Translater
31 جنوری 2026
ایران کو ٹرمپ کی دھمکی!
جس طرح سے امریکہ نے ایران کو چاروں طرف سے جنگی ہتھیاروں و جدید ترین ساز وسامان سے اس وقت گھیر رکھا ہے ایسا جماوڑا ہم نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں دیکھا ۔ایئر کرافٹ کیریئروں 500 جنگی جہازوں ، ہزاروں فوجیوں سے اس وقت ٹرمپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو گھیر رکھا ہے ۔ٹرمپ نے ایران پر نیوکلیائی معاہدہ مذاکرات کے لئے دباؤ بنانے کے مقصد سے یہ جنگی بیڑا بھیجا ہے ۔ٹرمپ نے ایران کو سیدھی دھمکی دی ہے کہ وہ نیوکلیائی معاہدہ کر لے ورنہ اس پر اگلا حملہ اور خطرناک ہوگا ۔ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوج کسی بھی امریکی فوجی کاروائی کا زوردار جواب دے گی ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس اشرافی نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کی فوج تیار ہے اور دیش پر کسی بھی حملے کا زوردار جواب دینے کے لئے ٹرائگرپر انگلی رکھے ہوئے ہے۔ یہ خطرناک تبصرہ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد آیا ہے ۔جس میںٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران متنازعہ نیوکلیائی پروگرام پر امریکہ کے ساتھ ڈیل کرے ورنہ اسے بڑے پیمانہ پر امریکی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ادھر ٹرمپ نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس ہمارا بڑا جنگی بیڑا ہے ۔وینزویلا سے بھی بڑا ہے ۔تہران میں موجود حکام مسلسل اشارہ دے رہے ہیں کہ ایران بات چیت کے لئے تیار ہے ۔ٹرمپ نے کہا وہ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں ۔مجھے پتہ ہے کہ انہوں نے کئی بار ٹیلی فون بھی کیا ہے ۔ٹرمپ نے آگے کہا امید ہے کہ ایران جلد ہی بات چیت کے لئے تیار ہوگا ۔اورایک منصفانہ اور برابر ی کا سمجھوتہ کرے گا ۔کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ہے جو سبھی فریقین کے لئے اچھا ہو۔وقت کم ہے اور سچ میں یہ بہت ضروری ہے ۔اگلا حملہ خطرناک ہوگا ۔اسے مت ہونے دو ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے درمیان وسط مشرق کے عرب ممالک میں بھی ہلچل بہت تیز ہو گئی ہے ۔سعودی عرب ،ترکیہ ، قطر وغیرہ ملکوں کے سربراہ مملکت و راجہ اپنی پوری طاقت لگائے رکھے ہیں کہ جنگ ٹل جائے۔ سعودی بادشاہ سلمان نے تو پوری طاقت جھونک دی ہے۔یہ اس لئے بھی ہے کہ ایران نے کھلی دھمکی دی ہے ۔کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی طر ف سے کوئی بھی حملہ ہوتا ہے تو ایران عرب دیشوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسا دے گا اور انہیں تباہ کر دے گا۔بتادیں کہ سعودی عرب سمیت تمام عرب ممالک میں جنگی جہاز وغیرہ رکھے ہوئے ہیں ۔
اگر لڑائی چھڑتی ہے تو ایک طرف ایران اسرائیل کو تباہ کر دے گا اور د وسری طرف وسط مشرق میں تمام امریکی فوجی اڈوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ایران خود جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔وہ پچھلے 20 سال سے اس دن کا انتظار کررہا ہے اس دوران اس نے دنیا کی سب سے طاقتور میزائلوں کو بنا لیا ہے ۔اس نے ایسی ایسی میزائلیں تیار کر لی ہیں جو 10 ہزار فی گھنٹے کی رفتار سے بہت دوری تک مار کر سکتی ہیں ۔دنیا نے پچھلے سال 12 دن کی جنگ میں ایران نے اسرائیل کا کیا حال کیا تھا سب نے دیکھاتھا ۔اس درمیان خبر یہ بھی آئی ہے کہ سعودی عرب نے صاف کہا ہے کہ اگر ایران پر امریکہ حملہ کرتا ہے تو سعودی حملے کے لئے اپنی زمین نہیں دے گا ۔سعودی عرب شہزادہ و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعد نے کہا ہے کہ ان کا دیش ایران کے خلاف کاروائی کے لئے اپنی زمین یا اپنا ایئر اسپیس کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا ۔وسط مشرقی ا یشیا میں اس وقت جنگی بادل منڈر ا رہے ہیں۔اور کسی بھی ذرا سی چنگاری سے زبردست جنگ چھڑ سکتی ہے۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ یہ جنگ ٹل جائے اور بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے اور پوری دنیا جنگ کی تباہی سے بچ جائے ۔
(انل نریندر)
30 جنوری 2026
مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا!
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی بدھ کے روز طیارہ حادثہ سے جہاں پورا دیش حیران ہے اور غم میں ڈوبا ہوا ہے وہیں یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ ان کی اچانک موت سے مہاراشٹر کی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟ 66 سالہ اجیت پوار کی پرائیویٹ جہاز مہاراشٹر کے بارامتی میں لینڈکرتے وقت حادثہ کا شکار ہو گیا ۔بتادیں کہ اجیت پوار نے جولائی 2023 میں اپنے چاچا شردپوار کی قیادت والی راشٹریہ کانگریس پارٹی (این سی پی ) سے بغاوت کر دی تھی ۔2023 میں 2 جولائی کو وہ اپنی پارٹی کے 8 ممبران کے ساتھ مہاراشٹر سرکار میں شامل ہو گئے تھے اور حکومت میں نائب وزیراعلیٰ بنے۔ شردپوار سے بغاوت کر ایکناتھ شندے سرکارمیں شامل ہونے کے اپنے فیصلے پر اجیت پوار نے کہا تھا وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ترقی کررہا ہے ۔اس لئے بی جے پی کے ساتھ کچھ اختلافات ہونے کے باوجود این سی پی نے مہاراشٹر کی ترقی کے لئے سرکار کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ۔نومبر 2024 میں مہاراشٹر میں اسمبلی چناؤ ہوئے اور اجیت پوار اپنے چاچا پر بھاری پڑے ۔حالانکہ چھ مہینے پہلے ہی لوک سبھا چناؤ میں اجیت پوار کی پارٹی کو صرف ایک ہی سیٹ پر جیت ملی تھی ۔تب اجیت پوار کو مہاراشٹر کی حکمراں بی جے پی قیادت والے مہایوتی گٹھ بندھن کی سب سے کمزور کڑی کہاجارہا تھا ۔لیکن اسمبلی چناؤ میں اجیت پوار سب سے مضبوط کھلاڑی کی شکل میں ابھرے ۔انہوں نے 41 اسمبلی سیٹیں حاصل کی تھیں اور تقریباً اپنے چاچا کے باغی گروپ این سی پی کو ختم کر دیا ۔جو صرف 10 سیٹیں ہی جیت پائی ۔اجیت پوار نے 5 دسمبر 2024 کو ریکارڈ چٹھی مرتبہ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ شردپوار کی سرپرستی میں 20 سال گزارنے کے بعدا جیت پوار کو لگا چاچا ان کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں اسی لئے انہوں نے اپنا راستہ ڈھونڈ لیا۔15 فروری سے مہاراشٹر ضلع پریشد پنچایت سمیتی کے چناؤ ہونے جارہے ہیں اسی کے پرچار کے لئے اجیت داد ا پوار بارامتی جارہے تھے ۔این سی پی کی پوری ذمہ داری اجیت پوار کے اوپر تھی ۔اجیت پوار کا ندھن اس وقت ہوا جب شردپوار سیاسی طور سے بہت کمزور ہو گئے ہیں ۔ضلع پریشد کےچناؤمیں اجیت نے اپنے چاچا کے ساتھ مل کر چناؤ لڑنے والے تھے ۔اب مجھے لگ رہا ہے کہ پوری ہمدردی شردپوار کو سبق سکھائے گی ۔بی جے پی کے ابھار کے بعد مہاراشٹر میں مراٹھا نیتاؤں کی حیثیت کمزور ہوئی ہے اور اس کا احساس پردیش میں سب کو ہے ۔مراٹھابرادری کی بالادستی کھیتی، تعلیم اور بینکنگ پر ختم ہو چکی ہے ۔شردپوار کے ساتھ اب مراٹھا برادری کی ہمدردی آئے گی۔ دیہات پر مہاراشٹر کے اقتصادی نظام پر بھی مراٹھا برادری کی پکڑ ہے اور انہیں اب لگ رہا ہے کہ بی جے پی کے آنے سے ان کی پکڑ کمزور پڑرہی ہے ۔دیوندر فڑنویس کی سرکار میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور اجیت پوار کی رہنمائی والی این سی پی ہے ۔اجیت پوار کے مرنے کے بعد این سی پی اگر سرکار سے ہٹ جاتی ہے تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔بھلے ہی سرکار اقتدار میں بنی رہے گی لیکن فرق دوسری طرح سے پڑے گا۔مراٹھا برادری اجیت پوار کے ندھن کے بعد سوچے گی کہ اب ان کے پاس کون ہے ؟ شردپوار خود ہی زندگی کے زوال میں ہیں ۔مہاراشٹر طبقہ اب سوچے گا کہ انہیں کس طرح رخ اپنانا ہے ؟ ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اجیت پوار مہاراشٹر کی سیاست میں ہندوتو کے بڑھتے اثر کے درمیان اپنی طاقت بنائے ہوئے تھے اور یہ بڑی با ت تھی ۔بی جے پی اور شیو سینا دونوں ہندوتو کی سیاست کرتے ہیں ۔بی جے پی کی رہنمائی والی سرکار مضبوط رہے گی لیکن مراٹھا سیاست کا عروج ہوسکتا ہے ۔این سی پی پھر سے شردپوار کی قیادت میں متحد ہوسکتی ہے ۔اور یہ بی جے پی کی مضبوطی کے حق میں نہیں ہوگی ۔اجیت پوار کو دیوندر فڑنویس سرکار میں ایکناتھ شندے کی طاقت کا بیلنس کرنے کی شکل میں دیکھاجاتا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ اگر اجیت دادا پوار کا تعلق نہیں ہوتا تو نومبر 2024 میں ہوئے مہاراشٹر اسمبلی چنا ؤ کے بعدا یکناتھ شندے وزیراعلیٰ بننے کے لئے اڑ ے ر ہ سکتے تھے ۔ایسے میں بی جے پی کے پاس متبادل تھا کہ وہ اجیت پوار کے ساتھ سرکار بنا لیں ۔ہم اجیت پوار کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ان کے پریوار کو اس بھاری نقصان سے نکلنے کی ہمت دے ۔
(انل نریندر)
28 جنوری 2026
ٹرمپ کو اسی زبان میں جواب!
بڑبولے اور بے لگام بولنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اگر انہیں کی زبان میں جواب دیا ہے تو وہ ہے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی ۔دراصل ہوا یہ مارک کارنی سوئزرلینڈ کے داؤس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فارم میں تقریر کررہے تھے ۔مارک کارنی کی دی گئی تقریر کو امریکی دب دبے والے ورلڈ آرڈر کو آئینہ دکھانے کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر دیش ٹرمپ کی پالیسیوں سے پریشان ہیں لیکن اس طرح بولنے کا خطرہ مارک کارنی نے اٹھایا ۔منگل کو سوئزرلینڈ کے داؤس میں ورلڈ اکنامکس فارم سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ طاقتور ملکوں کے عزم میں مڈ ل پاور والے ملکوں کے سامنے دو متبادل ہیں ۔۔یا تو حمایت پانے کے لئے آپس میں مقابلہ کریں ہمت کے ساتھ یا تیسرا راستہ بنائیں اور ایسا کرنے کے لئے ساتھ آئیں ۔بھار ت سمیت دنیا کے باقی ملکوں کو لگ رہاہے کہ ابھی چپ رہنا زیادہ بہتر ہے ۔دوسری طرف کینیڈا کے وزیراعظم کو لگ رہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں کوئی انفیکشن نہیں بلکہ تباہی کے حالات ہیں ۔اور پھوٹ کا پردہ ہٹ رہا ہے ۔مارک کارنی کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ پرانے نظام واپس نہیں آئے گا ۔اور اس کا غم نہیں منانا چاہیے بلکہ نئی اور انصاف یقینی کرنے والے عالمی نظام کے لئے کام شروع کر دینا چاہیے ۔کارنی یہ کہہ رہے ہیں درمیانی طاقت والے ملکوں کو غلط فہمی کی دنیا سےباہر آنا چاہیے ۔کارنی کو پتہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کاخطرہ بھی ہے ۔کینیڈاکی معیشت بہت حد تک تجارت پر منحصر ہے ۔2024 میں کینیڈا کی کل برآمدات کا 75 فیصد امریکہ میں ہوا تھا ۔ٹرمپ نے امریکہ کے تئیں عہد نہ دکھانے کا الزام لگاتے ہوئے مارک کارنی کی تنقید کرتے ہوئے کہا ویسے کینیڈا ہم سے بہت سی مناسب سہولیات پاتا ہے انہیں شکریہ ادا کرنا چاہیے لیکن ایسا نہیں کررہے ہیں ۔منگلوار کو مارک کارنی کو دیکھا اور وہ زیادہ باعزم نہیں تھے ۔کینیڈا امریکہ کی وجہ سے ہی وجود میں ہے ۔اگلی مرتبہ جب مارک کارنی بیان دیں گے تو انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم سے پہلے ٹرمپ کینیڈا کو امریکہ کا 51 واں اسٹیٹ بنانے کی بات کر چکے ہیں۔اتنی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود کینیڈا نے ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیا ۔ایسے میں یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں،دھمکیوں کے باوجود بھارت کے مفادات کو چوٹ پہنچارہا ہے ۔پھر بھی بھارت کینیڈا کی طرح ٹرمپ کو انہیں کی زبان میں جواب آخر کیوں نہیں دے پارہا ہے ۔ٹرمپ نے ایران سے تیل خریدنے ، روس سے تیل خریدنے ، 50 فیصد ٹیرف لگانے سے لے کر 70 بار سے زائد بھارت -پاک جنگ رکوانے کی بات کر چکا ہے ۔امریکہ نے وینزویلا میں تبدیلی اقتدار کرایا ۔ایران میں بھی اقتدار تبدیلی کروانے کی بات کررہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ بھارت کینیڈاکی طرح ٹرمپ کی پالیسیوں پر کیوں نہیں بول پارہا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...