Translater

31 مئی 2019

پائل تڑوی خودکشی معاملہ سماج کی ذہنیت کو دکھاتا ہے !

عام چناو ¿ کے نتائج پر سارے دیش میں دھوم تھی اس لئے ممبئی کی ڈاکٹر پائل تڑوی کے ذرےعہ خود کشی کرنے لینے کا تکلیف دہ واقعہ کے وجہ سے حاشےہ پر رہ گئی ذات پر تبصرے سے پریشان وائی ایل نائر ہسپتال کی ریزیڈنٹ ڈاکٹر پائل تڑوی نے خود کشی کرلی ہے انکے خاندان کا الزام ہے کہ پائل پہ سینئر ڈاکٹرو ںنے اس کے پسماندہ برادری کے ہونے کے سبب اس پر طنز کرتے تھے پائل نے خود کشی کرنے سے پہلے فون کرکے اپنی ماں کو بتایاتھا کہ وہ اپنے تینوں سینئر ڈاکٹروں کی اذیتوں سے پریشان ہے اب وہ برداشت نہیں کرپارہی ڈاکٹر اسے برادری کا طعنے والے الفاظ سے بلاتے تھے پائل کی ماں کہتی ہے کہ پائل ہمارے فرقہ سے پہلی مہلا ڈاکٹر بننے والی تھی ادھر مہاراشٹر ایسوسی ایشن ریزیڈنٹ ڈاکٹرس کو لکھے خط میں تینوں ملزمان ڈاکٹر انکتا کھنڈیلوال ،ڈاکٹر ہیما آہوجہ وغیرہ نے کالج کے اس معاملہ میں منصفانہ تحقیقات کی مانگ کی ہے ۔وہیں انجمن کے افسر نے بتایا کہ ہمارے پاس پختہ جانکاری ہے کہ تینوں ڈاکٹروں نے ڈاکٹر پائل کے خلاف ذات سے متعلق چھینٹا کشی کی تھی انہوں نے یقین دلایاکہ ہم اس معاملہ میں جانچ کے لئے پولیس کو تعاون دیں گے ۔اس معاملہ ایک ملز م ڈاکٹر بھگتی مہیرے کو گرفتار کیا گیاہے ۔قبائلی فرقہ سے 26سالہ پائل خود کشی کے لئے اکسانے کے الزام میں تین سینئر ساتھی ڈاکٹروں پر مقدمہ درج کیاگیاہے ۔دودیگر ڈاکٹر انکتا او رہیما نے کورٹ میں پیشگی ضمانت کی عرضی دائر کی ہے ۔ریزرویشن سے داخلہ لینے کی بات پر پائل سے بد تمیزی جیسا برتاو ¿ کیا جاتاتھا اگر یہ سچ ہے تو اس سے صاف ہوتا ہے کہ سماج میں ذات پات کی نفرت کا زہر کس گہرائی تک بھرا ہوا ہے ۔پائل جلگاو ¿ ں کے قبائلی خاندان کی ذہین طالبہ تھی اس نے اپنے محنت سے ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کیا لیکن بعد کے واقعات سے ظاہر ہے کہ ذات پات کا زہر دل میں پالننے والی ساتھی طالبہ کی اس کی ےہ ترقی قابل تعریف نہیں بلکہ غرور کا سبب بنی بیشک ملزمان کے خلاف کارروائی بھی ہوگی لیکن ایسے واقعات نہ ہوں اسکے لئے نئی پیڑی میں صاف ستھری ذہنیت کا فروغ ہماری ترقی اور تعلیمی نظام اورذہنیت کے لئے بڑی چیلنچ ہے آج بھی سماج میں ذات پات حاوی ہے ۔پائل کے اس معاملہ سے ثابت ہوتا ہے کہ سماج کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا جو آسان نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

جدوجہد کے راستہ پر تپ کر بنے ساو ¿تھ کے نائک !

لوک سبھا چناو ¿ کے نتیجوں کی اتنی دھوم دھام تھی کہ اس میں ان چار ریاستوں کے چناو ¿ نتیجوں کی آواز دھیمی پڑگئی ان میں آندھرا پردیش ،اوڈیشہ کے نتےجہ کافی کچھ ایسا کہہ گئے کہ جسے سناجانا ضروری ہے یہ دونوں ریاستیں ایسی رہی جہاں مودی میجک نہیں چلا لوک سبھی چناو ¿ میں بھاجپا کی بھاری جیت کے برابر آندھرا پردیش ،اروناچل اور سکم میں اسمبلی چناو ¿ میں کچھ نئے ستارے چمکیں ہیں تو کچھ نے اپنا کرشمہ برقرار رکھاہے مثال کے طور پر آندھرا نے جگہن موہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس نے لوک سبھا کی 22سیٹیں جیتی اس کے علاوہ اسمبلی چناو ¿ میں بھی حکمراں تیلگودیشم پارٹی کا پتہ صاف ہوگیا اور اکثریت حاصل کی جو آندھرا کی بڑی جیت ہے اسی سیاسی اتھل پتھل میں میں آئی ایس آر کانگریس کے چیف جگن موہن ریڈی ساو ¿تھ انڈیا کی سیاست میں نئے اور نوجوان چہرے تھے بھاجپا کے خلاف ملک گیر مورچہ کھولنے والے چندر ابابو نائیڈو پی ڈی پی آندھرا پردیش میں لوک سبھا چناو ¿ کے ساتھ ساتھ اسمبلی چناو ¿ میں بھی ہار گئی جگن موہن ریڈی کی پارٹی نے 175اسمبلی سیٹیوں میں سے 152سیٹیں اور 25لوک سبھا سیٹیوں میں 22سیٹیں جیتی ہیں اب ان کی پارٹی دوسری بڑی پارٹی بن گئی ہے ۔اسی سال ان کے والد وائی ایس آر راجیشور ریڈی نے ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں ان کا ساتھ چھوڑا تو کانگریس نے بھی منجدھا رمیں چھوڑ گیا لیکن جگن موہن نے ہمت نہیں ہاری اور ان کے حکمت عملی ساز پرشانت کیشور اور ان کی ہندوستانی سیاسی ایکشن کمیٹی پرینکا اہم تعاون ہے چار دہائی سے چندر ا بابو نائیڈو نے اپنے سیاسی کیریر میں ہمےشہ پینترے بدلے ہیں کانگریس ممبر اسمبلی رہے پھر سسر این ڈی آر کی پارٹی پی ڈی پی نے تختہ پلٹ کر پارٹی اور وزیر اعلی کی کرسی پر قبضہ جمالیا اٹل بہاری واجپئی کے عہد میں این ڈی اے میں آئے اور 2018ساتھ چھوڑ کر اچانک بھاجپا مخالف مورچہ کی تشکیل میں لگ گئے لیکن نتیجوں میں سیاسی کیئر پر بوال کھڑا کردیا ایسے ہی تامل ناڈو کے دو سیکندر جے للیتا (انا ڈی ایم کے )ایم کرونا ندھی (ڈی ایم کے )کے موت کے بعد ریاست میں قیادت میں خلاع کا دور شروع ہوگیا ہے انا ڈی ایم کے دو گروپ میں بٹ گئی ۔لیکن اسٹالن نے خاندانی جھگڑے پر عبور کرتے ہوئے چناو ¿ سے پہلے کانگریس لیفٹ مورچہ کے ساتھ مضبوط اتحاد بھی کھڑا کرلیا چناو ¿ میں زبردست جیت کے بعد اسٹالن کا سیاسی قد اچانک آسمان پر چڑھ گیا ۔مغربی بنگال تریپورہ میں بنیاد ختم ہونے کے بعد لوک سبھا چناو ¿ میں لیفٹ پارٹیوں کی امید بس اسی ریاست پر ٹکی تھی لیکن ویجین پچھلے چناو ¿ سے بڑی کارگردگی کرنے کے بجائے لیفٹ مورچہ کا ریاست میں بس کھاتہ ہی کھلا وا سکے ۔

(انل نریندر)

شکست کے بعد اپوزیشن پارٹیوں میں لیڈر شپ کو لے کر گھمسان!

2019لوک سبھا چناو ¿ نتائج کے بعد صرف کانگریس نے ہی نہیں بلکہ دیگر اپوزیشن پارٹیوںمیں بھی ہائے توبہ مچی ہوئی ہے ۔پارٹی کے اندر لیڈر شپ کے اندر حملے شروع ہوگئے ہیں ۔اترپردیش میں کراری شکست کے بعد پارٹی چیف اکھلیش یادو پر بجلی گررہی ہے تو بہار میں تیجسوی یادو کو صدر کے عہدے سے ہٹانے کی مانگ پارٹی کے اندر سے اٹھ رہی ہے چناو ¿ میں ہار کا جائزہ لینے کے لئے اکھلیش یادو نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں الگ الگ ضلعوں کے لیڈروں کو بلاکر ان اسباب پر غور خوض کیا جس کی وجہ سے پارٹی کے 32امید وار ہار گئے اور محض پانچ سیٹیں ہی ملی ہے ۔پچھلے چناو ¿ میں بھی انہیںپانچ سیٹیں ہی ملی تھی لیکن 2014میں وہ اکیلے لڑی تھی اس بار اس کا دوپارٹیوں بسپا ،راشٹرےہ لوگ دل کے ساتھ تال میل تھا ۔اس گٹھ بندھن کو غیر مناسب مانا جارہا تھا لیکن ڈھاگ کے وہی تین پتے گٹھ بندھن میں بسپا کو بھلے ہی پیدا ہوا اس نے 10سیٹیں جیتی لیکن باقی دو پارٹیاں جہاں کی تہاں رہ گئیں ملائم خاندان کے تین افراد چناو ¿ ہار گئے آر ایل ڈی اپنے حصے کی تینوں سیٹےں ہار گیا ذرائع کے مطابق سپا کے سینئر لیڈر اور اکھلیش کے چچا رام گوپال یادو نے صحیح طریقے سے سیٹوں کا بٹوارہ نہ کرنے کے لئے اکھلیش کو ذمہ دار ٹھہرایاہے ۔ملائم نے چناو ¿ سے پہلے ہی مایاوتی کے ساتھ اتحاد کے اکھلیش کے فیصلہ پر ناراضگی ظاہر کردی تھی ےہ بحث کا اشو ہوسکتا ہے ۔اگر سپا بسپا کا اتحاد نہ ہوتا تو کیا دونوں پارٹیاں زیادہ سیٹیں جیت لےتی ؟فی الحال اکھلیش نشانہ پر ہے وہیں بہار میں آرجے ڈی کی کراری ہار کے بعد پارٹی کے اندر سے بھی ناراضگی کے آوازیں اٹھنے لگی ہیں آر جے ڈی ممبر اسمبلی مہیشور یادو نے اور اس کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو سے استعفی مانگا ہے مہیشور نے چناو ¿ میں پارٹی کی ہار کو لیکر پارٹی لیڈر شپ پر سوال اٹھایا انھوں نے پیر کو پٹنہ میں صلاح دی ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پارٹی کے کسی برادری کے سینئر لیڈر کو سونپا دیا جائے اس سے دوسری ذات کے لوگ بھی آر جے ڈی سے جڑےں گے ۔اس کراری ہار کی اخلاقی ذمہ داری تیجسوی یادو کو لینی چاہئے اور ان کو برقرار رکھنے سے یہ پیغام گیاہے کہ یہ پارٹی لالو خاندان تک ہی محدود ہے ساتھ ہی پارٹی کو اب نئی راہ تلاشنی ہوگی لوک سبھا چناو ¿ میں راجستھان میں کانگریس کی کراری ہار کے بعد پردیش کی گہلوت سرکار کے کئی وزراءنے مانگ کی ہے کہ اس ہار کے لئے جواب دہی طے کرنے کے لئے کارروائی ہونی چاہئے اگر کانگریس نے ہار کے بعد اس استعفی کی جھڑی لگ گئی ہے کانگریس کے تین اور پردیش صدور میں راہل گاندھی کو اپنا استعفی سونپ دیا ہے لوک سبھا چناو ¿ کے نتائج نے سبھی پارٹیوں کو جھنجھوڑ کر رکھدیا ہے محاسبہ اور جواب دہی کا دور شروع ہوگیاہے ۔

(انل نریندر )

30 مئی 2019

مدھیہ پردیش کی کملناتھ سرکار پر منڈراتے کالے بادل

عام چناﺅ کے نتیجوں نے مدھیہ پردیش میں کانگریس کی سرکار کو بحران میں ڈال دیا ہے دراصل کافی عرصے سے سیاسی گلیاروں میں بحث زوروں پر تھی کہ مرکز میں اگر نریندر مودی کی سرکار دوبارہ آئی تو مدھیہ پردیش کی کانگریس کی سرکار کا اقلیت میں آجانا طے ہے ۔نومبر2018میں ہوئے مدھیہ پردیش اسمبلی چناﺅ میں کسی بھی پارٹی کو اپنے دم خم پر اکثریت نہیں ملی تھی 230ممبری اسمبلی میں کانگریس کو 114بھاجپا کو 109سیٹیں ملیں تھیں اکثریت کے لئے 116ممبران کی ضرورت درکار تھی تب چار آزاد بسپا کے دو سپا کا ایک ممبر نے کانگریس کو ہمایت دے کر سرکار بنانے کی راہ آسان کر دی بھاجپا کے سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے دعوی کیا کہ لوک سبھا میں کانگریس کی بھاری ہار کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو اس کی ذمہ داری لیتے ہوئے خود ہی استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔شیو راج نے کہا کہ کملناتھ نے یہ ہدایت دی تھی کہ اگر ان کے کسی حلقہ میں کانگریس امیدوار لوک سبھا چناﺅ میں ہارا تو متعلقہ وزیر کو ان کے پاس آکر استعفی دینا پڑے گا اب زبردست ہار کے سبب انہیں خو دبھی استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ وہ ریاست کے دو چار لوک سبھا حلقوں میں ہارتے تو کملناتھ اپنے متعلقہ وزراءسے استعفیٰ لے سکتے تھے لیکن اب کانگریسی امیدوار پوری ریاست میں ہار گئے ہیں تو اس کی ذمہ داری تو خود کملناتھ کو لینی چاہیے لوک سبھا چناﺅ میں ملی ہار کے بعد پہلی بار کانگریس اسمبلی پارٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں سرکار کے وجود کو لے کر غور و خوض کیا گیا وزیر اعلیٰ کملناتھ نے صبح کیبنٹ کی غیر رسمی میٹنگ کے بعد شام کو ممبران کے ساتھ بھاجپا کی اقلیتی سرکار کے الزمات پر بحث کی اور دو ٹوک کہا کہ مودی سرکار تولولی لنگڑی کملناتھ سرکار کو کمزور بتا رہی ہے آپ لوگوںنے مجھے اسمبلی پارٹی کا نیتا چنا وزیر اعلیٰ بنایا اب آپ ہی فیصلہ کریں کیا میں کرسی چھوڑ دوں ؟اس پر آزاد سپا ،بسپا اور کانگریس کے سبھی ممران اسمبلی نے متحد ہو کر کہا کہ ہمیں آپ پر پورا بھروسہ ہے آپ چاہیں تو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کرا لیں اور گورنر کے یہاں بھی پریڈ کے لئے تیار ہیں کملناتھ سرکا رکے کیبنٹ وزیر پردھمن سنگھ نے الزام لگایا کہ بی جے پی اب کانگریس ممبران کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے ممبران اسمبلی کو پچاس کروڑ روپئے کاآفر دیا جا رہا ہے لیکن ہمار ا کوئی ساتھی بکنے والا نہیں ہے۔کانگریس نے پیر کو الزام لگایا کہ بھاجپا مدھیہ پردیش کی کملناتھ سرکار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے آنے والے دنوں میں کملناتھ حکومت کے مستقبل کا پتہ چلے گا ۔فی الحال تو ان کی سرکار پر تو کالے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔

(انل نریندر)

مودی مسلمانوں کا بھروسہ کیسے جیتیں گے؟

بھاجپا کی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں نریندر مودی کو لیڈر چنا گیا اس کے بعد سنیچر کو پارلیمنٹ کے سینٹرل حال میں کی گئی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وسواش کا اہم ترین نعرہ دیا ۔ہمیں اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنا ہے ہم وزیر اعظم کے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امیدکرتے ہیں کہ ان کے اس عہد میں مسلمانوں کو غیر محفوظ ہونے کا اندیشے کو دور کیا جائے گا یہ جو خوف اور دہشت کا ماحول کچھ نام نہاد ہندو تنظیموںنے بنایا ہوا ہے اسے دور کیا جائے گا ۔اسلامی تعلیم کے دوسرے بڑے مرکز دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا سفیان قاسمی نے مودی کے اقلیتوں کا بھروسہ جیتنے والے بیان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ بیان مثبت ہے اور اس سے اقلیتوں میں اعتماد اور امید کا نیا چراغ روشن ہوا مولانا قاسمی نے کہا کہ اس بیان کا اثر سبھی طبقوں میں اچھا محسوس کیا جا رہا ہے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ میں سب کا وسواش شامل کرنا ملک کی ترقی و خوشحالی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے ان کے یہ ارادے پورے ہوں اور دیش میں اپنا بھائی چارہ سلامتی آپسی خیر سگالی کا ماحول رہے اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں ۔جمعیتہ علماءہند کے سیکریٹری جنرل مولانا سید محمود مدنی نے کہا کہ مودی نے بھارت کے نظریہ اور دستور کے لحاظ سے اقلیتوں کو اعتماد میں لینے اور ان کے لئے کام کرنے کا جو ارادہ کر لیا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ملک کی تعمیر کے لئے جو بھی ہماری طاقت ہوگی وہ ہم کرنے کو تیار ہیں بریلوی علماءنے امید جتائی کہ مودی کے اس قدم سے ملک کے حق میں ایک اچھی کوشش ہوگی ۔اگر مودی نے اقلتیوں کا بھروسہ جیت لیا تو وہ بھاجپا کا بھروسہ ٹوٹنے نہیں دیں گے ۔مودی کی جانب سے یہ کہا جانا ایک طرح سے وقت کی مانگ کو پورا کرنا ہے ۔ان کی سرکار اقلیتوں کا بھی بھروسہ حاصل کرئے گی یہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ بھاجپا کی شاندار جیت کے بعد یہ ماحول بنانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ اب اقلیتوں کی پریشانیاں بڑھنے والی ہیں اور یہ پروپگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے کہ بھارت ہندو راشٹر بننے کی سمت میں بڑھ رہا ہے ۔یہ ماحول صرف ہندوستانی میڈیا کی طرف سے نہیں بلکہ غیر ملکی میڈیا کی طرف سے بھی بنایا جا رہا ہے ۔امریکی میگزین ٹائم نے اپنے صفحہ اول پر مودی کو گریٹ ڈیوائڈر کہا ہے یعنی بھارت کی تقسیم کرنے والا ۔یہ سراسر غلط اور گمراہ کرنے والا ہے ۔دہشت پھیلانے کی کوشش ہے جہاں ہم وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدکرتے ہیں وہیں آئے دن مذہب کے نام پر ہو رہے واقعات پربھی بیان دینا ضروری ہے ابھی حال میں گروگرام کے کچھ لڑکوں کے ذریعہ صدر بازار جامع مسجد میں نماز پڑھ کر آرہے ایک لڑکے کو روک کر نشے میں دھت غیر سماجی طبقوں نے ان کے ٹوپی پہننے پر رائے زنی کی اور مبینہ طور پر بھارت کی ماتا اور جے شری رام کے نعرہ لگانے کے لئے کہا منع کرنے پر اسے پیٹا گیا اور ٹوپی اتار کر پھینک دی ایسے غیر سماجی عناصر پر سخت کارروائی ہو جائے تو آئیندہ ایسی حرکت کرنے سے یہ عناصر بچیں گے ۔ہو کیا رہا ہے؟ایسے عناصر کو اوپری سیکورٹی ملتی ہے ۔اور یہ صاف چھوٹ جاتے ہیں دہلی کے نئے ایم پی بنے گوتم گمبھیر نے کہا کہ ملزمان کے خلاف ضروری قدم اٹھائے جانے چاہیں لوگوں کو لگاتار بھائی چارگی بھی یا د دلانی چاہیے انہوںنے ٹوئٹ میں لکھا گرو گرام میں مسلم لڑکے کو ٹوپی اتارنے اور جے شری رام بولنے کو کہا گیا یہ کافی افسوس ناک بات ہے اس کی مذمت کی جانی چاہیے ہم لوگ سیکولر دیش میں رہتے ہیں جہاں جاوید اختر ،جیسے پالنہار نپورن اور نیارے اور راکیش مہرا ،دہلی 6کے باشندے گانے لکھتے ہیں۔گوتم گمبھیر کے اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا میں ان کے خلاف مہم چھیڑ دی گئی مودی کو یہ یاد کرنا چاہیے بھارت میں اقلیتوں کی بڑی تعداد ہے انڈونیشیا کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ مسلمان ہیں بھارت سب کا ہے جہاں سبھی کو اپنے مذہب اور روایات پر عمل کرنے کا حق ہے ۔مودی کے لئے ایسا ماحول بنانا چنوتی ہے ہم پی ایم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔اور امیدکرتے ہیں کہ وہ اس میں پورے اتریں گے۔

(انل نریندر)

29 مئی 2019

ممتا کو اپنے وجود بچانے کی چنوتی

لوک سبھا چناﺅ سے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے واضح اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہا تو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی آندھرا کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو اور ثابق وزیر اعلیٰ مایاوتی بھی پی ایم کے عہدے کے لئے اہم دعویدار ہوں گی ۔جو بھی نتیجہ آئے وہ سب کے خواب چکنا چور ہو گئے پردھان منتری بننا تو دور رہا چاروں خانے منھ کی کھانی پڑی اور اب تو اپنا وجود بچانے کی لڑائی لڑنی ہوگی 2019کے عام چناﺅ نتائج ممتا بنرجی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے مودی کی سنامی نے جس طرح مغربی بنگال میں بھاجپا ،42سیٹوں میں 18پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہی اس سے دیکھتے ہوئے 2021میں ہونے والے اسمبلی چناﺅ میں ممتا کے لئے اپنی گدی بچانا مشکل ہو سکتا ہے ۔مودی کی لہر میں یہاں کانگریس و لیفٹ پارٹیوں کا تو صفایا ہوا ہی ہے ٹی ایم سی کو بھی تقریبا 1درجن سیٹوں کا نقصان ہوا ہے ۔مغربی بنگال میں بھاجپا کے خلاف انتہائی جارحانہ رخ اپنانے کے باوجود ممتا دی دی کے یہاں بھاجپا کو جڑیں جمانے سے روکنے میں ناکام ثابت ہوئیں دیش کی سبھی بارہ ریاستوں میں صرف مغربی بنگال ایسی ریاست ہے جہاں لوک سبھا چناﺅ کے دوران تشدد کے واقعات ہوئے ہیں 2014لوک سبھا چناﺅ میں ترنمول کانگریس نے یہاں 42میں سے 34سیٹیں جیتی تھیں ۔اب 42میں سے 18سیٹوں پر کامیاب بھاجپا دعوی کر رہی ہے کہ اس کے ووٹ شیر میں ریاست کی کم سے کم 150اسمبلی حلقوں میں پارٹی کو فائدہ ہوا ہے اب بھاجپا مودی کے جادو کے بل پر مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کا طلسم توڑنے کی جرت میں لگی ہے ۔ظاہر ہے بھاجپا کی جیت کو ٹی ایم سی کی بالا دستی کے لئے بڑے خطرے کا اشارہ دے رہی ہے ممتا کے اسی بالا دستی کو توڑنے کے لئے بھاجپا پچھلے پانچ برسوں سے مسلسل حکمت عملی بنا کر یہاں اپنی بنیاد تیار کر رہی تھی ممتا اتنی غصے میں تھیں کہ انہوںنے بھاجپا کے کئی بڑے نیتاﺅں کو یہاں ریلیاں کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی وہ اس حد تک چلی گئیں کہ نریندر مودی میرے پردھان منتری نہیں ہیں اور بڑبولے پن میں یہ کہہ بیٹھیں کہ یہ پہلا موقعہ ہے جب مغربی بنگال کے لوگوں نے بھاجپا کو گلے لگایا ہے جیت کے بعد بھاجپا صدر امت شاہ نے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا خاص طور پر مغربی بنگال کا ذکر کرتے ہوئے اشارہ دے دیا کہ 2021میں بھاجپا کا اگلا ٹارگیٹ مغربی بنگال کو فتح کرنا ہے ۔ممتا دی دی نے لو ک سبھا چناﺅ میں پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفی دینے تک کی پیش کش کر ڈالی لیکن ترنمول کانگریس نے اسے مسترد کر دیا اپنے خطاب میں دی دی نے کہا کہ یہ بڑی جیت شبہ سے پرے نہیں ہے یہ کافی حیرت انگیز ہے ویسے اپوزیشن اور کئی ریاستوں میں پوری طرح صفایا ہو گیا ہے ۔کچھ جوڑ توڑ ہے اور غیر ملکی طاقتیں بھی اس میں شامل ہیں ممتا دی دی فائٹر ہیں اتنی آسانی سے بھاجپا کو بازی مارنے نہیں دےں گی۔

(انل نریندر)

راہل گاندھی کی استعفی کی پیشکش

چناﺅ نتائج کے بعد ہاری ہوئی سیاسی پارٹیاں اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیتی ہیں ۔جن پارٹیوں کو امید کے مطابق نتیجے نہیں ملتے وہ محاسبہ کرتی ہیں کہ کہاں کمزوری رہی ۔کہاں غلطیاں ہوئیں؟کانگریس پارٹی میں بھی جائزہ وہ محاسبے کا دور جاری ہے قومی کانگریس صدر راہل گاندھی اس ہار سے اس قدر مایوس ہیں کہ انہوںنے عہدہ چھوڑنے کی پیش کش کر دی پارٹی ورکر انہیں منانے میں لگے ہیں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے لیڈر ایک آواز میں ان کا استعفی نہ منظور کر رہے ہیں لیکن وہ اپنے فیصلے پر اڑے ہوئے ہیں بے شک یہ اچھی بات ہے کہ انہیں انہیں اپنی ذمہ داری احساس ہو رہا ہے وہ چاہتے ہیں کہ اتنی پرانی پارٹی آج جس دو راہے پر آکر کھڑی ہو گئی ہے اسے آگے بڑھنے اور اپنی کھوئی ہوئی زمین اور ساکھ کو واپس لایا جائے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ راہل نے 2019لوک سبھا چناﺅ کمپین میں جی توڑ محنت کی اور ایک اچھی کمپین چلائی یہ الگ بات ہے کہ مودی کے آندھی میں ان کی ساری محنت ہوا میں اڑ گئی لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ راہل کی محنت میں کوئی کمی رہی ؟لوک سبھا چناﺅ کے نتیجے کے بعد ہوئی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں راہل گاندھی اور سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرا کا غصہ پھوٹ پڑا چناﺅ کے دوران پارٹی لیڈروں کے رویہ کو برا مانتے ہوئے راہل نے دو ٹوک کہا کہ کملناتھ ،اشوک گہلوت،اور پی چتمبرم جیسے نیتاﺅں کی توجہ پارٹی سے زیادہ بیٹوں پر رہی راہل یہیں نہیں رکے بولے نیتاﺅں نے بچوں کو ٹکٹ دلانے کے لئے پارٹی پر دباﺅ بنایا یہاں تک کہ انہوںنے استعفی کی بھی دھمکی تک دے ڈالی تھی راہل کے تیور دیکھ کر میٹنگ میں موجود نیتا ہکا بکا رہ گئے سونیا گاندھی بھی خاموش رہیں ۔اسی دوران ہار کی ذمہ داری لیتے ہوئے پارٹی صدر سے استعفیٰ دینے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ اب اس عہدے پر گاندھی خاندان کے باہر سے کسی نیتا کو ذمہ داری لینی چاہیے اس عہدے کے لئے میری بہن کا نام نہ لیا جائے پرینکا نے بھی اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ کہاں تھے جب میرے بھائی اکیلے لڑ رہے تھے۔چار گھنٹے تک چلی میٹنگ میں راہل نے پوچھا جن ریاستوں میں حال ہی میں کانگریس اقتدار میں لوٹی وہاں اتنی بڑی ہا ر کیسے ہوئی؟اس دوران جو تر ادتیہ سندھیا جیسے بولے کہ ہمیں راجیوں میں مقامی لیڈروں کو مضبوط کرنا ہوگا ۔اس پر راہل کا غصہ بڑھ گیا پی چتمبرم کی طرف دیکھتے ہوئے راہل نے کہا کہ انہوںنے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر بیٹے کو ٹکٹ نہیں ملا تو استعفیٰ دے دوں گا ۔میٹنگ میں کملناتھ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کا ذکر کرتے ہوئے راہل بولے انہوں نے کہا تھا کہ اگر میرا بیٹا چناﺅ نہیں لڑے گا تو میں سی ایم نہیں رہ سکتا ۔اشوک گہلوت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ راجستھان کے وزیر اعلیٰ تو بیٹے کی کمپین کے لئے سات دن تک جودھ پور میں پڑے رہے ۔انہیں ریاست کی باقی سیٹوں کی کوئی فکر نہیں تھی ۔اس کے بعد راہل استعفیٰ پر اڑے رہے اور اچانک اٹھ کے چلے گئے ۔پہلے پرینکا نے راہل گاندھی کو خاموش کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم استعفیٰ مت دو اس سے بھاجپا کی چال کامیاب ہوگی ۔اس چناﺅ میں پارٹی کی ہا ر کے لئے جو لوگ ذمہ دار ہیں وہ سبھی اسی کمرے میں بیٹھے ہیں آپ لوگوں نے پردھان منتری مودی کے خلاف لڑنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا رافیل اور چوکیدار چور ہے پر راہل کی بات کو کسی نے بھی آگے نہیں بڑھایا ۔پردھان منتری کے فلاپ کرپشن کو لے کر حملے کئے کچھ لیڈروںنے ہاتھ کھڑے کئے تو راہل نے انہیں مسترد کیا ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ ایک مضبوط جمہوریت میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن مضبوط ہونے چاہیئے اگر اپوزیشن مضبوط نہیں ہوگی تو حکمراں پارٹی بے لگام ہو جائے گی اور اپنے من مانے فیصلے کرئے گی بے شک اس زبردست اکثریت سے مودی سرکار من مانے فیصلے کر سکتی ہے لیکن اگر اپوزیشن رہی تو پھر بھی ان سے سوال جواب کر سکتی ہے ۔اس وقت ہمیں پارٹی میں کوئی ایسا چہر ہ دکھائی نہیں پڑتا جو راہل کی جگہ لے سکے ۔اس لئے چتمبرم نے راہل کو استعفیٰ واپس لینے کے لئے منانے کی کوشش کی تھی ۔پتہ نہیں ساﺅتھ انڈیا کے لوگ آپ سے کتنا پیار کرتے ہیں اگر آپ نے استعفی دیا تو کچھ لوگ خود کشی کر سکتے ہیں وہیں لوک سبھا چناﺅ کے بعد کرناٹک اور میدھیہ پردیش کی ریاستی حکومتوں پر سیاسی بحران کھڑا ہو گیا ہے اور وہاں بغاوت کی آوازیں اُٹھ رہی ہیں اس کے علاوہ 2020میں دہلی،ہریانہ ،مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں اسمبلی چناﺅ ہونے ہیں ۔اور اس کے علاوہ دہلی اور ہریانہ سے کانگریس کھاتہ نہیں کھول سکی۔ان حالات میں جو بھی پارٹی کی کمان سنبھالے گا اس کے لئے مایوس ورکروں اور کمزور پڑی تنظیمیں پھر سے نئی جان ڈالنا آسان نہ ہوگا دوسری طرف راہل کے بعد کانگریس میں کوئی ایسا نیتا نہیں جس کی پوری پارٹی پر پکڑ ہو راہل گاندھی پہلے ہی پرینکا کو کمان سونپنے سے انکار کر چکے ہیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے 2019لوک سبھا چناﺅ سے پہلے پانچ اسمبلی چناﺅ میں راہل کی قیادت میں ہی کانگریس پارٹی نے بی جے پی کو ہرایا تھا ۔راہل گاندھی کو استعفیٰ کی پیشکش کو پھر سے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ہار جیت تو چلتی رہتی ہے اب وقت پارٹی کے وجو د کو بچانے کی لڑائی کا ہے اور اس کے لئے مضبوط لیڈر شپ اور تنظیم کی ضرورت ہے راہل فل سرجری کریں اور نئی ٹیم تیار کریں جو آگے کی چنوتیوں کا مقابلہ کرنے میں اہل ثابت ہو۔

(انل نریندر)

28 مئی 2019

جب تک سموسے میں رہے گا آلو ،بہار میں رہے گا لالو

راشٹریہ جنتا دل چیف لالو پرساد یادو پچھلے کچھ دنوں سے جب سے لو ک سبھا چناﺅ نتیجے آئے ہیں صدمے میں ہیں اور اس کشیدگی کے سبب نہ تو وہ سو پا رہے ہیں اور نہ ہی دوپہر کا کھانا کھا پا رہے ہیں ۔ایمس میں لالو پرساد یادو کا علاج کر رہے پروفیسر ڈاکٹر امیش پرساد نے بتایا کہ وہ صبح میں ناشتہ تو کسی طرح لے رہے ہیں لیکن دوپہر کا کھانا نہیں کھا رہے ہیں ۔اور صرف رات میں ہی کھانا کھا رہے ہیں ۔جس کے سبب انہیں انسولنگ دینے میں پریشانی ہو رہی ہے ۔دراصل لالو پرساد یادو کی سیاست کی بنیاد پر ووٹ بینک کو کھسکتے دیکھ کر ان کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے ان کے اس ووٹ بینک پر اس مرتبہ مودی کا جادو چل گیا ۔چناﺅ نتیجوں سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ بھاجپا ہی نہیں آر جے ڈی میں بھی چندونشی ساستدانوں کا زبردست ابھار ہوا ہے ۔یادو اکثریتی پارلیمانی حلقوں سے اس مرتبہ این ڈی اے کے پانچ ایم پی چنے گئے ہیں ۔ذات پات کے تجزیہ والے پانچ حلقوں میں بھاجپا اور جے ڈی یو نے یادو امیدوار دئے تھے ۔یعنی این ڈی کے سبھی یہ امیدوار کامیاب رہے این ڈی اے میں خاص ذات کے لئے سو فیصدی اسٹرائک ریٹ ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آر جے ڈی کا کھاتا بھی نہیں کھلا 17ویں لوک سبھا کے لئے بہار سے بھاجپا نے تین یادو امیدوار دئے تھے اور جے ڈی یو کے دو تھے ساٹھ کی دہائی میں دبنگ لیڈر رام لکھن سنگھ یادو کے سیاسی میدان ختم ہونے کے بعد لالو یادو سیاست داں بن گئے اسمبلی چناﺅ میں جے ڈی یو کے ساتھ تال میل کر آر جے ڈی نے بہتر پرفارمینس دی اور 80ممبر اسمبلی چنے گئے تھے ۔ان میں سے ایک چوتھائی یادو برادری تھے لیکن لو سبھا چناﺅ میں اس برادری نے لالو پرساد یادو کو بتا دیا کہ جنتا کسی کی پشتینی جاگیر نہیں ہے ۔2014کے چناﺅ کی حکمت عملی بناتے وقت ہی بھاجپا کی نظر 14فیصد یادو ووٹروں پر پڑی تھی حکمت عملی کے تحت رام کرپال یادو آر جے ڈی سے بھاجپا کے پالے میں اور انہیں یادو اکثریتی حلقہ پاٹلی پتر میں لالو پرساد کی لڑکی میسا بھارتی کے خلاف میدان میں اتا رکر بھاجپا نے صاف کر دیا کہ وہ لوہے سے لوہا کاٹے گی اور کامیاب ہونے کے بعد انعام کی شکل میں رام گوپال کو مرکز میں وزیر کا عہدہ ملا ۔بھاجپا کی حکمت عملی دوسرا باپ ستیہ نند رام رہے پردیش کے سنگٹھن کی کمان ان کے حوالے کر پارٹی نے برادری خاص کو پیغام دیا کہ اس پالے میں لیڈر شپ کے لئے گنجائش ہے یہاں کنبہ پرستی کا کوئی رول نہیں ۔آر جے ڈی کی تاریخی اور بڑی ہار کی وجہ لالو کا جیل میں ہونا اور ان کے خاندان میں ٹکراﺅ ہونا ۔بھاجپا نے حکمت عملی کے تحت چناﺅ لڑا اور شاندار کامیابی حاصل کی برسوں کے بعد بہار کی سیاست میں لالو یادو اب بے جان لگ رہے ہیں نہیں تو ایک وقت تھا جب کہا جاتاتھا کہ جب تک سموسے میں آلو ہے تب تک بہار میں لالو ہے ۔
(انل نریندر)

دہلی کی اس ووٹنگ سے نکلتے اسمبلی چناﺅ کے نتیجے....

لوک سبھا چناﺅ 2019کے نتیجوں کی بنیاد پر اگر دہلی میں اسمبلی سیٹوں پر ہار جیت کے اعداد و شمار دیکھیں تو بی جے پی 70میں 65سیٹوں میں پہلے نمبر پر رہی یہ سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں جا رہی ہیں وہیں کانگریس نے 5اسمبلی سیٹوں پر بڑھت بنائی ہے ۔موجودہ لوک سبھا کے چناﺅ کی بنیاد کے نتیجوں پر عام آدمی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں مل رہی ہے ۔عآپ کسی بھی اسمبلی سیٹ پر ووٹ کے معاملے میں پہلے نمبر پر نہیں آئی ہے ۔جہاں تک نمبر2کی بات ہے کانگر یس42عام آدمی پارٹی23امکانی اسمبلی سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔حالانکہ عام آدمی پارٹی کا صاف کہنا ہے کہ لوک سبھا چناﺅ اور اسمبلی چناﺅ بالکل الگ الگ اشو پر لڑے جاتے ہیں اس لئے لوک سبھا چناﺅ کے نتائج کی بنیاد پر اسمبلی چناﺅ کے نیتجے نہیں نکالے جاتے ۔لوک سبھا چناﺅ نتائج بھی یہ بتاتے ہیں کہ اس مرتبہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کو افراط میں ووٹ ملے ۔مسلم اکثریتی3 اسمبلی سیٹیں ایسی ہیں جہاں اس بار بی جے پی نے جیت کا پرچم لہرایا ہے ۔جہاں مسلم ووٹوں کی تعداد باقی ووٹروں سے زیادہ ہے چاندنی چوک لوک سبھا کے علاقہ بلی ماران ،چاندنی چوک،مٹیا محل،صدر بازار،مشرقی دہلی سے اوکھلا و گاندھی نگر تو نارتھ ایسٹ دہلی لو ک سبھا سیٹ میں آنے والے بابر پور شیلم پور ،مصطفی آباد سیما پوری ،ایسی اسمبلی حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹ کافی تعداد میں ہیں ۔خاص بات یہ رہی کہ ان مسلم اکثریتی سیٹوں پر اس مرتبہ بی جے پی کو پچھلے لوک سبھا چناﺅ سے زیادہ ووٹ ملے ہیں ۔لوک سبھا چناﺅسے پہلے اگر دہلی میں عآپ اور کانگریس کے درمیان اتحاد ہو جاتا تو بھی بھاجپا ہی ساتوں سیٹوں پر جیت حاصل کرتی بھاجپا کو کل 56.6فیصدی ووٹ ملے جو کانگریس کو 22.5فیصدی اور عآپ کو 18.1فیصدی ووٹ ملے ۔کے کل 40.6فیصدی زیادہ ہے ۔وہیں2014میں بھاجپا نے 46.4فیصدی ووٹ لے کر ساتوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔پردیش کانگریس دہلی لوک سبھا چناﺅ میں ساتوں سیٹیں ہار گئیں لیکن نتائج نے پارٹی کے لئے سنجیونی کا کام کیا ہے ۔عام آدمی پارٹی کے مقابلے میں کانگریس کی کارکردگی شاندار رہی کانگریس کو 22.5فیصد ووٹ حاصل ہوئے ۔جبکہ عام آدمی پارٹی کو محض 18فیصد ووٹ ہی حاصل ہو سکے کانگریس چار برس بعد دوسرے نمبر کی پارٹی بن کر ابھر ی بھاجپا سے سیدھی ٹکر لینے میں کامیاب رہی۔شیلا دکشت بے شک خود ہار گئیں لیکن ان کا یہ نظریہ کہ کانگریس کو اکیلے لڑنا چاہیے تجربہ کامیاب رہا ۔ری بات عام آدمی پارٹی کی اس سے مسلم ووٹ اور کسلٹر ووٹ بھی کھسکتا نظرآرہا ہے اس چناﺅ میں آپ کو جھگی جھونپڑی سے زیادہ ووٹ نہیں ملے ساتوں پارلیمنٹری حلقوں کی 70اسمبلی حلقوں میں بنی جے جے کلسٹر میں بھی وزیر اعظم مودی کے نام پر ووٹ دئے اگلے سال دہلی اسمبلی چناﺅ کے لئے اسٹیج سج چکا ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا عام آدمی پارٹی اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکتی ہے یا نہیں ؟مقابلہ سخت ہو گیا ہے دونوں بھاجپا اور کانگریس نتیجوں سے خوش ہیں ۔
(انل نریندر)

26 مئی 2019

مسلم خواتین اور ینگ انڈیا نے مودی کو کھل کر ووٹ دیا

لوک سبھا چناﺅ نتیجوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلم ووٹروںنے بھی بی جے پی کو بڑی تعداد میں ووٹ دیا خاص کر مسلم خواتین نے دراصل سوچھ بھارت مہم کے تحت گھر گھر میں شوچالے بنانے کی جو اسکیم مودی لائے تھے اس سے سب سے زیادہ فائدہ عورتوں کی ہی ملا گھر گھر میں بیت الخلاءبنایا جانا ایک نایاب قدم ہے ۔70سال میں اس بارے میں کبھی سوچا نہیں گیا ۔عورتوں کو اجولا یوجنا کے تحت گھر گھر میں گیس چولہے کا انتظام کر کے مودی نے سبھی عورتوں کو خاص کر دیہی علاقوں کی عورتوں پر خاصا اثر پڑا ان قدموں سے عورتوں کی مشکل زندگی کو آسان بنا دیا وہیں ایک مسلم خاتون سمینہ بیگم بتاتی ہیں کہ ایک بار میں تین طلاق دینے والوں کے خلاف قانون بنا کر مودی سرکار نے مسلم عورتوں کو بڑی سماجی تحفظ دیا ہے ۔اس وجہ سے مسلم عورتوں کی بھی انہیں حمایت ملی ہے ۔دیہی علاقوں میں گھر بنانے کے لئیے سرکاری مدد بھی ایک فیکٹر رہا ہے ۔جو اس لئے بھی با اثر ثابت ہوا کہ ان اسکمیوں میں کوئی مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا گیا اور سب کو یکساں فائدہ پہنچایا گیا ۔مسلمانوں کے لئے خوشخبری یہ بھی ہے کہ 2019میں 26مسلمان ایم پی جیت کر آئے ہیں 2014میں یہ تعداد 23تھی ۔مسلم اکثریتی 52سیٹیں ہیں جن پر مسلم ووٹر سیدھا اثر ڈالتے ہیں مرکز میں مودی سرکار کی واپسی کے لئے تمام فیکٹر کے ساتھ ساتھ پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوان ووٹرس اور مسلم ووٹر بھی اہم ثابت ہوئے ہیں ۔اور بی جے پی کو اس کا سیدھا فائدہ ملا ہے ۔ایک طرف جہاں فسٹ ٹائمر نے راشٹرواد کے اشو پر مودی سرکار کا ساتھ دیا وہیں عورتوںنے زندگی کی جد وجہد سے نجات دلانے والی مودی سرکار کی تمام اسکیموں کے سبب بی جے پی پر بھروسہ جتایا گیا ۔ماہرین بتاتے ہیں کہ نریندر مودی جب پی ایم بنے تو سب سے پہلے ان کے نشانے پر پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے نوجوان عورتیں اور ینگ لڑکے لڑکیا ں رہیں ایسے ووٹر عام طور پر سیاسی پارٹیوں کے راڈار پر نہیں ہوتے تھے ۔لیکن مودی نے ینگ انڈیا کو سب سے پہلے ہاتھوں ہاتھ لیا اور سیدھا ان سے رابطہ قائم کیا اس کے لئے ڈیجٹل تکنیک کا سہار بھی لیا گیا سوشل میڈیا کے ذریعہ ماحول بنایا گیا یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی ،اکھلیش،اور پرینکا گاندھی جیسے نوجوان چہرے ہونے کے باوجود مودی نوجوان نسل اور عورتوں میں سب سے زیادہ مقبول ہوئے ۔بالا کوٹ اور جوابی کاروائی کا نوجوانوں پر خاصا اثر ہوا ،پلوامہ اٹیک کے بعد ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ پی ایم مودی نے دیش کو یقین دلایا تھا کہ فوجوں کی شہادت بے کار نہیں جائے گی اور وہی ہوا پہلی بار نوجوانوں مسلم خواتین کو اس بات احساس ہوا کہ وہ مودی کے ہاتھ میں محفوظ ہیں ۔اور انہوں نے کھل کر مودی کو ووٹ دیا ۔
(انل نریندر)

جو جیتا وہ نریندر ہے

مودی ہے تو ممکن ہے.....چناﺅ سے پہلے یہ محض ایک نعرہ تھا لیکن نتیجے آنے کے بعد یہ ایک معجزہ ہو گیا ۔بی جے پی کی رہنمائی والی این ڈی اے کو اگر 2019میں 2014سے بھی بڑی جیت ملی ہے تو اس کی وجہ صرف نریندر مودی اور صرف اور صرف نریندر مودی ہی ہیں ۔مودی سبھی 542سیٹوں پر چناﺅ لڑوا رہے تھے ووٹوں کو اپنے علاقہ کے امیدوار تک کے نام پتہ نہیں تھے ۔جس سے بھی پوچھو کہ ووٹ کس کو دے رہے ہو جواب ہوتا تھا مودی کو ۔ووٹروں کے درمیان مودی کا نام ایسا بھروسہ بنا کر بیٹھ گیا جس کے آگے نہ ذات ،دھرم کی کوئی دیوار کھڑی نہ ہو پائی اور نہ ہی پارٹیوں کے اتحاد کا کوئی معنیٰ رہ گیا ۔لوگ مودی کے نام سے اتنے متاثر ہوتے دکھائی دئے کہ انہیں دیش کی باگ ڈور اگلے پانچ سال کے لئے سونپنے میں کوئی کسر یا غلطی فہمی نہیں رکھی،اس مرتبہ مودی کی لہر نہیں سنامی تھی ہندستان کی تاریخ رہی ہے کہ ممبران پارلیمنٹ نے عام طور پر مل کر پردھان منتری چنا ہے لیکن اس مرتبہ تاریخی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے اس مرتبہ ایک بار پھر نریندر مودی نے 350ممبران پارلیمنٹ کو چنا الٹی گنگا اس لئے بہی کہ ہر سیٹ پر امیدوار کا چہرہ کام،بنام مودی چلا لوک سبھا کے اس چناﺅ میں کانگریس نے رافیل جنگی جہاز سودے میں گڑبڑی ،نوٹ بندی،جی ایس ٹی ،کسانوں کی بدحالی بے روزگاری،وغیرہ تمام جنتا سے جڑے مسئلوں کو اٹھا کر بھاجپا کے خلاف زوردار کمپین چلائی پارٹی نے غریبوں کے کھاتے میں ہر سال 72ہزار روپئے ڈالنے والی لوک لبھاونی اسکیم بھی دیش کے ووٹروں کے سامنے رکھی لیکن وہ بھاجپا کی طرف سےبالا کوٹ ہوائی حملہ ،راشٹرواد ،قومی سلامتی،اور جنگ کلیان سے وابسطہ اسکیموں کے جارحانہ کمپین کرنے میں پوری طرح ناکام ہوئی ،مہابھارت یودھ کے وقت جب شری کرشن سے پوچھا گیا کہ وہ کس کے حق میں تھے ان کا جواب تھا کہ وہ ہستنا پور کے حق میں تھے آج بھارت کے 130کروڑ شہریوں نے مودی کو بتا دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں نریندر مودی پہلے غیر کانگریسی پی ایم ہوں گے جنہوںنے پانچ سال کی معیاد پورا کرنے کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ اقتدار میں واپسی کی ہے ۔پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کے بعد تیسرے وزیر اعظم ہیں جن کی قیادت میں پارٹی اکیلے اپنے دم خم پر اکثریت کے ساتھ اقتدار میں لوٹ رہی ہے ۔2014میں بی جے پی کو 282سیٹیں ملی تھیں لیکن اس مرتبہ یہ نمبر 300کو پار کر گیا ان کی رہنمائی میں این ڈی اے کی سیٹوں کی تعداد 2014کے مقابلے 336سے بڑھ کر 350ہو گئی ہے یہ اضافہ اس لئے بھی اہم ہے کہ سرکار میں رہنے سے اس کے خلاف حکمراں مخالف لہر کا اندیشہ تھا اور خود ساختہ سیاسی پنڈتوںنے پیش گوئی کی تھی کہ بی جے پی ہار رہی ہے ۔اور اس کی سیٹیں پچھلی مرتبہ سے کم رہیں گی مودی نے مضبوط اپوزیشن کو چت کر دیا اور اس کا کوئی اشو بھی نہیں چل سکا ۔مودی کی جیت کی کئی وجہ ہے جن کا باریکی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے انہیں آنے والے دنوں میں نشاندہی دکرنے کی کوشش کروں گا لیکن آج کے لئے جو جیتا وہ نریندر ہے ۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...