Translater

Sex لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Sex لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

02 مئی 2012

جنسی تعلق کے لئے صحیح عمر کیا ہو؟



Published On 2 May 2012
انل نریندر

دہلی کے روہنی ضلع عدالت کی ایڈیشنل جسٹس ڈاکٹر کامنی لا اپنے فیصلوں کے لئے اکثر موضوع بحث رہتی ہیں۔ انہوں نے اب ایک مقدمے میں ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ انہیں سماجی برتاؤ میں آئی تبدیلی کو ذہن میں رکھتے ہوئے جنسی تعلقات کے لئے موزوں عمر سے وابستہ موجودہ قانون پر غور کرنا چاہئے۔ عدالت کا یہ تبصرہ ایک لڑکی کے مبینہ اغوا معاملے میں نوجوان کو بری کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس نوجوان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ زبردستی شادی کرنے کے لئے اس نے لڑکی کا اغوا کیا تھا۔ جسٹس کامنی لا نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ پارلیمنٹ سماجی برتاؤ اور سماجی نظریات کو دیکھتے ہوئے عمر کو لیکر رضامندی اور سلامتی سے وابستہ منظوری دینے سے متعلق موجودہ قانون پر سنجیدگی سے سوچے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم لڑکا اور لڑکی کے درمیان پیار محبت تھا اور خاندان والوں کی مخالفت کے سبب انہیں بھاگنا پڑا۔ خاندان والے نہیں چاہتے تھے کہ دونوں شادی کرکے خوشحال زندگی بسر کریں۔ عدالت نے کہا پیار کررہے نوجوان کو سزا دینے کیلئے ہمارے دیش کی قانونی مشینری کا استعمال نہیں کیا جاسکتا اور یہ عدالت اس صورت میں ان کی زندگی برباد نہیں کرسکتی۔ خاص کر جب ان کے درمیان عمر کا فاصلہ قابل قبول حد تک ہے اور کوئی زور زبردستی والی پوزیشن نظر نہیں آتی۔ عدالت نے کہا معاملے کو یہیں ختم کردینا چاہئے کسی بھی حالت میں ان نوجوانوں کا مستقبل ان کے ماضی کو اجاگر کرکے برباد نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملے میں عدالت نے اشوک وہار کے باشندے کرشن رائے چودھری کو بری کردیا۔ اس پر30 اکتوبر2008 ء کو لڑکی کو زبردستی شادی کرنے کے ارادے سے اغوا کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سماعت کے دوران لڑکی کی ماں اور اس نے کہا کہ اس واقعے سے کچھ مہینے بعد ہی اس کی عمر شادی کے لئے قانونی طور پر واجب ہوگئی تھی اور پھر بہار کے ایک لڑکے سے شادی ہوگئی۔ دونوں نے کہا ایسی صورت میں انہیں عدالت میں طلب نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے اس کی شادی شدہ زندگی متاثر ہوگی۔ دستاویزی جانچ کے بعد پتہ چلا کہ واقعے کے وقت لڑکی کی عمر18-19 سال تھی اور ملزم لڑکے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ایسی حالت میں اسے بری کردیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کامنی لا کا یہ فیصلہ اس لئے بھی متنازعہ مانا جائے گا کیونکہ کسی بھی دیش میں اس موضوع پر ایک رائے نہیں ہے۔دونوں میں مرضی کی عمر مئی2008 تک 14 سال ہوا کرتی تھی اب اسے16 کردیا گیا ہے لیکن جہاں دونوں پارٹنروں کی عمر میں پانچ سال سے کم کا فرق ہے تو جنسی رشتے جرم نہیں ہیں۔ اگر لڑکے کی عمر لڑکی سے پانچ سال زیادہ ہے تو وہ ایک جرم مانا جائے گا۔ اسی طرح امریکہ میں 50 ریاستوں میں جنسی رشتوں کی عمر 16 سے18 سال تک ہے ہر ریاست میں الگ الگ عمر ہے اور تقریباً ہر امریکی ریاست میں ڈیٹنگ ، ہیگنگ، ہاتھ پکڑنا، بوسہ لینا جرم نہیں ہے۔ سنیما اور ٹی وی میں بڑھتی فحاشی بھی جنسی رشتوں میں آئی تیزی کی ایک خاص وجہ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Sex, Sex Change, Vir Arjun

26 اپریل 2012

برے پھنسے سنگھوی:ادھر کنواں تو اُدھر کھائی



Published On 26 March 2012
انل نریندر

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ہی کانگریس پارٹی نے اپنے تیز طرار اپارٹی ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی سے پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور ترجمانی کے عہدے سے استعفیٰ لے لیا۔ پارٹی نے اپنی اور سرکار کی فضیحت بچانے کی کوشش کی ہے۔ فحاشی ویڈیو دیکھنے کے معاملے میں پہلے سے بدنام بھارتیہ جنتا پارٹی کو اب کانگریس سے بدلہ لینے کا موقعہ مل گیا ہے۔ ابھیشیک منو سنگھوی سی ڈی کے معاملے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ سنگھوی سے متعلق ایک سی ڈی 10 دن پہلے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھی اس میں وہ مبینہ طور پر کسی خاتون کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھائے گئے ہیں۔سی ڈی میں دکھائی گئی خاتون وکیل بتائی گئی ہے۔ اس کے مطابق سنگھوی نے اسے جج بنوانے کا لالچ دے کر اس کے ساتھ رشتے بنائے۔ سی ڈی معاملے پر دہلی ہائی کورٹ نے روک لگادی ہے لیکن انٹر نیٹ پر یہ سی ڈی کھل کر چل رہی ہے۔ کہا جارہا ہے سنگھوی کے ڈرائیور نے یہ سی ڈی بنائی۔ بعد میں اس نے سی ڈی سے چھیڑ چھاڑ کئے جانے کی بات بھی مانی ہے۔ سنگھوی نے اس معاملے میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا میں نے استعفے کا فیصلہ اپنے بارے میں تقسیم کی جارہی سی ڈی کو لیکر پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ہونے کے خدشات کو دور کرنے کے لئے کیا ہے۔ مجھ پر لگے سبھی الزام پوری طرح سے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ سی ڈی پر قیاس آرائیاں کرنے کے بجائے لوگوں کو عزت کا خیال رکھنا چاہئے۔ بیشک سنگھوی نے استعفیٰ تو دے دیا ہے لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ کانگریس کی فضیحت اتنی آسانی سے ختم ہوجائے گی۔ سنگھوی نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں ایسا کرنے کے لئے مجبورکیا گیا۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں سرکار پہلے ہی سے دباؤ میں ہے اور وہ اب کوئی نیا درد سر نہیں لینا چاہتی لیکن بھاجپا پہلے سے جھیل رہی سی ڈی معاملے (کرناٹک اسمبلی) ایسا موقعہ اپنے ہاتھ سے کیسے جانے دیتی؟ بھاجپا کے نیتا و راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی اس معاملے میں چیئرمین حامد انصاری سے بھی ملے اور انہوں نے چیئرمین کو کہا کہ ایسا شخص کسی بھی پارلیمانی کمیٹی کا چیئر مین نہیں ہوسکتا جس پر بیحد قابل اعتراض الزامات لگ رہے ہوں۔ یہ پیغام کانگریس کے فلور منیجروں تک بھی پہنچایا جائے۔ بھاجپا نے دو طرفہ طریقے سے سرکار اور کانگریس کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کی حکمت عملی بنائی ہوئی ہے۔ بھاجپا نیتاؤں کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس نے پارلیمنٹ کی اس دلیل کو مان لیا کہ سی ڈی صحیح نہیں ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور ان کا ڈرائیور بلیک میل کررہا ہے تو یہ معاملہ پارلیمانی استحقاق قواعد کے تحت جانچ کے دائرے میں آجاتا ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ اس کی توہین کے دائرے میں آتا ہے۔ دوسری طرف سی ڈی مبینہ طور سے کسی کو جج بنوانے کے وعدے کا الزام صحیح ہے تو یہ معاملہ پارلیمنٹ کی ایتھکس کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ سنگھوی کے استعفے کے بعد بھی بھاجپا اس معاملے کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔ جیٹلی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں یہ معاملہ ضرور اٹھائیں گے۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کی حیثیت سے مسٹر سنگھوی کو یہ بتانا پڑ سکتا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ کس وجہ سے دیا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے سنگھوی کی یہ ذاتی زندگی پر آنچ اس لئے آسکتی ہے کیونکہ وہ پبلک میں ہیں اور اس کے چلتے ایسا معاملہ ذاتی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ جنتا کے چنے ہوئے نمائندے ہیں اسی وجہ سے پارلیمنٹ کی آئینی معاملوں کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے تھے۔اسی لئے پارلیمنٹ کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ ایسی کونسی ذاتی وجہ ہے جو ان کی عام زندگی کو متاثر کررہی ہے؟ دوسری طرف اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ سی ڈی انہیں بدنام کرنے یا ان کی ساکھ کو ملیا میٹ کرنے کے لئے کسی نے غلط طریقے سے بنوائی ہے تو یہ کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے مخصوص اختیارات کی خلاف ورزی کا سیدھا معاملہ ہے اور اگر سی ڈی سچی ہے تو یہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کا معاملہ بنتا ہے جس میں کسی بھی ایم پی کی ذاتی زندگی میں آنے پر سماجی برتاؤ کا نوٹس لیا جاتا ہے۔ ویسے اگر سنگھوی کو اس سے تشفی ہوتی ہے کہ ان کی سیکسی سی ڈی، یو ٹیوب میں ڈالنے والے شخص نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس وزیر داخلہ پی چدمبرم کی روسی طوائف کے ساتھ سیکس سی ڈی ہے جسے وہ تبھی جاری کرے گا جب سنگھوی کو کانگریس سے نکالا نہیں جائے گا۔ بہرحال برے پھنسے سنگھوی ان کے لئے ادھر کنواں تو ادھر کھائی ہے۔
Abhishek Singhvi, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

04 مارچ 2012

بھنوری دیوی اغوا و قتل معاملے میں چارج شیٹ کیا کہتی ہے؟



Published On 4 March 2012
انل نریندر
سرخیوں میں چھائے رہے بھنوری دیوی قتل کانڈ میں سی بی آئی نے بدھوار کو جودھپور کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ 97 صفحات کی اس چارج شیٹ میں 50 صفحات میں الزام اور کہانی بیان کی گئی ہے۔ 300 گواہوں کے بیان ہیں اور چارج شیٹ میں 313 دستاویز نتھی کئے گئے ہیں ان میں 93 ثبوتوں کی فہرست بھی لگائی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں سابق وزیر مہیپال مدیرنااور ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بشنوئی پر ایک ہی الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ ملکھان سنگھ کی بہن اندرا نے مدیرنا کی سی ڈی بنوائی تھی۔ مدیرنا قابل اعتراض سی ڈی سے بلیک میل ہورہے تھے۔ ملکھان سنگھ بھنوری کی ایک بیٹی کا والد ہونے اور کھیجڑلی میلے میں پول کھولنے سے پریشان تھے۔ دونوں نے صحیح رام اور سوہن لال کو بھنوری کو ٹھکانے لگانے کا ذمہ سونپا اور اسی سازش میں 1 ستمبر کو اس کا اغوا کیا گیا۔ چارج شیٹ کے مطابق بھنوری دیوی اور سابق وزیر مہیپال مدیرنا کی فحش سی ڈی کے پیچھے سیاسی سازش تھی اور اس پورے معاملے میں ماسٹر مائنڈ اندرا بشنوئی تھی۔ اس نے ہی اپنے بھائی ملکھان سنگھ کو وزیر بنوانے کے لئے یہ سازش رچی تھی۔ غور طلب ہے کہ 1 ستمبر 2011ء کو بھنوری دیوی غائب ہوئی تھی اور ٹھیک 6 ماہ بعد کورٹ میں دوسری چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ بھنوری اغوا اور قتل معاملے میں مدیرنا ، ملکھان سنگھ سمیت 16 ملزم جیل میں ہیں یہ ملزم سوہن لال، شہاب الدین، بلدیو، صحیح رام، پرس رام، امرچند،امیش رام، کیلاش وغیرہ ہیں۔ان میں اندرا بشنوئی ابھی گرفتار نہیں ہوپائی، وہ چار ماہ سے فرار ہے۔سابق وزیر مہیپال مدیرنا اور ملکھان سنگھ اے این ایم بھنوری دیوی کے ذریعے بلیک میلنگ سے کافی پریشان تھے۔ بدنامی سے بچنے کے ساتھ ہی سیاسی کیریئر کو بچانے کے مقصد سے ان دونوں بڑے لیڈروں نے بھنوری دیوی سے چھٹکارا پانے کے لئے سازش رچی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بھنوری دیوی کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔ اسی کڑی میں اس نے بھنوری کی کار جو اس نے3 ستمبر 2009ء کو خریدی تھی ، کی ادائیگی 320594 روپے اپنی طرف سے کی تھی۔ اس کار کو دلانے میں مدیرنا نے بھی مدد کی تھی۔ اسی دن بھنوری نے شکارگڑھ میں ایک پلاٹ بھی خریدا تھا۔ بھنوری دیوی ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ کی صرف خاتون دوست بن کر ہی نہیں رہنا چاہتی تھی۔ ایسے میں وہ اپنی چھوٹی لڑکی کا حق پانے میں لگ گئی۔7 ستمبر 2010ء کو بھنوری جودھپور کے اس وقت کے ایس پی دفتر جاپہنچی اور ملکھان سنگھ کو چھوٹی لڑکی کا والد بتاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اندرا اسے سمجھا بجھا کر وہاں سے لے گئی۔ پھر بھنوری نے بلیک میلنگ کا دھندہ بڑھا دیا۔ اندرا کے گھر رچی گئی سازش مہیپال مدیرنا اور بھنوری کی فحش سی ڈی مدیرنا کے فارم ہاؤس پر بنائی گئی تھی۔ ٹی وی چینلوں میں اس سی ڈی کو دکھائے جانے سے دونوں خاندانوں میں کھلبلی مچ گئی اور بہت غور و خوض کے بعد بھنوری دیوی کو جان سے مار کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معاملے کو دفن کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ بھنوری کا اغوا اور بعد میں اس کے قتل کی پوری جانکاری ہونے کے باوجود بھنوری کا شوہر امرچند انجان بنا رہا۔ سازش میں شامل امرچند نے پولیس کے کافی دباؤ ڈالنے پر پہلے گمشدگی اور پھر اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اسے اندیشہ تھا کہ جانچ کے دوران کہیں اس کی اس معاملے میں شمولیت اجاگر نہ ہوجائے۔ اس کہانی میں سبھی موڑ ہیں لو، سیکس، بلیک میلنگ و قتل۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Rajassthan, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

01 مارچ 2012

ہم جنس رشتوں کے آئینی جواز پر گرمایا معاملہ



Published On 1 March 2012
انل نریندر
ہم جنس رشتوں کو نہایت غیر اخلاقی قرار دے کر انہیں جرائم کے زمرے سے باہر رکھنے پر نامنظوری ظاہر کرنے کے بعد حکومت ہند نے اپنا موقف پلٹ لیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پی پی ملہوترہ نے سپریم کورٹ میں دلیل پیش کی کہ سیملنگ تعلقات سماجی نظام کے منافی ہیں اور ہندوستانی سماج بیرونی ممالک میں رائج روایتوں کو نہیں اپنا سکتا۔ ملہوترہ نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا ہم جنس رشتوں سے بیماریاں پھیلنے کے کافی امکانات ہیں۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ بدھ کو اس سلسلے میں ہم جنس حق مخالف گروپوں سے سوال جواب کئے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے سیملنگ حق مخالف گروپ سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے طے میعاد کا دائرہ بڑھانے اور اپنی دلیلوں کو صرف جسمانی رشتوں تک محدود نہ رکھنے کو کہا تھا کیونکہ اشو پر قطعی فیصلے میں وسیع پیچیدگیاں کھڑی ہوں گی۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ دیش میں ہم جنس لوگوں کے خلاف اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لئے درج معاملوں کی تعداد کتنی ہے؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دو بالغوں کے درمیان رضامندی کی بنیاد پر سیملنگ تعلق کو کرائم کے زمرے سے الگ کرنے کا دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ دور رس اثر ڈالنے والا ہے۔ اس کے سبھی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ بنچ نے جاننا چاہا مرد ہم جنس (گے سیکس) کو کون کون سے دیشوں میں جرائم مانا گیا ہے۔ سیملنگ کمیونٹی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 377 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی اجازت ہے۔ سیملنگ کمیونٹی دفعہ 377 کو غلط مانتی ہے۔کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے انہیں بے وجہ پریشان کیا جاتا ہے۔ بنچ کی رائے تھی کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا اثر دیگر قوانین پر بھی پڑے گا۔ قابل ذکر ہے کہ 2009ء میں سیملنگ رشتوں کو جب جائز مان لیا گیا تھا جب دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایسے رشتوں کو جرائم کے زمرے سے باہر کردیاتھا۔ دیش کی کئی سماجی ،سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف آدھا درجن اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے وقت اور نظریئے کے دائرے کو بڑھانے کو کہا تھا۔ اس سے پہلے بنچ نے کہا تھا کہ ہم جنسی کو بدلتے سماج کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ بنچ نے 'لو ان ریلیشن شپ' سنگل پیرنٹ اور سروگیسی کا حوالہ دیا تھا۔ اطفال تحفظ کمیشن کی جانب سے کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں دلیل دی تھی کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر ملکی عدالتوں کے فیصلے پر منحصر کرتا ہے۔ بھارت کی تہذیب بیرونی ممالک سے الگ ہے۔ اسے ہندوستانی معاشرے سے دیکھا جانا چاہئے۔ سماعت کی پچھلی تاریخ پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ غیر معمولی اور غیر فطری ہم جنس پرستی میں فرق ہے۔ قدرت کے برعکس جنسی خواہشات کو غیر فطری طریقے سے کہا جاسکتا ہے لیکن اسے غیر فطری کہنا مناسب نہیں ہوگا۔ سیملنگ کو بدلتے ہوئے سماجی پس منظر کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج سے 20-25 سال پہلے تک ان چیزوں کو غیر اخلاقی مانا جاتا تھا اب یہ قابل قبول ہیں۔ ہائی کورٹ کے 2 جولائی 2009ء کے فیصلے پر دیش بھر میں سخت منفی رد عمل سامنے آیا تھا۔ عدالت نے رضامندی کی بنیاد پر دو مردوں کے درمیان ہم جنسی کو منظوری دے دی تھی۔ راضی بالغوں کے پس منظر میں دفعہ377 کے تحت اسے غیر قانونی قرار دینے کی سہولت کو ہائی کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gay, Sex, Supreme Court, Vir Arjun

10 فروری 2012

کرناٹک ودھان سبھا میں ’ڈرٹی پکچر‘ کا قصہ

بھاجپا زیر اقتدار کرناٹک سرکار نے ایک بار پھر پارٹی کی جم کر فضیحت کروادی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت جب اترپردیش میں ودھان سبھا چناؤ کے ووٹ ڈلنے شروع ہوگئے ہیں۔سنسکرتک راشٹرواد کی جھنڈا بردار اس پارٹی کو کرناٹک کے اعلی نیتاؤں نے خاصہ کرارا جھٹکا دیا ہے۔ سرکار کے تین منتری ودھان سبھا میں ننگی لڑکیوں کی تصویریں یعنی بلو فلم دیکھتے ہوئے پکڑے گئے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل نے اپنے کیمرے میں ان تین منتریوں کی کرتوت پکڑی۔اس سے جم کر ہنگامہ ہوا۔ اترپردیش کے چناؤ کو دیکھتے ہوئے پارٹی اعلی کمان نے بغیر دیری کے تینوں کے استعفے مانگ لئے جو منظور بھی ہوگئے ہیں۔ کرناٹک ودھان سبھا میں منگلوار کو جس وقت پاکستانی جھنڈا لہرانے پر بحث ہورہی تھی ٹھیک اسی وقت یہ تینوں نیتا اپنے موبائل کی کلیپنگ دیکھ رہے تھے۔ یہ ہی نہیں کچھ ہاٹ تصویریں دیکھ کر یہ ایک دوسرے سے اشلیل اشارے بھی کررہے تھے۔ یہ سب حرکتیں کیمرے میں قید ہوگئیں۔ مقامی چینل نے ان میں سے کچھ تصویریں شائع بھی کردیں۔ شرمسار کر دینے والی اس گھٹنا کے ایک دن پہلے ہی اس بات کو لیکر بحث جاری تھی کہ سرکار نے منگلور کے سمندری کنارے پر ریو پارٹی کی اجازت کیسے دی؟ الزام لگا تھا کہ ٹورزم کے بڑھاوے کے نام پر سرکار نے اس فحش ریو پارٹی کی اجازت دے دی۔ اسپارٹی میں ڈرگس اور شراب کا کھل کر استعمال کیا گیا۔ پارٹی میں کئی ودیشی لڑکیوں نے اپنے کپڑے اتار کر جشن منایا تھا۔ اس کی تصویریں بھی ایک چینل کے کیمرے میں آگئی تھیں،اسی درمیان اچھے کریکٹر کی دہائی دینے والی پارٹی کے منتریوں نے ودھان سبھا احاطے میں ہیں ڈرٹی پکچر دیکھ کر ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ اس تنازعے کے چلتے یوپی میں پارٹی کی چھوی کو دھکا لگ سکتا ہے۔اس معاملے سے شرمسار بھاجپا رہنماؤں نے پارٹی کی چھوی کو ہوئے نقصان کو کم کرنے کے لئے سہکارتا منتری لکشمن سابدی اور مہلا اور بال وکاس منتری سی سی پارٹل کو عہدہ چھوڑنے کے لئے کہا جبکہ تکنیکی منتری کرشنا پالیمر کو دونوں منتریوں کو مبینہ طور سے بلو فلم دینے کے لئے برخاست کردیا۔ اس سال یکم جنوری کو بیجا پور ضلع میں پاکستانی جھنڈا لہرانے پر منگلوار کو بحث چل رہی تھی اسی وقت سابدی اور پاٹل موبائل پر فحش فلم دیکھ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق منتریوں کا استعفیٰ لینے کا دباؤ منگلوار رات میں لال کرشن اڈوانی نے بنایا تھا۔ اس کے بعد پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے تینوں سے استعفے مانگ لئے تھے۔ اعلی کمان نے مکھیہ منتری سے کہہ دیا تھا کہ آدھی رات تک تینوں منتریوں کے استعفے نہیں آتے تو انہیں برخاست کردیا جائے۔دہلی سے آئے اس فرمان کے بعد ہی تینوں نے آدھی رات کے بعد استعفیٰ بھیجا تھا۔ویسے کرناٹک کے سابق مکھیہ منتری بی ایس یدی یرپا نے میڈیا سے کہا تھا کہ منتریوں کے استعفے کے بعد اور چمتکار ہوجائے گا کیونکہ محض کچھ تصویریں دیکھنے کیلئے ہم نے اپنے منتریوں کو اتنی بڑی سزا دے دی ہے۔ یدی یرپا کے اس تبصرے کو لیکر دہلی میں بھاجپا کئی بڑے نیتا حیران ہیں۔ پارٹی ادھیکش نتن گڈکری نے کہا ہے کہ وہ ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے کسی نیتا کو رعایت نہیں دینے والے جبکہ کانگریس ایسی ہمت نہیں دکھاتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Dirty Pictures, Karnataka, Nitin Gadkari, Sex, Sexy Photo, Vir Arjun, Yadyurappa

26 نومبر 2011

بھنوری دیوی کے بعد راجستھان میں ایک اور سیکس اسکینڈل



Published On 26th November 2011
انل نریندر
بھنوری دیوی کا اتنے دن بعد بھی کوئی سراغ نہیں لگ سکا وہ کس حالت میں ہے، زندہ بھی ہے یا نہیں؟ جودھپور ضلع کے جالیواڑہ ہیلتھ سینٹر میں ملازم نرس بھنوری دیوی گذشتہ یکم ستمبر سے مشتبہ حالات میں لاپتہ ہے۔ سی بی آئی اس معاملے میں راجستھان کے برخاست وزیر مہیپال مدرینا اور اس کی بیوی لیلا مدرینااور کانگریس ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ ، اس کی بہن اندرا سمیت کئی لوگوں سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ سی بی آئی نے اس مقدمے میں شہاب الدین اور سوہن لال سمیت تین لوگوں کوگرفتار بھی کیا ہے ۔ یہ تینوں عدالتی حراست میں ہیں۔ 24 نومبر کو اس مقدمے کی راجستھان ہائی کورٹ میں تاریخ تھی۔ سی بی آئی کو عدالت میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنی تھی۔ سی بی آئی نے عدالت سے کہا کہ اسے اپنی جانچ رپورٹ پیش کرنے کے لئے کچھ اور دنوں کی مہلت چاہئے۔ عدالت نے اس کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسے وقت دے دیا۔ اب اگلی سماعت15 دسمبر کو ہونے والی ہے۔ جسٹس گووند ماتھر ، جسٹس ایم کے جین کی ڈویژن بنچ نے لاپتہ بھنوری دیوی کے شوہر کی عرضی پر بند کمرے میں سماعت شروع کی۔ سی بی آئی کو اس معاملے میں کوئی قابل توقع کامیابی اب تک نہیں مل سکی۔ 200 سے زیادہ پولیس ملازمین نے لوہاور کے چھوٹے موٹے علاقوں تقریباً 20 کلو میٹر تک کھیتوں و جھاڑیوں میں بھنوری کی باڈی کی تلاش کی۔ ساتھ ہی فورنسک سائنس لیباریٹری کے ماہرین سے بھی پوچھ تاچھ کی۔ جنہوں نے ملزم شہاب الدین کی اس بلیرو گاڑی کی بھی جانچ کی تھی جس میں بھنوری دیوی کا اغوا کیا گیا تھا۔ دراصل سی بی آئی یہ ایک قیاس آرائی کی بنیاد پر تفتیش میں لگی ہوئی ہے کہ اسی بلیرو کارمیں تو بھنوری کے ساتھ کوئی انہونی تو نہیں ہوئی؟
ابھی بھنوری دیوی کا معاملہ سلجھا نہیں تھا کہ ایک اور سیکس اسکینڈل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کا خلاصہ سرسہ کے سب ڈویژن ڈبوالی کے گاؤں ابوبراہر کی متاثرہ لڑکی نے کیا۔ اس معاملے میں عدالت کے حکم پر راجستھان کے ایک سابق وزیر سابق ایم پی اور لڑکی کے شوہر اور دیو سمیت 18 لوگوں کے خلاف مقدمہ جے پور کے ویشالی نگر تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ ابوبراہرکی لڑکی نے 19 نومبر کو جوڈیشیل مجسٹریٹ ڈویژن دو جے پور کی عدالت میں اپنا حلف نامہ دیکر اس معاملے میں انصاف کی اپیل کی تھی۔ لڑکی نے ہنومان گڑھ کے باشندے اپنے شوہر اوم پرکاش گودارا پر الزام لگایا تھا کہ وہ اپنا پراپرٹی ڈیلر کا کاروبار بڑھانے کے لئے اسے نشے کی گولیاں کھلا کر اونچے لوگوں کو اسے پیش کرتا تھا۔ اس کے بعد عدالت کے حکم پر 21 نومبر کی رات جے پور تھانہ ویشالی نگر میں معاملہ درج کیا گیا۔ معاملے کی جانچ کررہے انسپکٹر نے بتایا کہ جن کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ان میں خاتون کا شوہر اوم پرکاش گودارا ، سابق وزیر جوگیشور گرگ، سابق ایم پی نیہال چند میگھوال، راجستھان یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق پردھان پشپندر بھاردواج، بھاجپا نیتاؤں کے پرائیویٹ سکریٹری رہے وویک آنند، ڈی ایس پی انل رائے ، پولیس انسپکٹر مہاویر سنگھ سمیت18 لوگ شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف دفعہ376/328/343/328/506 آئی پی سی اور120 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ سرخیوں میں آیا بھنوری دیوی معاملے کی طرح ایک اور سیکس ریکٹ سے راجستھان کی سیاست میں نیا طوفان کھڑا ہوسکتا ہے۔ جہاں تک بھنوری دیوی کا سوال ہے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اسے زمین نگل گئی ہے یا آسمان کھا گیا؟ اخباروں میں شائع خبر کے مطابق بھنوری دیوی کا قتل ہوچکا ہے لیکن اس حقیقت کے لئے سی بی آئی کو ابھی ثبوت اکٹھے کرنے ہیں یہ بات سی بی آئی نے جمعرات کو جودھپور ہائیکورٹ میں اپنی پیش رفت رپورٹ میں عدالت سے کہی ہے۔ اسی پر عدالت نے اسے15 دن کا وقت دے دیا ہے۔ ادھر ابوبراہر کی لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر نے اس کی 34 سی ڈی بنائی ہیں۔ ان کے ذریعے وہ متعلقہ لیڈروں کو بلیک میل کرتاتھا۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, Daily Pratap, Rajassthan, Sex, Sex Racket, Sex Scandal, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...