Translater

13 اگست 2016

زہریلے ذاکر نائک پر کیا قانونی کارروائی ہوگی

اسلامی مبلغ ذاکر نائک کی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کی جانچ کررہی ممبئی پولیس نے اپنی رپورٹ مہاراشٹر کے ہوم ڈپارٹمنٹ کو سونپ دی ہے۔ اسپیشل برانچ کی ٹیم نے ذاکر کے سینکڑوں ویڈیو کی جانچ میں پایا ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی حمایت کررہے ہیں۔ رپورٹ میں ذاکر پر دو فرقوں کے درمیان کشیدگی پھیلانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ ذاکر اور ان کے ادارے ’اسلامک ریسرچ فاؤنڈیش ‘ پر کل72 صفحات پر مبنی جانچ رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پہلی نظر میں ایسا لگتا ہے کہ ذاکر دہشت گردی کو صحیح ٹھہراتے ہیں۔ ان کی تقریر لوگوں کے دماغ میں مذہب کو لیکر غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں جو مذہبی فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے اور کٹرتا پھیلانے والی ہیں۔ رپورٹ میں ممبئی ٹرین بم دھماکے کے ملزم فیروز دیشمکھ جسے اے ٹی ایس نے گرفتار کا تھا، اس کے ساتھ تعلق ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ آتنکی تنظیم جماعت الدعوی کے ساتھ بھی ذاکر کے تعلقات کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ دوسرے مذاہب سے مقابلہ کر انہیں کمتر بتاتے ہیں اور لوگوں کو تبدیلی مذہب کے لئے اکساتے ہیں۔ کیرل سے بیرون ملک بھاگے لڑکوں کے معاملے میں آئی ایس کے ایک ملازم کی گرفتاری سے بھی ذاکر کاکردار مشتبہ بنتا ہے۔ وہ الگ الگ مذاہب کا حوالہ دے کر دہشت گردی کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ رپورٹ میں ریاست کی قانون وزارت سے بھی رائے مانگی گئی ہے کہ کیا ذاکر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے تحت معاملہ بنتا ہے؟ مرکزی وزارت داخلہ نے ذاکر نائک کے ذریعے چلائی جارہی این جی او کے خلاف غیر ملکی (چندہ اتھارٹی ریگولیٹری) قوانین کی خلاف ورزیوں کی بھی جانچ شروع کردی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ این جی او کو پانچ سال میں قریب15 کروڑ روپے بیرونی ممالک سے عطیہ کے طور سے ملا ہے۔ اس سے پہلے ممبئی پولیس سے کہا گیا تھا کہ وہ نائک کے آن لائن دستیاب سابقہ تقریروں کی جانچ کرے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کیا ان میں سے کسی کو لڑکوں کو آتنکی تنظیموں میں شامل ہونے کے لئے اکسایا ہوگا۔ ایسی خبریں تھیں کہ ان کی تقریروں میں ڈھاکہ آتنکی حملوں میں شامل کچھ دہشت گردوں کے دماغ کو ’برین واش‘ کیا ہے۔ نائک فی الحال اس وقت شاید سعودی عرب میں ہے اور ڈھاکہ حملہ کے کچھ حملہ آوروں کو اپنی تقریروں سے متوجہ کرنے کے الزامات کو لیکر تنقید کا سامنا کررہے ہیں۔ دوسری طرف ذاکر نائک کے ادارہ آئی آر ایف نے پولیس کی رپورٹ پر میڈیا کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہم ایک بار پھر ذاکر نائک اور فاؤنڈیشن پر لگائے گئے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہیں۔ وہ اسلام کی تعلیم پر زور دیتے ہیں جو غیر آئینی نہیں ہے۔ہمیں کسی جانچ ایجنسی سے نوٹس نہیں ملا ہے۔ ابتدائی جانچ میں پایا گیا ہے کہ ذاکر نائک کو زیادہ تر غیرملکی چندہ برطانیہ، سعودی عرب اور مغربی ایشیا کے کچھ ملکوں سے آیا ہے۔
(انل نریندر)

بالوں کا ڈی این اے دلائے گا بلندکے شہر حیوانوں کو سزا

بلند شہر ہائی وے پر حیوانیت کو انجام دینے والے باوریا گروہ کے سرغنہ سلیم باوریا اور اس کے دو ساتھوں پرویز و زبیر کو سکندر آباد ضلع جیل میں قیدوں نے بری طرح پیٹا اور ان تینوں کو اپنے ساتھ رکھنے سے منع کردیا۔ اہم بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کے خلاف پختہ ثبوت اکھٹے کرلئے ہیں۔ گرفتاری کے وقت موانہ میں ملزمان کے کپڑے ملے ہیں۔ ان کپڑوں پر اس کھیت کی مٹی لگی ہے جہاں 29 جولائی کی رات ا س گھناؤنی واردات کو انجام دیا گیا تھا۔ کپڑوں کی مٹی اور جراثیمی ذرات کی جانچ کیلئے فورنسک لیب بھیجا جارہا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ پولیس کے سامنے متاثرہ میاں بیوی نے انسانیت کے درندوں کو پہچان لیا۔ پولیس نے پیر کی رات گینگ ریپ کے اہم ملزم سمیت3 لوگوں کو موانہ سے گرفتار کیا تھا۔ منگل کو ان کی میڈیکل جانچ کے ساتھ دیگر خانہ پوری کرنے کے بعد جیل لے جایاگیا۔ نوئیڈا کے پاس کھیڑا کالونی کی متاثرہ خاتون و بیٹی اپنے کچھ رشتے داروں کے ساتھ پولیس سکیورٹی میں ایک پرائیویٹ گاڑی سے عدالتی کمپلیکس میں پہنچی ۔ وہاں موجودہ میڈیا نے ان سے بات چیت کی کوشش کی لیکن پولیس میڈیا سے بچاتے ہوئے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ عدالت میں لے گئی۔ انسپکٹر جنرل سجیت پانڈے نے بتایا کہ موقعہ واردات سے شراب کی خالی بوتل برآمد ہوئی تھی جس سے فنگر پرنٹ اٹھائے گئے ہیں۔ اب پولیس ان ملزمان کے فنگر پرنٹ کا ملان کرے گی۔ پولیس نے پتہ لگایا ہے کہ جب 29 جولائی کی شام یہ لوگ مٹھور سے چلے تو میرٹھ پہنچ کر شراب پی ، مٹھور سے میرٹھ بس میں آئے تھے۔ موقعہ واردات کی فورنسک ٹیم نے جانچ کی تھی۔ وہاں بال اور کپڑے ملے ہیں جن کا ڈی این اے کرایا جائے گا۔ ملزمان کے بال لیکر ڈی این اے کا ملان کیا جائے گا۔ بلند شہر اجتماعی آبروریزی واردات پرپریس کانفرنس کے دوران متاثرہ خاندان کے ایک ممبر کا نام میرٹھ آئی جی سجیت پانڈے نے بول دیا۔ دراصل بلند شہر پولیس کی طرف سے آئی جی کے پریس نوٹ میں یہ نام دیا گیا تھا۔ آئی جی سجیت پانڈے کے بیان سے متاثرہ خاندان کی پہچان اجاگر ہوگئی۔ حالانکہ آئی جی کو اس بھول کا احساس ہو گیا اور انہوں نے اس کے لئے افسوس ظاہر کیا۔ اترپردیش حکومت نے کہا ہے کہ اس معاملے کے گناہگاروں کو جلد سزا دینے کے لئے فاسٹ ٹریک عدالت بنائی جائے گی وہیں ریاست میں قانون و نظام کو لیکر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اترپردیش کے چیف سکریٹری دیپک سنگل نے کہا ہے کہ قانون و نظام بہتر بنانے میں لاپرواہی برتی گئی تو بڑے افسروں کو بھی جیل بھیجنے سے پرہیز نہیں کریں گے۔
(انل نریندر)

12 اگست 2016

دی گریٹ انڈین ٹرین روبری

جن لوگوں نے بالی ووڈ فلم ’دھوم 2- ‘ دیکھی ہوگی انہیں چلتی ٹرین میں رتیک روشن کے ذریعے ڈکیتی کا سین ضرور یاد ہوگا لیکن اس فلم اسٹائل و اسٹنڈ کو تاملناڈو میں مشتبہ ڈکیتوں نے پیر کو رات کے وقت میں انجام دے ڈالا۔ انہوں نے 11064 سیلم ایکسپریس کی بوگی کی چھت کاٹ کر ریزرو بینک کے پیسے لوٹ لئے۔ چنئی ریلوے اسٹیشن پر منگل کی صبح ایک الگ ہی نظارہ دیکھنے کو ملا۔سیلم۔ چنئی ایکسپریس صبح اسٹیشن پر جب پہنچی تو اس کے ایک ڈبے کی چھت پر بڑا سا سوراخ تھا۔ ٹرین کے تین کارگو ڈبوں میں نوٹ کی گڈیوں سے بھرے 220 بکس تھے جسے ریزرو بینک میں جمع کرانا تھا، ڈبوں کی پولیس نے جانچ کی تو پتہ چلا کہ ٹرین میں رکھے قریب342 کروڑ روپے میں سے 5.78 کروڑ روپے غائب تھے۔ فلمی اسٹائل میں شاطر چوروں کی چلتی ایکسپریس ٹرین میں چوری سے پولیس ، ریلوے اور آربی آئی افسر حیران تھے۔ پولیس کے مطابق چلتی ٹرین میں پہلے چوروں نے چھت کو کٹرسے دو مربع فٹ کاٹا پھر نوٹوں سے بھرے بکسوں میں سے 2 کے تالے توڑے۔ کسی کو بھی اس کی بھنک تک نہیں لگی۔ ٹرین سے سیلم اسٹیشن سے 340 کروڑ روپے کے کھٹے پھٹے نوٹ چنئی کے آر بی آئی سینٹر لے جائے جا رہے تھے۔ان نوٹوں کو 225 بکسوں میں رکھا گیا تھا۔ ٹرین میں جی آر پی ایف کے 10 جوانوں کو بکسوں کی سکیورٹی میں بھیجا گیا تھا۔ ٹرین 336 کلو میٹر کا سفر پورا کر صبح سویرے 3.55 منٹ پر چنئی پہنچی۔ وہاں ریل افسران نے جی آر پی اور آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ جب ڈبے کھولے تو ایک کی چھت پر بڑا سا چھید تھا۔ فرش پر نوٹ بکھرے ہوئے تھے۔ فوراً چنئی اسٹیشن پر فورنسک ماہرین کو بلا گیا۔ پولیس کو اس کی اطلاع دی گئی۔ ریل پولیس سپرنٹنڈنٹ وجے کمار کا کہنا ہے کہ ٹرین میں چوری سیلم سے چنئی کے درمیان کہیں راستے میں ہوئی اس لئے جانچ میں آر پی ایف و جی آر پی ایف کے علاوہ راستے میں پڑنے والے تھانوں سے بھی مدد لی جارہی ہے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق چنئی تک کے راستے میں سیلم سے وردیالیہ تک 138 کلو میٹر ٹریک کا الیکٹری فکیشن نہیں ہوا ہے اسی پر لوٹ کا اندیشہ ہے۔ یہ ٹرین رات11.55 پر وردیالیہ پہنچی تھی۔ یہاں اس کا انجن بدلا گیا اور وہاں سے 12.15 منٹ پر چنئی کے لئے روانہ ہوئی۔ وہیں آر بی آئی نے بتایا کہ لوٹے گئے سبھی نوٹ 2005ء سے پہلے کے ہیں یہ ایک اور مثال ہے کہ بالی ووڈ کی فلموں کا شاطر چوروں پر کتنا اثر پڑتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ ڈکیتی بھی ’دھوم ۔2 ‘ رقبت بھری ہوگی۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس میں آر بی آئی کا کوئی آدمی یا گروپ ملا ہوا ہے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ ٹرین میں اتنی بھاری رقم کے نوٹ جا رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے پولیس اس معاملے کو سلجھا لے گی۔
(انل نریندر)

امریکی جاسوسوں کا جال

امریکہ کے لئے مبینہ جاسوسی کرنے کے الزام میں گذشتہ دنوں ایران اور پاکستان میں دو الگ الگ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ پہلے ایران کی بات کرتے ہیں ۔2010ء سے حراست میں رکھے گئے ایک ایرانی نیوکلیائی سائنسداں کو پھانسی دہ دی گئی ہے۔ سائنسداں کے رشتے داروں نے ایتوار کو بی بی سی کو یہ جانکاری دی۔ شہرام امیری کی لاش کی گردن پر رسی کے نشان تھے جس سے صاف ہوتا ہے کہ انہیں پھانسی دی گئی۔ سائنسداں 2009 ء میں مکہ سے لوٹنے کے بعد سے لاپتہ تھے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امیری کوامریکہ سے لوٹنے کے بعد ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا حالانکہ 2010ء میں وہ ایران لوٹ آئے تھے۔ بی بی سی کے مطابق مبینہ طور پر 2011ء میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پرملک سے بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔ کچھ خبروں کے مطابق انہیں ایران کے نیوکلیائی پروگرام کے بارے میں گہری معلومات تھی انہیں افشا کرنے کا الزام تھا۔ دوسرے واقعہ میں پاکستان کے حساس ترین اداروں کی مبینہ طور پر جاسوسی کرتے پکڑے جانے پر سال2011ء میں معذول کئے گئے بلیک لسٹ امریکی شہری کو اسلام آباد ہوائی اڈے پہنچے کے کچھ وقت کے بعد گرفتار کرلیا۔ حالانکہ گرفتاری سے پہلے امیگریشن افسران نے اسے داخلے کی منظوری دے دی تھی۔ جاسوسی کے الزام میں معذولی کے بعد میتھیوکریک بیرٹ کے پاکستان میں داخلے پر پابندی لگی تھی۔ جب میتھیو بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر پہنچا تو اسے امیگریشن حکام نے داخلے کی اجازت دے دی لیکن جب یہ بات وزیر داخلہ نثار علی خاں کے علم میں آئی تو انہوں نے میتھیو کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا اور ہوائی اڈے پر تعینات امیگریشن حکام کو معطل کردیا گیا۔
انگریزی اخبار’ دی ڈان‘ کی خبر کے حوالے سے وزیر داخلہ نے ان حالات کی جانچ کے احکامات دئے ہیں جن کے تحت میتھیو کو پاکستانی ویزا دیا گیا۔ وزارت داخلہ نے امیگریشن حکام کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ میتھیو کو ویزا جاری کرنے کے لئے ان حکام کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو ہسٹن میں واقع پاکستانی تجارتی قونصل خانے میں تعینات تھے۔ اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ پرائیویسی کے قانون میں انہیں امریکی شہری کے بارے میں اس کی رضامندی کے بغیر کوئی معلومات افشاں کرنے سے روکا ہے۔ اس نئے واقعہ میں امریکہ اور پاکستان میں پہلے سے ہی بڑھی کشیدگی میں اور تیزی آجائے گی۔
(انل نریندر)

11 اگست 2016

کوئٹہ میں وکیلوں، صحافیوں پر سب سے بڑا آتنکی حملہ

پاکستان کی عجیب و غریب حالت ہے۔ جموں و کشمیر میں وہ آتنکوادیوں کو بھیجنے کا سلسلہ نہیں روک پا رہا ہے اور آئے دن ہماری سکیورٹی فورسز پر حملے ہورہے ہیں۔ ان کا اپنا گھر دہشت گردی کی آگ سے جل رہا ہے۔ دو دن پہلے پاکستان میں اس سال کا سب سے بڑا آتنکی حملہ ہوا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی راجدھانی کوئٹہ میں ایک اسپتال میں ہوئے فدائی حملے میں 75 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ 150 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں مرنے والے زیادہ تر وکیل تھے۔ دھماکے کے بعد گولہ باری ہوئی تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروپ جمعیت الاہارا کے ترجمان نے کہا کہ ان کی تنظیم اس حملے کی ذمہ داری لیتی ہے۔ پولیس کے مطابق صوبے کی راجدھانی میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر وکیل بلال انور کاسی کو نامعلوم بندوقچیوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ رپورٹ میں پولیس اور مظاہرین کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ وکیل اور صحافی جیسے ہی ایمرجنسی وارڈ کے پاس جمع ہوئے تبھی دھماکے کی تیز آواز سنی گئی۔ مرنے والے میں زیادہ تر وکیل تھے۔ اس کے علاوہ پولیس افسر اور صحافیوں کی موت ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ دھماکے کے بعد نامعلوم لوگوں نے گولیاں بھی برسائیں۔ پولیس کے مطابق یہ فدائی حملہ تھا جس میں 8 کلو گرام دھماکو سامان کا استعمال کیا گیا تھا۔’ڈان‘ اور ’آج‘ ٹی وی کے کیمرہ مین کی دھماکے میں موت ہوگئی۔ 3 اگست کو بھی جہاں زیب علوی نام کے وکیل کو بھی گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ بلوچستان میں ایسے حملے ایک دہائی سے ہو رہے ہیں۔ پچھلے 15 برسوں میں کم سے کم 14 ایسے حملے ہوئے ہیں۔ ان میں اقلیتی شیعوں ، ہزارا گروپ کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بلوچستان ۔ پاکستان کا حدود ربہ کے معاملے میں سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں پاک فوج کی بھاری مخالفت ہے۔ اس کی سرحد ایران اور افغانستان سے لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے دھماکے کی واردات کی سخت مذمت کی ہے۔ دونوں لیڈروں نے حملے میں بے قصور لوگوں کے مارنے جانے پر گہرا دکھ اور افسوس ظاہر کیا ہے۔ شریف نے افسران سے نگرانی برقرار رکھنے اور کوئٹہ میں سکیورٹی چست کرنے کو کہا ہے۔ واردات کے فوراً بعد صوبے کے وزیر اعلی ثنا اللہ زہری نے اپنا اظہار غم کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بکتی نے کہا کہ سکیورٹی کی لاپرواہی تھی اور میں ذاتی طور پر حملے کی جانچ کررہا ہوں۔ واردا ت کے پیش نظر صوبائی سرکار نے تین دن کے شوک کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران سرکاری عمارتوں پر پاکستان کا قومی جھنڈا آدھا سرنگوں رہے گا۔
(انل نریندر)

دیپا نے نہایت خطرناک ’پوروڈو نووا‘ کر تاریخ رقم کی

ریو اولمپک میں اب تک تو بھارت کے ہاتھوں زیادہ تر مایوسی ہی لگی ہے۔ اگر ہاکی اور تیز اندازی کو چھوڑدیں تو ہندوستانی کھلاڑیوں کی پرفارمینس مایوس کن رہی ہے۔ بیشک مردوں کی ہاکی میں 36 سال بعد بھارت نے پری کواٹر فائنل میں اینٹری کی لیکن ابھینو بندرا جیسے گولڈ میڈلسٹ چوتھے نمبر پر رہے لیکن ایک میدان ہے جہاں بھارت نے تاریخ رقم کی ہے وہ ہے جمناسٹک۔ اولمپک جمناسٹک کی 120 سال کی تاریخ میں پہلی بار بھارت کی جمناسٹ دیپا کرماکر والٹ ایوینٹ کے فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔ 22 سالہ دیپا اب 14 اگست کو خطابی مقابلے میں حصہ لیں گی۔ دیپا کرماکر اسٹائل سے فائنل میں پہنچی ہیں۔ جمناسٹک میں ایک ڈسپلن ہوتا ہے پوروڈونووا ۔ جمناسٹک میں سب سے زیادہ 7 نمبر پوروڈونووا میں ہی ملتے ہیں۔90 کی دہائی میں چیلینا پوروڈونووا نے یہ والٹ شروع کیا تھا۔ بعد میں انہی کے نام پر اس والٹ کا نام پڑ گیا۔ ان کے بعد دنیا میں صرف 4 جمناسٹ ہی یہ کرپائے۔ اس میں جمناسٹ 25 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اسپرنگ بورڈ کی طرف دوڑ لگا سکتی ہے۔ زمین سے 10-12 فٹ کی اونچائی حاصل کرتی ہے۔ 1.7 سیکنڈ میں دو فرنٹ سمر سالٹ لگاتی ہے ، پھر سامنے سیدھی لینڈنگ کرتی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ7 نمبر ملتے ہیں۔ اگر سر کے بل گریں تو موقعہ پر موت کا اندیشہ رہتا ہے یعنی اتنا خطرناک ہوتا ہے یہ پوروڈونووا۔ اسے دیپا نے کردکھایا ہے۔ میں یہ مقابلہ دیکھ رہا تھا۔ وہاں پر کمنٹری کررہے کمنٹیٹر نے کہا کہ انہوں نے اپنے30 سال کے تجربے میں یہ پہلی بار دیکھا ہے۔ دیپا نے سب سے مشکل مانی جانی والی پوروڈونووا والٹ کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا۔ ان کا ڈیفیکلٹی لیول سب سے بہتر تھا۔ اس میں انہوں نے اوور پول اسکورنگ میں بڑی کامیابی حاصل کی۔ پہلی کوشش میں ان کی پوروڈونووا میں لینڈنگ تھوڑی دھیمی تھی لیکن دوسری کوشش میں دوہری قلابازی لگا کر ناظرین کو لگاتار تالیاں بجانے پر مجبور کردیا۔ جمناسٹ دیپا ایتوار کی رات کوالیفائی راؤنڈ بنا اپنے فیزیو کے اتریں۔ پیر میں ہلکی تکلیف کے باوجود اس جمناسٹ نے کسی طرح فائنل میں جگہ بنا لی۔
فائنل میں کہیں گڑ بڑ نہ ہوجائے اسے دھیان رکھتے ہوئے کھیل وزارت نے فوراً دیپا کے فیزیو تھیرپسٹ سجاد میر کو ریو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صرف فیصلہ ہی نہیں لیا بلکہ پیر کو انہیں ریو روانہ بھی کردیا ہے۔ ہم دیپا کرماکر کو ان کی شاندار پرفارمینس پر مبارکباد دیتے ہیں۔ امید کرتے ہیں 14 اگست کے فائنل میں وہ بھارت کو میڈل دلا سکیں گی۔
(انل نریندر)

10 اگست 2016

آئی ایس اپنا رہا ہے دہشت گردی کے نئے نئے طریقے

اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کی دہشت کی نئی حکمت عملی کے سبب اب چھوٹے شہر، قصبات اور علاقے خطرے کی زد میں آگئے ہیں۔ ایک اسٹڈی کے مطابق24 مہینے میں دنیا بھر میں آئی ایس کے 51 فیصدی حملے ایسے مقامات پر ہوئے ہیں جنہیں پہلے کبھی بھی دہشت گردی کے لحاظ سے خطرناک نہیں مانا جاتا تھا۔ سب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ آئی ایس دو سال پہلے جہاں ہر 21 دن میں حملہ کرتا تھا وہیں اب وہ2016 ء میں ہر 7 دن میں ایک حملہ کو انجام دے رہا ہے۔ دہشت گردی پر دنیا بھر کی نگاہ رکھنے والی امریکی تنظیم ’’انٹر سیپٹر‘‘ کی تازہ اسٹڈی رپورٹ کے مطابق اس نے اپنے ڈیٹا بیس میں 24 ماہ میں درج ہوئے 73 آتنکی حملوں کا تجزیہ کیا ہے۔ تجزیئے کا تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ آئی ایس اب آتنکی حملوں کی جگہ اور طریقے بدل رہا ہے۔ پہلے یہ تنظیم زیادہ تر ہائی پروفائل علاقوں میں حملے کیاکرتی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایسے علاقوں میں دہشت گردی سے نمٹنے کے کافی وسائل موجودتھے۔ اب چھوٹے قصبوں کو نشانہ بنانا زیادہ آسان ہے کیونکہ یہاں دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے پختہ بندوبست نہیں ہیں۔ وقت بدلنے کے باوجود کچھ بنیادی چیزیں نہیں بدلی ہیں۔ کوئی خطرناک بندوقچی یا پھر فدائی دستے کے چند لوگ ایسے جرائم کو انجام دیتے ہیں کہ ساری دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ ایسے حملوں میں اکثر اے ۔ کے۔47 معیار کی رائفلیں ہوتی ہیں۔ چلانے میں آسان یہ اسالٹ رائفل ماضی گزشتہ میں سوویت یونین کی دین ہے اور دنیا بھر میں کثرت سے دستیاب ہے۔ اس کے ذریعے کچھ لوگوں کا گروپ بھی سینکڑوں لوگوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ 
جدید فوجی اور پولیس فورس کے لئے بھی چیلنج ہے۔ حالیہ برسوں میں دہشت پھیلانے والوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف رائفل کے جواب میں لائی گئی امریکہ۔ اے آر ۔15 رائفلیں بھی آچکی ہیں۔ حالیہ حملوں میں پھر دکھایا گیا ہے کہ اکیلا آدمی بھی کس طرح قہر برپا سکتا ہے۔نیس کاحملہ اس کی مثال ہے۔ آتنکی تنظیم نے وولف اٹیک کرنے کو بھی کہا ہے۔ دراصل سی آر تاک لگا کر اکیلے حملہ کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں ایسا آئی ایس نے یہ پہلی بار نہیں کیا ہے۔ القاعدہ دہشت گردوں پر کنٹرول کے لئے جب مختلف حکومتوں نے حملے تیز کئے اور ان کی طاقت کمزور پڑنے لگی تب اس نے بھی اس طرح کے حملہ کرنے کے لئے اپنے حمایتیوں کو اکسانا شروع کردیا۔ بھارت اور دنیا بھر کی ڈیفنس ایجنسیوں کے لئے یہ طریقہ تشویش پیدا کرنے والا ہے۔ ایسے حملے کرنے والوں کی پہچان پہلے سے کرنا اور ان کی سازش کا اندازہ مشکل کام ہے۔ کوئی بھی سرپھرا کبھی بھی اس طرح کا کام کرسکتا ہے۔ جہادی دہشت گردوں کی اب تک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہورہا ہے کہ حملے جغرافیائی سرحدیں توڑ رہے ہیں۔ اب کوئی شہر ،قصبہ ،گاؤں ان دہشت گردوں کی پہنچ سے دور نہیں رہ گیا ہے۔
(انل نریندر)

پُلوں پر ایسے حادثے ہوتے رہے ہیں

مہاراشٹر میں ساوتری ندی پر بنے پل کے بہنے سے ہوئے حادثے نے دیش میں پل ۔ پلین کی سکیورٹی پر نئے سرے سے سوال کھڑے کردئے ہیں۔ دیش میں ہزاروں ریل سڑک پل ہیں جو اپنی میعاد پوری کرچکے ہیں یا اتنے خستہ حالت میں ہیں کہ کبھی بھی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ممبئی۔ گوا شاہراہ پر واقع مہاڑ میں منگلوار کودیر رات ایک پرانا پل گرجانے سے تغیانی سے لبریز ساوتری ندی میں کئی گاڑیاں بہہ گئیں۔ اس میں مہاراشٹر اسٹیٹ کارپوریشن کی دو بسیں لاپتہ ہوگئیں جس میں22 لوگ سوار تھے۔ پل 100 سال پرانا تھا جو انگریزوں نے بنایا تھا۔ حالانکہ وہاں اس کی برابر میں دو اور پل تھے۔ ان میں سے ایک نیا پل تھا جبکہ دوسرا انگریزوں کے زمانے کا تھا۔ پرانا والا پل ٹوٹا ہوا ہے۔ اکیلے مہاراشٹر میں ہی نہیں ایسے پرانے پل اترپردیش، المد گھاٹی، پل بستی110 سال پرانا ہے اور لمبے عرصے سے خستہ حالت میں ہے۔ دو دہائی سے بھاری گاڑیوں کے اس پر سے گزرنے پر روک لگی ہوئی ہے۔ اتراکھنڈ میں رڑکی میں سولانی ندی پر بنا پل 170 سال پرانا ہے۔ دو سال پہلے اس پر بڑی گاڑیوں کے گزر پر روک لگی ہوئی ہے۔ 50 ۔پلیا برٹش عہد کی ہے لیکن فی الحال ان میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کیرتی نگر اور دگڑا پل کی جگہ پر نئے پل بنائے جاچکے ہیں۔ 
نئے پل جھارکھنڈ میں برہی ندی پر بنا پل خستہ حالت میں ہے۔ یہ ہزاری باغ کو ایم ایچ 31 کے ذریعے دیش کو جوڑتا ہے۔ یہ پل 1907ء میں بنا تھا۔1911 میں پلامو ندی پر بنا پل کروڑوں روپے خرچ کے بعد بھی ایک لائن والا ہے۔ رائے گڑھ کے مشہور تیرتھ استھل رجک دھا میں بھیروی ندی پر بنا پھلکا پل بدھوار کو پانی میں بہہ گیا جس میں 4 خواتین بہہ گئیں اور 3 کو بچا لیا گیا جبکہ 1 کی موت ہوگئی۔ پیشے سے انجینئر اور رائے گڑھ ضلع کے باشندے ستیوگ سیٹھ نے الزام لگایا کہ ندی میں ہونے والی ناجائز بالو کی کھدائی سے پل کی بنیاد کمزور ہوئی ہے اور پل ڈھے گیا۔ اس ناجائز کھدائی کی شکایت کئی بار انتظامیہ سے کی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بہار میں بھی ایسے درجنوں پل ہیں جو انتہائی خستہ حالت میں ہیں ۔ وہاں بھی کبھی بھی حادثہ ہوسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکزی سرکار پورے دیش میں سروے کرائے اور ایسے خطرناک پلوں کی مرمت کرائے اور متبادل سسٹم پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ریاستوں کو بھی اس طرف بلا تاخیر توجہ دینی چاہئے۔ بیشک حادثے کے بعد ہم راحت رسانی کاموں میں تو لگ جاتے ہیں مرنے والوں کو معاوضہ بھی دے دیتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ ہمیں در رس مستقبل حل تلاشنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
(انل نریندر)

09 اگست 2016

’’ناتھے دھوتے رہ گئے تو منہ تہ مکھی بے گئی‘‘

میرے سورگیہ پتا شری کے نریندر پنجابی کی یہ کہاوت اکثر کہا کرتے تھے کہ ’ناتھے دھوتے رہ گئے تہ منہ تے مکھی بے گئی‘ یعنی سب تیاری کرلی لیکن آخری لمحے میں سب کچھ خاک ہوگیا۔ یہ کہاوت مجھے گجرات کے وزیر اعلی بنتے بنتے رہ گئے نتن پٹیل پر فٹ لگتی ہے۔ خبروں کے مطابق آنندی بین کے استعفے کے بعد نتن پٹیل کا نام اگلے وزیر اعلی کے طور پر سارا دن گونجتا رہا۔ ان کے گھر پر خاص پوجا ہو چکی تھی، مٹھائیاں بھی بٹ گئی تھیں۔ نتن اپنے سی ایم ایجنڈے پر میڈیا میں انٹرویو بھی دے رہے تھے لیکن شام چار بجے کے بعد یکایک حالات بدلے اور دو گھنٹے بعد بھاجپا کے پردیش پردھان وجے روپانی کو سی ایم بنانے کا اعلان کردیا گیا۔ گجرات میں جمعہ کو جو ہائی وولٹیج ڈرامہ ہوا اس سے نہ صرف امت شاہ کی سیاسی طاقت کا احساس ہو بلکہ یہ بھی صاف ہوگیا کہ وزیر اعظم مودی اور شاہ کی جوڑی کی حکمت عملی سامنے آگئی۔سب بھاجپائی بونے ہیں۔ دراصل ریاست میں گزشتہ ایک سال سے بھی زیادہ وقت سے بھڑکے پٹیل ریزرویشن آندولن اور اونا میں دلتوں کی پٹائی معاملے کے قومی سطح پر چھا جانے کے بعد مانا جارہا تھا کہ نیا وزیر اعلی انہی برادریوں سے چنا جائے گا مگر سال 2001ء میں وزیر اعلی کے عہدے پر جس طرح لیک اور پرانے فارمولہ کو کنارے رکھ کر پٹیل برادری کے بے شمار کیشوبھائی پٹیل کی جگہ نریندر مودی کو حکومت کی کمان دے دی تھی ٹھیک اسی طرح ایک بار پھر پٹیل برادری پر ویشیہ برادری کو ترجیح دی گئی۔ اب کی بار مودی نے گجرات کو چونکایا ٹھیک اسی طرح جیسے پہلے مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ اور پھر مرکز میں اسمرتی ایرانی کو چونکایا تھا۔ مودی شاہ کو پولیٹیکل پنڈتوں کو غلط ثابت کرنے میں مزہ آتا ہے۔ چاروں ریاستوں میں تجربہ اور ذات پات تجزیوں کو درکنار کر مودی نیا چہرہ لے کر آئے ہیں۔دو گھنٹے کے ہائی وولٹیج ڈرامے میں چار بجے امت شاہ ، آنندی بین، نتن گڈکری اور پارٹی جنرل سکریٹری سروج پانڈے، مدھیہ پردیش انچارج دنیش شرما اورجوائنٹ تنظیم سکریٹری وی ستیش کی میٹنگ شروع ہوئی اس میں شاہ اور آنندی بین کے درمیان تلخ بحث ہوئی۔ شاہ نتن کے نام پر راضی نہیں تھے اس سے جھلائی آنندی بین نے شاہ پر اپنی سرکار کمزور کرنے کا الزام بھی جڑ دیا۔ کہا پارٹی دار آندولن کی پلاننگ اس لئے بنائی گئی اس درمیان وی ستیش نے باہر آکر نریندر مودی سے بات کی ۔ اس کے بعد نتن پٹیل کو نائب وزیر اعلی بنانے کا فارمولہ سامنے آیا۔ بعد میں اسمبلی پارٹی نے بھی اس پر مہر لگادی۔60 سالہ روپانی کی پیدائش انگن میں ہوئی تھی۔ جین فرقے کے جی۔ روپانی اب گجرات کے 16 ویں وزیر اعلی بن گئے ہیں۔
(انل نریندر)

فیصلے کے بعد کیا ٹکراؤ کے حالات بند ہوں گے

دہلی ہائی کورٹ کے قومی راجدھانی علاقہ دہلی کی آئینی پوزیشن واضح کر دینے کے بعد صاف ہوگیا ہے یہ ایک مرکز کے زیر انتظام ریاست ہی ہے اور لیفٹیننٹ گورنر ہی دہلی کے ایڈمنسٹریٹیو چیف ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں کچھ بھی نیا یا چونکانے والا نہیں ہے پھر بھی اگر وزیر اعلی اروندر کیجریوال کہتے ہیں کہ وہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے ،(پتہ چلا ہے کہ سرکار چلی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے اپیل کو سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے)ظاہر ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ دہلی کے چنے ہوئے نمائندے ہیں۔ دہلی سے متعلق فیصلے کرنے کا انہیں حق ہے۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے دہلی کو مرکز کے زیر انتظام ریاست ہونے کے ثبوت کی تصدیق کردی ہے اور اسی بنیاد پر ، متعلقہ آئینی تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی میں لیفٹیننٹ گورنر ہی ایڈ منسٹریٹو چیف ہے اور وہ مکھیہ منتری یا ان کی کیبنٹ کی صلاح ماننے کو مجبور نہیں ہے۔ یہی نہیں ہائی کورٹ نے یہاں تک کہا ہے دہلی سرکار کو حکم پاس کرنے کے لئے ان معاملوں میں بھی لیفٹیننٹ گورنر کی رائے لینی ہوگی جو اسمبلی کے تحت آتے ہیں۔ظاہر ہے ہائی کورٹ کا فیصلہ وزیر اعلی اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔ ہائی کورٹ نے ان سارے نکتوں پر فیصلہ دے دیا ہے جو دہلی سرکار اپیل میں لے کر عدالت گئی تھی۔ اس فیصلے کا لب و لباب یہی ہے کہ آئین کی دفعہ 239 اے اے جوڑنے سے دہلی کے مرکزی ریاست ہونے کی پوزیشن میں فرق نہیں آتا۔ اسے دیگر مرکزی ریاستوں سے زیادہ خاص اختیار ضرور دئے گئے ہیں لیکن یہ عام ریاستوں کی طرح نہیں ہے۔ پبلک سسٹم ، زمین ، قانون و نظام، سروس دہلی سرکار کے ماتحت نہیں ہے جن معاملوں میں اسے حق ہے ، اس میں بھی لیفٹیننٹ گورنر کی مرضی سے اسے کام کرنا ہے۔ اصل میں کیجریوال قانونی لڑائی کے ساتھ ہی دہلی کو مکمل ریاست بنائے جانے کے مسئلے کو سیاسی لڑائی طرح پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر فی الحال وہ قانون کے ساتھ ہی سیاسی مورچے پر بھی پست ہوگئے ہیں۔ مثلاً اس فیصلے نے صاف کردیا ہے کہ دہلی کی ریاستی حکومت کو بغیر لیفٹیننٹ گورنر کے نہ تو انکوائری کمیشن کا اختیار ہے اور نہ ہی کوئی پالیسی ساز فیصلہ لے سکتی ہے۔اس فیصلے کے بعد کیجریوال سرکار کے وہ سارے فیصلے و قدم غیر آئینی ہوگئے ہیں جو انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی رضامندی اور اجازت کے بغیر اٹھائے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف قانونی ہی نہیں بلکہ سیاسی شکست بھی ہے اس سے دہلی ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) کے مبینہ کرپشن جس میں نشانے پر وزیر مالیات ارون جیٹلی تھے ، اور ڈی ٹی سی بسوں میں سی این جی کٹ لگانے سے متعلق مبینہ گھوٹالہ ، جس میں سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت نشانے پر تھیں کی جانچ کے لئے قائم دونوں کمیشن بے معنی ہوگئے ہیں۔ عدالت نے صاف کہا ہے کہ جانچ بٹھانا دہلی سرکار کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اس لئے کیجریوال اس کے ذریعے سے جو سیاسی لڑائی لڑنے کی کوشش کررہے تھے وہ ناکام ہوگئی ہے اور اس کی تکلیف ان کے اندر ہوگی۔ دہلی کی عوام نے جن توقعات اور امیدروں سے عام آدمی پارٹی کو شاندار اکثریت دی تھی اسے پورا کرنے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر و مرکزی سرکار کے ساتھ مل کر کام کرنے میں ہی کیجریوال کی ٹیم کی سمجھداری ہے اسے غیر ضروری ٹکراؤ سے بچنا چاہئے۔ تازہ فیصلہ کے پس منظر میں یہ توقع کرنی چاہئے کہ مرکز کی مودی سرکار بھی بڑکپن دکھائے گی اور تعاون اور فیڈرل ازم کے اپنے نظریئے کے مطابق عاپ کی حکومت کے دائرے میں آنے والے سیکٹروں میں غیر ضروری مداخلت نہیں کرے گی۔ 
(انل نریندر)

07 اگست 2016

راجناتھ نے پاکستان کو ان کے گھر میں ہی کھری کھری سنائی

بھارت نے دہشت گردی کے اشو کو لیکر پاکستان کو اس کے گھر میں ہی کھری کھوٹی سنادی۔ میں بات کررہا ہوں اسلام آباد میں ہوئی سارک کانفرنس میں ہندوستان کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی تقریر کی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا صرف دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مذمت کافی نہیں ہے اور اچھا آتنک وادی یا برا آتنک وادی نہیں ہوتا۔ جمعہ کو پاکستان کو سخت سندیش دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ دہشت گرد گروپوں کو فروغ دینا اور آتنک وادیوں کی خوش آمدی بند کرے۔ اس پر حیرت نہیں ہوئی کہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کو لیکر پاکستان میں کہیں کوئی گرمجوشی نہیں دکھائی دی الٹے ان کے اسلام آباد سارک کانفرنس میں پہنچنے کے وقت دہشت گرد سرغناؤں کی رہنمائی میں مظاہرے ہوئے اور خود پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کشمیر کے مسئلے پر دہشت گردوں کی زبان بولتے ہوئے نظر آئے۔ یہ بالکل غیر متوقع حالات تھے۔ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں سارک کانفرنس کیلئے گئے وزیر داخلہ کوئی باہمی بات چیت ہیں کریں گے اس کی امید تو تھی لیکن ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے کہ ان کی تقریر پوری طرح سے بلیک آؤٹ کردی جائے گی اور وہ پاک کے وزیر داخلہ کا لنچ بھی بیچ میں چھوڑ کر واپس آجائیں گے یہ تصور نہیں کیا گیا تھا۔ اگر آٹھوں سارک ممبر ملکوں میں صرف بھارت کے وزیر داخلہ کی تقریر کا بلیک آؤٹ کیا گیا تو یہ صرف راجناتھ کے وقار کی توہین نہیں بلکہ ہندوستان کی بے عزتی بھی ہے۔ عام طور پر ایسی کانفرنسوں کے دوران ایک دوسرے ملکوں کے نمائندے رسمی نہ صحیح غیر رسمی بات چیت کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ تو ایسا بھی نہیں ہوا۔ یہ اچھا ہوا دہشت گردی پر لگام لگانے اور اسمگلنگ روکنے کے مقصد سے منعقدہ سارک کانفرنس میں ہندوستان کے وزیر داخلہ نے پاکستان کو کھری کھوٹی سنانے میں کوئی تکلف نہیں کیا۔ وزیر داخلہ نے اپنی تقریر ہندی میں دیتے ہوئے کہا کہ ایک دیش کا آتنک وادی کسی دوسرے کیلئے شہید یا مجاہد آزادی نہیں ہوسکتا۔ میں صرف بھارت یا سارک کے دیگر ممبروں کی طرف سے نہیں بلکہ پوری انسانیت کی طرف سے بول رہا ہوں۔ میں درخواست کررہا ہوں کہ کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کو شہید کے طور پر ان کی تعریف نہیں کی جانی چاہئے۔ ہندوستانی میڈیا کو پاکستانی حکام سے دور رکھا گیا اس کی وجہ بھارت کے ایک سینئر افسر اور ایک پاکستانی افسر کے درمیان کہا سنی بھی ہوگئی۔ ہندوستانی حکام نے کہا کہ دہشت گرد برہان وانی کی موت کے بعد بھارت ۔ پاکستان رشتوں میں آئی سرد مہری اس کانفرنس میں صاف طور پر دکھائی دی۔ اس دورہ اور تلخی سے ہند۔ پاک دونوں دیش ایک دوسرے سے دور ہو جائیں گے۔ راجناتھ نے ممبئی حملہ کے مجرم حافظ سعید اور پٹھانکوٹ حملہ کے آتنک اظہر مسعود کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے لئے بھی پاکستان کو کھری کھری سنائی۔ انہوں نے کہا جن تنظیموں اور اشخاص کو دنیا آتنکی قرار دے چکی ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ ان کا اشارہ اقوام متحدہ کے ذریعے لشکر طیبہ، جماعت الدعوی اور جیش محمد کو آتنکی تنظیم اور حافظ سعید کو آتنکی قرار دئے جانے کی طرف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بعد ہی ممبئی اور پٹھانکوٹ حملہ کے متاثرین کو انصاف مل سکے گا۔ سارک کے ذریعے تعاون کی کوئی بھی پہل کی امید نہیں تھی یہ اس لئے آگے نہیں بڑھ پا رہی کیونکہ پاکستان اڑنگا ڈالنے کی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ پاکستان کی وجہ سے سارک ایک ناکام تنظیم کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ بھارت کو پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی پالیسی پر چلتے رہنا چاہئے۔ راجناتھ سنگھ کا یہ دورہ بھی اس مہم میں ایک کڑی تھا۔
(انل نریندر)

کیا راجدھانی دہلی ’’اڑتا پنجاب‘‘ کی طرف گامزن ہے

دیش کی راجدھانی دہلی میں بڑی مقدار میں اسمگلنگ کر لائے جانے والی ڈرگس پکڑی جار ہی ہیں۔ پچھلے دنوں دہلی پولیس نے دو بڑی کھیپ ضبط کی ہیں۔ ایسے میں ایک بار پھر سوال اٹھ رہا ہے کیا راجدھانی اڑتا پنجاب کی راہ پر چل رہی ہے؟ کیا راجدھانی اب ڈرگس کی کیپٹل بنتی جارہی ہے؟ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے منگلوار کو میفیڈرون( میاؤں میاؤں) ڈرگس کی اسمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ پولیس نے 14 کلو ڈرگس کے ساتھ 8 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ برآمد ڈرگس کی عالمی مارکٹ میں قیمت 50 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ ’’میاؤں میاؤں ‘‘ ڈرگس کا اصلی نام ’’میفیڈرون‘‘ ہے۔ یہ خاص طور سے ریو پارٹیوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ خطرناک ڈرگس کوکن کی متبادل ڈرگس مانی جاتی ہے۔ نوجوانوں کی نسوں میں زہر پھیلانے کے لئے خلیجی و یوروپی ممالک سے بھیجی جارہی ڈرگس کے گروہ میں کسٹم افسران بھی شامل ہیں۔ اسپیشل سیل کے ذریعے پکڑے گئے اسمگلروں کے پاس سے جو ڈرگس برآمد کی گئی وہ اندرا گاندھی ایئر پورٹ پر تعینات کسٹم انسپکٹر پونت کمار نے ہی غیر قانونی طریقے سے اسمگلروں کو بھیجی تھی۔ اسپیشل سیل کے ذرائع کے مطابق ڈی آر آئی نے 20 فروری2015 ء کو آئی جی آئی پر 520 کلو ڈرگس پکڑی تھی جسے ڈی آر آئی نے ضبط کیا تھا۔ اسپیشل سیل کے ذریعے گرفتار کئے گئے ڈرگس اسمگلر مہندر سنگھ رانا نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ اسے 21 کلو ڈرگس آئی جی آئی ایئر پورٹ پر تعینات کسٹم انسپکٹر پنت کمار نے دستیاب کرائی تھی۔ اسپیشل سیل کے ذرائع کی مانیں تو خلیجی اور یوروپی ممالک سے ڈرگس کی اسمگلنگ کیئر کے ذریعے ہوتی ہے یا پھر بریف کیس میں رکھ کر اسمگلر ڈرگس لے کر بھارت آتے ہیں۔ سیل کے مطابق ایئر پورٹ پر کسٹم حکام سے ڈرگس اسمگلروں کی سانٹھ گانٹھ کے سبب ڈرگ پکڑی نہیں جاتی وہیں بریف کیس میں چھپاکر لانے پر اسکینر میں پکڑی نہیں جاتی۔ مالے خانے میں 520 کلو ’میاؤں میاؤں‘ ڈرگس رکھی ہوئی تھی اس میں سے18 کلو200 گرام برآمدکی گئی۔ ریکٹ کے سرغنہ نے اپنے ہی مال کو واپس خریدہ تھا اور کسٹم انسپکٹر کو کافی کم قیمت دے کر خریدی گئی تھی۔دہلی میں ڈرگس مافیہ کافی سرگرم ہے۔ ان کا نشانہ کالج و ہاسٹل ہیں۔ وہ دوستوں کی شکل میں پہنچ کر ڈرگس سپلائی شروع کرتے ہیں اور لمبی پہنچ ہونے کے سبب پکڑے بھی نہیں جاتے۔ پوری دہلی ڈرگس کیپٹل دکھائی پڑتی نظر آرہی ہے۔ پرانی دہلی کا سب سے برا حال ہے۔ نشیڑیوں نے پارکوں ، چوراہوں اور مذہبی مقامات پر ڈیرا جمایا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان ڈرگس کی زد میں ہیں کوڑا بیننے والے بچوں سے لیکر رئیس زادے تک اس کے عادی ہیں۔ نوجوان گروپ پبلک مقامات پر سگریٹ میں گانجا بھرکر پیتے نظر آتے ہیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...