Translater

02 جنوری 2026

2025 کے دو واقعات جو ہمیشہ یاد رہیں گے!

2026آگیا ہے ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ یہ سال پچھلے سال سے ہر لحاظ سے بہتر ثابت ہو ۔2025 بدقسمتی سے اگر اسے حادثوں کا سال کہیں تو شاید غلط نہ ہوگا ۔2025 کا سال بھارت کے لئے جاسوسی بھرا رہا ۔2025 میں بھارت میں بڑے پانچ واقعات ہوئے جوشہریوں کے ذہن میں ہمیشہ کے لئے ذہن نشین ہوگئے جس میں پہلگام آتنکی واردات،پریاگ راج مہاکمبھ بھگدڑ، احمد آباد جہاز حادثہ ،نئی دہلی ریلوے اسٹیش اور دہلی آتنکی حملہ شامل ہیں ۔22 اپریل 2025 بھارت کےلئے کبھی نہ بھولنے والی تاریخ ہے اس دن جموں وکشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ۔اس میں 26 بے قصور لوگوں کی موت ہو گئی تھی ۔اس حملے کی ذمہ داری لشکر طیبہ کی ایک تنظیم نے لی تھی ۔منگلوار کے دن وادی میں آتنکیوں نے یہ بزدلانہ حرکت سے منی سوئزرلینڈ کہا جانے والایہ مقام خطرناک حملہ کیا گیا ۔وہیں دنیا کا سب سے بڑا دھارمک میلا پریاگ راج مہا کمبھ ویسے تو کامیاب رہا ۔لیکن 29 جنوری 2025 کو جو وہاں بھگدڑ مچی اس سے ایک بدنما داغ لگ گیا جس میں قریب 40 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہوئے تھے ۔یہ حادثہ مونی اماوسیہ کے دن ابھرت اسنان کے دوران ہوئے ۔11 فروری 2025 کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر مچی بھگدڑ میں 18 لوگوں کی موت ہو گئی تھی یہ لوگ پریاگ راج مہا کمبھ جانے کے لئے اسٹیشن پر ٹرین کا انتظار کررہے تھے لیکن ٹرین کا پلیٹ فارم بدلنے کے چلتے یہ بھگدڑ مچ گئی تھی ۔اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 13 اور 14 پر سنیچر کو لیٹ ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی جب مسافروں کے درمیان پریاگ راج جارہی دونوں ٹرینوں کے منسوخ ہونے کی افواہ پھیل گئی تھی ۔12 جون 2025 یہ تاریخ بھارت کو کبھی نہ بھولنے والی ڈیٹ ہے ۔اس دن احمد آباد سے لندن جارہی پرواز ایئر انڈیا کے اڑان بھرنے کے محض 30 سکنڈ بعد کریش ہوگیا ۔اس بوئنگ جہاز 783 ڈریم لائنر میں پائلٹ سمیت 242 لوگ سوار تھے جس میں 241 مارے گئے تھے ۔صرف ایک مسافر بچا تھا اس طیارہ حادثہ میں بی جے پی کے سینئرلیڈر اور گجرات کے سابق وزیراعلیٰ وجے روپانی کی بھی موت ہو گئی تھی ۔ہندوستانی تاریخ کی سب سے بڑی جہازی حادثہ میں سے ایک مانی جارہی ہے۔ اس واقعہ نے ہر کسی کو غمزدہ کر دیا ۔آخر میں اس فہرست میں دہلی کے لال قلعہ آتنکی حملہ آتا ہے ۔ویسے تو پورے دیش میں اور کئی حادثہ ہوئے میں نے صر ف کچھ اہم حادثوں کا ذکر کیا ہے ۔لال قلعہ دھماکہ دس نومبر 2025 کو میٹر واسٹیشن کے پاس ہوا تھا ۔کیوں کہ ریڈ لائٹ پر ایک سفید رنگ کی ٹوٹی ہوئی کار میں دھماکہ ہونے سے 12 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے ۔چھان بین کے بعد سامنے آیا ہنڈئی کار آئی ۔20 چلانے والاڈرائیور شخص محمد عمر عرف عمر النبی تھا ۔اس کے بعد اس کے تار الفلاح یونیورسٹی سے جڑے ۔ڈاکٹروں کے ایک نہایت خطرناک آتنکی نیٹورک کا پردہ فاش ہوا ابھی بھی اس کی جانچ جاری ہے ۔فرید آباد میں گرفتار شخص مزمل کے گھر سے 2900 کلو دھماکو سامان برآمد ہوا تھا ۔کل ملا کر 2025 نہ صرف بھارت کے لئے ہی حادثوں کا سال رہا بلکہ پوری دنیا میں بدامنی اور تشدد کا سال رہا ۔2026 بہتر ثابت ہو ہم اس کی امید اور پرارتھنا کرتے ہیں ۔ (انل نریندر)

30 دسمبر 2025

اناؤ متاثرہ کو انصاف دلانے کا سوال!


یہ انتہائی دکھ اور تشویش کاموضوع ہیں کہ قانونی نکتوں کا فائدہ اٹھا کر آبرو ریزی جیسے گھناونے جرائم کےقصور وروں کو بھی رعایت دے دی جاتی ہے ۔غور طلب ہے۔یوپی کے اناؤ میں نابالغ لڑکی سے آبرو ریزی کے معاملے میں سال 2019 میں سابق بھاجپا ممبر اسمبلی لکدیپ سنگھ سینگر کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی ۔عدالت نے آئی پی سی کے دفعہ کے تحت آبرو ریزی کے معاملے اور بچے بچیوں سے جنسی استحصال قانون پاسکوکے تحت سزا دی تھی۔تب یہ واردات دیش بھر میں بھاری تشویش اور ناراضگی کا سبب بنی تھی۔اگر اب دہلی ہائی کورٹ نے سنیگر کی سزا کو معطل کرنے کا حکم دیا لیکن معاملہ سپریم کورٹ پہنچا اور اس نے عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی۔ سینگر کو عمر قید قصوروار ثابت ہونے کے بعد نچلی عدالت نے حکم سنا یا تھا اور صاف کہا تھا سینگر کو زندگی بھر جیل میں رہنا ہوگا۔ دہلی ہائی کورٹ نے2017 کےاس ناؤ بدفعلی معاملے میں بھاجپا سے اخراج نیتا کلدیپ سنگھ سینگر کو جیل کی سزا معطل کر کے ضمانت دے دی تھی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف جنتا سڑکوں پر اتر آئی اور انصاف کی اپیل کرنے پر مجبور ہو گی۔ متاثرہ کے خاندان اور دیگر خاتون ورکروں نے جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے باہر سینگر کی ضمانت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنی ناراضگی ظاہر کی۔جنتا کے احتجاج کر دیکھتے ہوئے سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو ہی سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت عرضی دائر کی ۔ادھر وکیل انجلی پٹیل اور پوجا شلپکار نے بھی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے جس میں دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے کی مانگ کی گئی دلیل دی گئی کی ہائی کورٹ نے اس سچائی پر غور کئے بے غیر حکم پاس کر دیا کی ٹرائل کورٹ نے کہا تھا کہ سینگر کو اپنی باقی زندگی جیل رہنا چاہئے۔ہائی کورٹ نے سینگر کو ضمانت کی سزا معطل میں قانون اور دلیل میں سنگین خامی ہے جب کہ سنگین کرائم میں اسکی شمولیت کو دھیان نہیں دیا گیا۔ در اصل اس واردات کی بعد متاثرہ کو جن حلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس کو زندگی بھر جس طرح کے خطرات تھے وہ بے حد غیر متوقع تھے مگر اس سے صاف تھاکہ سنگین جرائم کے بعد ایک اونچے رسوخ والا ملزم متاثرہ کو خاموش کرنے کیلئے کس حد تک جا سکتا ہے ۔اس دوران متاثرہ کے والد کی جان چلی گئی ایک ٹرک نے اس کار کو ٹکر مار دی جس میںوہ گھر والوں کے ساتھ جارہی تھی۔اس واردات میں متاثرہ اور اس کا وکیل بری طرح زخمی ہو گئے جب کہ اسکی دو خالاؤں کی موت ہو گئی۔سمجھا جا سکتا ہے کہ اس پورے معاملے میں متاثرہ کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔جب کسی رسوخ والے کرمنل کی سزا کو لیکررعایت برتنے کی خبر آتی ہے تب یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر قانون کے کام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟کہا جاتا ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہئے بلکہ انصاف ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہئے امید ہے کہ سپریم کورٹ میں متاثرہ اور اسکے خاندان کو سینگر کی رہائی کے حکم پر روک لگاکر ایک طرح سے انصاف دلایا ہے۔
انل نریندر

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...