Translater

11 جولائی 2026

20 دن بھی نہیں ٹک پائی جنگ بندی


امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر بنی رضامندی بنے ہوئے 20 دن بھی نہیں ہوئے کہ دونوںدیش پھر سے آمنے سامنے آگئے ہیں ،بلکہ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرے حساب سے اب جنگ بندی ختم ہو چکی ہے ۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر تباہ کن حملے شروع کر دئیے ہیں ۔یہ جنگ بندی بے اعتمادی کے ساتھ ہوئی تھی کہ دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر بھروسہ نہیںکرتے تھے ۔امریکہ یہ جنگ بندی اس لئے چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی عوام کے دباؤ کو جھیلنے میں مشکل کا سامنا کررہے تھے ۔اور وہ کسی بھی حالت میں اس جنگ کو روکنا چاہتے تھے ۔ چاہتے تو وہ یہ بھی تھے کہ کسی بااعتماد طریقہ سے وہ اس سے باہر نکلیں دوسری جانب ایران اس لئے تیار ہوا کہ اس نے سوچا کہ 20 دن کی جنگ میں جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کر سکے اور اتنا ہی دباؤ امریکہ پر بنا سکے کہ وہ اس کی شرائط پر سمجھوتہ کر لے ۔حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی شرطوں پر ٹک نہیں سکیں گے لیکن پھر بھی اس نے جوا کھیلا ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پھر سے جنگ چھڑ گئی ہے ۔ٹرمپ شاید اب اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ جنگ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ سکتی ہے اب وہ باامید ہوگئے ہیں اور ٹرمپ نے لمبے عرصہ کے بعد پھر سے حملے شروع کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ کے اعلان کے بعدا مریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کئے ہیں فوج نے خود بیان جاری کر اس کی اطلاع دی ہے ایران کے الگ الگ علاقوں میں حملے کئے جارہے ہیں ۔اب جنگ موسیٰ آئیکلینڈ ، بندرعباس جیسے ایرانی اہم ترین ٹھکانوں پر امریکہ دھماکے کررہا ہے۔ چابہار میں بھی حملے ہوئے ہیں جس کے بعد اب یہاں بجلی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے ۔امریکہ کا کہنا ہے اسٹریٹ آف ہرمز میں ہوئے جہازوں پر حملے کا یہ بدلاہے ۔امریکہ سینٹرل کمان نے ہرمز اسٹریٹ آبی راستے میں آمد ورفت کو خطرے میں ڈالنے کو ایران کی صلاحیت اور کمزور کرنے کے لئے اس کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں اب امریکہ اہم ترین بین الاقوامی آبی راستے پر آزادانہ طور پر آجارہے جہازوں اور شہری ٹیم کے خلاف حال ہی میں کئے گئےحملے کے لئے ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں 85 جگہ میزائل اور ڈرون داغے ہیں ۔زیادہ تر حملے بحرین اور کویت میں امریکی بیس پرہوئے ۔ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ دھوکہ دینا امریکہ کی فطرت میں شامل ہے ۔لیکن ایران اپنا حق لے کر رہے گا ۔امریکہ کے حملوں کے بعد ایرانی صد ر اس افراتفری کے دوران عراق کے کربلا سے تحران لوٹ گئے ہیں اس درمیان دیر رات ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اگر حملہ کرتا ہے تو ہرمز کو پوری طرح سے بند کردیاجائے گا اس درمیان امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر کچے تیل برآمدات پر روک لگا دی ہے ۔امریکہ نے معاہدے کے تحت ایران کو تیل بیچنے کی چھوٹ دی تھی ۔2019 کے بعد پہلی بار ایران کے ڈالر کے بدلے تیل بیچنے کی منظوری ملی تھی ۔ترکیہ میں ناٹو سمٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی لوگ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں ان کے ساتھ آگے بات چیت کرنا وقت کی بربادی ہے ۔میں نے امن لانے کی کوشش کی لیکن اب جلد ہی قہر ٹوٹے گا۔ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد بدھوار کی صبح ایران کے اہم بندرگاہ عباس سمیت 80 ٹھکانوں پر تابڑتوڑ ہوائی حملے کئے گئے ۔ایران کے 8 فوجی مارے گئے ہیں جبکہ 60 بجلی گھر ت باہ ہو گئے ہیں ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد بقر غالیباف نے ان حملوں پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ نے اب تک یہ نہیں سیکھا ہے کہ دھمکانے اور خود وعدے توڑنے کی قیمت اب اسے چکانی پڑے گی۔ میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ حملے کریں گے تو جوابی حملے بھی ہوں گے ۔یہ سنانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جیسے ایران اسٹریٹ آف ہرمز پر زیادہ بالادستی جمانے کی کوشش کررہا ہے ویسے ہی امریکی صدر بھی دنیا اور اپنے دیش واسیوں کو یہ دکھانے کے لئے بے چین ہے کہ وہ ایران کو اپنی شرطوں پر جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں ۔اب یہ جنگ لمبی کھچنے کا پورا امکان ہے ۔شاید اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ جنگ بندی ٹوٹے اور ایک بار پھر ایران پر مکمل حملہ ہو ۔
(انل نریندر)

09 جولائی 2026

ٹرمپ کا طنز: آنسو نقلی ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ایران میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں رو رہے تھے ۔ایکسیونس کا دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگا تھا کہ ایران کی عوام خامنہ ای سے نفرت کرتی ہے ۔ اس پر انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ شاید یہ آنسو نقلی ہوں ۔جنازے میں ایران کے اعلیٰ قیادت کے موجود ہونے کے سوال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہے تو ایک ہی حملے میں ایران کے موجودہ قیادت کو ختم کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سبھی وہاں موجود ہیں ۔ایک ہی حملے میں سبھی کو ختم کر سکتے ہیں ، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ پھر ہمارے پاس بات چیت کرنے کے لئے کوئی نہیں بچے گا ۔ایران نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خامنہ ای کی موت کے بعد چھائے گہرے شوک کو سمجھ نہیں پائے گا ، کیوں کہ نہ تو اس کی کوئی تہذیب ہے ، نہ ہی تاریخ اور نہ ہی سمان ۔ادھر ،ٹرمپ کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے ارمونیا میں قائم ایرانی قونصل خانہ نے سوشل میڈیا پر کہا ، لوگوں کو مارا جاسکتا ہے پر نظریات کو نہیں ۔ آپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارڈالاپر اصل میں اپنے عطر کی ایک ایسی شیشی توڑ دی جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل گئی ہے ۔بتادیں کہ ایران میں 36 سال تک حکومت میں رہے خامنہ ای کی 28 فروری کو امریکہ اسرائیلی حملے میں موت ہو گئی تھی ۔97 سال کے شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ جعفر سومانی نے تہران کی گرینڈ مسلح میں آیت اللہ علی خامنہ ای ، و ان کے پریوار کے متوفی افراد کے لئے دعا کرائی ۔ یہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مسعود ، میسام و مصطفیٰ بھی موجود تھے ۔ انہیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے نہیں دیکھا گیا تھا ۔موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں دیکھے گئے ۔ ریوشنری گارڈ کے چیف جنرل احمد وحیدی بھی جنگ کے بعد پہلی بار دکھے ۔صدر مسعود پزیشکیان ، سنسد کے اسپیکر محمد باگھیر غالیباف و قدس بلوں کی قیادت کرنے والے اسماعیل تھانی بھی موجود تھے ۔ گرینڈ مسلح میں لگے پوسٹر وں و دیواروں پر لکھے پیغامات میں ٹرمپ و اسرائیل وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو مارنے کی مانگ کی گئی ۔کوی رسولی نے دعا سے قبل پروگرام کو چلایا اور امریکہ اسرائیل مراد آباد کے نعرے لگائے ۔اُدھر ،ایران کے سینئر آرمی افسر علی شادمانی نے امریکہ اور اسرائیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کاروائی کا اس کی مسلح افواج سخت جواب دیں گی ۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی دہرایا کہ دیش کی عوام یا قیادت کسی بھی خطرے کا فوری اور مضبوط جواب دیاجائے گا ۔یہ بیان اسرائیل کے وزیر دفاع کی ایرانی سپریم لیڈر کو مارنے کی دھمکی سے جڑے تبصرے کے بعد آیا ۔بتادیں کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخر ی رسوم میں ان کے آخری دیدار کرنے کروڑوں لوگ سڑکوں پر اترے ۔ ایسی انتم یاترا دنیا میں پہلے کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ۔انتم سنسکار میں بھارت سمیت 70 سے زیادہ دیشوں کے نمائندگان شامل ہوئے ۔وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ 70 سے زائد دیشوں کے نمائندگان سپریم لیڈر گریٹ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں شامل ہوئے ۔ان میں ہمارے وفادار عرب بھائی بھی شامل ہیں ۔
(انل نریندر)

07 جولائی 2026

خامنہ ای کی آخر ی رسوم کی رسمیں شروع

گزشتہ 28 فروری کو امریکی ،اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم 4 ماہ بعد جولائی سے تہران میں شروع ہو گئی ہیں ۔ایرانی حکام اسے صدی کی آخری رسوم بتارہے ہیں ۔ان کے مطابق 1.2کروڑ سے زائد لوگوں کی شرکت کی امید ہے۔ ان تیاریوں کی رہنمائی تہران میں واقع محمد رسول اللہ کور کررہا ہے ۔یہ اسلامی ریولیوشنری گارڈ کی اہم یونٹ ہے ۔قریب 800 غیر ملکی صحافی اس پروگرام کی کوریج کے لئے تہران میں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم کئی دنوں تک چلنے والی الوداعی آخری رسوم کی رسمیں جمع کو شروع ہو گئیں ۔تہران میں جگہ جگہ بینر لگائے گئے ہیں جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس تباہ کن جنگ کے بعد اسلامی رپبلک کی حمایت میں متحد ہوں ۔ان کے جنازے کو ایرانی شہروں اور پڑوسی دیش عرا ق لے جایا جائے گا ۔خامنہ ای اور ان کے کنبہ کے افراد کے تابوت ایرانی جھنڈے میں لپیٹ کر تہران کی گرینڈ مسلح مسجد میں رکھے گئے ہیں ۔متوفین میں ان کے داماد ، ان کی سب سے بڑی بیٹی شیر ایک چھوٹا تابوت ان کی 14 ماہ کی پوتی کا ہے جسے دیکھ کر سبھی دل دہل گیا ۔تابوت میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی بیوی بھی شامل ہے۔ پروگرام میں شامل ہونے کے لئے تقریباً 50 ملکوں کے نمائندہ وفد تہران پہنچا ہے ۔بھارت اور سعودی عرب کا نمائندہ وفد بھی ان میں شامل ہے۔ اس درمیا ن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے ۔انہوں نے ایران پر تلخ طنز کسا ہے تو وہیں دوسری طرف ایرانی عوام نے امریکہ مرد ہ آباد کے نعرے لگائے اور خامنہ ای کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی قسمیں کھائی گئیں ۔ٹرمپ نے تہران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہاں امریکہ نے ایران کو آخری رسوم کے لئے ایک ہفتہ کا وقت اس لئے دیا کیوں کہ واشنگٹن اچھا دیش ہے ۔انہون نے امریکی انتظامیہ کی کاروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا جنگ میں ایران کی بری طرح ہار ہو ئی ہے ۔ایرانی حکام نے آخری رسوم کا نعرہ ’دی مسٹ رائز‘ رکھا ہے ۔جس کے ساتھ مٹھی نیچے ہوئے ہاتھ کی علامت جوڑا گیا ہے ۔حسن زادے نے کہا کہ خامنہ ای کا تابوت ایک اونچے اسٹیج پر رکھا گیا ہے ۔بھیڑ کا انتظام اس طرح سے کیا گیا ہے کہ لوگ 15 سے 20 منٹ کے اندر جاکر باہر نکل سکیں ۔بدھوار کو خامنہ ای کا جسد خاکی نجف لے جایا جائے گا ۔وہاں شیعہ اسلام کے پہلے امام علی کی درگاہ سے جلوس کا انعقاد کیاجائے گا اس کے بعد خراج عقیدت تقریب کربلا میں جاری رہے گی ، پھر جسد خاکی کو واپس ایران لایاجائے گا ۔ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جنازے کی نما ز کون پڑھائے گا ؟ شیعہ روایت میں یہ ذمہ داری مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے اہم ترین مانی جاتی ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای جو کہ اب ایران کے سپریم لیڈر ہیں کو ابھی تک پبلک میں نہیں دیکھا گیا ہے ۔ابھی تک یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے والد کی آخری رسوم میں شامل ہوں گے یا نہیں ؟ امریکہ اسرائیل جنگ کے درمیان یہ ایک اپنی طرح کی انوکھی آخری رسوم ہے ۔ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے مجتبیٰ سے آخری رسوم میں شامل ہونے سے منع کیا ہے ۔کیوں کہ اسرائیل کے ایک وزیر نے کھلے عام دھمکی دی ہے کہ مجتبیٰ کو ہم مار کر رہیں گے۔ حالانکہ مجتبیٰ خامنہ ای ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اتنے دن چلنے والی اس آخری رسوم میں کہیں نہ کہیں بغیر شور مچائے مجتبیٰ اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچ جائیں ۔حالانکہ بھارت میں ایران کے سرکاری نمائندہ آیت اللہ حکیم الہی نے بتایا کہ مجتبیٰ خود حمایتیوں اور ملک کی عوام کے بیچ جانے کے لئے بے حد خواہشمند ہیں ۔لیکن ایران کی ٹاپ خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے اس پر ویٹو لگا دیا ہے ۔موجودہ حالات میں مجتبیٰ کا پبلک کے سامنے آنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں ماناجاسکتا ہے ۔دراصل اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی اپنی انتہا پر ہے اور خفیہ جو جانکاری ہے کہ اس بڑی بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر دشمن دیش ایران کے بیچ نئے سینئرلیڈر شپ کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اسی خطرے کے ماحول کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نظروں سے دور رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے ۔
(انل نریندر)

امریکہ -سعودی نیوکلیائی معاہدہ !

ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ...