Translater

09 جنوری 2016

نارتھ کوریا کے ہائیڈروجن بم تجربے سے ساری دنیا فکر مند

نارتھ کوریا کے ڈکٹیٹر کم جانگ نہ صرف مشرقی کوریا کیلئے ہی بلکہ ساری دنیا کیلئے ایک مصیبت ہیں۔ پہلے بتادیں کہ یہ کم جانگ کون ہیں؟ 31 دسمبر 2011ء کو ڈکٹیٹر والد کے بعد کم نارتھ کوریا کے اقتدار پر قابض ہوئے۔ کم نے اپنے ماما اور ڈپٹی چیف جنگ اسپینگ تھامک کو 2013ء میں موت کی سزا دی۔ اگست2013 میں ہی اپنی سابق محبوبہ کو گولیوں سے بھنوادیا۔ دسمبر2013ء میں اپنے پھوپا جانگ سونگ پر بھوکے کتے چھوڑ کر قتل کروادیا۔ اقتدار میں قابض ہونے کے بعد کم نے 70 سے زیادہ افسران کو موت کی سزا دی۔ اپنی ہی رو میں چلنے والے نارتھ کوریا کے یہ ڈکٹیٹر دنیا کے لئے ایک نیا سردرد پیدا کرنے میں اب کامیاب ہوگئے ہیں۔ متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کو لیکر مغربی ملکوں کے نشانے پر رہنے والے نارتھ کوریا نے ایک ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس کے اس دعوے سے پوری دنیا میں کھلبلی مچنا فطری ہی ہے۔ نیوکلیائی بم سے ہزاروں گنا زیادہ تباہ کن ہائیڈروجن بم کے مبینہ طور پر علاقے میں زلزلہ آنے کی بھی بات سامنے آئی ہے۔ جس کی رفتار ریختر اسکیل پر 5.1 ناپی گئی ہے۔ خیال رہے کہ ہائیڈروجن بم عام ایٹمی بم سے قریب1 ہزار گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ پہلی بار 1952ء میں امریکہ نے اس کا تجربہ کیا تھا۔ ابھی روس، برطانیہ، چین اور فرانس کے پاس ہائیڈروجن بم ہیں۔ نارتھ کوریا نے بڑی چالاکی سے آہستہ آہستہ اپنا نیوکلیائی پروگرام کو آگے بڑھایا ہے۔ اس نے 2006ء ،2009 اور 2013ء میں نیوکلیائی تجربے کئے۔ اپنے والد کم جانگ ال کی موت کے بعد اقتدار سنبھالنے والے یہاں کے 33 سالہ حکمراں کم جانگ نے پہلا اعلان یہ کیا تھا کہ نارتھ کوریا نہ تو ایٹمی بم بنائے گا اور نہ اپنا میزائل پروگرام جاری رکھے گا۔ لیکن اپنے والد کی طرح ہی کم جانگ جلد ہی پھر گئے اور ایک میزائل چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ اگر نارتھ کوریا کا ہائیڈروجن بم کا تجربے کا دعوی سچ ہوا تو دنیا کے لئے نارتھ کوریا کی طرف سے نیوکلیائی خطرہ بڑھ جائے گا۔ حالانکہ ماہرین کے اس دعوے پر پوری طرح سے یقین نہیں ہے۔ منگلوار کو نارتھ کوریا کے سرکاری چینل کی ایک اینکر نے اس کا اعلان کیا۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ تجربہ پوری طرح سے کامیاب رہا۔ تجربے کی خوشی نے میں راجدھانی پیونگ یانگ کی سڑکوں پر جشن منایا گیا۔ اینکر کی طرف سے کئے گئے اعلان کے قریب ایک گھنٹے پہلے امریکی اراضی سروے ادارے نے دیش کے نارتھ مشرق میں 5.1 کی رفتارکے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کی جانکاری دی۔ ان جھٹکوں کا مرکز پیونگ ری نام کی اس جگہ کے قریب تھا جہاں اس سے پہلے نارتھ کوریا نیوکلیائی تجربہ کرتا رہا ہے۔ حالانکہ ماہرین کا خیال ہے کہ جس تیزی کا جھٹکا محسوس ہوا اس سے لگتا ہے کہ کم جانگ انتظامیہ نے نیوکلیائی بم کا تجربہ کیا ہے کیونکہ اگر یہ ہائیڈروجن بم ہوتا تو اس سے پیدا ہونے والا جھٹکا دس گنا زیادہ ہوتا۔ ہائیڈروجن بم کے تجربے سے 54 میگا ٹن کا دھماکہ قریب 16 کلو میٹر چوڑا آگ کا گولہ بنتا ہے جبکہ نیوکلیائی دھماکے سے قریب20 کلو ٹن سے آدھا کلو میٹر آگ کا گولہ بنتا ہے۔ ہائیڈروجن بم کے پھٹنے سے خطرناک ریڈی ایشن کا اثر فوراً 12.8 کلو میٹر سے 19 کلو میٹر تک کے دائرے میں ہوتا ہے۔ جبکہ نیوکلیائی دھماکے میں1.6 کلو کلی کا دائرہ خطرناک ریڈی ایشن کے اثر میں آتا ہے۔ جب جب نارتھ کوریا نے ایسی حرکت کی تو سکیورٹی کونسل نے اس کے خلاف پابندیاں لگائیں لیکن ان پابندیوں کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ چین سے اس کو کبھی چپ چاپ تو کبھی کھلے طور پر مدد مل رہی ہے۔ یہ بھی بتادیں کہ پاکستان کے نیوکلیائی پروگرام میں بھی نارتھ کوریا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ پاکستان، نارتھ کوریا اور چین ایک ساتھ ہیں۔ چین بے شک گھڑیالی آنسو بہائے لیکن اندر خانے امریکہ کے بڑے دشمن نارتھ کوریا کی حمایت کرتا ہے۔ رہی بات مغربی ملکوں کی اس سے سب سے زیادہ خطرہ امریکہ کوہے۔ ساؤتھ کوریا و جاپان کو ہے لیکن ساری دنیا کو اس لئے فکر مند ہونا پڑے گا کیونکہ نارتھ کوریا کا ڈکٹیٹر کم جانگ ا ن لیڈروں میں بہت زیادہ غیر ذمہ دار ، خطرناک لیڈر ہے۔
(انل نریندر)

جسٹس لوڈھا کمیٹی کی سفارشوں کا خیر مقدم ہے

بھارتیہ کرکٹ بورڈ میں اصلاحات کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعے بنائی جسٹس لوڈھا کمیٹی نے 159 صفحات کی سفارش عدالت کو پیش کردی ہے۔ اگر ان سفارشوں کو لاگو کردیا گیا تو موجودہ کرکٹ نظام میں خاص کر کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) میں سب کچھ بدل جائے گا۔ کمیٹی کی اہم سفارشوں میں سٹے بازی کو قانونی حیثیت دینا، ایک ریاست میں ایک ایسوسی ایشن، بی سی سی آئی کو آر ٹی آئی کے دائرے میں لانا، وزیر یا سرکاری ملازمین کو بورڈ کے عہدے دار بننے پر روک لگانا اور کرکٹ کھیل کا چلانا کرکٹروں کے ہاتھ میں دینا، قابل ذکر ہیں۔ بی سی سی آئی کے پاس سنہرہ موقع ہے۔ جسٹس آر ایم لوڈھا کمیٹی کی سفارشوں کو اپنا کر وہ بدنامیوں کی تاریخ سے پیچھا چھڑا سکتی ہے جبکہ ان پر عمل روکنے کی کوشش ہوئی توعوام الناس میں بی سی سی آئی کی ساکھ اور خراب ہوگی۔ ان سفارشوں میں سے کتنی منظور کی جاتی ہیں کہنا مشکل ہے لیکن اس رپورٹ میں بھارتیہ کرکٹ انتظامیہ کو ضرور آئنہ دکھا دیا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر کرکٹ میں سیاسی طبقے افسروں اور صنعتی دنیا کی کتنی دخل اندازی ہے اتنی کسی اور کھیل میں نہیں ہے۔ جسٹس لوڈھا نے عہدے داران کے لئے عمر اور کام کی میعاد طے کرنے کی سفارش کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وزرا کو بورڈ کے انتظامیہ سے دور رہنا چاہئے۔ حقیقت میں ممبئی اور بنگال کرکٹ فیڈریشنوں کو چھوڑدیا جائے تو زیادہ تر کرکٹ فیڈریشنوں کی کمان سیاسی لیڈروں ، افسروں اور صنعتکاروں کے ہاتھ میں ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال تو خود بی سی سی آئی ہے جس میں طویل عرصے سے صنعتکار سیاستدانوں کا قبضہ رہا ہے۔ بورڈ کا اقتدار سیاستدانوں کے ہاتھ سے کھینچنا سب سے ٹیڑھا معاملہ ہے۔ اس وقت بورڈ کی کل34 یونٹوں میں سے تقریباً27 میں سیاستداں قابض ہیں لیکن اگر سپریم کورٹ بھی عمل کے لئے کہتا ہے تو دیش کے نیائے سسٹم کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کو آسانی سے لٹکایا جاسکتا ہے۔ویسے بھی بورڈ کے عہدے دار اور اس کے کچھ نامی گرامی وکیل پچھلے کچھ دنوں سے یہ ماحول بنانے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی کمیٹی کی سبھی سفارشوں کو نافذ کرنا ضروری نہیں ہے۔ اصل میں جسٹس لوڈھا کمیٹی کا قیام جسٹس مکل مدگل کمیٹی کے ساتھ ہی کیا گیا تھا، جسے آئی پی ایل میں سٹے بازی کی جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ جیسا ایان چیپل نے حال ہی میں کہا تھا کہ ضروری نہیں سارے کرکٹ اچھے منتظم ہوں مگر کرکٹ کی ساکھ بچانا ضروری ہے اور ایسا تبھی ہوسکتا ہے جب اسے سیاسی طبقے ،افسر شاہی اور صنعتی دنیا کے گٹھ جوڑ سے بچایا جائے۔ ان سفارشوں کا لاگو ہونا بہت کچھ سپریم کورٹ کے موقف پر منحصرکرے گا۔ جہاں تک سٹے بازی کو قانونی حیثیت بنانے کی بات ہے ، تو اس بارے میں طویل عرصے سے ایسا کرنے کے بارے میں کہا جارہا ہے لیکن دیش میں کرکٹ کا مسئلہ سٹے بازی سے زیادہ فکسنگ کا ہے، اس لئے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ لوڈھا کمیٹی نے اس بارے میں کوئی سفارش نہیں کی ہے۔ بہت سے ملکوں میں سٹے بازی کو قانونی حیثیت حاصل ہے، مگر اس سمت میں قدم اٹھانے سے پہلے اس کے تمام امکانی نفع نقصان پر وسیع غور کرنا ضروری ہوگا۔ ویسے لوڈھا کمیٹی نے کھیل انتظامیہ کا بہترین خاکہ سامنے رکھا ہے۔ دیش کی تمام کھیل فیڈریشنوں کو چلانے کو پیشہ آور اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے اس میں جسٹس لوڈھا کمیٹی کی سفارشیں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
(انل نریندر)

08 جنوری 2016

نواز شریف کی شرافت پر بھروسہ

پاکستان کے ذریعے پٹھانکوٹ پر حملہ صرف ایک دہشت گردانہ واردات نہیں مانی جاسکتی۔ یہ تو بھارت پر حملہ تھا۔دیش کی عزت پر حملہ تھا۔ جہاں تک ہم ابھی تک سمجھ سکے ہیں اس حملے کا جواب بھارت کوئی سخت سندیش یا کوئی کڑی کارروائی کی جگہ یہ امیدکررہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف حملہ آوروں پر سخت کارروائی کریں گے اور اس یقین دہانی سے ہمیں مطمئن کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگلوار کو پاک ہم منصب نواز شریف سے پٹھانکوٹ حملے کے گناہگاروں پر سخت کارروائی کرنے کو کہا۔ نواز نے بھی بلاتاخیر یقین دلایا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن قدم اٹھائیں گے۔ نواز شریف کیا کریں گے یہ ہم نے کئی بار پہلے بھی دیکھا ہے۔ دراصل وہ ان چاروں کے ہاتھ میں ہیں جو کچھ نہیں چاہتے ہوئے بھی پاک فوج کے ہاتھ محض کٹھ پتلی بنے ہیں۔ نواز شریف نے وزیر اعظم مودی کو فون کر ہند۔ پاک بامقصد بات چیت بچانے کی کوشش کی ہے لیکن ملک کے شہریوں کو اب محض یقین دہانیوں پر تشفی نہیں کرنی پڑے گی کہ پاکستان جانچ میں پورا تعاون دے گا۔ ہند۔ پاک سیکریٹری سطح کی بات چیت منسوخ کرنا بھی ہم کوئی جوابی کارروائی نہیں مانگے۔ یہ حملہ پاکستانی فوج اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ جو جانکاریاں سامنے آرہی ہیں ان سے تو یہاں تک لگتا ہے کہ ان دہشت گردوں کو پاکستانی ایئر فورس بیس پر ایک مہینے کی باقاعدہ ٹریننگ دی گئی تھی۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایئر بیس پر کون سی چیز کہاں رہتی ہے۔ کون کون سے ٹارگیٹ ہیں۔ یہ اگر صحیح ہے تو پاکستان سرکار، فوج کی مدد کے بغیر کوئی نان اسٹیٹ ایکٹرن ہیں کرسکتا۔ پٹھانکوٹ آپریشن اتنے دن بعد بھی ہماری سکیورٹی ایجنسی صحیح میں یہ نہیں بتا پارہی ہیں کہ کتنے دہشت گرد ایئر بیس میں گھسے تھے؟ کہا جارہا ہے کہ آتنکی دو گروپ میں آئے تھے ،ایک گروپ ایئربیس میں پہلے ہی گھس پیٹھ کرچکا تھا ۔ یہ بھی مانا جارہا ہے کہ دہشت گردوں نے خودکو دو اور چار گروپوں میں بانٹ لیا تھا۔ ان میں سے دو دہشت گرد تو الرٹ جاری ہونے سے پہلے ہی ایئربیس میں داخل ہوچکے تھے۔ انہوں نے وہیں جھاڑیوں میں گھس پر سنیچر کی صبح تک انتظار کیا۔اس کے اشارے دہشت گردوں کی پاکستان میں بیٹھے اپنے آقاؤں کے ساتھ فون سے ملتے ہیں۔6 دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد بھی وزیر دفاع یا فوج کی طرف سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے۔ سبھی دہشت گردوں کا صفایا ہوچکا ہے۔ابھی تک یہ صحیح نہیں پتا چلا کہ غلطی کہاں ہوئی۔ پٹھانکوٹ حملے میں مختلف سطحوں پر ہوئی چوک کے لئے ذمہ داری طے ہونا ضروری ہے۔بی ایس ایف نے اپنی ابتدائی جانچ رپورٹ میں کہا ہے کہ دہشت گرد سرحد پر باڑھ پار کرکے نہیں گھسے تھے بلکہ وہ راوی ندی کی طرف سے دہشت گردوں کے گھسنے کے امکان زیادہ ہیں۔ ادھر پنجاب پولیس پر اپنے ہی ایس پی کی اطلاع پر فوری کارروائی نہ کرنے اور اطلاع ملنے کے باوجود دہشت گردوں کو ایئربیس پہنچنے سے روکنے میں ناکام کا الزام لگ رہا ہے۔ گوردار پور کے ایس پی سلوندر سنگھ کا تبادلہ دودن پہلے ہو چکا تھا۔ 31 دسمبر کی رات کو قریب11 بجے ایس پی اس سرحدی علاقے میں ایک مزارسے لوٹ رہے تھے جس میں وہ پہلی بار گئے تھے۔ نروٹ جے مل سنگھ کے پاس دہشت گردوں نے ان کا اغوا کرلیا۔ جہاں اغوا کیا گیا وہ پٹھانکوٹ ایئر بیس سے 40 کلو میٹر کی دوری سے بھی کم ہے۔ نیلی بتی لگی مہندرا ایکس یو وی سے یہ سفر طے کرنے میں ایک گھنٹہ بھی نہیں لگا ہوگا۔ تین کلو میٹر پہلے پنکچر ہونے کے بعد بھی ان کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ ڈیڑھ یا دو بجے تھے ٹارگیٹ تک پہنچ جائیں۔ جانچ میں سامنے آرہا ہے کہ قریب 2 بجے ہی پنجاب پولیس کے سینئر افسران تک یہ خبر پہنچ چکی تھی لیکن غیر الرٹ جاری ہونے سے پہلے ہی دہشت گرد ایئر بیس میں داخل ہوچکے تھے۔ دوسرے لفظوں میں ایس پی کے اطلاع دینے سے پہلے دہشت گردوں کو اتنا وقت مل چکا تھا کہ ایئربیس میں داخل ہوجائیں۔ سلوندر سنگھ بار بار اپنا بیان بھی بدل رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کی لاپروائی اور ہماری سکیورٹی ایجنسیوں میں تال میل کی کمی ان پرپھر روشنی ڈالوں گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نواز شریف پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کررہے ہیں۔ وہ کچھ نہیں کرسکتے جب ان کی آنکھ کے نیچے اٹل جی بس سے لاہور گئے تھے توجواب ملا تھا کارگل، پٹھانکوٹ حملے نے جو زخم ہندوستانی عوام پر چھوڑے ہیں وہ کوہری یقین دہانیوں، تقریروں،نعروں سے شایدہی بھر سکیں۔
(انل نریندر)

حکومت ۔انتظامیہ چلانا بھی ایک فن ہے

انتظامیہ چلانا و سرکار چلانا خالہ جی کا کھیل نہیں ہے۔ سرکار چلانے میں فن اور ٹیلنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس نیتا و اس کے ساتھیوں نے صرف سڑک چھاپ سیاست کی ہو ، صرف تحریک ہی چھیڑی ہو وہ نیتا سرکار کیسے چلا سکتا ہے؟میں دہلی سرکار اور عام آدمی پارٹی کی بات کررہا ہوں۔ کسی بھی سرکار یا انتظامیہ کو چلانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ آئی اے ایس و دیگر انتظامی افسران کو ساتھ لیکر چلیں۔ اگر آپ انہیں گالی دے کر یہ امیدکریں کہ وہ آپ کے کہنے پر چلیں گے تو یہ مشکل ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کہتے ہیں کہ افسروں کی غنڈہ گردی نہیں چلے گی۔ ڈینکس کیڈر کے دوسینئر افسروں کی معطلی کے مسئلے پر افسر اور سرکار آمنے سامنے آگئے ہیں۔ کیجریوال کہتے ہیں کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا صرف آئی ایس یا ڈینکس افسر ہی کی تقرری ہوگی۔ بھارت کی تاریخ میں شہید آئی ایس افسر ہڑتال پر نہیں گئے۔ یہاں سیاسی اسباب سے ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ وزیر اعلی نے ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں یہاں تک کہہ دیا کہ آج دیش میں جو حالات ہیں افسر شاہی کی وجہ سے ہیں۔آئی اے ایس کوئی الگ سسٹم نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ دہلی کے وزیر اعلی ہم شری کیجریوال کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ اس آئی اے ایس کو گالی دے رہے ہیں، غنڈہ کہہ رہے ہیں جنہیں 20-25 سال کا انتظامی تجربہ ہے۔ آپ کو تو آئی اے ایس کا مشکل سے 4-5 سال کا تجربہ ہے اور اس میں بھی آپ ایک بھگوڑا ہیں۔ آپ ان کو گالی دے رہے ہیں؟ دراصل ہم کیجریوال کو قصوروار نہیں ٹھہراسکتے ، انہوں نے اپنی تمام عمر سڑک چھاپ سیاست کی ہے۔ سڑکوں پر اتھارٹی کے خلاف تحریک چلائی ہے ، وہ کبھی بھی کسی کو ساتھ لیکر نہیں چل سکے۔ پہلے وزیر اعظم پھر وزیر خزانہ اس کے بعد لیفٹیننٹ گورنر اور اب افسر شاہی سے بھی تو آپ کا ٹکراؤ چل رہا ہے۔ گالی گلوچ چل رہی ہے۔ کھلے طور پر تو نہیں لیکن بڑے سطح پر افسر کہہ رہے ہیں جن سے کام کروانا ہے اسے سرکار بھاجپا کی ’بی‘ ٹیم ،کرپٹ اور کمزور کہہ رہی ہے۔ ایسے میں ٹکراؤ نہیں بڑھے گا تو اور کیا ہوگا؟جو بات کیجریوال سمجھ نہیں رہے ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے کہ جب کیندریہ سرکار یا لیفٹیننٹ گورنر کسی فیصلے پر آگے بڑھنے سے منع کردیں تو پھر دہلی میں تعینات افسر فائل کیسے سائن کریں گے؟ سرکار کے قریب قریب سبھی محکموں میں ایسے ہی تمام یوجنائیں اب رکیں گی۔ دہلی سرکار نے تنخواہ بھتے بڑھانے کا فیصلہ بھی کیبنٹ سے کیا تھا لیکن مرکز نے اسے غیر آئینی قرار دے دیا۔ پھر سی این جی گاڑی کی فٹنس گھوٹالے کی جانچ کے لئے کمیشن قائم کیا ، جسے منسوخ کرکے افسروں کو اس میں مدد نہ کرنے کا فرمان دے دیا۔ اب اسمبلی میں جن لوکپال ممبران اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ، تعلیم ایکٹ، اسکولوں کے کھاتوں کی جانچ کا قانون پاس کردیا ہے۔ انہیں بھی جنگ صاحب کو بھیج دیا گیا ہے، ان کا بھی حشر وہی ہوگا۔ دہلی سرکار کے افسر کہتے ہیں کیجریوال سرکار قواعد کو توڑ کر ہی چلنا چاہتی ہے۔ایسے میں اپنی نوکری کون افسر داؤ پر لگائے گا۔ کیجریوال صاحب اب دھمکیوں پر اترآئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر افسر کام نہیں کرنا چاہتے تو لکھ کر دے دیں، کیندر سرکار میں بھیج دیں گے۔ دہلی میں رہنا ہے تو کام کرنا ہوگا۔ کیجریوال نے کہا ہے کہ دادا گری چاہے افسروں کی ہو یا نیتاؤں کی بند کریں گے۔ ایسی صورت میں ہمیں تو 2016ء میں دہلی کی سرکار کے موثر ڈھنگ سے کام کرنے میں شبہ ہے۔ 2015ء میں بھی ٹکراؤ کی وجہ سے دہلی میں تقریاتی کام ٹھپ رہا اور اب2016ء میں بھی یہ ہی حشر ہونے کا امکان ہے۔ جیسے میں نے کہا انتظامیہ و سرکار چلانا ایک فن ہے جو تجربے اور ضمیر سے آتا ہے جس کی فی الحال بہت کمی نظر آتی ہے۔
(انل نریندر)

07 جنوری 2016

پاریکر کااعتراف ہم سے چوک ہوئی ، ایس پی سلویندرسنگھ شک کے دائرے میں

وزیر دفاع منوہر پاریکر نے منگلوار کو پٹھان کوٹ ایئر بیس کے حملے کے بارے میں بتایا کہ سبھی 6 آتنکیوادی مارے جاچکے ہیں انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کچھ خامیاں تھی جس کی وجہ سے یہ حملہ ہوا۔ پٹھان کوٹ ایئر بیس کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ اندر فی الحال مشتبہ دہشت گرد نہیں ہے اور میں تلاشی کارروائی پوری ہونے تک کوئی منفی رپورٹ نہیں دوں گا۔ پہلے ہی غلط رپورٹ دینے میں سرکار کی کرکری ہوچکی ہیں۔ وزیردفاع نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس اے کے 47، دستی بم، بیتل لانچر اور کمانڈو چاقو 450 کلو گرام گولیاں وموٹار تھے مارے گئے دہشت گردوں نے پاکستانی مشہور برانڈ کے جوتے پہن رکھے تھے۔ دہشت گردوں کے ذریعے پاکستانی نمبر سے ہی ٹیلی فون کئے گئے تھے انہی کے پاس سے پاکستان کے فون نمبر ملے۔ حملے سے پہلے اوربعد میں پاکستان ٹیلی فون کیاگیا تھا۔ فون کی تفصیلات بھی سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس آچکی ہے۔ برآمد ہتھیار پاکستان میں ہی بنے تھے دہشت گردوں کے قبضے سے پاکستانی بیٹری بھی ملی ہے۔ادھر پاکستانی آتنکیوں کے چنگل سے بچ نکلے گورداس پولیس کے ایس پی سلویندر سنگھ جو شک کے دائرے میں ہے ان سے قومی جانچ ایجنسی این آئی اے کی ٹیم حملے اور اس میں ملوث دہشت گردوں کے بارے میں مفصل پوچھ تاچھ کرے گی۔ہم پہلے سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ایس پی سلویندرسنگھ سے گہری پوچھ تاچھ ہونی چاہئے پورے معاملے میں کہیں نہ کہیں ملی بھگت ضرورہے دہشت گردوں کے بھکانے میں اتنا وقت کیوں لگا اس کا ایک نمونہ سابق جنرل نے پیش کیا ہے سوال کارروائی پورا کرنے میں اتنا کیوں وقت لگ رہا ہے۔ جواب ایئر بیس کی سیکورٹی تال میل میں بڑی خامی سامنے آئی ہے ایئربیس اس کی سیکورٹی میں رہتا ہے اب فوج بلائی گئی ایئر بیس ملازمین کی ٹریننگ میں ون ٹو ون کمپیٹ شامل نہیں ہے اگر ہم جلد بازی کرتے تو ہمیں زیادہ نقصان ہوتا۔ ایئربیس کافی لمبے رقبے میں پھیلا ہوا ہے اس میں سرکنڈا لگا ہوا ہے۔ ایک ایک انچ کو جانچنے میں وقت لگتا ہے سوال ۔ ہم نے کارروائی مہم میں ایک سال میں دو کرنل اور اب لیفٹ کرنل گنوا دیئے ہے کیا ہمارے آپریشن کارروائی میں کمیاں آئی ہیں؟ جواب۔ فوج میں افسر جوانوں کے آگے ہی چلتا ہے۔ ہاں۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کسی واقعہ میں سینئر افسر شہید ہوا تو اس نے اپنی بلٹ پروف جیکٹ پہنی تھی یا نہیں؟ دشمن اب کندھے پر درجہ دیکھ کر گولی چلاتا ہے۔ ایک سال میں پنجاب میں یہ دوسرا حملہ ہے۔ دہشت گردوں کا کشمیر سے منتقلی کیوں؟ پاکستان کشمیر مسئلے کو اب جموں و پنجاب لاناچاہتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ دہشت گردکی ہمدردی کشمیری مسلمانوں کے لئے ہے لیکن پاکستان کی نظر بھارت کی ندیوں پر ہے۔ پاکستان کے جتنے نیوکلیئر پلانٹ ہے وہ ان ندیوں کے کنارے ہے جن کا کنٹرول بھارت کے پاس ہے اور کشمیر میں اب انسانی حقوق اور موم بتی جلانے والے لوگ ہی بچے ہیں دہشت گردوں نے پٹھان کوٹ ایئر بیس اس لئے چنا کیونکہ یہ بارڈر سے محض 25کلو میٹر دور ہے یہاں پہنچنا آسان ہے یہاں ایئر فورس کے 18 ونگ ہے۔ مگ 21 و 29 اور حملہ آور ہیلی کاپٹر رکھے ہوئے ہیں یہاں سے چین کی بھی نگرانی ہوتی ہے۔ اس پر حملہ کرنے سے دنیا کو پیغام جاتا ہے ۔ فوج کی مشرقی سرحد پر آنے والے دہشت گردوں کے لئے بہت ہی غیرمعمولی ہتھیار ثابت ہورہے ہیں سرکار اور ضلع انتظامیہ کی لاپرواہی کے سبب دہشتگرد اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دراصل فوجی وردی کو فروخت کرنے اور خریدنے پر پابندی کے باوجود اس کو دکانوں سے آسانی سے خریدا جاسکتا ہے۔ پٹھان کوٹ حملے کے سب سے بڑے ہیروں ہندوستانی فوج کے حولدار جگدیش چندر رہے ہیں۔ دہشت گرد دوگروپوں میں داخل ہوئے 4 دہشت گردوں کی ٹکری ڈی ایس سی کے بھیس میں تھی انہوں نے وہاں ناشتہ بناتے جوانوں پر فائرنگ کی۔ 3جوان شہید ہوگئے پھر دہشت گرد آگے کی طرف بھاگے اس درمیان میس میں کھانا بنارہے حولدار جگدیش چندر خالی ہاتھ دہشت گرد وں کے پیچھے دوڑے اوران کوللکارا اور ایک کو پکڑ لیا تھا۔ اس دونوں میں گتھم گتھا ہوئے پھر اس کی رائفل چھینی اور اس سے ہی گولی مار دی لیکن اس درمیان 3دہشت گرد پلٹ کر جگدیش کے پاس پہنچے اور انہیں گولیوں سے چھلنی کردیا۔ اس واقعہ سے ہمیں 26/11کا ممبئی حملہ یاد آگیا جب قصاب کو اسی طرح زندہ پکڑا تھا۔پترلے نے ہمت دکھائی اور خود مارے گئے لیکن امر ہوگئے۔
(انل نریندر)

بہار میں آر جے ڈی واک یدھ رک نہیں رہا

بہار کی سیاست میں راجدھانی میں کہرے اور سردی کے باوجود سیاسی سرگرمی بڑھ رہی ہے آر جے ڈی چیف لالو یادو کے بیان کے بعد مہا گٹھ بندھن کی دو بڑی پارٹیوں کے لیڈر بھی آمنے سامنے آگئے ہیں۔ بہار میں انجینئروں کے قتل کے مسئلے پر حکمراں اتحاد میں شامل آر جے ڈی کے ذریعے لگاتار وزیراعلی نتیش کمار پر ہورہے ہیں حملوں کے بعد جے ڈی یو کے لیڈروں نے بھی جوابی حملہ شروع کردیا ہے وزیراعلی کو نصیحت دینے کے بعد لالو تو خاموش ہوگئے ہیں لیکن ان کی طرف سے آر جے ڈی کے نائب قومی چیف رگھوونش پرساد سنگھ نے بھی مورچہ سنبھال لیا ہے۔ جنتا دل یو بھی چپ نہیں ہے سابق وزیر شیام رجگ نے کہا ہے کہ نتیش کمار کو کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے۔ پہلے رگھوونش پرساد سنگھ نے دو ٹوک کہاتھا کہ آر جے ڈی چیف نے ٹھیک مشورہ دیا تھا۔ بہار میں جرائم بڑھ رہے ہیں انجینئروں کاقتل ہورہا ہے اور زر فدیہ کا دھندہ بڑھ رہا ہے۔ سرکار میں ہماری پارٹی کی خاص ساجھے داری ہے اچھے برے عمل کی جوابدہی بھی ہماری ہے جنتا دل یو کے لیڈروں کی بیان بازی کو رگھوونش بابو نے ایک راگ بتایا ہے اور کہا سنی سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ جرائم پیشہ لوگوں پر سختی کرنی پڑے گی انہوں نے وزیراعلی کانام لئے بغیر کہا ہے کہ یہ سب کون کرے گا؟ جن کے پاس محکمہ داخلہ ہے کارروائی وہی کریں گے نا؟ ریاست میں امن چین کی ذمہ داری لینی پڑے گی لالو پرساد کے ذریعہ وزیراعلی کو دی گئی صلاح کی حمایت کرتے ہوئے رگھوونش نے کہا کہ لوگ سوال اٹھارہے ہیں۔ مہا گٹھ بندھن کی سرکار میں جب آر جے ڈی بھی شامل ہے تو نصیحت کسے دی جارہی ہے؟ دوسری طرف جنتا دل یو کے ترجمان سنجے کمار سنگھ نے کہا ہے کہ نتیش کو کسی لیکچر کی ضرورت نہیں ہے نتیش کا ٹریک ریکارڈ سب کے سامنے ہے انہوں نے رگھوونش پرساد سنگھ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ لوک سبھا چناؤ ہارے ہے تب سے ان کے دماغ کا توازن بگڑ گیا ہے۔ نتیش گڈ گورننس کی علامت ہے انہوں نے سماج کے سبھی طبقات کی عزت کی ہے جہاں تک لالو پرساد یا رگھوونش کے ذریعے صلاح دینے کاسوال ہے تو رائے مشورہ تو کوئی بھی دے سکتا ہے۔ اور جنتا میں یہ خوف ہے کہ کہیں بہار میں پھر سے جنگل راج نہ آجائے۔ وزیراعلی نتیش کمار جنہیں گڈ گورننس بابو بھی کہا جاتا ہے سے امید کی جاتی ہے کہ وہ بہار میں بڑھتی جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں پر لگام لگائیں اور اس بارے میں جو بھی قصور وار ہو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجیں۔
(انل نریندر)

06 جنوری 2016

شیعہ پیشوا مولوی شیخ نمر کی موت کے بعد خلیج میں شیعہ سنی کشیدگی!

سعودی عرب میں نامور شیعہ مذہبی پیشوا مولوی شیخ نمرالنمر سمیت 27 لوگوں کو دہشت گردی کے الزام میں سنیچر کو موت کی سزادی گئی۔ سعودی حکومت نے کہا کہ یہ لوگ 2003ء سے 06 کے درمیان القاعدہ کی طرف سے کئے گئے سلسلہ وار حملوں میں ملوث تھے۔ مولوی شیخ نمر النمر 2011ء کی سعودی سنی اکثریتی حکومت کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کا چہرہ تھے۔انہوں نے بحرین اور سعودی عرب حکومت پر شیعہ اقلیتوں کو سختی سے دبانے کا الزام لگایا تھا۔ سنیچر کو جن لوگوں کو موت کی سزا دی گئی ان میں 45 سعودی عرب کے، 1 چاڈ، 1 مصر کا شہری تھا۔ ملزمان میں مولوی نمر بھی شامل تھے، کا ریاض اور دیگر شہروں میں سر قلم کیا گیا۔ 2012ء میں گرفتاری سے پہلے النمر نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے سنی حکمراں نہیں چاہتے کوئی ان کے خلاف آواز اٹھائے۔ وہ مظاہرین کو مار ڈالتے ہیں۔ عدالت میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نے سرکار کی نکتہ چینی ضرور کی ہے لیکن کبھی نہ تو ہتھیار اٹھایا اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اپیل کی۔ سعودی عرب اور بحرین میں اکثریتی سنی فرقے کی حکومت ہے۔ یہاں اقلیت شیعہ فرقے کے لوگوں میں زیادہ حقوق کی مانگ کرتے ہوئے 2011ء میں مظاہرہ کیا تھا۔ شیعہ مولانا شیخ نمر اس مظاہرے کا چہرہ تھے ۔ اس کے بعدشیعہ اور سنی لوگوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تھیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ مولوی نمر دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے وابستہ تھے۔ وہیں ایران کا کہنا ہے کہ سعودی سرکار اپنے دیش میں رہ رہے نکتہ چیں( شیعوں ) پر ایسے الزام لگا کر موت کی سزا دیتی ہے جبکہ سنی دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہے۔ مولانا نمر کی موت سے سنی سعودی عرب اور شیعہ ایران آمنے سامنے آگئے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی نے کہا کہ شیعہ مذہبی پیشوا النمر نے سعودی عرب کے خلاف کبھی سازش نہیں رچی۔ دہشت گردوں سے ان کا کوئی واسطہ نہیں تھا ، وہ صرف سنی دیشوں کی حکومت کی پالیسیوں کی نکتہ چینی کیا کرتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ سنی ملکوں میں شیعہ مسلموں کو بھی اختیارات ملیں۔ بتادیں کہ مشرقی وسطیٰ میں عراق، لبنان، شام اور آذربائیجان شیعہ حمایتی ملک ہیں جبکہ سعودی عرب اور بحرین بڑے سنی حکمراں دیش ہیں۔ کچھ دنوں پہلے سعودی عرب نے دہشت گردی سے لڑنے کے لئے 34 مسلم ملکوں کا اتحاد بنایا تھا۔ اب شیعہ اور سنی ملکوں میں ٹکراؤ کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس اتحاد کے ٹوٹنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔ اتحاد کی پہلی اہم میٹنگ پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں رکھی گئی تھی لیکن سعودی عرب کے وزیر خارجہ احمد الزبیرنے میٹنگ میں جانے سے منع کردیا۔ پاکستان کے خارجہ سکریٹری عزیز چودھری نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے اور کہا کہ سعودی عرب کی طرف سے خود اسلام آباد میں میٹنگ رکھی گئی تھی لیکن انہوں نے ہی آنے سے منع کردیا۔ ایران نے سعودی عرب کو مولوی کی موت کی بھاری قیمت چکانے کی دھمکی دے دی ہے۔ دراصل ایران میں شیعہ افراد مولوی نمر النمر کو کافی مانتے ہیں اس لئے ایران میں سعودی عرب سے کئی بار مولوی کو معاف کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایران کے مظاہرین میں تہران میں واقع سعودی عرب سفارتخانے پر مولوی کو موت کی نیند سلانے پر مظاہرے کئے اور آگ زنی کی۔ مظاہرین شیعوں نے سفارتخانے میں توڑ پھوڑ کی تھی جس کے بعد پولیس نے طاقت کا استعمال کر انہیں وہاں سے بھگادیا۔ اس دوران وہاں آگ لگنے کی واردات بھی ہوئی اور سفارتخانے کے فرنیچر کو بھی آگ کے حوالے کردیا۔ اس مسئلے کو لیکر سعودی عرب اور ایران کے درمیان زبانی جنگ تیز ہوگئی ہے اور خلیج میں نیاشیعہ سنی تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔ خبر آئی ہے کہ ایران میں واقع سعودی عرب سفارتخانے اور قونصل خانے پر حملوں کے بعد سعودی شیخ نے اپنے زونل حریف ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑلئے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ ابیل الزبیر نے ایتوار کی رات کو رشتے توڑنے کا اعلان کیا اور ایرانی سفارتکاروں کو دیش چھوڑ کر جانے کے لئے 48 گھنٹوں کا وقت دے دیا ہے۔
(انل نریندر)

آئی ایس آئی کے ذریعے دوہرا حملہ: کھلی جنگ کا اعلان

سنیچر کی صبح 3 بجے شروع ہوا فوج اور این ایس جی کا آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ سکیورٹی فورس کا یہ آپریشن 70 گھنٹے کے بعد بھی یعنی منگلوار کی صبح تک جاری تھا۔ ایئر بیس کی رہائشی عمارت میں ایک یا اس سے زیادہ دہشت گردوں کے چھپے ہونے کے اندیشے کے پیش نظر سکیورٹی ایجنسیاں یہ نہیں بتا پارہیں کہ آپریشن کب تک چلے گا؟ دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائی پٹھانکوٹ ممبئی کے 26/11 حملے سے بھی لمبی ہوچکی ہے۔ ممبئی میں دہشت گردوں کو ختم کرنے میں 60 گھنٹے لگے تھے۔جموں و کشمیر سے باہر دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا اسے سب سے لمبا آپریشن بتایا جارہا ہے۔ بھارت پاک امن بات چیت میں روڑے اٹکانے کی سازش کے تحت ہندوستانی مفادات پر دوہرے حملے کئے گئے ہیں۔ بدنام پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ایک طرف جیش محمد کے ذریعے بھارت کی سرحد کے قریب واقع ہندوستانی ایئر بیس کو نشانہ بنایا تو دوسری طرف پاک سرحد کے قریب افغانستان میں مزار شریف میں واقع ہندوستانی قونصل خانے پر طالبان کے ذریعے حملہ کرایا ہے۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ ہند ۔پاک کے درمیان بات چیت کا عمل دہشت گردی کے اشو پر آگے بڑھے۔ سنیچر کو پٹھانکوٹ ایئر بیس پر حملے کے بعد فوج کی کارروائی ابھی پوری نہیں ہوپائی تھی کہ ایتوار کی رات دہشت گردوں نے افغانستان میں ہندوستانی قونصل خانے پر حملہ کردیا۔ مزارشریف پاکستانی سرحد کے پاس ہے۔ کئی دھماکے اور گولہ باری کے بعد نامعلوم حملہ آوروں نے قونصل خانے کے کمپلیکس میں زبردستی گھسنے کی بھی کوشش کی ،جسے سکیورٹی فورس نے ناکام بنادیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ہند۔ تبت سرحد پولیس یعنی (آئی ٹی بی پی ) کے جانباز جوانوں نے مورچہ سنبھالتے ہوئے دو دہشت گردوں کو مار گرایا۔ وزارت خارجہ سے ملی اطلاع کے مطابق سفارتخانے میں سبھی ہندوستانی محفوظ ہیں۔ سفارتخانے میں قونصل جنرل بی سرکار نے بھی کہا ہے کہ سبھی لوگ محفوظ ہیں۔ حالانکہ ہندوستانی سفارتخانے کو کتنا نقصان پہنچا ہے یا کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں ابھی اس کی معلومات نہیں مل پائی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ ابھی بھی کچھ دہشت گرد کمپلیکس کے آس پاس کی عمارتوں میں چھپے ہو سکتے ہیں۔پہلے بھی افغانستان میں ہندوستانی مشنوں کو نشانہ بنا کر حملے کئے گئے ہیں۔2013ء میں جلال آباد میں ہندوستانی ٹریڈ قونصل کو نشانہ بنا کر کئے گئے حملے میں 7 بچوں سمیت9 شہری مارے گئے تھے۔ 2000۔ 09 میں کابل میں واقع سفارتخانے پر ہوئے حملے میں درجنوں لوگوں کو جان گنوانی پڑی تھی۔ آئی ایس آئی نے بھارت کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان ایک طرح سے کرہی دیا ہے۔
(انل نریندر)

05 جنوری 2016

پاکستان کا بھارت کو نئے سال کا تحفہ

دہشت گردی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو نیا سال 2016 ء کا آغاز خراب رہا اور سال کے پہلے ہی دن پنجاب کے پٹھان کوٹ ایئربیس پر زبردست آتنکی حملہ ہوا جو پیر کی صبح تک جاری رہا۔ سال کے پہلے دن ہی ایئر بیس کو حملے کے لئے چن کر دہشت گردوں نے 15 سال پرانی تاریخ دوہرائی ہے۔ یکم جنوری2001ء کو پٹھان کوٹ ایئر کوٹ کے قریب چار کلو میٹر دور ڈمتال کی فائرننگ رینج پر مخالف سمت سے حملہ کرکے تین جوانوں کو شہید کردیا تھا۔ اس حملے میں دہشت گرد ڈمتال کی پہاڑیوں سے آئے۔ یہ دہشت گرد ان پہاڑیوں میں کئی دنوں تک چھپے رہے تھے۔ پٹھان کورٹ ایئر بیس میں سنیچر کو ہوا حملہ ایک ایسی ہی واردات تھی جس کا اندازہ سکیورٹی ایجنسیوں کو پہلے سے تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پہلے سے جا نکاری ہوتے ہوئے بھی ہماری سکیورٹی فورس حملے کو پوری طرح ناکام نہیں کرسکی۔ بیشک اس میں کوئی شبہ نہیں کے دہشت گردوں کے تو بہت ناپاک ارادے تھے لیکن ان کے منصوبے پورے نہیں ہوسکے اور وہ زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے۔ لیکن چونکانے والی بات یہ ہے کہ جمعرات کو فوج کی وردی پہنے 4-5 ہتھیار بند دہشت گردوں نے پنجاب کے گورداس پور کے ایس پی ان کے دوساتھیوں کو اغوا کرلیا تھا۔ اغوا کاروں نے کچھ دور جاکر ایس پی اور ان کے ایک ساتھی کو گاڑی سے پھینک دیا۔ نیلی بتی والی پولیس گاڑی لیکر فرار ہوگئے۔ اسی کار سے انہوں نے ساری پولیس رکاوٹیں اور پٹھان کوٹ ایئر بیس تک بغیر روک ٹوک کے پہنچ گئے۔ سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کے ایک سرکاری پولیس گاڑی اڑا لی گئی، پھر بھی انہیں کہیں روکا کیوں نہیں گیا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ مار کاٹ کرنے کے ارادے سے آئے ان دہشت گردوں نے ایس پی اور ان کے ساتھی کو زندہ کیوں چھوڑدیا؟ ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ ملی بھگت کی سازش نظر آتی ہے۔ پٹھانکوٹ بیس پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے پاکستان کے بھاگلپور سے ٹریننگ لینے کے بعد بھارت کے نروزجیمل علاقے سے داخل ہوئے تھے۔ یہ سبھی بین الاقوامی سرحد سے بامیال ہوکر کھڑکڑا ڈھبوال سے ہوتے ہوئے گاؤں کے لئے اڈے کے پاس پہنچے تھے۔ 31 دسمبر کی رات ا دہشت گردوں نے یہاں رکاگرسنگھ کو مار ڈالا اور ان کی اینووا کار چھین لی۔ راستے میں پنگچر ہونے کے بعد کار حادثے کا شکار ہوگئی۔ اس کے بعد دہشت گردوں نے کار وہیں چھوڑدی اور وہاں ایس پی ستویندرسنگھ گاڑی مل گئی اور انہوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ اسی گاڑی میں سوار ہوکر ایئر فورس اسٹیشن کے پیچھے واقع گاؤں اکال گڑھ کے کھیتوں میں گئے۔ کوٹلی پٹھانکوٹ۔ گورداس پور نیشنل ہائیوے پر ہے۔ دہشت گردجس آسانی سے گاؤں سے دو دن تک پٹھانکوٹ ضلع میں گھومتے رہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انہیں پورے علاقے کے سبھی راستوں کی جانکاری تھی۔پاکستان سرحد سے محض 40 کلو میٹر دوری پر واقع پٹھانکوٹ ایئر بیس پہلے سے ہی پاکستان اور پاکستان حمایتی دہشت گردوں کی آنکھ کی کرکری بنا ہوا تھا۔ایئر بیس سے ہی اڑان بھر کر ہمارے جنگی جہازوں نے 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی تھی اور بنگلہ دیش کا عروج ہوا تھا۔ کارگل جنگ میں بھی پاکستانی فوج کو ملی ہار میں اس بیس کا اہم کردار تھا۔ پٹھانکوٹ ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی اسکیم وہاں زبردست تباہی مچانے کی تھی۔ وہ وہاں کھڑے جنگی جہاز مگ۔21 اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے تاکہ ان میں زبردست دھماکے ہوں اور پورا ایئربیس تباہ ہوجائے۔بتادیں کہ بیس پر تقریباً500 ایئر فورس ملازمین کے پریوار رہتے ہیں۔ اگر آتنکی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوجاتے تو جنگی جہازوں میں بھاری مقدار میں ہوائی جہازی پیٹرول جوالہ مکھی کی طرح بھڑک اٹھتا اور اس کا کتنا سنگین نتیجہ ہوتا یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فی الحال پلاننگ تو ایئر فورس بیس پر کچھ لوگوں کو یرغمال بنانے کی بھی تھی ۔ پٹھانکوٹ کا یہ حملہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان کے ساتھ رشتے بہتر بانے کی نئی پالیسی کے لئے بھی ایک بڑی چنوتی بن کر ابھرا ہے۔ مودی کے 8 دن پہلے لاہور دورہ کا پاکستان نے کرارا جواب دیا ہے۔ اب مودی کیا حکمت عملی اپناتے ہیں یہ دیکھنا ضروری ہوگیا ہے؟ یہ حملہ کسی بھی نقطہ نظر سے پارلیمنٹ حملے سے کم نہیں تصور کیا جاسکتا۔ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان نواز دہشت گردوں (جیش محمد) نے بھارت کے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا ہے۔ اتنا تو صاف ہے کہ جب بھی بھارت اور پاکستان کے رشتوں میں کسی طرح کی مثبت پیش رفت نظر آتی ہے، پاکستان میں موجود دہشت گرد گروپ، کٹر پسند عناصر و آئی ایس آئی منفی رد عمل دکھاتے ہیں۔ بھارت کو اس حملے کا کرارا جواب دینا ہوگا۔ گلاب کے پھولوں سے گولیوں اور راکٹوں کا جواب نہیں دیا جاسکتا۔ لگتا ہے کہ آتنکی حملے کے اندازے سے زیادہ تھے یہ دو گروپ میں بنٹے ہوئے تھے۔ دونوں ہی گروپ بیس میں داخل ہونے میں کامیاب رہے،تبھی تو ابھی تک دھماکے ہورہے ہیں۔ ہمارے بہادر جوانوں نے ان دہشت گردوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کرنے کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اس حملے میں سکیورٹی فورس کے 7 جوان شہید ہوئے ہیں جن میں این ایس جی کے بھی ایک لیفٹیننٹ کرنل ہیں۔ ہم ان بہادر شہیدوں کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں جنہوں نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی۔ جے ہند۔
(انل نریندر)

03 جنوری 2016

بڑھتی آلودگی پرکنٹرول کیلئے قوت ارادی دکھانے پر دہلی کے شہریوں کو مبارکباد

دہلی میں بڑھتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے جمعہ سے راجدھانی میں آڈ ۔ایون فارمولہ نافذ ہوگیا ہے۔ سبھی دہلی کے شہری چاہتے ہیں دہلی کی آب و ہوا کم زہریلی ہو اور اس کے لئے کوئی بھی ممکنہ قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ یہ جمعہ کے روز کچھ حد تک ثابت ہوگیا۔ عام دنوں کی طرح سڑکوں پر اتنا ٹریفک نہیں دکھائی دیا۔ بسوں اور میٹرو میں بھی بھیڑ کم نظر آئی۔ دیش میں پہلی بار ہورہے اس طرح کے تجربے کو دہلی حکومت نے پوری طرح کامیاب بتایا۔ صبح سے ہی دہلی پولیس چوکس نظر آئی۔ پہلے دن اچھے رسپانس کر دہلی حکومت کے وزیر داخلہ ستندر جین نے کہا کہ سرکار کو اندازہ تھا کہ قانون توڑنے والوں کی تعداد 10 فیصد رہ سکتی ہے لیکن ایسے لوگوں میں صرف1 فیصد لوگ تھے جنہوں نے اس اسکیم کو فیل کرنے میں اس کی خلاف ورزی کی۔ان کی کچھ تو مجبوری رہی ہوگی کوئی جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے۔
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اس اسکیم کے کامیاب ہونے پر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں اور سارا سہرہ لینے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جو بات کیجریوال کو سمجھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ دہلی کی عوام دل سے آلودگی میں کمی چاہتی ہے۔ اسی لئے انہوں نے تعاون دیا تاکہ دہلی میں آلودگی کی سطح کم ہو۔ اس لئے نہیں دیا کہ کیجریوال سرکار اپنی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگے۔ 
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ دنیا میں یہ اسکیم لاگو کی گئی اور فیل ہوگئی نتیجتاً اسے واپس لینا پڑا۔ ویسے بھی جمعہ کے روز اس اسکیم کی کامیابی کا پیمانہ نہیں ناپا جاسکتا کیونکہ یکم جنوری کے سبب بہت سے دفاتر میں چھٹی تھی اور بہت سے لوگوں کو 31 دسمبر کے رات کا ہینگ اوور بھی رہا ہوگا۔ 
سنیچروار کو ویسے ہی ٹریفک کم رہتا ہے اس اسکیم کی اصل چنوتی پیر کے روز ہوگی جب دہلی کا پورا ٹریفک ہوگا۔ قومی راجدھانی دہلی میں سرکار کی آڈ۔ ایون اسکیم کے صبح 8 بجے شروع ہونے کے 33 منٹ بعد آئی ٹی او چوراہے پر پہلا چالان کٹا جب قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص پر 2 ہزارروپے کاجرمانہ لگادیا گیا۔ اس درمیان اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے دفتر جارہا ہے اور نوئیڈا و گریٹر ونوئیڈا موڑ کے پری چوک پر اس کے مکان کے پاس ہوئی پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں تھی جس وجہ سے اسے مجبوری میں اپنی کار سے دفتر آنا پڑا۔ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، پوائنٹ ٹو پوائنٹ پبلک ٹرانسپور ٹ کی کمی کے سبب بہت سے لوگوں کو نہ صرف زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑے گا بلکہ بہت سا وقت آنے جانے میں بھی خراب ہوگا۔ ویسے جمعہ کو صبح8 بجے سے رات8 بجے تک بھاجپا ممبر پارلیمنٹ ستیہ پال سنگھ کی کار سمیت138 گاڑیوں کے چالان کاٹے گئے۔ اس دوران دہلی اور سینٹرل دہلی میں آڈ ۔ایون سسٹم پولیس کا اہم ٹارگیٹ رہا۔ خود کو فارمولے سے باہر بتاتے ہوئے بھاجپا ایم پی اور ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ستیہ پال سنگھ نے کہا کہ مجھے کسی نے روکا نہیں، مجھے سرکاری سکیورٹی ملی ہوئی ہے۔ لہٰذا اس قانون سے چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
دہلی پولیس ٹریفک کے ایڈیشنل کمشنر شرد اگروال نے بتایا کہ 12 گھنٹوں کی مہم میں ٹریفک پولیس نے کل138 کاروں کا چالان کیا حالانکہ سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ جمعہ کو آڈ۔ ایون فارمولہ نافذ ہونے سے آلودگی کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی ہے؟ بیشک سڑکیں عام دنوں کی بہ نسبت خالی رہیں اور جام سے نجات ملی اس کے باوجود شام 4 بجے تک سی پی سی بی کے ساتھ مانیٹرنگ سینٹر سے آئے اعدادو شمار چونکانے والے ضرور ہیں۔ اس کے مطابق جمعرات کے مقابلے جمعہ کو دہلی کی آب و ہوا زیادہ آلودہ رہی۔ جمعہ کو 2.5 پی ایم کا آلودگی سطح 391 تک پہنچ گئی جو بہت ہی پریشان کن ہے۔(ویری پوور کیٹے گری کا ہے) جمعرات کو جو پی ایم 2.5 کا سطح 386 پر تھی جبکہ 29 دسمبر کو یہ269 پر تھی جو ویری پوور زمرے میں آتی ہے۔ 
علاج کرنے سے مرض کیسے بڑھا؟ اس پر سی پی سی بی کے اعلی افسران بتاتے ہیں کہ دہلی کے آس پاس کے شہروں فرید آباد، گوڑ گاؤں اور غازی آباد میں زہریلی آب و ہوا کی سطح بیحد خطرناک سطح پر پہنچ گئی۔ ان آلودگی جراثیموں نے دہلی کی آب و ہوا کو لاک کردیا ہے۔ اگر غازی آباد، فرید آباد اور آس پاس کے دیگر چھوٹے شہروں کی آب و ہوا صاف نہیں ہوگی تو دہلی کی آب و ہوا بھی صاف نہیں ہو پائے گی۔ کچھ چوراہوں کا پی ایم سطح 2.5 کچھ ایسی رہی آر کے پورم 31 دسمبر 326۔ 1 جنوری 398 ، آنند وہار31 دسمبر 262 1 جنوری 315 ۔ پنجابی باغ 31 دسمبر 170 ،1 جنوری 2201۔ مندر مارگ 31 مارگ 179، 1 جنوری 145۔ جمعہ کو مرکزی وزیر ماحولیات و جنگلات پرکاش جاوڑیکر نے بھی اپنی وزارت کے مختلف محکموں کو گہری نظر رکھنے کو کہا ہے۔ کل ملاکر ہمارا خیال ہے کہ دہلی کے شہری مبارکباد کے مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے بڑھتی آلودگی کو گھٹانے کیلئے اپنی قوت ارادی دکھائی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...