Translater

16 نومبر 2013

نہ طوطے کو اورطاقت دیں گے نہ ہی پنجرے سے نکلنے کی اجازت!

وزیراعظم منموہن سنگھ وزیر خزانہ پی چدمبرم جس طریقے سے سی بی آئی کو کھلے طور پر پھٹکار لگا رہے ہیں اس سے صاف ہے کہ منموہن سنگھ سرکار سی بی آئی سے خوش نہیں ہے اور جس طرح سی بی آئی چیف نے سرکار کو نصیحت دی یہ ہی کہا جائے گا کہ دونوں میں ٹھن گئی ہے۔ لگتا ہے کوئلہ گھوٹالے میں سی بی آئی کی سرگرمی سرکار کو راس نہیں آئی۔ سی بی آئی کی گولڈن جوبلی کے موقعہ پر منعقدہ سمیلن میں منموہن سنگھ نے سی بی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے سرکار کے پالیسی ساز فیصلوں پر انگلی اٹھانے سے باز آئے سی بی آئی۔ ہنڈالکوکول بلاک الاٹمنٹ معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے والی سی بی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے میں کوئی بھول جرم نہیں مانا جانا چاہئے۔ کانفرنس میں جس طرح سی بی آئی کو اس کی حدیں یاد دلائیں ہیں وہ سکتے میں ڈالنے والی ہیں۔ وزیر اعظم سی بی آئی کو مختاری دینے پر متفق نہیں دکھائی دئے۔ طوطا پنجرے میں ہی رہے گا یہ وزیراعظم نے صاف کردیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے سی بی آئی کا کام کاج انتظامیہ کی نگرانی میں چلنا چاہئے، یہی اشارہ دیتا ہے۔ پہلے دن وزیرداخلہ اور دوسرے دن وزیر خزانہ نے بھی اسی اسٹیج سے سی بی آئی کی حدوں پر قابض نہ ہونے کی نصیحت دے ڈالی۔ شایدوزیر اعظم اس بات سے تلملائے ہوئے ہیں کے ہنڈالکو کول بلاک الاٹمنٹ معاملے میں سابق کوئلہ سکریٹری پی سی پاریکھ کے خلاف معاملہ درج ہونے کے بعد جانچ کی آنچ سیدھے پی ایم او تک پہنچ گئی ہے۔ پی ایم او تک ہی نہیں خود وزیر اعظم تک پہنچ چکی ہے۔ پاریکھ نے کہا کہ اگر وہ ملزم ہیں تو وزیر اعظم کو کیسے بخشا جاسکتا ہے جبکہ ان کی نگرانی م و دستخط سے ہی الاٹمنٹ کو ہری جھنڈی ملی۔ وزیر اعظم کی دلیل ہے کہ بغیر غلط نیت کے موجودہ پالیسی کے تحت ہی فیصلوں کو مجرمانہ کارروائی قرار دینا ٹھیک نہیں ہے لیکن پالیسی اور فیصلوں کے درمیان حد پار ہونے پر ہی ایسی نوبت آتی ہے۔ اسی اسٹیج سے سی بی آئی کے چیف رنجیت سنہا کا یہ کہنا کہ پالیسی ساز فیصلوں میں گڑ بڑی کی گنجائش نہیں چھوڑنی چاہئے، سرکار کے رویئے پر یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ ہوں یا ٹوجی اسپیکٹرم کرنوں کا معاملہ ہو ان میں نہ تو پالیسی ساز شفافیت دکھائی دی الٹے سرکار گھوٹالوں کو جھٹلانے میں لگی ہے۔ یہاں تک کہ سی بی آئی اسٹیٹس رپورٹ تک میں تبدیلی کردی گئی۔ سی بی آئی کی مختاری کو لیکر سپریم کورٹ میں بھلے ہی معاملہ چل رہا ہو لیکن سرکار کی منشا طوطے کو پنجرے سے آزاد کرنے کی قطعی نہیں ہے۔ یہ ہی نہیں سرکار اب سی بی آئی کے پر کترنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ مرکز نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر کو سکریٹری کے عہدے کے اختیار دینے اور انہیں سیدھے وزیر کو رپورٹ کرنے کی اجازت دینے کی مانگ کو سپریم کورٹ نے نامنظور کردیا ہے۔ مرکزی سرکار نے سی بی آئی کواپنا ماتحت ادارہ بتاتے ہوئے اس کے ڈائریکٹر کو اختیار دینے کی مانگ مسترد کردی ہے۔ مرکز نے کہا ہے کہ ایسا قانوناً غلط ہوگا کیونکہ اس طرح کی مانگ منظور کرنے کا مطلب ایک عہدیدار کے پاس آزاد اختیارہوگا۔ سپریم کورٹ میں داخل 23 صفحات پر مبنی حلف نامے میں سرکار نے کہا حالانکہ ڈائریکٹر سکریٹری گریڈ اور تنخواہ میں برابر ہے لیکن انہیں سکریٹری سطح کا عہدہ دینے کا حق نہیں منظور کیا جاسکتا کیونکہ اس سے سرکار کے دماغ اور اس کے ماتحت دفاتر کے درمیان تنظیمی رشتوں کا تجزیہ بدل جائے گا۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار پر خود اکثر سی بی آئی کے سیاسی بیجا استعمال کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ سرکار اگر اپنی حدوں کا خیال رکھیں تو شاید اسے سی بی آئی کو نصیحت دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وزیراعظم اور ان کے سپہ سالاروں کی نصیحت کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ کرپشن معاملوں میں سی بی آئی کی جانچ کو متاثر کرنا اور ایجنسی پر ناجائز دباؤ بنانا سرکار یہ یقین دہانی کرانے کے بجائے پالیسی اور اسے لاگو کرنے میں شفافیت برتے گی۔ انہوں نے پالیسی کی آڑ میں کرپشن کی جانچ کو لیکر سی بی آئی کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا پالیسی بنانا آئین سازیہ کا کام ہے اور سی بی آئی کو پالیسیوں کی جانچ نہیں کرنی چاہئے؟ انہوں نے سوال کیا اگر پالیسی کرپٹ مقاصد کے لئے ہو تو؟ 
(انل نریندر)

ضمنی چناؤسے ظاہر ہوا دہلی میں کانگریس کا گراف گرا!

ویسے تو چناؤکے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ آخری سیاست ہردن بدلتی ہے اور پولنگ کے دن کیا پوزیشن ہو کوئی نہیں کہہ سکتا۔ دہلی اسمبلی چناؤسرپر ہیں مقابلہ سہ رخی ہے۔ اگر ہم حالیہ کانگریس کی چناوی تاریخ پر نظر ڈالیں تووہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ 2088ء میں کانگریس کو بھاری کامیابی کے بعد کانگریس کی مسلسل مقبولیت میں گراوٹ دیکھی گئی۔ ابتدائی مرحلے میں بھلے ہی کانگریس نے غیرمتوقعہ کامیابی حاصل کرلی ہو لیکن جیسے جیسے اسمبلی چناؤ قریب آتا ہے کانگریس کی سیٹیں گھٹتی جاتی ہیں۔ چناؤ کے بعد دہلی کے تین اسمبلی حلقوں کے علاوہ لوک سبھا چناؤ اور ایم سی ڈی چناؤ ہو چکے ہیں۔سال 2009ء میں لوک سبھا چناؤ میں سبھی ساتوں سیٹوں پر کانگریس کامیاب رہی تھی وہیں سال 2012ء میں ایم سی ڈی کے انتخابات میں بھاجپا نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔سال2009 ء کے چناؤ میں دہلی کے تین اسمبلی حلقوں روہتاس نگر، اوکھلا، دوارکا میں ضمنی چناؤ ہوئے۔ ان تینوں پرکانگریس کے ممبران قابض تھے لیکن چناؤ میں کانگریس صرف ایک سیٹ برقرار رکھ سکی۔ دو سیٹیں گنوا دیں۔ کانگریس کے سابق پردیش پردھان اور ممبر اسمبلی رام بابو شرما کی موت کے بعد روہتاس نگر سیٹ پر ان کے لڑکے وپن شرما نے تو باپ کی وراثت بچا لی لیکن اوکھلا کے ایم ایل اے پرویز حاشمی کے راجیہ سبھا ایم پی بننے کے بعد آر جے ڈی کے آصف محمد خاں نے یہ سیٹ ہتیالی۔ ایسے ہی دوارکا کے ایم ایل اے مہابل مشرا کے لوک سبھا ایم پی بننے کے بعدبھاجپا کا قبضہ ہوگیا ۔ دونوں سیٹوں پر کانگریس کے امیدواروں کو بھاری فرق سے ہار ملی تھی حالانکہ آر جے ڈی ممبر اسمبلی آصف محمد خاں اب کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔ 2012ء میں ایم سی ڈی چناؤ کے بعد نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن نے نانگلوئی ایسٹ اور مشرقی دہلی میونسپل چناؤ میں یمنا وہار کے دو وارڈوں میں بھاجپا کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بھاجپا امیدوار رینو نے 4200 ووٹ سے اور جمنا وہار سے آشا تائل نے کانگریسی امیدوار کو4700 ووٹ سے ہرایا۔ جب اسمبلی اور ایم سی ڈی چناؤ کے اشو الگ الگ ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کا اثر ان پر نہیں پڑتا لیکن ہوا کے رخ سے پتہ چلتا ہے کہ بیشک اس بار کانگریس نے مضبوط ٹیم اتارنے کی کوشش کی ہے لیکن کانگریس کے خلاف منفی فیکٹر کانگریس پر بھاری پڑ رہا ہے۔ہوا کا رخ اپوزیشن کی طرف زیادہ دکھائی پڑتا ہے۔ ’آپ‘ پارٹی سے نقصان بھی کانگریس کو زیادہ ہوگا بہ نسبت بھاجپا کے۔ حالانکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ اس بار دہلی اسمبلی چناؤ وزیر اعلی شیلا دیکشت کے نام پر اور دہلی کی چوطرفہ ترقی پر پارٹی چناؤ لڑ رہی ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ابھی تک پارٹی نے یہ نہیں بتایا کہ اگر وہ چناؤ میں کامیاب ہوتی ہے تو وزیراعلی کون ہوگا؟ اشارے یہ مل رہے ہیں شیلا دیکشت کانگریس چناؤ جیتنے پر پھر شاید اس بار وزیر اعلی نہ بنیں۔
(انل نریندر)

15 نومبر 2013

’’آپ‘‘ کا غیر ملکی فنڈ کا اشو گرمایا!

عام آدمی پارٹی اس لئے بنی کہ وہ دیش سے کرپشن مٹا سکے اور پورے سسٹم میں شفافیت اورصفائی لا سکے۔ اس کے کنوینر اروند کیجریوال روز کئی بار ریڈیو پر اپنی آواز میں دوہراتے ہیں کہ وہ اقتدار میںآرہے ہیں اور کرپشن،رشوت خوری، بھائی بھتیجہ واد وغیرہ وغیرہ سب دور کرکے رہیں گے۔ ہم ان کے نظریات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن قو ل و فعل یکساں ہونے چاہئیں۔ اگر کیجریوال خود انہیں چکروں میں پھنسیں گے جن میں کانگریس یا بھاجپا ہے تو پھر ان میں فرق کیا رہ جائے گا؟ غیر ملکی چندے معاملے میں اروند کیجریوال پھنستے نظر آرہے ہیں۔ سرکار نے ’آپ‘ کو چندے کے ذرائع کی جانچ کے احکامات دے دئے ہیں۔ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے آوازڈاٹ مارگ کی جانب سے آپ کو چار لاکھ ڈالر دئے جانے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے صفائی دی ہے غیر ملکی فنڈ کی جانچ دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر ہورہی ہے۔ ڈاکٹر سوامی نے ٹوئٹر پر دعوی کیا ہے کہ ارب ممالک میں شہریوں کے درمیان بغاوت پھیلانے کیلئے پیسہ دینے والے ادارے نے ہی اروند کیجریوال کی ’آپ‘ پارٹی کو بھی مالی مدد دی ہے۔ کیجریوال نے حالانکہ کسی بھی طرح کی جانچ کرانے کومان لیا ہے لیکن ساتھ ساتھ کانگریس اور بھاجپا کے بھی غیر ملکی چندے کی جانچ کی مانگ کرڈالی۔ چناؤ کے بیچ اس طرح کی جانچ کا حکم ہمیں نہیں لگتا کہ چناوی عمل پر کوئی اثر ڈالنے والا ہوگا۔ خود مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کہہ رہے ہیں ایسی جانچوں میں وقت لگتا ہے اسلئے دہلی اسمبلی چناؤ سے پہلے اس کی رپورٹ ملنے کے آثار نہیں ہیں۔ اس وقت اس اشو کو اٹھانے کے پیچھے ووٹروں کے بیچ اروند کیجریوال کے بھروسے پر اثر ڈالنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ کیجریوال انا ہزارے کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف آواز اٹھا کر میدان میں اترے تھے لیکن کرپشن مٹانے کی بات کہہ کر کیا وہ صرف سیاست میں اینٹری کا راستہ بنا رہے ہیں؟ کیا وہ خود بھی انہیں برائیوں کو نہیں اپنا رہے جن کے خلاف وہ لڑنے کا دم بھرتے آرہے ہیں۔ ہم کیجریوال کی اس دلیل سے متفق ہیں کہ دوسری پارٹیوں کے بھی غیر ملکی پیسے کی جانچ ہو۔عوامی نمائندگان ایکٹ اور غیرملکی فنڈ قانون دونوں میں یہ ممانعت ہے کہ سیاسی پارٹیاں غیر ملکی چندہ نہیں لے سکتیں۔ ’آپ‘ پر بیرونی ممالک سے چندہ لینے کا جو الزام لگا ہے اس کی جانچ مناسب نہیں مانی جاسکتی۔ اگر اختلاف ہوسکتا ہے تو وہ وقت کو لیکر ہوسکتا ہے۔ اصلی اشو چناؤ میں کالی کمائی کے استعمال کا ہے جس سے تقریباً سبھی بڑی پارٹیوں کا کام چلتا ہے کیا اس بات پر کوئی یقین کرے گا کہ بڑی پارٹیوں کے روز مرہ کا سارا خرچ اور سبھی چناؤ میں ان کے امیدوار جس وسیع پیمانے پر پیسہ خرچ کرتے ہیں وہ سب اسی چندے سے آتا ہے جس کی تفصیل یہ چناؤ کمیشن یا انکم ٹیکس محکمے کو دیتی ہیں۔ یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے، کون دیتا ہے اور سرکار بننے پر پارٹیاں اس کے بدلے میں چندہ دینے والوں کو کیا فائدہ پہنچاتی ہیں ان سب معموں پر پردہ پڑا رہتا ہے۔سیاسی اصلاحات کی راہ میں چندہ ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیا حکومت، چناؤ کمیشن کے پاس اس بنیادی مسئلے کا کوئی حل ہے؟
(انل نریندر)

پیر،منگل کے جھٹکے دہلی این سی آر والے کبھی نہیں بھولیں گے!

پیر کی رات اور منگل کی صبح دہلی این سی آر کے لوگ بہت دنوں تک یادرکھیں گے۔ ایسی رات دہلی کے شہریوں اور ارد گرد کے علاقے کے لوگوں نے پہلے شاید کبھی نہ بتائی ہو۔ آدھی رات کے بعد اندھیرے تک دہلی اور این سی آر کے باشندوں کو زلزلے کے جھٹکوں نے جینا محال کررکھا تھا۔ دہشت کے جھٹکوں سے تمام لوگ پوری رات گھبراہٹ میں رہے۔مسلسل جھٹکوں نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ پہلا جھٹکا12:41 پر آیا تو چوتھا جھٹکا3:45 پر آیا۔ پہلے زلزلے کی رفتار 3.1 ریختر اسکیل پر ناپی گئی ہے۔ سب سے پریشان کرنے والی بات یہ رہی کہ پہلا جھٹکا دہلی کے سینک فارم کے 11 کلو میٹر اندر اور مانیسر علاقے میں آیا اس کا مطلب یہ ہے دہلی این سی آر اب سیدھے زلزلے کے جھٹکوں کے زون میں آگئے ہیں۔ اگر دہلی اور این سی آر میں تیز زلزلہ آیا تو موسم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں بھاری تباہی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں یہاں پر کثیر منزلہ عمارتوں کے ڈھیر لگ جائیں گے اور تیزی سے آسمان چھوتی عمارتوں اور کارخانوں سے ماحولیات بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ ماحولیات سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے سبق ہم پہلے بھی لے چکے ہیں۔ اتراکھنڈ میں ماہ جون میں آسمان سے ایسا قہر برپا جس نے پورے دیش کو ہلا کر رکھ دیا۔ پچھلے تین دنوں میں فلپین میں قیامت خیز طوفان نے ہزاروں افراد کی جان لے لی۔ لاکھوں کو بے گھر کردیا۔ تمام بستیاں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ اس کے نیچے نہ جانے کتنے لوگ زندہ دفن ہوگئے کسی کو پتہ نہیں۔ ’’ہیان ‘‘نامی طوفان کو دنیا کا اب تک کا سب سے بڑاقدرتی قہر مانا گیا ہے۔ چار لاکھ سے زیادہ متاثرین نے راحت کیمپوں میں پناہ لی ہے۔ سمندری کناروں پر بسے شہروں اور دیہات کے لئے طوفان کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ 
طوفان کے سبب سمندر کا پانی قہر آمیز سیلاب میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ سونامی میں قریب تین لاکھ لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ کچھ دنوں پہلے بنگلہ دیش میں بھی سمندر کنارے تباہی کا منظر دیکھنے کو ملا تھا۔ مشرقی و ساؤتھ ایشیا میں تو سیلاب ،طوفان اور زلزلے کا خطرہ ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ مرکزی وزیر ماحولیات جینتی نٹراجن نے پچھلے دنوں کہا تھا دہلی اور این سی آرمیں اس طرح کے زلزلے کا خطرہ کافی بڑھا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ بڑی سطح پر قدرتی آفات مینجمنٹ ہونا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش جتائی کہ تعمیراتی کاموں میں ماحولیات کے پیمانوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے اس سے بڑی خطرناک صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ سرکار کے علاوہ غیر سرکاری تنظیم بھی اس معاملے میں پہل کرے اور لوگوں کے درمیان بیداری پھیلائے۔ قدرتی آفات روک تھام سے کافی کم نقصان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ مہینوں میں اڑیسہ میں زبردست سمندری طوفان آیا تھا لیکن محض دو لوگوں کی موت ہوئی۔ وہاں قدرتی آفت روک تھام نظام کا بہترین نتیجہ رہا لیکن پیر اور منگل کوآئے زلزلے کے جھٹکوں سے دہلی این سی آر کے لوگوں میں اتنی دہشت پیدا ہوگئی کہ معمولی سی آواز سے بھی وہ سہم جاتے ہیں۔ اس بار زلزلے میں پہلی بار زمین ہلنے، آواز آنے اور سنے اور محسوس کرنے کو ملا ہے۔ عام طور پر زلزلے سے صرف زمین ہلا کرتی تھی لیکن آواز نہیں آتی تھی لیکن اس بار ایسا ہوا ہے۔ قدرت کے قہر سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔ اوپر والا قدرتی آفت سے محفوظ رکھے۔
(انل نریندر)

14 نومبر 2013

کشمیر پر اپنی خرافاتوں سے باز نہیں آرہا ہے پاکستان!

ہندوستان سے دوستی بڑھانے کے نام پر دہلی آئے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے قومی اور خارجی امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کشمیر کے علیحدگی پسند لیڈروں سے ملاقات کرکے رشتوں میں مزید تلخی پیدا کردی ہے۔ ہندوستان کے احتجاج کو مسترد کر عزیز کی جانب سے حریت نیتاؤں سے ملاقات پر سیاسی واویلا کھڑا ہونا ہی تھا۔یہ پہلی بار نہیں جب نئی دہلی آئے کسی پاکستانی نمائندے نے سرکاری بات چیت سے پہلے علیحدگی پسندوں سے ملنے کی پہل کی ہے۔ ایشیا اور یوروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنے آئے عزیز نے یہاں پاکستانی ہائی کمیشن میں علیحدگی پسندوں سے الگ سے ملاقات کی۔ میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والی حریت کانفرنس کے اصلاح پسند گروپ کے ساتھ بات چیت کرنے کے علاوہ عزیز نے جے کے ایل ایف کے چیئرمین یٰسین ملک، کٹر پسند حریت کے صدر سید علی شاہ گیلانی اور دختران ملت کی بانی آسیہ اندرابی سے بھی ملاقات کی۔ وقت سے پہلے پاکستان ہائی کمیشن کے نزدیک پہنچنے والے گیلانی نے کمپلیکس میں تب تک جانے کا فیصلہ نہیں لیا جب تک وہاں میر واعظ موجود تھے۔ جب وہ باہر نکلے تبھی گیلانی کمپلیکس کے اندر گئے۔ پاکستان ہائی کمیشن میں قریب گھنٹے بھر چلی میٹنگ کے بعد باہر نکلتے ہوئے حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بات چیت کا مقصد کشمیر اشو کا یقیناًسیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جن نواز شریف کو دونوں دیشوں کے درمیان بہتر رشتوں کا حمایتی مانا جاتا ہے ان کی خارجہ پالیسی کے مشیر سرتاج عزیز نے دہلی آتے ہی یہ ہی جتایاکہ نئے اقتدارمیں بھی پاکستان کے لئے بھارت کے ساتھ کشمیر اہم اشو رہے گا اور نئی حکومت کی بات سے یہ بھی سوال اٹھنا لازمی ہے کہ وہ اتفاق نہیں بلکہ نواز شریف کے اقتدار میں آتے ہی سرحد پر پاک مقبوضہ علاقے میں لگاتار سرگرمی دیکھی گئی ہے۔ اس دوران پاک فوجیوں نے جارحانہ رویہ دکھایا ہے اور وہ مسلسل جنگبندی کی خلاف ورزی کررہی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ گھس پیٹھ کے معاملے لگاتار بڑھے ہیں ظاہر ہے کہ نواز شریف سرکار پر پاکستان فوج حاوی ہے اور وہ اپنے حساب سے چل رہی ہے۔ پاکستان کی نیت اور کرنی دونوں صاف ہوچکی ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ سب کچھ جانتے سمجھتے بھارت سرکار اس طرح کی ملاقاتوں کی اجازت آخر دیتی کیوں ہے؟ سرتاج عزیز کو ہندوستانی سرزمین پر کشمیری علیحدگی پسندوں سے ملاقات کی اجازت دے کر کیا یوپی اے سرکار نے ایک بڑی ڈپلومیٹک غلطی نہیں کیا ہے؟ نیویارک میں پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کی ایک ناکام کوشش کرنے کے بعد سرحد پر کشیدگی بڑھی ہے۔ اس کے باوجود بھارت سرکار نے سرتاج عزیز کو نئی دہلی میں کشمیری علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنے اور ان سے بات کرنے کی اجازت دے کر آخر بھارت سرکار دنیا کو کیا سندیش دینا چاہتی ہے؟ کیا عزیز کو یہ موقعہ دیا گیا ہے کہ جب پاکستان اپنی خرافاتوں سے باز نہیں آرہا ہے تو کیا یہ ملاقات بھارت کی سلامتی اور قانونی مفادات کے خلاف نہیں ہے۔ عالمی اسٹیج پرہم خود کشمیر اشو کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس ضرورت تو اس بات کی تھی کہ عزیز کو یاد دلایا جاتا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور وہاں کی جنتا نے اپنی مرضی سے سرکار چنی ہے۔ حریت نیتاؤں کو کشمیری عوام میں کوئی مقبولیت نہیں ہے اور نہ ہی ان میں ان کے تئیں کوئی اتفاق رائے ہے۔
(انل نریندر)

وصولی اور رشوت خوری کے معاملوں سے دہلی پولیس کی ساکھ خراب!

دہلی پولیس کی ساکھ کو کچھ مٹھی بھر کرپٹ پولیس ملازمین نے بری طرح سے خراب کیا ہے۔ حال ہی میں دہلی پولیس کے نئے کمشنر بی ۔ایس بسّی نے ذمہ داری سنبھالتے ہی اپنی ترجیحات گناتے ہوئے کہا تھا کہ سب سے پہلے محکمے میں رشوت خوری کے بڑھتے مسئلے پر لگام لگانے کی کوشش کریں گے لیکن گزرے بدھوار کو وصولی کے چکر میں ایک ایسی واردات ہوئی جس کا شاید کسی کو تصور نہ ہو۔ دہلی پولیس کے نہرو پلیس پولیس چوکی میں چل رہی ناجائز وصولی کا پردہ فاش کرنے پر پولیس والوں نے کرائم برانچ کی ٹیم پر ہی گولیاں چلا دیں۔ پولیس کرائم ملازم کرائم برانچ کے نام پر لوگوں کو اٹھا کر اس یونٹ میں لاتے تھے اور ان سے وصولی کرتے تھے۔ اس کے تین دن بعد سنیچر کو جب نیب سرائے میں پولیس والوں کو رشوت نہ ملی تو ڈرائیور کے والد پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کرتوت سامنے آئی۔ اس واردات کے بعد ملزمان پر اقدام قتل اور جبراً وصولی کا معاملہ درج کر انہیں معطل کردیا گیا۔ متاثرہ شخص ادے چند کو 90 فیصد جھلسی ہوئی حالت میں صفدر جنگ ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ادے چند کے آٹو ڈرائیور بیٹے نوین نے بتایا کہ جے جے کالونی ،خان پور کی بیٹ پر کانسٹیبل راجکمار اور سریندر نے اس سے 20 ہزار روپے مانگے ۔ منع کیا تو نوین کی پٹائی شروع کردی اور پھر نوین کے والد کو فون کرکے بلالیا۔ وہاں پہنچ کر اس کے والد نے روپے دینے کے لئے وقت مانگا تو انہوں نے ادے چند کو بھی پیٹنا شروع کردیا۔ آس پاس کھڑے ٹرکوں کے پیچھے لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ان کے والد جلتے ہوئے نکلے۔ ملزم پولیس ملازم موقعے سے فرار ہوگئے۔ کرائم برانچ کے منشیات محکمے میں تعینات ایک حولدار کے خلاف جبری وصولی کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ جنوبی دہلی میں سرگرم ایک دلال کی شکایت پر کرائم برانچ نے معاملہ درج کرلیا۔ اس نے بتایا کہ حولدار اور اسے جھوٹے معاملے میں پھنسانے کی دھمکی دے کر60 ہزار روپے مانگ رہا ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سے حولدارسندیپ کمار فرار ہے۔ کچھ دن پہلے تہاڑ جیل کے اندر قیدیوں کو سہولیات مہیا کرانے کے الزام میں جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سبھاش شرما ،جیل وارڈن کویتا اور ڈرائیور سدیش کو معطل کردیا گیا ہے۔ معاملہ اسٹنگ آپریشن سے سامنے آنے کے بعد جیل انتظامیہ نے معاملے کی جانچ کے لئے پانچ نفری کمیٹی بنائی تھی اور جانچ کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے جیل نمبر3میں پیسہ لیکر قیدیوں کو سہولیات دستیاب کرائی جاتی تھیں۔ اس چونکانے والے واقعے سے جب جنتا کی سکیورٹی کا ذمہ سنبھالنے والی دہلی پولیس کے دو ملازمین نے ایک نابالغ سے بدفعلی کی کوشش کی واقعہ مکھرجی نگر علاقے کا ہے۔ وردی کو داغدار کرنے والے دونوں سپاہیوں کو برخاست کردیا گیا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق پولیس کمشنر بسّی اور دہلی پولیس کے سینئر افسر ان واقعات سے بہت ناراض ہیں۔ ضلع کی پولیس والوں کی نگرانی اور ان پر پکڑ ڈھیلی ہونے سے ساؤتھ ایسٹ اور ساؤتھ کے ڈی سی پی کی بڑے افسروں نے جم کھنچائی کی۔ الیکشن کے ٹائم اور دہلی پولیس میں رشوت خوری وصولی کے دو واقعات حیران کرنے والے ہیں جو سیاسی اشو نہ بن جائیں۔ اسے لیکر وزارت داخلہ نے بھی دونوں معاملوں کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ مٹھی بھر کرپٹ افسروں کی وجہ سے دہلی پولیس کی تمام اچھی کامیابیوں پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ قصوروار پولیس ملازمین پر سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ کیونکہ دو تین مچھلیاں پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہیں۔
(انل نریندر)

13 نومبر 2013

نتیش کا حال شطرمرغ کی مانندہوگیاہے جسے سب ٹھیک ٹھاک لگتا ہے!

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار بری طرح سے بوکھلائے ہوئے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے وہ ایسی بے تکی باتیں کرنے میں لگے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے انہیں کیا ہوگیا ہے؟ وہ تو اس شطرمرغ کی طرح سے برتاؤ کررہے ہیں جو ریگستان میں اپنا منہ ریت میں چھپا لیتا ہے اور اپنے آپ کو کہتا ہے سب ٹھیک ٹھاک ہے کیونکہ وہ کچھ بھی دیکھ نہیں پاتا۔ نریندر مودی کی انتہائی کامیابی ریلی کو نتیش بابو فلاپ بتا رہے ہیں۔ فرماتے ہیں دہشت گردوں نے مودی کی ہنکار ریلی کی عزت بچا لی۔ پیر کو نتیش کمار نے اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ بھاجپا نے پانی کی طرح ریلی کے لئے پیسہ بہایاتھا پھر بھی وہ فلاپ رہی۔ دہشت گردی کی وجہ سے لوگوں کی توجہ ریلی کی طرف مرکوز رہی۔ دہشت گردوں نے ریلی میں بھاجپا کی مدد کی ورنہ ریلی تو پوری طرح فلاپ تھی۔ جنتا کے دربار میں وزیر اعلی کے پروگرام کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں نتیش نے آگے کہا اونچائی سے لی گئی تصویر میں صاف صاف دکھائی دے رہا ہے کہ گاندھی میدان کا مشرقی اور شمالی اور جنوبی حصہ ایک دم خالی تھا۔ آدھا گاندھی میدان تو پوری طرح خالی تھا اور آدھے میں لوگ تھے۔ نتیش نے ہنکار ریلی میں کافی سکیورٹی دینے کا بھی دعوی کیا ہے۔ سوال یہ ہے نتیش کمار ایسی بے تکی باتیں کیوں کررہے ہیں۔ ہم نہ تو نریندر مودی کے حق میں ہیں اور نہ ہی بھاجپا کے۔ ریلی میں کتنے آدمی تھے یہ ٹی وی چینلوں میں صاف نظر آرہا تھا۔ حقیقت میں میدان اتنا بھرا ہوا تھا کہ لوگ دیواریں پھلانگ کر زبردستی میدان میں گھسنے کی کوشش کررہے تھے۔ جہاں تک بم پھٹنے کی بات ہے تو اس سے تو جنتا کو بھاگ جانا چاہئے تھا نہ کے اندر کھڑا رہنا چاہئے تھا۔ یہ نہایت بیہودہ دلیل ہے۔ کیوں نہیں نتیش اپنی ریلی میں بم پھٹواتے اور دیکھیں کے کتنے لوگ بم پھٹنے کی وجہ سے آتے ہیں؟ یہ کہنا کہ مودی اور آتنکیوں کی کسی طرح کی سانٹھ گانٹھ تھی، اتنا بے تکا بکواس الزام ہے۔ نتیش اپنی آپ کو جگ ہنسائی کا اشو بنا رہے ہیں۔ سوال تو یہ الٹا پڑتا جارہا ہے کے پچھلے کچھ مہینوں میں جب سے آپ نے اقلیتی خوش آمدی کی پالیسی اپنائی ہے بہار میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں تیزی ہوئی ہیں۔آپ پر الزام لگایاجائے کے آپ کے اشارے پر دہشت گردوں نے مودی کی ریلی میں دھماکے اس لئے کرائے تاکہ جنتا بھاگ جائے اور ریلی فلاپ ہوجائے؟ دراصل نتیش اپنا ذہنی توازن کھوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے بھاجپا سے ناطہ توڑنے کے بعد جو حساب کتاب لگایا تھا وہ سب گڑ بڑ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جب سے بھاجپا نتیش سرکار سے الگ ہوئی ہے نتیش کا گراف گرتا جارہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے نہ تو وہ ترقی کی بات کرتے ہیں اور نہ ہی بہار میں قانون و انتظام کی ۔ بس ان کا ایک ہی ٹاپک ہے بھاجپا اور نریندر مودی۔ بھاجپا اور مودی کی دن رات مخالفت کے پیچھے کانگریس کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ کہا تو یہاں تک جارہا ہے کہ نتیش کو سی بی آئی کا ڈر ستا رہا ہے۔ چارہ گھوٹالہ میں رابڑی دیوی آئے دن الزام لگا رہی ہیں کہ نتیش بھی چارہ گھوٹالہ میں شامل ہیں ان کے خلاف بھی سی بی آئی کے پاس دستاویزی ثبوت ہیں جیسا لالو یادو کے خلاف ہیں۔ اگر ان ثبوتوں پر لالو یادو جیل جاسکتے ہیں تونتیش کیوں نہیں؟ کیا نتیش کو کانگریس پارٹی بلیک میل کررہی ہے؟ اور عوض میں مودی اور بھاجپا کو کوس رہی ہے۔ نتیش ایک سمجھدار لیڈر ہوا کرتے تھے۔ دکھ ہوتا ہے ان کے لب و لہجے کو دیکھ کر ۔ سیاست میں ماہر چال چلنے والے نتیش کی آستین میں کیا پلان چھپا ہے ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔
(انل نریندر)

کیا بسپا 2008ء چناؤ کے ووٹ فیصد کو آگے بڑھا سکے گی؟

بہوجن سماج پارٹی نے جمعہ کو 58 امیدواروں کی فہرست جاری کرکے دہلی اسمبلی چناؤ میں اپنی موجودگی درج کرانے کی کوشش کی ہے۔ تعجب اس بات کا ہے جس پارٹی کی سپریمو خود ایک عورت ہو اس پارٹی نے دہلی اسمبلی چناؤ میں محض ایک عورت کو ٹکٹ دیا ہے۔ ایک عورت امیدوار ریتو سنگھ کو نئی دہلی سیٹ سے وزیر اعلی شیلا دیکشت کے خلاف میدان میں اتارا گیا ہے۔ اب شیلا دیکشت بنام ہرش وردھن بنام اروند کیجریوال بنام ریتو سنگھ میں مقابلہ ہونا ہے۔ ابھی سپا اور دیگر پارٹیاں بچی ہیں۔ حالانکہ اس بارے میں دونوں موجودہ بسپا ممبر اسمبلی ٹکٹ کے حصول سے باہر ہیں۔ بدر پور کے بسپا ممبر اسمبلی رام سنگھ نیتا جی کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں تو گوکل پور سے بسپا ممبر اسمبلی سریندر کمار کا ٹکٹ کٹ گیا ہے۔ بسپا کے تین کونسلروں پشپ راج کو کراڑی سے، سہی رام کو تغلق آباد سے اور چودھری بلراج کو گوکلپور سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک عورت کونسلر سدیشوتی کے شوہر مدن موہن کو پالم اسمبلی سے امیدوار بنایاگیا ہے۔ سدیشوتی میونسپل چناؤ میں 10056 ووٹوں کے فرق سے سہی رام 4019 ، چودھری بلراج 2556 اور پشپراج محض563 ووٹ کے فرق سے چناؤ جیتے تھے۔ ان کے علاوہ 11 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ بسپا کے پردیش انچارج ایم ایل تومر کا کہنا ہے ہمارے امیدوار جلد پرچہ داخل کریں گے اور اپنے اپنے اسمبلی حلقے میں چناؤ کی تیاری کریں گے۔ بسپا دراصل 2008ء کے اسمبلی چناؤکا فائدہ آنے والے دہلی اسمبلی چناؤ میں بھنانے کی کوشش کررہی ہے۔ 2008ء اسمبلی چناؤمیں ووٹوں میں 14 فیصد حصے داری کے ساتھ وہ تیسرے مقام پر ہے۔ بسپا کی پردھان مایاوتی دہلی میں اپنی پارٹی کی پرفارمینس کو بڑھانا چاہتی ہیں۔ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے لئے بسپا کا دہلی میں اپنی موجودگی درج کرانا اچھا اشارہ مانا جائے گا۔ حالانکہ پچھلے چناؤمیں اس بار ایک فرق آیا ہے وہ یہ اروند کیجریوال کی آپ پارٹی کا اثر دلت طبقوں میں زیادہ بڑھا ہے یہی ہے بسپا کا ووٹ بینک۔ حالانکہ بسپا کے دہلی انچارج رام اچل راج دھر نے کہا کہ ہم سبھی 70 سیٹوں پر چناؤلڑیں گے اور سخت ٹکر دیں گے۔ بھاجپا کی کوشش ہے روایتی دلت ووٹ بینک میں مسلمانوں،درجہ فہرست ذاتوں اور دیگر پسماندہ ذاتوں کو بھی جوڑا جائے۔ اس کے لئے بہن جی راجدھانی میں کئی چناؤ ریلیاں کریں گی۔1998ء میں پارٹی کو تقریباً تین فیصد ووٹ ملے تھے جو سال2003ء میں بڑھ کر9 فیصد اور 2008 ء میں بڑھ کر 14 فیصد ہوگئے تھے۔ اس وقت پارٹی کے حصے میں 867672 ووٹ آئے تھے تب کانگریس پہلے نمبر پر40.31، بھاجپا دوسرے نمبر پر 36.84 اور بسپا تیسرے مقام پر آئی تھی۔ بسپا کے حصے میں دو سیٹیں آئیں تھیں کم سے کم پانچ سیٹوں پر وہ دوسرے مقام پر رہی۔ اس بار پارٹی کو 20 فیصد ووٹ ملنے کی امید ہے۔انہوں نے کہا دہلی میں ووٹر دونوں کانگریس اور بھاجپا سے ناخوش ہے اس لئے وہ بھاجپا کو ہی ووٹ دے گا۔
(انل نریندر)

12 نومبر 2013

آئی بی، را اور ایس ایف آئی کے وجود پر سوال!

سی بی آئی کے وجود پر خطرہ منڈرا رہا ہے۔ بیشک گوہائی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو غیر آئینی قراردینے کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے فی الحال روک لگادی ہو لیکن اس سے معاملہ سلجھا نہیں۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کا فیصلہ آتے ہی مرکزی حکومت اور سیاسی گلیاروں میں کھلبلی مچ گئی۔ عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے 1984ء میں راجدھانی میں ہوئے سکھ دنگوں کے ملزم سینئر کانگریسی لیڈر سجن کمار نے کڑ کڑ ڈوما کورٹ کے سامنے عرضی دائر کر کہاکہ ان کے معاملے میں سی بی آئی کی جانچ اور اس کی جانب سے دائر چارج شیٹ کو ناجائز قراردیا جائے۔ سجن کے وکیل نے ضلع جج جے آرین کے سامنے گوہاٹی ہائی کورٹ کے فیصلے کا ذکرکرتے ہوئے کہا اگر سی بی آئی خود ہی غیر آئینی ہے تو اس کی جانچ اور چارج شیٹ بھی غیر آئینی ہے۔ ایسے میں ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ معاملے میں ملزم سابق وزیر مواصلات اے۔ راجا اور دیگر ملزمان نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں جمعہ کوایک عرضی دائر کر گوہائی ہائی کورٹ کے فیصلے کی سماعت پر روک لگانے کی مانگ کی۔ خصوصی سی بی آئی جج او پی سینی نے ان کی عرضی پر سماعت پر روک لگانے سے منع کردیا۔ عدالت نے ملزمان کی مانگ پیر کو مسترد کرتے ہوئے کیس میں گواہ جانچ افسر و سی بی آئی ایس پی وویک پریہ درشنی کے بیان درج کئے اور معاملے کوآگے بڑھایا۔ اس وقت کئی اہم معاملے عدالت میں زیر التوا ہیں۔ گجرات دنگوں کا معاملہ گوروہ بند سہراب الدین شیخ، عشرت جہاں فرضی مڈبھیڑ اور آروشی قتل کیس، یوپی کے ڈی ایس پی ضیا ء الحق قتل، ہریانہ کا ٹیچر گھوٹالہ، ممبر اسمبلی گوپال کانڈہ معاملہ، چارہ گھوٹالہ، کول بلاک معاملہ، ٹو جی اسپیکٹرم جیسے مقدمات کافی اہم ہیں جو چل رہے ہیں۔ حکومت آرڈر آتے ہی حرکت میں آگئی۔ سنیچر کو چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ حالانکہ بڑی عدالت بند تھی لیکن معاملے کی سماعت چیف جسٹس پی ۔سداشیوم کے گھر پر ہوئی۔ چیف جسٹس کے گھر پر عدالت لگی۔ دو ججوں کی بنچ بنانے کے لئے جسٹس پرکاش ڈیسائی کو بھی بلایا۔ دونوں جج اور اسٹاف عام ڈریس میں تھا لیکن اٹارنی جنرل اور دیگر وکیل عدالتی لباس میں تھے۔ ڈرائننگ روم کو کورٹ کی سی شکل دی گئی۔ سماعت ٹھیک چار بجے شرو ع ہوئی اور تقریباً 20 منٹ تک چلی۔ دونوں جج صوفوں پر بیٹھے تھے اور ان کے سامنے سینٹرل ٹیبل نے بینچ کا کام کیا۔ میڈیا والوں کوسماعت سننے کے لئے اند ر آنے کی اجازت دی گئی۔ ججوں نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے حکم پر تقریباً ساڑھے چار بجے اسٹے آرڈر جاری کردیا۔ چلو فی الحال معاملہ تو ٹلا لیکن دیکھنا یہ ہوگا سپریم کورٹ اپنے آرڈر میں کیا کہتی ہے۔ گوہائی ہائی کورٹ کے حکم سے دیش میں کئی ایجنسیوں کی تشکیل پر بھی سوال اٹھے گا۔ اس سے مرکزی سرکار کی دیگر چار ایجنسیوں کے وجود پر بھی سوال اٹھ سکتے ہیں۔ ان میں راء، آئی بی، این ٹی آر او، ایس ایف آئی وغیرہ شامل ہیں، جو انتظامی فرمان کے ذریعے قائم ہوئی تھیں۔ ان کا کام بھی سرکار کے لئے جانچ اور خفیہ معلومات اکٹھا کرنا ہے۔ ان کے پاس سی بی آئی کی طرح پولیس کے اختیارات نہیں لیکن بغیر قانون کے چل رہی ہیں۔ ان ایجنسیوں کے وجود کو بھی سپریم کورٹ میں چنوتی دی گئی ہے۔ یوں تو ان ایجنسیوں کے اوپر فی الحال ابھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ صرف سی بی آئی تک محدود ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے تحت جب نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ مارگ نیشن کی تشکیل کی بات آئی تھی تو ریاستوں نے اس کے ئے مرکز کو پہلے پارلیمنٹ جانے کی صلاح دی تھی۔ سپریم کورٹ میں ایک عرضی کے تحت مانگ کی گئی ہے کہ ایسی ایجنسیوں کے لئے قانون بنا کر انہیں پارلیمنٹ کے تئیں جوابدہ بنایا جائے۔ عرضی میں ایجنسیوں کے خرچ کا آڈٹ کرانے کی بھی مانگ کی گئی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں جتنی خفیہ ایجنسیاں ہیں ان کے لئے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنا ہے۔ اس میں امریکہ کی سی آئی اے، انگلینڈ کی ایم آئی سمیت15 ایجنسیاں شامل ہیں۔ گوہائی ہائی کورٹ کے حکم سے سی بی آئی کا کام متاثر ہوسکتا ہے۔ کم سے کم جب تک سرکار اور سپریم کورٹ آگے کا راستہ نہیں طے کرتی۔ صرف بڑے بڑے گھوٹالوں کی چل رہی جانچ رک سکتی ہے بلکہ سی بی آئی نئے کیس نہیں درج کر پائے گی حالانکہ ماہر قانون کا کہنا ہے جن کے خلاف جانچ پوری ہوچکی ہے اور مقدمے چل رہے ہیں یا جن کے معاملوں میں مقدمہ پورا ہوکر فیصلہ سنایا جاچکا ہے اس پر بھی اس فیصلے کا اثر نہیں پڑے گا۔ جیسے لالو یادو کا معاملہ ہے جن میں مقدمہ ختم ہونے پر اس پہلو پر غیر کیا جائے گا کے اس وقت یہ بھی دیکھا جائے گا کہ سی بی آئی جانچ سے ملزم کا کیا مفاد متاثر ہوا ہے۔ ویسے تو قاعدہ ہے کہ ہائی کورٹ جب بھی کسی قانون کو مسترد کرے گا وہ قانون بننے کی تاریخ سے بے اثر مانا جائے گا کیونکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو ریڈرو اسپیکٹرک (یعنی پہلے کی تاریخ) یا فیصلے کی تاریخ سے نافذ کرنے کی بات نہیں کی جاسکتی۔ دیکھیں مرکزی سرکار ان سوالوں کا کیسے حل نکالتی ہے؟
(انل نریندر)

ویجیندر گپتاکے آنے سے نئی دہلی سیٹ سب سے ’ہاٹ‘ بنی!

آنے والے دہلی اسمبلی چناؤ میں نئی دہلی سیٹ پانچ ریاستوں کے چناؤ میں سب سے ہاٹ سیٹ یعنی مقبول سیٹ بن چکی ہے۔ سٹہ بازار نے اس سیٹ کو لیکر تال ٹھوکنی شروع کردی ہے اور نئے بھاؤ کھلنے لگے ہیں۔ وجہ ہے وزیر اعلی شیلا دیکشت اور بھاجپا کے دہلی پردیش سابق پردھان ویجندر گپتا اور عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال میں مقابلہ یقینی طور پر ہونے والا ہے جو سہ رخی مگر دلچسپ ہوگا۔وزیر اعلی شیلا دیکشت کے خلاف بھاجپا نے سابق پردیش پردھان ویجندر گپتا کو اتارکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بھاجپا شیلا دیکشت کو چھوڑنے والی نہیں۔ اس سیٹ پر پہلی بار چناؤ لڑ رہے اروند کیجریوال پہلے ہی ان کے خلاف میدان میں اترنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ بھاجپا نے ویجندر گپتا کو اتارکر یہ اشارہ بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ شیلا دیکشت سے دم خم کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔ اس سے پہلے اس سیٹ پر بھاجپا کی قومی ترجمان میناکشی لیکھی کو اتارا جانا تھا لیکن انہوں نے چناؤ لڑنے سے منع کردیا۔ اس کے بعد نپر شرما کو ٹکٹ دینے کی بات آئی لیکن ان کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ پھر اس سیٹ پر کسی نئے چہرے کو لڑاکر یہ پیغام دیا جائے بھاجپا مکھیہ منتری کی جیت کا راستہ آسان نہیں کرنے جارہی ہے اس لئے شیلا کے کٹر مخالف ویجندر کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ وہ اس سے پہلے موجودہ وزیر قانون کپل سبل سے چاندنی چوک پارلیمانی حلقے کے چناؤ میں کھڑے ہوچکے ہیں۔ شیلا کے خلاف حملے بولنے میں ویجندر گپتا ہمیشہ آگے آگے رہے ہیں۔ قریب چار سال سے وہ شیلا دیکشت سے مسلسل کھلی لڑائی لڑ رہے ہیں اس لئے کہا جاسکتا ہے بی جے پی میں اندرونی رسہ کشی ویجندرگپتا کے امیدوار بننے سے ختم ہوگئی ہے۔ سیاست کی اس بحث کے بیچ سٹہ بازار میں سٹے باز اپنے اپنے تجزیوں میں لگ گئے ہیں۔ ایک ایک بلاک اور بوتھ کا حساب کتاب سٹے باز لگانے لگے ہیں۔بازار کا رجحان ابھی شیلا دیکشت کے حق میں ہے۔ اگر چناوی تجزیوں کی بات کریں تو ایک تازہ سروے نے چونکا ضرور دیا ہے۔ اس کے مطابق دہلی میں معلق اسمبلی آنے کے چانس ہیں۔ سی ایس ووٹرز کے مطابق دہلی والوں کی پہلی پسند اروند کیجریوال ہیں اور دوسرے نمبر پر شیلا دیکشت۔ ڈاکٹر ہرش وردھن کا تیسرا نمبر ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے بھلے ہی بی جے پی یا آپ پارٹی میں سے کوئی بھی بڑھت لے لے لیکن یہ کانگریس کی مقبولیت پر اثر نہیں ڈالنے والے۔ اس سروے کے مطابق بی جے پی کو 25 ، کانگریس کو24 اور آپ پارٹی کو18 سیٹیں مل سکتی ہیں۔وزیر اعلی کے عہدے کے لئے اروند کیجریوال 34، شیلا دیکشت 31، ہرش وردھن 24 فیصد لوگوں کی پسند ہیں۔ اگر ہم سٹہ بازار کو دیکھیں تو تازہ پوزیشن اس طرح ہے دہلی کی 70 سیٹوں میں سے بی جے پی کو28 سیٹیں ملنے پر سٹے باز 24 پیسے زیادہ دینے کو تیار ہیں۔ جو لوگ اس پر داؤ لگا رہے ہیں انہیں پارٹی کے 28 سے کم سیٹیں جیتنے پر رقم گنوانی ہوگی۔ 2008ء اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو دہلی میں 23 سیٹیں ملیں تھیں۔ سٹے بازوں کا کہنا ہے عام آدمی پارٹی کو دہلی میں8 سے زیادہ سیٹیں نہیں ملیں گی لیکن وہ دونوں بڑی پارٹیوں کا کھیل بگاڑ سکتی ہے۔ وزیر اعلی کے امیدوار پر الگ سٹہ لگتا ہے۔ ابھی پولنگ میں وقت ہے، چناؤ میں پل پل حالات بدلتے ہیں۔ کسی بھی طرح کی پیش گوئی غلط ہوگی اس لئے ابھی تو صرف یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ آج کی پوزیشن یہ ہے ۔ہوا کس طرف بہہ رہی ہے نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو لیکن نئی دہلی کی سیٹ پر سبھی کی نظریں لگی رہیں گی۔
(انل نریندر)

10 نومبر 2013

ممبر پارلیمنٹ کا گھر یا پھر ٹارچر روم؟

گھریلو کام کاج کرنے والی عورتوں کیساتھ راجدھانی میں بڑھتے ہوئے ظلم کے ایک تازہ معاملے نے سبھی کو نہ صرف چونکا دیا ہے بلکہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر کوئی جاہل ،گنوار، انپڑھ آدمی یا میاں بیوی ایسی حرکت کریں تو ایک بار سمجھ میں آتا ہے لیکن جب ایک ذمہ دار عوامی نمائندہ وہ بھی ایک ممبر پارلیمنٹ اور اس کی ڈاکٹر بیوی ایسی گھناؤنی حرکت کریں تو سمجھ سے باہر بات ہوتی ہے۔کم سے کم ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ میں تو بات کررہا ہوں جونپور سے بسپا ایم پی دھننجے سنگھ اور ان کی ڈاکٹر ڈینٹسٹ بیوی جاگیرتی سنگھ کی۔ انہوں نے اپنی نوکرانی کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ واردات دھننجے سنگھ کے نئی دہلی میں واقع گھر ساؤتھ ایوینیو میں سرکاری رہائش گاہ کی ہے۔ پیر کی رات آٹھ بجے ایم پی نے پولیس کو فون کر گھریلو نوکرانی کی موت کی خبر دی۔ موقعہ واردات پر پہنچی پولیس نے دیکھا کہ عورت کے سر اور چہرے پر چوٹ کے کئی نشان تھے۔ اسے فوراً آر ایم ایل ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اسے مردہ اعلان کردیا گیا۔ اس بدقسمت کی شناخت مغربی بنگال کی باشندہ 40 سالہ راکھی کی شکل میں ہوئی ہے۔ ڈاکٹر جاگیرتی سنگھ نے اپنا قصورچھپانے کے لئے پولیس کو بتایا نوکرانی راکھی چھت سے گر گئی جس سے اس کی موت ہوگئی۔ حالانکہ گھر کے نابالغ نوکر سمیت دیگر نے اس کہانی کو جھوٹ بتایا اور سیدھا کہا کہ موت جاگیرتی کی پٹائی سے ہوئی ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر مکیش کمار مینا نے بتایا کہ نوکرانی کو بے رحمی سے مارا گیا۔اس معاملے میں گھر کے ایک نابالغ نوکر نے کافی اہم جانکاری دی۔17 سالہ لڑکے نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جسم پر تمام چوٹیں دکھا کر مظالم کی تمام داستان سنائی۔ اس نے کئی اور جانکاریاں ایسی دیں جس میں پولیس کو اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں ایم پی کی بیوی ڈاکٹر جاگیرتی سنگھ کسی ذہنی بیماری کا شکار تو نہیں ہیں کیونکہ کوئی عام آدمی گھر کے نوکروں کے ساتھ ایسا غیر انسانی ظلم نہیں ڈھا سکتا۔ لڑکے نے یہ جانکاری دی کے کچھ عرصے پہلے گھر کا پالتو کتا بھی گھر سے بھاگ گیا اور لوٹا نہیں۔ کتے کے بھاگنے کی سزا اسے ملی۔ جاگیرتی سنگھ نے گرم راڈ سے اس لڑکے کو کئی جگہ داغا۔ جاگیرتی کا سزا دینے کا طریقہ بھی الگ الگ ہوتا تھا۔ کئی بار وہ کتے ٹامی سے کٹواتی تھی۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ ظلم کو انجام دینے والی ایک عورت اور وہ بھی ایک ڈاکٹر ہے۔ ظلم ڈھانے والی اگر پڑھی لکھی اور مہذب گھروں کی عورتیں ہیں تو ظلم سہنے والی بے سہارا مزدور جھارکھنڈ، منی پور اور مغربی بنگال سے آئی عورتیں ہوتی ہیں۔ دن بھر کام کرنے کے بعد بھی ان کے حصے میں بھوک اور گالیاں پٹائی اور بے عزتی ہی آتی ہے۔کام والیوں کے بال کاٹ دئے جاتے ہیں، ان پر کتے چھوڑ دئے جاتے ہیں، مالکنوں کی ذیادتی کے قصے باہر نہ آجائیں اس کے لئے کام والیوں کو ننگا کرکے رکھنے سے لیکر گھروں میں بند کردینے کے انگنت واقعات ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ان کی چیخ اکثر پڑوسیوں کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ ان بے زبانوں کی مجبوری ہے کہ پاپی پیٹ کے لئے تمام ظلم سہنے پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر جاگیرتی سنگھ اور ان کے شوہر دھننجے سنگھ دونوں ہی کرمنل ذہنیت کے ہیں۔ دھننجے سنگھ کا نام کئی اور موتوں میں بھی آیا ہے۔ غریب مٹانے کا دعوی کرنے والی سرکاروں کے لئے ٹھہر کر سوچنے کا موقعہ ہے کہ آج بھی سماج میں اتنے ظلم کیوں ہورہے ہیں کہ پیٹ بھرنے کے لئے نابالغ بچوں تک کو ایسے ظلم سہنے پڑتے ہیں۔
(انل نریندر)

آسا رام بے قصور یا قصوروار ؟ اب عدالت طے کرے گی

ایسے لوگوں کی آج بھی کمی نہیں جو آسا رام کو ایک سنت مانتے ہیں۔انہیں زبردستی پھنسایا جارہا ہے اور وہ پوری طرح بے قصور ہیں۔ اگر ایسا ہے تو عدالت میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا کیونکہ اب عدالت میں باقاعدہ چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔ راجستھان کی جودھپورپولیس نے آسا رام اور دیگر کے خلاف1021 صفحات کی فرد جرم دائر کی ہے۔ انہیں آئی پی سی کی 14 سے بھی زیادہ دفعات کے تحت ملزم بنایا گیا ہے۔ جودھپور سینٹرل جیل میں بند آسا رام کو ان کے چار ساتھیوں کے ساتھ پولیس نے سیشن کورٹ میں پیش کیا۔ چارج شیٹ میں 58 گواہوں کے بیان ہیں۔ چارج شیٹ پیش ہونے کے بعد عدالت نے سبھی ملزمان کو16نومبرتک جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا ہے۔ اس کے ختم ہونے کے دن بھی ملزمان کے الزامات پر بحث ہوگی۔ آسا رام کو جودھپور پولیس نے ان کے اندور آشرم سے 17 اگست کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر چھندواڑہ آشرم کے گوروکل میں پڑھنے والی نابالغ طالبہ سے بدفعلی کا الزام لگایا گیا تھا۔ پولیس نے 20 اگست کو معاملہ درج کیا تھا۔ اگر چارج شیٹ میں عائد الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو ان کو10 سے لیکر عمر قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ جودھپور پولیس کی جانب سے آسارام اور دیگر ملزمان کے خلاف77 دنوں میں 1021 صفحات کی چارج شیٹ تیار کی گئی جس میں معاملے سے جڑے121 دستاویز اور 58 گواہوں کی فہرست میں شامل ہے۔ ایک نابالغ سے آبروریزی کے لئے 376/D اور 354A اور 506 اور دفعہ102 جیسی دفعات لگائی گئی ہیں۔ آسا رام کے خلاف جونائل جسٹس ایکٹ اور پوسکو ایکٹ کے تحت بھی الزام لگائے گئے ہیں۔ ان الزامات میں 10 سال سے لیکر عمر قید تک سزا دی جاتی ہے۔ چارج شیٹ کے مطابق متاثرہ کو سازش کے تحت آسا رام کے جودھپور کے آشرم میں واقع کٹیا میں لایا گیا اور اس اندھیری کٹیا میں آسا رام پہلے سے ہی موجود تھے۔ اس نے وہاں پر ڈیڑھ گھنٹے تک متاثرہ کے ساتھ بدفعلی کی۔ متاثرہ کے زیادہ احتجاج کرنے پر اسے یہ دھمکی دیتے ہوئے باہر بھیجا گیا اگر یہ باتیں کسی کو بتائیں تو اسے جان سے مار دیا جائے گا۔ کیس میں آسا رام کو اہم ملزم بنایا گیا ہے جبکہ آسا رام کی وارڈن شلپی آشرم کے ڈائریکٹر شرد چند آسارام کے رسوئیا پرکاش اور اس کے سیوا دار شیوا کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ آبروریزی کے الزامات میں گھرے آسارام کے کبھی حمایتی رہے لوگوں کا غصہ اب پھوٹنے لگا ہے۔ ان کے پرانے حمایتی لوگوں نے بلساڑ میں ان کے آشرم کے کچھ حصے کو جلا کر راکھ کردیا۔ دلچسپ و چونکانے والی بات یہ ہے پولیس نے بتایا کے جن لوگوں نے آشرم میں آگ لگائی انہوں نے پہلے آشرم کے لئے زمین دی تھی۔ اب یہ لوگ آسا رام اور ان کے بیٹے نارائن سائیں کے خلاف آبروریزی کے الزام سامنے آنے کے بعدغصے میں ہیں۔ غور طلب ہے سورت کی دو بہنوں نے آسا رام اور سائیں کے خلاف آبروریزی کا الزام لگایا ہے۔ آسا رام کی ضمانت عرضی ایک بار پھر ہائی کورٹ سے مسترد ہوگئی ہے۔ جب نرائن سائیں اس وقت سے بھاگا ہوا ہے اور ابھی تک پولیس اسے گرفتار نہیں کرپائی حالانکہ پولیس نے اس کے سبھی ٹھکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...