24 مئی 2012
اوبامہ نے زرداری سے ملنے سے انکار کیا
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری ایتوار کی شام شروع ہوئی شکاگو میں نیٹو کانفرنس میں شرکت کرنے اس مقصد سے گئے تھے کہ شاید پاکستان اور امریکہ کے بگڑتے رشتوں میں تھوڑی بہتری آسکے اور دونوں کے آپسی رشتوں کو نئی راہ مل سکے لیکن زرداری صاحب کو کوئی خاطر خواہ کامیابی فی الحال ملتی نظر نہیں آئی۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے جناب زرداری صاحب سے ملنے سے انکارکردیا اور صاف کہہ دیا نیٹو سپلائی راستہ کھولنے پر معاہدے کے بغیر ملاقات ممکن نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان جو کڑواہٹ ختم ہونے کی امیدیں پیدا ہوئی تھیں وہ بھی اب تاریک ہوگئیں۔ دوسری جانب افغانستان میں موجودہ نیٹو فورسز تک سپلائی کے لئے پاکستانی زمین کے استعمال کا معاملہ بھی پھنس گیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اوبامہ نے زرداری سے ملنے کا وقت نہیں نکالا۔ زخم پر نمک چھڑکنے کی نیت سے اوبامہ نے جن ملکوں کا افغانستان میں فوج کو سامان کی سپلائی کے لئے شکریہ کیا ان میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا۔ اسے صاف طور پر پاکستان کو نظر انداز کیا جانا مانا جاسکتا ہے۔ پیر کے روز شکاگو میں ہوئی نیٹو کانفرنس کے دوسرے اور آخری دن براک اوبامہ نے کہا کہ میں صدر حامد کرزئی کے علاقہ مشرقی وسطیٰ اور روس کے حکام کو افغانستان میں بین الاقوامی سکیورٹی اور فورسز کو اہم راہ داری مہیا کروانے کے لئے خیر مقدم کرتا ہوں۔ امریکہ اور پاکستان میں تازہ کشیدگی پچھلے سال ایک پاکستانی سلالہ چوکی پر امریکی حملے میں 24 پاکستانی فوجی مارے جانے کی وجہ سے بنی ہوئی ہے۔ اس حملے کے بعد پاکستان نے اپنے ملک کے اندر نیٹو کے لئے سامان ڈھونے والے امریکی ٹرکوں کی آمدورفت پر روک لگا رکھی ہے۔ امریکہ نے اس امید سے زرداری کو نیٹو کانفرنس میں بلایا تھا کہ وہ پاکستان ۔افغانستان سرحد کو نیٹو کی سپلائی لائن کے طور پر کھولنے کے لئے راضی ہوجائے گا لیکن پاکستان نے اس سپلائی روٹ کو کھولنے اور اپنی سڑکوں کے استعمال کے بدلے تین شرطیں رکھیں۔ یہ ہیں پاکستانی فوجیوں کی موت کے لئے شارے عام طور پر معافی، پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی پالیسی پر نظرثانی اور پاکستانی سڑکوں کے استعمال کرنے کیلئے موجودہ فیس کو ڈھائی سو ڈالر سے بڑھا کر پانچ ہزار ڈالر کیا جائے۔ امریکہ پاکستان کی ان شرطوں کو ماننے کے موڈ میں نہیں لگتا اور دو روزہ اس نیٹو کانفرنس میں 28 ممبران سمیت50 ملکوں کے سربراہ مملکت اور نمائندوں سے حصہ لیا۔ نیٹو سپلائی کے اشو پر اوبامہ نے کانفرنس کے بعد کہا کہ ہمیں امید نہیں تھی کہ اس کانفرنس کے دوران نیٹو سپلائی کا تعطل دور ہوجائے گا لیکن ہم پاکستان کے ساتھ اس کو سلجھانے کیلئے حتی الامکان کوشش کررہے ہیں۔ براک اوبامہ نے کہا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان رشتوں میں تلخی آرہی ہے لیکن یہ ہمارے اور پاکستان دونوں کے حق میں ہے کے ہم مل کر کٹر پسندی کے خلاف کام کریں۔ حالانکہ اوبامہ نے یہ مانا کے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے سبب افغانستان میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آخری وقت میں شکاگو کانفرنس میں زرداری کو دعوت ملنے کے بعد لگنے لگا تھا کہ شاید اب دونوں ملکوں میں دوریا ں کم ہوجائیں گی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ زرداری اس امید سے اوبامہ کے آبائی شہر شکاگو پہنچے تھے کہ شاید انہیں امریکی صدر سے سیدھے بات چیت کرنے کا موقعہ ملے۔ افغان صدر حامد کرزئی کو تو موقعہ مل گیا لیکن آصف زرداری کو نہیں ملا۔ جس تھوڑے سے وقفے کے لئے اوبامہ نے زرداری سے بات کی اس کے بارے میں کرزئی نے سی این این کو بتایا کہ یہ محض ایک فوٹو گراف کھنچوانے کا موقعہ تھا لیکن کشیدگی جاری ہے۔ امریکہ کو 2014ء تک افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا ہے اور ہمیں نہیں لگتا کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر وہ ایسا کرسکے گا۔ اس لئے یہ نوراکشتی کچھ اور وقت تک جاری رہے گی اور سودے بازی ہوتی رہے گی اور آخر میں امریکہ کو ہی جھکنا پڑے گا۔
01 مئی 2012
یوں ہوا اسامہ بن لادن کا خاتمہ
Published On 1 May 2012
انل نریندر
امریکہ کی نامور میگزین دی ٹائم نے پہلی مرتبہ اسامہ بن لادن کے متعلق ایک خفیہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں صدر براک اوبامہ نے لادن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس پورے آپریشن کی ساری کارروائی پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہے لیکن میگزین ٹائم کی رپورٹ ایک طرح سے پختہ رپورٹ مانی جاسکتی ہے۔ خفیہ میمو میں اوبامہ نے بحریہ کے سیلس کمانڈو کی ایک ٹیم کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے سے پکڑنے کے احکامات دئے تھے۔ اس میمو پر سی آئی اے کے اس وقت کے چیف لیون پینیٹا نے بھی دستخط کئے ہیں۔ اسامہ کے ٹھکانے پر نہ ملنے کی صورت میں اس کو تلاش کرنے کے بعد ہی لوٹنے کا دیا تھااب جبکہ اسامہ بن لادن کی موت کو ایک سال ہوجائے گا میمو میں مزید کہا گیا تھا کہ وقت اور آپریشن کے چلانے اور فیصلے اور حملے کے کنٹرول سے متعلق سبھی معاملات کی کمان ایڈمرل میکربین کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ اسامہ پر فیصلہ لئے جانے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں مہینوں چلی خفیہ و مشکل تبادلہ خیالات پر ٹائم میگزین نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے لئے اوبامہ صدارتی عہدے کا داؤ لگا رہے تھے۔ دنیا کے انتہائی مطلوب شخص کو پاکستان میں امریکی کمانڈو بھیج کر پکڑنے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اسامہ کے ساتھ آخری مڈبھیڑ پر ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ اندھیری رات تھی ،بجلی گل تھی اورگھپ اندھیرا تھا اس نے اسامہ کی بے چینی بڑھا دی۔اس نے اس گیٹ کو کھولا جو اس کے کمرے تک پہنچنے کے سبھی راستوں کو بند کرتاتھا اور گیٹ کو صرف اندر سے ہی کھولا جاسکتا تھا۔اس نے یہ دیکھنے کیلئے سر باہر نکالا کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟ فوراً وہ سیلس کمانڈوں کی نظروں میں آگیا اور وہ سیڑھیوں پر چڑھ گئے۔ اسامہ نے ایک بڑی غلطی اور کردی، وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا جس سے کمانڈو سیدھے اس کے کمرے میں دھابہ بول دیا۔ کمانڈو نے لادن کے سینے اور بائیں آنکھ میں گولیاں مالیں۔ اس سے اسے موقعہ پر ہی ماردیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ ایک ناقابل بیاں منظر تھا۔ اس کے دماغ کے پرخچے اڑ گئے اور چھت سے جا چپکے۔ اس کا کچھ حصہ آنکھوں سے باہر نکل آیا۔ بستر کے نزدیک کی جگہ بھی اسامہ کے خون سے لت پت ہوگئی۔ ایک دہائی سے چھپتا پھر رہا اسامہ بیحد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ بچ کر نکلنے کی اس نے کئی اسکیمیں نہیں بنائی تھیں اس کے گھر سے کوئی خفیہ راستہ باہر نہیں جاتا تھا۔ لادن مارے جانے سے پہلے پاکستان میں کئی حملوں کی اسکیم بنا رہا تھا۔ ایبٹ آباد کمپلیکس سے ملے دستاویز سے ایک بات سامنے آئی ہے۔ میڈیا میں شائع رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ لادن نے القاعدہ کے نمبر دو سرغنہ ایمن الظواہری اور بڑے آتنکیوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر بہت سے حملوں کی اسکیم بنائی تھی۔ ادھر امریکہ کی ایک فیڈرل عدالت نے لادن کو تقریباً ایک برس پہلے پاکستان میں مارے جانے کے ویڈیو اور تصویریں جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد لادن کی لاش کو سمندر میں دفنا دیا گیا لیکن سکیورٹی وجوہات سے اس آپریشن سے وابستہ ویڈیو اورتصویریں پبلک کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں۔ اسامہ بن لادن کی برسی سے چند دن پہلے پاکستان نے اس کی تین بیوہ بیویوں سمیت 14 رشتے داروں کو ملک سے نکال کر سعودی عرب بھیج دیا ہے۔ سخت حفاظت کے درمیان لادن کے خاندان کو درمیانی رات میں راولپنڈی کے چکلال فوجی ہوائی اڈے سے لیجایا گیا جہاں سے خاص جہاز سے انہیں سعودی عرب بھیج دیاگیا۔ لادن پچھلے سال 2 مئی کو مارا گیا تھا۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Vir
Arjun
25 دسمبر 2011
نو سال بعد امریکی عراق سے کھسکے
Published On 25th December 2011
انل نریندر
صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے چھیڑی گئی جنگ کے 9 سال بعد امریکہ کی آخری فوجی ایتوار کی صبح عراق کی سرحد پار کرکویت میں داخل ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کا عراق پر حملہ ایک طرح سے ختم ہوگیا ہے۔ ایک سادہ تقریب میں اپنے فوجی بیڑے کو اتارنے کے ساتھ ہی پچھلے 9 سال سے جاری امریکی فوجی کارروائی کا خاتمہ ہوگیا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ جب امریکی فوجیوں کی آخری ٹکڑی عراق چھوڑ رہی تھی اس وقت عراقی فوجی بیرکوں میں سو رہے تھے۔ جن فوجیوں نے 9 سال تک امریکی اتحاد کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر 'دہشت گردی کے خلاف لڑائی ' لڑی تھی انہوں نے شکر منایا کہ امریکی ان کے دیش سے چلے گئے۔ اب امریکی سفارتخانے پر 100 کے قریب سینک ہی بچے ہیں۔ ایک وقت تھا جب عراق میں 505 ٹھکانوں میں تقریباً1 لاکھ70 ہزار فوجی تھے۔ سارجنٹ ہومان آسٹن نے کویت میں اپنی گاڑی سے نکلنے کے بعد کہا کہ عراق سے نکلنا اچھا لگا۔ سابق صدر جارج بش دوئم کے ذریعے 'وار آن ٹریرر اینڈ ڈسٹکشن آف ماسک آف ماسک ڈسٹکشن کمپین' میں قریب ساڑھے چار ہزار قریبی اور ایک لاکھ عراقی لوگوں کی جانیں گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اس خطرناک جنگ نے امریکہ کو دیوالیہ بنوادیا اور امریکہ کے خزانے سے800 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ 17.5 کروڑ عراقی بے گھر ہوگئے۔ امریکی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ ہی عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی، تشدد اور سیاسی عدم استحکام کی پریشانی ستا رہی ہے۔ امریکہ اپنی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کہا کہ امریکی اور عراقی لوگوں کے خون بہانے کے بعد آخر کار عراق کے خود پر حکومت کرپانے اور اپنی سلامتی یقینی کرنے کا مقصد پورا ہوگیا ہے۔ صدام حسین کو تو پھانسی پر لٹکادیا گیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟پہلے سے زیادہ عدم استحکام ہوگیا ہے اور آج دیش میں سیاسی ٹکراؤ کے حالات بنے ہوئے ہیں۔ عراق میں آج بھی سنی ۔شیعہ لڑائی ، نازک اقتدار میں سانجھیداری، بدعنوانی اور کمزور معیشت کے ساتھ جنگ لڑ رہا ہے۔ القاعدہ نے عراق کے فالوجا کو اپنا گڑھ بنا لیا ہے اور وہاں امریکی فوج کی واپسی کا باقاعدہ جشن منایا گیا۔ لوگوں نے امریکی جھنڈے جلائے اور اپنے بدعنوانی رشتے دارو ں کی تصویریں ہوا میں لہرائیں۔ صدر براک اوبامہ نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو بتایا کہ واشنگٹن اپنے فوجیوں کی واپسی کے بعدبھی اس کا رائل پارٹنر بنا رہے گا۔ آج تک ہمیں یہ نہیں سمجھ میں آیا کہ بش نے آخر عراق پر حملہ کیوں کیا؟ کہا گیا تھا کہ عراق میں صدام کے پاس تباہی کے ہتھیار ہیں اور ان پر قبضہ کرنا ضروری ہے لیکن 9 سال میں امریکہ ایک بھی ایسا ہتھیار یا فیکٹری نہیں دکھا سکا جس سے یہ الزام ثابت ہوتا۔ نہ تو عراق میں کوئی نیوکلیائی ہتھیار ملا اور نہ ہی وہاں کی عوام کو'' نجات'' ملی۔ اس کے برعکس' حملہ آور فوج' کے خلاف عراق میں بغاوت تب تک جاری رہی جب تک آخری غیر ملکی فوجی نے خاموشی سے ملک نہیں چھوڑا۔ کیا امریکہ کو یہ ڈر تھا کہ جاتے ہوئے فوجیوں پرباغی حملہ کردیں گے؟ حقیقی معنی میں امریکہ یہ جنگ جیت نہیں پایا اور نہ ہی اسے سیاسی کامیابی ملی۔ جو امریکہ کے حق میں کھڑے تھے وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ نئے حکمراں جو درپردہ طور سے امریکہ کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے زیادہ دنوں تک امریکہ کے مشورے سے بندھے ہوئے نہیں رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ عراق کو امریکہ نے گنوا دیا ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ واشنگٹن کبھی بھی بغداد کو جیت نہیں سکا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عراقیوں نے غیر ملکی قبضے کے خلاف لڑائی چھوڑدی ہے۔ کیا یہ مانا جائے کے امریکی فوجی مہم کا بھی وہی حشر ہوا جو ویتنام میں ہوا تھا۔ بیشک آج امریکہ دعوی کرے اس نے یہ جنگ جیت لی ہے لیکن حقیقت یہ ہے امریکہ یہاں بھی جنگ ہارگیا ہے۔ کم سے کم وہ مقصد پورا نہیں کرسکا جس کے لئے وہ عراق گیا تھا۔ عراق کے سامنے شاید آج سب سے بڑی چنوتی دیش میں عدم استحکام لانے کی ہے۔ سیاسی استحکام اور اقتصادی مضبوطی اور یہ کام آسان نہیں ہوگا۔ امریکی فوجی مہم کے سبب پورے مشرقی وسطیٰ میں کٹر واد کو بڑھاوا ملا ہے۔ القاعدہ کو پاؤں پھیلانے کا موقعہ ملا ہے پھر شیعہ، سنی ، کرد لڑائی تیز ہوئی ہے۔ آج عراق میں اقتدار کے کئی مرکز بن گئے ہیں۔دیکھا جائے تو جنگ کے بعد عراقی قوم پرستی کے نام پر کچھ بھی نہیں بچا ہے بلکہ بٹا ہوا سماج چھوڑ کر امریکی بھاگ گئے ہیں۔ امریکی اپنے پیچھے 30 کرور ڈالر کے ہتھیار عراقی فوج کے ممکنہ استعمال کے لئے بھی چھوڑ گئے ہیں کیونکہ انہیں افغانستان واپس امریکہ لے جانے کا خرچ بہت زیادہ ہوسکتا تھا۔ امریکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صدر براک اوبامہ نے اپنا وعدہ نبھایا ہے۔ اوبامہ نے چناؤ مہم کے دوران انہوں نے عراق جنگ کے خلاف آپریشن چلایا تھا اور 2012 ء کے صدارتی چناؤ کا سامنا کرنے سے کافی پہلے ہی انہوں نے یہ وعدہ نبھادیا۔ امید ہے کہ عراق میں اس خطرناک فوجی آپریشن کے خاتمے سے امریکی معیشت پر بھی مرہم لگے گی۔ اور اس پر جو بوجھ تھا وہ بھی کم ہوگا۔ امریکی تاریخ میں یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ امریکہ نے عراقی فوجی آپریشن میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ جارج برش جونیئر ہیرو تھے یا ویلن؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Iraq, Labels: America, Obama, USA, Vir Arjun
09 نومبر 2011
26/11 ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈآئی ایس آئی تھی
بی بی سی نے دو حصوں میں حال ہی میں ایک پروگرام نشر کیا جسے ''سیکریٹ پاکستان'' کا نام دیا گیا تھا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں امریکی صدر براک اوبامہ کے مشیر رہے سی آئی اے کے افسر برس ریڈل کودکھایا گیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملے کے وقت صدر کو مطلع کیا تھا کہ ''ہر انگلی پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہے۔یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔'' پاکستان سے آئے آتنک وادیوں نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کے بڑے کئی اہم مقامات پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اوبامہ امریکی صدر منتخب ہوچکے تھے۔ حالانکہ انہوں نے حلف نہیں لیا تھا۔ امریکی سسٹم کے مطابق انہوں نے جنوری2009 ء میں حلف لیا تھا۔ ریڈل نے کہا ''میں نے پاکستانی صدر سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنا بند کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان برسوں سے امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے اس کے آگے بھی ایسا ہی کرتے رہنے کا اندیشہ ہے۔'' ریڈل نے کہا '' ان حملو ں میں ہر جگہ لشکر طیبہ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ حملوں کے آغاز سے لگنے لگا ہے کہ لشکر کی کرتوت ہے۔'' انہوں نے کہا ایک بار جب آپ لشکر سے ان حملوں کو جوڑتے ہیں تو آپ اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی جوڑیں گے۔ اس پیغام کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے ''سی آئی اے کو یہ جانکاری ملی تھی ممبئی حملے میں آئی ایس آئی سیدھے طور پر ملوث تھی۔ کابل میں جولائی 2008ء میں دھماکے سے لدی کار کو ہندوستانی سفارتخانے کے قریب اڑادیا گیا تھا۔ اس حملے میں 58 لوگ مارے گئے تھے اور 141 افراد زخمی ہوئے تھے۔ امریکی نائب صدر کے عہد میں کام کرچکے مائک والڈس کا کہنا ہے ''اطلاع اور سلسلہ وار پروگرام سے پوری طرح واقف ہوگیا تھا۔ کابل میں دھماکے کرنے والے حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی حمایت ملی ہوئی تھی۔ اس وقت کابل میں برطانوی سفیر شیرڈ کوپیرکولس نے کہا کہ آئی ایس آئی کا ایک چھوٹا گروپ حقانی نیٹ ورک کے رابطے میں ہے ۔اس کے بارے میں مغربی ملکوں کو کبھی معلومات نہیں ملی۔ اس پروگرام میں طالبان کے کچھ خود ساختہ کمانڈروں نے خلاصہ کیا کہ برطانیہ، امریکہ کے فوجیوں کے خلاف طالبان کی لڑائی میں پاکستان کی حمایت ملتی ہے۔ ایک خود ساختہ کمانڈر ملا عزیز اللہ کے مطابق آتنک وادیوں کے لئے ٹریننگ کیمپ چلا رہے ماہرین آئی ایس آئی کے ممبر ہیں اور ان کی کسی نہ کسی طریقے سے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے وابستگی ہے۔انہوں نے کہا وہ پہلے ہمیں دھماکوں کے بارے میں بتاتے ہیں اس کے بعد ہم لوگوں کو عام طور پر جانکاریاں دی جاتی ہیں۔ ٹریننگ کے وقت وہ کیمپ میں موجود رہتے ہیں۔ بی بی سی تو اپنی آزادانہ رپورٹنگ کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان کا ہر پروگرام سوچ سمجھ کر ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے۔ جب بی بی سی کہتا ہے کہ آئی ایس آئی ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈ تھی تو یہ ایک طرح سے صحیح ہی لگتا ہے۔
26/11, Anil Narendra, BBC TV, Daily Pratap, India, Mumbai, Obama, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun
25 اگست 2011
ایک اور عرب ڈکٹیٹر کی بدائی
Published On 25th August 2011
انل نریندر
مصر کے تحریر چوک سے شروع ہوئی عوامی آندھی اب لیبیا تک پوری طرح پہنچ چکی ہے۔ تقریباً 42 سال تک لیبیا میں راج کرنے والے کرنل معمر قذافی کاوقت قریب آگیا ہے۔ پیر کو راجدھانی ترپولی کے زیادہ تر حصے پر لیبیائی باغیوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ باغی لڑاکوں نے قذافی کے بیٹے اور ایک طرف ان کے جانشین رہے سیف علی اسلام کو پکڑ لیا ہے۔ سیف اپنے والد کے ساتھ عالمی کرمنل عدالت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کررہا ہے۔ نیٹو کی ترپولی اور آس پاس کے علاقوں میں بمباری جاری ہے۔ اس نے کہا ہے کہ جب تک قذافی حمایتی فوجی خود سپردگی نہیں کردیتے یا اپنے بیرک میں نہیں لوٹ جاتے تب تک بمباری جاری رکھی جائے گی۔قذافی لا پتہ ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ وہ پڑوسی ملک الجزائر فرار ہوگئے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ وہ کسی بنکر میں چھپے بیٹھے ہوں۔ قذافی کے اقتدار کی علامت ترپولی کے گرین چوک میں شہریوں کی خوشی منانے کے درمیان عالمی برادری نے لیبیائی لیڈرسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑدیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ سمیت کئی دنیا کے لیڈروں نے پیر کے روز کہا کہ لیبیا میں مستقبل کی شکل میں معمر قذافی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تشدد کے خاتمے کا یہ طریقہ کافی آسان ہے۔ کرنل قذافی اور ان کے عہد کو یہ بات قبول کرلینی چاہئے کہ ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ قذافی اب میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ قذافی کے پاس اقتدار میں بنے رہنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں ہے۔
اس میں کوئی شبہ اب نہیں لگتا کہ پچھلے42 سالوں سے لیبیا کے اقتدار پر قابض قذافی کی حکومت اب ڈھے جانے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جہاں باغیوں کا یہ کہنا کہ اگر قذافی اقتدار چھوڑنے کا اعلان کردیں تو وہ اپنی کارروائی روک سکتے ہیں۔ وہیں قذافی ان کی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے ریڈیو پیغام کے ذریعے قبائلی لوگوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ ترپولی آکر باغیوں سے جنگ کریں۔ ورنہ وہ فرانسیسی فوج کے خادم بن جائیں گے۔ ان کے اس قدم سے صاف ہے کہ وہ اب سمجھ چکے ہیں کہ ان کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں۔ پچھلے برس دسمبر میں تیونس کے جیسمین انقلاب اور پھر مصر میں حسنی مبارک کے عدم تشدد تختہ پلٹ کے بعد لیبیا میں قذافی کے خلاف بغاوت غیرمتوقع نہیں تھی۔ دراصل ان کے خلاف باغی تو فروری میں ہی اپنی تحریک چھیڑ چکے تھے جسے انجام تک پہنچنے میں اتنا وقت لگا ہے کہ اس کے پیچھے لیبیا کی فوجی مشینری پر قذافی کی پکڑ کار پتہ چلتا ہے۔ محض27 سال کی عمر میں قذافی نے1969 میں راجہ ادیس کو بے دخل کرکے لیبیا کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا میں سوویت روس کی رہنمائی میں سامراج اور امریکہ کے سرمایہ داری نظام کے درمیان لڑائی چل رہی تھی تب نوجوان قذافی نے اپنی گرین بک کے ذریعے اقتدار کا نیا خاکہ پیش کیاتھا اور اسے نام دیا تھا ’’جمہاریہ‘‘ مگرصحیح معنوں میں لیبیا میں جمہوریت کبھی نہیں آئی۔ کیونکہ وہاں سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ جس نوجوان نے جمہوریت کا خواب دکھایاتھا وہ بعد میں برسوں تک اپنی تاریکیوں میں غرق ہوتا چلا گیا۔ یہ ہی نہیں ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب قذافی نے امریکہ، فرانس وغیرہ ملکوں پر اسلامی جہادیوں کو حیران کرکھلی حمایت دی تھی۔ تبھی سے قذافی امریکہ اور مغربی ممالک کی آنکھ میں کانٹا بنا ہوا ہے۔آج اگر لیبیا میں باغی حاوی ہوگئے ہیں تو اس کے مغربی ممالک کو حمایت بھی ایک وجہ ہے۔ اس لئے اوبامہ نے قذافی سے کہا ہے کہ اب لیبیا میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے قذافی کے بعد کیا ہوگا؟ لیبیا کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ اگر موجودہ حکومت چلی بھی گئی تو کیا نئے قانون سسٹم وہاں نافذ ہوپائیں گے یا پھر بدامنی کا ماحول پیدا ہوگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ وہاں ایک نئے سرے سے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی یا بدلہ لینے پر زور دیا جائے گا؟ اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ نئے سسٹم میں اسلامی کٹر پنتھی پوری طرح سے حاوی ہوجائے۔ جیسے دیگر عرب ممالک میں ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ ڈر بھی موجود ہے کہ کہیں کرنل معمر قذافی کے ہٹنے کے بعد لیبیائی سماج بکھر نہ جائے۔ آنے والے کچھ مہینے لیبیا کے لئے کافی چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Libya, Obama, USA, Vir Arjunاس میں کوئی شبہ اب نہیں لگتا کہ پچھلے42 سالوں سے لیبیا کے اقتدار پر قابض قذافی کی حکومت اب ڈھے جانے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جہاں باغیوں کا یہ کہنا کہ اگر قذافی اقتدار چھوڑنے کا اعلان کردیں تو وہ اپنی کارروائی روک سکتے ہیں۔ وہیں قذافی ان کی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے ریڈیو پیغام کے ذریعے قبائلی لوگوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ ترپولی آکر باغیوں سے جنگ کریں۔ ورنہ وہ فرانسیسی فوج کے خادم بن جائیں گے۔ ان کے اس قدم سے صاف ہے کہ وہ اب سمجھ چکے ہیں کہ ان کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں۔ پچھلے برس دسمبر میں تیونس کے جیسمین انقلاب اور پھر مصر میں حسنی مبارک کے عدم تشدد تختہ پلٹ کے بعد لیبیا میں قذافی کے خلاف بغاوت غیرمتوقع نہیں تھی۔ دراصل ان کے خلاف باغی تو فروری میں ہی اپنی تحریک چھیڑ چکے تھے جسے انجام تک پہنچنے میں اتنا وقت لگا ہے کہ اس کے پیچھے لیبیا کی فوجی مشینری پر قذافی کی پکڑ کار پتہ چلتا ہے۔ محض27 سال کی عمر میں قذافی نے1969 میں راجہ ادیس کو بے دخل کرکے لیبیا کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا میں سوویت روس کی رہنمائی میں سامراج اور امریکہ کے سرمایہ داری نظام کے درمیان لڑائی چل رہی تھی تب نوجوان قذافی نے اپنی گرین بک کے ذریعے اقتدار کا نیا خاکہ پیش کیاتھا اور اسے نام دیا تھا ’’جمہاریہ‘‘ مگرصحیح معنوں میں لیبیا میں جمہوریت کبھی نہیں آئی۔ کیونکہ وہاں سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ جس نوجوان نے جمہوریت کا خواب دکھایاتھا وہ بعد میں برسوں تک اپنی تاریکیوں میں غرق ہوتا چلا گیا۔ یہ ہی نہیں ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب قذافی نے امریکہ، فرانس وغیرہ ملکوں پر اسلامی جہادیوں کو حیران کرکھلی حمایت دی تھی۔ تبھی سے قذافی امریکہ اور مغربی ممالک کی آنکھ میں کانٹا بنا ہوا ہے۔آج اگر لیبیا میں باغی حاوی ہوگئے ہیں تو اس کے مغربی ممالک کو حمایت بھی ایک وجہ ہے۔ اس لئے اوبامہ نے قذافی سے کہا ہے کہ اب لیبیا میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے قذافی کے بعد کیا ہوگا؟ لیبیا کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ اگر موجودہ حکومت چلی بھی گئی تو کیا نئے قانون سسٹم وہاں نافذ ہوپائیں گے یا پھر بدامنی کا ماحول پیدا ہوگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ وہاں ایک نئے سرے سے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی یا بدلہ لینے پر زور دیا جائے گا؟ اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ نئے سسٹم میں اسلامی کٹر پنتھی پوری طرح سے حاوی ہوجائے۔ جیسے دیگر عرب ممالک میں ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ ڈر بھی موجود ہے کہ کہیں کرنل معمر قذافی کے ہٹنے کے بعد لیبیائی سماج بکھر نہ جائے۔ آنے والے کچھ مہینے لیبیا کے لئے کافی چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
25 مئی 2011
اوبامہ کی دھمکی کا پاکستان نے اسی انداز میں دیا جواب
![]() |
| Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily |
25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ آپریشن اسامہ کارروائی دوہرانے میں دیر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران اوبامہ نے کہا اپنی سلامتی کے لئے وہ پاکستان میں دوبارہ اپنی فوج بھیجنے سے نہیں چوکیں گے۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکہ کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کے خلاف سازش اور رچی جائے،اس پر امریکہ کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا سرغنہ پاکستان میں پایا جاتا ہے تو امریکہ فوج کو دوبارہ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تئیں پاکستان کا جو دوہرا پیمانہ اس کی بڑی بھول ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس ذہنیت سے دور ہٹ کر کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کو محسوس کرے اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر ہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔
Tags: America, Anil Narendra, China, CIA, Daily Pratap, ISI, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Shuja Pasha, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)

