Translater

Inflation لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Inflation لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

08 مئی 2012

یوپی اے کی پالیسیوں کے سبب غریبوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے



Published On 8 May 2012
انل نریندر

کہا جارہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے تیزی بڑھنے والی معیشت ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب بھارت دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن جائے گا لیکن یہ تو باتیں ہیں نمبروں سے نمبروں کی۔ کچھ سیاستداں خوش ہوسکتے ہیں لیکن عام جنتا میں جب تک یہ خوشحالی نہیں پہنچتی تو یہ سب کھوکھلی باتیں ہی لگتی ہیں۔ امیر زیادہ امیر ہوتے جارہے ہیں غریب زیادہ غریب۔ قومی ماڈل سروے آرگنائزیشن کے تازہ اعدادو شمار سے ایک بار پھر یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی بدحالی میں جینے کو مجبور ہے۔ اس مطالعہ کے مطابق جولائی 2009ء سے جون 2010 ء کے درمیان ساڑھے چھ فیصدی دیہاتی روزانہ 35 روپے سے کم میں گذارہ کررہے تھے وہیں 60 فیصدی شہریوں کی آبادی کا اوسطاً یومیہ خرچ 66روپے درج کیا گیا۔ اب اگر ہم بات کریں دیش کے نونہالوں کی کچھ مہینے پہلے وزیر اعظم کے ہاتھوں جاری ہوئی ایک رپورٹ میں خلاصہ ہوا ہے کہ دیش کے 14 کروڑ نونہال غذائی قلت کے شکار ہیں۔ اسی طرح پچھلے دنوں وزیر مملکت خزانہ نمون نارائن مینا نے پارلیمنٹ میں مانا کہ دیش میں 8200 امیر لوگوں کے پاس تقریباً945 ارب امریکی ڈالرکی دولت ہے۔ اگر دیش کی معیشت کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو یہ رقم اس کا قریب 70 فیصدی ہے۔ صاف ہے کہ وسائل کے اندھادھند تقسیم کے ساتھ سرکاری پلاننگ پالیسی کے عدم توازن ہونے کے سبب دیش کا ایک بڑا طبقہ آج بھی دیش کی ترقی کی قومی دھارا سے باہر ہے جس کی عمل میں کمی نکسلواد کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی ناراضگی کے دوسرے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایک بات تو صاف سامنے آتی ہے کہ بھارت کے گاؤں دیہاتوں میں لوگوں کی معیار زندگی اب بھی سب سے نیچے سطح پر بنی ہوئی ہے۔ شہروں میں اس کے مقابلے حالت تھوڑی بہتر ضرور دکھائی پڑتی ہے لیکن یہاں کی ضرورتوں اور زندگی کے حالات کو اگر توجہ دیں تو سمجھ میں آئے گا کے یہاں زیادہ تعداد میں لوگ آج بھی کم از کم ضرورت پوری کرنے کے لئے سخت جدوجہد کررہے ہیں۔ بین الاقوامی غریبی پیمانے کے مطابق یومیہ سوا ڈالر (امریکی) کمانے والا غریب ہے اور ایک ڈالر کمانے والا انتہائی غریب ہے۔ 
جب ہمارے وزیر اعظم اور ان کے اقتصادی مشیر منڈلی عالمی سطح کے پیمانوں کی بات کرتی ہے لیکن جب غریبی کے جائزے کی بات سامنے آتی ہے تو وہ بین الاقوامی پیمانوں کو قبول نہیں کرتی۔ اگر عالمی پیمانے کو بھارت میں لاگو کردیا جائے تو غریبی کا کیسا نقشہ سامنے آئے گا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اپنی اقتصادی پالیسیوں ،ترجیحات اور غریبی کی ریکھا کو بدلنے کو کیوں راضی نہیں ہے؟ اس لئے کے اگر غریبی کی ریکھا صحیح طریقے سے مرتب ہوگی تو غریبوں کی تعداد کافی بڑھی ہوئی نظر آئے گی۔ این ایس اے او کی نئی رپورٹ تب آئی ہے جب دیش کی معیشت بیحد نازک دور سے گذر رہی ہے۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں ہماری ترقی کے جائزے کو کم کرکے دیکھ رہی ہیں۔ دیش کے بڑے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں کی صحت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ حقیقت میں غریبوں کی غریبی کے جو اعدادو شمار دکھائے جارہے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Poor, UPA, Vir Arjun

27 اپریل 2012

اوراب ڈیزل بھی لگا سکتا ہے آگ



Published On 27 March 2012
انل نریندر

دیش کی عوام کو اب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔سرکار نے پیٹرول کی طرح ڈیزل کی قیمتیں بھی سرکاری کنٹرول سے آزاد کرانے کی تیاری کرلی ہے یعنی اب عام آدمی خاص کر کسانوں کو مہنگا ڈیزل ملے گا۔ سرکار نے اعلان کیا ہے کہ ڈیزل کو کنٹرول سے آزاد کیا جائے گا۔اس فیصلے کو سدھانتک منظوری دے دی گئی ہے لیکن اسے نافذ کرنے کی تاریخ کا اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ نرائن مینا نے راجیہ سبھا کو یہ جانکاری دی۔ مینا نے این کے سنگھ کے ذریعے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ سرکار نے ڈیزل کی قیمتوں کو بازار کے ذریعے مقرر کرنے پر اپنی رضامندی دے دی ہے۔ حالانکہ ابھی اسے عمل میں نہیں لایا گیا ہے لیکن رسوئی گیس کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کئے جانے کا ابھی کوئی سجھاؤ نہیں ہے حالانکہ مینا نے اس کے متعلق سرکار کی مجبوری بھی بتائی۔ انہوں نے کہا کہ سرکار بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور گھریلو مہنگائی کی حالت میں عام آدمی کو بچانے کے لئے ڈیزل کی ریٹیل قیمتوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔ جیسے ہی مینا نے یہ جواب دیا اس کا رد عمل ہوگیا۔ اپوزیشن دلوں کے ساتھ ہی سہیوگی دلوں کی بھنویں تن گئیں۔ سب سے پہلے بھاجپا نے اس کی تنقید کی۔ پارٹی ترجمان پرکاش جاویڈ کرنے کہا ایسا لگتا ہے کہ سرکار بہت جلد ہی ڈیزل کی قیمت بڑھانے جارہی ہے۔ سرکار کے اس طرح کے کسی قدم کی بھاجپا پوری مخالفت کرے گی۔ اس سے نہ صرف سفر کا خرچ بڑھے گا بلکہ دوسری چیزوں میں بھی تیزی آئے گی۔بھاجپا کے بعد یوپی اے کی سہیوگی ترنمول کانگریس نے بھی صاف کردیا کہ وہ پیٹرو قیمتوں میں اضافے پر اپنے اڑیل رخ میں کوئی بدلاؤ نہیں کرنے جارہی۔ ممبر پارلیمنٹ سکھیندو رائے نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت طے کرنے کا حق تیل کمپنیوں کو دینے کی مخالفت کی جائے گی۔ دراصل ڈیزل کی قیمت کو کنٹرول سے آزاد کرنے کا فیصلہ پچھلے سال جون میں ہی ہوگیا تھا لیکن مخالفت کے چلتے اس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ ڈیزل کی قیمت ابھی بھی سرکار ہی طے کرتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سرکاری تیل کمپنیاں ڈیزل کو 12 روپے فی لیٹر کے گھاٹے میں بیچ رہی ہیں۔گھاٹے سے عاجز آکر تیل کمپنیوں نے دھمکی دی ہے کہ یا تو قیمت بڑھانے کی اجازت دی جائے ورنہ آگے ایندھن کی سپلائی کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سیاسی وجوہات ، خاص کر پانچ ریاستوں کے گزرے ودھان سبھا چناؤ کی وجہ سے یوپی اے سرکار دسمبر2011 کے بعد سے پیٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کرپائی ہے۔ اب سرکار بجٹ اجلاس کے خاتمے کے بعد پیٹرولیم اشیاء کی ریٹیل قیمت بڑھانے کی اجازت تیل کمپنیوں کو دینا چاہتی ہے لیکن لگتا نہیں کہ اس کے لئے اب بھی ایسا کرنا آسان ہوگا۔ ڈیزل سبھی عام عوام کو متاثر کرے گا۔ کسان سے لیکر پبلک ٹرانسپورٹ ،ریلوے وغیرہ سبھی سیدھے متاثر ہوں گے۔ سرکار کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سبھی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا بہتر ہوگا۔ ایک بار ڈیزل کو سرکاری کنٹرول سے ہٹا لیا تو حالت بالکل بے قابو ہوسکتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Diesel, Inflation, Petrol Price, Vir Arjun

25 اپریل 2012

تھالی سے غائب ہوتی سبزیوں کی اصل وجہ؟



Published On 25 March 2012
انل نریندر
مہنگائی بڑھتی جارہی ہے جنتا کو دو وقت کی روٹی کھانے میں بھی اب بڑی مشکل آرہی ہے۔تھالیوں سے سبزیاں غائب ہوتی جارہی ہیں۔ سبھی سبزیوں کے دام آسمان چھورہے ہیں۔ عام آدمی کے کچن کا سارا بجٹ بگڑ چکا ہے۔ عام طور پر جب گرمی بڑھتی ہے تب سبزیوں کے دام بڑھتے تھے لیکن اس بار اپریل میں سبزیوں کے دام مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ 15 دن پہلے تک 12 سے14 روپے کلو بکنے والا آلو18 روپے کلو بک رہا ہے۔ جو لوگ25 سے18 روپے تک ٹماٹر خریدتے تھے اب وہ55 سے60 روپے بک رہا ہے۔ بھنڈی اور ٹنڈے جیسی سبزیوں کے دام 75 سے100 روپے کلو کے درمیان ہیں۔ غور طلب ہے کہ راجدھانی کے تھوک بازار سبزی منڈی میں ایک ماہ میں مختلف سبزیوں کے دام تین گنا سے زائد بڑھ گئے ہیں۔ اس کے چلتے عام آدمی کی تھالی سے سبزیاں آہستہ آہستہ غائب ہوچکی ہیں۔ پیاز، ٹماٹر، آلو جیسی سبزیاں بھی لوگوں کی خرید سے باہر ہیں۔ تجارتی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا سبزیوں کی سپلائی میں آئی بھاری کمی کے چلتے ہورہا ہے۔ کاروباری لیڈر اس کے پیچھے خاص وجہ بتائے جارہے ہیں۔ پہلا تو پیداوار میں کمی دوسرا پاکستان کو ہو رہی درآمدات ہے۔ راجدھانی کے باشندوں کے حصے کی سبزیاں پاکستانی کھارہے ہیں۔ آزاد پور منڈی کے ایک بڑے آڑتی نے بتایا کہ موسم میں آئی تیزی اورخوشک سالی سے سبزیوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ میدانی علاقوں میں ایک ساتھ دھوپ بڑھ جانے سے پیداوار میں گراوٹ آئی ہے۔ پہاڑوں کی سبزیوں کی آمد بیحد کم ہے۔
مانگ کے مطابق سبزیاں آنے میں ابھی کم سے کم 15 دن کا وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی جنتا تھوڑی راحتکی امید کر سکتی ہے۔گرین ویجی ٹیبل ایسوسی ایشن کے ممبر پنکج شرما کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستان کو سبزیوں کی برآمدات بھاری مقدار میں ہوئی ہے اور اب بھی جاری ہے۔ اس کے چلتے گھریلوں منڈیوں میں بھی سبزیاں کم ہی پہنچ پارہی ہیں۔ اس بات بھنڈی، ٹماٹر، لوکی جیسی سبزیوں کے دام ایک بار بھی نیچے نہیں آئے۔ شملہ اور ہماچل پردیش جیسے مختلف شہروں میں سبزیوں کی معمولی آمد ہورہی ہے۔200 گاڑیوں کے بجائے 2 گاڑیاں ہی آرہی ہیں۔ پاکستان کو بھیجی جانے والی سبزیوں میں ٹماٹر، پیاز قابل ذکر ہیں۔ گرمی کے موسم میں اسٹوریج کی دقتیں ہوتی ہیں۔ بھنڈی ،ٹنڈے کے دام زیادہ ہونے سے لوگ اسے 300 گرام یا آدھا کلو ہی خریدتے ہیں۔ کم بکری ہونے کے چلتے سبزی بیچنے والوں کو بھی اپنا خاطر خواہ منافع نکالنا ہوتا ہے اس لئے منڈی میں بھی مہنگی مل رہی ان سبزیوں کے دام عام آدمی تک پہنچتے پہنچتے کافی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گھریلو مارکیٹ کے لئے سبزیوں کی کھپت کے مطابق سپلائی نہیں ہے تو بھارت سبزیوں کو پاکستان کیوں بھیج رہی ہے؟ پہلے اپنے دیش واسیوں کو تو پوری سبزیاں دستیاب کروادو، ان کی تھالی میں سبزیوں کا انتظام کردو، پھر انہیں پاکستان بھیجنے کی سوچو۔ گرمی کے موسم میں پاکستان کو درآمد فوراً بند کردی جائے اور جب بھرپور مقدار میں سبزیاں آجائیں تب ایکسپورٹ کی سوچنا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Price Rise, Vir Arjun

04 اپریل 2012

مہنگائی منہ پھاڑے جات ہے۔۔۔


Published On 4 April 2012
انل نریندر
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر فیصلہ بیشک کچھ دنوں کے لئے ٹل جانے سے بھلے ہی لوگوں کے لئے تھوڑی راحت مل گئی ہو لیکن نئے کاروباری سال کے آغاز میں تقریباً سبھی چیزوں کے دام بڑھنے سے ہورہا ہے۔ بجٹ میں بڑھی ایکسائز ڈیوٹی اور سروس ٹیکس بڑھنے سے کھانا پینا، گھومنا پھرنا سب کچھ مہنگا ہونے جارہا ہے۔ عام آدمی کو ڈس رہی مہنگائی ڈائن کا ڈنک اور تیز ہوگیا ہے۔ سرکار کے بجٹ میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے پروڈکشن ٹیکس میں اضافہ اور سروس ٹیکس کی شرح کا دائرہ دونوں بڑھا کر عام جنتا کی پیٹھ پر 45 ہزار کروڑ روپے کے ٹیکس کا بوجھ لاد دیا ہے۔ ان دونوں ٹیکسوں میں اضافہ ایتوار سے لاگو ہوگیا ہے۔ پروڈکشن ٹیکس کی شرح کو 10 سے بڑھا کر12 فیصدی کرنے کا اثر بازار میں دستیاب تمام سامان پر ہوگا۔ سیمنٹ برانڈڈ ،ریڈیمیٹ گارمینٹ سے لیکر سونا اور زیورات سبھی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پروڈکشن ٹیکس کے ساتھ سروس ٹیکس بھی صارفین پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اب اس کے دائرے میں ان علاقوں کی سرکاری خدمات بھی جڑ رہی ہیں جہاں وہ نجی سیکٹر سے مقابلہ آرا ہیں۔ اس کے تحت ٹرینوں میں AC1-AC2 ٹائر میں سفر کرنے والے مسافروں کو ایتوار سے زیادہ کرایہ دینا پڑے گا۔ پلیٹ فارم ٹکٹوں کے لئے بھی 3 روپے کے بجائے5 روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ بجلی، زمین، فلیٹ و موٹر سائیکل، کار کے لئے زیادہ پیسے چکانے ہوں گے۔ سونا ،چاندی خریدنا مہنگا ہوگیا ہے۔ شراب مہنگی ہوگئی ہے، چیک ڈرافٹ و پوسٹل آرڈر کی میعاد 6 مہینے سے گھٹا کر 3 مہینے کردی گئی ہے۔ پوسٹ آفس میں ڈپازٹ، پی پی ایف ،این ایم سی میں زیادہ سود ملے گا۔ لائف انشورنس سے بنے رہنے کے ساتھ آٹو انشورنس میں بھی اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کی مار جھیل رہے عام آدمی کو اب موٹربیمہ کی بڑھی ہوئی شرحوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا۔ بھارتیہ بیمہ ریگولیٹری ڈولپمنٹ اتھارٹی نے مختلف زمروں میں تھرڈ پارٹی موٹر پریمیم چارج 5 سے 20 فیصدی تک بڑھایا ہے۔ تھرڈ پارٹی بڑھی ہوئی قسط شرحوں کے پریمیم کے ساتھ صارفین کو دو فیصدی بڑھا ہوا سروس ٹیکس بھی چکانا ہوگا۔ نئی شرحیں جمعہ سے نافذ العمل ہوگئی ہیں۔ مہلائیں بھی اس سے اچھوتی نہیں۔ ان کے بیوٹی سامان سمیت بیوٹی پارلر کا خرچ بھی مہنگا ہوا ہے۔ دیش کے نامی گرامی ایسوسی ایشن ایسوچیم نے بھی مہنگائی کے بارے میں سروے کرایا ہے۔ اس سے زیادہ تر عورتوں نے کہا ہے کہ گھریلو بجٹ کے قابو میں رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑھتے خرچ پر لگام لگانا مشکل ہورہا ہے۔
70 فیصدی عورتوں کا خیال ہے کہ زیادہ سروس ٹیکس کے سبب فون سروس سمیت سبھی ضروری چیزیں مہنگی ہوں گی۔ اتنا ہی نہیں پروڈکشن ٹیکس میں اضافے سے عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوگی۔ آمدنی تناسب کے حساب سے نہیں بڑھے گی۔ جس حساب سے خرچ بڑھ جائے گا ۔ مہنگائی آنے والے دنوں میں اور بڑھے گی۔ اگر پیٹرول ،رسوئی گیس وغیرہ کے دام بڑھتے ہیں تو ان کا سیدھا اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار سے پریشان عام آدمی کی کمر ٹوٹ جائے گی لیکن اس سرکار کو عام آدمی کی فکر کہاں ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ جو جانے مانے ماہر اقتصادیات ہیں ،کی پالیسیوں نے غریب آدمی کا تو بیڑا غرق کردیا ہے دوسری طرف گھوٹالے پر گھوٹالہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ غریب جنتا کی جیب میں ڈاکے سے ہی تو آرہا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Petrol Price, Price Rise, Scams, Vir Arjun

28 مارچ 2012

پینسٹھ فیصدی کسان آج بھی روزانہ 20 روپے نہیں کماتے



Published On 28 March 2012
انل نریندر
ہندوستانی معیشت کی بنیاد زراعت ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی میں زراعت اور اس سے متعلق اشتراک 2007-08 اور 2008-09 کے دوران بسلسلہ 17.6 اور 17.1 فیصد رہا اس لئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بھارت کا کسان ہی اس کی دھڑکن ہے اور ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر کسان خوشحال نہیں ہوگاتو دیش کبھی بھی خوشحال نہیں ہوسکتا۔ آج کسان کی اقتصادی حالت قابل رحم ہے۔ شہروں میں 28 روپے اور گاؤں میں 22.50 روپے میں خط افلاس تک بھلے ہی حکومت غریبی ہٹانے کا دعوی کرے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ 65 فیصد سے زیادہ کسان کنبے یومیہ20 روپے بھی نہیں کما پارہے ہیں۔ یہ انکشاف خود حکومت ہند کی وزارت زراعت کی جانب سے جاری اعدادو شمار سے ہوا ہے۔ اسے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ گیہوں اور چاول سے لیکر ارہر ،اڑد ، مونگ و گننے سمیت تقریباً ہر فصل کی لاگت کسانوں کو مل رہی کم از کم قیمت سے کافی زیادہ ہے۔ یہ حال صرف ایک ریاست کا نہیں بلکہ درجن بھر سے زیادہ ریاستوں کا ہے۔ دوسری جانب کھیتی کے لئے ضروری کھاد ، بیج و ڈیزل جیسی چیزوں کے دام پچھلی دہائی میں کئی گنا بڑھے ہیں۔
حکومت نے پہلی بار سرکاری طور پر یہ اعدادو شمار جاری کئے ہیں۔ کسی فصل کی فی کوئنٹل پیداوار کی لاگت کتنی آتی ہے۔اعدادو شمار کے مطابق2008-09 میں کسانوں کو ایک ایکڑ ارہر کی کھیتی پر اوسطاً3349 روپے ، مونگ پر 1806 روپے اور اڑد پر 61.36 روپے کا خسارہ ہوا۔ اسی طرح ایک ایکڑ زمین میں گنا بونے پر اوسطاً4704 روپے کا نقصان ہوا۔ ایسے ہی ایک ایکڑ جوار کی کھیتی پر قریب ہزار روپے کا خسارہ ہورہا ہے۔ جہاں تک گیہوں دھان کی بات ہے تو ان کی ایک ایکڑ کھیتی پر کسانوں کو ایک سال میں بسلسلہ 2200 روپے اور 4000 روپے کا اوسطاً منافع ہونے کی بات سرکاری اعدادو شمار میں دکھائی پڑتی ہے۔ گیہوں کی فصل تیار ہونے میں 5 مہینے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے۔ اس طرح کسان کنبے کو ماہانہ آمدنی500 روپے سے بھی کم پڑے گی اس طرح دھان کی کھیتی پر بھی 4 مہینے سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ جھارکھنڈ، ہماچل پردیش، مہاراشٹر اور مغربی بنگال ایسی ریاستیں ہیں جہاں 2008-09 میں گیہوں کی تھوک قیمت 1080 روپے تھی بمقابلہ لاگت اس کی زیادہ رہی ہے۔ اس طرح دھان کے معاملے میں ہی مہاراشٹر جھارکھنڈ ،تاملناڈو میں لاگت ایم ایس پی سے زیادہ ہے۔ وزارت کے مطابق دیش میں 65فیصد کسانوں کے پاس ایک ایکڑ سے بھی کم زمین ہے اور ان کی تعداد سوا آٹھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ بدقسمتی سے اس یوپی اے سرکار کی ترجیحات ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ عام بجٹ کے بعد شاید پہلی بار ہوگا جب کھاد اتنی مہنگی ہوجائے گی کے کھیتی کو ہی کھانے لگے گی۔سرکار نے کھادوں پر دی جانے والی سبسڈی میں بھاری کٹوتی کردی ہے۔ اس سے تقریباً سبھی طرح کی کھادوں کے دام بڑھنا طے ہیں۔ کھادوں کی بڑھی مانگ کو پورا کرنے کے لئے باہر سے ہی منگانے کا یہ واحد سہارا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کے بڑھنے سے گھریلو بازار میں کھاد کسانوں کی پہنچ سے باہر ہونے لگی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں ایک دیش میں کھاد کا کوئی کارخانہ قائم نہیں کیا جاسکا۔ ان حالات میں ہمارے کسان بھائیوں کی حالت اور خراب ہونی ہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Montek Singh Ahluwalia, Poverty, Vir Arjun

06 جنوری 2012

منموہن سنگھ نے دیش کو کنگال کردیا ہے



Published On 6th January 2012
انل نریندر
کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی حالت اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی منموہن سنگھ سرکار بتانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ مندی اس حد تک آرہی ہے کہ دکاندار پریشان ہیں۔ مال بک نہیں رہا۔ لوگوں کے پاس یا تو فالتو پیسہ نہیں ہے یا پھر وہ اسے خرچ نہیں کرنا چاہتے، بچا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ صنعتی پیداوار کم ہوتی جارہی ہے۔ سرکاری کام کاج ٹھپ سا پڑا ہے۔ باہر سے پیسے کا آنا کم ہوگیا ہے۔ کل ملاکر یہ کہا جائے کہ منموہن سنگھ سرکار کی اقتصادی حالت دنوں دن خراب ہوتی جارہی ہے اور کنگالی کے دہانے تک پہنچ گئی ہے۔ خرچ چلانے کیلئے بونڈ مارکیٹ سے40 ہزار کروڑ روپے خرچ جٹا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 65 ہزار کروڑ روپے اور اکٹھا کرنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ منموہن سنگھ سرکار نے اپنا خرچ چلانے کے لئے ستمبر2011ء میں 52 ہزار کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا نشانہ مقرر کیا تھا لیکن اس کی اقتصادی حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ خرچے کے لئے پیسہ اکٹھا کرنے کیلئے اب 5 لاکھ کروڑ روپے جمع کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس وقت دیش کے گرہن پر قرض بڑھائے جانے سے آگے قرضے اٹھانے میں بھی کمی آئی ہے۔ صنعتی فائدے میں بھاری کمی آنے کے چلتے صنعتی پیداوار میں بھی گراوٹ آئی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نہیں ہوپارہی ہے۔ منموہن سرکار کے ذریعے ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت مسلسل گرنے کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہو پارہی ہے۔ ملک کی معیشت مہنگائی و مندی کی گرفت میں آچکی ہے۔ ادھر بے روزگاری کم ہونے کی جگہ اور بڑھ رہی ہے۔ کاغذی روزگار دکھانے، بتانے کے لئے منریگا، سرو شکشا ابھیان وغیرہ اسکیموں میں ورلڈ بینک سے قرضہ لیکر جھونکا جارہا ہے ، جو زیادہ تر رشوت خوری، کرپشن کی بھینٹ چڑھتا جارہا ہے۔ اب کھانے کاحق اسکیم کے چلتے اور بھی قرضہ بڑھنے والا ہے۔ قرضہ لیکر بیرونی ممالک سے اناج خریدا جائے گا جبکہ اپنا اناج سڑ رہا ہے۔ابھی دال خریدنے شرد پوار کی وزارت میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا گھوٹالہ کیا ہے جو کیگ کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے بھی شرد پوار کی وزارت نے آسٹریلیا وغیرہ ممالک سے گیہوں خریدنے میں گھوٹالہ کیا تھا۔ شرد پوار پر اس گھوٹالے کے الزام لگے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ اتحادی دھرم کی دہائی دیکر سارے گھوٹالوں کو دبادیا جاتا ہے تو اس طرح جنتا کوراحت دینے اور ان کا معیار زندگی بڑھانے کے نام پر منموہن سنگھ سرکار ہر ماہ کچھ نہ کچھ نئے اعلانات کررہی ہے۔ منموہن سنگھ کو جو اپنے آپ کو ماہر اقتصادیات کہتے ہیں نے دراصل دیش کا خزانہ خالی کردیا ہے اور اب قرضہ چڑھتا جارہا ہے۔ اگلے سال آئی ایم ایف قرض کی بھاری قسط لوٹانی ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ ہندوستان وقت سے پہلے اسے لوٹا سکے گا۔ وہیں چندر شیکھر کے وقت میں سونا گروی رکھ کر یہ قسط ادا کرنے کی نوبت نہ آجائے؟ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے کہا کہ منموہن سنگھ سرکار دیش کو تقریباً دیوالیہ کرکے جائے گی۔ کچھ سماجی تنظیموں کے لوگوں کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ منموہن سرکار دیش کی اقتصادی حالت ایسی کرکے جائے گی اس کے بعد جو سرکار آئے گی اسے اپنا خرچ چلانے کے لئے پھر سونا گروی رکھنا پڑ سکتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, Vir Arjun

02 دسمبر 2011

پارلیمنٹ کا تعطل توڑنے کیلئے بیچ کا راستہ نکالنے میں حکومت ناکام


Published On 2nd December 2011
انل نریندر
خوردہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لیکر کھڑے ہوئے واویلے سے نکلنے کے راستے کو لیکر منموہن سنگھ حکومت شش و پنج میں مبتلا ہے۔ سرکار کی جانب سے پھینکے گئے سارے پانسے بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ کانگریس کے اندر شروع ہوئی کھلی مخالفت میں بھی حکومت کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ پہلے مہنگائی، کرپشن اور اب ایف ڈی آئی کے مسئلے پر گھری منموہن حکومت اور کانگریس کو بحران سے نکالنے کے لئے ایک طرف کانگریس صدر سونیا گاندھی کھل کر میدان میں آگئی ہیں۔ وہیں دوسری طرف ایف ڈی آئی کو لیکر اپوزیشن کے حملوں کی دھار کو کند کرنے کے لئے اترپردیش کے ایم پی اور سونیا کے قریبی سنجے سنگھ نے اس مسئلے پر وزیر اعظم اور سونیا گاندھی سے دوبارہ سے نظرثانی کرکے کسانوں ، تاجروں اور صارفین کے مفادات کی سلامتی کے کوچ کے ساتھ ایف ڈی آئی لانے کی درخواست کی ہے۔ جہاں کیبنٹ کی میٹنگ میں اے کے انٹوٹی ، جے رام رمیش سمیت وزرا کی غیر رضامندی دنیا کے سامنے ظاہر ہوچکی ہے وہیں اب سلطانپور کے ایم پی سنجے سنگھ نے حکومت اور پارٹی کو اس پر دوبارہ سے غور کرنے کی اپیل کرکے اترپردیش میں پارٹی کے ڈیمیج کنٹرول کی پہل کروادی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے یوپی کے زیادہ تر لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ کی رائے ہے کہ راہل گاندھی کے دورہ کے بعد کانگریس کے حق میں ماحول کو لیکر ایف ڈی آئی کے فیصلے سے نقصان ہوسکتا ہے۔ اس لئے سنجے سنگھ نے پہل کرکے کانگریس کے خلاف بسپا، سپا، بھاجپا کے ذریعے پیدا کی جارہی عوامی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ممکن ہے سنجے سنگھ نے سونیا گاندھی کی پہل پر ہی یہ بیان دیا ہو تاکہ منموہن سنگھ کو سمجھ میں آجائے کہ ان کی ضد پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے وزیر خزانہ اور کانگریس کے سنکٹ موچن پرنب مکھرجی بھاجپا کی شرن میں گئے تھے۔ انہوں نے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سے ملاقات کرکے کوئی بیچ کا راستہ نکالنے اور تعطل کو ختم کرانے کی اپیل کی تھی لیکن اس میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ بھاجپا نے بدھوار کو الزام لگایا کہ سرکار نے یہ فیصلہ امریکہ ، فرانس اور برطانیہ جیسے ملکوں کے دباؤ میں لیا ہے۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ دنیا کی خوردہ کمپنیوں میں اس کے لئے کافی لابنگ کی ہے اور پیسہ بھی دیا ہے۔ بھاجپا نے کہا کہ سرکار پارلیمنٹ کی کارروائی چلانے کا راستہ ہموار کرنے کیلئے اپنے فیصلے کو واپس لے یا پھر کام کو ملتوی کرنے کے پرستاؤ کے تحت اس موضوع پر بحث کرانے کے پارلیمنٹ کے جذبے کو قبول کرے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا ملٹی برانڈ خوردہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی کی اجازت دئے جانے کی سبھی پارٹیوں اور حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں نے بھی مخالفت کی ہے لیکن حکومت نے ملک کے مفاد کے خلاف ایک طرفہ طور سے پارلیمنٹ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ لیا۔ انہوں نے کہا سرکار کو دو تجویزیں دی گئی ہیں یا تو وہ اس فیصلے کو واپس لے کر پارلیمنٹ کے کل مہنگائی، کالی کمائی پر بحث شروع کروائے ، یا پھر خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی پر تحریک التوا کے تحت بحث کرائے۔انہی حالات میں پارلیمنٹ چل سکتی ہے اس میں بیچ کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, FDI in Retail, Inflation, Manmohan Singh, Murli Manohar Joshi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

06 نومبر 2011

مہنگائی دھیمی موت کی طرح ہے حکومتیں پلہ نہیں جھاڑ سکتیں


Published On 6th November 2011
انل نریندر
پیٹرول کے داموں میں تازہ اضافے کی چوطرفہ مخالفت ہونا فطری ہے۔ جنتا کا غصہ کھلی بغاوت کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ بھاجپا نے تو جنتا سے کھلی مخالفت کرنے کی اپیل کردی ہے۔ بھاجپا کے سینئر لینڈر یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ دیش کی جنتا پہلے سے ہیں 12.21 فیصدی افراط زر شرح کا سامناکررہی ہے ۔ ایسے میں پیرول کے داموں کا بڑھنا جنتا پر دوہری مار کی مانند ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عوام اس کڑپٹ اور غیر ذمہ دار حکومت کو اکھاڑ پھینکے۔ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اس ملک کی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حکومت کے اس منمانے قدم کے خلاف بغاوت کریں۔ بغاوت کئی طرح کی ہوتی ۔ تعاون نہ کرنا بھی ایک طرح کی بغاوت ہوگی۔ یوپی اے سرکار کے اس فیصلے سے اس کی اتحادی پارٹیاں بھی ناراض ہیں۔ یوپی اے میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ترنمول کانگریس نے تو اشاروں میں حمایت واپسی تک کی دھمکی دے دی ہے۔ جمعہ کو ترنمول کانگریس پارلیمانی پارٹی کی کولکتہ میں ایمرجنسی میٹنگ ہوئی۔ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمارے نیتامرکزی سرکار سے حمایت واپس لینے کے حق میں ہیں لیکن کوئی بھی فیصلہ وزیر اعظم کے وطن لوٹنے کے بعد ہی لیا جائے گا۔ ادھر خبر ہے وزیر اعظم وطن لوٹ آئے ہیں۔ ایک طرح سے انہوں نے پیٹرول کے داموں میں اضافے کو مناسب ٹھہرادیا ہے۔ فرانس میں انہوں نے کہا کہ بازار کو اپنے حساب سے چلنے دیا جائے۔ تیل کی قیمتوں کو اور ڈی کنٹرول کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ڈی ایم کے این سی پی اور نیشنل کانفرنس نے بھی پیٹرول کے دام بڑھانے کی مخالفت کی ہے۔ ادھر انڈین آئل کارپوریشن کے چیئرمین آر ایس بتلا نے کہا کہ اگر سرکار ہدایت دیتی ہے تو ہم اضافے کو واپس لینے کو تیار ہیں۔
پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں پر منموہن سنگھ حکومت کا ہمیشہ ایک ہی جواب رہا ہے ہم اس میں کچھ نہیں کرسکتے یہ فیصلہ تیل کمپنیوں کو ہی کرنا ہے۔ یہ کہہ کر سرکار اپنا پلہ جھاڑ لیتی ہے لیکن پیٹرول کی قیمتوں کے بارے میں بار بار اضافے پر کیرل ہائی کورٹ نے سخت موقف اپنایا ہے۔ اس نے کہا حکومتیں اس معاملے پر اپنی ذمہ داری سے پلہ نہیں جھاڑ سکتیں۔ اس کی مخالفت کے لئے سیاری پارٹیوں کا انتظار کرنے کی بجائے دیش کے لوگوں کو خود سامنے آنا چاہئے۔ عدالت ہذا نے انڈین آئل کارپوریشن اور ریلائنس پیٹرولیم کو اپنی بیلنس شیٹ اور سہ ماہی رپورٹ تین ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔ مفادعامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کارگذار چیف جسٹس سی این رام چندرن نائن اور جسٹس پی ایس گوپی ناتھ نے زبانی رائے زنی میں کہا کہ پچھلے ایک سال میں تیل کے دام 40 فیصدی سے زائد بڑھ گئے ہیں۔ اس سے عام آدمی کو زبردست پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مہنگائی دھیمی موت کی طرح ہے۔ سیاسی پارٹیاں مخالفت کررہی ہیں۔ صارفین احتجاج نہیں کرپارہے ہیں۔ بار بار اضافے کو انہیں برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ عدالت نے کہا اس اضافے سے دو پہیہ اور چھوٹی کاریں چلانے والے شخص متاثر ہوتے ہیں امیر لوگ نہیں ۔ کیونکہ وہ ڈیزل کی مہنگی کار میں چلتے ہیں۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے دلیلدی کہ یہ عرضی سیاسی اغراض پر مبنی ہے لیکن عدالت نے یہ کہتے ہوئے کہ سیاست میں بھی ضرور مفاد وابستہ ہوتا ہے، عرضی سماعت کے لئے داخل کرلی گئی ہے۔ حالانکہ عدالت کا کہنا تھا تیل مصنوعات کے دام طے کرنے کا اختیارمرکزی حکومت کا تھا۔ یہ پالیسی میٹر ہے۔ پیٹرول کی موجودہ قیمتوں میں اضافے کے معاملے میں ہم دخل نہیں دے سکتے۔ پیٹرول کے دام میں اضافہ قومی اشو ہے ہم اس پرروک نہیں لگا سکتے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Inflation, Kerala High Court, Petrol Price, Vir Arjun

05 نومبر 2011

پہلے سے ہی مہنگائی میں دبی جنتا پر اب پیٹرول کے دام بڑھنے کی مار



Published On 5th November 2011
انل نریندر
دیش میں گذشتہ کئی دنوں سے پیٹرول کے دام بڑھائے جانے کی قیاس آرائیاں جاری تھیں اور آج سبھی قیاس آرائیوں پر لگام لگ گئی ہے۔ سرکاری کمپنی انڈین آئل نے پیٹرول کی قیمت پر1.82 پیسے کا اضافہ کردیا ہے۔انڈیا آئل کے اس اضافے کے بعد ہی سبھی تیل کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ بڑھی ہوئی قیمت کے بعد ممبئی میں ایک لیڈر پیٹرول 73.74 روپے ، دہلی میں68.66 روپے، کولکتہ میں73.10 روپے تو چنئی میں 72.64 روپے فی لیٹر ملے گا۔ خیال رہے کہ پیٹرول کی قیمت میں پہلا اضافہ ستمبر کے مہینے میں ہوا تھا۔ واقف کاروں کی مانیں تو ابھی پیٹرول کے دام میں اور آگ لگنے والی ہے۔ تیل کمپنیاں جون2010 کے بعد سے ابھی تک دس بار پیٹرول مہنگا کرچکی ہیں۔ پچھلے دو مہینے میں دو بار قیمتیں بڑھائی جا چکی ہیں۔ کچے تیل کی قیمت ہم ہی نہیں بلکہ سبھی ملکوں کو متاثر کرتی ہے لیکن دیگر دیشوں میں آج بھی پیٹرول ہمارے دیش سے کافی سستا ملتا ہے۔مختلف ملکوں میں پیٹرول کی خوردہ قیمتوں کو ہندوستانی کرنسی میں تبدیل کرکے دیکھیں تو پائیں گے کہ یہاں پیٹرول کے دام دنیا کے زیادہ تر ملکوں کے مقابلے زیادہ ہیں۔ بھارت میں پیٹرول کی اوسط قیمت 70 روپے فی لیٹر ہے جبکہ چین میں 48 روپے ،پاکستان میں 50 روپے، بنگلہ دیش میں49 روپے، سری لنکا میں 54 روپے فی لیٹر ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ ، ہانگ کانگ، ملیشیا، آسٹریلیا، کینیڈاجیسے خوشحال ملکوں میں بھی پیٹرول بھارت کے مقابلے سستا ہے۔ جن ملکوں میں پیٹرول پر ٹیکس جاتا ہے جیسے سنگاپور، نیوزی لینڈ، تھائی لینڈ، برازیل ان میں بھی بھارت سب سے اوپر ہے۔ دنیا میں سب سے سستا تیل کچا تیل اور برآمد کرنے والے ملکوں میں ان میں سعودی عرب، ایران، وینیزویلا، کویت جیسے ملک شامل ہیں۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں پیٹرول مہنگا ہونے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بھارت اپنی کل کھپت کا قریب تین چوتھائی کچا تیل باہر سے منگاتا ہے۔اس کے علاوہ بھارت نے پیٹرولیم مصنوعات پر زبردست ٹیکس ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی، امپورٹ ڈیوٹی ،ویٹ کو ملا کر دیکھیں تو تیل کی قیمتوں میں آدھے سے زیادہ اضافہ صر ف ٹیکس کے چلتے ہی ہوجاتا ہے۔اگر وزیر پیٹرولیم کی مانیں تو رسوئی گیس سلنڈر، ڈیزل، مٹی کے تیل کا بوجھ بھی بڑھنے والا ہے۔ وزیر محترم کہتے ہیں کہ سرکار اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی۔ پورا دیش چند تیل کمپنیوں کے رحم و کرم پر ٹکا ہوا ہے۔ مہنگائی سے پہلے ہی سے پریشان عوام آج عاجز آچکی ہے۔ یہ سرکار عام آدمی کا دم نکالے پر تلی ہوئی ہے۔ حکومت نہ تو اپنی کھپت پر ہی کوئی کنٹرو ل کرتی ہے اور نہ ہی مٹھی بھر تیل کمپنیوں کے اناپ شناپ خرچوں پر لگام لگانے کی کوشش کرتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تیل کمپنیوں کو سی اے جی سے اپنے کھاتے چیک کرانے چاہئیں۔ یہ کوئی نجی معاملہ نہیں ان کے فیصلوں سے پورا دیش براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اپنے عیش و آرام کے لئے چند کمپنیاں غریب آدمی کی کمر توڑتی رہتی ہیں اور یہ نکمی سرکار کہتی ہے کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ عام آدمی جائے تو کہاں جائے؟ پتہ نہیں کوئی آدمی عدالت میں پی آئی ایل کیوں نہیں ڈالتا جس سے دیش کو پتہ چلے کہ ان تیل کمپنیوں کی اصلیت کیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Petrol Price, Vir Arjun

26 اکتوبر 2011

مہنگائی اور ملاوٹ نے دیوالی کا مزہ کرکرا کردیا




Published On 26th October 2011
انل نریندر
اس سال کی دیوالی آج تک کی سب سے مہنگی دیوالی ہوگی۔ یہ لگاتار تیسرا سال ہے جب کھانے پینے کے سامان کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بیچ عام لوگ یہ تہوار منانے کو مجبور ہیں۔ سبزیوں اور دوسری روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں کے داموں میں تیزی نے اس بار کی دیوالی کو پھینکا کردیا ہے۔ اس سال کے شروع سے ہی مہنگائی کا جو دور شروع ہوا وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، رہی سہی کثر ملاوٹ کی سرخیوں نے پوری کردی ہے۔آئے دن پکڑے جانے والی ملاوٹی مٹھائی سے لوگ اس طرح سے خوفزدہ ہیں کہ لوگ مٹھائیوں کی خریداری سے زیادہ ڈرائی فروٹ اور چاکلیٹ اور ریڈیمیڈ گفٹ پیک خریدنے پر پیسے خرچ کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈرائی فروٹ دوکانداروں کی مانیں تو پچھلے دوسالوں سے اس کاروبار میں زیادہ اضافہ ہوا ہے وہیں خوردنی ماہرین کی مانی جائے تو ان میں ملاوٹ کے آثار بہت کم رہتے ہیں جس سے صحت پر کوئی برا اثر نہیں پڑا۔ غور طلب ہے کہ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی جانچ ایجنسیوں کی مدد سے چھاپے ماری کے دوران نقلی ماوا ،مٹھائیاں پکڑی گئیں۔ اس بار مٹھائی کی بڑی دکانیں خالی پڑی ہیں۔ کئی مالک تو ایک ہی دیوالی میں کہاں تو کوٹھیاں کھڑی کرلیتے تھے اور کہاں اکا دکا ہی گراہک آرہے ہیں۔ حکومت اور محکمہ صحت کو ایک قانون بنانا چاہئے کہ ہر حلوائی کو ڈبے پر یہ لکھنا چاہئے کہ وہ مٹھائی کو بنانے میں کن کن چیزوں کا استعمال کررہا ہے اور اس سامان کی انہیں گارنٹی دینی ہوگی۔ بیرونی ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے گراہک کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کھا رہا ہے۔ اس میں جو چیزیں پڑی ہوئی ہیں وہ صحت کے حساب سے نقصاندہ تو نہیں ہیں، اس سے بکری بھی بڑھے گی۔ چراغوں کے اس تہوار میں دیپوں کا رواج کم ہورہا ہے اور بجلی کی روشنی زیادہ لوگ اپنے گھروں میں کرتے ہیں۔ اس کے لئے چھوٹی چھوٹی بلبوں کی لڑیاں لگانا پسند کرتے ہیں اور اس سیکٹر میں بھی چین نے اپنا مال اتاردیا ہے۔ بجلی کی لڑیوں سے لیکر پٹاخوں یہاں تک کہ بھگوانوں کی مورتیاں بھی چین سے آرہی ہیں۔
اس دیوالی میں یہ سوال کھڑا ہوگا کہ کیا پٹاخے چلائے جائیں یا ماحولیات کا خیال رکھتے ہوئے صرف دیئے جلا کر دیوالی منائیں۔ پچھلے کئی برسوں سے ایک تحریک شروع ہوگئی ہے کہ پٹاخوں سے توبہ کی جائے اور ہوا کو آلودہ ہونے سے بچایا جائے۔ کئی لوگوں نے اس مہم کے اثر سے پٹاخے چلانا کم کردیا ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو 10 ہزار یا اس سے زیادہ کی ایک لڑی پھونک دیتے ہیں۔ سائنسدانوں کی مانیں تو دیوالی جیسے تہوار گلوبل وارمنگ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پٹاخے جلانے سے اگر گلوبل وارمنگ نہ بھی ہوتی ہو تو ہمارے آس پاس جو سانس یا قلب امراض کے مریض ہوتے ہیں انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ بیمار اور بوڑھے لوگوں کو ضرور دقت ہوتی ہے۔ جانور یا چرند پرند اس سے تکلیف پاتے ہیں۔پہلے پٹاخے کم چلتے تھے لیکن اس کا مقصد خوشی منانا تھا۔ اب پیسے کا مظاہرہ زیادہ ہوگیا ہے۔ ہم سب کو دیپوں کے اس تہوار پر اپنی مبارکباد دیتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ آپ کی دیوالی شبھ اور محفوظ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Deewali, Inflation, Price Rise, Vir Arjun 

22 اکتوبر 2011

نہ تو میں مہنگائی کیلئے ذمہ دار ہوں نہ ہی اسے کم کرسکتا ہوں




Published On 22nd October 2011
انل نریندر
مسٹر منموہن سنگھ کی یہ یوپی اے حکومت کمال کی ہے۔ اس حکومت میں کسی بھی وزیر کے جو نظریات ہوں وہ انہیں کہہ ہی دیتا ہے اور اس کے لئے وہ کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم ایسے بیانوں کو اتحادی مجبوری کہہ کر ٹال دیتے ہیں لیکن ان سے پتہ چلتا ہے کہ منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں ان کی کتنی عزت ہے اور وہ کتنے طاقتور ہیں۔ ضمنی چناؤ میں ملی کراری شکست کے بعد اب کانگریس کی ساتھی پارٹیوں نے بھی وزیر اعظم اور کانگریسی پارٹیوں کو ہار کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا شروع کردیا ہے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ پر ملی ہار سے بوکھلا گئے وزیر ذراعت شرد پوار نے براہ راست وزیر اعظم پر ہی حملہ بول دیا ہے۔پوار نے ایک مراٹھی روزنامے کی طرف سے ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ پچھلے دنوں مختلف گھوٹالوں کے سلسلے میں سرکار نے مضبوط لیڈر شپ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پوار نے کہا کہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کے سلسلے میں جنتا یہ سوال پوچھ رہی تھی کہ پردھان منتری پورے معاملے میں مداخلت کیوں نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ایسے وقت جبکہ لیڈرشپ کو مضبوطی کے ساتھ اس کی صفائی دینی چاہئے تھی مرکزی حکومت کی طرف سے کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے آگے کہا مختلف گھوٹالوں کے سبب عوامی رائے مرکزی حکومت کے خلاف گئی ہے اور اس سے سرکار کی ساکھ کو دھکا لگا۔ سرکار کی سست روی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدلیہ نے انتہائی سرگرمی دکھاتے ہوئے مختلف قدم اٹھائے۔ انا ہزارے اور یوگ گورو بابا رام دیو کے بھرشٹاچار مخالف آندولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں منتخب نمائندوں کو پوری طاقت سے اپنا کردار نبھانا چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو دیگر طاقتوں کو سامنے آنے کا موقعہ ملے گا جو جمہوری نظام کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔ شرد پوار یہیں نہیں رکے، بدھوار کو نئی دہلی میں اقتصادیات کے مدیروں کی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ نہ تو میں مہنگائی کے لئے ذمہ دار ہوں اور نہ ہی اسے کم کرنا میرا کام ہے۔ میں وزیر زراعت یعنی ایک کسان ہوں اور میرا کام اناج پیدا کرنا ہے۔ میری وزارت کی یہ بھی کوشش رہتی ہے کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
ہم کو شرد پوار کی باتیں سن کر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ یہ پہلے بھی کانگریس لیڈرشپ پر سیدھے حملے کرچکے ہیں۔ اگر ایسے بیانوں کا اپوزیشن پارٹی فائدہ اٹھائے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ بھاجپا پوار کے بیان سے خوش ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ یوپی اے ڈوبتا جہاز ہے اور اب اس سے بھاگنے کی سبھی پارٹیاں کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے وزیر اعظم کے ساتھ بنگلہ دیش جانے سے انکار کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ بڑی اتحادی پارٹی اور وزیر زراعت شرد پوار یوپی اے کو چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ایک سینئر وزیر اپنے ہی وزیر اعظم اور سرکار کی پالیسیوں پر اس طرح کے سوال اٹھاتا ہے تو مجموعی ذمہ داری کہاں گئی؟ ذمہ داری کی بات کریں تو شری پوار تو صاف کہتے ہیں کہ مہنگائی کم کرنا میرا کام نہیں۔ اگر یہ کام شرد پوار کا نہیں تو کس کا ہے؟ اور اگر وہ اپنی سرکار کی پالیسیوں سے اتنے ناخوش ہیں اور متفق ہیں تو انہیں سرکار میں رہنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں نہیں شرد پوار منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے دیتے۔ ہمیں پردھان منتری پر بھی رحم آتا ہے جو وزیر اعظم اپنے سینئر وزرا پر لگام نہیں کس سکتا وہ پورے دیش کو کیسے چلا سکتا ہے؟ جیسے دیش چل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہی ہے۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, Price Rise, Sharad Pawar, UPA, Vir Arjun

30 ستمبر 2011

آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس

 

Published On 30th September 2011
انل نریندر
انگریزی میں یہ ایک کہاوت ہے ’’آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس‘‘ یعنی حملہ کرنا سب سے اچھا بچاؤ ہے۔وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسی تکنیک کو اپنایا ہے۔ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی آنچ سے جھلس رہے مرکز میں یوپی اے حکومت کے حکمت عملی ساز جہاں ڈیمیج کنٹرول میں جٹے ہوئے ہیں وہیں امریکہ سے وطن لوٹتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپوزیشن پر جم کر حملہ بولا اور اپوزیشن کے منصوبوں اور ارادوں کی ہوا نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن پر حکومت کو کمزور کرنے، زبردستی ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف دھکیلنے کا الزام وزیر اعظم نے لگا کر پورے معاملے کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ جوابی حملہ ہوا میں ایئر انڈیا کے طیارے سے ہی شروع کردیا۔ انہوں نے کہا ہم پانچ سال کی میعاد پوری کریں گے اور وسط مدتی چناؤ نہیں ہوگا۔ کیبنٹ کے ممبران میں ٹکراؤ کی باتیں میڈیا کا اپنا تصور ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم پر مجھے پہلے بھی بھروسہ تھا اور اب بھی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ سے لوٹتے ہوئے فرینک فرٹ سے نئی دہلی آ رہے طیارے میں صحافیوں سے بات چیت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مانا کہ بگڑتی معیشت کا اثر ہندوستان پر بھی ہوا ہے۔افراط زر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن ہم حالات کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ڈاکٹر سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کی ساکھ کے بارے میں جنتا کے درمیان کوئی پریشانی ہوسکتی ہے جسے صحیح کرنا ضروری ہے۔
حکومت کو کمزور کر ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف جھونکنے کی کوشش کیلئے اپوزیشن پر لگائے گئے وزیر اعظم کے الزام پر بھاجپا نے جوابی تیر چھوڑتے ہوئے کہا اگر حکومت گرے گی تو وہ اپنے کرموں سے ہی گرے گی۔ ہمیں سازش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کے لئے ہمارے پاس درکار ممبروں کی تعداد ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نے وطن لوٹتے ہی الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کمزور کرنے میں لگی ہے۔سشما نے کہا کہ حکومت کو کمزور کرنے کا ٹھیکرا اپوزیشن کے سر پھوڑنے کے بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وزیر اعظم اپنے گھر کو درست کرنے کی فکر کرتے۔ محترمہ سشما نے کہا کہ حکومت اور ان کے وزرا کو لیکر جو کرپشن کے نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں انہیں اپوزیشن نے نہیں گڑھا ہے بلکہ خود ان کے ہی لوگ ان کے ذریعے چلائی جارہی سرکار کی ایجنسیوں نے اجاگر کئے ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ یہ اپوزیشن نے نہیں کیا۔ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ سے اپوزیشن کوکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کی کمزور حالات کی وجہ سے سرکار میں لیڈر شپ کا سنگین بحران ہے۔ یہ سرکار خود ہی گرنے کے موڑ پر ہے۔ بھاجپا کے دونوں لیڈروں نے دعوی کیا وزارت مالیات کے نوٹ سے ثابت ہوچکا ہے کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں جو گھوٹالہ اس وقت کے وزیر مواصلات اے راجہ نے کیا وہی جرم ہو بہو پی چدمبرم نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس گھوٹالے میں وزیر اعظم کو کہیں بھی اندھیرے میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں راجہ نے اور چدمبرم نے ہر قدم کے بارے میں باقاعدہ جانکاری دی۔ وزیر اعظم کی یہ حکمت عملی کتنی مثبت ثابت ہوگی یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے لیکن ایک طرح سے انہوں نے یہ بیان دے کر خود اپنی حکومت کی عمر پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جب وزیر اعظم خود ہی وسط مدتی چناؤ کی بات کرنے لگے تو اس کا جنتا جناردن میں کیا پیغام جائے گا آپ خود ہی سمجھدار ہیں۔
2G, Anil Narendra, Arun Jaitli, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Sushma Swaraj, Vir Arjun

23 ستمبر 2011

اگر آپ 25 روپے روز خرچ کرتے ہیں تو آپ غریب نہیں ہیں



Published On 23rd September 2011
انل نریندر
منگلوار کو بھارت کی پلاننگ کمیشن نے ایک حلف نامہ دائر کیا ہے۔ مجھے اس کو پڑھ کر دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔ پتہ نہیں یہ پلاننگ کمیشن والے کون سی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اگر ان کی سوچ اس طرح کی ہی ہے تو اوپر والا ہی بچائے اس دیش کو۔ حلف نامے میں پلاننگ کمیشن فرماتا ہے کہ غریبی ریکھا سے نیچے (BPL) کا درجہ پانے کے لئے ایک عام شرط یہ ہے کہ ایک پریوار کی کم سے کم انکم 125 روپے روزانہ ہو۔عام طور پر ایک پریوار میں اوسطاً پانچ لوگ مانے جاتے ہیں اس طرح فی شخص کی روزانہ انکم25 روپے ہے۔ غور طلب ہے کہ زیادہ تر سرکاری یوجناؤں کا فائدہ صرف غریبی ریکھا سے نیچے کے لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔ کمیشن نے یہ حلف نامہ عدالت کے کئی بار کہنے کے بعد دائر کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق پردھان منتری دفتر بھی اس حلف نامے پر غور کرچکا ہے۔ حلف نامہ سریش تندولکر سمیتی کی رپورٹ پر منحصر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ غریبی کھانا، تعلیم اور صحت پر فی شخص خرچ کے حقیقی آنکڑے پر زندگی گذارنے پر منحصر ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق گرامین حلقے میں 26 روپے اور شہری حلقے میں 32 روپے کمانے والا اب غریب نہیں مانا جائے گا اور اتنے روپے میں صرف کھانے کا خرچہ نہیں بلکہ کرایہ، کپڑا، صحت، تعلیم،تفریح وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔یعنی مہینے میں شہروں میں965 روپے اور گاؤں میں 781 روپے خرچ کرنے والا سرکار کی نظر میں غریب نہیں ہے۔ سرکار اسے اپنی فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں دے گی۔ ظاہرہے کہ غریبی کے نئے پیمانے کو مضحکہ خیز کہا جارہا ہے لیکن ان سب سے بے فکر عام آدمی کی اس یوپی اے سرکار کے پلاننگ کمیشن کے اس نئے پیمانے پر غریبی ریکھا سے اوپر رہنے والا شہری اناج پر پانچ روپے، سبزیوں پر 1.80 پیسے، دال پر 1 روپیہ اور دودھ پر 2.30 پیسے خرچ کرتا ہے۔ تیل اور رسوئی گیس ملا کر مہینے میں112 روپے خرچ کرنے والا بھی غریب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں پانچ روپے میں آپ 136 گرام چاول یا 166 گرام گیہوں ہی خرید سکتے ہیں۔ 1.80 پیسے میں 180 گرام آلو یا 90 گرام پیاز،90 گرام ٹماٹر یا پھر 180 گرام لوکی خرید سکتے ہیں۔ ایسے ہی 1 روپے میں 20 گرام دال ہی مل پائے گی۔ڈھائی روپے سے کم میں دودھ ملے گا صرف85 ملی لیٹر اور 112 روپے میں آپ ڈیڑھ کلو رسوئی گیس سے زیادہ نہیں خرید سکتے۔ ظاہر ہے اتنے راشن میں ایک وقت کا بھر پیٹ کھانا بھی نہیں ہوسکتا۔
عام آدمی سرکار کے اس آنکڑے سے شاید دکھی ہولیکن حیرانی بالکل نہیں ہوئی، یہ سرکار غریب آدمی سے کتنی کٹ چکی ہے اسی حلف نامے سے پتہ چلتا ہے۔ اقتصادی ماہر پردھان منتری منموہن سنگھ ان کے سپہ سالار مونٹیک سنگھ آہلووالیہ، پرنب مکھرجی، پی چدمبرم جیسے لوگوں سے آپ کیا امید کرسکتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی کھلے بازار میں سبزی ، آٹا، دال ، چاول، تیل، دودھ، دوائی ، ڈاکٹر کی فیس، اسکول کی فیس، میٹرو یا بس کے کرائے کا پتہ کیا ہے،یا تجربہ کیا ہو تو زمینی حقیقت کا پتہ چلے۔ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اپنے کمپیوٹر میں انگریزی زبان میں گوگل پرسرچ کرکے یہ حلف نامہ تیار ہو تو ہوجاتا ہے لیکن زمینی حقیقت سے یہ کوسوں دور ہوتا ہے۔ اتنا دور کے عام آدمی کو غصہ اور دکھ ہوتا ہے۔
Anil Narendra, daily, Inflation, Manmohan Singh, Montek Singh Ahluwalia, P. Chidambaram, Planning Commission, Poverty, Pranab Mukherjee, Vir Arjun,

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...