Translater

Ram Lila Maidan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ram Lila Maidan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

26 فروری 2012

4 جون کی رات رام لیلا میدان میں ہوا تھا ظلم

ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ عزت مآب سپریم کورٹ نے بابا رام دیو حمایتیوں پر4 جون 2011ء کو ہوئے لاٹھی چارج پر سرکار کو کڑی پھٹکار لگائی اور مانا کہ اس رات پولیس کارروائی غلط تھی۔ کالی کمائی اور کرپشن کے اشو پر رام لیلا میدان میں ستیہ گرہ کررہے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو رام لیلا میدان سے طاقت کے بل پر نکال باہر کرنے کی دہلی پولیس کی کارروائی کو سپریم کورٹ نے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے قصوروار پولیس افسران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ رام لیلا میدان میں رات میں سو رہے احتجاجیوں پر دہلی پولیس کی بربریت آمیز کارروائی اور جنتا اور سرکار کے درمیان کم ہورہے اعتماد کی تازہ مثال ہے۔ جسٹس بلبیر سنگھ چوہان اور سوتنتر کمار کی ڈویژن بنچ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے دہلی پولیس نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کیا ۔ سرکار کو قصوروار پولیس افسران کے ساتھ ہی پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ حکومت کو کارروائی کے بارے میں تین مہینے کے اندر عدالت میں رپورٹ دینی ہے۔ جج صاحبان نے کہا کہ4 جون کی رات میں ہوئے واقعہ کو ٹالا جاسکتا تھا لیکن پولیس اور انتظامیہ نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسائیں، جس سے ایک خاتون کی موت ہوگئی اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ عدالت نے سخت الفاظ میں کہا پولیس کا کام امن بنائے رکھنا ہے لیکن رام لیلا میدان میں اس نے شانتی بھنگ کرنے کا کام ہی نہیں کیا بلکہ سوتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسا کر شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی کی ہے ۔
ججوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں دہلی پولیس نے احتجاجیوں کو رام لیلا میدان سے نکال باہر کرنے کے لئے بیحد تشدد آمیز طریقہ اپنایا۔ لیکن دوسری طرف بابا رام دیو کے حمایتیوں نے بھی پولیس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے پتھراؤ کیا جس سے حالات بگڑ گئے۔ عدالت نے جان گنوانے والی راج بالا کے رشتے داروں کو پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے اور معمولی چوٹ والے افراد کو 25-25 ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاوضے کی اس رقم کا 25 فیصدی حصے کی ادائیگی بابا رام دیو ٹرسٹ کرے گا۔
ہم ہمیشہ کہتے آرہے ہیں کہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور کچھ دیگر وزرا کے اشاروں پر دہلی پولیس نے 4 جون کو سوتے ہوئے لوگوں پر لاٹھی برسائی سرکار اور پولیس بھلے ہی کہتی رہے کہ کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا ، نہ کوئی جبراً کارروائی ہوئی سپریم کورٹ کے فیصلے سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگیا ہے۔ ہمارا یہ خیال ہے کہ دہلی پولیس نے اس رات جو بھی کیا وہ وزارت داخلہ کے احکامات پر کیا۔ اصل قصوروار تو احکامات دینے والے ہیں۔ دہلی پولیس نے کارروائی کی مخالفت بھی کی تھی۔ پولیس نے کہا تھا کہ ہم صبح ہوتے ہی پرامن طریقے سے رام لیلا میدان خالی کروا لیں گے لیکن منموہن سرکار کے کچھ وزرا نے تو ٹھان لی تھی کہ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو ایسی مار مارنی ہے جو دوبارہ ایسا کرنے کی جرأت نہ کریں۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

28 ستمبر 2011

بابا رام دیو حمایتیوں پر لاٹھی چارج کی شکار راج بالا چل بسی




Published On 28th September 2011
انل نریندر
کالی کمائی کے اشو پر بابا رام دیو کے انشن کے دوران رام لیلا میدان میں دہلی پولیس کے ذریعے 4 جون کو کی گئی کارروائی میں شدید زحمی ان کی ایک حمایتی 57 سالہ خاتون راج بالا آخر کار پیر کے روز چلی گئیں۔ راج بالا کی ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئیں تھیں تبھی سے وہ یہاں جی بی پنت ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق راج بالا کی موت صبح 10 بجکر25 منٹ پر ہوئی۔ راج بالا ان بدقسمتوں میں تھیں جو 4 جون کو رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کی حمایت میں بیٹھی تھیں۔ پولیس کارروائی میں بری طرح زخمی ہونے کے بعد انہیں4 جون کو ہی ہسپتال میں بھرتی کروایا تھا۔ ان کا آپریشن بھی ہوا تھا اور وہ وینٹی لیٹر پر تھیں۔ راج بالا کے خاندان اور بابا رام دیو کا الزام ہے کہ راج بالا پولیس لاٹھی چارج کے سبب زخمی ہوئی تھی حالانکہ پولیس ان الزامات کی تردید کرچکی ہے۔ رام لیلا میدان پر کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا تھا اور مظاہرین کے درمیان مچی بھگدڑ کے سبب راج بالا زخمی ہوئی تھیں۔ ہسپتال میں راج بالا کی موت کی اطلاع ملتے ہیں پنت ہسپتال پہنچے بابا رام دیو نے کہا راج بالا کی قربانی بیکار نہیں جانے دی جائے گی۔ جن اشوز کی لڑائی میں انہوں نے قربانی دی وہ آگے جاری رہے گی۔ بابا نے کہا راج بالا کی موت کرپشن کے خلاف لڑائی میں شہادت ہے ان کی موت کے لئے وزیر داخلہ سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں کیونکہ انہی کے کہنے پر پولیس نے میرے حمایتیوں پر بے رحمانہ طریقے سے کارروائی کی تھی۔ رام دیو کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے اس اشو پر حمایت دی ہے اور کہا ہے کہ دہلی پولیس اور اسے ہدایت دینے والے وزیر داخلہ کو معاملے میں ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ موقعے پر سول سوسائٹی کے ممبر منیش سسودیا اور راج بالا کی بہو راکیش کماری ملک نے اخبار نویسوں کے سامنے الزام لگایا کہ راج بالا کی موت پولیس کارروائی کے سبب ہوئی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ پولیس نے یہ کارروائی کی تھی۔ ہمیں ہماری ماں واپس چاہئے۔ کیا ہمیں ہماری ماں واپس دے سکتے ہیں؟ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہئے۔ آپ ایسی سرکار سے کیا امید رکھیں گے جس کے وزیر اعظم یا کسی سینئر وزیر نے اس معاملے میں ایک لفظ تک نہیں بولا۔ راکیش کماری نے یہ بھی الزام لگایا راج بالا کو جو چوٹیں آئیں تھیں ان کا ایم ایل سی میں ذکر بھی نہیں کیا گیا ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر راجناتھ سنگھ نے کہا اس سے پولیس کے سپریم کورٹ کے سامنے کئے گئے اس دعوے کی پول کھل گئی ہے کہ مظاہرین پر کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا تھا۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ پہلے دن سے ہی راج بالا کی حالت نازک بنی ہوئی تھی اور انہیں دوائیوں اور لائف سپورٹ سسٹم پر ہی زندہ رکھا گیا تھا۔ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر مبینہ پولیس کارروائی کے الزام کے بعد قومی انسانی حقوق کمیشن نے 6 جون کو مرکزی وزیر داخلہ دہلی سرکار اور دہلی پولیس سے رپورٹ مانگی تھی۔ اس پولیس کارروائی میں بچوں ،خواتین، بزرگوں سمیت بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ انہیں یقین ہے بصد احترام جج راج بالا کی موت کا نوٹس لیں گے اور ان کے قتل کے لئے ذمہ دار لوگوں پرضرور کارروائی کریں گے۔ہم راج بالا کے خاندان والوں کو بتانا چاہیں گے کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, delhi Police, Human Rights Commission, P. Chidambaram, Raj Bala, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

03 ستمبر 2011

بابا رام دیو کو گھیرنے میں لگی سرکار


Published On 4th September 2011
انل نریندر
بابا رام دیو اور انا ہزارے کی تحریک سے خار کھائی کانگریس پارٹی اور یوپی اے حکومت اب ان سے دشمنی نکال رہی ہے۔ جب سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے حکومت ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئی ہے۔ بابا رام دیو کو سرکار اب خود غیر ملکی کرنسی ایکٹ (فیما) میں پھنسانے میں بے چین ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو اور ان کے ٹرسٹ کے خلاف فیما قانون کی خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بابا رام دیو کی کمپنیوں پر بیرونی ممالک سے ہونے والے پیسے کے لین دین میں قواعد کو نظر انداز کرنے کے الزام میںیہ مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکاٹ لینڈ میں بابا کو عطیہ میں ملے مبینہ جزیرے کے معاملے کی بھی پڑتال کی جارہی ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور جانچ ایجنسیاں یہ دیکھنے کی کوشش کررہی ہیں کہ اس جزیرے کو حاصل کرنے میں بابا اور ان کی کمپنی کہیں قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ ایسے میں جلد ہی اس معاملے میں بابا کے ساتھی آچاریہ بال کرشن اور یوگ گورو کے سینئر منتظمین سے پوچھ تاچھ کرنے کے آثار ہیں۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھارتیہ ریزرو بینک اور غیر ملکی جانچ ایجنسیوں اور بینکوں کے ذریعے سے ملی اطلاعات کی بنیاد پر معاملے درج کئے ہیں۔انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی یوگ پیٹھ، بھارتیہ سوابھیمان ٹرسٹ اور یوگ مندر ٹرسٹ کے ذریعے سے پیسے کے بیجا لین دین کی جانکاری ملی ہے۔ ان اداروں کے امریکہ، نیوزی لینڈ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے غیر ملکی کرنسی حاصل ہوئی ہے اور ایسا کرنے میں وسیع پیمانے پر قواعد کو تلانجلی دی گئی ہے۔ بتاتے ہیں کہ برطانیہ سے ہی ایک معاملہ قریب 7 کروڑ روپے کے لین دین سے وابستہ ہے۔ یہ معاملہ بے نامی سودے سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے عام تاجروں اور خوردہ دوکانداروں سے مل کر ناجائز طور پر مالی لین دین کے ثبوت ملے ہیں۔ ریزرو بینک سے انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ملے دستاویزات کے مطابق بابا رام دیو کی کمپنیوں نے برآمدات سے ہوئی تقریباً 1.8 کروڑ روپے (چار لاکھ ڈالر) کی آمدنی کے بارے میں سینٹرل بینک کو کوئی معلومات نہیں فراہم کی گئی۔ قاعدے کے مطابق برآمدات سے غیرملکی کرنسی میں ہوئی آمدنی کی اطلا ع چھ مہینے کے اندر آر بی آئی کو دینا ضروری ہے۔ رام دیو سے وابستہ کمپنیوں نے چھ مہینے کے بعد بھی آر بی آئی کو کچھ نہیں بتایا۔
بابا رام دیو اور ان کی کمپنیوں کے خلاف انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے فیما کے تحت مقدمے سے سامان پتنجلی اینڈ ہربل پارک میں ملازمین میں اپنے مستقبل کو لیکر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔پدارتھی میں واقع فوڈ پارک میں قریب پانچ ہزار ملازم کام کرتے ہیں۔ فوڈ پارک کے آس پاس گاؤں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ سبھی کو بے چینی ہے کہ کہیں انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ ان کے کھاتوں کو منجمد نہ کردے اور ان کا مستقبل اَدھر میں لٹک جائے۔ ادھر بابا رام دیو نے ہری دوار میں کہا کہ انہوں نے یا ان کے ٹرسٹ نے کسی بھی طرح کے لین دین میں کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا ہے۔ بابا نے بتایا کہ ابھی تک انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے انہیں یا ان کے ٹرسٹ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کی کوئی سرکاری جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ انہیں اس کی جانکاری میڈیا سے ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس ملنے پر معقول جواب دیا جائے گا۔ بابا رام دیو ہری دوار کے کنکھل میں واقع دیویہ یوگ فارمیسی سے اخبار نویسوں سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ان کے ٹرسٹ سے کسی بھی طرح کا کوئی بھی غیر آئینی کام نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی لین دین ہوا ہے۔
Baba Ram Dev, Ram Lila Maidan, Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, ED, Black Money, Corruption,

28 اگست 2011

جنتا کی انا کے تئیں وفاداری اور حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 28th August 2011
انل نریندر
یوپی اے سرکار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ انا کو مل رہی وسیع عوامی حمایت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سرکار کو اتنا اختیار نہیں ہونا چاہئے کہ کروڑوں نوجوانوں کے جذبات کی قدر نہ کرے۔ ایسا کرنا بھاری بھول ہوگی۔ جنتا کے انا کے تئیں جوش میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کچھ حمایتی تو 16 اگست سے ہی رام لیلا میدان میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں تب تک ڈٹے رہیں گے جب تک انا انشن ختم نہیں کرتے۔’آ‘سے امرود اور انار پڑھنے والے بڑیاں بازار میں واقع نیتا جی سبھاش چندر بوس جونیئر ہائی سکول کے بچے پچھلے ہفتے سے ’آ‘ سے انا پڑ رہے ہیں۔ان کی اس لگن پر انا کا مطلب کیا ہے ، کا جواب ٹیچر دے رہے ہیں۔بدعنوانی سے لڑنے والا عدم تشدد کا جانباز ہندوستانی بری فوج کے چیف جنرل وی کے سنگھ جیسی شخصیت کا یہ کہنا کہ ہم ایک دلچسپ اور عدم تشدد کے دور سے گذر رہے ہیں اور اس لئے ہم جمہوریت اورجنتا کی طاقت کو گواہ بنا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جنتا اپنے ڈھنگ سے اپنی پریشانی بیان کررہی ہے۔ پیپلی لائیو کے مشہور آرٹسٹ رگھوویر یادو نے مہنگائی ڈائن کی دھن چھیڑ کر لوگوں کی تالیاں بٹوریں۔جیسے ہی مہنگائی ڈائن کا راگ چھیڑا تو تالیوں کی برسات شروع ہوگئی۔ مہنگائی اور کرپشن کے ناسور کے چلتے لوگوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ اب تک ایک طبقہ ایسا تھا جس نے انا کی تحریک کے خاص نکتے بدعنوانی پر ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ صنعتی طبقہ بھی اس پر خوش ہے۔ ٹاٹا گروپ کے چیئر مین رتن ٹاٹا نے مانا کرپشن کے معاملے میں دیش کی حالت اور خراب ہوئی ہے۔ اگر آپ کرپشن میں شریک نہیں ہوتے تو آپ کا کاروبار پچھڑ جاتا ہے۔ سال1991 کی بہ نسبت ملک میں کرپشن بڑھا ہے۔ میں تیس ہزاری میں سول جج کے عہدے پر کام کرتا ہوں۔ یہ کہنا تھا تیس ہزاری عدالت میں سول جج اجے پانڈے کا ، جنہوں نے اپنی نوکری داؤ پر لگا کر رام لیلا میدان پہنچ کر جنتا اور سرکار کو حیرت زدہ کردیا۔ جج صاحب نے بتایا کہ جوڈیشری میں کس طرح کرپشن حاوی ہورہا ہے۔ بیچارے جج کے اس واقعہ کی رپورٹ ہائی کورٹ نے مانگی ہے اور ممکن ہے کہ ان پر قانونی کارروائی ہو۔
انا کی تحریک کئی معنوں میں تاریخی مانی جارہی ہے۔ جیسا عوامی سیلاب اس تحریک کو ملا ہے اس سے پہلے کبھی کسی بھی تحریک کو نہیں ملا تھا۔ گذشتہ ایتوار کو رام لیلا میدان میں انا کی رسوئی سے تقریباً ایک لاکھ لوگوں نے کھانا کھایا۔ جو رسوئی صرف 20 والٹنیئروں کے ساتھ شروع ہوئی تھی اب وہ ایک لاکھ لوگوں کو کھانا کھلا رہی ہے۔ ناشتے میں چائے ، پوری اور سبزی ملتی ہے۔ لنچ اور ڈنر پر چھولے چاول،راجما چاول،دال چاول دئے جاتے ہیں اور یہ سب رام لیلا میدان میں آرہے حمایتیوں کے چندے سے ہورہا ہے۔ کوئی تو گھی کے ٹین دے رہا ہے، کوئی چاول اور کوئی آٹے کی بوریاں ، کوئی آلو کے ٹرک ۔ زیادہ تر نقد چندہ اپنی مرضی سے دے رہے ہیں۔ بدعنوانی سے دوچار انا کی تحریک کی دل سے حمایت کررہے لوگ صرف رام لیلا میدان پہنچ کر نہ صرف انا کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں بلکہ ان کی تن من دھن سے سیوا میں لگے ہیں۔کوئی گھر سے کھانا لارہا ہے تو کوئی زبردستی ٹیم انا کو چندہ و عطیہ نقدی میں دے رہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ٹیم انا رام لیلا میدان میں ابھی چندہ نہ دینے کا اعلان کررہی ہے لیکن حمایتی زبردستی میدان کے کاؤنٹروں پر پیسہ دینے کو بے چین ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انا کی طرح انشن تو نہیں کرسکتے لیکن کم سے کم اپنی محنت کی کمائی کا کچھ حصہ انا کی تحریک میں لگا کر اپنے آپ کو کرپشن سے لڑنے والا سپاہی بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ صرف چندے کے پیسوں سے ٹیم انا کے پاس 50 لاکھ روپے سے زیادہ اکٹھا ہوچکا ہے۔ جہاں ایک طرف تو جنتا کا یہ جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی حرکتوں نے سارے دیش کو شرمسار کردیا ہے۔ پولیس کی نرمی کا نا جائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رام لیلا میدان میں انا کے حمایتیوں کی بھیڑ میں کچھ آوارہ لوگ لڑکیوں کو چھیڑنے اور فقرے کسنے اور یہاں تک کہ ان کو چھونے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ شراب پی کر ’میں انا ہوں‘ ٹوپی پہن کر پولیس کی پٹائی کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ممکن ہے یہ چال ہے تحریک کے ماحول کو خراب کرنے کی لیکن جنتا پر ان سب باتوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے اور انا کی عوامی حمایت مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔


بارہویں دن بھی نہ ٹوٹاانا کا انشن


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 28th August 2011
انل نریندر
گاندھی وادی انا ہزارے کا انشن 12ویں دن اس وقت تک جاری تھا جب یہ سطور قلم بند ہورہی تھیں۔ حکومت اور ٹیم انا میں کچھ نکتوں پر اتفاق رائے بنتا دکھائی دینے کے آثار شروع ہو گئے تھے،جس سے امید بندھی ہے کہ انا ہزارے اپنا نشن کسی بھی وقت توڑ سکتے ہیں۔اس سے پہلے انا کی مانگ پر سرکار نے لوک سبھا میں جن لوکپال کے مسئلے پرپہلے تو قاعدہ 184 کے تحت بحث کرانا منظور کرلیا تھا لیکن ٹھیک بحث شروع ہونے سے پہلے سرکار پلٹ گئی اور بحث کو قاعدہ193 کے تحت کرانے کا فیصلہ کرکے معاملے کو مزید الجھا دیا۔ قاعدہ 193 میں کوئی ووٹنگ نہیں ہوتی اور رہی سہی کثر یووراج راہل گاندھی کی تقریر اور موقف نے پوری کردی۔ نتیجہ یہ ہوا انا کا انشن 11 ویں دن بھی نہیں ٹوٹ سکا ۔ اب سنیچر کو بحث شروع ہوگئی۔انا ٹیم اب اس بات پر بھی اڑی ہے کہ انا ہزارے اپنا انشن تبھی چھوڑیں گے جب ان کی تینوں مانگوں پر اتفاق رائے بنے۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ہی تینوں مطالبات کو مان لیا ہے اور سرکار بھی مان گئی ہے۔اگر جن لوکپال بل دوسرے لوکپال تجاویز کے ساتھ سنیچر کو پیش کردیا جاتا ہے اور اس پر بحث ہوتی ہے تو ممکن ہے اس صورت میں اپنا انشن ختم کردیں لیکن وہ رام لیلا میدان میں ہی دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔ تب تک جب تک لوکپال بل پاس نہیں ہوجاتا۔ سنیچر کو ساری بحث راہل گاندھی کے بیان پر چلتی رہی۔ راہل نے اپنے بیان میں خبردار کرڈالا کہ شخصی فرمان سے پارلیمنٹ کی سپر میسی پر آنچ نہ آپائے۔ لوکپال بل پر 11 دن کے بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنے نظریئے کو بھی نامنظور کردیا کہ صرف لوکپال آجانے سے بدعنوانی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے تجویزبھی رکھی کہ مرکزی چناؤ کمیشن کی طرح پارلیمنٹ کے تئیں جوابدہ ایک آئینی لوکپال بنایا جائے۔ راہل گاندھی کی تجویز تو اچھی ہے لیکن اس سے ابھی فی الحال کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ اس کام میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ راہل کی لائن سے سرکار اور کانگریس دونوں کا موقف کچھ حد تک واضح ہوگیا ہے اور یہ صاف اشارہ تھا کہ سرکار انا کے مطالبات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ کم سے کم جس طریقے سے انا چاہ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے جس انداز میں انا ہزارے پر حملہ بولا اس سے یہ کہا جائے کہ انہوں نے کچھ حد تک اپنا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر لگادیا تو غلط نہ ہوگا۔ پارلیمنٹ میں د ئے گئے ان کے بیان سے جنتا میں جیسا تلخ رد عمل سامنے آیا ہے اس سے تو وہ کپل سبل ، چدمبرم اور منیش تیواری کی قطار میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ خودکچھ کانگریسی نیتا کہہ رہے ہیں کہ راہل گاندھی کے پاس اپنی مقبولیت کو شباب پر پہنچانے کا یہ سنہرہ موقعہ تھا۔ انا کے پاس جاتے اور ان کے پیر چھوتے اور مرکزی سرکار اور انا کے درمیان پل کا کام کرتے۔ اس سے نہ صرف وہ نوجوانوں کے خیر خواہ بنتے بلکہ انا بھی اپنا انشن توڑدیتے۔ لیکن بدقسمتی سے ہوا اس کا الٹا۔ انہوں نے لوک سبھا میں انا کی تحریک کو جمہوریت کے لئے خطرہ بتا دیا۔ ایک سینئر کانگریسی نیتا کا تبصرہ تھا کہ پتہ نہیں یہ کس کانگریسی حکمت عملی ساز کے دماغ والا بیان تھا۔ بھلا ایک عدم تشدد تحریک جمہوریت کے لئے خطرہ کیسے ہوسکتی ہے؟ انہوں نے اسے پارلیمنٹ کے لئے خطرہ بتا دیا۔ انا کے حمایتیوں نے اس پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے راہل کے گھر پر زوردار مظاہرہ کرکے اپنا غصہ ظاہر کردیا۔ راہل کانگریس صدر بننے کی تیاری کررہے ہیں۔ دیش کا وزیر اعظم بننا ان کا مقصد ہے۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ سرپر ہیں جہاں راہل گاندھی کا آزمائشی امتحان ہونا ہے۔ ایسے میں لوگوں کے درمیان ان کے تئیں نفرت پیدا ہونا ان کی سیاسی زندگی کے لئے کتنا خطرناک ہے؟ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ پہلی بار نہیں جب راہل نے غلط مشیروں کی وجہ سے غلط وقت پر غلط بیان دیا ہے اور غلط کام کئے ہیں۔ جب پورا جن سیلاب دہلی میں امڑ رہا تھا تو ان کو کسانوں پر چلی ان کی سرکار کی گولی کے زخم دیکھنے پنے بھیج دیا گیا۔ ایک کانگریسی نیتا نے تو یہاں تک کہا ان کے اپنے ہی مشیر ان کی نیا ڈبونے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ مشیر پورے جن لوکپال تحریک پرنہ صرف انا اور دیش کی جنتا کو بے وقوف بنا رہے ہیں بلکہ راہل کو بھی دنیا کی نظروں میں بیوقوف بنا دیا ہے؟

23 اگست 2011

آخر کس جن لوکپال بل کیلئے جنتا سڑکوں پر آئی ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 23rd August 2011
انل نریندر
انا ہزارے کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے سات دن گذر گئے ہیں۔ ابھی تک ان کی طبیعت ٹھیک ہے لیکن جیسے جیسے وقت گذرتا جارہا ہے ایک خطرہ بھرا وقت آنے والا ہے۔حالانکہ انا نے ایک بار پہلے 18 دن کی بھوک ہڑتال کی تھی لیکن اب وہ 74 سال کے ہوگئے ہیں اور ان کی صحت کو روزمرہ اب خطرہ بڑھے گا۔ اس لئے ان کے مطالبات کا حل جلد ہی نکالنا چاہئے۔ ؔ نے والے تین چار دن کافی اہم ہوسکتے ہیں۔ اگر انا کو کچھ ہوگیا تو حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے اس لئے سرکار کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ اسے بہت جلد حل نکالنا ہوگا۔ سرکار کو دراصل سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کرے کیا۔ ایک طرف نویں کلاس پاس انا ہزارے دوسری طرف سرکار کے اعلی تعلیم یافتہ اور دنیا دیکھے وزرا کی فوج ۔ اگر انا کے سیدھے سادھے جذبات ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ وزیر مسٹر کپل سبل اور مسٹر پی چدمبرم جیسے چالاک اور سمجھ رکھنے والوں کی بھیڑ کو نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ انا کا کیا کریں۔ پوری سرکاری مشینری اپنی دلائل کے مزائل داغ داغ کر ہلکان ہوتی جارہی ہے لیکن 74 سالہ بزرگ کے دل کو سیدھے چھونے والے سچے جذباتوں پر اثر بھی نہیں پڑتا۔
آخر ایسا کیا ہے۔ ایک کم تعلیم یافتہ اور گاؤں کے پس منظر میں زندگی گذارنے والے بزرگ کی بات نہ صرف ریڑی والوں اور درمیانے طبقوں کو سمجھ میں آتی ہے بلکہ ان کی ایک اپیل پر انجینئر اور مینجمنٹ اور کارپوریٹ یا ڈاکٹروں کی تعلیم حاصل کررہے کالج کے طالبات و طلباء ان کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آتے ہیں۔ چدمبرم ، سبل اور سلمان خورشید جیسے ہوشیار اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ وزیر اور کانگریس کے اعلی تعلیم یافتہ ترجمان اور نیتاؤں کی فوج کے تمام دلائل کو یہ بزرگ ایک لائن میں مسترد کردیتا ہے۔ سرکاری دلائل اور تمام قلع بندی کو ایک جھٹکے میں یہ کہہ کر انا اڑا دیتے ہیں کہ جنتا بالاتر ہے پارلیمنٹ نہیں۔ وہاں بیٹھے لوگ چن کر نہیں آئے بلکہ ہم نے ان کو چن کر بھیجا ہے۔
سنیچر کی شام میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ رام لیلا میدان گیا تھا۔ وہاں کا ایک نظارہ دیکھنے لائق تھا۔ ٹی وی پر دیکھنے اور وہاں موجود ہونے میں فرق پڑتا ہے۔ ویسے بھی ہر دیش واسی کا فرض ہے اور خاص طور پر دہلی والوں کا وہ ایک بار رام لیلا میدان جائیں اور یہ کسی دوسرے طریقے سے انا کی حمایت کریں۔ جب ہم اندر گھسے ہی تھے تو سامنے سے ایک غیر ملکی آرہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک بوڑھی عورت تھی۔ میں نے انہیں روک لیا اور پوچھا کے آپ یہاں کیسے؟ اور کہاں سے آئے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ میں جرمنی سے ہوں اور ہم (میں اور میری ماں) انا ہزارے کی حمایت کرنے کے لئے آئے ہیں۔
جدھر بھی نظر گھماؤ ’میں انا ہی ہوں‘ کی گاندھی ٹوپیاں نظر آرہی تھیں۔ میرا خیال ہے کہ جتنی گاندھی ٹوپیاں انا کی تحریک میں نظر آئیں اتنی شاید گاندھی جی کے ستیہ گرہ میں بھی نہیں دیکھی گئی ہوں گی۔ ایک نوجوان لڑکی سے میں نے پوچھا کہ آپ انا کو کیوں حمایت کررہی ہیں؟ اس کا جواب تھا کہ وہ (انا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) 74 برس کے ہیں آخر وہ لڑائی کس کی لڑ رہے ہیں؟ ایک نوجوان ہمیں ایسا ملا جس نے اپنے سارے بال کٹوا لئے تھے بس بالوں سے صرف انا ہی لکھا ہوا تھا۔ ایک آدمی پولیو کا مریض تھا جو بیساکھی کے سہارے انا کی حمایت میں نعرے لگا رہا تھا۔ ایک خاتون اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ آئی تھی ۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ترنگا تھا میں نے لڑکے سے پوچھا کیا آپ کو جن لوکپال کے بارے میں پوری واقفیت ہے؟ اس نے کہا کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ انا بدعنوانی کے خلاف لڑرہے ہیں اور میں اسی لئے انہیں حمایت دے رہا ہوں۔ مجھ سے کئی قارئین نے پوچھا کہ آخر انا کا جن لوکپال بل ہے کیا؟ میں ابھی قارئین کی جانکاری کے لئے انا کے ذریعے تیار کردہ جن لوکپال کی دفعات اور شقوں کو سامنے رکھ رہا ہوں۔
سب سے پہلے کون چنے گا لوکپال ۔ لوکپال کا چناؤ وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر، سپریم کورٹ کے سب سے کم عمر کے دو جج ، سب سے کم عمر کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، بھارت کے کمپٹرولر آڈیٹرجنرل اورچیف الیکشن کمشنر کریں گے۔ لوکپال بل کی خاص دفعات یہ ہیں۔ اس کے تحت مرکز میں لوکپال ریاستوں میں لوک آیکت کی تشکیل ہوگی۔ یہ ادارہ چناؤ کمیشن اور سپریم کورٹ کی طرح سرکار سے آزاد ہوگا۔ کسی بھی مقدمے کی جانچ ایک سال کے اندر پوری ہوگی۔ سماعت اگلے ایک سال میں پوری ہوگی۔ یعنی کسی بھی کرپٹ نیتا یا افسر یا جج کو دو سال کے اندر جیل بھیجا جاسکتا ہے۔ کرپشن کی وجہ سے سرکار کو جو نقصان ہوا ہے، جرائم ثابت ہونے پر اسے قصوروار سے ہی وصولا جائے گا۔ اگر کسی شہری کا کام وقت پر نہیں ہوتا تو لوکپال قصوروار افسر کو جرمانہ لگائے گا، جو شکایت کرنے والے کو معاوضے کے طور پر ملے گا۔ لوکپال کے ممبر کا انتخاب جج، شہری اور آئینی ادارے مل کر کریں گے۔ لوکپال کو چننے کے عمل میں سرکار کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ لوکپال یا لوک آیکت کا کام کاج پوری طرح شفاف ہوگا۔لوکپال کے کسی بھی ملازم کے خلاف شکایت آنے پر اس کی جانچ دو مہینے میں پوری کر اسے برخاستک ردیا جائے گا۔سی بی سی ، ویجی لنس محکمہ اور سی بی آئی کو اینٹی کرپشن محکمے کو لوکپال میں ہی ملا دیا جائے گا۔
لوکپال کے پاس کسی بھی کرپٹ جج یا نیتا ،افسر کے خلاف جانچ کرنے اور مقدمہ چلانے کے لئے پورا اختیار اور سسٹم ہوگا۔ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی سبھی طرح سے سکیورٹی لوکپال ہی کریں گے اور اگر آپ کا راشن کارڈ ، ووٹر کارڈ یا پاسپورٹ وغیرہ مقررہ وقت کے اندر نہیں بنتا ہے یا پولیس آپ کی شکایت درج نہیں کرتی تو آپ اس کی شکایت لوکپال سے کرسکتے ہیں۔ اسے یہ کام ایک مہینے کے اندر کرنا ہوگا اور کسی بھی طرح کے بدعنوانی کی شکایت لوکپال سے کرسکتے ہیں۔ جیسے راشن کی کالا بازاری، سڑک بنانے میں عمدگی کو نظر انداز کرنا، پنچایت یا فنڈ یا دوسرے مدوں کے پیسے میں خورد برد وغیرہ وغیرہ۔
آخر میں ایک دلچسپ رپورٹ۔ دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ انا ہزارے کا اثر کرمنل برادری پربھی چھایا ہوا ہے۔ یقین کریں کہ جب سے انا کی تحریک شروع ہوئی ہے دہلی کے کرائم ریٹ میں گراوٹ آئی ہے۔ دہلی پولیس کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کے پچھلے ہفتے میں دہلی میں کرائم شرح میں75 فیصدی گرافٹ آئی ہے۔ جس شہر میں اوسطاً کم سے کم 7 سنگین قسم کے جرائم ہوتے ہیں وہاں ایک بھی آبروریزی، قتل کی واردات نہیں ہوئی ہے۔ یہ انا ہی کا کمال ہے۔
 Anil Narendra, Anna Hazare, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

14 جولائی 2011

سرکار سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے میں ناکام، بابا رام دیو کی جیت


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 14th July 2011
انل نریندر
اگرمرکزی وزارت داخلہ ، مرکزی وزیر شری کپل سبل اور دہلی پولیس نے یہ سمجھا تھا کہ رام لیلا میدان میں آدھی رات کو سوئے لوگوں پر کی گئی لاٹھی چارج وغیرہ کو سپریم کورٹ کے ججوں سے چھپا لیں گے تو بہت بڑی غلط فہمی میں تھے۔ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں سے اس رات پولیس نے کیا برتاؤ کیا اس کے بارے میں بصداحترام جج صاحبان کو پہلے ہی معلوم تھا۔ بصد احترام جسٹس ڈاکٹر بلبیر سنگھ چوہان و جسٹس سوتنتر کمار پہلے ہی سے تیار آئے تھے۔ انہوں نے اپنا ہوم ورک اچھے سے کر رکھا تھا۔ ان کے تلخ سوال اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔ بدعنوانی اور کالی کمائی کے مسئلے پر ستیہ گرہ کرنے پر رام لیلا میدان سے طاقت کے زور پر بے دخل کردہ بابا رام دیو نے رات کے اندھیرے میں ہوئی کارروائی کا ٹھیکرا سپریم کورٹ میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے سر پھوڑنے کی کوشش کی تھی ، وہیں اس کارروائی میں دہلی پولیس کے جواب سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جج صاحبان نے نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا۔ دونوں ججوں نے پیر کو دہلی پولیس سے کچھ چبھتے ہوئے سوال پوچھے۔ جج ایک سے تین جون کے درمیان کے واقعات کے ساتھ ہی ان حالات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے پولیس نے دیر رات بربریت اور ان کے حمایتیوں کو طاقت کے زور پر باہر کرنا پڑا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے رام لیلا میدان میں ستیہ گرہ کررہے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر 4 جون کی رات میں پولیس کی بربریت آمیز کارروائی پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے میں 6 جون کو منموہن سنگھ سرکار اور دہلی کی شیلا سرکار کے اعلی افسروں سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کمشنر بی کے گپتا سے بھی شخصی طور سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے پہلے بابا رام دیو کی جانب سے ان کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ رام لیلا میدان میں نہتے ستیہ گرہیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کی جڑ ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کیونکہ بابا رام دیو کو دہلی سے بے دخل کرنے کا کوئی حکم نہیں تھا۔ اس لئے عدالت کو وزیر داخلہ سے شخصی طور سے جواب طلب کرکے پتہ لگانا چاہئے کہ اس بارے میں کب اور کن حالات میں فیصلہ لیا گیا تھا۔ جیٹھ ملانی نے الزام لگایا کہ پرامن طریقے سے ستیہ گرہ کررہے اشخاص نے ان ذیاتیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔
دونوں جج جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار پوری تیاری سے آئے تھے۔ انہوں نے کیس کے سارے پہلوؤں پر گہرائی سے مطالع کیا ہوا تھا اور بصد احترام ججوں نے دہلی پولیس سے سوال کیا کہ حکام کے ذریعے کی گئی ذیاتیوں کے خلاف یوگ گورو کے حمایتیو ں کی شرکت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی؟ عدالت عظمی نے کہا کہ پچھلے حلف نامے میں یہ صاف نہیں ہوپایا کہ یکم جون سے 3 جون کے درمیان کیا ہوا؟ اس نے کہا ڈی وی ڈی ، تصاویر اور دستاویزوں سے صاف طور سے پتہ چلتا ہے کہ اس جگہ پر یوگا کی پریکٹس کرائی جارہا تھی۔ عدالت نے حکام سے اس رات کی صفائی دینے کو کہا۔ کن حالات کے تحت انہیں رام دیو کا یہ پروگرام روکنا پڑا تھا۔ ڈویژن بنچ نے اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ پولیس نے تمبوؤں سے گھیرے گئے اس مقام سے لوگوں کو باہر نکالنے کیلئے آنسو گیس کے گولوں اور پانی کی دھار کا استعمال کیا ۔ سپریم کورٹ نے کہا یہ امید نہیں کی جاتی کہ کسی بھی گھیرے گئے حصے میں آنسو گیس اور پانی کی دھار کا استعمال کیا جائے۔ کیا ایسا نہیں تھا کہ رات ساڑھے گیارہ بجے جب لوگ سوئے ہوئے تھے تو آپ نے لاٹھیاں برسائیں؟ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس کمشنر کسی سے بات چیت کررہے تھے۔
سپریم کورٹ نے پیر کو 4 جون کی پولیس کارروائی کوتار تار کر سرکار کو بے نقاب کردیا۔ پولیس کا جھوٹا حلف نامہ عدالت کو گمراہ نہیں کرسکا۔ پولیس اپنے اس دعوے کو ثابت نہیں کرسکی کہ اس نے آنس گیس اس لئے چھوڑی کیونکہ بابا رام دیو کے حمایتی تشدد پر آمادہ ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لئے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ بابا رام دیو کو چاہئے کہ وہ دہلی پولیس کو راج بالا کی حالت کے بارے میں سپریم کورٹ میں آواز اٹھائیں۔ راج بالا زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ بابا کو چاہئے وہ اگلی سماعت میں خواتین حمایتیوں سے آبروریزی کی کوشش کا بھی ذکر کریں جیسا کہ انہوں نے الزام لگایا ہے۔ ہم بصد احترام ججوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح کے دباؤ میں نہیں آئے اور انہوں نے اس کالی رات کے معاملے میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, delhi Police, Kapil Sibal, P. Chidambaram, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

30 جون 2011

بابا رام دیو پر چوطرفہ دباؤ بنانے کی کوشش


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
30 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 منموہن سرکار نے بابا رام دیو کو سبق سکھانے کیلئے سبھی ہتھکنڈوں کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ سام دام، ڈنڈ بھید سبھی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ حکومت نے کہا تھا ویسا ہی کرنا شروع کردیا ہے۔ ادھر بابا کی املاک کی جانچ شروع کردی ہے تو ادھر بال کرشن کے خلاف پاسپورٹ معاملے میں چھان بین شروع ہوگئی ہے۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اسکاٹ لینڈ میں بابا رام دیو اور ان کے اداروں کی املاک اور سرمائے کی جانچ شروع کردی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ اس بات کی جانچ کی جارہی ہے کہ کہیں ان کے سرمائے اور پیسے کے لین دین سے غیر ملکی دولت ریگولیٹری قانونوں کی خلاف ورزی تو نہیں ہورہی ہے۔ ای ڈی کی نظر اسکاٹ لینڈ کے اس جزیرے پر بھی ہے جو یوگ گورو کے ایک کٹر حمایتی جوڑے نے اسے تحفے میں دیا تھا۔ ’’دی لٹل کوبیر آئی لینڈ‘‘نامی جزیرے کو بابا رام دیو کے بیرونی ملک میں واقع ٹھکانوں اور فلاحی کیندر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پوری جانچ بابا رام دیو کی طرف سے بنائے گئے ٹرسٹوں میں پیسے کی آمد اور لین دین پر ٹکی ہوئی ہے ان میں پتنجلی یوگ ٹرسٹ ، یوگ پیٹھ ٹرسٹ، دویہ یوگ مندر ٹرسٹ اور بھارت سوابھیمان ٹرسٹ شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جانچ کے دوران اگر ای ڈی کو کسی طرح کی گڑ بڑ ملی تو وہ فیما یعنی پروینشن آف منی لانڈرن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرسکتا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے یہ جانچ الگ الگ سرکاری ذراعوں سے ملے دستاویزات اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔
ادھر بابا کے ٹرسٹوں و املاک کی جانچ ہورہی ہے تو ادھر ان کے ساتھی سوامی بال کرشن کے پاسپورٹ کی جانچ کررہی سی بی آئی بٹیلی پاسپورٹ دفتر سے وابستہ اور لوکل انٹیلی جنس یونٹ (ایل آئی یو) کے افسروں سے پوچھ تاچھ کررہی ہے۔ بال کرشن کا پاسپورٹ بٹیلی پاسپورٹ دفتر سے بنا ہوا ہے اس لئے سی بی آئی نے جس میعاد میں پاسپورٹ جاری کیاگیا اس وقت پاسپورٹ دفتر میں تعینات افسران اور ملازمین کی جانکاری مانگی ہے۔سی بی آئی نے اسی طرح بٹیلی ایل آئی یو دفتر میں تعینات افسروں اور ملازمین کی جانکاری طلب کی ہے کیونکہ پاسپورٹ کے درخواست فارم کی جانچ ایل آئی یو برانچ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ایل آئی یو یہ جانچ کرتی ہے کہ درخواست دہندہ کے ذریعے دی گئی اطلاعات صحیح ہیں یا نہیں؟ وہ ہندوستانی شہری ہے یا نہیں اس کے خلاف کوئی مجرمانہ معاملہ تو نہیں؟ اس کی بول چال اور ساکھ وغیرہ کیسی ہے؟ ایل آئی یو نے بال کرشن کی درخواست فارم پر کیسے تصدیق کی ہے۔ سی بی آئی اس کے لئے ذمہ دار ایل آئی یو ملازمین کو نشان زد کر ان کے خلاف کارروائی کی توثیق کرے گی۔ اسی طرح پاسپورٹ ملازمین سے بھی پوچھا جانا ہے کہ انہوں نے کس بنیاد پر بال کرشن کے حق میں پاسپورٹ جاری کیا۔ اس کے لئے سی بی آئی دونوں ہی محکموں کے لوگوں کو نوٹس بھیجنے کی تیاری کررہی ہے۔ سرکار ہر طرح کا دباؤ بنانے میں جٹ گئی ہے تاکہ بابا رام دیو لائن پر آجائیں لیکن جو تیور
بابا نے دو دن پہلے دہلی دورے میں دکھائے اس سے تو نہیں لگتا کہ بابا کسی بھی دباؤ میں آنے والے ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bal Krishan, Congress, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

21 جون 2011

دہلی پولیس کا سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے والا حلف نامہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
21 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
دہلی پولیس نے4 جون کی رات کو رام لیلا میدان سے بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو طاقت سے ہٹانے کی کارروائی کو جائز ٹھہراتے ہوئے سپریم کورٹ میں دعوی کیا کہ بابا رام دیو کو یوگ کیمپ کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہ اس کے برعکس وہاں ستیہ گرہ کررہے تھے۔ دہلی پولیس کا دعوی ہے کہ بابا رام دیو کی جانب سے رام لیلا میدان میں منعقدہ پروگرام کی شرطوں کی خلاف ورزی کئے جانے کے سبب اس کے پاس اجازت واپس لینے کا کوئی اور متبادل نہیں بچا تھا۔ دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں بابا رام دیو کے حمایتیوں پر لاٹھی چارج کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بھگدڑ میں کچھ لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بابا رام دیو پر اپنے حمایتیوں کو بھڑکانے کے لئے اسٹیج کا استعمال کا دعوی کیا گیا ہے کہ ستیہ گرہیوں کے ذریعے پتھراؤ کئے جانے پر پولیس نے آنسو گیس صرف آٹھ گولے داغے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بابا رام دیو کو رام لیلا میدان میں پانچ ہزار افراد کے یوگ کیمپ کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہاں 20 ہزار لوگ موجود تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بابا رام دیو کو یوگ کیمپ کے انعقاد کی اجازت واپس لینے کے بارے میں 4 جون کی رات کو ایک بجے مطلع کیا گیا اور انہیں رام لیلا میدان خالی کرنے کے لئے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔
یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ دہلی پولیس سپریم کورٹ کو گمراہ کررہی ہے۔ پولیس اپنے کالے کارناموں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ مظاہرین اور چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ دہلی پولیس کے اعلی افسروں نے لوگوں کو رام لیلا میدان سے گھسیٹ گھسیٹ کر باہر کرنے ، لاٹھی چارج کرنے کا حکم دیاتھا۔ پھر وہ سپریم کورٹ کے سامنے جھوٹ کیوں بول رہی ہے؟ انکم ٹیکس کے وکیل لوکیندر آریہ اس رات رام لیلا میدان میں تھے۔ وہ آریہ ویر دہلی پردیش کی جانب سے سیوا دینے اور رام لیلا میدان گئے تھے۔ لا ٹھی چارج میں ان کے بھی چہرے و پیٹ میں چوٹیں آئیں اور انہیں لوک نائک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ لوکیندر آریہ کے مطابق دہلی پولیس کے اعلی افسر امت رائے نے واضح الفاظ میں لاٹھی چارج کا حکم دیا تھا۔ ام رائے کا بلا ان کی وردی میں لگا تھا جس سے ان کا نام مجھے یاد ہے۔ کچھ پولیس والوں نے تو بربریت آمیز رویہ اختیار کرنے سے اپنا بلا ہی چھپا لیاتھا اور احتجاج کرنے پر آر اے ایف اور پولیس کے جوانوں کو لیکر اسٹیج کے پاس پہنچ گئی تھی۔ مارکسوادی پارٹی کے قومی سکریٹری ڈی راجا کا کہنا ہے کہ پولیس جھوٹ بول رہی ہے۔ مظاہرین کو کچلنے کیلئے سرکار و پولیس جب بھی ایسے قدم اٹھاتی ہے تو اس طرح کی بربریت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پولیس کی منشا لاٹھی چارج کرنے کی تھی نہیں تو اتنی تعداد میں وہاں پولیس کیوں گئی؟ اسی سے دہلی پولیس کے جھوٹ کا پتہ چلتا ہے۔
4 جون کی کالی رات یاد کرکے آج بھی زخمی ہرے ہوجاتے ہیں۔ جس طرح سے سوئے ہوئے لوگوں پر پولیس نے لاٹھی چلائی تھی ان کا سوال ہے کہ پھر آج پولیس کیوں مکر رہی ہے۔ اگر لاٹھی نہیں چلی تو لوگوں کے ہاتھ پیر کیسے ٹوٹ گئے؟ میڈیا میں لاٹھی چارج کے فوٹو کہاں سے آئے؟ 70 سالہ راج یوگی کا کہنا ہے ان پر لاٹھی چلائی گئی لیکن انہوں نے پھر بھی ترنگا اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ یہاں تک کہ ہسپتال کے بیڈ پر بھی جھنڈا پکڑے تھے۔ ان کے پیٹ اور پیٹھ میں چوٹیں آئیں تھیں۔ رام گووند گپتا36 سال، بتاتے ہیں کہ پولیس کی لاٹھیاں لگنے سے ان کا دائیاں ہاتھ ہی ٹوٹ گیا تھا جس کا ابھی بھی پلاسٹر نہیں اترا ہے۔ وہ کبھی بھی اس کالی رات کو نہیں بھول پائیں گے۔ کہتے ہیں کہ دہلی پولیس نے جلیانوالا باغ کانڈ کو بھی مات دے دی۔ اس وقت تو دن میں گولیاں برسائی گئیں تھیں لیکن یہاں تو سوتے وقت لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ دہلی پولیس کے ذریعے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولنے پر کہتے ہیں کہ اس سے خود ہی پولیس بے نقاب ہوگئی ہے۔زخمی ہوئے جگدیش بتاتے ہیں کہ اگر لاٹھی نہیں چلی تو میڈیا میں لاٹھی چارج کے فوٹو کہا سے آگئے۔ درجنوں لوگ اس میں زخمی ہوئے۔ کسی کا ہاتھ ٹوٹا، کسی کا پیر۔ پھر اس کالی رات کی سب سے بڑی شکار خاتون راج بالا 17 دن بعد بھی اپنی زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ گوڑ گاؤں کی سابق میونسپل کونسلر راج بالا نزعے سے باہر نکل آئی ہیں لیکن ابھی بھی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اشاروں اشاروں میں وہ بات کو سمجھ رہی ہیں لیکن حالت ابھی بھی ان کی نازک بتائی جاتی ہے۔ جی پی پنتھ ہسپتال کے نیورو سرجری محکمے کے آئی سی یو 17 میں بھرتی راج بالا کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے اس کے جسم اور دماغ کے درمیان تال میل قائم نہیں ہو پارہا ہے۔ گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے دماغ کی نسوں کو نقصان پہنچا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس رپورٹ کو جھوٹا اور گمراہ کن کرنے والی بتایا ہے۔اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کے دہلی اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر وجے کمار ملہوترہ نے بتایا کہ پولیس اپنے آپ کو بچانے کے لئے سپریم کورٹ میں جھوٹ بول رہی ہے۔ انہوں نے دہلی پولیس ، مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ سے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی راج بالا سمیت سینکڑوں لوگوں کے ہاتھ پاؤں بھگدڑ کے دوران ٹوٹے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی تو بھگدڑ کیوں مچی؟ ستیہ گرہ 4 جون کی صبح شروع ہوا تھا جو پر امن اور عدم تشدد پر مبنی تھا۔ اس میں ہزاروں کی تعداد میں بچے اور خواتین شامل تھیں۔ وزارت داخلہ اور دہلی پولیس نیمظاہرین کو 4 جون کی درمیانی رات تک دھرنے پر بیٹھنے کی خود اجازت دی تھی۔ کیا وجہ ہے کہ میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی 4-5 جون کی رات بغیر وارننگ دئے رام لیلا میدان خالی کرانے کابغیر سوچے سمجھے فیصلہ کیاگیا؟ اگر صرف میدان خالی کرانے کا حکم تھا تو پولیس نے بند پنڈال میں آنسو گیس کے گولے کیوں داغے؟ بچوں ، بزرگوں ، خواتین پر بلا وجہ بغیر وارننگ دئے لاٹھی چارج کیوں کیا گیا؟ اگر پولیس نے ظلم نہیں کیا تو جس ٹھیکیدار نے میدان میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے تھے اس کے یہاں دہلی پولیس نے اچانک چھاپا مارکر اس دن کے پولیس مظالم کے ریکارڈ کرنے والی 42 سی ڈی کیوں زبردستی چھین کر غائب کردی ہیں؟ الیکٹرانک میڈیا کے فٹیج بتاتے ہیں کہ 4-5 جون کی رات کو جو بربریت کا مظاہرہ کیا گیا اس نے جلیانوالاباغ کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ پولیس کو رام لیلا میدان خالی کرانے کی ہدایت تھی تب پولیس نے بے رحمانہ اور لٹیروں جیسا رویہ اپناتے ہوئے مظاہرین کے روپے، زیور کیوں لوٹے؟ کیا وجہ ہے کہ بابا رام دیو جیسے عالمی شہرت یافتہ یوگ گورو کو اپنی جان بچانے کے لئے خواتین کی کپڑے پہن کر عورتوں کے بیچ چھپنا پڑا؟ اگر دہلی پولیس اتنی ہی معصوم ہے تو وہ دن کے وقت رام لیلا میدان خالی کرانے کیوں نہیں آئی؟ رات میں جانے کا کیا مطلب تھا ۔ لوگوں کو کچلنا، ثبوت مٹانا۔ بھارت سوابھیمان ٹرسٹ کے ریاستی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گیان کے مطابق پولیس نے بربریت آمیز طریقے سے لاٹھی چارج کیا اور اب وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ پولیس کا یہ کہنا کہ لوگ پتھر برسا رہے تھے اور واویلا کررہے تھے ، ڈنڈے لیکر آئے تھے، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ رام لیلا میدان میں آنے والے ہر شخص کو پولیس جانچ سے ہوکر وہاں تک پہنچنا تھا۔ اس وقت تو پتھر و ڈنڈے نہیں ملے؟ ثبوت مٹانے اور گواہوں کو تیار رکھنے کیلئے خبرہے کہ پولیس اب زخمیوں کا بیان لینے کیلئے ان کے گھروں پر دستک دے رہی ہے۔ پولیس سرکاری معاوضے کا جھنجھنا تھمانے کے نام پر زخمی ہوئے لوگوں کا بیان درج کررہی ہے۔ پولیس نے ایسے 40 لوگوں کی فہرست تیار کی ہے جنہیں چھوٹیں آئیں تھیں۔ زخمیوں یا ان کے رشتے داروں کے ذریعے خدشتہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے بیان درج کرنے آئے ہیں۔ زخمیوں کے ذریعے بیان میں کسی پولیس افسر کا نام لینے پر انہیں دبی زبان میں دھمکی دی جارہی ہے؟ پیشے سے انکم ٹیکس وکیل لوکیندر آریہ کے مطابق جمعرات 16 جون 2011 کو دو پولیس والے ان کے پاس آئے تھے ایک سب انسپکٹر تھا تو دوسرا حولدار، انہوں نے کہا کہ آپ رام لیلا میدان میں زخمی ہوئے تھے اس لئے آپ کا بیان لینا ہے۔ سوال پوچھنے پر کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کی جانب سے بیان درج کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ ان کی ڈیوٹی سپریم کورٹ کے سکیورٹی کنٹرول روم میں ہے۔ اگر آپ بیان دیں گے تو سرکار آپ کو معاوضہ دے گی۔ لوکیندر آریہ کے مطابق میں نے ان سے کہا مجھے ایسی سرکار سے معاوضہ نہیں چاہئے جو چور اور بد عنوان ہے ۔
 Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Congress, Daily Pratap, delhi Police, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

11 جون 2011

سوتی راج بالا کو اس حالت میں پہنچانے کا ذمہ دار کون؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
11 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر سنیچر کی آدھی رات کے بعد بربریت پر مبنی پولیس کارروائی کا آرڈر کس نے دیا تھا؟ دیش یہ جاننا چاہتاہے کہ وہ کونسا شخص تھا جس نے نہتے، بھوکے سوتے ہوئے بزرگوں، عورتوں اور بچوں پر دہلی پولیس کو ڈنڈے برستانے، بھگانے کا حکم دیا تھا؟ وزیر اعظم منموہن سنگھ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی اور متبادل نہیں تھا۔وزیر اعظم نے اس مہم کوانجام دینے کو افسوسناک تو قرار دیا تھا لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ کوئی اور اس کے علاوہ متبادل نہیں تھا۔ انہوں نے رام لیلا میدان میں رام دیو کے بدعنوانی مخالف مظاہرے کے خلاف درمیانی رات کے وقت کئی گئی پولیس کارروائی کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں یہ بات کہی۔ وہیں ہمارے وزیر داخلہ پی چدمبرم صاف کہتے ہیں کہ 25 مئی کو سوابھیمان ٹرسٹ سے تحریری طور پر تصدیق کی گئی تھی کہ رام لیلا میدان میں محض یوگ کیمپ لگانے کے سوائے کوئی اور پروگرام نہ ہوگا، لیکن اس کے باوجود رام دیو نے یکم جون کو رام لیلا میدان میں اعلان کیا کہ وہ 4 جون سے انشن کریں گے۔ جب اجازت کی شرطوں کی خلاف ورزی ہوتی دیکھی گئی تو اس اجازت نامے کو منسوخ کرکے یہ کارروائی کی گئی۔ چدمبرم کے مطابق پولیس نے کم سے کم نقصان کو ذہن میں رکھ کر یہ کارروائی کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بابا رام دیو کے پیچھے آر ایس ایس اور بی جے پی کا ہاتھ ہے اور یہ ایک سیاسی تحریک تھی۔ ہم شری چدمبرم کی دلیلوں سے متفق نہیں ہیں۔ مان بھی لیں کہ بابا رام دیو کے پیچھے آر ایس ایس تھی اور یہ ایک سیاسی تحریک تھی تو کیا ؟ کیا سنگھ دیش دشمن ہے؟ کیا بدعنوانی کا اشو اشو نہیں رہ جاتا۔ اگر سنگھ یا بھاجپا کہے؟ معاملہ اہم نہ کہ کون اس کے پیچھے ہے۔ رہی بات پولیس کا کم سے کم نقصان پر توجہ دینے کی تو شریمان آپ ہسپتال جاکر پتہ کیجئے کہ اس بدقسمت راج بالا کا حال کیا ہے جو زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے۔ گوڑ گاؤں کی باشندہ راج بالا 50 سال سنیچر کو پولیس کے قہر کا شکار ہوئی تھی۔ اس کو فالج مارچکا ہے اور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے وینٹی لیٹر ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن پھر لگانا پڑا کیونکہ راج بالا کا سانس پھولنے لگا تھا۔ آج بھی پتہ نہیں کتنے لوگ ہیں جن کے رشتہ دار در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انہیں ڈھونڈنے کے لئے محترم چدمبرم صاحب براہ کرم آپ کچھ سوالوں کا جواب دیں۔ اگر حکومت کو یہ معلوم تھا کہ بابا رام دیو کے پیچھے آر ایس ایس اور بی جے پی تھی تو انہوں نے 4 جون تک بابا سے بات چیت کیوں جاری رکھی؟ آپ نے بابا کو ہوائی اڈے پر ہی کیوں نہ روک دیا جبکہ آپ کو معلوم تھا کہ بابا کیا کرنے دہلی آرہے ہیں؟ اگلا سوال ہے کہ آپ کی سرکار کے چار وزیر بابا کو لینے ہوائی اڈے کیوں گئے تھے؟ ہماری بات تو چھوڑیئے آپ کے سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے بھی سوال کیا ہے کہ منموہن سرکار کے نمبر دو کے وزیر پرنب مکھرجی بابا کو لینے ہوائی اڈے کیوں گئے تھے؟چلئے اسے بھی چھوڑیئے آپ بتائیے کے کپل سبل ہوٹل کلریج میں اتنے گھنٹے بابا کو کیا سمجھانے کی کوشش کررہے تھے؟ 3 جون کو وہ گھنٹوں ہوٹل کے کمرے میں بابا سے بات چیت کرتے رہے۔کپل سبل بابا کو ڈرا رہے تھے کہ ہم یہ کردیں گے اگر تم نے ہماری بات نہیں مانیں۔ اور جب بابا نے آپ کی بات نہیں مانی تو آپ نے انہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا اور نتیجہ ہوا لاٹھی چارج؟ آپ کی حکومت نے بابا کو20 دن کے یوگ کیمپ کی اجازت کیوں دی جبکہ بابا کے پوسٹروں ، بینروں اور سائن بورڈوں میں صاف لکھا تھا کہ وہ کالی کمائی ،بدعنوانی اور سرکار کے خلاف انشن کریں گے؟ ایک طرف پولیس کہتی ہے کہ رام لیلا میدان میں 25 ہزار لوگوں کے آنے کی امید تھی جب آپ کو یہ اندازہ تھا تو آپ نے شکروار یا سنیچروار کو کیمپ کی منظوری کیوں نہیں منسوخ کی؟ اب بات کرتے ہیں اس رات کی پولیس کارروائی کی۔ کیا یہ صحیح ہے کہ دہلی پولیس کمشنر نے آپ سے یہ کہا تھا کہ رات کو سوتے لوگوں پر لاٹھی چارج کرنا ، آنسو گیس چھوڑنا صحیح نہیں ہوگا۔ خاص کر جب وہاں عورتیں، بچے اور مرد سوئے ہوئے ہوں؟ انہوں نے آپ سے درخواست کی تھی کہ مجھے کچھ وقت دیجئے ، میں کل (ایتوار) کو دن میں بابا کو رنجیت ہوٹل میں کسی بہانے سے بلاکر حراست میں لے لوں گا اور پھر ہم انشن پر بیٹھے لوگوں کو پرامن طریقے سے ہٹنے کو کہیں گے۔ اور بغیر طاقت کے استعمال کے رام لیلا میدان خالی کروا لیں گے۔ لیکن آپ نے یا آپ کے ساتھی وزرا نے یہ نہیں مانا اور کہا کہ ہمیں دو گھنٹے کے اندر رام لیلا میدان خالی چاہئے۔ چاہے جو کچھ بھی کرنا پڑے؟
دہلی پولیس نے کیوں آنسو گیس کے گولے پنڈال پر برسائے جبکہ انہیں معلوم تھا کہ اس سے آگ لگ سکتی ہے اور آگ لگ بھی گئی تھی۔ اگر اس آگ میں عورتیں، بچے، بزرگ زد میں آجاتے تو کیا ہوتا؟ پھر آپ نے بتی بھی گل کروادی اور اندھیرا کردیا۔ کیا پولیس کو اتنا بھی خیال نہیں آیا کہ اندھیرے میں لوگ بھگدڑ میں دب کر مر سکتے ہیں؟ آپ نے مظاہرین کو بھگا دیا جبکہ آپ کو یہ معلوم تھا کہ دہلی کا ریڈ لائٹ ایریا بہت قریب ہے اور وہاں پر کئی جوان عورتیں بھی تھیں پولیس نے بھی وحشیانہ انداز میں برتاؤ کیا۔ اگر اسے پنڈال خالی کرانے کا حکم دے بھی دیا گیا تھا تو اسے تھوڑا انسانیت دکھانی چاہئے تھی۔ پچھلے دنوں مصر میں جب جنتا سڑکوں پر حسنی مبارک کے خلاف اتر آئی تھی تو مبارک نے فوج اور پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ مظاہرین پر فائر کرے اور انہیں چوک سے ہٹائے لیکن فوج اور پولیس نے ایسا کرنے سے صاف منع کردیا تھا کہ ہم اپنے لوگوں پر گولیاں نہیں چلائیں گے۔ پولیس بھی یہ کہہ سکتی تھی کہ ہم پرامن طریقے سے جنتا کو وہاں سے ہٹائیں گے۔ لیکن انہوں نے تو ایسا برتاؤ کیا جس سے سارا دیش چونک گیا۔اب اس دن کے ثبوت مٹانے کیلئے مختلف چینلوں سے فٹیج مانگ رہے ہیں۔کیونکہ سپریم کورٹ میں انہیں جواب دینا ہوگا آخر ایسی کونسی مجبوری تھی جس کے چلتے نہتے، بھوکے، سوتے لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں، آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے۔ دہلی پولیس کے ایک افسر نے بھی مانا کہ سینئر پولیس افسروں کے حکم کے باوجود کئی موقعوں پر افسر اور جوانوں کو اپنے ضمیر کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ پولیس کو انسانی حقوق اور زمینی حرکات کو ذہن میں رکھ کرکارروائی کرنی پڑتی ہے۔ قومی انسانی حقوق تنظیم نے پولیس سے درخواست کی کہ انہیں کسی بھی کارروائی کے دوران تحمل برتنا چاہئے اور آنکھ کان بند کرکے احکامات کی تعمیل نہیں کرنی چاہئے۔
راج گھاٹ پر جب انا ہزارے ایک دن کے انشن پر بیٹھے تووہاں مظاہرین نے جم کر وزیراعظم منموہن سنگھ اور کپل سبل کے خلاف نعرے بازی کی۔ جب اروند کیجریوال تقریر کررہے تھے تو بیچ میں ہی عوام نے منموہن سنگھ مردہ باد کے نعرے لگانے شروع کردئے۔ کیجریوال رک گئے انہوں نے پھر تقریر شروع کی۔ اس بار کپل سبل کے خلاف نعرے لگنے شروع ہوگئے۔ کیجریوال پھر رک گئے۔ تیسری مرتبہ پھر تقریر شروع کی ۔ کچھ طلبا نے اپنے ہاتھ میں پوسٹر لے رکھے تھے جن میں منموہن سنگھ کو راون دکھایاگیا تھا۔ جس میں اے راجا، سریش کلماڑی، کنی موجھی، شرد پوار، پرنب مکھرجی کے سر بنے ہوئے تھے۔ ان سب سے اوپر سونیا گاندھی کا چہرہ بنا ہوا تھا ۔اس سے ہی پتہ چلتا ہے کہ جنتا میں اس حکومت کے تئیں کتنی ناراضگی ہے۔رام لیلا میدان میں لاٹھی چارج کا قصوروار آخر کون ہے؟ ہوسکتا ہے وزارت داخلہ دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر پولیس کی قربانی دے کر اپنا پلہ جھاڑ لیں۔ لیکن یہ انصاف نہیں ہوگا۔ اس کے لئے وزیر داخلہ خود ذمہ دار ہیں اور پی چدمبرم کو اس کی ذمہ داری لینی پڑے گی۔
Tags: Anil Narendra, Baba Ram Dev, Corruption, Daily Pratap, delhi Police, Manmohan Singh, Raj Bala, Ram Lila Maidan, Sonia Gandhi, Vir Arjun

08 جون 2011

بابا کا’ ہٹھ یوگ‘ سرکار کے’ لٹھ یوگ‘ کے سامنے بے بس

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
8 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
 سنیچر کی رات بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں کو جس طریقے سے دہلی پولیس نے بھگایا وہ آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میںیہ اشو زور شور سے چھایا ہوا ہے۔ سنیچر کو جو ہوا اس پر عام جنتا میں دو طرح کا رد عمل ہے۔ کچھ ہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ بابا کے ساتھ جو ہوا صحیح ہوا اور یہ ہی ہونا چاہئے تھا۔ بابا نے ساری حدود پار کردی تھیں۔ سمجھوتہ ہونے کے بعد بھی اپنا انشن جاری رکھنے کا اعلان کرکے انہوں نے سرکار کا غصہ مول لے لیا تو کچھ کا کہنا ہے کہ بابا نے دہلی پولیس سے جو اجازت لی تھی وہ ایک یوگا کیمپ لگانے کیلئے تھی اور کہیں بھی انہوں نے اس میں انشن یا ستیہ گرہ کی بات نہیں کہی تھی۔اور اپنے حمایتیوں کی تعدادتین ہزار بتائی تھی اور یقین دلایا تھا کہ رام لیلا میدان میں اس سے زیادہ لوگ نہیں آئیں گے۔ پھر بھی انہوں نے انشن اور ستیہ گرہ کیا بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ان کے چیلے اکٹھے ہوئے۔ اس لئے انتظامیہ کو مناسب کارروائی کرنے کا حق تھا۔جہاں منموہن سرکار اور کانگریس پارٹی کے رد عمل کا سوال ہے تو پارٹی کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ کا تبصرہ بھی مناسب ہی تھا۔ بابا رام دیو پر شروع سے تنقید کرتے رہے دگوجے سنگھ نے انہیں اب ٹھگ قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کی جانچ کی مانگ کی۔ سرکار کی کارروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا بابا کے ساتھ وہی ہوا جو ایک ٹھگ کے ساتھ ہوناچاہئے ۔ دگوجے سنگھ نے کہا کہ بابا نے دہلی آکر سوامی شنکر دیو کے کشل باغ آشرم میں پناہ لی تھی۔ بعد میں انہیں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد یوگ سکھانے والے بابا کرم ویر کو بھی انہوں نے ٹھگا۔ انہوں نے کہا جولائی 2007 ء سے سوامی شنکر دیو غائب ہیں اور ان کا کوئی پتہ نہیں۔ رام دیو نے بغیر کسی لائسنس کے کینسر جیسی بیماری کو ختم کرنے کے دعوے پر اپنے ماننے والوں اور جنتا کو ٹھگا ہے۔ جنتا کی طرح وہ شاید سرکار کو بھی ٹھگنا چاہتے تھے۔ یہ ہے ان لوگوں کے نظریات اور دلیلیں جو سنیچر کی رات کی کارروائی کو مناسب مانتے ہیں۔
دوسری جانب زیادہ تر جنتا مانتی ہے کہ سرکار نے بہت بھاری غلطی کی ہے اور اسے کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ سرکار نے بابا معاملے کو شروع سے ہی غلط طریقے سے ہینڈل کیا۔ سب سے پہلی غلطی تو یہ تھی کہ سرکار کو بابا کو انشن کرنے کی اجازت ہی نہیں دینی چاہئے تھی۔دہلی کے قانون کے تحت رام لیلا میدان پر سیاسی ریلی نہیں ہوسکتی۔بھارت سوابھیمان منچ اور پتانجلی یوگا کمیٹی نے ایک یوگا کیمپ اور دھرنا کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ سرکار چاہتی تو وہ کہہ سکتی تھی کہ ہم یوگ شیور کی اجازت دے سکتے ہیں لیکن دھرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جو اجازت کیلئے خط دیا گیا تھا اس میں حمایتیوں کی تعداد تین ہزار بتائی گئی تھی لیکن سرکار کو اس کی خفیہ ایجنسیوں نے اچھی طرح سے بتادیا تھا کہ یہ تعداد تین ہزار سے زیادہ ہوگی۔ اسے سرکار کی چوک یا غلطی کہا جاسکتا ہے۔ جب بابا دہلی آئے تو ہوائی اڈے پر ان کا خیر مقدم کرنے کے لئے منموہن کیبنٹ کے نمبر دو کے وزیر پرنب مکھرجی سمیت چار وزیر کیوں پہنچے تھے۔ کیوں بابا کو دہلی ہوائی اڈے سے باہر آنے دیا گیا؟ خبر ہے کہ حکومت نے ایک خصوصی طیارہ خاص طور سے تیار کررکھا تھا جو اس صورت میں بابا کو ہری دوار واپس لے جاتا لیکن ایسا نہیں۔ تیسری سب سے بڑی حماقت حکومت نے سنیچر کی رات کو 1 بجے کی۔ جب رام لیلا میدان میں سوتے بابا کے حمایتیوں کو جن میں عورتیں ، بچے بزرگ شامل تھے، میدان سے بھگایا۔ پولیس نے اس بربریت کا مظاہرہ کیا۔ سپریم کورٹ بھی چونک گئی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنے آپ نوٹس لیتے ہوئے مرکزی سرکار اور دہلی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتے کے اندر اس کا جواب دینے کو کہا۔ رام لیلا میدان میں برپایا گیا پولیس قہر اتنا بھیانک تھا جس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس میں40 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے جن میں سے ابھی بھی کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ بابا کے ستیہ گرہ کو تہس نہس کرنے کے لئے پولیس بہت ہی چوکسی برتے ہوئے ہے۔ بابا کے ستیہ گرہ کو ختم کرنے کیلئے پولیس نے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے۔ انشن کاریوں کا کہنا ہے پولیس نے نہ صرف لوگوں کو مار پیٹ کر پنڈال سے نکالا بلکہ ان کے اسٹیج کو بھی آگ کے حوالے کردیا۔ پولیس کے ذریعے چھوڑے گئے آنسو گیس کے گولے سے اسٹیج پر آگ لگ گئی۔ آگ کے سبب وہاں افراتفری مچ گئی۔ اوپر وال کا شکریہ ادا کرنا چاہے کہ یہ دوسراجہنم نہیں بن گیا جس میں سیکڑوں لوگوں کی جان جا سکتی تھی۔ جس طریقے سے سوتے لوگوں پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور اس بھاگ دوڑ میں درجنوں بچے، عورتیں ، بزرگ دب کر مر سکتے تھے۔ پولیس کی بربریت کا شکار ہوئے شردھالوؤں کی داستان سن کر کوئی بھی بوکھلا اٹھے۔ ان کا کہنا ہے انہوں نے جلیاں والا باغ کے واقع کے بارے میں کتابوں میں پڑھا تھا لیکن سنیچر کی رات اس واردات کو دوہراتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ پولیس نے ان کے ساتھ جو ذیاتیاں اور سختی کی اس میں سبھی حدیں توڑ دی۔ پولیس کی بربریت سے بچنے کیلئے بابا رام دیو کے حمایتی بدحواسی کی حالت میں رام لیلا میدان سے بھاگ نکلے۔ لیکن باہر آنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ نہ ان کے پاس پہننے کو کپڑے ہیں اور نہ ہی گھر جانے کو پیسہ ، جو کچھ تھا وہ ہڑبڑاہٹ میں رام لیلا میدان میں چھوٹ گیا۔ اب اس حالت میں آخر جائیں تو کہاں جائیں؟کچھ حمایتی سڑکوں پر آسرے کی تلاش میں آئی ٹی او اور کناٹ پلیس کی طرف چلے گئے اور کچھ نے ریلوے اسٹیشن کی طرف رخ کرلیا۔ کچھ عورتیں تو اپنی آن بان بچانے کے لئے رات کے گہرے اندھیرے میں رنجیت سنگھ فلائی اوور سے چل کر آریہ اناتھالیہ ،بارہ کھمبا روڈ پہنچیں۔ یہ اناتھالیہ شری وریش پرتاپ چودھری چلاتے ہیں۔ یہاں بابا آتے جاتے رہتے ہیں۔ کچھ کو اور کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو وہ بنگلہ صاحب کی طرف اور رقاب گنج گورودوارے کی طرف چل پڑے کیونکہ جیب میں اتنے پیسے نہیں تھے کوئی ذریعہ ٹھہرنے کا تلاشتے اس لئے پیدل کی گورودواروں میں پناہ لینے کے لئے چل پڑے۔ پولیس کی بربریت کا شکار ہوئے ان لوگوں کی حالت دیکھ کر گورودواروں میں موجودہ سیوا داروں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتے ہوئے ان کے لئے نہ صرف رکنے کا انتظام کیا بلکہ 24 گھنٹے انشن پر بیٹھے ان لوگوں کیلئے لنگر کا بھی انتظام کیا۔ اس دوران بابا کے بہت سے ایسے ماننے والے تھے جنہوں نے یہ کہتے ہوئے کھانے سے انکار کردیا کہ آسرے کی چھت مل گئی یہ ہی ہمارے لئے بہت ہے۔ انشن تو تبھی توڑیں گے جب بابا جی کا آدیش ملے گا۔ وہیں ان میں سے کئی شردھالو ایسے تھے جنہوں نے سیوا داروں کے بار بار کہنے کے بعد کھانا کھایا۔ بنگلہ صاحب گورودوارے میں اترپردیش کے مہوبہ علاقے سے آئی ایک عورت مناکشی شکلا کے مطابق پولیس نے جس طرح سے انہیں رام لیلا میدان سے بھگایا تو لگ رہا تھا کہ کسی نے انہیں گھر سے بے گھر کردیا ہے۔ اب تو میرے پاس پہننے کو کپڑے ہیں اور نہ ہی گھر جانے کیلئے پیسہ؟
چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ اس رات بہت سے لوگ لاپتہ ہوگئے تھے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگ پایا۔ ایک چشم دید کے مطابق پولیس کچھ بلو لائن بسیں لیکر آئی تھی اس میں بھر بھر کر لوگوں کو رام لیلا میدان سے لے جایا گیا اور ان کے رشتہ دار ان کی تلاش میں اسپتالوں ، دھرمشالاؤں اور انشن کی جگہ کے آس پاس بھٹک رہے ہیں۔ لاپتہ لوگوں میں کئی عورتیں بھی شامل ہیں۔ جھارکھنڈ کے جمشید پور سے تقریباً100 لوگوں کے جتھے کے ساتھ بابا رام دیو کے ستیہ گرہ میں پہنچے شیلندر کمار نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کے ساتھ جھارکھنڈ کے گوراجوڑی گاؤں سے آئی تین عورتیں لاپتہ ہیں۔ 53 سالہ کملا بھگت، 50 سالہ رینوکا اور سشیلا کا کوئی پتہ نہیں۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مرکزی سرکار کا کوئی بھی وزیر زخمیوں کو دیکھنے ہسپتال تک نہیں گیا۔
میری رائے میں تو سرکار جیتی ہوئی بازی ہار گئی ہے۔ بابا آہستہ آہستہ کانگریس کو بے نقاب کررہے تھے۔ پولیس کارروائی کے سبب وہ سب کچھ دب گیا۔ سرکار بھارت میں ہی نہیں ساری دنیا میں کٹہرے میں کھڑی ہوگئی ہے۔ امریکہ تک میں اس کی ندامت ملامت ہورہی ہے۔ بابا چمک گئے راتوں رات اور ہیرو بن گئے۔ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ مان لو کہ بابا نے وعدہ خلافی کی اور تحریک جاری رکھنے کا اعلان کردیا تو کیا فرق پڑتا ؟ آخر سرکار کو ایسی کیا جلدی تھی کہ رات کے1 بجے سوتے ہوئے بزرگوں، بچوں اور عورتوں پر ڈنڈے برسوا دئے گئے؟ اہم سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے کا جنتا پر کیا اثر ہوگا؟ کیا بھارت کی عوام اب یہ نہیں کہے گی کہ یہ کچلنے والی سرکار ہے؟ بدعنوان ہے اور بدعنوان لوگوں کو سرپرستی دے رہی ہے؟ مجھے جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کا قصہ یاد آرہا ہے۔پہلے سرکار نے اسے چڑھایا بعد میں آپریشن بلو اسٹار کیا۔ تاریخ پھر دوہرا رہی ہے۔ رہی سہی کثر دگوجے سنگھ جیسے لیڈر نے پوری کردی۔ وہ ایک طرف بابا کے حمایتیوں کو شرمندہ کررہے ہیں وہیں ہندوؤں کو بھی بار بار اکسا رہے ہیں۔ دگوجے سنگھ اسامہ کو تو اسامہ جی کہتے ہیں بابا کو ٹھگ۔ سرکار کیلئے ایک بڑی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے۔ پہلے سے چوطرفہ گھری سرکار ن ’ آبیل مجھے مار‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔ اب دیکھیں انا ہزارے کی تحریک سے وہ کیسے نمٹتی ہے۔ جی ہاں انہوں نے8 جون کو پھر سے دھرنے پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔

Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Baba Ram Dev, Congress, Corruption, Daily Pratap, delhi Police, Ram Lila Maidan, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...