے لئے تین موٹر سائیکلوں اور ایک کوالس گاڑی کا استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق ان حملہ آوروں نے 9 اور 10 جون کو بھی ڈے پر گھات لگانے کی کوشش کی تھی لیکن قتل کا صحیح وقت اور دن انہیں11 جون کو ہی مل گیا۔ کالیا نے پولیس کو بتایا کہ ڈے کے جسم پر پانچ گولیاں اس نے موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے داغیں۔ قتل کے بعد سارے حملہ آور ممبئی سے جوگیشوری علاقے میں اکٹھا ہوئے اور وہیں انہیں یہ پتہ چلا کہ مارا گیا شخص ممبئی کا نامی گرامی صحافی ڈے ہے۔ پولیس نے قتل میں استعمال کی گئی گاڑیاں ، ریوالور اور کچھ گولیاں بھی ان کے پاس سے برآمد کرلی ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ڈے کے قتل میں مبینہ طور سے ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے والی کرائم برانچ کی ٹیم کو 10 لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیاہے۔
بیشک ممبئی پولیس نے قتل کی گتھی سلجھانے کا دعوی کیا ہے لیکن کچھ اہم سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں مل پایا ہے۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ ہر قتل کے پیچھے موٹو یعنی مقصد ضروری ہوتا ہے۔ چھوٹا راجن نے اگر یہ قتل کروایا تو اس کا جے ڈے کو مارنے کا مقصد کیا تھا۔ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ قاتلوں کو ریوالور کی گولیاں لینے کے لئے اتراکھنڈ کے کاٹ گودام کیوں جانا پڑا؟ ممبئی میں بھی تو گولیاں بڑی آسانی سے دستیاب ہیں؟ قتل میں شامل پانچ لوگوں میں سے تین ممبئی سے واردات کے بعد بھاگ گئے تھے جبکہ دو ممبئی میں ہی رک گئے کیوں؟ چھوٹا راجن کا اپنا گروہ ہے اور ایک بہت موثر قاتلوں کی ٹیم ، پھر اس نے جے ڈے کے قتل کو آؤٹ سورسز کیوں کیا؟ اسے بھاڑے کے قاتلوں کو لینے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟یہ بھی کم تعجب نہیں کہ ستیش کالیا کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کسے مارنے جارہا ہے۔ جب انہوں نے مڈ ڈے کے دفتر کا جائزہ لیا تب تو انہیں یہ پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ جسے وہ مارنا جارہے ہیں وہ ایک صحافی ہوسکتا ہے جو مڈ ڈے سے وابستہہوسکتا ہے۔ خود اگر جے ڈے زندہ ہوتے تو انہیں یہ پولیس کی کہانی بتاتے تو وہ اس پر یقین نہ کرتے۔ جے ڈے کے قتل کو لیکر کئی طرح کی بحث سامنے آئی ہے۔ ان میں سے ڈے کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش بھی ہوئی، یہ خیال سامنے آیا کہ جے ڈے انڈرورلڈ گروہ کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کہیں پر لکشمن ریکھا پار کرلی ہو۔ حالانکہ جو لوگ سالوں سے پیشہ ور کی حیثیت سے جے ڈے کو جانتے ہیں، وہ اس خیال کو ماننے سے صاف طور پر انکار کرتے ہیں۔ ڈے بھلے ہی انڈرورلڈ گروہ سے رابطے میں تھے لیکن خبر سے زیادہ ان کے لئے کچھ نہیں تھا۔ وہ اپنی لکشمن ریکھا نہیں پار کرسکتے ۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ڈے کو جاننے والے ایک صحافی کا کہنا ہے ڈے سبھی انڈرورلڈ گینگ کے گینگسٹروں کو جانتے تھے۔ حقیقت میں ممبئی کے وہ ایک ایسے صحافی تھے جن کی پہنچ سبھی گینگسٹروں تک تھی۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے پیشے کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ساتھی صحافیوں نے پایا ڈے بہت ہی شیریں زبان کے تھے۔ یہ مستقبل کی پیڑھی ہیں۔ اگر انہیں اس عمر میں مناسب مشعل راہ ملی تو وہ آگے جا کر اچھے جرنلسٹ بن سکتے ہیں۔ ممبئی پولیس نے پیر کو دعوی کیا کہ گینگسٹر چھوٹا راجن نے ڈے کے قتل کی سپاری دی تھی۔ یہ ڈے کے کئی قریبی دوستوں کے لئے بہت بڑا تعجب ہے۔ گذرے برسوں میں کئی موقعوں پر ڈے نے راجن سے سیدھی بات چیت کی ہے۔ ہمیشہ سے اس نے لکشمن ریکھا کا خیال رکھا ہے۔ حقیقت میں اگر وہ زندہ ہوتے اور انہیں بتایا جاتا کہ راجن نے انہیں مارنے کی سازش رچی ہے تو وہ ہنس کر ٹال جاتے۔ وہ کہتے میں بہت چھوٹا آدمی ہوں ، راجن مجھے کیوں مارے گا؟  
Tags: Anil Narendra, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, J Dey, Mumbai, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...