Translater

07 جولائی 2026

خامنہ ای کی آخر ی رسوم کی رسمیں شروع

گزشتہ 28 فروری کو امریکی ،اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم 4 ماہ بعد جولائی سے تہران میں شروع ہو گئی ہیں ۔ایرانی حکام اسے صدی کی آخری رسوم بتارہے ہیں ۔ان کے مطابق 1.2کروڑ سے زائد لوگوں کی شرکت کی امید ہے۔ ان تیاریوں کی رہنمائی تہران میں واقع محمد رسول اللہ کور کررہا ہے ۔یہ اسلامی ریولیوشنری گارڈ کی اہم یونٹ ہے ۔قریب 800 غیر ملکی صحافی اس پروگرام کی کوریج کے لئے تہران میں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم کئی دنوں تک چلنے والی الوداعی آخری رسوم کی رسمیں جمع کو شروع ہو گئیں ۔تہران میں جگہ جگہ بینر لگائے گئے ہیں جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس تباہ کن جنگ کے بعد اسلامی رپبلک کی حمایت میں متحد ہوں ۔ان کے جنازے کو ایرانی شہروں اور پڑوسی دیش عرا ق لے جایا جائے گا ۔خامنہ ای اور ان کے کنبہ کے افراد کے تابوت ایرانی جھنڈے میں لپیٹ کر تہران کی گرینڈ مسلح مسجد میں رکھے گئے ہیں ۔متوفین میں ان کے داماد ، ان کی سب سے بڑی بیٹی شیر ایک چھوٹا تابوت ان کی 14 ماہ کی پوتی کا ہے جسے دیکھ کر سبھی دل دہل گیا ۔تابوت میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی بیوی بھی شامل ہے۔ پروگرام میں شامل ہونے کے لئے تقریباً 50 ملکوں کے نمائندہ وفد تہران پہنچا ہے ۔بھارت اور سعودی عرب کا نمائندہ وفد بھی ان میں شامل ہے۔ اس درمیا ن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے ۔انہوں نے ایران پر تلخ طنز کسا ہے تو وہیں دوسری طرف ایرانی عوام نے امریکہ مرد ہ آباد کے نعرے لگائے اور خامنہ ای کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی قسمیں کھائی گئیں ۔ٹرمپ نے تہران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہاں امریکہ نے ایران کو آخری رسوم کے لئے ایک ہفتہ کا وقت اس لئے دیا کیوں کہ واشنگٹن اچھا دیش ہے ۔انہون نے امریکی انتظامیہ کی کاروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا جنگ میں ایران کی بری طرح ہار ہو ئی ہے ۔ایرانی حکام نے آخری رسوم کا نعرہ ’دی مسٹ رائز‘ رکھا ہے ۔جس کے ساتھ مٹھی نیچے ہوئے ہاتھ کی علامت جوڑا گیا ہے ۔حسن زادے نے کہا کہ خامنہ ای کا تابوت ایک اونچے اسٹیج پر رکھا گیا ہے ۔بھیڑ کا انتظام اس طرح سے کیا گیا ہے کہ لوگ 15 سے 20 منٹ کے اندر جاکر باہر نکل سکیں ۔بدھوار کو خامنہ ای کا جسد خاکی نجف لے جایا جائے گا ۔وہاں شیعہ اسلام کے پہلے امام علی کی درگاہ سے جلوس کا انعقاد کیاجائے گا اس کے بعد خراج عقیدت تقریب کربلا میں جاری رہے گی ، پھر جسد خاکی کو واپس ایران لایاجائے گا ۔ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جنازے کی نما ز کون پڑھائے گا ؟ شیعہ روایت میں یہ ذمہ داری مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے اہم ترین مانی جاتی ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای جو کہ اب ایران کے سپریم لیڈر ہیں کو ابھی تک پبلک میں نہیں دیکھا گیا ہے ۔ابھی تک یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے والد کی آخری رسوم میں شامل ہوں گے یا نہیں ؟ امریکہ اسرائیل جنگ کے درمیان یہ ایک اپنی طرح کی انوکھی آخری رسوم ہے ۔ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے مجتبیٰ سے آخری رسوم میں شامل ہونے سے منع کیا ہے ۔کیوں کہ اسرائیل کے ایک وزیر نے کھلے عام دھمکی دی ہے کہ مجتبیٰ کو ہم مار کر رہیں گے۔ حالانکہ مجتبیٰ خامنہ ای ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اتنے دن چلنے والی اس آخری رسوم میں کہیں نہ کہیں بغیر شور مچائے مجتبیٰ اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچ جائیں ۔حالانکہ بھارت میں ایران کے سرکاری نمائندہ آیت اللہ حکیم الہی نے بتایا کہ مجتبیٰ خود حمایتیوں اور ملک کی عوام کے بیچ جانے کے لئے بے حد خواہشمند ہیں ۔لیکن ایران کی ٹاپ خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے اس پر ویٹو لگا دیا ہے ۔موجودہ حالات میں مجتبیٰ کا پبلک کے سامنے آنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں ماناجاسکتا ہے ۔دراصل اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی اپنی انتہا پر ہے اور خفیہ جو جانکاری ہے کہ اس بڑی بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر دشمن دیش ایران کے بیچ نئے سینئرلیڈر شپ کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اسی خطرے کے ماحول کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نظروں سے دور رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے ۔
(انل نریندر)

خامنہ ای کی آخر ی رسوم کی رسمیں شروع

گزشتہ 28 فروری کو امریکی ،اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم 4 ماہ بعد جولائی سے تہر...