Translater

04 نومبر 2017

اب امریکہ میں بھی ٹرک سے آتنکی حملہ

امریکہ کے نیویارک شہر کے مین ہیٹن علاقہ میں ایک بار پھر آتنکی حملہ ہوا ہے۔ 9/11 کے بعد شہر میں یہ سب سے بڑا آتنکی حملہ بتایا جارہا ہے۔ منگلوار کو ازبیکستان نژاد ایک شخص نے نیویارک کے مین ہیٹن علاقہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے پاس بھیڑ والے علاقہ میں ٹرک دوڑا دیا ، اس میں 8 لوگوں کی موت ہوگئی اور 11 دیگر زخمی ہوگئے۔ منگل کے روز ہوئی اس واردات کے بعد 29 سالہ حملہ آور کے پیر میں ایک بہادر پولیس افسر نے گولی ماردی، زخمی ہونے کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔حملہ آور کا نام سیف اللہ سیپوف بتایا جاتا ہے۔ وہ ایک پرواسی ہے جو 2010 میں آیا تھا۔ ٹرک چلانے سے پہلے وہ اوبر کمپنی کا کیب ڈرائیور تھا۔ آتنکی اب فوروہیلر گاڑیوں کو قتل کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ حالانکہ امریکہ میں پہلی بار آتنکیوں نے واردات کرنے کے لئے ٹرک کا استعمال کیا ہے۔ اس سال دنیا میں چھٹا آتنکی حملہ ہے جس میں ٹرک، وین یا کار کار استعمال ہوا ہے۔ باقی پانچ حملے یوروپ ملک برطانیہ،اسپین اور سویڈن میں ہوئے۔سب سے زیادہ تین حملے لندن میں ہوئے، اس طرح کا پہلا بڑا حملہ جولائی 2016 میں فرانس کے نیس شہر میں ہوا تھا۔ قریب تین بجکر پانچ منٹ پر حملہ آور ٹرک چلاتے ہوئے نیویارک کے علاقہ مین ہیٹن میں ورلڈ ٹریڈ سینٹرکے پاس ایک فٹ پاتھ پر چڑھا۔ ڈرائیور تیزی سے سائیکل والوں اور پیدل جانے والے لوگوں کو کچلتے ہوئے آگے بڑھا۔ قریب آدھا کلو میٹ بعد ٹرک ایک اسکول بس سے ٹکرایا جس میں دو بچے زخمی ہوگئے۔ ٹرک رک جانے کے بعد حملہ آور بندوق لیکر باہر بھاگا۔ پولیس افسر نے اسے پیر میں گولی مار کرزخمی کردیا۔ ٹرک کے اوپر نیلی تحریر میں لکھا تھا :یہ حملہ آئی ایس (اسلامک اسٹیٹ) نے کروایا ہے۔ اگر 2014 سے حساب لگایا جائے تو یوروپ اور امریکہ میں ٹرکوں اور کاروں سے کچلنے والے 15 آتنکی حملے ہوچکے ہیں جن میں کل 142 لوگ مارے گئے ہیں کیونکہ سیکورٹی سسٹم بڑا ہونے کی وجہ سے آتنکی ہتھیاروں کا انتظام نہیں کرپاتے اس لئے آئی ایس جیسی تنظیم ٹرک کرائے پر لیکر لوگوں کو کچلنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ اس بار آتنکی زندہ پکڑ لیا گیا ہے۔ وہ بری طرح زخمی ہے پھر بھی امید ہے کہ اس سے پوچھ تاچھ میں کچھ اہم اطلاعات ملیں گی۔ تازہ حملہ سے ایک بار پھر اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ بیشک آئی ایس کا سب سے بڑا گڑھ بھلے ہی تبا ہ کردیا گیا ہو یا اس پر قبضہ کرلیا گیا ہو ، لیکن کٹر اسلامی نظریئے کی شکل میں یہ لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔وہ سب ایک ٹائم بم کی شکل میں ہمارے پاس اس طرح سے موجود ہے کہ ان کی پہچان پھٹنے پر ہی ہوپائے گی۔ اس حملہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ ساری دنیا آتنک واد کی زد میں ہے اور جب تک عالمی سطح پر ایمانداری سے اس کا مقابلہ نہیں کیا جاتا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

پی ایم بنام سی ایم لڑائی میں جیتے گاکون

بھاجپا ۔ کانگریس کے درمیان اگلے لوک سبھا چناؤ کی سیاست کے لحاظ سے ناک کی لڑائی بن چکا ہماچل اسمبلی چناؤ میں منظر کچھ ایسا بن گیا ہے کہ جس میں ایک طرف سیاسی یودھاؤں کی فوج میدان میں ہے تو مقابلہ میں اترا دوسرا یودھا اکیلے اپنی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ بھاجپا نے پولنگ سے عین پہلے 73 سالہ پریم کمار دھومل کو سی ایم امیدوار اعلان کردیا ہے۔ ان کے سامنے ہے موجودہ وزیر اعلی راجہ ویر بھدر سنگھ جو 83 برس کے ہیں۔ چناؤ مہم کے اس خاکہ سے صاف ہے کہ بھاجپا جہاں اپنی مرکزی لیڈر شپ اور پی ایم مودی کے چہرے پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے وہیں کانگریس ہائی کمان کو ہماچل چناؤ کی ایک واحد امید اور داؤں ویربھدر سنگھ ہی ہیں تبھی تو ان کے حلقہ پر ویربھدر سنگھ کے چناؤ انچارج ہرش مہاجن کہتے ہیں کہ بلا شبہ یہ چناؤ پی ایم بنام ویربھدر بن گیا ہے۔ اب اسے ویربھدر کی زبردست خود اعتمادی کہی جائے یا پھر کانگریس کی سیاسی نیا کے اکیلے پتوار ہونا ان کی مجبوری ہے، وجہ چاہے جو بھی ہو ان کا چناؤ بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔ ویر بھدر پر ہی کانگریس کی پوری چناؤ مہم ٹکی ہونے کی وجہ کے بارے میں پردیش کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ مرکزی لیڈر دلچسپی نہیں لے رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی امیدوار محض ویربھدر سنگھ کی ریلیوں کے لئے ہی اپیل کررہے ہیں۔ کانگریس سکریٹری جنرل سشیل کمار شنڈے ، آنند شرما، گورو گوگوئی شملہ میں پڑاؤ ڈالے ہیں مگر امیدوار ان میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ 
کانگریس کے مرکزی لیڈروں کی کمپین میں رول کے بارے میں پوچھے جانے پر شملہ گرامین سے چناؤ لڑ رہے ویر بھدر کے بیٹے وکرم آدتیہ سنگھ کہتے ہیں کے ایسی بات نہیں ہے پنجاب میں کیبنٹ وزیر نوجوت سنگھ سدھو، راج ببر اور پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ کے اگلے کچھ دنوں میں آنے کا پروگرام ہے۔ دیش کی نظریں بھلے ہی صرف گجرات اور ہماچل چناؤ تک محدود ہوں لیکن بھاجپا ڈیڑھ سال بعد ہونے والے لوک سبھا چناؤ تک 10 منزلوں کا خاکہ بنا کر چل رہی ہے۔ گجرات کے بعد لوک سبھا تک 8 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ہونے ہیں بھاجپا کا ٹارگیٹ ہے ہر مورچہ پر فتح یعنی 10 میں سے10 ریاستوں میں سرکار کے ساتھ 2019 لوک سبھا چناؤ میں بڑی فتح ۔بھاجپا کا دعوی ہے کہ وہ گجرات اور ہماچل دونوں جگہ پر جیت حاصل کرے گی۔ تیاری اس کے آگے کی بھی شروع ہوچکی ہے۔ ہماچل پردیش میں سبھی 68 اسمبلی سیٹوں سے کانگریس اور بھاجپا کا زور دار مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ کانگریس کے لئے ہماچل کی اس روایت کو بدلنے کی بھی چنوتی ہوگی جس میں ہر پانچ سال بعد سرکاریں بدلتی ہیں۔ پی ایم مودی نے اپنی ریلیاں شروع کردی ہیں اور ان میں کافی بھیڑ بھی آرہی ہے۔ دیکھیں سی ایم بنام پی ایم اس لڑائی میں جیت کس کی ہوگی؟
(انل نریندر)

03 نومبر 2017

ایک بار پھر شری رام جنم بھومی کا اشو گرمایا

جیسے جیسے 2019 کے لوک سبھا چناؤ قریب آرہے ہیں ایودھیا میں رام مندر کا اشو گرمانے لگا ہے۔بھاجپا کی پھر کوشش ہوگی کہ ایک بار پھر رام مندر کا اشو اس کے لئے تشویشات کا برہماستر بنے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اشو کو سلجھانے کیلئے مختلف سطحوں پر کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ پہلے بھی کئی کوششیں ہوچکی ہیں تازہ کوشش شری شری روی شنکر کی ہے۔ آرٹ آف لونگ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ اس کے بانی شری شری روی شنکر رام مندر تنازع کا کورٹ سے باہر حل تلاش کرنے میں ثالثی کرنے کو تیار ہیں۔ اس سلسلے میں شری شری روی شنکر نرموہی اکھاڑے ہے آچاریہ رام داس سمیت کئی اماموں اور ہندو دھرم گورووں کے رابطے میں ہیں۔ حالانکہ فاؤنڈیشن نے یہ بھی صاف کیا کہ اس بارے میں فی الحال کوئی نتیجہ نکالنا بہت جلد بازی ہوگی۔ پہلے یہ اشو سوامی اور بیچ بیچ میں کئی دیگر کوششوں کے بعداب شری شری روی شنکر بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ نپٹانے کے لئے آگے آئے ہیں لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس کی مخالفت کی ہے جبکہ شری رام جنم بھومی نیاس کے سینئر ممبر ڈاکٹر رام ولاس ودیانتی نے کہا ہے کہ ایودھیا تنازعہ کے حل کے لئے شری شری روی شنکر کی ثالثی کسی بھی حالت میں قبول نہیں کی جائے گی۔ تنازعہ کو عدالت سے باہر بات چیت کے ذریعے سلجھانے کیلئے روحانی گورو شری شری روی شنکر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کئے جانے پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایتوار کو کہا کوئی ٹھوس فارمولہ آنے پر ہی وہ اس معاملے پر بات چیت کی سمت میں آگے بڑھے گا۔ بورڈ کے ترجمان مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے کہا کئی بار بات چیت ہوچکی ہے، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا، ہم ہوا میں کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔ اگر ہمارے سامنے سرکاری طور پر کوئی ٹھوس فارمولہ پیش کیا جاتا ہے تو بورڈ بات چیت کو لیکر غور کرے گا۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم بات چیت نہیں کرنا چاہتے، لیکن کوئی ٹھوس فارمولہ تو ہے تو ہم کچھ کہیں۔ آرٹ آف لونگ کے بانی شری شری روی شنکر کے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس انصاف پر مبنی اور ٹھوس فارمولہ ہے تو وہ بورڈ کے پاس بھیجے اس کے بعدہم غور کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی و سنگھ پریوار ایودھیا تنازعہ سلجھانے اور سریو ندی کے پاس مسجد تعمیر کی مہر لگوانے کی تجویز کا داؤ کھیلنے کے فراق میں ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں اگر مندر کا معاملہ پر امن طریقے سے سلجھانے میں مودی و یوگی کی ٹولی کامیاب رہی تو 2014 کی طرز پر 2019 کے چناؤ میں بھی بھاجپا، این ڈی اے نئی تاریخ رقم کرسکتی ہے۔ حال ہی میں دیوالی پر اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی کے ذریعے ایودھیا میں 183216 دیپ جلانے کا جو نیا ریکارڈ بنایا اس سے یوگی کے تئیں سنتوں میں امید بندھی ہے کہ رام للا کو پکی چھت و مضبوط چبوترے میں لے جانے میں اب زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ رام مندر ہندوؤں کے لئے آج بھی عقیدت کا بھرپور اشو تو ہے ہی یوگی آدتیہ ناتھ بھی رام مندر تحریک کے سپاہی بنے تھے۔ مرکز میں حکمراں وزیر اعظم نریندر مودی رام مندر تعمیر کے رتھ یاتری رہے ہیں۔ عام جنتا کا اگر مندر تعمیر کا وعدہ پورا نہیں ہوا تو مودی و یوگی دونوں سے عام آدمی روٹھ جائے گا اور تاج پر سنکٹ میں پڑ سکتا ہے۔ ممکن ہے اس لئے مودی و یوگی مندروں میں جاکر پوجا ارچنا کے ذریعے ہندو سماج کے تئیں پیغام دے رہے ہیں کہ وہ ہندوتو کی لو کو مناسب جگہ دینے کو عہد بند ہیں۔ سنگھ و سنتوں کے درمیان دونوں نیتا ایودھیا کو ترجیح دیں گے۔ بیشک اس تنازعہ کو سلجھانے کی کئی کوششیں ہوئی ہیں لیکن وزیر اعظم چندر شیکھر کے چھوٹے سے عہد میں بات چیت سے معاملہ سلجھانے کی سب سے زیادہ کوشش ہوئی لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ دونوں میں سے کوئی فریق اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہواپھر کسی بات چیت کا راستہ کیسے نکل سکتا ہے؟ ہندو کی اکثریت مانتی ہے کہ ایودھیا میں شری رام کا جنم ہوا اور ان کا مندر وہیں بننا چاہئے جہاں مسلم بابری مسجد ہونے کا اسی جگہ پر دعوی کرتے ہیں۔ اس جذبے کے خلاف روی شنکر بھی شاید ہی جا سکیں اور نہ ہی سرکار یا کوئی دیگر جاسکتا ہے۔ اسی سبب تو الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی قبول نہیں ہوا۔ عدالت نے مانا کہ ہندو استھل کو توڑ کر مسجد بنوائی گئی تھی لیکن دونوں فرقوں کے درمیان بھائی چارگی بنائے رکھنے کیلئے تین حصوں میں سے ایک حصہ مسلمانوں کو بھی دے دیا جائے۔ رام جنم بھومی نیاس مقدمے میں فریق ہندو مہا سبھا اور رام للا بھی اپنا حصہ مانگیں گے۔ اس میں شبہ ہے کہ اب مرکز پہل کرے تو بات چیت ہوسکتی ہے لیکن معاملہ ایسی حالت میں پہنچ چکا ہے جہاں کورٹ کے فیصلے سے ہی اس بڑے تنازعہ کا ازالہ ہوگا۔ کم سے کم سپریم کورٹ کی غیر جانبداری پر کسی کو شبہ نہیں ہے۔ ہاں اس مسئلے کا نپٹارہ رام مندر تحریک سے جڑے سنتوں و مسلم سماج کے مذہبی پیشوا نپٹارہ کرسکتے ہیں۔ دیش کی ایکتا کے لئے یہ ضروری بھی ہے۔
(انل نریندر)

ٹیپو سلطان ہیرو یا ویلن

ٹیپو سلطان کی جینتی کو لیکر جہاں ایک طرف بھاجپا اور کانگریس آمنے سامنے ہے وہیں دوسری طرف اسے لیکر ادبی سماج بھی بٹا ہوا ہے۔ ادیب بھی اس معاملے میں الگ الگ رائے رکھ رہے ہیں۔ بتادیں کہ ٹیپو سلطان کون تھے؟ ٹیپو سلطان بھارت کے اس وقت کے میسور ریاست کے حکمراں تھے جن کی پیدائش20 نومبر 1750 کو کرناٹک کے ویدناہلی میں ہوئی تھی۔ ٹیپو سلطان کا پورا نام سلطان فتح علی خان شاہ تھا۔ ان کے والد حیدر علی میسور ریاست کے سینا پتی تھی جو اپنی طاقت سے 1761 میں میسور سلطنت کے حاکم بنے۔ اہل حکمراں کے علاوہ ٹیپو سلطان ایک دانشور ، لائق شخصیت اور شاعر بھی تھے۔ تازہ تنازعہ کیا ہے؟ دراصل کرناٹک حکومت 20 نومبر کو ٹیپو سلطان کی جینتی منانے جارہی ہے۔ اس پروگرام میں شامل ہونے کیلئے کرناٹک کے وزیر اعلی سدیرمیا نے مرکزی وزیر مملکت ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اننت کمار ہیگڑے کو مدعو کیا تھا۔ اس کے جواب میں ہیگڑے نے کہا کہ وہ اس پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ ٹیپو سلطان قاتل و بربریت کا حامل اور آبروریز تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان ہندو مخالف تھا۔ ہیگڑے کے اس بیان کو لیکر سیاست سے لیکر ادب تک سبھی میں ہلچل مچ گئی۔ مصنف ڈاکٹر ایچ بالدو برہماچاریہ فرماتے ہیں کہ ٹیپو سلطان بربر اور ظالم تھاوہ ہندوؤں پر بیحد ظلم ڈھایا کرتا تھا۔ اس نے اپنی اسٹیٹ میں ہندو مندروں کو بھلے ہی گرانڈ دی تو لیکن کیرل اور تاملناڈو کے مندروں کو اس نے توڑنے کا کام کیا۔ اتنا ہی نہیں کیرل اور تاملناڈو جیسی ریاستوں میں ٹیپوسلطان نے ہندوؤں کو تلوار کے زور پر مذہب تبدیل کروایا اور مسلمان بنوایا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی کیرل اور تاملناڈو کے لوگ ٹیپو سلطان کے خلاف ہیں۔ دوسری طرف ڈرامہ آرٹسٹ اروند گوڑ کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں سبھی چیزوں کو سیاسی رنگ میں رنگ دیتی ہیں۔ ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف مورچہ بندی کرنے میں سب سے آگے تھے انہوں نے ہمیشہ انگریزوں کی مخالفت کی۔ رہی بات ہمارے دیش کے لوگوں کی تو ہمارا دیش نظریات اور مذہب کا دیش ہے۔ یہاں سبھی لوگوں کو اپنی آزادانہ رائے رکھنے کا حق ہے۔ کوئی ٹیپو سلطان کو ہندو مخالف سمجھتا ہے تو کوئی آبروریز ، لیکن سچائی تو یہ ہے کہ دیش کو انگریزوں سے نجات دلانے میں سب سے آگے ٹیپو سلطان ہی تھے۔ اب جب ادیب ہی ٹیپو سلطان پر الگ الگ رائے رکھتے ہیں تو سیاسی پارٹیوں کا اس مسئلہ پر روٹیاں سینکنا لازمی ہی ہے۔
(انل نریندر)

02 نومبر 2017

یوگی حکومت کا پہلا چناوی امتحان

اترپردیش میں نگرپالیکا کے چناؤ کا اعلان ہوچکا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن پردیش میں تین مرحلوں 22، 26 و 29 نومبر کو چناؤ مکمل کرائے گا۔ ووٹوں کی گنتی یکم دسمبر کو ہوگی۔ میونسپل چناؤ میں کمیشن نے 10 برس کے بعد امیدواروں کے خرچ کی حد میں اضافہ کیا ہے۔ نگر پالیکا پریشد کے چیئرمین امیدواروں کے خرچ حد 4 لاکھ سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے تک کر دی گئی ہے جبکہ میئرکے امیدواروں کے خرچ کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ میونسپلٹیوں اورمیونسپل کارپوریشن کے چناؤ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کا اصلی امتحان ہوگا۔ پچھلی بار 12 میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤہوئے تھے جن میں سے بھاجپا کو10 میں میئر کی سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس بار میونسپل کارپوریشنوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہوگئی ہے۔ متھرا۔ برنداون اور فیض آباد نگر میونسپل کارپوریشنوں میں پہلی بار میئر کے لئے چناؤ ہوں گے۔ ایک بھگوان کرشن تو دوسری شری رام کی جنم بھومی ہے۔ بھاجپا اس سال مارچ میں بھاری اکثریت کے ساتھ اترپردیش میں اقتدار میں آئی تھی۔ ایسے میں آنے والے میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ ریاستی سرکار کا پہلا امتحان ہو گا۔ میونسپل چناؤ میں بھاجپا کو نوٹ بندی کے معاملے میں سماجوادی پارٹی ان چناؤ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ سپا صدر اکھلیش یادو کہہ چکے ہیں کہ اگر لکھنؤ میٹرو، آگرہ۔ لکھنؤ ایکسپریس وے، سماجوادی پنشن یوجنا، سماجوادی آواس یوجنا سمیت ان کی پچھلی سرکار کی تمام ترقیاتی کاموں کو دیکھتے ہوئے ووٹ پڑے تو زیادہ تر میونسپلٹیوں میں پارٹی کے امیدوار چنے جائیں گے۔ سپا ۔ بھاجپا کو ان چناؤ میں چت کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ اپنانے پر آمادہ ہے۔ ادھر کانگریس ترجمان وریندر مدان نے بتایا کہ ان کی پارٹی میونسپل کارپوریشنوں میں نگر پالیکاؤں و نگرپنچایتوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرتی رہی ہے۔ اس بار یہ چناؤ بیحد اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس کے بعد صرف 2019ء کا لوک سبھا چناؤ ہوگا، لہٰذا میونسپل چناؤ سے پارٹی کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ چناؤ میں پارٹی کے ریاستی سطح کے لیڈر چناؤ کمپین کریں گے۔جہاں ضرورت پڑے گی وہاں مرکزی لیڈروں کی مدد لی جائے گی۔ یوں تو عام آدمی پارٹی بھی اترپردیش میں پہلی بار چناؤ میں تال ٹھوک رہی ہے۔ پارٹی ان مقامی چناؤ میں ریاست میں اپنی سیاسی پاری کا باقاعدہ آغاز مان رہی ہے۔ پردیش میں چار بار حکمراں رہ چکی بسپا پہلی بار اپنے چناؤ نشان پر ان چناؤ میں اترے گی۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں کراری ہار کے بعد بسپا کے لئے یہ چناؤ انتہائی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی یکم دسمبر کو ہوگی۔ میونسپل کارپوریشن کے میئر اور کونسل عہدوں کے چناؤ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کرائے جائیں گے جبکہ نگر پالیکا پریشد اور نگر پنچایت صدور و ممبروں کے چناؤ بیلٹ پیپروں کے ذریعے سے ہوگا؟ ویسے تو سبھی پارٹیوں کے لئے یہ چناؤ بہت اہم ہے لیکن سب سے زیادہ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کی ساکھ داؤ پرلگی ہے۔
(انل نریندر)

شی جن پنگ کا ماؤ اور ڈینگ کے زمرے میں شامل ہونا

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے 19 ویں کانگریس میں موجودہ صدر شی جن پنگ کو پھرسے اپنا لیڈر چن لیا ہے ساتھ ہی جن پنگ کی آئیڈیالوجی کو بھی پارٹی نے اپنے آئین میں شامل کردیا ہے۔ اس طرح پارٹی نے انہیں وہی قد اور عزت دی ہے جو پارٹی کے بانی ماؤ زے تنگ اور ان کے بعد ڈینگ زیاؤ پنگ کو ملی تھی۔ شی جن پنگ چین کے بڑے لیڈروں ماؤتیتسنگ اورڈ ینگ شوپنگ کی قطار میں شامل ہوگئے ہیں۔ شی کے ایک بیحد طاقتور لیڈر کی شکل میں ابھرنے کا واقعہ عالمی سطح پر بیحد اہم ہے۔ 64 سالہ شی پنگ کو ان لیڈروں کی قطارمیں ڈال دیا گیا ہے جس میں صرف ماؤ اور ڈینگ شامل ہوا کرتے تھے۔ ماؤ کی آئیڈیالوجی اورڈینگ زیاؤپنگ اصولاً اب بھی شی جن پنگ پرنسپل کو اب آئین میں شامل کیاہے۔ شی جن پنگ اصول کو آئین میں شامل کرنے کے بعد شی کے پاس اب حکمت عملی کے طور پر دو بڑے کام ہیں۔ پہلا چین کو سیاسی طاقت کی شکل میں ابھارنے کے علاوہ سال 2021 تک اسے اصلاح پسند دیش بنانا۔اس کا مطلب ہے کے2010 تک چین کا جو جی ڈی پی تھا اسے 2021 تک دوگنا کرنا۔ یعنی آسان لفظوں میں کہہ سکتے ہیں چین کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنانا۔ 2021 میں کمیونسٹ پارٹی کے 100 سال پورے ہوجائیں گے اس کے بعد دوسری سطح پرانہیں 2035 تک چین کو اسی سطح پر یعنی اس ترقی کو بنائے رکھنے کی چنوتی ہوگی۔ اس کے بعد دو سال 2049 تک ایڈوانس سوشلسٹ دیش یعنی فوجی طاقت ، معیشت،کلچر میں سب سے بڑی طاقت کی شکل میں قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ تجزیہ نگار یہ امکان پہلے سے ہی ظاہرکررہے تھے کہ شی جن پنگ سب سے طاقتور بن کر ابھریں گے اور ڈینگ زیاؤپنگ کی طرح سب سے زیادہ طاقت حاصل کرسکتے ہیں، لیکن وہ کب اس مقصد تک پہنچیں گے اس کی پیشگوئی کسی نے نہیں کی تھی؟ سروشکتی مان نیتا بن کر ابھرے چی جن پنگ نے اپنے پہلے پیغام میں اپنی فوج یعنی پیپلز لبریشن آرمی سے کہا ہے کہ وہ جنگ کے لئے تیار رہیں۔ چین کی فوج میں 23 لاکھ جوان اور افسر شامل ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی آرمی ہے۔چین نے خارجہ پالیسی کے اشو پر جو جارحانہ رویہ اپنایا ہے ، اس سے پوری دنیا خدشے میں ہے۔ اس سے ایک نیتا کا سب سے طاقتور بننا سب کو پریشان کرنے کے لئے کافی ہے۔ کمیونسٹ عہدہوتے ہوئے بھی ایک اجتماعی لیڈرشپ کا کردار چین میں جاری ہے۔ چین کے ہمارے پڑوسی پاکستان سے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ بھارت کے ساتھ معاہدے پر تنازعہ ہے۔ ایسے بھی شی جن پنگ کا یوں سروشکتی مان لیڈر کے طور پر ابھرنا بھارت کے لئے تشویش کا باعث ضرور ہے۔
(انل نریندر)

01 نومبر 2017

دہشت گردی اور گجرات کی سیاست

آزادی کے بعد جب ہماری جمہوریت قائم ہوئی تھی تب سیاست میں تھوڑی اخلاقیت تھی اقدار ہوتی تھیں لیکن وقت کے ساتھ نہ صرف ہماری اقدار گرتی گئی ہیں بلکہ سیاست میں الزام تراشیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو کسی کو زیب نہیں دیتا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ آج ہماری سیاست کیسے اوچھے الزامات سے ہورہی ہے اور ایسا کرنے میں انہیں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ تازہ معاملہ گجرات میں سینئر کانگریسی لیڈر احمد پٹیل پرا لزام کا ہے۔ بھاجپا نے الزام لگایا کہ پکڑاگیا ایک مشتبہ دہشت گرد اس اسپتال میں کام کیا کرتا تھا جس کا تعلق کانگریس کے سینئر لیڈرا حمد پٹیل سے رہا ہے۔بھاجپا کے حکمراں گجرات کے وزیراعلی وجے روپانی نے پارٹی دفتر میں شری کملیم میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ خطرناک دہشت گرد اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ محمد قاسم ٹمبروالا بھڑوچ کے جس اسپتال میں بطور ٹکنیشن کام کررہا تھا اس کے ٹرسٹی خود احمد پٹیل رہ چکے ہیں۔ ان کا الزام کافی سنگین ہے۔ الزام لگاتے ہوئے روپانی کا کہنا تھا کہ جس اسپتال کے دو مشتبہ آتنک وادیوں کو گرفتار کیا گیا اس کے ساتھ احمد پٹیل کا تعلق رہا ہے۔غور طلب ہے کہ ان مشتبہ دہشت گردوں میں سے ایک اس اسپتال کا ملازم رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ احمد پٹیل پہلے اس اسپتال کے کرتا دھرتا رہے۔ انہوں نے اسپتال کی تعمیر میں بھی مدد کی تھی وہ اسپتال کے ٹرسٹی بھی رہے تھے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ پٹیل نے 2014 میں اسپتال کے ٹرسٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب اس کی بنیاد پر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ احمد پٹیل کا مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلق رہا ہے۔ کسی بھی ایسے ادارے میں سینکڑوں ،ہزاروں ملازم ہوتے ہیں اور اس ادارے کا ذمہ دار یا مالک اس بات کا کیسے ویری فکیشن کر پائیں گے کہ اس کے یہاں کام کرنے والے ملازمین میں کون دہشت گرد ہے کون نہیں ؟ معاملہ گرماتا ہوا دیکھ کانگریس پارٹی احمد پٹیل کے بچاؤمیں اتر آئی ہے۔وہیں جس اسپتال میں نام نہاد دہشت گرد پکڑا گیا اس نے بھی احمد پٹیل کا بچاؤ کیا ہے۔ اس بیچ کانگریس نے بھی گڑھے مردے اکھاڑتے ہوئے بھاجپا کو قندھار سے لیکر کئی پرانے واقعات کی یاد دلا دی۔ ادھر اسپتال کا کہنا ہے کہ احمد پٹیل یا ان کے خاندان کا کوئی ممبر ٹرسٹی نہیں ہے۔ کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے ایک بیان میں کہا پٹیل یا ان کے خاندان کا اس اسپتال سے کوئی تعلق نہیں ہے جہاں پر کام کرچکے ایک شخص کو آتنکی کے طور پر گرفتار کیا گیا۔انہوں نے آگے کہا گجرات چاؤ میں ہوئی ہار کو دیکھتے ہوئے بھاجپا سازشیں رچ رہی ہے۔ قومی سلامتی کے اشو پر کھلواڑ نہیں ہونا چاہئے۔ کل ملاکر پہلی نظر میں یہ لگ رہا ہے کہ بھاجپا چناؤ میں بڑھت بانے کے لئے اس طرح کے غیر ضروری الزامات لگا رہی ہے۔ دیش کی سیکورٹی سے جڑے حساس ترین اشو پر توجہ دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

بڑھتی کھائی یا محض نوراکشتی

بھاجپا اور شیو سینا کے درمیان جس طرح سے ایک دوسرے پر تیر چھوڑے جارہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ ان کا اتحاد ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔ شیو سینا کے لگاتار طنز کے بعد مہاراشٹر کے وزیراعلی دیویندر پھڑنویس نے سرکار میں اتحادی شیو سینا پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ جمعہ کو وہ تین الگ الگ موقعوں پر بولے کہ شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے کو طے کرنا چاہئے کہ وہ اتحاد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ شیو سینا کا رویہ مہاراشٹر کے لوگوں کیلئے اچھا نہیں ہے۔ پھڑنویس نے کہا کہ وہ ہمارے سبھی فیصلوں کی مخالفت کرتے ہیں وہ ہمیں مشورے دے سکتے ہیں لیکن مسلسل ایک اپوزیشن پارٹی کی طرح برتاؤ نہیں کرسکتے۔ شیو سینا اور بھاجپا کے درمیان 1989 میں اتحاد ہوا تھا۔ پہلی بار 2014 کے اسمبلی چناؤ سے پہلے سیٹوں کے بٹوارے کولیکر یہ ٹوٹ گیا تھا۔ بعد میں دونوں میں دوبارہ تال میل ہوگیا۔ حال ہی میں شیو سینا ایم پی سنجے راوت نے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی تعریف بھی کی تھی۔ راوت نے کہا کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی میں دیش کی قیادت کرنے کی صلاحیت موجودہے اور خوداعتمادی سے لبریز ہیں۔ لوگ انہیں سننے آرہے ہیں۔ تین سال پہلے تک ان کو پپو کہا جاتا تھا لیکن اب کانگریس کو ان میں ایک لیڈر کی تصویر دکھائی دے رہی ہے اب انہیں پپو کہنا غلط ہے۔ مودی کی لہر کم ہوگئی ہے، جی ایس ٹی لانے سے گجرات کے لوگوں میں غصہ ہے۔ دسمبر میں ہونے والے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو سخت چنوتی کا سامنا کرنا ہوگا۔ وہیں راج ٹھاکرے نے کہا کہ اب بھاجپا کو راہل سے ڈر کیوں لگ رہا ہے۔ بھاجپا شیو سینا اتحاد اگر ٹوٹتا ہے تو پھڑنویس کو سرکار بنانے کیلئے 144 ممبران درکار ہوں گے جبکہ بھاجپا کے پاس122 ہیں۔ این سی پی کے 41 ممبران کوملا کر اتحادی سرکار بنا سکتے ہیں۔
مودی ، شرد پوار کے درمیان ہوئی ملاقاتوں کے دوران ایسی قیاس آرائیاں بھی لگائی جارہی ہیں۔ کبھی ریاست میں شیو سینا کے بھاجپا سے لوک سبھا اور اسمبلی میں زیادہ سیٹیں ملتی تھیں۔1995 میں پہلی بار یہاں غیر کانگریسی حکومت بنی تو بھاجپا شیو سینا کی اتحادی تھی۔ لیکن 2014 میں سب کچھ بدل گیا۔ 2014 لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کو 48 میں سے 23 سیٹیں ملی تھیں جو پچھلے چناؤ سے 14 زیادہ تھیں۔ شیو سینا کو صرف 18 سیٹیں مل پائیں۔ 2014 اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو122 ،شیو سینا کو 63 سیٹیں ملی تھیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بھاجپا اور شیو سینا کے درمیان واقعی ہی خلیج بڑھ رہی ہے یا پھر یہ محض نورا کشتی ہے۔
(انل نریندر)

31 اکتوبر 2017

اب مہاکالیشور مندر میں شیولنگ پر صرف آر او پانی

بارہ جیوتیرنگوں میں شامل اجین کے مہاکال شیولنگ پر اب صرف آرو واٹرکے پانی سے جل ابھیشیک ہوگا شیولنگ میں ہورہی تبدیلی کے پیش نظر سپریم کورٹ نے جمعہ کو نئے قوانین کو منظوری دی. ان قوانین کے تحت پرساد میں پنچامرت میں شکر کی جگہ کھانڈکا استعمال شروع کردیا گیا ہے ۔ مندر میں شیولنگ پر پانی چڑھانے کے لئے آر او کا پانی کا نل بھی لگا دیا گیا ہے. دراصل مہاکال شیولنگ کے چھوٹا ہونے کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی. اس پر عدالت نے آثار قدیمہ کے محکمہ، جغرافیائی ماہرین اور دیگر ماہرین کے ٹیم کو تحقیق کی ہدایت دی تھی. اجین کے باشندے سا ریکا گرو کے ذریعہ دائر عرضیکے بعد میں سپریم کورٹ نے جیوولوجیکل سروے آف انڈیا اور بھارتی آثار قدیمہ سروے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے مشہور بھسمہ آرتی نے کنڈے کی بھسم چڑھائی جاتی ہے جس سے شیولنگ کا وجود جھوٹا ہورہا ہے اس کے علاوہ مہالیشور مندر میں شیولنگ پر جو پانی چڑھایا جا رہا ہے، اس میں جراسیم اور آلودہ بھی ہے ، لہذا پانی کی مقدار کو کم کیا جائے. سپرکورٹ نے ان آٹھ تجاویز پر عمل کرنے کو کہا ہے شردھالو شیولنگ پر 500 ملی لیٹرسے زائد پانی نہیں چڑھا سکتے ہیں. شیولنگ پر صرف آر او کا پانی ہی چڑھایا جاسکے گا بھسم آرتی کے دوران شیولنگ کو خشک سوتی کپڑے سے مکمل طور پر ڈھکا جائے گا. ابھی تک صرف 15 دن کے لئے شیولنگ کا آدھا ڈھکا جاتا رہا تھا شیولنگ پر . چینی پاؤڈر لگانے کی اجازت نہیں ہوگی. کھانڈ کے ا ستعمال کو فروغ دیا جائے گا. ابھیشک کے لئے ہرشردھالو کو مقررہ مقدار میں دودھ یا پنچ امرت چڑھا نے کی اجازت ہوگی . نمی سے بچنے کے لئے ڈرائروپنکھے لگائے جائیں گے۔ اور بیل کاغذ اور پھولوں کی پتیاں شیولنگ کی اونچی حصہ میں چڑھیں گی . پانچ بجے ابھیشیک مکمل ہونے کے بعد شیولنگ کی مکمل صفائی ہوگی اور اس کے بعد صرف خشک پوجا ہوگی. ابھی تک سیور کے لئے رہی ٹیکنالوجی چلتی رہے گی کیونکہ سیور ٹریٹمنٹ پلانٹ کا بننے میں ایک سال لگے گا ۔ اور موجودہ نظام میں تبدیلی ہوئی؟ دراصل مہاکال جیوتیرنگ کو پہنچ رہے نقصان کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ نے ایک ماہر ین کمیٹی تشکیل دی تھی . کمیٹی نے گربھ گرہ میں شردھالو ں کی تعداد محدود کرنے ، پانی اور دودھ سے بنے پنچ امرت کی مقدار کم کرنے جیسے کئی سفارشات کی تھی۔مہاکال میں آر او کی پانی سے ابھیشک کے فیصلے پراکھل پارتے اکھاڑہ جلد ہی ججوں سے ملے گا. حالانکہ اس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہی ہے ہے، لیکن اس فیصلے کو غیر معمولی ہے. پریشد کے سربراہ مہنتنریندر گری نے بیان میں کہا کہ مذہبی معاملات میں فیصلہ کرنے سے قبل پہلے ججوں کو حکم دینے سے پہلے دھرم آچاریوں سے تجاویز بھی لینی چاہئے کیونکہ یہ آستھا کا معاملہ ہے ۔. لوگ اپنی خواہشات کا پورا ہونے پر بالٹییا اس سے زیادہ پانی سے ابھیشیک کرنا کرنے کی منت کرتے ہیں. شہد اور دہی وغیرہ سے بھی ا بھیشیک کیا جاتا ہے. . اس میں آدھا لیٹر آرو کا پانی لاؤ کے لئے کس طرح مجبور کیا جا سکتا ہے. مہاکالیشور مندر میں پوجاکی قانون پر سپریم کورٹ کا فیصلہسنانے والے جسٹس ارون مشر نے اس مندر میں پنڈوں کی شان وشوکت پر بھی کڑا تبصرہ کی. جسٹس نے جب مندر کی جایجا لیا تو پتہ چلا کہ یہ پنڈوں کا رہن۔سہن کسی راجے۔مہاراجے سے کم نہیں ہے. یہاں تک کہغیر ملکی سیاحبھی یہ دیکھ کر حیرت پڑجائیں . جسٹس مشرنے یہاں پینڈوں کے درمیان گروپ سیاست پر بھی سوال اٹھائے ہیں. انہوں نے کہا کہ پینڈے بھگتوں سے بھی امتیاز کرتے ہیں. وی وی آئی پی غیر ملکیوں اور عام لوگوں سے پیش آنے کا ان کا طریقہ اور ان کے لئے پوجا بھی مختلف ہے. اس طرح کی پوجا کا طریقہ کار میں تبدیلی پہلی بارکی گئی ۔
(انل نریندر)

ہماچل میں بھی بھاجپا کا بھروسہ مودی پر ہے

گجرات کے سمبلی انتخابات کی سرگرمیوں میں ہم نے ہماچل ریاست کے انتخابات کو تو بھول ہی گئے ہیں. ہماچل پردیش اسمبلی چناؤ 9 نومبر کو ہونے والے ہیں مشکل سے 10 دن بچے ہیں. اس وقت یہاں اب تک کانگریس کا راج تھا. ویربھدر سنگھ کانگریس کے وزیر اعلی تھے اور اگلے انتخابات بھی ہو سکتے ہیں. ہماچل کی تاریخ ایسی ہے کہ یہاں ہر پانچ سال میں حکومتیں بدلتی ہیں. بی جے پی نے ایک بار پھر 73 سالہپریم کمار دھومل پر داؤل لگا یا ہے ۔. سابق وزیر اعلی شانتا کمار اور صحت وزیر جے پی نڈا کی امیدوں پر دوبارہ پھر پانی واپس آ گیا ہے. پارٹی نے دو آزاد اور تین کانگریس لیڈروں کو ٹکٹ دیا جبکہ چار موجودہ ایم ایل اے کیا ٹکٹ کاٹاگیا ہے. کانگریس چھوڑنے کے بعد پنڈتسکھرام کے بیٹے انل شرما کو بھی بھاجپانے ٹکٹ دیا. کانگریس کے دو باغیوں وجے جوتی سین اور پرومودو شرما کو شملہ گرایمیئن سے ٹکٹ دیا. دو آزاد ممبروں میشو ر سنگھ کو کلو سے اور تھیونگ سے راکیششرما. چھ خواتین کو بھی میدان میں اتر دیا گیا ہے. گجرات کی طرح ہماچل اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی مہم وزیراعظم نریندر مودی کے ارد گرد ہی رہے گی . وزیر اعظم تقریبا آدھادرجن ریلیاں کریں گے. ان کی پہلی ریلی دو یا تین نومبر کو ہوگی اس درمیان میں بی جے پی کی قیادت نے ریاست کے رہنماؤں کو سخت ہدایات دی ہے کہ کمپین کے دوران وہ کسی رہنما کو وزیر اعلی کے طور پر پیش نہکریں.ہماچل میں کانگریس کی طرح بی جے پی کو بھی باغیوں کا مسئلہ سیلڑنا پڑرہا ہے . پارٹی تقریبا دو درجن باغیوں کو منانے میں جٹی ہے. اس کے علاوہ ریاست میں اندرونی گروپ بازی بھی ایک بڑی مسئلہ ہے. سابق وزیراعلی پریم کماردھومل اور مرکزی وزیر جے پی نڈا کے گروپ میں رسہ کشی ہے . کانگریس نے ہماچل اسمبلی چناؤ کے لئے تال میل کمیٹی بنائی ہے . پارٹی کے جنرل سیکرٹری جناردن دیویدی نے کہا کہ ودیا ٹوکس کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے دیگر ممبر ہیں وزیراعلی و یر بھدر سنگھ پردیس صدر سکھ وندر سنگھ سکھو وغیرہ شامل ہیں. ریاست میں تبدیل کا ماحول ہونے کے باوجود بھاجپا کی پریشانی کا موضوعجی ایس ٹی ہے اسے لیکر لوگو ں میں ناراضگی ہے حالانکہ پاٹی لیڈروں کو امید ہے کہ وزیر اعظم نریندرمودی اپنی تقریروں میں جی ایس ٹی پر پوزیشن صاف کریں گے اور اس کے بعد ماحول بہتر ہوجائے گا ۔ راہل گاندھی، سونیا گاندھی سمیت کیپٹن امیرندر سنگھ اور دیگر سینئر لیڈر بھی کانگریس کی طرف سے انتخابیمہم میں اتریں گے لیکن بی جے پی کا سارا دارومداروزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت پر ٹکا ہے۔
(انل نریندر)

29 اکتوبر 2017

بالی ووڈ میں اب ستارے نہیں کہانی اورتھیم چلے گی

ہماری زندگی میں پیسے کی قیمت اور اہمیت کو لیکر پچھلے 60 برسوں میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں ہیں اس کا ہمیں اپنی ریلیز ہندی فلموں سے تھوڑا سا پتا چلتا ہے۔ آزادی کے بعد بالی ووڈ میں کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ ناظرین کی پسند بدلی ہے۔ فلموں کا مواد بدلہ ہے۔ اگر ہم 50-60 کی دہائیوں پر غور کریں تو ہیرو غریب سے پیدا ہوتا ہے یا غریبی اس پر تھوپ دی جاتی ہے اور اس کے ہیرو ہونے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اتنا کماتا رہے تاکہ زندہ رہ سکے اور ایسا کرنے میں وہ ہمیشہ ایماندار رہتا ہے۔ فلم کا پس منظر دیہی ہو یا شہری یہ بات عائد ہوتی تھی۔پیسہ صرف ویلن یا کھلنائک کے پاس ہوتا تھا جو رئیس بنے رہنے و استحصال کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈہ اپناتا تھا۔ فلم کے مواد پر، کہانی پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی بہ نسبت اس کی باکس آفس پر ۔ آج کے دور میں سب کچھ بدل رہا ہے۔ کہانی، اسکرپٹ پر توجہ کم ہے ستاروں پر پیسوں کی کمائی پرزیادہ ہے۔ آج فلم صنعت کروڑوں روپے کا دھندہ بن گئی ہے لیکن اگر ہم اس مالی برس کی پہلی چھ ماہی بالی ووڈ کے لئے باکس آفس کے لحاظ سے نظر ڈالیں تو پائیں گے کافی سستی ہے۔ اس دوران صرف 7 فلمیں ہٹ کے زمرے میں داخل ہوپائیں۔ جبکہ قریب 70 فیصد ہندی فلمیں اپریل سے30 ستمبر کے دوران ریلیز ہوئیں۔ ان میں اے اور بی دونوں کٹیگری کی فلمیں شامل ہیں۔ اس میں بھی اہم بات یہ ہے کہ خان (سلمان اور شاہ رخ خان) دونوں ہی سنیما ہالوں تک ناظرین کو نہیں لا پائے۔ سلمان کی ’ٹیوب لائٹ‘ اور شاہ رخ کی ’جب ہیری میٹ سیجل‘ کو ناظرین سے ڈھنگ کی توجہ نہیں ملی۔ جن فلموں نے باکس آفس پر اچھی پرفارمینس دی ان کی کہانی اسکرپٹ زبردست تھا۔ صرف ’ٹوائلٹ: ایک پریم کتھا‘ اور ’جڑواں 2 ‘ میں ہی اکشہ کمار اور ورون دوھن جیسے بڑے ایکٹر تھے، دیگر ہٹ فلموں میں ہندی میڈیم ،شبھ منگل ساودھا، بریلی کی برفی، سچن ۔اے بلن ڈریمس، نیوٹن اور لپسٹک اندر مائی برقعہ میں بڑے ستارے نہیں تھے۔دھرما پروڈکشن کے سی ای او اپورو مہتہ نے بتایا، فلم انڈسٹری کے لئے2017 ایک تاریخی سال رہا ہے۔ اس نے ثابت کردیا ہے کہ صرف اسٹار پاور ہی کسی فلم کی کامیابی کی گارنٹی نہیں ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سامعین الگ الگ طرح کی فلموں کو آج قبول کررہے ہیں۔ سیدھے طور پر مواد پوری طرح سے باکس آفس کا بادشاہ بن کر ابھرا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہندی فلموں کی پروڈکشن اور ٹکنیکل اسکل پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ باہو بلی میں ہم نے جو ٹیکنیکل افیکٹس دیکھے ہیں وہ کسی بھی ہالی ووڈ فلم سے برابری کرتے ہیں۔ فلم کا سائز اور اسکیل اب اہمیت نہیں رکھتے۔ جب تک ہمارے پاس کہانی نہیں ہوگی جسے اچھے سے کہا جائے تب تک ناظرین کسی فلم کوتوجہ نہیں دیں گے۔ ناظرین نے نہ صرف خان برادرس کو مسترد کیا بلکہ انہوں نے ایلیسٹرس کی دوسری فلموں کو بھی بری طرح سے نامنظور کردیا۔ ان میں امیتابھ بچن کی ’سرکار۔3‘ سوشانت سنگھ کی ’رابطہ‘ سدھارتھ ملہوترہ کی ’اے جنٹل مین‘ سوناکشی سنہا کی ’نور‘ شامل ہے۔ ناظرین ستاروں کے بجائے اچھے مواد کو اب پسند کرتے ہیں۔ لوگ یا تو زبردست اسٹوری والی فلم چاہتے ہیں یا پھر بہتر ویژول ایفکیٹس کو پسند کرتے ہیں۔ فلموں میں میوزک اہم ترین ہے لیکن اچھا میوزک بھی فلم کی کامیابی کی گارنٹی نہیں رہی۔ اس سال کی پہلی چھ ماہی میں فلاپ ہونے والی دیگر فلموں میں ’بیگم جان‘ ، ’میری پیاری بندو‘، ’جگا جاسوس‘، ’پوسٹر بوائے‘، ’سمرن‘، ’ڈے ڈی‘، ’لکھنؤ سینٹرل جیل‘، ’حسینہ پارکر‘ ،’بادشاہو‘، ’منا مارکل‘ اور ’ہاف گرل فرینڈ‘ خاص ہیں۔ فلم والے دیش کی سیاست اور سیاسی اشوز پر گہری نظر رکھتے ہیں خاص کر ساؤتھ بھارت میں ۔وہ جنتا کو متاثر کرنے والے متنازعہ اشوز کو بھی دکھانے سے نہیں کتراتے۔ حال ہی میں ساؤتھ انڈیا کے فلم اداکار وجے کرن کی فلم ’مرسل‘ اس سال کی سب سے بڑی تمل فلم مانی جارہی ہے۔ فلم نے تمام تنازعوں کے باوجود باکس آفس پر پہلے تین دنوں میں ہی قریب 100 کروڑ روپے کما لئے۔ خاص بات یہ ہے کہ وجے کی چار فلمیں 100 کروڑ کے کلب میں شامل ہوچکی ہیں۔ یہ ہی نہیں تاملناڈو میں یہ فلم سپر اسٹار رجنی کانت کی ’کبالی‘ کے ریکارڈ کو پارکرچکی ہے۔ وہیں فلم جی ایس ٹی سے جڑے مناظر سے تنازعوں میں ہے۔ا س میں ہیرو وجے کہتے ہیں سنگا پور میں سات فیصد جی ایس ٹی ہے پھر بھی وہاں مفت میں طبی سہولیات ہیں۔ آج کے لوگوں کو یہ ڈائیلاگ گوارا نہیں۔ بھاجپا نیتا اس منظر کو ہٹانے کی مانگ کررہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ سینسر بورڈ نے اس فلم کو منظوری تو دے دی ہے لیکن اب تحریک کا مطلب کیا ہے؟ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اور ان کے ساتھی پی چدمبرم اور ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن اور اداکار کمل ہاسن اور تمل پروڈیوسرز کونسل اور تمل سنیما انڈسٹری کے نمائندوں نے حالانکہ اس مسئلہ پر فلم سے وابستہ لوگوں کی حمایت کی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ ناظرین اب ستاروں سے زیادہ فلم کی کہانی و تھیم وغیرہ کو پسند کرنے لگے ہیں۔ اس سے ہماری فلموں کا معیار بڑھے گا۔
(انل نریندر)

سکڑتی آئی ایس: راجدھانی رقہ بھی آزاد ہوا

دنیا بھر میں دہشت کی علامت بن چکی اسلامک اسٹیٹ اب سکڑتی جارہی ہے۔ شام اور عراق کے تنظیم کے سرغناؤں کو بھگایا جاچکا ہے جس کے بعد وہ نئی زمین تلاشنے میں لگ گئے ہیں۔ امریکی حمایتی جنگ بازوں نے اعلان کیا ہے کہ شام کے رقہ شہر کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔ یہ آئی ایس کا گڑ مانا جاتا تھا۔ اس آتنکی تنظیم نے پچھلے تین سال سے یہاں اپنا اڈہ جمایاہوا تھا۔ سریائی ڈیموکریٹک فورس کے ترجمان تاللسلو نے اسے ایک تاریخی کارنامہ قراردیا۔ ایچ ڈی ایف کرد اور عرب جنگ بازوں کا اتحاد ہے۔ اس جنگ میں کرد خاتون فرنٹ پر آکر آئی ایس آتنک وادیوں سے مورچہ لے رہی تھیں۔ رقہ کی سڑکوں پر فوج کے جوان اور عام لوگوں نے آئی ایس سے چھٹکارا پانے پر جشن منایا۔ آئی ایس نے رقہ کو اپنی راجدھانی بنا رکھا تھا۔ چارسال سے اس کا قبضہ تھا۔ اس کے علاوہ دیہوئٹرج جوٹ شہر میں آئی ایس کا قبضہ ابھی بھی ہے۔ یہ موصل اور رقہ کو جوڑتا ہے۔ یہاں پر روس لگاتار حملے کررہا ہے لیکن ابھی آئی ایس کے پاس شام کے تین سب سے بڑے تیل کارخانے ہیں ان میں13500 بیرل تیل یومیہ نکالنے کی صلاحیت ہے۔ یمادن شہر آئی ایس کا انتظامی مرکز ہے۔ فرات ندی کے کنارے بسے شہروں پر ابھی بھی آئی ایس کا قبضہ ہے یہ فوجی طور پر اہم ہے۔ یہیں سے وہ شام اور عراق میں لمبی آتنکی سرگرمیوں کو انجام دیتا ہے۔ ویسے بتادیں کہ آئی ایس کا دائرہ 1 لاکھ مربع کلو میٹر علاقے سے سمٹ کر 20 ہزار مربع کلو میٹر تک محدود رہ گیا ہے۔ ان ڈھائی برسوں میں محصول کے تئیں ماہانہ 527 کروڑ روپے سے گھٹ کر 100 کروڑ رہ گئی ہے۔ 2015 میں آئی ایس کا شام اور عراق کی 126 جگہوں پر قبضہ تھا ان میں سے86 علاقوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔ آئی ایس کے ہاتھوں سے رقہ ، موصل ،فلوجہ، رمادی ،کوبانی، تکرت الاظہر جیسے دس بڑے شہروں کو بھی آزاد کرا لیا گیا ہے۔ خبر ہے کہ آئی ایس اب لیبیا کو اپنا عارضی گڑھ بانے کی تیاری میں ہے۔ ماہ ستمبر میں لیبیا کے پڑوسی دیش تیونس اور مصر میں آئی ایس کے چار سیل بے نقاب کئے گئے ہیں۔کلیرین پروجیکٹ کے ماہر رین میجر کا کہنا ہے کہ یہ مشکل ہے کے آئی ایس کا اگلا ٹھکانا کہاں ہوگا؟ اگر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شام اور عراق سے بھگائے جانے کے بعد وہ لیبیا کی طرف جا سکتے ہیں۔ فلپین، ملیشیا، یمن اور پاکستان و افغانستان میں بھی آئی ایس کی پہنچ بن چکی ہے۔ لیکن تشویش کا موضوع یہ ہے کہ آئی ایس کے سکڑنے کے باوجود دنیا بھر میں ان سے جڑی تنظیمیں آتنکی حملہ کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں۔ بغدادی کے مرنے کی کئی بار خبریں آئی ہیں لیکن وہ غلط ثابت ہوئی ہیں۔ بغدادی آج بھی زندہ ہے۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...