Translater

09 مارچ 2013

کسان قرض معافی میں بندر بانٹ کی جوابدہی طے ہونی چاہئے

کسانوں کے قرض معاف کرنے کی واہ واہی لوٹنے کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی یوپی اے سرکار پر اب کسانوں کے ساتھ دھوکہ دھڑی کرنے کا الزام لگا ہے۔ پہلے ہی کئی گھوٹالوں سے گھری یہ منموہن سنگھ سرکار کی ساکھ پر ایک اور بٹا لگا ہے۔ سال2008ء میں تقریباً4.29 کروڑ کسانوں کے لئے شروع کی گئی ذراعتی قرض معافی اسکیم میں کئی حقدار کسانوں کو اسکیم کا فائدہ ہی نہیں ملا۔ اس کے بدلے میں بینک افسر اور فائدہ پانے والوں کی سانٹھ گانٹھ سے ایسے لوگوں کے بھی قرض معاف کردئے گئے جنہوں نے گاڑی، کاروبار، دوکان، زمین خریدنے کے لئے قرض لیا تھا۔ پارلیمنٹ میں منگلوار کو پیش کی گئی کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (کیگ) کی آڈٹ کردہ رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔اور یہ سچائی سامنے آئی ہے کہ2008 ء میں اعلان شدہ کسانوں کو راحت دینے والی اس اسکیم میں حقیقی حقدار کسان جہاں بڑی تعداد میں اس کے فائدے سے محروم رہے وہیں تمام ایسے کسان نامدھاری لوگوں نے اس کا جم کر فائدہ اٹھایا جو اس کے حقدار ہی نہیں تھے۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں جس طرح کسان قرض معافی اسکیم کے تحت خرچ کئے گئے 52500 کروڑ روپے میں سے کم سے کم 20 فیصد رقم کے استعمال کو لیکر سنگین سوال اٹھائے تھے وہ ایک قسم کے گھوٹالے کو ہی بیان کررہے ہیں۔کیگ نے جن 90576 کھاتوں کی جانچ کی ان میں سے اسے 20242 کھاتوں میں کوئی نہ کوئی بے ضابطگی ملی ہے۔ یہ جنرل قسم کی بے ضابطگی نہیں ہے کیونکہ یہ سامنے آرہا ہے کہ بڑی تعداد میں غیر حقدار لوگوں کو قرض دیا گیا تھا اور اس کے علاوہ ہزاروں معاملے ایسے بھی ہیں جہاں قرض معافی کے باوجود کسانوں کو قرض سے نجات ملنے کا سرٹیفکیٹ تک نہیں دیاگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سطح پر گڑ بڑیاں ہوئیں ہیں۔
2008 ء میں جب یوپی اے سرکار نے کسانوں کے لئے قرض معافی اسکیم کا اعلان کیا تو بہت سے اقتصادی ماہرین نے اسکی نکتہ چینی کی جن میں زرعی قیمت و تخمینہ کمیشن کے چیئرمین بھی شامل تھے۔ ان کی دلیل تھی کہ اس سے بینک قرض نہ چکانے کے رواج کو بڑھاوا ملے گا۔ اس لئے اسی کسی اسکیم پر ہزاروں کروڑ روپے الاٹ کرنے کے بجائے سرکار کو سنچائی اور زرعی سہولیات بڑھانے پر خرچ کرنا چاہئے لیکن کسانوں کی خودکشی کے واقعات کا حوالہ دیکر حکومت نے اس دلیل کو درکنار کردیا۔
یہ صحیح ہے کہ کسانوں کی خودکشی کے پیچھے ان کے قرض میں ڈوبے ہونا بڑی وجہ رہی ہے۔ مگر قرض معافی اسکیم ایسے وقت میںآئی جب پچھلے لوک سبھا چناؤ میں تھوڑا ہی وقت رہ گیا تھا۔ اس کے لئے اسے ایک چناوی اسکیم کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔ یوپی اے کے اقتدار میں واپسی کی یہ ہی اہم دلیل مضبوط ہوئی ۔ایسے ہزاروں معاملے سامنے آئے ہیں جن میں قرض معافی کے باوجود کسانوں کو قرض سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا اور کئی جگہ بینکوں نے طرح طرح کے ٹیکس وصولے جو طے ضابطوں کی صاف خلاف ورزی تھی۔ قرض معافی کی اسکیم کے علاوہ ذراعتی قرض کے الاٹمنٹ میں بھی دھاندلی کے حقائق سامنے آئے ہیں۔کچھ سال پہلے انکشاف ہوا تھا کہ دہلی اور چنڈی گڑھ میں جتنے قرض بانٹے گئے وہ اترپردیش ، بہار ، بنگال، جھارکھنڈ کے علاقے شامل ہیں۔دہلی اور چنڈی گڑھ میں کتنی کھیتی ہوتی ہوگی یہ بتانے کی ضرورت نہیں، لیکن حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ وزارت مالیات ذراعتی قرض تقسیم کے گھورکھ دھندے کی تہہ میں جانے سے بچتی رہی ہے۔ بھاجپا نے کیگ کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ تجزیہ کیا ہے کہ اس اسکیم میں10 ہزار کروڑ روپے کی بندر باٹ ہوئی ہے۔ پتہ نہیں سچ کیا ہے لیکن کیگ کی جانچ پڑتال یہ توثابت کرتی ہے کہ کم سے کم 4-6 ہزار کروڑ روپے ادھرادھر ہوگئے ہیں۔ کیونکہ اس اسکیم میں ہزاروں کروڑ روپے کی بربادی صاف نظر آرہی ہے اس لئے ٹوجی اسپیکٹرم، کوئلہ الاٹمنٹ جتنا سنگین نہیں ہے اتنا یہ قرض گھوٹالہ ہے۔ 
آخر کار ان ہزاروں کروڑ روپے کی بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ کس کی جوابدہی ہے؟ بھاجپا چاہ رہی ہے کہ اس پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے۔ یہ مانگ واجب ہے لیکن سی بی آئی جس طرح سے بے جان جانچوں کے ذریعے بدنام ہوتی جارہی ہے اس سے مقررہ وقت میں نتائج کی توقع کرنا بے معنی لگتا ہے۔ کیگ کی رپورٹ کے انکشاف کو سر سے خارج کرنے سے سرکارکا کام نہیں چلے گا۔ لگاتار گھوٹالوں سے گھرتی مرکزی سرکار کے لئے اب بہتر یہ ہی ہوگا کہ وہ کسانوں کے حق کو ہڑپنے والے اشخاص اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ ورنہ اس کے مضر نتائج اسے آنے والے چناؤ میں بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ اب تک اس یوپی اے سرکار کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ مرکزی اقتدار اعلی نے ایسا کوئی سسٹم بنانے کی ضرورت نہیں سمجھی جس سے سرکاری اسکیم میں گھپلے بازی نہ ہوپائے۔
کوئی نہیں جانتا مرکزی اقتدار گھوٹالوں کو روکنے والے سسٹم بنانے کو لیکر اتنا غیر ذمہ دار آخر کیوں ہے؟ بدقسمتی سے بے توجہی تب دکھائی جارہی ہے جب فلاحی اسکیموں کی تعداد اور اس کے لئے پیسہ الاٹ بھی بڑھ رہا ہے۔ فصل بیمہ جیسی دوسری اسکیمیں بھی کسانوں،بینکوں اور کمپنیوں کے مفاد زیادہ بھانپ رہی ہیں۔ قرض معافی میں ہوئی بندر بانٹ کی جوابدہی طے ہونی چاہئے لیکن اسی کے ساتھ یہ پالیسی ساز سوال اٹھانے کی بھی ضرورت ہے کہ کسانوں کو حقیقت میں قرض معافی کی ضرورت ہے یا اس کی جگہ انہیں ان کی پیداوار کی انصاف پر مبنی قیمت ملے یہ ضروری ہے؟
(انل نریندر)

08 مارچ 2013

راہل گاندھی کی بیباک جذباتی تقریر یہ سال بہت کچھ طے کرے گا

کانگریس کے نوجوان نائب صدر سے کانگریسیوں کو بہت امیدیں ہیں۔ ایک طرح سے راہل گاندھی کانگریس کی ڈوبتی نیا کا آخری سہارا ہیں ۔کانگریس نے انہیں نائب صدر بنا کر اپنی چال چل دی ہے۔وہ تاش کا ایک اکاّ ہیں۔ راہل نے منگلوار کو پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں ایک بہت ہی جذباتی تقریر کی اور کئی اہم باتیں کہیں ۔ ان میں سب سے اہم جو بات ہے وہ یہ تھی کہ آنے والے عام چناؤ میں انہیں وزیراعظم کے عہدے کا دعویدار بنائے جانے کے امکانات کو خارج کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے وزیر اعظم کا عہدہ ان کی ترجیح نہیں ہے۔ ان کا مقصد پارٹی کو مضبوط کرنا اور عوام کو پارٹی سے جوڑنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا فی الحال ان کا شادی کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اگر میری شادی ہوئی اور بچے ہوئے تو میں بھی اوروں کی طرح چاہوں گا میرے بچے بھی میری جگہ لیں۔ راہل نے کہا کہ وہ کانگریس میں ہائی کمان کلچر کے خلاف ہیں اور اسے ختم کرنے کی سمت میں قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔ جے پور چنتن میٹنگ کے بیانات سے تھوڑا آگے بڑھتے ہوئے بیباک بات چیت میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ زمینی نہیں بلکہ پیراشوٹ سے اتارے گئے نیتا ہیں لہٰذا سانجھے داری کے ساتھ تنظیم کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تنظیم کو مضبوط کرنے کے لئے کئی امکانی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ راہل گاندھی کو جب میں دیکھتا ہوں تو مجھے ان کے والد سورگیہ راجیو گاندھی کی یاد آجاتی ہے اور راجیو گاندھی کے قریب ہونے کی وجہ سے میں راہل کو بھی کامیاب دیکھنا چاہتا ہوں لیکن راہل کو زمینی حقیقت بھی سمجھنی پڑے گی۔ دراصل مجھے لگتا ہے کہ بھاجپا میں راجناتھ ۔ مودی کی جوڑی کے بڑھتے قدموں سے کانگریس میں کھلبلی ضرور پیدا ہوئی ہے اور راہل نے اپنے ڈھنگ سے نریندر مودی کے ذریعے ہی پہلے دن دہلی میں دی گئی تقریر کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ راہل کی باتوں میں تضاد صاف نظرآتا ہے۔ آپ کانگریس تنظیم میں آئی کمزوریوں کی تو بات کرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے کے میں وزیر اعظم نہیں بنوں گا یا پی ایم بننا میری ترجیح نہیں ہے۔ اگر آپ پی ایم بننا نہیں چاہتے ، سرکار کی پالیسیوں اور ترجیحات کو ٹھیک کرنا نہیں چاہتے تو کیا محض تنظیم کو ٹھیک کرکے کانگریس کو2014ء لوک سبھا چناؤ میں کامیابی دلا سکیں گے؟ آج جنتا آپ کی منموہن سنگھ سرکار کی غلط اقتصادی پالیسیوں و کرپشن ، مہنگائی ، بگڑتے قانون و انتظام ، بجلی پانی وغیرہ وغیرہ مسائل سے بری طرح الجھی ہوئی ہے اور یہ سب آپ کی پارٹی کی سرکار کی ہی دین ہے۔ اگر آپ سرکار کی پالیسیوں کو نہیں بدلتے تو ووٹ کہاں سے آئیں گے۔ تنظیم تو تبھی کام آتی ہے جب ووٹ تیار ہوں، ووٹ کی فصل تیار ہو کاٹنے والا چاہئے۔ فصل کا ٹنے کے لئے تنظیم ضروری ہوتی ہے۔ جب نریندر مودی بنام راہل گاندھی کی لڑائی کوہم دیکھتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے دونوں لیڈروں کی سیاسی تاریخ اور ان کی سیاسی کامیابیاں اور سرکار چلانے کا تجربہ پارلیمنٹ میں کارکردگی وغیرہ وغیرہ کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ نریندر مودی نے لگاتار تیسری مرتبہ گجرات اسمبلی چناؤ جیت کر صاف کردیا ہے کہ ان کے قول اور فعل میں پل بھر بھی فرق نہیں ہے۔ گجرات کی ترقی سب کے سامنے ہے ان کا سرکار چلانے کا تجربہ گجرات میں پارٹی چلانی کی صلاحیت پر اب کسی کو شبہ نہیں ہے۔ آج تک ان کی ایمانداری پر کوئی سوالیہ نشان نہیں لگا۔ پچھلے 10 سال میں گجرات میں کوئی فساد نہیں ہوا، بہو بیٹیاں پوری طرح محفوظ ہیں۔ ترقی کا فائدہ گجرات کی عام جنتا کو پہنچ رہا ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ راہل گاندھی کی کارگزاری تشفی بخش نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں آج تک راہل گاندھی نے کسی بھی اہم بحث میں حصہ نہیں لیا۔ سرکار چلانے کا انہیں کوئی تجربہ نہیں۔بہار، اترپردیش میں راہل گاندھی کے ہاتھ میں کمان تھی نتیجہ کیا ہوا یہ سب کے سامنے ہے؟ ان ساری خامیوں کو دیکھنے کے بعد ہمیں لگتا ہے کہ راہل کو ابھی بہت محنت کرنی ہوگی۔ آگے کا راستہ کانٹوں بھرا ہے۔2014ء لوک سبھا چناؤ سے پہلے 9 ریاستوں میں جن میں کئی اہم ریاستیں شامل ہیں، چناؤ ہونا ہے۔ یہ راہل کے لئے ڈریس ریہرسل ہوگی۔ کانگریس کے اس چاپلوسی کلچر نے پارٹی کو ڈوبا دیا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ راہل نے سخت محنت کرکے زمینی حقیقتوں کو قریب سے دیکھا ہے اور سمجھا ہے اب انہیں دور کرنا چاہتے ہیں۔ آج سارے دیش کی نظریں راہل گادنھی پر ٹکی ہیں۔ یہ سال طے کرے گا وہ کس طرف بڑھ رہے ہیں۔
(انل نریندر)

لوگوں کی زندگی مانگ رہی ’ایروم شرمیلا‘ پر خودکشی کا الزام؟

ایک مصیبت کے دور میں ستیہ گرہ جیسی عدم تشدد تحریک کے تئیں لوگوں کا عقیدت مند ہونا کسی تاریخی کارنامے سے کم نہیں ہے۔ قانون اور حالات کئی مرتبہ عجب موڑ لاتے ہیں۔ یہ متنازعہ مسلح فورس مخصوص اختیار قانون کے خلاف پرامن طریقے سے بھوک ہڑتال کررہی ’ایروم بھانو شرمیلا‘ معاملے میں دیکھا جارہا ہے جنہیں زبردستی گناہگار بنا دیا گیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ آکاش جین کی عدالت میں اس40 سالہ خاتون ایروم شرمیلا کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ309(اقدام خودکشی) کے تحت الزام درج کیاگیا ہے۔ انہوں نے عدالت میں کہا میں لوگوں کیلئے زندگی کی مانگ کررہی تھی اس لئے میں نے مرن برت شروع کیا تھا۔ عدالت نے شرمیلا سے پوچھا کیا وہ اپنا جرم قبولتی ہیں؟ جس کے جواب میں شرمیلا نے کہا ان کا مظاہرہ عدم تشدد پر مبنی تھا اور انہوں نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی جس کے لئے اپنے آپ کو گناہ گار مانیں۔ ان کا ارادہ خودکشی کرنے کا قطعی نہیں تھا۔ ان کی نظر میںیہ کوئی جرم نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے کہا ان کے خلاف اقدام قتل کی کوشش کے الزام میں چارج شیٹ طے کرنے کے لئے ھہلی نظر میں کافی ثبوت موجود ہیں۔ دراصل عدالت کے پاس کسی بھی اشو کو قانونی یا غیر قانونی قراردینے کے علاوہ کوئی متبادل نقطہ نظر نہیں ہے۔ ویسے یہ انصاف کی حدنہیں اس کی مریادہ ہے جسے سیدھے ریفورم کرنا ہی ایک اتفاق رائے کا عمل ہے۔ قانون کے راج کو چلانے کے لئے یہ اتفاق رائے کچھ حد تک ضروری بھی ہے البتہ عدالتی عمل کے دور میں عدالتی کمپلیکس میں ایسے کچھ تبصرے ضرور سامنے آئے ہیں جو جمہوری تقاضوں اور ضمیر کو آگے بڑھاتے ہیں۔عدالت نے اکتوبر2006ء میں جنتر منتر پر انشن کی وجہ سے شرمیلا پر خودکشی کی کوشش کے الزام طے کئے ہیں۔ بہت ممکن ہے آئی پی سی کی دفعہ309 کو جب منظور کیاگیا ہوگا تب یہ شاید اندیشہ نہ رہا ہو کہ کبھی اس کا استعمال پرامن زندگی کے لئے جمہوری اختیار کی مانگ کرنے والے کسی سنگھرش میں بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ اور یہ ہی تو شرمیلا نے بھی عدالت سے کہا کہ ان کا سنگھرش موت کے لئے نہیں زندگی کے لئے ہے۔ بدقسمتی دیکھئے کے جج کی ہمدردی بھی ان کے ساتھ ہے مگر انہیں کہنا پڑا کہ انہیں بلا رکاوٹ اسپا پر فیصلہ کرنا ایک سیاسی عمل ہے۔ مگر قانون کی نظر میں انشن کرنا، خودکشی کی کوشش کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے اسپا کو ہٹانے کی مانگ کررہی شرمیلا کو بار بار گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ 2006 ء میں درج کیا گیا مقدمہ اب سماعت کے مرحلے میں ہے۔ ایروم فوج کو ایسا کوئی خاص اختیار دینے کے خلاف لڑ رہی ہیں جو بے قصور شہریوں کے خلاف اسے تشدد آمیز کارروائی کی چھوٹ دیتا ہے۔ ان کی اس جدوجہد کے پیچھے 2000ء میں منی پور ہوائی اڈے کے پاس آسام رائفل کی گولیوں سے ہوئی 10 شہریوں کی موت کی وہ واردات ہے۔ اور ان کا پچھلے 12 سالوں سے یہ آندولن چل رہا ہے۔ بہتر تو یہ ہوتا ایروم کے عدم تشدد کے سنگھرش کے اس جواز کو سرکار اور پولیس بھی سمجھتی۔تاکہ کم سے کم اس مہان ستیہ گریہی کوعدالتی کٹہرے میں کھڑا ہونے کی نوبت نہ آتی۔
(انل نریندر)

07 مارچ 2013

اوبامہ نے سرکاری خرچ میں 4لاکھ 67 ہزارکروڑ کی کٹوتی کردی

امریکہ میں صدر براک اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی اور اپوزیشن ریپبلک پارٹی کے درمیان سمجھوتہ نہ ہونے کے سبب یکم مارچ سے سرکاری خرچوں میں رواں سال کے لئے 85 ارب ڈالرکی کٹوتی نافذ ہوگئی ہے۔ اگلے7 مہینے میں امریکی حکومت کو 85 ارب ڈالر یعنی قریب4 لاکھ 67 ہزارکروڑ روپے کا خرچ کم کرنا ہوگا۔فیصلے سے ساڑھے سات لاکھ سرکاری نوکریوں میں چھٹنی ہوجائے گی۔ فیصلے کے بعد 2 لاکھ سرکاری ملازمین کو چھٹی پر جانے کے نوٹس بھی دے دئے گئے ہیں۔ ان میں اکیلے محکمہ عدلیہ کے 1.15 لاکھ کرمچاری ہیں۔ چھٹی کے دوران انہیں تنخواہ بھتے بھی نہیں ملیں گے۔ حالانکہ یہ بلا تنخواہ چھٹی14 سے30 دن تک ہوگی۔ اوبامہ نے کہا کٹوتی کے سبب قریب ساڑھے سات لاکھ سرکاری ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔ امریکہ میں کل 27 لاکھ سرکاری ملازم ہیں۔ سب سے زیادہ اثر ڈیفنس سیکٹر میں ہوگا۔ اس سال ستمبر سے پہلے ڈیفنس بجٹ میں 13 فیصدی کی کمی کی گئی ہے۔ ناسا تعلیم اور قانون کے بجٹ میں بھی 9 فیصدی کمی کی گئی ہے۔ براک اوبامہ کچھ حد تک اتنے سخت قدم اٹھانے پر مجبور تھے۔ عراق اور افغانستان میں جنگ سے امریکی سرکار پر 16.5 ٹریلین ڈالر یعنی(8.78 لاکھ ارب روپے) کاقرض ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے 2011ء میں امریکی پارلیمنٹ میں بجٹ کنٹرول بل پاس کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق ہونے والے قرض کو کم کرنے کا طریقہ نہیں تلاش کرپاتے ہیں تو یکم جنوری2013ء سے سی ویسٹر لاگو ہوجائے گا۔اسے دو ماہ کے لئے ٹال دیاگیا تھا۔ اوبامہ انتظامیہ نے قریب چار ٹریلین ڈالر یعنی (2.19 لاکھ ارب روپے ) کا گھاٹا کم کرنے کے طریقوں پر کئی مرتبہ اپوزیشن جماعت ریپبلکن پارٹی سے بات چیت ہوئی ۔ پچھلے سال سپر رچ ٹیکس لگانے کی تجویز بھی لے کر آئے لیکن ریپبلکن نے اسے سرے سے مسترد کردیا تھا۔ اتفاق رائے بنانے کے لئے مالی خسارے کو دو ماہ کے لئے ٹالا گیا لیکن اس سے بھی کوئی بات نہیں بنی۔ اوبامہ نے فیصلے سے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن ریپبلکن پارٹی کی مخالفت سے پیدا تعطل ٹوٹ نہ سکا اور نا کام ہونے پر آخر کار اوبامہ نے جمعہ کی رات 11.59 منٹ پر حکم پر دستخط کر دئے۔ قانون کے مطابق کٹوتی اگلے 10 سال تک جاری رہے تھی۔27 مارچ کو کانگریس اس مالی برس کی بچی میعاد کیلئے بجٹ پاس کرے گی۔ اپریل ۔ مئی میں بجٹ پر بحث ہونی ہے۔ اس وقت اگلے مالی سال کے لئے راستہ نکالا جاسکتا ہے۔ بات اٹکی تومئی سے اگست کے درمیان قرض حد بڑھانے پر بھی بحث ہوسکتی ہے۔ یہ ممکن ہے کے آنے والے دنوں میں دونوں حل کا کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ مسئلے کی جڑ بنیادی نظریاتی اختلاف ہے جو تمام ترقی یافتہ اور ابھرتی معیشت والے ملکوں میں بڑھتے جارہے ہیں۔ اقتصادی مندی سے مسائل پر پڑے بوجھ کے ساتھ یہ لڑائی تیز ہوگئی ہے۔ اس لڑائی میں ایک سرے پر وہ طاقتیں ہیں جو سرکار کی عوامی بہبود کردار کو نہیں مانتیں دوسری طرف وہ پارٹیاں ہیں جو معیشت میں مداخلت کر سرکاروں کے فیصلہ کن کردار کو قائم رکھنے کے لئے جدوجہد کررہی ہیں۔ ان میں پہلی طاقت کفایت شعاری کی حمایتی پالیسیوں کی حمایتی ہے۔جن کی مار عام آدمی اور درمیانے طبقے پر پڑتی ہے۔ دوسری طاقتیں خوشحال لوگوں پر بھی بوجھ ڈالنے کی حامی ہیں۔ امریکہ میں اسی سے تازہ بحران کھڑا ہوا ہے۔ وہاں عام لوگوں پر پڑ رہی مہنگائی کی مار زیادہ ہے۔ صدر براک اوبامہ نے حال ہی میں اپنی دوسری میعاد شروع کی ہے۔ وہ فٹا فٹ فیصلے کررہے ہیں۔ اپوزیشن ریپبلکن اوبامہ کی تیز رفتاری سے زیادہ خوش نہیں ہے۔ وہ انہیں روکنے کا جہاں موقعہ ملتا ہے کوشش کررہی ہیں۔ امریکہ میں اٹھائے گئے ان اقتصادی اقدامات سے ساری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔ پریشانی ہمیں امریکہ میں مقیم 32 لاکھ ہندوستانی نژاد امریکیوں کے مستقبل کو لیکر بھی ہے۔ ان میں 36 فیصدی تو اکیلے ناساشہر میں کام کرتے ہیں۔ 42 ہزار ہندوستانی ڈاکٹر امریکہ میں اس وقت نوکری کررہے ہیں۔ پھر برآمد درآمدپر کیا اثر پڑے گا یہ بھی دیکھنا باقی ہے۔
(انل نریندر)

بہادر بیٹی ’نربھیہ‘ کو امریکہ سمانت کرے گا

دہلی کے وسنت وہار میں اجتماعی آبروریزی کا شکار لڑکی ’نربھیہ‘ عرف دامنی کی بہادری کی کہانی اب دنیا بھر میں چھا چکی ہے۔ 8 مارچ کو بین الاقوامی مہلا دوس ہے اس موقعہ پر امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں دہلی کی اس بہادر لڑکی کے نام پر ایک بڑا ایوارڈ دینے کا اعلان ہوا ہے۔ اس کا نام ہے ’’انٹرنیشنل وومن آف کریز ایواڈر‘‘۔ نربھیہ کے ساتھ دنیا کی 9 دیگر بہادر عورتوں کویہ ایوارڈ دیاگیا ہے۔اعزاز تقریب میں امریکی صدر براک اوبامہ کی اہلیہ مشیل اوبامہ موجود رہیں گی۔ امریکی انتظامیہ نے ایک پریس نوٹ میں دہلی کی بہار لڑکی کی جم کر تعریف کی ہے۔ اس میں کہاگیا ہے کہ اس 23 سالہ لڑکی نے آخری سانس تک آبروریزوں سے مقابلہ کیا تھا۔ لیکن پچھلے سال29 دسمبر کو اس نے سنگاپور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ دیا تھا۔ امریکہ میں مشیل اوبامہ متاثرہ کے گھروالوں کو یہ ایوارڈ دینے جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفارتخانے نے نربھیہ کے گھروالوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔ امریکی سرکاری خرچ پر ان کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ ابھی تک باقاعدہ طور پر تفصیل نہیں مل پائی کے متاثرہ کے گھرسے کون کون لوگ امریکہ جانے والے ہیں۔ ادھر میڈیا میں ایک مایوس کن سروے شائع ہوا ہے۔ عورتوں کی سلامتی کے لئے شروع کی گئی مرکزی اور دہلی سرکار کی تمام کوشش کے باوجوددہلی کی عورتیں خود کو محفوظ نہیں مانتیں۔ تمام کوششوں کے باوجود عورتوں کو رات کی بات چھوڑیئے دن کے اجالے میں بھی ڈر لگتا ہے۔ ان پر فقرہ کشی کئے جانے کے معاملے تھم نہیں رہے ہیں۔ اب گھروالے کام پر گئی لڑکیوں کی سلامتی کو لیکر ان سے فون پر بات کرتے رہتے ہیں۔ کہاں پہنچی ہو؟ جب تک وہ گھر واپس نہیں آجاتیں گھر والے پریشان رہتے ہیں۔جن پتھ جیسے بازار میں بھی منچلے فقرہ کشی سے باز نہیں آتے۔ ایک لڑکی نے کہا سرکار کے سکیورٹی کے دعوے بھی کھوکھلے ہیں۔ میں نے جب ایسے واقعے کی شکایت کرنے کے لئے ہیلپ لائن نمبر181 پر کال کی تو نمبر ہی نہیں ملا۔ عام شکایت ہے کہ بسوں میں تو لڑکیاں سفر کر ہی نہیں سکتیں۔ اگر کچھ ہوجائے تو کوئی مدد کو نہیں آتا۔ ایک طالبہ کہتی ہے ہر بار تو پولیس کے پاسمدد کو نہیں جاسکتے۔ کالج سے گھر پہنچنے کے لئے اگر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کیا جائے تو وہ بھی محفوظ نہیں۔ حالانکہ میٹروکو کچھ حد تک محفوظ مانا جاسکتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ یہ کام نہ تو سرکار کرسکتی ہے نہ پولیس یہ کام تو سماج اور گھروں میں ہونا ہے۔ ہر ماں باپ اپنے لڑکے کی فطرت کو جانتے ہیں۔ کچھ مجبوری میں تو کچھ لاڈ پیار میں لڑکے کو سمجھاتے نہیں۔ جب تک ہمارے سماج میں عورتوں کے تئیں عزت نہیں بڑھتی اس کا حل مشکل ہے۔ 
(انل نریندر)

06 مارچ 2013

ایک فرض شناس، بہادر پولیس افسر کا بے رحمانہ قتل

کنڈا کا غنڈہ راج برسوں سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ ہوں یا پھر مایاوتی سبھی نے کنڈا کا غنڈہ راج پر نکیل کسنے کی کوشش کی تھی۔ سنیچر کو اسی کنڈا اسمبلی حلقے کا بلی پور گاؤں ایک بار پھر غنڈہ گردی کا گواہ بنا۔ یہاں سی او کنڈا ضیاء الحق کو جس بے رحمی سے مارا گیا وہ ریاستی پولیس کے اقبال پر گہری چوٹ ہے۔سنیچر کو کنڈا کے گاؤں بلی پور میں گرام پردھان ننھے یادو ان کے بھائی کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس قتل کانڈ کی خبر ملنے کے بعد پولیس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ضیاء الحق موقع پر پہنچے تھے لیکن غصے میں آگ بگولہ گاؤں والوں نے پولیس پرہی حملہ بول دیا۔ بتایا جاتا ہے پولیس افسر ضیاء الحق کو پہلے لاٹھی ،ڈنڈوں سے پیٹا گیا اور جب وہ گر گئے تو ان کو گولی مار دی گئی جس سے ان کی موقعہ پر موت ہوگئی۔ ضیاء الحق کا جس طریقے سے بے رحمانہ قتل ہوا سبھی کو دکھ ہونا چاہئے۔ ایک عام کنبے سے تعلق رکھتے ہوئے ہمت اور سوجھ بوجھ کے دھنی ضیاء الحق کسی بھی واردات پر متعلقہ اعلی افسر کا انتظار کئے بغیر ہی خود موقعے پر پہنچ جاتے تھے۔ ان کی پہچان ایک سمجھدار افسر کے طور پر ہوتی تھی۔ ابھی ایک سال پہلے21 جنوری 2012ء کو ان کی شادی ہوئی تھی۔ بیوی پروین آزاد لکھنؤ کے ایرا میڈیکل کالج میں بی ڈی ایس کی پڑھائی پڑھ رہی ہیں۔ اس قتل کانڈ کے بعد سپا سرکار کی کافی کرکری ہورہی ہے خاص طور پر مسلم فرقے میں۔ ضیاء الحق کے قتل کے بعد مسلمانوں پر ڈورے ڈالنے کی سپا کی مہم کو جھٹکا لگا ہے اور کئی معاملوں کو لیکرمسلم فرقہ پہلے سے ہی اکھلیش یادو حکومت سے ناخوش ہے۔ اب یہ تازہ معاملہ کھڑا ہوگیا۔ اس معاملے میں راجہ بھیا کا رول اہم مانا جارہا ہے وہ کنڈا سے ہی ممبر ہیں۔ ان پر سالوں سے غنڈہ گردی کرانے کا الزام لگتا رہا ہے۔ مایاوتی سرکار نے تمام متنازعہ معاملوں میں انہیں جیل بھی بھجوادیا تھا لیکن سپا حکومت کے آتے ہی وہ جیل سے باہر آئے اور وزیر بن بیٹھے۔ پچھلے مہینے ان کے پاس سے جیل وزارت کی ذمہ داری لے لی گئی تھی۔ اب ان کے پاس غذا اور فوڈ پروسیسنگ کا محکمہ ہی تھی جو اب چھن چکا ہے۔ راجہ بھیا کے استعفے کے بعد ریاست کے سیاسی حالات بدل سکتے ہیں۔ راجہ بھیا کے دبنگ طور طریقے یوپی کے نوجوان وزیر اعلی اکھلیش یادو کو پسند نہیںآتے۔ شاید اسی کے چلتے پچھلے مہینے ان سے ایک وزارت بھی لے لی گئی تھی۔ اپنا استعفیٰ وزیر اعلی کو سونپنے کے بعد راجہ بھیا نے میڈیا سے کہا اگر کنڈا معاملے میں سرکار سی بی آئی جانچ کرانا چاہے تو وہ اس کا خیر مقدم کریں گے۔ قابل ذکر ہے شہید پولیس افسر ضیاء الحق کی بیوی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے۔ یوپی کے سینئر وزیر اعظم خاں کا ردعمل تھا کے ضیاء الحق کے قتل نے سرکار کو مسلم سماج میں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا۔ ہم شہید ضیاء الحق جیسے بہادر، فرض شناس پولیس افسر کو سلام کرتے ہیں اور امیدکرتے ہیں کہ قصوروار جلد نپیں گے۔
(انل نریندر)

اکھلیش یادو حکومت میں بڑھتا جرائم کا گراف

اترپردیش میں قانون و سسٹم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ یہ کہنا ہے بسپا چیف مایاوتی کا۔ انہوں نے کچھ وقت پہلے ریاست کے بگڑتے قانون و انتظام ،کرپشن اور سپا حکومت میں مسلسل بگڑتا فرقہ وارانہ بھائی چارے گی صورتحال پر سوال اٹھایا تھا۔ مایاوتی کا کہنا ہے کہ دیش کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں اترپردیش میں تیزی سے جرائم آبروریزی اور کرپشن بڑھ رہے ہیں۔ اس نے ریاست کی عوام کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے اور گورنر بی ایل جوشی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سطح پر ان معاملوں کو آئین کے پس منظر میں سنجیدگی سے لیتے ہوئے خود جانکاری حاصل کریں اور اس کے بعد راشٹرپتی سے فوراً ریاست میں صدر راج لگانے کی سفارش کریں۔ سماجوادی پارٹی کی سرکار جب سے اقتدار میںآئی ہے ریاست میں قتل، لوٹ مار، اغوا، آبروریزی کے واقعات تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں۔ 9-10 مہینے کی سپا حکومت میں ریاست کے کئی حصوں میں فساد ہوچکے ہیں جس سے عام جنتا بری طرح نالاں ہے۔ ریاست میں سماجوادی پارٹی کے غنڈے بدمعاش اقتصادی لوٹ مار میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ جبراً وصولی ،زمینوں پر ناجائز قبضے کرنے میں لگے ہیں۔ قانون و انتظام کی بدحالی کے الزامات کو جھیل رہی اترپردیش میں اکھلیش یادو کی سرکار فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے میں بھی کٹہرے میں کھڑی ہوگئی ہے۔ دو فرقوں کے درمیان بھڑکے تشدد کے معاملوں میں پچھلے دو سال کے دوران اترپردیش کا نام سب سے اوپر ہے۔ وزارت داخلہ (حکومت ہند) کے مطابق ریاست میں پچھلے سال اکتوبر تک ہی 104 فرقہ وارانہ جھگڑوں کے واقعات ہوچکے ہیں۔ ان وارداتوں میں 34 لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت داخلہ آر پی این سنگھ نے حال ہی میں راجیہ سپا میں ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب کے سوال پر تحریری جواب میںیہ اطلاع دی ہے ۔ مسٹر سنگھ نے ایوان میں گذشتہ دو برس میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی تفصیل پیش کی ہے۔ وزارت داخلہ کے اعدادو شمارکے مطابق سال2011ء میں اترپردیش میں ہی سب سے زیادہ فرقہ وارانہ جھگڑے ہوئے ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے پولیس اور عوامی نظام ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہے لہٰذا فرقہ وارانہ دنگوں سے نمٹنے اور اس سلسلے میں اعدادو شمار رکھنے کی ذمہ داری بھی سرکار کی ہے۔ اترپردیش میں جتنی دردشا عورتوں کی ہوئی ہے شاید ہی کسی دیگر ریاست میں ہو۔ سر پھرے لوگوں نے عورتوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔ پولیس نے خود اپنی ویب سائٹ پر یہ سچائی قبول کی ہے۔ یہ جان کر حیرانی بڑھ جاتی ہے کہ لوک لاج کے ڈر سے عورتیں ایف آئی آر درج کرانے سے بچتی ہیں۔ یوپی پولیس نے عورتوں کے لئے15 نومبر 2012ء سے شروع کی گئی ہیلپ لائن2090 کے بارے میں جانکاری دی ہے۔ اس سروس پر یکم جنوری2013ء تک 61 ہزار عورتوں نے مدد مانگی۔ ان میں سے 14 ہزار سے زیادہ معاملے چھیڑ خانی اور فقرے کسنے کے نکلے اور اغوا ، قتل اور آبروریزی کے معاملے تو آئے دن سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں۔ تازہ کیس ڈی ایس پی ضیاء الحق کا ہے جس نے یوپی سرکار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
(انل نریندر)

05 مارچ 2013

پھر ثابت ہوگیا راجدھانی میں بچے محفوظ نہیں

ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ دیش کی راجدھانی میں بچے محفوظ نہیں ہیں۔چار دن پہلے مشرقی دہلی کے منڈاولی میں ایک اسکول سے اغوا بہن بھائی کا قتل کردیا گیا۔ سنیچر کی صبح 9 بجے دونوں چنٹو(7 سال) اور یشوی(5 سال) کی لاشیں پرگتی میدان کی ریلوے لائن کے کنارے جھاڑیوں سے برآمد ہوئیں۔ لاش گلی سڑی حالت میں تھیں۔ پولیس کو اندیشہ ہے کہ گلا گھونٹنے کے بعد ان معصوموں کا گلا کاٹا گیا ہو۔ اغوا اور قتل کے معاملے میں سنیچر کی رات پولیس نے بچوں کی ماں یوگیتا کے رشتے کے بھائی امت کو حراست میں لیا ہے۔ علی گڑھ کے باشندہ منوج کمار مہر(32 سال) منڈاولی میں بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔وہ ایک شیئرکمپنی میں کام کرتے ہیں۔ بچے ’مدرس کانوینٹ‘ اسکول میں پڑھتے تھے۔ ہر روز ماں بچوں کو اسکول سے لینے جاتی تھی۔ ماں یوگیتا اسکول نہ پہنچے اس لئے بدمعاشوں نے ان کے گھر کے باہر تالا لگا دیا اور کوئی نامعلوم شخص اسکول سے بچوں کو لے آیا۔ کسی طرح پڑوسی کے گھر کے راستے سے ہوکر یوگیتا اسکول پہنچی تو بچے وہاں نہیں ملے۔
اسی شام بچوں کی ماں کے موبائل پر بدمعاشوں نے کال کرکے بتایا بچے ان کے پاس ہیں اور ان کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ روپے زر فدیہ کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق عورت کے بھائی امت کے موبائل کی کال تفصیل یوگیتا کے موبائل پر آئی کال سے میچ کر گئی۔ بچوں کے اغوا کی خبر سنتی ہی محلے والوں نے ہنگامہ شروع کردیا اور تشدد پر آمادہ بھیڑ نے تین ڈی ٹی سی بسوں، سنجے گاندھی ہسپتال اور پولیس چوکی میں جم کر توڑ پھوڑ مچائی۔ بے قابو لوگوں کو قابو کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ اس ہنگامے میں پولیس کانسٹیبل سمیت دو درجن لوگ زخمی بھی ہوئے۔
ایم سی ڈی نے منگولپوری ایل بلاک اسکول میں جنسی استحصال معاملے میں سخت فیصلہ کیا ہے۔ نارتھ ایم سی ڈی کمشنر پی کے گپتا نے فوری کارروائی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے انسپکٹر سمیت پانچ لوگوں کو معطل کردیا ہے۔ اس پورے معاملے کی جانچ کمیٹی بھی بنائی ہے۔ کمیٹی تین دن میں رپورٹ دے گی۔ اس معاملے میں جن لوگوں کو معطل کیا گیا ان میں اسکول پرنسپل، کلاس ٹیچر، اسکول اسسٹنٹ،چوکیدار شامل ہیں۔ اس واردات کے بعد ایم سی ڈی چوکس ہوگئی ہے۔ اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کو لیکر ایم سی ڈی کی تعلیمی کمیٹی کی چیئرمین ریکھا گپتا نے ایم سی ڈی کمشنر پی کے گپتا کے ساتھ میٹنگ کر ایم سی ڈی اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی تجویز تعلیمی کمیٹی اور ایم سی ڈی نے پاس کردی ہے۔ لیکن انتظامیہ نے ابھی تک اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ وزیر اعلی شیلا دیکشت نے بچوں کے ساتھ بدفعلی اور قتل کے معاملے کو دردناک اور بہت ہی سنگین قراردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اس معاملے میں وزیر تعلیم کرن والیہ، میئر اور ایم سی ڈی کمشنر سے بات کرکے معاملے کو دیکھیں گے۔ ایسے کئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
(انل نریندر)

’نو فائر زون دی کلنک فیلڈس آف سری لنکا‘

سری لنکائی فوج نے دیش میں 26 سال سے چلی آرہی لبریشن ٹائیگرز کے ساتھ خانہ جنگی کے آخری مہینوں کے دوران کئی جنگی جرائم کئے۔ اب تک اخباروں میں اس پر بحث تو ہوتی تھی لیکن کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل رہا تھا۔ گذشتہ ہفتے خانہ جنگی کے آخری دنوں پر بنائی ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ یہ دستاویزی فلم مئی 2009 ء میں ختم ہوئی خانہ جنگی کے آخری138 دنوں کی خون خرابے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کا عنوان ’نو فائر زون، دی کلنک فیلڈس آف سری لنکا ‘ ہے۔ فلم کے پروڈیوسر ہیں کیلم میکرائی۔ انہوں نے اس فلم کی ریلیز جنیوا میں اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر میں کی تھی۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ اسے سرکار کے فوجیوں کے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف ایک جرم کے ثبوت کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے اصلی سچائی سامنے آرہی ہے۔ حالانکہ جنیوا میں مقرر سری لنکا کے سفیر روندرناتھ آریہ سنگھ نے اس فلم کی ریلیز پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔
اس دستاویزی فلم کا ریلیز کا انتظام ہیومن رائٹ واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کیاتھا اور انہوں نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے بین الاقوامی انکوائری کا حکم دینے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کے سری لنکا کے گھریلو سینس آف آرٹ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن نے فوج کے رول پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اس دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ جنوری2009ء میں سری لنکا کی حکومت نے ’نو فائرزون‘ قائم کیا تھا۔ لیکن حقیقت میںیہ نو فائر زون ان ہزاروں شہریوں کے لئے جال ثابت ہوا جو سکیورٹی کی امید میں یہاں پہنچے تھے۔ اس حصے میں خوفناک گولہ باری ہوئی تھی اور فلم میں بچوں ، عورتوں ،مردوں کی خون میں لت پت لاشیں اور کٹے ہوئے اعضا دکھائی دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اندازہ کے مطابق جنگ کے آخری دنوں میں قریب40 ہزار لوگ مارے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر کی موت سری لنکا فوج کی اندھادھند فائرنگ سے ہوئی۔ قریب دو ہفتے تک نو فائرزون میں پھنسے رہے حقوق تنظیم کے ورکر نے فلم میں میں سوال پوچھا کہ سرکار نے اپنے ہی گولہ بارود اور ہتھیاروں کی رینج میں نو فائر زون کیوں بنایا؟ ان کا کہنا تھا یا تو آپ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ ا س محفوظ حصے میں آپ لوگوں کو مارتے ہیں یا پھر آپ انہیں نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بات زیادہ صحیح لگتی ہے کہ آپ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک اور رپورٹ میں پربھاکرن کے چھوٹے بیٹے کو دو فوٹودکھائے گئے تھے۔ پہلی فوٹوں میں تو وہ زندہ ہے اور گرفتار ہے۔دوسری تصویر میں وہ مرا ہوا پڑا ہے۔ حالانکہ سری لنکا حکومت نے بعد میں دعوی کیا کہ سری لنکائی فوج نے اسے نہیں مارا بلکہ اس کی سچائی میں کوئی دم نہیں ۔ آہستہ آہستہ تمل ٹائیگرز کے ساتھ ان کے حمایتی تمل نژاد سری لنکائیوں کو بھی صاف کیا گیا۔ اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے۔ سری لنکا کے صدر راج پکشے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ ساری دنیا ان کی طرف سے الزامات کی صفائی پیش کئے جانے کا انتظار کررہی ہے۔
(انل نریندر)

03 مارچ 2013

شیعوں پر مسلسل حملوں کو لیکر پاکستان میں واویلا

پاکستان میں شیعوں پر حملوں کا سلسلہ کم ہونے کے بجائے الٹا تیز ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ کے بڑے بازار میں واقع ایک اسکول کے قریب پچھلے ہفتے طاقتور بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد80 تک پہنچ چکی ہے اور20 زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں، بچے شامل ہیں۔ اقلیتی شیعہ فرقے کو نشانہ بنا کر کیا گیا حملہ اس سال کا دوسرا بڑا حملہ مانا جارہا ہے۔ اس سے پہلے سنی دہشت پسندوں نے صوبہ سرحد کے کوئٹہ میں 10 جنوری کودو فضائی حملوں کو انجام دیا۔ اس میں 117 لوگ مرے تھے جبکہ100 زخمی ہوئے تھے۔ ان دونوں حملوں میں تقریباً 200 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد100 سے اوپربتائی جاتی ہے۔ حملے کے بعد اقلیتی فرقے میں زبردست ناراضگی پائی جاتی ہے۔ شیعہ تنظیموں نے تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں شیعہ مخالف تحریک80 کی دہائی سے شروع ہوئی۔ سنی لیڈر نواز جھنگوی نے سپہ صحابہ بنائی تھی۔ یہ شیعہ اقلیتوں پر حملہ تھا۔ اس کٹرپسند تنظیم کا واحد مقصد دہشت پھیلا تھا۔ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف عبدالخالق ہزارا نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعے جولائی2011ء میں ایل ای جی کے لیڈر ملک اسحق کو ضمانت پر رہا کردینے کے بعد کوئٹہ میں شیعہ فرقے ہزارا کے ورکروں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسحق پر100 سے زیادہ قتلوں میں شامل ہونے کا الزام تھا اور وہ14 سال جیل میں رہے لیکن ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے رہاکردیا گیا۔ کوئٹہ میں پچھلے دنوں ان دونوں حملوں کے لئے ذمہ دار ممنوعہ تنظیم لشکر جھنگوی ایل ای جی نے دھمکی دی ہے کہ بلوچستان صوبے میں گورنر راج لاگو کئے جانے کے باوجود اقلیتی شیعہ فرقے کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ ایل ای جی کے ترجمان ابو بکر صدیق نے کہا کہ سرکار کو اس خوف میں نہیں رہنا چاہئے کہ بلوچستان میں گورنر راج لاگو ہونے کے بعد ہم اپنے دشمن شیعہ ہزارا کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ اس کے ترجمان نے دعوی کیا کہ ان کی تنظیم کے پاس دھماکو سامان سے لدی20 سے زیادہ گاڑیاں ہیں جو دشمن کو نشانہ بنانے کے لئے تیار ہیں۔ اس نے کہا کوئٹہ میں شیعہ اکثریتی علاقے میں اپنے نشانوں کے لئے دہشت گرد تنظیم صرف لیڈرشپ کا حکم ملنے کا انتظار کررہی ہے۔ اس نے کہا کہ ہم صدر راج یا پاکستانی فوج سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ہم شیعہ ہزارا فرقے کے لوگوں کو ان کے گھروں میں ہیں قتل کرتے رہیں گے۔
پاکستان میں کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرنے کی مانگ اٹھنے لگی ہے۔ چوتھے دن پاکستان کے وزیر اعظم وہاں پہنچے اور ریاستی سرکار کو برخاست کردیاگیا اور گورنر راج لگادیا گیا ۔ جو کچھ ہورہا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ انسانیت کے لئے اس میں بہت خطرہ ہے۔ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ 21 ویں صدی میں پاکستان کس طرف بڑھ رہا ہے؟ سماج بٹ رہا ہے، بم دھماکے تو پاکستان میں عام بات ہوچکے ہیں۔ ہزارا برادری نے نہ جانے کتنے شہیدوں کو دفنا چکی ہے۔ان کا آخر قصور کیا ہے؟ لشکر جھنگوی پر حالانکہ پابندی لگی ہوئی ہے پھر بھی وہ سوچی سمجھی حکمت عملی سے اپنی کارروائی کرنے سے باز نہیں آرہے۔ پاکستان کی زرداری حکومت کے لئے شیعوں پر یہ حملے ایک زبردست چیلنج بنتے جارہے ہیں۔
(انل نریندر)

مقدمات کی بڑھتی تعداد کے بوجھ تلے دبدتی عدالتیں

تاریخ پر تاریخ پڑتی رہتی ہے۔ زندگی گذرتی رہتی ہے، موت بھی آجاتی ہے مگر نہیں آئی ہے فیصلے کی تاریخ۔ کچھ ایسا ہی حال ہمارے عدلیہ نظام کا ہوگیا ہے اور اس بات کی فکر ہماری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر التمش کبیر کو بھی ہے۔ چیف جسٹس کبیر صاحب نے دیش کی سبھی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر نچلی عدالتوں میں ججوں کی تعداد کو جلد سے جلد دوگنا بڑھانے کے لئے کہا ہے۔ ججوں کا ضرورت کے مطابق نہ ہونا، مقدموں کا سالوں لٹکے رہنے کی بڑی وجہ ہے۔جج موصوف کا کہنا ہے دیری سے انصاف یا انصاف سے محروم سماج کے لئے ایک لعنت ہے۔ جسٹس کبیر اس بارے میں وزیر اعظم کو بھی خط لکھ چکے ہیں۔ دہلی گینگ ریپ جیسی گھناونی واردات کے بعد عدلیہ نے اپنی طرف سے کارگر قدم اٹھائے ہیں۔ عورتوں کے خلاف جرائم کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی ہیں لیکن وہ خصوصی عدالتی ججوں کی موجودہ کام کی صلاحیت سے ہی قائم کی گئی ہیں۔ اس سے شاید ہی کوئی مستقل حل نکلے۔ دیش کی عدالتوں میں اس وقت 3 کروڑ سے زیادہ مقدمے زیر التوا ہیں۔ ججوں کے موجودہ منظور عہدے صرف18871 ہیں۔ ان میں سے ماتحت عدالتوں میں ججوں کی تعداد 17945 ہے ۔ جسٹس کبیر نے مطالبہ کیا ہے اس تعداد کو دوگنا کردیا جائے۔ نچلی عدالتوں میں ججوں کی تعداد36 ہزار کردی جائے۔ ججوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ عدالتی اسٹاف اور عمارتیں اور بنیادی سہولیات میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوناچاہئے۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے 10 سال بعد بھی آبادی تناسب 13 سے بڑھ کر صرف15.47 فیصد ہوا ہے۔ دیش کی آبادی 1 ارب 22 کروڑ ہوگئی ہے پھر بھی ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے کارگر قدم نہیں اٹھائے گئے۔ اگر ہم راجدھانی دہلی کی بات کریں تو راجدھانی کی مختلف عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ اس قدر حاوی ہے کہ انصاف کی رفتار دھیمی ہوتی جارہی ہے۔ 
ضلع عدالتوں میں زیر التوا معاملوں کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ راجدھانی میں یہ 6 لاکھ72 ہزار سے زیادہ مقدمے زیر التوا ہیں۔ ایسے میں ان سبھی مقدموں کا جلد نپٹارہ کرنا پہاڑ کو ہلانے جیسے چیلنج کا سامنا کرنے سے کم نہیں ہے۔ سال1982ء کے ریل منتری ایل این مکشا قتل کانڈکو30 سال گذر چکے ہیں اسکے باوجود کڑکڑ ڈوما عدالت میں ابھی بھی اس مقدمے کی سماعت جاری ہے۔ ابھی تک ملزمان پر چارج شیٹ تک نہیں ہوئی ہے۔ بہت سے ملزم مر چکے ہیں اور کئی گواہ بھی دنیا چھوڑ چکے ہیں۔ ایک معاملہ 30 سال پرانا جوا کھیلنے کا ہے جس میں ایک 85 سالہ بزرگ نے عدالت میں محض اس لئے اپنا جرم قبول کرلیا کیونکہ وہ برسوں سے چلی آرہی قانونی لڑائی سے تنگ آچکا تھا۔ راجدھانی کی مختلف عدالتوں میں اکتوبر 2012ء تک لٹکے معاملوں کی تعداد کم چونکانے والی نہیں ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں 17501 ایڈیشنل ضلع عدالت میں 77703 میٹرو پولیٹن عدالت میں309237، ٹریفک کورٹ77269، سول عدالت 63389، ایوننگ کورٹ16576 ،ایڈیشنل رینٹ کنٹرولر10746، اس طرح کل معاملوں کی تعداد بنتی ہے672361۔ اب جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس التمش کبیر نے خود اس مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ امید کی جانی چاہئے حل نکالنے کی غرض سے فوری قدم ہر سطح پر اٹھائے جائیں گے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...