Translater
08 فروری 2025
غزہ پر امریکہ قبضہ کرے گا؟
ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ امریکی جنتا نے کیا سوچ کر اس خرافاتی شخص جس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے کو کیا سوچ سمجھ کر دیش کا صدر بنایا ؟ یہ تو پرانی دنیا کا نقشہ ہی بدلنے کے چکر میں ہے ۔آئے دن ان کے ایسے بیان آرہے ہیں جس سے پوری دنیا میں پریشانی کھڑی ہو گئی ہے کہ یہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔اب تازہ خبر آئی ہے شریمان جی کہہ رہے ہیں غزہ پٹی پر امریکہ قبضہ کرے گا اور یہاں پر ریزورٹ سٹی بنائی جائے گی ۔یہ مغربی ایشیاکے لئے روزگاراور ٹورازم کا مرکز بنے گا ۔ٹرمپ نے کہا بدحال غزہ اب ایک شورش یافتہ جگہ ہے جہاں کوئی نہیں جانا چاہتا ہے غزہ بارودی سرنگوں اور آتنکیوں کی غاروں سے پٹا پڑا ہے ۔پورے غزہ کو برابر کرکے وہاں انفراسٹرکچر ڈولپ کیا جائے گا ۔واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں رہنے والے 23 لاکھ لوگوں کو مصر اور یردن جیسے ملکوں میں بسایا جائے گا ۔مغربی شام کا مسئلہ کو سلجھانے کے بارے میں امریکہ نے اب طویل المدتی پلان پر کام کرنا شروع کر دیا ہے ۔یہ پلان دنیا بھر کے لئے فائدہ مند ثابت ہونے والا ہے اس کے نتیجے جلد ہی سامنے آئیں گے ۔نتن یاہو نے کہایہ تاریخی ہونے والا ہے ۔ٹرمپ نے کہا ہم وہاں موجود خطرناک بموں اوردیگر ہتھیاروں کو ناکارہ کریں گے ۔تباہ ہو چکی عمارتوں کے ملبہ کو ہٹانا ہماری ذمہ داری ہوگی ۔ٹرمپ بولے فلسطینیوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ غزہ واپس جانا چاہتے ہیں لیکن وہاں ہر عمارت ڈھہہ چکی ہے ۔ٹرمپ کے بیان پر حماس کے ترجمان نے کہا کہ ہم ٹرمپ کے ان بیانوں کو مسترد کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ غزہ پٹی کے باشندوں کے پاس وہاں سے چلے جانے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے ۔سعودی عرب کے وزارت خارجہ نے کہا کہ آزاد فلسطین ملک کا سعودی عرب لمبے عرصہ سے اپیل کرتا آرہا ہے ۔اس کا یہ رخ ایک اٹوٹ ہے وہیں ایک امریکی سینیٹر کنس نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان خطرناک ہے اس سے دنیا میں ہمارے بارے میں سوچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ ہم غیر بھروسہ مند ساتھی ہیں ۔بھارت میں کانگریس پارٹی نے بدھوار کو کہا کہ غزہ کو لے کر امریکی صدر کی تجویز ناقابل قبول ہے ۔اور سرکار کو اس معاملے میں پوزیشن صاف کرنی چاہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایکس پر کہا ہے کہ ٹرمپ کے پلان کا اب تک کئی ممالک میں مخالفت شروع ہو چکی ہے ۔ان میں غزہ پر حکمرانی کرنے والے حماس نے تو اسے جاتیہ قتل عام قرار دیا ہے ۔خطرہ یہ بھی ہے کہ غزہ میں امریکی فوج اتار سکتا ہے۔ٹرمپ یا اسے لیز پر لے سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)
ہمیں ہتھکڑیاں ،پیروں میں بیڑیاں پہنائی گئیں!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر مجاز تارکین وطن کو بھگانے کی سب سے بڑی کاروائی شروع کر دی ہے ۔امریکہ میں ان پرواسی ہندوستانیوں کے پہلے گروپ کو ڈپوٹ کر دیا گیا ہے۔ہندوستانی وقت کے مطابق منگل کی صبح اندھیرے امریکی فوجی جہاز سی 17- گلوب ماسٹر انہیں لے کر انٹونیا سے روانہ ہونے کے بعد تقریباً40 گھنٹے کی اڑان کے بعد امرتسر ہوائی اڈے پر اترا ۔سخت پہرے میں 104 ہندوستانیوں کو یہ امریکی جہاز میں اترتے جتنا انہیں سرمشار کرنے والا تھا اتنا ہی دردناک اور امریکی زیادتی کو بیان کرنے والا تھا۔حالانکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب غیر مجاز تارکین وطن واپس بھیجے گئے ہوں لیکن اس بار کئی ایسی باتیں ہیں جو اسے ماضی کے ایسے واقعات سے الگ کرتی ہیں ۔غیر مجاز تارکین وطن کی مناسب طریقوں سے پہنچا ن کر انہیں ان کے دیشوں میں واپس بھیجا جانا ایک عملی خانہ پوری ہے ۔بھارت کا اس معاملے میں شروع سے ہی تعاون آمیز رویہ رہا ہے ۔لیکن سوال واپسی کے طریقے کا ہے امریکی جہاز سے بدھوار کو لائے گئے 104 ہندوستانیوں میں شامل ایک شخص جسپال سنگھ نے دعویٰ کیا پورے سفر انہیں اپنے معزول تارکین وطن کو ہتھکڑی اور پیروں میں بیڑیاں باندھی گئیں اور امرتسر ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد ہی انہیں ہٹایاگیا ۔غیر مجاز تارکین وطن کے خلاف کاروائی کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ سرکار کے تحت بھیجا گیا ان ہندوستانیوں کا پہلا جتھا ہے ۔معزول لوگوں میں 19 خواتین 13 نابالغ لڑکے لڑکیاں شامل ہیں جن میں ایک چار سالہ بچی پانچ و سات سال کی دو لڑکیاں بھی شامل ہیں ۔اس 36 سے چالیس گھنٹے کی پرواز میں تارکین وطن کو نا تو کھانے کو دیا گیا اور نا ہی ٹوائلٹ کا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم تھا ۔سوال اٹھتا ہے کہ یہ تارکین وطن کوئی آتنکوادی ہیں یا کوئی کرمنل ؟ اتنا غیر انسانی برتاو¿ کیسے کیا جاسکتا ہے ۔ہم سے تو چھوٹا سا دیش کولمبیا بہتر ہے جہاں مشکل سے چار پانچ کروڑ لوگووں کی آبادی ہے نے امریکی فوجی جہاز جس میں کولمبیا کے تارکین واپس بھیجے گئے تھے کو اپنے ہوائی اڈے پر اتارنے کی اجازت نہیں دی ۔انہوں نے اپنے دو جہاز امریکہ بھیجے اور اپنے شہریوں کو پوری عزت کے ساتھ واپس لایا ۔ہوائی اڈے پر خود کولمبیا کے صدر موجود تھے ۔اپنے شہریوں کا استقبال کرنے کے لئے امریکی صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کی ایجنسیوں نے غیر مجاز ہندوستانیوں کے خلاف جو کاروائی چلائی ہوئی ہے اسے سخت کہنے والے بھی ہیں لیکن ٹرمپ کا یہی طریقہ ہے ۔البتہ بھارت کے نظریہ سے یہ ضرور ایک سنگین اشو ہے ۔ناجائز طور سے بیرون ملک جانے کے لئے لوگ اکثر لاکھوں روپے خرچ کر ڈنکی روٹ یا دوسرے خطرناک راستوں کا استعمال کرتے ہیں جو نا صرف ان کی زندگی کے لئے خطرہ بھرا ہے ۔بلکہ انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کو بھی بڑھاوا دیتا ہے ۔اور ان ناگزیں حالات پر بھی سوال اٹھنے چاہیے جن سے بچنے کے لئے دیش کے نوجوان اتنا خطرہ اٹھانے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔جو اب واپس آرہے ہیں ان کے سہارے ان ان مافیاو¿ں تک پکڑ بنائی جاسکتی ہے جو لوگوں کو ناجائز طریقہ سے دوسرے ملکوں میں بھیجنے میں کام کے لئے ملوث ہیں ۔اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ناجائز انٹری یا دراندازی کسی دیش کی قسمت نہیں ہوسکتی ۔بھارت خود اس کا سب سے بڑا شکار ہے لاکھوں بنگلہ دیشی تارکین وطن کے ساتھ ساتھ ہزاروں روہنگیاں یہاں برسوں سے رہ رہے ہیں بھارت سرکار اور ناجائز تارکین وطن کو واپس لانے کی فارمولہ تیار کرنا چاہیے ۔اور امریکہ کے اس ظلم بھری حرکت پر اعتراض جتانا چاہیے ۔
(انل نریندر)
06 فروری 2025
ایودھیا میں دلت لڑکی بے رحمانہ قتل!
اترپردیش کے ایودھیا ضلع میں 22 سالہ دلت لڑکی کی لاش ملنے کے بعد اس کے گھر والوں نے پولس پر توجہ نہ دینے کا الزام لگایا ہے اور گمشدگی کی رپورٹ کے باوجود پولس حکام نے سرگرمی دکھاتے ہوئے اس کی تلاش نہیں کی ۔متاثرہ جمعرات کی رات سے ہی لا پتہ تھی جب وہ مبینہ طور پر بھاگوت کتھا میں شامل ہونے گئی تھی اس کے بعد گھر نہیں لوٹی تو اس کے گھرو الوں نے اس کی تلاش شروع کی پولس کے مطابق سنیچر کی صبح اس کے بہنوئی نے اس کی لاش ان کے گاﺅں سے صرف 500 کلو میٹر ایک چھوٹی سی نہر میں پڑی پائی گھر والوں کے افراد کا دعویٰ ہے کے لڑکی کے ہاتھ اور پیر دو رسیوں سے بندھے ہوئے تھے اور جسم پر زخم کے نشان تھے اور پیر ٹوٹا ہوا تھا لڑکی کی آکھیں نکال دی گئی تھی اس کی ہڈیا توڑ دی گئی تھی گھر والوں نے عصمت دری اور قتل کا الزام لگایا اس کے بعد پولس نے گاﺅں کے دو لوگوں کو حراست میں لیا اور پوچھ تاچھ جاری ہے جب معاملہ اخباروں میں آیا تو لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے ایک پوسٹ میں کہا کے انظامیہ نے تین دن سے زیادہ لاپتہ لڑکی کی گمشدگی کا پتہ لگانے کےلئے مدد مانگی ۔پولس اگر توجہ دیتی تو شائد اس کی جان بچ جاتی۔وہیں پرینکا گاندھی نے بھاجپا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا قصوروار مبینہ ذمہ دار پولس والوں پر سخت کارروائی کی جائے جنہوںنے اس لڑکی کی گمشدگی پر توجہ نہیں دی ۔بسپا چیف مایا وتی نے کہا یہ بہت سنگین معاملہ ہے سرکار کو سکٹ قدم اٹھانے چاہئے تاکی ایسی واردات دوبارہ نا ہو ۔فیض آباد کے سپا ایم پی اودھیش پرساد نے متاثرہ خاندان سے ملنے کے بعد کہا کے میں اسے بچانے میں ناکام رہا مجھے دہلی جانے دیجئے اور معاملہ پی ایم مودی کے سامنے اٹھاﺅنگا اگر ہمیں انصاف نہیں ملتا تو میں استعفیٰ دے دونگا ۔وہیں یوگی نے ایودھیا کے ملکی پور میں سپا ریلی میں اٹھائے گئے اشو پر 5 فروری کو ضمنی چناﺅ ہیں ۔ایودھیا میں ایک بیٹی کے ساتھ ایسی واردات ہوئی ایم پی اس مثلے پر ڈرامہ کر رہے ہیں اور قانون اپنا کام کرے گا۔لیکن میری بات پر غور کریں جب جانچ آگے بڑھے گی تو سپا کے کسی جرائم پیشہ کی شمولیت ضرور سامنے آئی گی یہ دوخ کی بات ہے کے اس بے رحمانہ واردات پر سیاست ہو رہی ہے ۔یوپی سرکار انتظامیہ کو چاہئے کی معاملے کی بلا تاخیر جانچ کرائے اور قصوروار کو سخت سے سخت سزا دلوائے تاکے دوبارہ ایسی نیت رکھنے والوں کو بھی سبق ملے ہم اس لڑکی کو اپنی شردھانچلی دیتے ہیں او ر ان کے پریوار کو بھگوان اتنے بڑے صدمہ سہنے کی ہمت دے ۔
(انل نریندر)
جانےں ناگا سادھوﺅ سے وابستہ معمہ!
مہاکنبھ 2025 کا آغاز ہوئے کئی دن گزر گئے ہیں اس میلے کا سبھی شردھالوﺅں اور سنیاسیوں کو بے صبری سے انظار تھا ۔مہاکمبھ میں ایک خاص کشش ناگا سادھوﺅ کی رہی ۔12 سالوں میں لگنے والا مہاکمبھ ہندو دھرم میں بہت اہمےت رکھتا ہے ۔ملک و بیرونی ملک سے کروڑوں لوگ مہاکمبھ میں شرکت کے لئے آتے ہیں ۔اس مہاکمبھ کی شاندار شروعات پریاگ سے پوہ پرنیما سے ہوئی وہیں اس کا اختتام مہاشیوراتری کے دن یعنی 26 فروری 2025 کو ہوگا ۔اس دوران کروڑوں بھگتوں نے گنگا میں ڈبکی لگائی ۔اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔حالانکہ مہا کمبھ میں سبھی سادھو سنتوں کے علاوہ عام لوگ بھی شامل ہوتے ہیں لیکن ناگا سادھو ہمیشہ سے ہی کمبھ میلے میں کشش کا مرکز رہے ہیں ۔مہاکمبھ میں کئے جانے والے امرت اسنان یعنی شاہی اسنان میں سب سے پہلے ادھیکار سادھوﺅ کو دیا گیا ہے ان کے اسنان کرنے کے بعد ہی دوسرے سنت اسنان کرتے ہیں ۔عام طور پر سادھو سنت لال پیلا یا کیسریا رنگ کے کپڑوں میں نظر آتے ہیں لیکن ناگا سادھو کبھی کپڑے نہیں پہنتے ہیں ناگا سادھو کڑاکے کی ٹھنڈ میں بھی ہمیشہ ننگے رہتے ہیں ۔ناگا سادھو اپنے جسم پر دھونی یا بھسم لپیٹ کر رہتے ہیں۔ناگا کا مطلب ہوتا ہے ،ننگا ناگا سادھو تا عمر ننگے ہی رہتے ہیں وہ خود کو بھگوان کا دوت مانتے ہیں ناگا سادھو وہ ہوتے ہیں جو تہذیبی زندگی چھوڑ کر بھگوان شیو کی بھکتی میں لگ جاتے ہیں ۔ناگا سادھو مکمل طور سے بھرمن چاریہ کی تعمیل کرتے ہیں اور دنیا کی ایشو آرام سے دور رہتے ہیں شیو جی کی بھگتی میں ہی لگے رہتے ہیں ۔ناگا سادھوﺅ کا خیال ہے کے ایک شخص ننگا دنیا میں آتا ہے اور یہ حالت قدرتی ہے اس لئے سادھو زندگی میں کبھی کپڑے نہیں پہنتے اور ننگے رہتے ہیں بتا دیں کی کسی شخص کو ناگا سادھو بننے میں 12 سال کا وقت لگتا ہے ناگا پنچم میں شامل ہونے کے لئے ناگا سادھو کے بارے میں اہم ترین جانکاری ہونا بہت ضروری مانا جا تا ہے ۔کمبھ میں آخری عہد لینے کے بعد لنگوٹ کھول لیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہمیشہ ننگے رہتے ہیں ۔ناگا سادھو دن میں صرف ایک بار ہی بھوجن کرتے ہیں اور وہ بھی بھیک مانگ کر کرتے ہیں ناگا سادھو کو دن میں 7 گھنٹوں میں بھکشا مانگنے کی اجازت ہے اگر انہیں کسی دن ان 7 گھنٹو ں سے بھکشا نہیں ملتی ہے تو انہیں بھوکا ہی رہنا پڑتا ہے ۔ناگا سادھو سردی سے بچنے کے لئے 3 طرح کے یوگ کرتے ہیں ۔ناگا سادھو اپنے وچاروں اپنے کھانے پینے پر بھی تحمل رکھتے ہیں سخت تپسیا میں غذا گردن کی ورزش اگنی سادھنا کی وجہ ناگا سادھوﺅ کو سردی نہیں لگتی ناگا سادھوﺅ کی کوئی خاص جگہ یا کوئی گھر بھی نہیں ہوتا یہ کبھی بھی کٹیا بناکر اپنا جیون گزارتے ہیں سونے کے لئے بھی ناگا سادھو کسی بستر کا استعمال نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ زمین پر سوتے ہیں ۔ناگا سادھو تیرتھ یاترا کے ذریعہ دئے جانے والے بھوجن ہی کھاتے ہیں ان کے لئے یومیہ کھانے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نا ہی دیگر کسی چیز کی اہمیت نہیں ہوتی ۔ناگا سادھو صرف سبزی خور ہوتے ہیں اور وہ ہر وقت بھولے ناتھ کی بھکتی میں لگے رہتے ہیں ۔ناگا سادھو 17 سنگار کرنے میں یقین کرتے ہیں جن میں چندن ردھرراکش وغیرہ شامل ہیں۔سادھوﺅ کے 17 شنگار شیو بھکتی کے علامت ہے ۔کمبھ میں زیاتر ناگا دو خاص اکھاڑوں سے آتے ہیں ایک اکھاڑا ہے وارانسی کا مہاپرینوارن اکھاڑا اور دوسرا پنچ دشنام جونا اکھاڑا ۔ان دونوں اکھاڑوں کے ناگا سادھو کمبھ کا حصہ بنتے ہیں او رکمبھ کے اختتام پر اپنے اپنے اکھاڑوں میں لوٹ جاتے ہیں بہت سے سادھو کی پناہ گاہیں جنگلوں اور تنہا جگہوں میں تپسیا کرنے چلے جاتے ہیں۔
(انل نریندر)
04 فروری 2025
تنازعات میں ممتا کلکرنی اور کنّر اکھاڑہ!
ممتا کلکرنی کو مہا منڈلیشور بناکر سرخیوں میں آیا کنر اکھاڑا ۔خود کو کنر اکھنڈ دیو کا بانی بتانے والے رشی اجے داس نے دعوی کرتے ہوئے کہا ،میں نے اکھاڑے کی اچاریہ مہامنڈلیشور ڈاکٹر لکشمی نارائن تری پاٹھی اور ممتا کلکرنی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے فلمی گلیمر سے وابستہ ممتا کلکرنی کو بغیر کسی دھارمک اور اکھاڑے کی روایت کو مانتے ہوئے ویراگ گھیس کے بغیر سیدھے پٹا ابھیشیک کر مہامنڈلیشور کی ڈگری دے دی گئی ۔رشی داس نے لیٹر جاری کرتے ہوئے کہا کے کے کنر اکھاڑے کا بانی ہونے کے ناتے مطلع کرتا ہوں کے کنر اکھاڑے کے 2025-26 اجین کمبھ میں میرے ذریعہ مقرر اچاریہ مہامنڈلیشور لکشمی نارائن تری پاٹھی کو میں ان کے عہدے سے آزاد کرتا ہوں ۔انہوں نے وجہ بتائی کے دھرم کے پرچار وہ فروغ اور دھارمک کرم کانڈ کے ساتھ کنر سماج کی بھلائی وغیرہ کی زرورت سے ان کو مقرر کیا گیا تھا ۔لیکن انہوںنے بغیر اجازت کے جونا اکھاڑے کے ساتھ تحریری معائدہ 2019 کے پریاگ راج کمبھ میں کیا جو غیر اخلاقی ہی نہیں بلکہ چارسو بیسی پر مبنی ہے ۔کہا کے بغیر بانی کی رضامندی وہ دستخط کے جونا اکھاڑا وہ کنر اکھاڑا کے درمیان معائدہ قانونی نہیں ہے ۔اس معائدہ میں جونا اکھاڑے نے کنر اکھاڑا معائدہ ترمیم کیا ہے اس کا مطلب ہے کے کنر اکھاڑا انہوںنے تسلیم کیا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کے سناتن دھرم میں 13 نہیں بلکہ 14 اکھاڑے تسلیم شدا ہیں ،یہ بات معائدہ سے خود ثابط ہوتی ہے ۔اچاریہ مہامنڈلیشور لکشمی نارائن تری پاٹھی نے اسے غیر آئینی ہی نہیں بلکہ سناتن دھرم و ملکی مفاد کو چھوڑ کر ممتا کلکرنی جیسی جو خاتون فلمی دنیا سے جڑی ہیں انہیں بغیر کسی دھارمک اکھاڑے کی روایت کو مانتے ہوئے ویراگےہ کی تعلیم دئے بغیر انہیں مہامنڈلیشور کی ڈگری دے دی گئی ۔تری پارٹھی نے کہا کے اجے داس کس حیثیت سے کارروائی کریں گے کیوں کے وہ کسی عہدے پر نہیں ہیں ۔اور انہیں 2017 میں ہی اکھاڑے سے نکالا جا چکا ہے ۔میڈیا کو دئے بیان میں انہوںنے کہا ہے میرا عہدہ کسی ایک شخص کی تقرری یا رضا مندی پر مبنی نہیں تھا 2015-16 اجین کمبھ میں 22 ریاستوں سے کنروں کو بلاکر اکھاڑا بنایا گیا تھا اور مجھے اس میں مہا منڈ لیشور چنا گیا اور وقت رشی اجے داس ہمارے ساتھ تھے ۔انہوںنے2017 میں ممبئی کا دورہ کیا ۔ان کے کرموں کی وجہ سے انہیں ہٹا دیا گیا تھا ۔اچاریہ مہامنڈلیشور لکشمی نارائن تری پاٹھی جنہوںنے ممتا کلکرنی کو پریاگ راج مہاکمبھ کے دوران مہامنڈلیشور بنایا تھا جس پر سارا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔انہوںنے آگے کہا جو بھی میرے ووٹ اور میرے ساتھ ہوگا وہیں مجھے نکال سکتا ہے ۔تری پاٹھی نے کہا ممتا کلکرنی مہامنڈلیشور اور بنی رہے گی ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے ۔سارے معاملے منسوخ کئے جا چکے ہیں ہماری ٹیم اجے داس کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے پہل کریں گے انہوںنے آگے الزام لگاتے ہوئے کہا کے جس شخص شری اجے داس کو 2017 میں آزاد کر دیا وہ رشی زندگی جینے لگے اور 2016 کے اجین کمبھ میں کنر اکھاڑے کا سارا پیسہ حزم کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے وہ کیسے مجھے برخاست کر سکتے ہیں۔
(انل نریندر)
پولنگ کا ووڈیو کلپ محفوظ رکھنے کا حکم!
سپریم کورٹ نے جمعہ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کے وہ ہر ایک پولنگ مرکز پر ووٹروں کی زیادہ تعداد 1200 سے بڑھاکر 1500 کرنے کے اس کے حکم کے خلاف دائر عرضیوں پر سماعت تک پولنگ کی ووڈیو کلپ محفوظ رکھیں ۔چیف جسٹس سنجیو کھنا اور جسٹس سنجے کمار کی بینچ نے یہ حکم اس وقت پاس کیا جب الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش وکیل نے اندو پرکاش سنگھ کے ذریعہ مفاد عما کی عرضی پر جواب دینے کے لئے وقت دینے کی اپیل کی تھی انہوںنے ہر ایک چناﺅ حلقہ میں ہر ایک پولنگ مرکز میں ووٹروں کی تعداد بڑھانے سے متعلق اگست 2024 کے چناﺅ کمیشن کے فرمان کو چیلنج کیا تھا ۔مدعا لیہ سرلا کی جانب سے موجود وکیل حلف نامہ داخل کرنے کےلئے مزید وقت دینے کی اپیل کر رہے ہیں ۔حلف نامہ آج سے 3 ہفتہ کے اندر داخل کیا جائے ۔اور سی سی ٹی وی رکاررڈنگ کو بنائے رکھنے کے احکامات دینا مناسب نہیں سمجھتے جیسے کے وہ پہلے کر رہے تھے ۔بڑی عادلت نے 15 جنوری کو کانگریس کے سیکرٹری جنرل جے رام رمیش کی عرضی پر مرکز اور الیکشن کمیشن سے جواب مانگا تھا جس میں 1961 کے چناﺅ قوائد میں سی سی ٹی وی تک کے پبلک تک پہنچ پر روک سمیت اور حالیہ ترمیم کے خلاف عرضی دائر کی گئی تھی ۔بڑی عدالت نے 24 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کو کوئی نوٹس جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔لیکن عرضی گزار کو اس کی کاپی چناﺅ کمیشن کے مستقل وکیل کو دینے کی اجازت دی تاکے وہ اس مسئلہ پر اس کا موقف رکھ سکے ۔عرضی گزار نے دلیل دی تھی کے چناﺅ کمیشن کے فیصلہ سے مہارشٹر ،دہلی اور بہار میں اسمبلی چناﺅ کے دوران ووٹروں پر سیدھا اثر پڑےگا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...