Translater

‏MCD لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏MCD لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

21 اپریل 2012

اکیلی شیلا دیکشت ہی ہار کی ذمہ دار نہیں ہیں



Published On 21 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی ہار کا ذمہ دار کون ہے؟ ویسے کانگریس میں پوسٹ مارٹم کرنے کا کوئی چلن نہیں ہے اور ہار کے بعد شاید ہی کسی کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے اترپردیش، پنجاب کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے ہیں۔ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی ہار کی ذمہ داری طے نہیں ہو پارہی ہے۔ دہلی میں اکیلے وزیراعلی محترمہ شیلا دیکشت کو ذمہ دار ماننا صحیح نہیں ہے۔ بیشک دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں بانٹنا شیلا جی کا نظریہ تھا اور اس حدتک ہار کیلئے وہ ذمہ دار ہوسکتی ہیں لیکن دہلی سے تمام کانگریسی ایم پی دہلی سرکار کے وزیر و ممبران اسمبلی بھی اس کے لئے کم ذمہ دار نہیں ہیں۔ پہلے بات کرتے ہیں ممبران پارلیمنٹ کی ۔ سب سے زیادہ خراب حالت نئی دہلی پارلیمانی حلقے کی رہی ہے جہاں سے مرکزی وزیر اجے ماکن کی پسند کے لوگوں کو ٹکٹ دئے گئے۔ اس حلقے میں 32 وارڈ نہیں اور کانگریس کو صرف 7 وارڈوں پر جیت حاصل ہوسکی ہے یہاں سے کانگریس کے تین باغی جیتنے میں بھی کامیا ب رہے۔ بھاجپا نے یہاں سب سے زیادہ32 سیٹوں پر اپنا پرچم لہرایا۔ مغربی دہلی کے ایم پی مہابل مشرا کے علاقے میں کانگریس کی ٹکٹوں کے لئے گھماسان ہوااور نتیجہ یہ نکلا کے 10 سیٹیں ہی کانگریس کومل سکیں۔ بی جے پی 19 پر کامیاب رہی ایس پی1،آر ایل ڈی 2 سیٹوں پر قابض ہوئی۔ کئی داغی بھی جیت گئے۔مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ کو ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران اپنے ممبران اسمبلی کی مخالفت جھیلنی پڑی اور کانگریس نے ان کے علاقے میں بھی خراب مظاہرہ کیا ہے۔ یہاں کانگریس 11 سیٹیں جیت پائی ، بی ایس پی کو سب سے زیادہ6 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ پردیش پردھان اور نارتھ دہلی سے ممبر پارلیمنٹ جے پرکاش اگروال کو فری ہینڈ ملا لیکن ان کی پوزیشن بھی کافی مشکل بھری رہی۔وہ12 امیدواروں کو ہی جتا سکے۔ کانگریس کے بھاری بھرکم وزیر کپل سبل چاندنی چوک سے ہلکے ثابت ہوئے۔ کانگریس کو14 سیٹیں ملیں بھاجپا کو21 سیٹیں ملیں جبکہ شعیب اقبال کی آر ایل ڈی کو3 سیٹیں مل سکیں۔ بی ایس پی کو1 اور 1 آزاد امیدوار کے کھاتے میں گئی۔ حالانکہ وزیر اعلی کے بیٹے سندیپ دیکشت بھی آدھے نمبروں سے بھی پاس نہیں ہوسکے15 سیٹیں ہی جتا سکے لیکن باقی ممبر پارلیمنٹ سے ان کی کارکردگی بہتر رہی۔ بی جے پی نے ایسٹ دہلی سے18 سیٹیں جیتیں۔ کانگریس سے صرف3 زیادہ لیکن3 باغیوں نے کھیل بگاڑ دیا۔ اب بات کرتے ہیں دہلی سرکار میں کانگریس وزراء کی ۔ سبھی 6 وزرا کی کارکردگی خراب رہی۔ سب سے برا حشر کانگریس کے سینئر وزیر ڈاکٹر اے کے والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے لکشمی نگر کے چاروں وارڈ کشن گنج ، لکشمی نگر، شکر پور، پانڈو نگر میں کانگریس ہار گئی۔ سرکار کے دوسرے وزیر ہارون یوسف بھی اپنے اسمبلی حلقے بلیماران کے تین وارڈوں میں پارٹی کو جتا نہیں پائے۔ ان کے وارڈ بلیماران، رام نگر، قصاب پورہ میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ واحد وارڈ عید گاہ روڈ میں پارٹی لاج بچا سکی۔ رماکانت گوسوامی کی راجندر اسمبلی حلقے میں تین وارڈ راجندر نگر، اندرپوری، نرینا میں پارٹی امیدوار ہار گئے جبکہ پوسا وارڈ میں ہی کانگریس جیتی۔ یہ ہی حال وزیر بہبود پروفیسر محترمہ کرن والیہ کا رہا۔ ان کے اسمبلی حلقے مالویہ نگر کے تین وارڈ مالویہ نگر، صفدر جنگ انکلیو، حوض خاص میں کانگریس امیدوار ہار گئے جبکہ ایک سیٹ حوض رانی میں پارٹی جیت پائی۔ راجکمار چوہان کا بہرحال ریکارڈ برابری پر چھوٹا۔ ان کے اسمبلی حلقے منگولپوری کے چار وارڈ میں سے دو منگولپوری ایسٹ اور منگولپوری میں پارٹی امیدوار جیتے ہیں جبکہ روہنی ساؤتھ، منگولپوری ویسٹ میں ہار گئے۔ ہار جیت کے ریکارڈ میں وزیر اروندر سنگھ لولی کا ریکارڈ بہتر مانا جاسکتا ہے۔ ان کے اسمبلی حلقے گاندھی نگر کے چار میں سے تین وارڈ دھرم پورہ، گاندھی نگر، رگھوبر پورہ میں پارٹی امیدوار جیتے جبکہ آزاد نگر میں پارٹی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح جمنا پار وکاس بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نریندر ناتھ اپنے چاروں وارڈ ہار گئے ہیں تو دہلی اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر یوگانند شاستری چار میں سے دو اور سینئر ممبر اسمبلی مکیش شرما کے تین وارڈوں میں کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف بی جے پی کے سینئر ممبران اسمبلی کی کارکردگی ٹھیک مانی جاسکتی ہے۔ اپوزیشن کے لیڈر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ تین ، جگدیش مکھی دو، ڈاکٹر ہرش وردن کے دو وارڈوں میں بی جے پی کے امیدواروں نے فتح حاصل کی ہے۔ اس لئے اکیلے شیلا دیکشت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔ اس حمام میں تو سبھی ننگے ہیں۔ اسمبلی چناؤ ڈیڑھ سال بعد ہونے ہیں اگر کانگریسی ممبران پارلیمنٹ، وزراء اور ممبر اسمبلی کا یہی حال رہا تو انجام بھگتنے کے لئے کانگریس اعلی کمان کو تیار رہنا ہوگا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Sheila Dikshit, Vir Arjun

19 اپریل 2012

ایم سی ڈی چناؤ کی جھلکیاں


Published On 20 March 2012
انل نریندر
اس بارکے میونسپل چناؤ میں کئی دلچسپ قصے سامنے آئے ہیں۔دہلی کے اس ایم سی ڈی چناؤ میں لوگوں نے نوجوانوں اور بزرگوں سبھی کو چونکا دیا ہے۔ بات اس بھروسے کی ہے لوگوں کو جس پر یقین ہوا اسی کے سر پر سہرہ باندھ دیا۔ سب سے بزرگ لیڈروں میں مانے جانے والے کانگریس کے رمیش دتہ کو ایک بار پھر جیت کا تاج پہنا دیا وہیں دوسری طرف محض21 سال کے دو نوجوان لڑکوں کوبھی اپنا لیڈر چنا۔ ترکمان گیٹ سے منتخب ہوکر آئے آل محمد اقبال محض 21 سال اور ایک مہینے کی عمر میں سب سے نوجوان کونسلروں میں سے ایک ہیں۔ آل محمدراشٹریہ لوکدل کے امیدوار تھے وہیں 21 سالہ بسپا امیدوار پونم پریرا بھی سب سے کم عمر امیدوار رہیں۔ وہ منگولپوری ویسٹ وارڈ سے کامیاب ہوئیں۔ پچھلے کئی برسوں سے دہلی کی سیاست میں سرگرم رمیش دتہ سب سے بزرگ کونسلر ہیں۔ اس بار چناؤ میں انہیں دل کا دورہ بھی پڑا لیکن ہرگھر سے واقف رمیش دتہ کا اتنے برسوں سے لوگوں کے ان کے تئیں پیار میں کوئی کمی نہیں آئی۔
بات اگر مسلم کونسلروں کی کریں تو میونسپل چناؤ میں سیاسی پارٹیوں کا مسلم امیدواروں پر لگایا داؤں کامیاب رہا۔ اس بار سب سے زیادہ مسلم کونسلر کانگریس سے چن کر آئے ہیں اس کے علاوہ راشٹریہ لوکدل سے 3 ، بھاجپا۔بسپا اور سپا سے بھی1-1 کونسلر چن کے آیا ہے۔ اس بار چناؤ میں خاص بات یہ رہی کہ مسلم آبادی والے علاقے قصاب پورہ کی سیٹ بھاجپا کے کھاتے میں گئی وہیں اوکھلا اسمبلی حلقے کے وارڈ نمبر 206 سے سپا نے بھی اپنا کھاتہ کھول کر ایم سی ڈی میں اپنی موجودگی درج کرا دی۔ تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں سب سے زیادہ 7 مسلم امیدوار مشرقی دہلی سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد نارتھ دہلی سے6 اور ساؤتھ دہلی میونسپل کارپوریشن میں سب سے کم3 مسلم امیدوار ہی کامیاب ہوئے۔ کل ملاکر 16 مسلم امیدواروں کے سر بندھا جیت کا سہرہ۔ ایک اہم پہلو اس چناؤ میں یہ بھی رہا کہ آزاد امیدوار کافی تعداد میں جیتے ہیں ان کی تعداد24 ہے۔ آزاد امیدواروں میں زیادہ تر کانگریس اور بھاجپا کے باغی امیدوار شامل ہیں جنہیں پارٹی کا ٹکٹ نہیں ملا اور وہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوگئے۔ لیکن انہوں نے اپنی جیت درج کراکر اپنے کو ضرور ثابت کردیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس میں سے کچھ امیدوار پھر سے پارٹی میں واپس آسکتے ہیں۔ اس چناؤ میں باغیوں نے پارٹی امیدواروں کو ہروانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ ساؤتھ دہلی کی بات کریں تو یہاں کی منریکا سیٹ سے کانگریس کے باغی امیدوار پرمیلاٹوکس چناؤ جیت گئی ہیں۔ گیتا کالونی سے باغی ہوئے بنسی لال نے اپنی سیٹ نکال لی ہے۔ نہرو وہار سے بھاجپا کے شیوکمار شرما اس لئے ہار گئے کیونکہ ان کے خلاف پانچ باغی کھڑے ہوگئے تھے۔ بغاوت کے چلتے کھجوری سیٹ بھی بھاجپا کے ہاتھ سے نکل گئی۔ اس سیٹ سے بھاجپا کے چودھری رام ویر سنگھ کونسلر تھے۔ اس بار ان کا ٹکٹ کاٹ کر ڈاکٹر انل گپتا کو دے دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا چودھری رام ویر دوسری پارٹی سے چناؤ لڑ گئے اور بھاجپا کا ووٹ بٹ گیا۔ مغربی دہلی سے آزاد امیدوار پونم بھاردواج کامیاب ہوئیں۔ وویک وہار سے آزاد پریتی کامیاب ہوئیں۔ مہیپال پور سے بھاجپا کے باغی کرشن سہراوت بھی بازی جیت گئے۔نوادہ سیٹ سے کانگریس کے باغی نریش بلمان چناؤ جیتے، انہوں نے کانگریس کے امیدوار کو ہرادیا۔ بھاجپا کونسلر رہے وجے پنڈت کے کہنے کے باوجود ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے اپنی اہلیہ سیما پنڈت کو راشٹریہ لوکدل کے ٹکٹ سے چناؤ لڑایا اور وہ بھی چاؤ جیت گئیں۔ بھاجپا کے سابق کونسلر پروین راجپوت بغی ہوکر چناؤ جیت گئے۔ بندا پور سیٹ سے کانگریس کے باغی راج راگھو چناؤ جیت گئے۔ باہری دہلی میں بھاجپا کے باغی پشپا وجے وہار سیٹ سے کامیاب ہوئیں انہوں نے پارٹی کی امیدوار سریتا کو ہرایا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ میں کانگریس کی ہار کی ایک اور وجہ بسپا ،ایم سی پی سمیت سپا کی بھی دھاک رہی۔
ایم سی ڈی چناؤ کے پچھلے چناؤ میں بسپا نے17 سیٹیں جیت کر زور دار شروعات کی تھی اور درجنوں دیگر سیٹوں پر کانگریس امیدواروں کی ہار یقینی کی۔ اس مرتبہ بسپا نے 15 سیٹیں جیتی ہیں تو گھڑی چناؤ نشان والی این سی پی نے بدرپور سیٹ پر قبضہ کرلیا۔ این سی پی کے سابق ممبر اسمبلی رام ویر سنگھ ودھوڑی کا گڑھ کہے جانے والے اس علاقے نے ان کی پارٹی نے6 سیٹیں جیتی ہیں۔ اس میں بدرپور کی جیت پور، میٹھا پور، مولڑبند اور بدپور کی سیٹ شامل ہے۔ یہاں سے بسپا کے رام سنگھ نیتا جی ممبر اسمبلی ہیں۔ این سی پی نے ہرکیش نگر اور مہرولی کی سیٹوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ حد تو یہ ہے کہ اس علاقے میں کانگریس کے امیدوار تیسرے، پانچویں مقام پر پہنچ گئے۔ دہلی میں تیسرا مورچہ تیار ہورہا ہے؟ چناؤ نتائج تو اسی کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ کل ملا کر حالت یہ ہے کہ چھوٹی پارٹیوں کے امیدوار چناؤ جیت گئے ہیں جنہیں قومی پارٹیوں نے نظر انداز کردیا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ بھاجپاکی اس چناؤ میں 36 سیٹیں کم آئی ہیں۔2007 ء کے چناؤ میں بھاجپا نے 174 سیٹیں جیتی تھیں۔ یہ زیادہ اہم ہے کہ ہارنے والی کئی سیٹیں وہ سیٹیں ہیں جو پوروانچل کے لوگوں نے جیتی تھیں چاہے وہ آزاد ہوں یا کسی چھوٹی پارٹیوں کے ٹکٹ پر چناؤ لڑے ہوں۔ ایسے لوگوں میں شامل ہیں۔
پوروانچلیوں کے اکثریت والے علاقوں سنگم وہار ویسٹ سے آزاد امیدوار کلپنا جھا ، جنوبی دہلی سے این سی پی کی شیکھا شاہ جیت گئی ہیں۔ سکراوتی سیٹ سے پوروانچل پس منظر کے ستندر رانا آزاد چناؤ جیت گئے ہیں۔ یہاں یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ دلشاد کالونی سے سابق کونسلر رام نارائن دوبے نے کانگریس کے چودھری اجیت سنگھ کو ہرایا ہے جو شیلا دیکشت کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ کانگریس نے اس سیٹ کو جیتنے کے لئے سبھی طریقے اپنائے۔ پوری طاقت جھونک دی تھی۔ اسی طرح نئی سیما پوری سیٹ پر بھاجپا ورکر سنیل جھا نے سیٹ نکال لی جبکہ پولنگ سے پہلے تک اس سیٹ سے کانگریس کے امیدوار وید پرکاش بیدی کو مضبوط مانا جارہا تھا۔ بھاجپا کے انتہائی رسوخ ذرائع کا کہنا ہے جو بھی آزاد اور چھوٹی پارٹیوں کے پوروانچلی جیتے ہیں وہ کچھ وقت پہلے تک بھاجپا سے وابستہ رہے ہیں مگر پارٹی کی طرف سے نظر انداز کئے جانے پر انہوں نے دوسری طرف رخ کیا۔ بھاجپا نہ انہیں اب کوئی سنمان دے رہی ہے اور نہ ہی پوروانچل کے بڑے نیتاؤں کو پارٹی میں مناسب اہمیت مل رہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

بھاجپا کی جیت نہیں ووٹ تو مہنگائی اور کرپشن و گھوٹالوں کے خلاف ہے



Published On 19 March 2012
انل نریندر
دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت نے ایم سی ڈی کو تین ٹکڑوں میں بانٹنے کی جو چال چلی تھی وہ الٹی پڑ گئی ہے۔ بھاجپا نے تینوں کارپوریشنوں میں کانگریس کوہرادیا ہے۔ نارتھ ایسٹ میں بھاجپا اکثریت میں آگئی ہے جبکہ جنوبی دہلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں یہ ہی کہوں گا کہ یہ کانگریس کے خلاف ایک منفی ووٹ ہے۔ اس میں بھاجپا کے کارناموں کے سبب ووٹ نہیں پڑا یہ تو لوگوں کا کانگریس سے غصے کی علامت کا ووٹ ہے۔ جنتا مہنگائی، کرپشن، گھوٹالوں سے تنگ آچکی ہے اور چونکہ دہلی میں سرکار بھی کانگریس کی ہی ہے اور مرکز میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہے اس لئے جنتا نے کانگریس کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے پارٹی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ یہ ووٹ شیلا دیکشت کی حکومت کے خلاف بھی ہے اور ساتھ ہی منموہن سنگھ حکومت کے بھی ہے۔ شیلا جی نے تو سوچا تھا کہ ایم سی ڈی کو تین حصوں میں بانٹ کر بی جے پی کو ہمیشہ کے لئے کمزور کردیں گی لیکن ان کا داؤ الٹا پڑ گیا اور ان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ کچھ لوگ اسے شیلا دیکشت کے خلاف ریفرنڈم بھی مان رہے ہیں۔کانگریس کہہ سکتی ہے کہ ہمارے اندر بہت پھوٹ تھی اور باغیوں نے ہمیں ہروادیا لیکن پھوٹ تو بھاجپا میں بھی آپ سے زیادہ تھی ، باغی تو وہاں بھی کھڑے تھے آپ کے تو کئی سرکردہ لیڈروں کو دھول چٹا دی گئی۔ لیڈر اپوزیشن جے کشن شرما نجف گڑھ سے ہار گئے۔ پچھلے تین بار سے کونسلر رہے کانگریس کے سینئر لیڈر چودھری اجیت دلشاد کالونی سے ہار گئے۔ تین بار کونسلر رہیں کانگریس کی انیتا ببر تلک نگر سے بی جے پی کی امیدوار ریتو ووہرا سے ہار گئی ہیں۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ دونوں کانگریس اور بی جے پی کے باغی زیادہ تر ہارے لیکن انہوں نے ووٹ کاٹنے کا کام کیا ہے۔ مشرقی دہلی کا چناؤ کانگریس کے لئے خاص اہمیت اور وقار کا سوال تھا اس لئے شیلا دیکشت، سندیپ دیکشت ، جے پرکاش اگروال، ڈاکٹر اشوک والیہ، اروندر سنگھ لولی سبھی کا وقار داؤ پر تھا۔ محترمہ شیلا دیکشت نے خود تو ہار پر کچھ رائے زنی نہیں کی لیکن ان کے صاحبزادے اور مشرقی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ رہے سندیپ دیکشت نے مہنگائی اور ٹو جی جیسے گھوٹالوں کو ہار کا سبب مانا ہے۔ انہوں نے کہا سی اے جی کی رپورٹ اور انا ہزارے کی تحریک سے ایسا ماحول بنا کے لوگوں کو لگا کہ کانگریس ہی ساری غلطیوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے لوکل اشوز کو سامنے رکھا جبکہ پورے دیش اور دہلی میں ایسا ماحول تھاکہ بی جے پی نے مہنگائی اور ٹوجی گھوٹالے پر توجہ دی۔ کانگریس کے وزیر راجکمار چوہان بیان دیتے ہیں کہ اگر مہنگائی بڑھی ہے تو تنخواہیں بھی بڑھی ہیں۔ یہ بیان جنتا کو پسند نہیں آیا۔ پوری چناؤ مہم میں بھاجپا نے کہیں بھی ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال کے اپنے ریکارڈ پر ووٹ نہیں مانگا۔ اس نے مرکزی سرکار اور شیلا سرکلار کو نشانے پر رکھا۔ اس سے بھی یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر بھاجپا جیتی ہے تو اپنے کارناموں سے نہیں بلکہ مرکز اور دہلی میں کانگریس کی سرکاروں کے خلاف منفی ووٹ پڑنے سے جیتی ہے۔ کیونکہ ان انتخابات میں مقامی سرکردہ لیڈر بھی اثر رکھتے ہیں اس لئے جنتا نے کئی مقامات پر دونوں بڑی پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امیدوار کی شخصیت کو ووٹ دئے۔ تبھی تو 37 آزاد امیدوار جیت کر آئے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں بھاجپا کی جیت کا سہرہ نوجوان پردیش صدر وجیندر گپتا کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی ہے۔ اس کامیابی سے کافی خوش پارٹی صدر نتن گڈکری نے کہا کہ یہ نتیجے کانگریس کی عوام مخالف جذبے کا نتیجہ ہیں۔ پکا ثبوت اور ان کی پارٹی آنے والے دہلی اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں بھی کامیاب ہوگی۔ دہلی اسمبلی کا چناؤ تقریباً18 ماہ بعد ہونا ہے اور لوک سبھا کے انتخابات 2014ء میں ہونے ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مرکزی حکومت اب بھی جاگے گی؟ یہ چناؤ ایک طرح سے مرکز کی پالیسیوں ، کارگزاریوں اور گھوٹالوں پر تھا۔
اس حکومت کو جنتا کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اپنی عوام مخالف پالیسوں پر گامزن رہی ہے۔ جنتا کے پاس اپنا احتجاج کرنے کا ایک واحد ہتھیار اپنا ووٹ ہے اور اس نے کانگریس کے خلاف ووٹ دے کر اپنی ناراضگی اور تبدیلی کے جذبے کو صاف طور سے ظاہر کردیا ہے۔ باقی ان چناؤ نتائج کا تجزیہ تو کئی دنوں تک چلتا رہے گا۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

10 اپریل 2012

تین کارپوریشن اور ڈھیر سارے چیلنج

دنیا کی سب سے بڑی ایم سی ڈی اس چناؤ کے بعد تین ٹکڑوں میں بٹی دکھے گی ۔ نئی ایم سی ڈی تیار ہوجانے کے بعد مقامی سطح پر ایم سی ڈی کی اپنی الگ چنوتی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ نیتاؤں کے چناوی وعدے بھی بدل گئے ہیں۔ نئے ایم سی ڈی کے لئے 15اپریل کو چناؤ ہونا ہے۔ اس چناؤ کے نتیجے کے بعد دہلی کے تین نگرنگم ہوں گے۔ ان نگموں میں شمالی دلی، مشرقی دلی اور جنوبی دلی نگم شامل ہیں۔ ایم سی ڈی میں پچھلے پانچ سال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ہے۔ اس چناؤ میں آزاد امیدواروں سمیت کل ملا کر20 پارٹیوں کے 2400 امیدوار میدان میں ہیں۔ اہم مقابلہ بھاجپا اور کانگریس میں ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس بار نگم چناؤ میں عورت اور مرد ملا کر ایک درج سے زیادہ ڈاکٹر میدان میں ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان میں 6 خاتون ڈاکٹر تو ایسی دکھ رکی ہیں جو کسی نہ کسی بڑے ہسپتال میں میڈیکل پریکٹس کرچکی ہیں یا کررہی ہیں۔ نگرنگم کے اس چناؤ میں ایک نئی بات یہ ہے کہ تینوں نگموں میں 50فیصدی وارڈ عورتوں کے لئے ریزرو ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسے سینئر کونسلر ہیں جو 1997ء سے کارپوریشن کے نمائندے رہے ہیں لیکن اس بار چناؤ نہیں لڑ رہے۔ ایسے کونسلروں میں اہم طور پر بھاجپا کے پردیش صدر وجیندر گپتا ، آرتی مہرہ اور سابق میئر اور مہرولی سے کونسلر ستبیر سنگھ ہیں۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ امیدواروں سے زیادہ پریشان انہیں ٹکٹ دلانے والے نیتا ہیں۔دمدار نیتاؤں نے اس بار اپنے چہیتوں کو ٹکٹ تو دلا دیا ہے لیکن اب چاہے اَن چاہے ان پرہی انہیں جتانے کی ذمہ داری آگئی ہے۔ موجودہ نگرنگم چناؤ میں ایک تو موسم کی گرماہٹ سے پرچار کا وقت محدود ہوگیا ہے اوردوسری طرف چناؤ کمیشن کی سختی کی وجہ سے ڈھول نگاڑے اور تام جھام سے بھی پرچار مہم دور ہوگئی ہے۔پیسے والے امیدوار بھلے ہی فلم اداکاروں وغیرہ سے روڈ شو کروارہے ہوں لیکن باقی امیدوار چناؤ پرچار گلی گلی پدیاترا کرکے ، گھر گھر جاکراور محلوں میں چھوٹی چھوٹی میٹنگوں کے ذریعے کررہے ہیں۔ پارہ چڑھتے ہیں بجلی نے بھی اپنے نخرے دکھانے شروع کردئے ہیں چناؤ سر پر ہیں اور کئی گھنٹوں بجلی گل ہونے لگی ہے۔ جب امیدوار علاقے میں چناؤ پرچار کرنے جاتے ہیں تو لوگ سب سے پہلا سوال یہ کرتے ہیں کہ بجلی کی سپلائی کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ اور سنگین ہونے والا ہے۔کہیں ایم سی ڈی چناؤ پر بجلی نہ گر جائے۔
اس بار نیتاؤں کو اپنے پرچار کے لئے زیادہ وقت ملے گا۔ دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پہلی بار شام کے بجائے پرچار تھمنے کا وقت صبح ساڑھے پانچ بجے تک کیا ہے۔ابھی تک ووٹنگ سے 36 گھنٹے پہلے چناؤ پرچار بند ہوجاتا تھا لیکن اس بار 24 گھنٹے پہلے چناؤ پرچار بند ہوگا۔ دونوں اہم پارٹیاں باغیوں سے پریشان ہیں۔ بھاجپا نے 7 لوگوں کو 6-6 سال کے لئے پارٹی سے نکال دیا ہے تو کانگریس نے بھی 4 لوگوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔ دہلی نگر نگم چناؤ میں اس بار پپوپچھلے پندرہ سال کا ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔ پچھلے پندرہ سالوں میں راجدھانی میں تین بار نگم چناؤ ہوئے ہیں لیکن صرف ایک ہی بار ووٹنگ کا فیصد 52 فیصدی کا آنکڑہ چھوپایا ہے۔ باقی دو بار یہ 42 فیصدی ہی رہا۔ کانگریس کی باگ ڈور شیلا دیکشت، جے پرکاش اگروال اور کپل سبل نے سنبھالی ہے تو بھاجپا کی کمان وجے کمار ملہوترہ اور وجیندر گپتا کے ہاتھ ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, MCD, Vir Arjun

29 مارچ 2012

ایم سی ڈی چناؤ: کہیں یہ وبھیشن کانگریس۔ بھاجپا کو ڈوبا نہ دیں



Published On 29 March 2012
انل نریندر
دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر ایک بار پھر سیاست میں گرمی آگئی ہے۔ ٹکٹوں کی مارا ماری سے جہاں کانگریس بری طرح الجھی ہوئی ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی میں اتنی مارا ماری شاید پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ توقع کے مطابق دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نامزدگی کے آخری دن مختلف پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ریکارڈ1785 لوگوں نے دہلی کے مختلف حصوں میں بنائے گئے68 مراکز پر اپنی نامزدگی داخل کی۔ ایک دن میں اتنے زیادہ امیدواروں کے ذریعے نامزدگی کا یہ ریکارڈ ہے۔ ایم سی ڈی کے امیدواروں کے انتخاب میں بھاجپا کے سبھی قاعدے قانون تار تار ہوگئے۔ پارٹی نے جہاں کئی سرکردہ لوگوں کو باہر کردیا وہیں پردیش صدر نے باغیوں سے نمٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑا۔ خاص بات یہ رہی کہ قریب 55 کونسلروں کو پارٹی نے دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اتارا ہے۔ پارٹی نے اس بار17کونسلروں کو دوسرے وارڈوں سے چناؤمیدان میں اتارا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری امیدواروں کی فہرست میں قریب آدھا درجن اہم کمیٹیوں کے صدور کے نام غائب ہیں۔ ایم سی ڈی چناؤ میں امیدواروں کے انتخاب میں کانگریس کی ماہرین کی کمیٹی نے نہ صرف44 کونسلروں کو جیتنے کے اہل مانا اور ان پر بھروسہ کر چناؤ میدان میں اتارا ہے۔2007ء میں ایم سی ڈی چناؤ میں کانگریس کے67 کونسلروں جیتنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس سلیکشن کمیٹی نے ان 67 میں سے43 کونسلروں کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ ان میں کئی ایسے وارڈ ہیں جہاں تبدیلی ہوئی ہے وہ ریزرو ہوگئے ہیں۔248 نئے چہرے میدان میں اترے ہیں۔ حالانکہ کانگریس پردیش پردھان کا دعوی تھا کہ کسی ایسے شخص کے رشتے دار کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا جس کا وارڈ ریزرو نہ ہو۔ وہیں ایسا بھی شخص ٹک پانے کا حقدار نہیں ہوگا جو2007ء کے ایم سی ڈی چناؤ میں ایک ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہارا ہو۔ امیدواروں کے انتخاب میں جو پیمانے پردیش کانگریس کمیٹی نے بنائے تھے وہ بھی پھُس ثابت ہوئے۔ کانگریس کی اسی پالیسی کے چلتے بڑے پیمانے پر لوگوں نے کانگریس سے بغاوت کر دل بل کے ساتھ پرچے داخل کئے ہیں۔ بھاجپا اور کانگریس میں پرانے نیتا اور ورکروں کی وفاداری پر بڑے نیتاؤں کے چہیتوں کے ساتھ رشتے دار بھاری پڑے۔ بڑے برے نیتاؤں نے زمین کے دھندے سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ہی اپنے رشتے داروں میں ٹکٹ بانٹ دی۔ بھاجپا میں ٹکٹ بانٹنے والوں نے اپنی چلانے کیلئے موجودہ117 کونسلروں کے ٹکٹ کاٹ دئے۔ ان میں سے 22 کونسلر اپنی بیوی یا بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ بھاجپا کے کل ملاکر عہدوں پر جمے 62 لیڈر اپنی اپنی بیوی اور بہو کو ٹکٹ دلانے میں کامیاب رہے۔ یہ سب ان خاتون ورکروں پر بھاری پڑی ہیں جو طویل عرصے سے پارٹی کا جھنڈا اٹھا رہی تھیں۔ دہلی کی دونوں بڑی پارٹیوں کانگریس اور بھاجپا نے اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وبھیشن کردئے ہیں جو امیدواروں کی لنکا اجاڑنے کا کام کریں گے۔ کانگریس میں امیدواروں کی فہرست ہمیشہ آخری وقت پر ہی جاری ہوتی تھی لیکن بغاوت کے چلتے ایک امیدوار کو ٹکٹ دے کر پھر دوسرا امیدوار بدلنا پارٹی کے لئے نئی مصیبت کھڑی کررہا ہے۔ ادھر بھاجپا پارٹی ود دی فیملی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں پارٹی کے ورکروں کو درکنار کر اپنے خاندان کو اہمیت دی گئی ہے۔ بغاوت دونوں ہی پارٹیوں کے لئے ایک نیا درد سر بن گیا ہے۔ کہیں یہ تجزیئے دونوں پارٹیوں کی لنکا نہ جلادیں۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

27 مارچ 2012

اترپردیش کی فتح کے بعد اب ملائم سنگھ کی نظریں دہلی پر لگیں



Published On 27 March 2012
انل نریندر
اترپردیش کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو کی نظر اب دہلی کے تخت پر لگ گئی ہے۔ اب ملائم نے وسط مدتی چناؤ کبھی بھی ممکن کی بات کہہ ڈالی۔ اس سے پہلے ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی نے بھی وسط مدتی چناؤ کے لئے تیار رہنے کی بات کہی تھی۔ ممتا۔ ملائم کے سر میں سر ملاتے ہوئے بھاجپا کی سشما سوراج نے بھی دیش میں وسط مدتی چناؤ کا امکان ظاہر کیا ہے۔ دیواس (مدھیہ پردیش) ضلع میں ویجی لینس و نگرانی کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کرنے آئی سشما نے میڈیا سے کہا کہ دیش کی سیاست ہر دن بدل رہی ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وسط مدتی چناؤ کا امکان ہے۔ سشما نے کہا کہ مرکز کے لئے 272 کا جادوئی نمبر نہیں رہ گیا ہے اور وہ محض 227 ممبران پر ٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہامرکز میں سرکار اقلیت میں آنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے بھاجپا وسط مدتی چناؤ کیلئے پوری تیار ہے۔ ملائم کا نشانہ وزیر اعظم بننے کا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو سماجوادی نظریئے کے بانی ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی 102 ویں جینتی پر لکھنؤ میں اپنے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب لوک سبھا میں وسط مدتی چناؤ کیلئے کمر کس لی ہے کیونکہ لوک سبھا چناؤ کبھی بھی ہوسکتے ہیں اس سال یا پھر اگلے سال ، اس لئے سارے ورکر پوری طاقت ابھی سے لگادیں۔ یوپی میں شاندار کامیابی کے بعد اب ریاستی ورکر سبھی 80 لوک سبھا سیٹیں جیتنے کیلئے نشانہ مقرر کرلیں۔ دراصل شری ملائم سنگھ یادو نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے وقت جب سماجوادی پارٹی کا موقف کانگریس کے تئیں نرم ہوتا نظر آرہا تھا اور ممتا بنرجی کی بھرپائی کے لئے سپا کو مرکز میں جگہ ملنے کی قیاس آرائیاں تیز ہورہی تھیں تبھی ملائم نے وسط مدتی چناؤ کی بات کہہ کر کانگریس کی ہوا نکال دی۔ ایک طرف انہوں نے کانگریس کے تئیں نرم ہونے کا اپنے نظریئے کی درپردہ طور سے تردید کردی ہے۔ وہیں دوسری طرف اپنے ورکروں کو کانگریس کے خلاف سرگرم ہونے کا پیغام دے دیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے اپنے بیٹے اور وزیر اعلی اکھلیش سنگھ کو یہ بتادیا ہے کہ ان کی سرکار کے کام کاج پر ہی لوک سبھا چناؤ لڑے جائیں گی۔ بھلے ہی وزیر اعلی کے عہد کی میعاد پانچ سال کی ہو لیکن ان کی کسوٹی پر ہونے والے کام کاج کی اگنی پریکشا ایک سال کے اندر ہی ہوجائے گی۔ ملائم سنگھ کو وسط مدتی چناؤ اس لئے بھی سوٹ کرتے ہیں کیونکہ ابھی انہوں نے نہ صرف اپنے بھائی (مسلم یادو) تجزیئے کو ٹھیک سے باندھ رکھا ہے بلکہ سماج وادی حکمت عملی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے سبھی ذاتوں کے ووٹ بینک ہتھیانے کا کرشمہ دکھایا ہے ۔ جس طرح اکھلیش نے اپنی پہلی ہی میٹنگ میں لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور بے روزگاری بھتہ جیسے وعدے چناؤ منشور میں خاص طور پرشامل تھے، کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ اس سے یہ قیاس آرائیاں بھی مسترد ہوگئیں کہ آخر سپا کی ان اہم اسکیموں کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟ وسط مدتی چناؤ کی صورت میں ملائم سنگھ کو یہ فائدہ ہونے کی امید ہونی چاہئے کہ سال بھر تک لوگ کم سے کم مایاوتی راج کی یادیں تازہ ہی رکھیں گے۔ مایاوتی کے تئیں ناراضگی کا فائدہ بھی سپا کو لوک سبھا میں ضرور ملے گا۔
اترپردیش کے نظریئے سے دیکھا جائے تو وسط مدتی چناؤ بسپا چیف کے لئے بھی کم مفید نہیں کہا جاسکتا۔ چناؤ میں ہار کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بہن جی نے امید ظاہر کی تھی کہ سپا کے لوگوں کو بد امنی انہیں پھر سے اگلے چناؤ جیتنے کا موقعہ دے گی۔ حالانکہ مایاوتی کے لئے سپا کے عہد میں جتنے دنوں بعد چناؤ ہوں وہ مفید ہی رہیں گے کیونکہ انہوں نے امید پال رکھی ہے کہ سپا کی غلطیوں سے ان کی پارٹی کو فائدہ ملے گا۔ ویسے ان کی یہ امید بے معنی نہیں ہے کیونکہ پہلی بار اگر ملائم سنگھ یادو بسپا کے ساتھ مل کر چناؤ نہیں لڑتے تو اترپردیش میں پاؤں پھیلانے کا موقعہ بسپا کو اتنی جلدی نہیں ملتا۔ یہ ہی نہیں گیسٹ ہاؤس کانڈ نہیں ہوتا تو بھی بھاجپا مایاوتی کو وزیر اعلی نہ بنانے کی غلطی کرتی۔ ملائم سرکار کے تیسرے عہد میں سپا ورکروں کی غنڈہ گردی نے ہی مایاوتی کو 2007ء میں مکمل اکثریت سے سرکار بنانے کا موقعہ دیا۔ ایسے میں مایاوتی کی خوش فہمی واجب ہے لیکن جس طرح سپا سرکار چل رہی ہے اس کے پیش نظر ضرور اسے بے معنی کہا جائے گا۔ بسپا کے بانی کانشی رام اپنی تقریروں میں صاف طور پر کہا کرتے تھے کہ کمزور سرکار اور بار بار چناؤ ان کی پارٹی کے لئے فائدے مند ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Delhi, MCD, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

07 مارچ 2012

اور اب سب کی نظریں دہلی میونسپل چناؤ پر لگیں



Published On 7 March 2012
انل نریندر
حالانکہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ جیسی اہمیت تو نہیں رکھتے لیکن پھر بھی دیش کی قومی راجدھانی دہلی ہونے کے ناطے میونسپل کارپوریشن کے چناؤ اہمیت کے حامل ہیں۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج کے بعد اب سب کی نگاہیں بلدیاتی اداروں کے آنے والے انتخابات پر لگی ہیں۔ راجدھانی میں پیر سے چناؤ ضابطہ لاگو ہوگیا ہے۔ اس کانفاذ ہوتے ہی نئے پروجیکٹوں کا اعلان یا افتتاحی پروگراموں پر روک لگ گئی ہے۔ حالانکہ چناؤکا نوٹی فکیشن19 مارچ سے لاگو ہوگا۔ اسی کے ساتھ کاغذات نامزدگی شروع ہوجائے گی۔ یہ چناؤ ضابطہ 17 اپریل تک نافذ العمل رہے گا۔ خیال رہے کہ 17 اپریل کو ایم سی ڈی چناؤ کے ووٹوں کی گنتی ہوگی اسی کے ساتھ ڈیڑھ ماہ سے نافذ چناؤ ضابطہ ختم ہوجائے گا۔ سرکاری ایجنسیوں یا عوام کو لبھانے والے پروجیکٹوں کو منظوری نہیں دی جاسکتی۔ چناؤ ضابطے کے تحت ریاستی چناؤ کمیشن پیسہ، طاقت اور شراب مافیہ کے بیجا استعمال کے علاوہ راجدھانی کی املاک پر پوسٹر بینر چپکانے پر بھی نظر رکھے گا۔ دہلی میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب چناؤ کی تاریخ کے اعلان سے پہلے ہی راجدھانی میں عوامی مفاد کی اسکیموں کے اعلان کی جھڑی لگ گئی تھی۔محض تین دنوں کے اندر سینکڑوں کروڑ روپے کی اسکیموں کو ایم سی ڈی نے ہری جھنڈی دی۔ محض جمعہ اور سنیچر کو ہی ایم سی ڈی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے 200 کروڑ روپے سے زائد کی اسکیموں کو منظوری دی۔ چناؤ کے عین موقعے پر 11500 سلائی مشین تقسیم کرنے کی اسکیم کو ہری جھنڈی دی گئی۔ اس کے علاوہ سنیچر کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے میٹنگ میں 60 سے زیادہ اسکیمیں منظور کی گئیں ساتھ ہی ایتوار کو دہلی کی میئر پروفیسر رجنی ابی کی جانب سے سبھی اخبارات میں ایم سی ڈی کی کامیابیوں کو لیکر بڑے بڑے اشتہارات جاری کئے گئے۔ جہاں بھاجپا کے لئے یہ چناؤ ایک چنوتی ہوں گے کے وہ ایم سی ڈی میں پھر کمل کھلائے، وہیں دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کا وقار بھی ان ایم سی ڈی چناؤ سے براہ راست وابستہ ہے۔ دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ کو لیکر سیاسی پارٹیاں جو بھی حکمت عملی بنا لیں لیکن چناؤ میں خاص اشو دہلی سرکار ہی رہے گی۔ کانگریس جہاں اپنی سرکار کے 13 سال کی کامیابیوں کو بھنانے پر توجہ دے گی وہیں بھاجپا سرکار کی ناکامی اور کرپشن کا اشو بنائے گی۔دونوں پارٹیوں کے لیڈر مانتے ہیں کہ چناؤ میں اشو دہلی سرکار کی ناکامیاں ہی رہیں گی۔ دہلی حکومت کی آج کی تاریخ میں سب سے بڑا کارنامہ دہلی میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کرانا اور خواتین کا ریزرویشن 33 فیصدی سے بڑھا کر50 فیصدی کرنے کو بتاتی ہے۔ وہیں کانگریس کے ذریعے فراہم کی گئی سہولیات کو بھی بھنانے کی پارٹی کوشش کرے گی۔ وہیں بھاجپا مسلسل وزیر اعلی پر گھوٹالوں کو لیکر جارحانہ رہی۔ ساتھ ہی قانون و نظم کا اشو بھی بھاجپا ضرور اچھالے گی۔ پچھلے دنوں بھاجپا کے پردیش پردھان وجیندر گپتا کے ذریعے شروع کی گئی جن سمپرک یاترا خاصی خامیاب رہی۔ ان کے نشانے پر دہلی سرکار اور وزیر اعلی شیلادیکشت دونوں ہی رہے۔ اپنی 15 دن کی یاترا میں انہوں نے دہلی سرکار کی ناکامیوں کو پانی پی پی کر کوسا۔ ویسے بھاجپا نیتا بھی مانتے ہیں پارٹی کی چاہے جتنی بھی شیلا دیکشت برائی کرلیں لیکن ایم سی ڈی بٹوارے کی چال پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات بھی ضرور تھوڑا بہت اثر ایم سی ڈی کے چناؤپر ڈالیں گے۔ بھاجپا بہت حوصلہ افزا ہے کانگریس کا حوصلہ تھوڑا کمزور ضرور ہوگا۔ دیکھیں ایم سی ڈی چناؤ پرچار کے دوران کیا کیااشو اٹھتے ہیں؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, Elections, MCD, Vir Arjun

18 دسمبر 2011

میرے بھارت مہان کی ایک تصویر یہ بھی ہے



Published On 18th December 2011
انل نریندر
جمعرات کو اس موسم کا دہلی میں سب سے سرد دن رہا۔ کم از کم درجہ حرارت3 ڈگری سے کم 5.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین چار دن تک درجہ حرارت5 سے6 ڈگری سیلسیس کے آس پاس بنا رہے گالیکن اگلے ہفتے سے اس میں اور گراوٹ آئے گی اور ٹھنڈ پڑے گی۔22 دسمبر تک راجدھانی میں بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس کڑاکے کی سردی میں میں جب سوچتا ہوں کہ ہزاروں لوگ آج بھی فٹ پاتھ ، سڑکوں پر سونے کے لئے مجبور ہیں تو میرا دل یہ پوچھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کس بات کے لئے ہم یہ کہتے نہیں تھکتے میرا بھارت مہان ہے؟ ایک طرف تو کہا جاتا ہے ہندوستان دنیا کی گنی چنی بڑھتی معیشت کی علامت ہے اور دوسری جانب آج تک ہم غریب، بے سہارا آدمیوں کے لئے ٹھیک ڈھنگ سے رین بسیرے تک نہیں بنا سکے؟ یہ تسلی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کو ان غریبوں کی فکر ضرور ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے بعد دہلی ہائیکورٹ نے کہا کہ کڑاکے کی اس ٹھنڈ میں ہزاروں بے سہارا لوگوں سڑکوں پر راتیں گذارنے کو مجبور ہے لیکن سرکار اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اسے باعث تشویش قرار دیتے ہوئے عدالت نے ان 84 عارضی نائٹ شیلٹروں کو دوبارہ سے قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے9 اگست کے حکم کو درکنار کر انہیں بند کردیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہائیکورٹ نے ماسٹر پلان2021ء کے حساب سے مستقبل کی ضرورتوں کو دیکھنے کیلئے 184 پختہ رین بسیرے بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے پیر کو اس سے وابستہ معاملوں میں سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو بھی سبھی شہروں میں رین بسیروں کے مناسب انتظام کرنے کو کہا تھا۔
دہلی ہائیکورٹ کی پھٹکار کھانے کے بعد دہلی سرکار کو رین بسیروں کا خیال آیا ہے۔ سرکار کے ملازمین جمعرات کی دیر شام تک عارضی رین بسیرے بنانے اور ان کی تعداد 30 تک پہنچانے میں لگ گئے ۔ پانچ اور رین بسیرے اگلے تین دنوں میں بنائے جائیں گے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق میرے بھارت مہان کی راجدھانی دہلی میں پونے دو لاکھ لوگ آج بھی بے گھر ہیں۔ ان کے لئے بڑی تعداد میں تین بسیروں کی ضرورت ہے لیکن دہلی سرکار کے پاس محض64 رین بسیرے ہیں۔ اگر ہم یومیہ رین بسیرے کا حساب لگائیں تو ان میں 27035 لوگ روزانہ رہ سکتے ہیں لیکن اتنی تعداد نہ ہونے کے باوجود سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان64 رین بسیروں میں زیادہ تر بند پڑے ہیں۔ پچھلے سال84 عارضی رین بسیرے بسائے گئے تھے جن میں17 جل گئے۔52 عارضی رین بسیروں کو یہ دلیل دے کر بند کردیا گیا کے بے گھر لوگ اس میں رہنے کے لئے نہیں آرہے ہیں اور15 رین بسیرے اب بھی چالوہیں۔
یہ دکھ کی بات ہے دہلی سرکار ان بے سہارا لوگوں کے تئیں اتنی لاپرواہ ہے۔ آخر انہیں بھی کڑاکے کی ٹھنڈ میں اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا حق ہے۔ یہ سرکار کا کام ہے انہیں کم سے کم کھلے آسمان میں راتیں گذارنے سے بچائے اور مناسب انتظام کرے۔ سرکار کو خود بھی سوچنا چاہئے اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ ہی پھٹکار لگائے تب جاکر وہ کام کرے۔ میرے بھارت مہان کا ایک اصلی چہرہ یہ بھی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Government, Delhi High Court, India, MCD, Night Shelters, Poor, Vir Arjun

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کم...