Translater

Modi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Modi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

30 اپریل 2024

مودی کے بیان پر بین الاقوامی میڈیا !

حکمراں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کیلئے اپنا پورا دم خم لگا رہی ہے تو وہیں انڈیا اتحاد بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے ایسے میں نیتاو¿ں کی تقریر اور ان کے دعوے اور دوسری پارٹیوں کے نیتاو¿ں کو لیکر دئیے بیان ہر روز اخبارات کی سرخیاں بن رہے ہیں لیکن پہلے مرحلے کی پولنگ کے بعد اب وزیراعظم کا دیا ایک بیان خاص طور سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ہندوستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اسے اپنے صفحات پر جگہ دی ہے۔استعمال کئے گئے کچھ خاص لفظوں کے سبب یہ تقریر چناو¿ کمیشن میںپی ایم مودی کی شکایت کا سبب بنی ہے ۔19 اپریل کو پہلے مرحلے کی پولنگ ختم ہوئی اس کے بعد 21 اپریل کو راجستھان کے بانسواڑہ میں چناو¿ ریلی میں دی گئی تقریر میں پی ایم مودی نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا اور مسلمانوں پر رائے زنی کی ۔پی ایم مودی نے اپنی تقریر میں فرقہ خاص کو درانداز اور زیادہ بچے پیدا کرنے والا جیسی باتیں کہیں اپنی تقریر میں مودی نے کہا تھا کہ جب پہلے ان کی سرکار تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ دیش کی املاک پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے اس کا مطلب یہ پراپرٹی اکھٹا کرکے اس کوبانٹیں گے جن کے زیادہ بچے ہیں ۔ان کو بانٹیں گے گھسپیٹھیوں کو بانٹیں گے کیا آپ کو یہ منظور ہے ۔حالانکہ پی ایم مودی نے منموہن سنگھ کے جس 18 سالہ پرانی تقریرکا ذکر کیا ہے اس میں منموہن سنگھ نے ایسا کچھ نہیں کا تھا سال 2006 میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ درج فہرست ذاتوں ،قبائلیوں کو نئی زندگی دینے کی ضرورت ہے انہیں نئی اسکیمیں لاکر یہ یقینی کرنا ہوگا کہ اقلیتوں کا خاص کر مسلمانون کی بھی بھلائی ہو سکے ۔وکاس کا فائدہ انہیں مل سکے ۔ان سبھی کا وسائل پر پہلا دعویٰ ہونا چاہیے ۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 22 اپریل کو اسے لیکر مودی پر چناوی ریلی میں مسلمانوں کے خلاف نفرتی تقریر کرنے کے الزام کے عنوان سے رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے ۔اس میں اس نے لکھا ہے کہ بانسواڑہ میں دی گئی تقریر کے بعد 22 اپریل کو اتر پردیش کے علی گڑھ میں مودی نے اسی طرح کا ایک اور تقریر کی ۔اس رپورٹ میں بھارت کی شہریت قانون کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔لکھا گیا ہے کہ اس قانون کی یہ کہہ کر تنقید کی گئی کہ اس میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جو دیش کے سیکولرزم کے اصولوں سے الگ ہے ۔ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ بھارت کی آبادی 1.44 ارب ہے اور مودی کی بی جے پی کی تنقید مسلمان فرقہ کو باہر سے آئے غیر ملکیوں کی شکل میں دیکھنے کے لئے ہوتی رہی ہے ۔تنقید نگار کہتے ہیں کہ مودی کے تبصرے کی بنیاد تقسیم کاری ہندو راشٹر واد ہے ۔جس کے تار حکمراں بی جے پی سے جڑتے ہیں ۔نیویارک ٹائمس نے اس پر 23 اپریل کو اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مودی نے بھارت کے مسلمانوں کو گھس پیٹھیا کیوں کہا کیوں کہ وہ ایسا کر سکتے تھے ۔نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ اپنے اقتدار کو محفوظ مان کر پی ایم مودی اقتصادی اور سفارتی سطح پر دیش کی ترقی کو لیکر ورلڈ لیڈر کے طور پر خود کو پیش کررہے تھے ایسا کرکے وہ پارٹی کی رائج تقسیم کاری رویہ سے خود کو الگ رکھے ہوئے تھے ۔اس طرح کے معاملوں میں ان کی خاموشی تھی اس درمیان کٹر پسند نظریہ والے غیر ہندو فروقوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور ان کی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ میں نسلی اور نفرتی الفاظ کا استعمال کررہے تھے ۔ایک اور اخبار الجزیرہ نے لکھا ہے کہ مقامی چناو¿ حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں مودی کی تقریر سے جڑی شکایتیں ملی ہیں جن کی وہ جانچ کررہے ہیں ۔ (انل نریندر)

13 اپریل 2012

کیا نریندر مودی پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں؟



Published On 13 March 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ملک کے اندر تو ان کی اتنی چرچا نہیں ہورہی جتنی غیر ملکوں میں۔ امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار سیمون ڈینار نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی 2014ء کے عام انتخابات کے بعد پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط دعویدار ہوں گے۔ بھارت میں کافی لوگ انہیں رول ماڈل کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں وہ ملک کے سب سے اہل نیتا ہیں۔ حالانکہ ایک بڑا طبقہ آج بھی انہیں مسلمانوں کے مجموعی قتل عام کے لئے معاف نہیں کرپایا ہے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ نریندر مودی کو بھارت کی سیاست میں قدآور نیتا مانا جاسکتا ہے۔ مودی کی رہنمائی میں گجرات جیسے راجیہ کو اقتصادیات کی نئی اونچائیوں کو چھوا ہے۔ لیکن وزیراعلی کی ہندو راشٹریہ وادی ساکھ سے کافی لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی رہنمائی میں کٹر مذہبی طاقتوں کو فروغ ملے گا۔ جمہوریت کی پرانی سیکولر ساکھ کو دھکا لگ سکتا ہے۔ نریندر مودی کو راجیہ میں بھرشٹاچار ختم کرنے کے ساتھ اقتصادی اور انڈسٹری ڈولپمنٹ کو نئی رفتار دینے کا سہرہ جاتا ہے۔تیزی سے آگے بڑھتی گجرات کی اقتصادی حالت میں نہ صرف ملکی کمپنیاں بلکہ بڑی تعداد میں غیر ملکی کمپنیوں نے بھی گجرات میں سرمایہ کاری کی ہے۔ مودی کے تنقید کار بھی انہیں شخصی طور پر بھرشٹ نہیں مانتے۔سال 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بعد بھاجپا کی طرف سے وزیر اعظم کے سب سے مضبوط دعویدار ہوسکتے ہیں نریندر مودی۔
شری نریندر مودی کی اس طرح کی پروجیکشن سے جہاں مسلم برادری پریشان ہے وہیں ان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ بھی خوش نہیں ہیں۔غیر مقیم ہندوستانیوں کے درمیان مودی کو مل رہے وسیع سمرتھن کے چلتے سنگھ پریوار کے اندر بھی تبصرے چل رہے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ سنگھ کی غیر مقیم ہندوستانیوں میں گہری پیٹ ہے۔ امریکہ، چین اور جاپان کا انڈسٹری حلقہ مودی کے ساتھ معیشت تعلقات کو بہتر بنانے میں لگا ہے۔ حالانکہ بھاجپا اور سنگھ کا ایک بڑا طبقہ مودی کو کنارے لگانے میں لگا ہے تاکہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں مودی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار کی شکل میں طاقتور ہوکر نہ ابھرپائیں۔ اس لئے تنظیمی سطح پرمودی کی چھوی کھلنائک والی بنانے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔ اور کچھ حد تک مودی خود ایسی چھوی بنانے کے لئے بارود دے رہے ہیں۔مثال کے طور پر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں پرچار نہ کرنا اور دہلی میں ہوئی قومی عہدیداروں کی میٹنگ میں نہ آنا مودی کی تنظیم مخالف سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ بہت سے بھاجپائیوں کا کہنا ہے کہ مودی اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ مودی کے دماغ میں اب غرور آگیا ہے۔ دنیا کے سو اثر دار طاقتور کے لئے کرائے جارہے ٹائمس رسالے کے سروے میں مودی نے اوبامہ اور ولادیمیر پوتن کو پچھاڑ دیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار یعنی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار ہوسکتے ہیں لیکن دیش ودیش میں ہورہے سروے میں مقبولیت کے حساب سے نتیش کمار نریندر مودی سے پیچھے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Modi, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, RSS, Vir Arjun

25 مارچ 2012

ضمنی چناؤ نتائج کانگریس اور بھاجپا کیلئے تشویش پیدا کرتے ہیں



Published On 25 March 2012
انل نریندر
تازہ ضمنی چناؤ نتائج اگر کانگریس کے لئے تشویش کا باعث ہیں تو آندھرا پردیش کی 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کا صفایا ہونے کی خبر تو پارٹی کے لئے اچھااشارہ نہیں ہے۔ یہ ضمنی چناؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بھی اچھے اشارے نہیں دے رہے ہیں۔ گجرات کو بھاجپا اپنا گڑھ مانتی ہے اور کرناٹک میں بھی وہ قریب چار سال سے اقتدار میں ہے لیکن ان ریاستوں میں اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس اور بھاجپا ہی خاص حریف ہیں۔ اس لئے بھی یہ ہار بھاجپا کیلئے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کرناٹک کی اڈوپی ۔چکمگلور سیٹ وزیر اعلی سدانند گوڑا کی تھی، وزیر اعلی چنے جانے کے بعد انہوں نے ہی اس سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ظاہر ہے اس سیٹ کو برقراررکھنا بھاجپا کے لئے وقار کا سوال تھا۔ مگر یہاں اسے کانگریس کے ہاتھوں 45 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے مات کھانی پڑی۔ صاف ہے کہ اقتدار کے خاطر پارٹی کے اندر جاری جوڑ توڑ اور رسہ کشی اور کرپشن کے الزامات اور اسمبلی میں فحاشی ویڈیو دیکھے جانے کے واقعہ سے ساکھ خراب ہوئی اس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑا ہے۔ ڈسپلن کا دم بھرنے والی بھاجپا کے لئے آج ڈسپلن شکنی ہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
گجرات میں منسا اسمبلی سیٹ بھاجپا کے ہاتھ سے نکل کر کانگریس کی جھولی میں آنا وزیر اعلی نریندر مودی کے لئے بھی جھٹکا ہے۔ غورطلب یہ بھی ہے کہ منسا اسمبلی سیٹ گاندھی نگر لوک سبھا حلقے میں آتی ہے۔ جس کی نمائندگی لال کرشن اڈوانی کرتے ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ نہیں جب بھاجپا کے اس گڑھ میں سیند لگانے میں کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں میونسپل انتخابات میں بھی بھاجپا کی درگتی ہوئی تھی اس سال کے آخر میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لئے منسا کی ہار جہاں نریندر مودی کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے وہیں کانگریس ضرور اس سے خوش ہوگی۔ آندھرا پردیش کانگریس کے لئے سب سے بڑا گڑھ رہا ہے۔ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس یہاں 95 فیصدی سیٹیں جیت کر سیاست کے پنڈتوں کو چکمہ دے گئی تھی لیکن اس کے کرشمائی لیڈر سورگیہ راج شیکھر ریڈی سے اچانک موت اور ان کے صاحبزادے جگنموہن ریڈی کے کانگریس سے الگ ہونے کے بعد اس کا اثر شروع ہوگیا۔ اس کے بعد ریاست میں 17 اسمبلی اور 2 لوک سبھا سیٹوں پرضمنی چناؤ ہوچکا ہے، جس میں حکمراں کانگریس کا پوری طرح صفایا ہوگیا ہے۔ جہاں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی وہیں بھاجپا جیسی پارٹی جس کا صوبے میں زیادہ اثر نہیں ہے ، وہ بھی تین سیٹیں جیت چکی ہے۔ مرکزی سرکار میں بڑے گھوٹالوں کے انکشاف کے بعد کانگریس کو مہاراشٹر، راجستھان اور دہلی میں ہوئے ضمنی چناؤ میں بھی زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں اس کی حکومتیں ہیں یہاں بھی ممبئی میونسپل چناؤ میں بھی اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ یعنی ہر اس جگہ سے کانگریس کو بری خبر مل رہی ہے جہاں اس کے پاس اچھی طاقت ہے۔ کیرل میں ہوئے ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ساتھی پارٹی کانگریس(جیکب) نے اپنی سیٹ برقرار رکھی ہے۔ یہ نتیجہ کانگریس کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ریاست میں اس کی قیادت والی یوپی اے سرکار معمولی اکثریت پر ٹکی ہے۔ تملناڈو اور اڑیسہ میں بھی ایک ایک اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ حکمراں پارٹی کے حق میں گئے ہیں۔ ویسے ضمنی چناؤ نتائج کو ہر حال میں عوامی رجحان کا اشارہ تو نہیں مانا جاسکتا لیکن کئی ریاستوں سے وہاں کے ووٹروں کے مزاج کا ضرور اشارہ ملتا ہے اور یہ اشارے نہ تو کانگریس کے لئے اچھے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, By Poll, Karnataka, Andhra Pradesh, Gujarat, Modi, BJP, Congress,

19 جون 2011

کیا اتنے مناسب ماحول کا بھاجپا فائدہ اٹھا پائے گی؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے لئے نہ تو یوپی اے حکومت سے بہتر اور کوئی حکمراں سرکار ہوسکتی تھی اور نہ ہی اتنی خراب ہے سیاسی ماحول جتنا منموہن سنگھ سرکار نے کردیا ہے۔ کوئی بھی اپوزیشن پارٹی ایسے سیاسی ماحول کا انتظار کرتی رہتی ہے جب اتنی متنازعہ مرکزی حکومت ہو جتنی یہ حکومت ہے اس حکومت نے دیش کو کیا نہیں دیا ؟ بڑھتی مہنگائی بڑھتی قیمتیں ایک کے بعدایک گھوٹالہ اور دہشت گردی جیسے برننگ اشو پر ٹال مٹول کی پالیسی، نکسلیوں سے لڑنے کا قوت ارادی، تاناشاہی رویہ وغیرہ وغیرہ۔ کہنا کامطلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی وہ بڑی پارٹی ہے وہ اس سے بہتر سیاسی ماحول کی امید نہیں کرسکتی تھی۔ حود بھاجپا نیتا ارون جیٹیلی فرماتے کہ کانگریس لیڈر شپ والی مرکزی حکومت کو سیاست داں نہیں بلکہ افسر شاہی چلارہی ہے۔ آزادی کے بعد سے اتنی بدعنوان، نکمی اور کٹر حکومت جنتا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ سرکار اپنے پانچ سال پورے نہیں کرپائے گی کیونکہ اب جنتا کانگریس سرکار کو پھوٹی آنکھ میں نہیں بھارہی ہے۔ یہ سخت تذکرہ اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے پردیش بھاجپا کی جانب سے منعقدہ سنگھرش کے ایک سال پروگرام میں حال ہی میں کیا تھا۔ جیٹیلی نے کہا کہ بھاجپا کو تحریک چلانے کا شوق نہیں ہے لیکن منموہن سنگھ سرکار ایک کے بعدایک سنگین غلطیاں کررہی ہے کہ بھاجپا کو سڑک پر اترنے کے علاوہ کوئی راستہ اس کے پاس نہیں تھا۔ دیش کو ایسا وزیراعظم چلارہاہے جو ایک کٹ پتلی ہے ۔ پردہ کے پیچھے اقتدار کی بھاگ دوڑ دوسرے کے ہاتھوں میں ہے ۔تاریخ میں ایسا کئی دیکھنے کو نہیں ملتا جہاں سورہے ہزاروں نہٹے لوگوں پر رات کی تنہائی میں پولیس ٹوٹ پڑتی ہے بچوں اورعورتوں پر لاٹھیاں برسائے جائے۔ آنسو گیس کے گولے چھوڑے جائے۔ ارون جیٹیلی نے اس سرکار کوہیٹ لیس چکن کہاہے کہ اس کا مطلب ہے کہ اس سرکار کا کوئی سر پیر نہیں ہے کوئی وارث نہیں ہے۔
اب منموہن سنگھ سرکار کی جو رپورٹ جیٹیلی صاحب نے پیش کی ہے وہ بہت بڑی حد تک صحیح لگتی ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب منموہن سنگھ سرکار کی بری حالت بن گئی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ بڑی اپوزیشن پارٹی کے ناتے بھاجپااٹھاپارہی ہے۔؟ ہم نے دیکھا بھاجپااپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کاکردار صحیح طریقہ سے نہیں نبھا پائی۔ میں یوپی اے 1- ایک کی بات کررہا ہو۔ جب بھاجپا نہیں لیفٹ پارٹیاں بڑی اپوزیشن کا کردار بہتر طریقہ سے نبھا رہی تھی۔ یوپی اے 2میں کامریٹ موجود نہیں ہے سارا اپوزیشن کادارو مدار بھاجپا پر ہوتا ہے لیکن ایمانداری سے بھاجپانیتاؤں کو سوال کرناہوگا کہ وہ کیوں نہیں حالات کافائدہ اٹھاپارہے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ اتنا مناسب ماحول ہونے کے بعد بھی جنتا میں وہ اتنا بھروسہ پیدا نہیں کرپائی کہ جنتا انہیں مرکز میں دوبارہ سے اقتدار سونپنے کی ہمت دکھائے۔؟ اس میں کوئی شک نہیں ریاستوں میں بھاجپا کی سرکاریں اچھاکام کررہی ہے ان کی ساکھ بھی اچھی ہے اور جنتا سے کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ مرکز میں اچھااقتدار دیے سکتے ہیں۔ ایک بار ہمیں موقعہ ضرور دے ۔ ریاستوں میں اگر بھاجپا سرکاریں اچھاکام کررہی ہے تواس کی بنیادی وجہ ہے ہرریاست میں ایک مضبوط وزیراعلی ہے اور اسی وزیراعلی کے رہتے اس کی وجہ سے ریاست میں اچھی حکومت چل رہی ہے۔ گجرات میں نریندر مودی، مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان، اتراکھنڈ میں رمیش چند پوگھیریال اور ہماچل میں پریم کمار بھومل وغیرہ ان کی شخصیت اور ساکھ اور کارگزاری اوران کے اقتدار کی اہم خوبیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے مرکزی لیڈر شپ ہے۔ مرکز میں تو بھاجپا لیڈر شپ نہ کے برابر ہے۔ دکھ سے کہن اپڑتا ہے کہ یہ دوسری صف کے نوجوان لیڈر آپس میں ہی ایک دوسرے کی کاٹ کرنے سے باز نہیں آتے ان کی نظرو ں میں پارٹی کی کوئی اہمیت ہے اورنہ ہی اس بات کی پرواہ وکر کیا سوچتا ہے۔ جنتا کی بات تو چھوڑوں۔ ان کے اپنے اپنے نجی ایجنڈے پارٹی ایجنڈے سے بالاتر ہے نجی خواہشات ہے اور جو ان کے آڑے آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ اتنااچھا ماحول ہونے کے باوجود جنتا میں بھروسہ نہیں کرپارہی ہے جو انہیں کرناچاہئے۔ اٹل جی اور اڈوانی کی رہنمائی میں بھاجپانے جو سنہرے دور دیکھا ان کے رہتے پارٹی ہوا کرتی تھی۔ اور ان کی اپنی ساکھ تھی ورکروں سے وہ جڑے ہوئے تھے جنتا کی نبض کو سمجھتے تھے لیکن آج کی لیڈر شپ اپنے ایئرکنڈیشنوں کے کمرے میں ہی بیٹھ کر اپنے ہی گن گان کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ لیکن سچائی بھی یہ ہے کہ آج بھارت کی عوام کو سبھی سیاسی پارٹیوں سے نیتاؤں سے بھروسہ اٹھ گیا ہے ان کی نظر میں سبھی برابر ہے یعنی ایک حمام میں سبھی ننگے ہے۔ وہ بھاجپاسے جاننا چاہتے ہیں۔ جو مسائل آج دیش کے سامنے ہے منہ پھاڑ رہے ان سے کیسے نبٹا جائے ۔ وہ جنتا چاہتی ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ کون کونسے ایسے قدم اٹھائے گی۔ جن سے گھوٹالہ رکے۔ قیمتوں پر قابو ہو۔مہنگائی گھٹے۔ بے روزگاری گھٹے، قانون نظم سدھرے، بجلی پانی جیسے پیچیدہ مسائل جیسے حل ہو کیا جنتا ان پر زیادہ بھروسہ کرے۔ ؟یہ ہے کچھ سوال جن کا میری رائے میں بھاجپا لیڈر شپ کوجواب دینا ہوگا۔جنتا کوبتاناہوگا۔ ہمیں اقتدار میں لائے تو ان مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ لیکن اس کے لئے سب سے پہلے بھاجپا کو اپناگھر ٹھیک کرنا ہوگا۔ اسے صحیح لیڈر شپ طے کرنی ہوگی۔ اپنی ترجیحات بتانی ہوگی۔ اب تو بھاجپا یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آر ایس ایس ان کے کام کاج میں دخل اندازی کرتی ہے۔ جب سے آر ایس ایس کی بالا دستی موہن بھاگوت کے ہاتھ میں آئی ہے سیاست کے کچھ حد تک وہ الگ ہوگئی ہے اب سنگ روز مرے کے معاملے میں دخل نہیں دیتا ہوسکتاہے کہ بھاجپاکے کچھ لیڈروں کے میرے نظریات کچھ اچھے نہ لگیں۔ لیکن انہیں سمجھناچاہئے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ ایک طرح سے جنتا کی آواز ہے اور آج بہت سے لوگ یہ ہی چاہتے ہیں کہ بھاجپا اپناگھر ٹھیک کریں۔ تاکہ جلد سے جلد آنے والے موقعہ کاپورا فائدہ اٹھاسکے.
Tags:  Anil Narendra, Arun Jaitli, Congress, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Modi, RSS, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...