Translater
09 جنوری 2021
سیاست کے تھیٹر میں 21بڑی فلمیں !
مئی جون میں مغربی بنگال،کیرل تامل ناڈو ،آسام ، پڈوچیری میں چناو¿ ہیں بنگا ل میں دیدی کے سامنے چوتھی مرتبہ سرکار بنانے کیرل میں لیفٹ پارٹیوں کو آخری قلعہ بچانے کی چنوتی ہوگی مغربی بنگال میں مئی جون میں چناو¿کرانا تجویز ہے 294سیوں والی اسمبلی میں ٹی ایم سی کے 211کانگریس کے 44اور لیفٹ پارٹیوں کے 27اور بھاجپا کی تین سیٹیں ہیں ۔ کیرل میں 140سیٹوں پر چناو¿ ہیں۔ سی پی ایم 70سیٹوں کےساتھ اقتدار میں ہے کانگریس کے 22ممبر ہیں ۔بھاجپا کو یہاں ایک بھی سیٹ نہیں ملی آسام میں 126میں سے بھاجپا 60کانگریس و اے جی پی کی 14سیٹیں ہیں ۔ ایسے ہی تامل ناڈو میں چناو¿ ہونے ہیں ۔ وہاں اننا ڈ ی ایم کے اقتدار میں ہے ڈی ایم کے کی 89سیٹیں ہیں ۔اداکار رجنی کانت نے چناو¿ میں اترنے کو لیکر فی الحال الجھن میں ہیں ۔ اب بھاجپا کا اننا ڈی ایم کے کا اتحاد نہ ہونے کے بعد انہوں نے چناو¿ لڑنے سے انکار کر دیا ایسے پوڈو چیر میں جون میں چناو¿ ہے 30سیٹوں والی اسمبلی میں کانگریس کے پندرہ سیٹیں ہیں ۔ بھاجپا کے پاس ایک بھی سیٹ نہیں ہے یہاں کانگریس اننا ڈی ایم کے بنا م ڈی ایم کے میں سیدھا مقابلہ ہوگا نئے سال میں پرانی سیاسی پارٹیاں اور نیشنل انڈین کانگریس کو مستقل صدر مل سکتا ہے ۔پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناو¿ کو دیکھتے ہوئے اس سمت میں جلد فیصلہ ہونے کی امید ہے ۔
(انل نریندر)
جنگپنگ سے ٹکراو ¿ کے بعد عرب پتی جیک ما لاپتہ !
چین کے عرب پتی اور علی بابا گروپ کے مالک 56سالہ جیک ما پر اسرار طریقے سے لا پتہ ہیں ۔پچھلے دو مہینوں سے لوگوں نے انہیں دیکھا نہیں ہے بتایا جارہا ہے چینی صدر شی جنگپنگ کے ساتھ تنازع کے بعد سے انکا کوئی پتہ نہیں ہے وہ چین کے تیسرے سب سے امیر شخص ہیں پچھلے تین مہینے سے چین حکومت جیک ما کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے انہیں کاروباری نقصان پہونچانے والے بھی پریشان کر رہے ہیں دنیا کی دوسری سب سے بڑی ای کامرس کمپنی علی بابا اور 8فائننس کمپنی کے بانی جیک ما کی گمشدگی کا اندیشہ اس وقت اور بڑھ گیا جب وہ اپنی ہی کمپنی کے اسٹارٹ اپ ریالٹی شو افریقہ کے بزنس ہیٹو میں شامل نہیں ہوئے ان کی جگہ شو میں دوسرے افسروں کو بھیجا گیا شو کے ویب سائٹ سے بھی ان کی تصویر غائب تھی شبہ کی چار وجہ ہیں جنگپنگ کی چنوتی سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے جیک ما کی کمپنی سرکار کو ٹکر دے رہی تھی اس معاملے میں وہ صدر شی جنگپنگ سے زیادہ اثر دار مانے جارہے ہیں ۔ اس سے کمیونسٹ پارٹی کے ممبر ناراض ہیں ۔ جیک نے 24اکتوبر کو کہا تھا کہ چین کے وہ ساہوکار ہیں اور وہ آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے خطرہ مول لینے چے بچتے ہیں ۔ اور مالیاتی سیکٹر سرکار کے کنٹرول میں ہے سرکار نے اس بیان کو منھ پر تھپڑ سے تعبیر کیا ہے ۔چین نے نومبر میں 8فائننس کے 2.7لاکھ کروڑ اکٹھا کرنے کےلئے لائے جانے والے آئی پی او کو روکوادیا جس سے دنیا کی سب سے بڑی آئی وی او کہا جاتا ہے دسمبر میں چین نے علی بابا اور 8فائننس کے کاروبار کو مقابلہ مخالف بتا کر جانچ بیٹھا دی اس پر چھوٹی کمپنیوں کو نقصان پہونچا کر آگے بڑھنے کا الزام لگا یہ قدم جیک ما کو مالی نقصان پہونچانے کے لئے اٹھایا گیا ویسے تو چین میں سینکڑوں لوگوں کا کچھ اتا پتہ نہیں چلتا لیکن جیک ما یہ چین کے سب سے امیر بزنس مین میں سے ایک ہیں اور ان کے ہائی پروفائل ہونے کہ وجہ سے لاپتہ ہونے پر اتنی بحث چھڑی ہوئی ہے ۔
(انل نریندر)
امریکی جمہوریت کا سیاہ دن !
امریکہ کی تاریخ میں صدارتی چناو¿ کو لیکر جتنا واویلا اس مرتبہ ہوا ہے شاید ہی کبھی ہوا ہو موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ڈیمو کریٹ جو بائیڈن کی جیت کو قبول کرنے کو پہلے ہی تیار نہ تھے لیکن شاید کسی کو یہ اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ حالات اتنے بگڑ جائیں گے یا بگاڑ دیئے جائیں گے ٹرمپ کے حمایتی بدھ کے روز زبردستی پارلیمنٹ کیپٹل میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور مار پیٹ ہوئی جس میں کئی لوگوں کی جان چلی گئی تاریخ داں بتاتے ہیں کہ دیش کی پارلیمنٹ میں ایسا حال کم سے کم دو سو برس میں پہلے بار دیکھا ہے یہ واقعہ اتنا سنگین ہے کہ خود ریپبلکن لیڈر جمہوریت پر ہوئے اس حملے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدار سے باہر کرنے کی مانگ کرنے لگے کیپٹل ہل تاریخی سوسائیٹی کے ڈائرکٹر آف ایکالرپ اینڈ آپریشنس مینول ڈالی ڈے نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ 1812کی جنگ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کی کیپٹل ہل میں اس طرح داخل ہواگیا ہے تب اگست 1814میں انگریزوں نے عمارت پر حملہ کر دیا تھا اور آگ لگا دی تھی 1954میں ہاو¿س آف چیمبر میں 3مرد اور 1عورت ویزٹر گیلری میں ہتھیاروں کے ساتھ آکر بیٹھ گئے تھے۔تھیورٹو ریگن نیشنلسٹ پارٹی کے ممبر دیش کی آزادی کی مانگ کر رہے تھے ۔ انہوں نے ایک مارچ ،1954کی دوپہر کو ایوان میں فائرنگ کردی تھی اور اپنا جھنڈا لہرا دیا تھا اس واردات میں کانگریس کے پانچ ممبر زخمی ہوئے تھے دیش کے ساتھ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والے اس واقعہ کے بعد ریپبلکن پارٹی کے ہی لیڈر 20جنوری سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے کی مانگ کرنے لگے اس دن یعنی 20جنوری بائیڈن عہدہ سنبھالنے کے لئے افتتاحی تقریب منعقد کی جانی ہے ۔لیڈروں نے تحریک ملامت لاکر ٹرمپ کو ہٹانے کی مانگ کی ہے ایک سابق سینئر افسر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسا کام کیا ہے بھلے ہی ان کے عہد کے صرف کچھ دن باقی ہیں ان کو ہٹا دینا چاہئے ان کا کہنا کہ حملہ پورے سسٹم کےلئے جھٹکا ہے ۔واشنگٹن میں تازہ حالات کو دیکھتے ہوئے کرفیو لگا دیا گیا ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں گولی بھی چلی دراصل دن میں حمایتوں کی ریلی میں ٹرمپ نے چناو¿میں جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ بچاو¿ مارچ نکالنے کی اپیل کی تھی ۔ اس میں بڑی تعداد میں ان کے حمایتی کیپٹل ہل پہونچ گئے اور وہاں ہنگامہ شروع کردیا اور آگے بڑھتے ہوئے پولس سے ٹکراو¿ ہوا بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پولس کو گولے داگنے پڑے ریپبلکن پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کینن میک آرتھی نے بتایا میں نے پولس ریڈیو پر گولی چلنے کی بھی آواز سنی اور کیپٹل ہل بلڈنگ میں ہنگامہ بڑھتے دیکھ کر موقع پر پہونچا اور وہاں بڑی تعداد میں پولس اور اسکوائرڈ دستہ بھی تعینات تھا ۔ جس وجہ سے آس پاس کی دو عمارتوں کو بھی خالی کرانا پڑا واشنگٹن میں جمہوریت کے مندر میں جو واقعات رونما ہوا وہ امریکی جمہوریت کے لئے سیاہ باب ہے ۔
(انل نریندر)
08 جنوری 2021
پاکستان نے شیعہ ہزارہ فرقہ مزدوروں کا قتل عام!
پاکستان میں اقلیتوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے ۔اور عمران خان کی حکومت اس معاملے سے بے فکر ہو کر بیٹھی ہے ۔حال ہی میں ہندوو¿ں کا مندر توڑا گیا اب وہاں کے ہزارہ فرقہ کو نشانہ بنایا گیا ۔پاکستان کے بلوچستان میں کوئلہ کان میں کام کرنے والے پاکستانی اقلیت شیعہ ہزارہ فرقہ کے گیارہ مزدوروں کو اتوار کے روز گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق بندقچیوں نے ان لوگوں کو پہلے اغوا کیا اور اس کے بعد علاقہ کی ایک پہاڑی پر لے جاکر گولیوں سے بھون ڈالا ۔واردات کے بعد ہزارہ فرقہ دہشت میں ہے ۔کئی نے موقع پر دم توڑا اور چھ مزدوروں نے اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا ۔واردات کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں اور پولیس اور سکیورٹی فورس موقع پر پہونچی ۔کوئیٹا کے ڈپٹی کمشنر مراد کاس نے بتایا ابھی تک اس قتل عام کی کسی گروپ نے ذمہ داری نہیں لی اور نا ہی اب تک کوئی کیس رجسٹرڈ ہوا ۔بلوچستان کے علاقہ کوئیٹا میں شیعہ ہزارہ فرقہ کے لوگ ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانہ پر رہے ہیں ۔اپریل 2019میں بھی کوئٹا میں سبزی منڈی میں فدائی حملے میں شیعہ ہزارہ فرقہ کے 24لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا تھا اایسے ہی 2012سے مارچ 2020تک اس فرقہ کے کل 502سے زیادہ لوگوں کو قتل ہو چکا ہے ۔جبکہ سیکڑوں افراد لا پتہ ہیں اس تازہ واردات میں مرے مزدوروں کے گھر والوں نے لاشوں کو دفنانے سے انکار کر دیا ۔ساتھ ہی بلوچستان کے مغربی بائی پاس پر متاثرین کے رشتہ داروں نے لاشوں کے ساتھ اپنا دھرنا دیا اور بلوچستان سرکار سے قاتلوں کی گرفتار ی کی مانگ کی اور ساتھ ہی استعفیٰ بھی مانگا اس قتل عام کو لیکر بلوچ ، پستون و ہزارہ فرقہ کے لوگوں نے پیرس میں جم کر مظاہرہ کیا ۔اور قصورواروں کو سزاد ینے کی مانگ کی ۔پاکستانی اخبار ڈون نے تین سال کی ایک طالبہ یعقوبہ علی کا بیان شائع کیا ہے اس نے اس قتل عام میں اپنے خاندان کے پانچ افراد کو کھویا ہے اس کا کہنا ہے بھائی اور چار دیگر رشتہ داروں کو دفن کرنے کے لئے کوئی بھی شخص ہمارے خاندان میں زندہ نہیں ہے ۔ ڈون نے لکھا سید آغا رضا،بلوچستان مجلس وحدت المسلمین کے صدر کے حوالہ سے لکھا کہ ہم نے ہزارہ لوگوں کی حفاظت کے لئے لمبہ وقت تک دھرنے دئیے اور کافی عرصہ سے قتل کے واردات کا سامنا کررہے ہیں ۔اور حالا ت سے تنگ آچکے ہیں آغا رضا نے کہا جب تک فرقہ کی مانگ پوری نہیں ہوگی تب تک لاشوںکو دفن نہیں کیا جائیگا ۔وہیں وزیراعظم عمران خان افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس واردات کو دہشت کی بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے اور انہوں نے فرنٹئیر فورس کو ہزاروں ملزمان کی جلد سے جلد پکڑ نے کی ہدایت دی تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے ۔ان کا کہنا تھا کہ سرکار متاثرہ کنبوں کے پریوار کے ساتھ ہے پاکستان پیوپل پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا سرکار کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت یقینی کرے اور سرکار مزدوروں کے گھر والوں کے لئے مناسب امدادی رقم جاری کرے ۔
(انل نریندر)
بات چیت بے شک بے نتیجہ رہی پر ہمارے حوصلے بلند ہیں!
کسان تنظیموں کے نمائندوں اورمرکزی سرکار کے درمیان ساتویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ رہی ۔دونوں فریقین میں اتنے دور کی بات چیت کا کوئی حل نا نکلنا سبھی کے لئے تشویش کی بات ہے نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کو لیکر کسانوں کے دھرنے کو چالیس دن ہو چکے ہیں اب تک پچاس سے زائد احتجاجی کسانوں کی موت ہو چکی ہے ۔اس کے باوجود ٹھنڈ اور بارش میں بزرگ عورتیں اور بچے کھلے آسمان کے نیچے ڈٹے ہوئے ہیں ۔سرکار کے ہٹ دھرمی کے رویہ سے ناراض کچھ کسانوں نے خود کشی جیسے قدم اٹھا لئے ان واقعات سے صاف ہے کہ اگر سرکار نے کوئی جلد قابل قبول حل نہیں نکالا تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہوںگے کسان انجمنیں اپنے رخ پر اٹل ہیں ۔جب تک سرکار ان تینوں زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی تب تک تحریک ختم نہیں ہوگی ۔چاہے اس کے لئے کتنا بھی وقت کیوں نا لگے ۔سرکار بھی صاف کر چکی ہے کہ زروعی قوانین کی واپسی نہیں ہوگی ظاہر ہے جب دونوں فریقین نے اسے اپنی آن کا سوال بنا لیا ہے اورکوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہے تو تعطل ختم ہونے کے بعد اور بڑھے گا تعطل ایک ایسے وقت کو جنم دے رہا ہے جو کسی بھی شکل میں بھارت جیسے جمہوری دیش کے لئے اچھا نہیں مانا جا سکتا ۔کسان نیتا بلوندر سنگھ راجیشوار اور تین وزراءکے درمیان دیر تک تلخ بحث ہو گی ۔میٹنگ کی شروعات میں ہی تینوں وزراءنے تینوں قوانین کو ایک ایک تقاضہ پر بات چیت پر نکتہ وار تشویش رکھی ۔ذرائع کا کہنا ہے بات چیت کے دوران ایک وزیربے حد ناراض ہو گئے وزیرزراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا جب ہم تاریخ طے کرتے ہیں تو کسانوں سے رائے لینے کے بعد ہی کرتے ہیں اور مسئلے کے حل کے لئے دونوںہاتھوں سے تالی بجنی چاہیے وہیں کسانوں کا کہنا ہے کہ بات چیت بھلے ہی بے نتیجہ رہی ہو لیکن ہمارے حوصلے ابھی بھی بلند ہیں ۔دہلی کی سرحدوں پر کسان پہلے کی طرح ڈٹے رہیں گے پھر چاہے کتنا ہی وقت لگے ۔ہم بھاگنے والے نہیں سرکار ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہے ۔پیش ہے وزیراور کسان نیتاو¿ں میں بحث : وزیر: قانون کے جن تقاضوں پر کسان انجمنوں کو اعتراض ہے اس پر بات ہونی چاہیے ۔کسان نیتا راجیشوال اس بات چیت سے پہلے کسان انجمنیں کئی بار کہہ چکی ہیں کہ سرکار سے بات چیت تقاضوں کو لیکر نہیں بلکہ صرف قوانین کی واپسی پر ہی ہوگی ۔وزیر: یہ رویہ بات چیت اٹکانے والا ہے ۔راجیشوال : سرکار کسان تنظیموں کو قانون کے بجائے ترامیم میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ ہماری مانگ تینوں قوانین کی واپسی اور ایم ایس پی پر قانونی گارنٹی دینے کی ہے ۔پنجابی یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات کے پروفیسر جسوندر سنگھ نے بات چیت میں کہا کہ کھیتی قانون نا تو کسانوں اور نا ہی دیش کی کھیتی باڑی سیکٹر کے مفاد میںہے ۔اس لئے مرکزی سرکار کو چاہیے ان کھیتی قانون کو منسوخ کرے ۔مودی سرکار اس وقت کارپوریٹ گھرانوں کے بھاری دباو¿ میں ہے اسی وجہ سے معاملہ حل نہیں ہو پا رہا ہے ۔پروفیسر براڈ نے آگے کہا کہ کسانوں کی تحریک لمبی چل سکتی ہے ۔
(انل نریندر)
07 جنوری 2021
تاریخی ہندو مندر نشانہ پر !
پاکستان ریاست خیبر پختونخوا کے چرخ ضلع میں پچھلے دنوں تاریخی مندر میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے معاملے میں 35لوگوں کو اور گرفتار کیا ہے اور اب تک 100سے زیادہ شرپشند پکڑے جا چکے ہیں ان میں کچھ پولیس کے ملازم بھی شامل ہیں ۔واردات کے سلسلے میں 350لوگوں کو ملزم بنایا گیا ہے ان میں کٹر پشند تنظیم جمعیت علمائے اسلام کے لیڈر راحت اسلام کھٹک اور ان کے بھیڑ کو اکسانے والے کئی اور مولوی بھی شامل ہیں ۔واضح رہے ضلع کے ٹیلی گاو¿ں میں شدت پشندوں کی بھیڑ نے ایک تاریخی ہندو مندر میں نئی تعمیل کے ساتھ اس کے پرانے ڈھانچے کو بھی گرا دیاتھا اور آگ لگادی تھی انسانی حقوق رضاکار اور پاک اقلیتی ہندو فرقہ نے ا س واقعہ کی نکتہ چینی کی ہے اس کے بعد صوبہ کے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا تھا کہ صوبائی سرکار گرائے گئے مندر کی دوبارہ تعمیر کرائے گی ۔اور انہوں نے اس کے احکاما ت بھی جاری کر دئیے اس کے علاوہ توڑ پھوڑ معاملے کو لیکر پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے از خود کاروائی کرتے ہوئے معاملے کی سماعت شروع کر دی ہے اس واقعے سے صاف ہے مندر کو گرانے کی یہ حرکت منظم تھی ۔یہ بھی سچائی ہے کہ کہیں بھی مقامی لوگ اس طرح کے واقعات کو انجام نہیں دیتے ورنہ اب تک یہ مندر کب کا صاف ہو چکا ہوتا ۔دوسرے مذاہب کے تئیں نفرت پھیلانے کا کام کٹر پشند طاقتیں کرتی ہیں ۔مندر ہو یا دوسرے مذہبی مقامات کو نقصان پہوچانے کے معاملے میں آج تک کسی کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ہے ایسا دیکھنے مین نہیں آیا اپنے شہریوں کو مذہبی آزادی دینے کے معاملے میں ادھر سے بھی پاکستان بدنام ملک کی شکل میں جانا جاتا ہے ۔اقوام متحدہ سے لیکر امریکہ اور دوسرے دیش بھی پاکستان میں اقلیتوں کو ٹارچرکو لیکر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ پاکستان کا انسانی حقوق کمیشن تک کہہ چکا ہے کہ آنے والے وقت میں مذہبی اقلیتوں کی حالت اور خراب ہوگی ۔پاکستان کے آئین نے مذہبی اقلیتوں کو بھی یکساں حقوق دینے کی بات کہی ہے ۔لیکن آج پاکستان سرکار اپنے ہی آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اقلیتوں پر ظلم کررہی ہے پاکستان سرکار دہائیوں سے بند پڑے مندروں اور گورودواروں کو کھلوانے کی سمت میں بڑھے تو اس سے اقلیتوں میں سرکار کے تئیں بھروسہ بڑے گا اور ایسی کوشش بھارت پاکستان بیچ بہتر بنانے کی سمت میں بڑا رول نبھا سکتی ہے لیکن کیا پاکستان سرکار اس بات کو سمجھ پائیگی ۔
(انل نریندر)
ریلائنس کی وضاحت ، زرعی قوانین سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں !
ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں اپنی سبسڈی جی یو انفو کام کے ذریعے ایک عرضی دائر کی ہے اس میں انتظامیہ سے شر پشندوں کے ذریعے توڑ پھوڑ کی غیر قانونی واقعات پر روک لگانے کے لئے فوری مداخلت کی مانگ کی ہے کمپنی کا کہنا ہے شر پشنددوں کے ذریعے توڑ پھوڑ اور ما ر پیٹ کی کاروائی سے ان کے ہزاروں ملازمین کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے ساتھ ہی دونوں ریاستوں میں کمیونیکیشن انفراسٹکچر سیلس اور سروس آو¿ٹ لیٹ کے روز مرہ کے کاموں میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے عرضی میں ریالائنس نے کہا کہ دیش میں جن تین زرعی قوانین پر بحث چل رہی ہے ان سے ریالائنس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نا ہی کسی طرح سے ان کا فائدہ پہونچتا ہے ۔زرعی قوانین سے ریالائنس کا نام جوڑنے کا واحد مقصد ہمارے کاروبار کو نقصان پہوچانا ہے ۔عرضی میں کہا گیا ہے ریالائنس انڈسٹریز لمٹڈ ، ریالائنس ریٹیل لمیٹڈ ، ریالائنس جی یو انفو کام لمیٹڈ اور ریالائنس سے وابسطہ کوئی بھی دیگر کمپنی نا تو کارپوریٹ اور نا ہی ٹھیکہ فارمنگ کرتی ہے اور نا ہی کراتی ہے اور نا ہی مستقبل میں اس کاروبار میں اترنے کا کمپنی کا کوئی منصوبہ ہے سارا معاملہ کسان آندولن سے جڑا ہے کچھ نام نہاد کسانوں نے پنجاب اور ہریانہ میں جیو ٹاور اور جیو مال میں توڑ پھوڑ کی ہے ۔اسی سلسلے میں ریالائنس نے بھارتی ایرٹل پر الزام لگایا ہے کہ جیو کے خلاف توڑ پھوڑ میں اس کا مبینہ ہاتھ ہے امبانی ضلع کنٹرول ٹیلی کام کمپنی ریالائنس جیو کے ٹیلی کام ٹاور توڑ دئیے گئے ۔ائر ٹیل نے دی ٹی او کو لکھ کر جیو کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔کمپنی نے کہا کہ جیو کے الزام من گھڑت ہیں ۔ٹیلی کام کمپنی نقصان پہوچانے والی کمنیوں کی مذمت کرتی ہے ٹیلی کام کے سکریٹری انشو پرکاش کو لکھے خط میں جی یو کے الزامات کو بے بنیاد اور شاک پر چوٹ پہوچانے والی بتایا ہے ۔ٹیلی کام سکریٹری انشو پرکاش نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ جی یو کے ٹاورون کی توڑ پھوڑ میں اس کا کوئی رول ہے ۔موجودہ کسان آندولن میں احتجاجیوں کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ سرکار نئے زرعی قانون کی آڑ میں اڈانی امبانی سمیت چنندہ صنعت کاروں کو فائدہ پہوچا رہی ہے ۔اس دوران پنجاب ہریانہ اور دوسری جگہوں پر 1600ٹاور توڑ دئیے گئے اس میں اکثر امبانی کی بالادستی والے ہیں ۔جی یو کا الزام ہے کہ اس کی مقابلہ جاتی کمپنیاں ایسا کرکے اس کی سروس میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں ۔کمپنی کے مطابق ٹاور معاملے میں ایرٹیل ووڈا ائیڈیا کے چینل پارٹنروں کی درپردہ ساجھیداری ہے ۔
(انل نریندر)
گئے تھے جے رام کی انتم سنسکار کرنے 25لوگوں کی اور کرنا پڑاانتم سنسکار
یوپی کے ضلع غازی آباد کے شہر مراد نگر کی سنگم وہار کالونی اس شمشان گھاٹ سے محض 100میٹر کی دوری پر ہے ۔جہاں حادثہ (چھت گرنے )کا ہوا ۔اس پوری کالونی کو ہی شمشان گھاٹ کی طرح غم زدہ بنا دیا ۔اس کالونی کے جس گلی کے آخر میں 65سالہ جے رام کا گھر ہے اس گلی میں ان کے علاوہ دیگر 4گھروں کے بھی چراغ اجڑ گئے اور پوری گلی ماتم میں نا صرف ڈوبی بلکہ پورے علاقہ میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔حادثہ کے شکار لوگ جے رام کے انتم سنسکار میں شامل ہونے کے لئے شمشان گھاٹ گئے ہوئے تھے ۔محلہ کے لوگوں اور رشتہ داروں سمیت تقریباً سو لوگ انتم سنسکار میں شامل ہوئے تھے ۔انتم سنسکار کے دوران شمشان استھل کی چھت گر گئی اور ملوے میں چالیس لوگوں کی موت ہو گئی ۔یہ حادثہ جتنا حیران کر دینے والا ہے اتنا ہی تکلیف دہ اور غم کا ماحول پیدا کر دیا ہے ۔یہ جاننا ضروری ہے کہ شمشان گھاٹ میں انتم سنسکار کی چھت میں گھٹیا سامان کے استعمال کی شکایتوں کے باوجود بروقت کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔یہ دو مہینہ پہلے ہی تیار ہو ئی تھی ۔اور اتوار کو پھل فروش جے رام کے انتم سنسکار میں آئے تقریباً سو لوگ اچانک تیز بارش سے بچنے کے لئے چھت کے نیچے کھڑے ہو گئے تھے ۔ایک دم ہی یہ چھت گر گئی جس میں کئی لوگ زندہ دفن ہو گئے ۔یہ کتنا دل دہلا دینے والا حادثہ تھا کہ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے تاکہ بھاری بھرکم ملوے کے نیچے دبے کئی متوفین اور زخمیوں کو نکالنے کے لئے پولیس کے ساتھ ساتھ قومی راحت بچاو¿ ٹیموں کو بھی کئی گھنٹہ تک مشقت کرنی پڑی ۔بے شک پولیس نے مراد نگر میونسپلٹی کے نگراں افسر سمیت تین لوگوں پر غیرارادی قتل کی کئی دفعات میں گرفتار کیا ہے ۔لیکن یہ حادثہ دکھاتا ہے کہ سرکاری تعمیراتی کام کی آڑ میں کرپشن کرنے والوں نے شمشان گھاٹ کو بھی نہیں بخشا ۔حیرت اس بات کی ہے شمشان کی جگہ پر روڈ بنائے جانے دوران بھی تعمیرات میں گھٹیا سامان کا استعمال کیا گیا ۔بہت سی شکایتیں کی گئیں لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی ۔یہ سچ ہے کہ یہاں ہوئی گھٹیا تعمیرات کی جانچ زیرالتوا تھی اور اب یہ چھت گرنے کا معاملہ بھی سنگین ہے ۔اور افسران مال کی کوالٹی کو پرکھیں اور شمشان کی جگہ پر آنے والے لوگوں کے لئے یہ کیوں کھولا گیا ؟ شمشان گھاٹ میں جس گلیارے کی چھت ڈھے گئی اس کی تعمیر دو مہینے پہلے شروع ہو ئی تھی اس گلیارے کو بنانے میں تقریباً 55لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے ۔اور ابھی دو ہفتہ پہلے ہی اسے عام لوگوں کے لئے کھولا گیا تھا ۔شمشان گھاٹ کمپلیکس میں انٹری گیٹ سے لے کر پیچھے کچھ دیر تک اس گلیارے کی تعمیر اس لئے کی گئی تھی تاکہ لوگوں کو سایہ مل سکے لیکن یہ چھت خود کچھ گھنٹوں کی لگاتار بارش بھی نہیں برداشت کر سکی اور وہ گر گئی ۔شمشان گھاٹ کی جگہ پر ہوئے حادثہ میں مرنے والوں کی چھاتے و دیگر سامان بکھرا ہوا تھا جو یہ بیان کررہا ہے کہ ان لوگوں کا کیا قصور تھا ۔شمشان گھاٹ کے باہر ایک شخص یامین نے بتایا کہ ایسا لگا کہ شمشان گھاٹ کے پاس کہیں بم پھٹ گیا ہے لیکن اس کے بعد چیخ و پکار سنائی پڑی تو یہ دیکھا کہ حادثہ ہے نا کوئی بم پھٹا ہے ۔واردات کے بعد اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یو گی آدتیہ ناتھ نے غازی آباد کے ضلع مجسٹریٹ اور دیگر افسروں کو واردات کی جگہ پر پہونچنے کی ہدایت جاری کی اور متوفین کے ورثاءکو مالی مدد کا بھی اعلان کیا ۔لوگوں میں حادثہ کو لیکر بہت غصہ ہونافطری ہے کیوں کہ سرکاری لاپرواہی نے اتنے لوگوں کی جان لے لی ۔
(انل نریندر)
06 جنوری 2021
کیپٹن کے قتل پر 10لاکھ ڈالر کا انعام!
پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے والے نا معلوم نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے محالی کے فیز ۔11تھانے میں 2021میں مقدمہ درج ہوا ہے جس میں الزام ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے والا پوسٹر پبلک گائیڈ میپ پر لگایا گیا تھا اس میں کیپٹن کو مارنے والے کو 10لاکھ ڈالر دینے کی انعام کی بات کی گئی تھی ۔تھانے کے جانچ افسر کے مطابق نامعلوم ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 504،506،120Bو 34Eوغیرہ ایکٹ کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ملزم کو پکڑنے کیلئے سائبر ٹیم سے بھی مدد لی جارہی ہے ساتھ ہی آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمرے کو بھی دیکھا جا رہا ہے پوسٹر پر کوئی بھی فائل نمبر نہیں لکھا تھا لیکن دھمکی دینے والے نے اپنا ای میل۔ibrahim@hot.mail.comپولس معاملے کی جانچ کر رہی ہے امید ہے دھمکی دینے والا جلدشکنجے میں آجائے گا۔
(انل نریندر)
دہلی پولس ملازمین کو کمشنر کا نئے سال کا تحفہ !
کورونا دور میں پچھلے سال اپنی ڈیوٹی پر مستعد رہے پولس ملازمین پر بڑھے جسمانی اور ذہنی دباو¿ کو دیکھتے ہوئے انکی بہبود کیلئے دہلی پولس نے کئی نئے قدم اٹھائے ہیں نئے سال کے پہلے دن دہلی پولس کے کمشنر ایس این سری واستو نے نئے پولس ہیڈ کوارٹرمیں منعقدہ ایک پروگرام میں سبھی پولس افسران اور ملازمین و ان کے عزیزوں کو نئے سال کی نئی خواہشات پیش کرتے ہوئے کچھ نئے اعلان کئے انہوں نے کہا کہ پولس ملازمین کی بہبودی دہلی پولس کی ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے بتایا اب تک 7612پولس کرمچاری کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ان میں سے 7424افسرات اور ملازم صحت یاب ہوکر اپنی ڈیوٹی پر لوٹ آئے ہیں جبکہ 31پولس ملازمین کو کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی جان گنوانی پڑی اس کے علاوہ پچھلے سال 231پولس والوں کی ایک معمولاتی اسباب کے سبب موت ہوئی۔جبکہ 44پولس ملازمین حادثوں میں ہلاک ہوئے اور 14 نے خودکشی کرلی کمشنر نے کہا یہ دکھاتا ہے پولس ملازمین کس قدر جسمانی اور ذہنی دباو¿ میں کام کر رہے ہیں اس لئے ان پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے اسلئے اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے 40سال سے زیادہ عمر کے سبھی پولس ملازمین کو ضروری طور میڈیکل چیک اپ کرایا جائے گا تاکہ یہ پتہ لگے کی بیماری ہے یا پریشانی تاکہ بروقت اس کا علاج یا حل نکالا جا سکے اس سے پولس فورس کی ہیلتھ بھی بہتر ہوگی ان کے بہبودی کو دھیان میں رکھتے ہوئے دہلی پولس نے ایکسس بینک کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت فطری موت یا ڈیوٹی پر ہونے والے موت کے معاملوں میں پولس ملازمین کو ورثا کو پانچ لاکھ کے بجائے 28لاکھ روپئے کا بیما ہوگا وہیں سڑک حادثے میں موت کے معاملے میں بیمے کے تحت 30لاکھ سے بڑھا کر 78لاکھ روپیہ دیا جائے گا ویسے تو کوئی بھی پریوار نہیں چاہتا انہیں اپنے کسی کو کھونا پڑے اس کے باوجود خوکشی یا بد قسمت واقعات کے معاملے میں بھی 10لاکھ روپئے کا کلیم کرنے کی متوفی پولس ملازمین کے رشتہ داروں کو دلانے کا انتظام کیا جا رہا ہے پولس ملازمین کی فیزیکل فٹنس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کچھ ضروری قدم اٹھائے گئے ہیں اس کے تحت پولس کالونیوں میں سات ویلنیس سینٹر کھولے گئے ہیں جہاں سے ابھی تک 11700پولس والے اور ان کے رشتہ دار فائدہ لے چکے ہیں اس کے علاوہ ان سینٹروں میں اوپن جم اور یوگ کے بھی انتظام ہیں ۔کمشنر نے بتایا پچھلے سال 135پولس والوں کو بغیر باری کے پرموشن دیئے گئے پچھلے سال دہلی پولس کو کئی چنوتیوں کو سامنہ کرنا پڑا لیکن دہلی پولس نے بخوبی طور اس چنوتی کا سامنا کیا کورونا وبا دور میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے دہلی پولس کے ملازم اپنی ڈیوٹی سے پیچھے نہیں ہٹے ہم دہلی پولس کمشنر ایس این سری واستو کی ستائش کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے پولس ملازمین کا خیال رکھتے ہوئے کئی بہبودی قدم اٹھائے ہیں جس سے ہر پولس والے کا حوصلہ بڑھے گا اور وہ اپنی ڈیوٹی اور مستعدی سے کام کر سکیں گے۔
(انل نریندر)
بحث اور عدم اتفاق کی گنجائش دیش میں کم ہونے لگی!
نوبل ایوارڈ ونر ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے دیش میں مباحثہ اور عدم اتفاق کی گنجائش کو کم ہونے کو لیکر ناراضگی ظاہر کی ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا ہے کہ من مانی طریقے سے ملک کی بغاوت کے الزامات کو تھوپ کر لوگوں کو بغیر مقدمے کے لوگوں کو جیل بھیجا جا رہا ہے۔ حالانکہ اکثر امرتیہ سین کی تنقید کے مرکز میں رہنے والی بھاجپا نے ان کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر امرتیہ سین مرکز کے تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان قوانین کا جائزہ لینے کیلئے ایک مضبوط بنیاد ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی شخص جو سرکار کو پسند نہیں آرہا ہے اسے حکومت کے ذریعے دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے اور جیل بھیجا جا سکتا ہے ۔لوگوں کے مظاہرے کے کئی موقع اور احتجاج کو محدود کردیا گیا ہے یا بند کردیا گیا ہے عدم اتفاق اور مباحثے کی گنجائش کم ہوتی جارہی ہے انہوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا ہے کہ نوجوان لیڈر کنہیا کمار شہلہ راشد اور عمر خالد جیسے نوجوان ورکروں کے ساتھ دشمنوں جیسا برتاو¿ کیا گیا اور بحث اور عدم اتفاق کی گنجائش مبینہ طور پر سکڑ جانے کے بارے میں امرتیہ سین کے نظریات پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بھاجپا کی مغربی بنگال یونیٹ کی چیف دلیپ گھوش نے کہا کہ سین کی دلیل بے بنیا د ہے اگر یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عدم رواداری کیا ہے تو انہیں مغربی بنگال کا دورہ کرنا چاہئے۔جہاں کسی بھی اپوزیشن کے پاس اپنے پروگرام کرنے کیلئے جمہوری حق نہیں ہے ۔بھاجپا کی این ڈی اے سرکار کو لیکر ماہر اقتصادیات امرتیہ سین کے خیالات کے بارے میں پوچھے جانے پر نام ور ماہر اقتصادیات نے کہا کہ جب سرکار غلطی کرتی ہے تو اس سے لوگوں کو نقصان ہوتا ہے اس بارے میں نہ صرف اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہئے بلکہ حقیقت میں ضروری ہے جمہوریت اس کی اجازت دیتی ہے سین نے کہا تینوں زرعی قوانین کا تجزیہ کرنے کیلئے مضبوط بنیا د ہے کیونکہ کسان ان کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں کسانوں کے مظاہرے کو لیکر سین کے روئیے پر رائے زنی کرتے ہوئے بھاجپا کے جنرل سکریٹری وجیہ ورگیہ نے کہا سرکار نے مسئلوں کو حل کرنے اور کسان انجمنوں کے زریعے ہر طرح کی تشویشات کو دور کرنے کیلئے سبھی کوششیں کی ہیں سین نے یہ بھی کہا بھارت میں کمزور طبقات کے ساتھ برتاو¿ میں بڑا جواب موجود ہے سین نے کووڈ کے بارے میں کہا کہ سماجی میل جول سے دوری رکھنے کی نصیحت ایک طرح سے صحیح تھی لیکن بغیر کسی نوٹس کے لاک ڈاو¿ن تھوپا جانا غلط تھا گزر بسر کے لئے محنت کشوں کی ضرورت کو نظر انداز کرنا بھی غلطی تھی وہیں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکز کے خلاف نظریہ رکھنے کیلئے بھاجپا کے ذریعے نوبل ایوارڈ ونر امرتیہ سین کو خط لکھ کر دکھ جتایا ہے انہوں نے اخبار نویشوں سے کہا مرکزی سرکار کے خلاف رائے رکھنے کیلئے امرتیہ سین کو نشانہ بنایا جارہا ہے سین نے بنرجی کو حمایت دینے کیلئے خط لکھ کر ان کا شکریہ ادکیا اور کہا ان کی بلند آواز سے انہیں بڑی طاقت ملی ہے ۔
(انل نریندر)
05 جنوری 2021
چین کی ہر چال رہی ناکام!
پاکستان میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی مہم میں چین کو ملی ناکامی سے بھارت نے راحت کی سانس لی ہے اور ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود نہ تو حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی میں پھوٹ کو روک پایا نہ ہی وزیر اعظم کے پی اولی شرما اور ناراض لیڈر پشپ کمل دہل پرچنڈ کو منا پایا این سی پی میں تقسیم کے بعد اب وہاں نئے سرے سے چناو¿ کرانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا ہے بھارت بھی چاہتا تھا کہ پڑوسی ملک میں نئے سرے سے چناو¿ ہوں اولی نے ایوان نماندگان کو بھنگ کرنے کی سفارش کی اس پر صدر کی مہر کے بعد بھارت شش و پنچ میں تھا اس کی وجہ چین کی حکمت عملی تھی پہلے اس کی کوشش تھی این سی پی میں تقسیم کو روکا جائے اس کیلئے چین اپنے نیپالی سفیر کو اپنے نائب وزیر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد بھیجا تھا چین نے پرچنڈ کے ساتھ اتفاق رائے بنانے کی کوشش کی تھی تاکہ وہاں اپنی پسند کی سرکار بنانے کے لئے دوسری پارٹیوں سے بھی رابطہ قائم کیا چین نہ تو تقسیم ٹال سکا اور نہ پرچنڈ کی قیادت میں نئی سرکار بنوانے میںناکام رہا ۔نیپال میں نئے سیاسی بحران کے درمیان بھارت کا ارادہ تھا کہ وہاںنئے سرے سے چناو¿ ہوں اور بھارت حمایتی طاقتوں کو کامیابی ملے اور ایسا ہی ہواوہاں نئے چناو¿ہونگے۔
(انل نریندر)
اب تک 56کسانوں کی جان جا چکی ہے !
کسانوں کو آندولن کرنے کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑ رہی ہے جان و مال کا نقصان ہورہا ہے لیکن سخت سردی اور بارش میں بھی کھلے آسمان کے نیچے دہلی کے بارڈروں پر اپنے عظم کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب تک اس تحریک کے دوران اب تک 56کسان اپنی جان گنوا چکے ہیں ان میں سے سنیچر کو غازی پور(یوپی گیٹ )پر بلاس پور کے ایک بوڑھے کسان کشمیر سنگھ نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی اس نے مرنے سے پہلے ایک سوسائیڈ نامہ چھوڑا ہے جس میں لکھا ہے کہ اس کا انتم سنسکار بھی یہیں کیا جائے وہیں سنیچر وار کی شام ٹکری بارڈر پر 18سالہ لڑکے جنپریت سنگھ کی موت ہوگئی ہے اس کو دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے بتیا جاتا ہے ٹھنڈکی وجہ سے اس کا حرکت قلب بند ہوگیا وہیں جمعہ کو یوپی گیٹ پر گلوان سنگھ کی طبیعت بگڑنے کے بعد اس کو اسپتال لی جاتے راستے میں موت ہوگئی نئے زرعی قانون کے خلاف احتجاج کو 40پورے ہوچکے ہیں ۔ کسان بغیر قانون واپسی کےآندولن بند کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ اور ان کا کہنا ہے کہ ہم نہ انصافی کیلئے لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس قانون کو واپس کروانا ہی ہمار مقصد ہے ۔کسان نیتاو¿ں کا کہنا ہے کہ وہ کسانوں کے صبر کا امتحان نہ لے ۔ بھارتی کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیٹ کا یوپی گیٹ پر ایک کسان کے ذریعے خودکشی کرنے کی قربانی ضائع نہیں جائے گی اگر سرکار ایم ایس پی کو قانون بنانے و تینوں بل واپس نہ لینے کی صورت میں آندولن کو اور تیز کیا جائے گا ۔چھلر چھکارہ کھاپ کے پردھان راجیندر چکارہ کا کہنا ہے کہ طوفان بھی آجائے تب بھی اس کالے قانون کو واپس کرائے بنا واپس نہیں جائیں گے ۔ ہمارے گاو¿ں میں سو برس کے ایک بزرگ بھی ہمارے ساتھ اس تحریک کا حصہ بنے ہوئے ہیںجنہیں دیکھ کر ہمارا حوصلہ بلند اور مضبوط ہے بارش اور ٹھنڈ سے بچنے کیلئے واٹر پروف ٹینٹ لگا رہے ہیں جس سے وہ ٹھنڈ سے بچ سکیں ۔ دیکھیں پیر کو ہی بات چیت کا کوئی تشفی بخش نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں ؟
(انل نریندر)
نتیش کو وزیر اعظم امیدوار بننے کا آفر ملا!
بہار میں بی جے پی ۔جے ڈی یو قیادت والی اتحاد سرکار بنے ابھی محض دومہینے ہوئے ہیںباوجود اس کے کئی ایسے موقعے جب دونوں پارٹیوں کے درمیان رشتوں میں ٹکراو¿ کی خبریں سامنے آئیں ہیں حالانکہ دونوں ہی پارٹیاں مسلسل اتحاد کو مضبوط بتا رہی ہیں۔ لیکن جس طرح سے اروناچل پردیش میں ہوئے واقع سے جے ڈی یو کافی خفا ہے اس کے بدلے تیور کو دیکھتے ہوئے آر جے ڈی نے نئی چال چلی ہے اور اس نے جے ڈی یو کو آفر کیا ہے کہ وہ تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ بنائیں اس کے بدلے میں آر جے ڈی نتیش کمار کو 2024میں پی ایم امیدوار بنانے کی حمایت کرے گی آر جے ڈی لیڈر ادے نارائن چودھری وجے پرکاش نے کہا بھاجپا کے ذریعے کی جا رہی بے عزتی کے بعد اب نتیش کمار جی کو فیصلہ لینا چاہئے کہ وہ بہار میں مہا اتحا د کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امید وار رہے تیجسوی یادو کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سونپیں اور بدلے میں آر جے ڈی اپوزیشن کی طرف پی ایم امیدوار کو سہرہ بنانے کو تیار ہے وجے پرکاش نے کہا نتیش جی کو دہلی جاکر بہار میں تیجسوی یادو کےلئے راستہ صاف کردینا چاہئے وہیں کانگریس ودھا ن پریشد کے نیتا پریم چندر مشرا نے آر جے ڈی لیڈروں کی اس تجویز کو مضحکہ خیز بتایا ہے اور کہا اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ں کو بھاجپا کے ساتھ سرکار چلا رہے اس شخص کو ایسے آفسر دینے سے پرہیز کرنا چاہئے نتیش جی اگر بھاجپا کے ساتھ لاچار محسوس کر رہے ہیں تو فیصلہ انہیں لینا چاہئے۔ ویسے جے ڈی یو کے پردیش صدر نارائن سنگھ آر جے ڈی کی اس پیش کش کو سرے سے مسترد کردیا ہے اور کہا آر جے ڈی بکواس کر رہی ہے اسمبلی چناو¿ میں ہار کے بعد سے وہ لوگ پریشان ہیں اپنی ہار آر جے ڈی والے ہضم نہیں کر پار ہے ہیں ۔ چناو¿نتیجوں نے ان کے خوابوں کو پست کردیا ہے اس لئے وہ ایسی بیان بازی کر رہے ہیں کہا کہ آر جے ڈی کو اقتدار میں آنے کیلئے ابھی 2025تک انتظار کرنا چاہئے اسکے بعد وہ نئے سرے سے کوشش کریں پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اس لئے یہ سوال پوچھے جارہے ہیں کہا بھاجپا جے ڈی یو میں سب ٹھیک ہے یہ سوال اس لئے بھی اٹھے ہیں کیونکہ بھاجپا کے روئیے پر یہ سوال کھڑے کئے جارہے ہیں خاص طور پر لو جہاد کے مسئلے پر جس طرح سے بھاجپا حکمراں ریاستوں میں قانون بنانے کی کوشش ہوئی ہے اس پر جنتا دل یونائی ٹیڈ نے نکتہ چینی کی ہے اسی درمیان وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آر سی پی سنگھ کو پارٹی کا قومی صدر بنا کر کئی پیغام دیئے ہیں۔ انہوں نے صدر بنتے ہی بی جے پی کے خلاف حملہ بول دیا ہے اروناچل میں پارٹی پھوٹ کے اشاروں میں بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے آر پی سنگھ نے کہا کہ وہ دوستوں کے خلاف سازش نہیں رچتے اور نہ دھوکہ دیتے ہیں ۔جے ڈی یو کے سرکردہ لیڈر کے سی تیاگی نے کہا کہ لوجہاد کو لیکر دیش میں نفرت پھیلانے کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے اور یہی نہیں انہوں نے اروناچل پردیش میں جے ڈی یو کے ممبران اسمبلی کے بی جے پی میں شامل کئے جانے پر بھی ناراضگی جتائی ہے ۔اب لوجہاد کے خلاف قانون کو لیکر بی جے پی نیتاو¿ں کی طرف سے کی جارہی حمایت پر جے ڈی یو نیتا نے سوال کھڑے کئے ہیں ان کا کہنا ہے کسی بھی ذات یا مذہب کے دو بالغ افراد اپنے رشتے بنانے کو لیکر آزاد ہیں اور لو جہاد پر قانون بنانے کی بات ایک آزاد جمہوری نظام کے خلاف ہے ادھر آر جے ڈی نیتا شیام رجک نے دعویٰ کیا ہے جنتا دل یو کے 17ممبر اسمبلی آر جے ڈی کے خیمے میں آنے کو تیار بھیٹے ہیں ۔
(انل نریندر)
03 جنوری 2021
نئے سال میں پٹھان کوٹ کی دوسری سازش!
خفیہ ذرائع کی مانیں تو اپنی کرسی بچانے کے لئے چین کی کٹپتلی بنے پاکستانی وزیراعظم عمران خاں نے نئے سال میں بھارت پر آتنکی حملے کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی ہے ۔ڈرائیگن کے اشارے پر عمران نے اپنی وفادار آتنکی تنظیم لشکر طیبہ اور جیش محمد کے چیف سے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی نگرانی میں ملاقات کی اور بھارت پر پٹھان کوٹ جیسے حملے کا پلان تیار کیا ۔نشانہ پر جموں کشمیر اور پنجاب میں فوجی اڈوں اور سکیورٹی فورس او مذہبی مقامات ہیں خفیہ محکمہ نے اس بات کی سرکار کو رپورٹ دے دی ہے اور سکیورٹی فورسز کو الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔جس کے مطابق دونوں تنظیموں کے دہشت گرد سکیورٹی اداروں اور سکیورٹی فورسز پر پٹھان کوٹ جیسی آتنکی حملے کرنے کی سازش میں لگے ہیں ۔چین بھارت سے گلوان وادی کا بدلہ لینا چاہتا ہے اس کے لئے ڈرائیگن نے دہشت گردوں کے لئے تجوری کھول دی ہے اور ان کو انتہائی جدید ترین ہتھیار اور ڈرون دینے کو تیار ہو گیا ہے ۔آتنکی پٹھان کوٹ جیسے حملے کی اطلاع ملنے کے بعد سکورٹی فورسز چوکس ہو گئی ہے ۔پاک فوج اور پاک رینجرس کا مقصد کشمیروادی میں پنجاب میں ان لشکر اور جیش جیسی آتنکی تنظیموں کو ایک ساتھ لانا ہے ۔تاکہ امکانی آتنکی حملوں کو انجام دیا جا سکے ۔ان تنظیموں کو ایک ساتھ لانے کے لئے نومبر میں پاکستان مقبوضہ کشمیر میں چین اور آئی ایس آئی اور پاک فوج اور دہشت گردوں کے بیچ میٹنگوں کا دور چلا ۔ہتھیاروں کی کھیپ کو بھارت میں پاکستان کے نروال علاقہ سے لیکر پنجاب میں ڈیرا باوا نانک تک استعمال کر اسمگلنگ کئے جانے کا امکان ہے انپٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کھیپ کے آتنکی سرگرمیوں کے لئے آگے جموں کشمیر اور پنجاب میں لانے کے امکان ہیں ۔
(انل نریندر)
اور اب برطانیہ سے آیا نیا وائرس اسٹرین !
برطانیہ سے پھیلے کورونا وائرس کی نئی شکل نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے وبا کے اور سنگین طور سے لوٹنے کا خطرہ پیدا کردیا ہے ۔برطانیہ سے بھارت آئے لوگوں میں سے 6مسافروں کے نمونہ میں سارس -سی اوبی 2یعنی کورونا کی نئی شکل (اسٹرین )پائے جانے سے دیش کے عام شہریوں میں ایک دم دہشت پیدا ہوگئی ہے ۔سب سے پہلے برطانیہ میں ملی نئی شکل اب بھارت کے علاوہ ڈینمارک ، ہالینڈ ، آسٹریلیا ، اٹلی ،سوئیڈن ،فرانس ،اسپین ،سوئزلینڈر ،جرمنی ،کنیڈا ، جاپان،لبنان اور سنگا پور میں مل چکا ہے ۔25نومبر سے 23دسمبر کی آدھی رات تک برطانیہ سے آئے قریب 33ہزار لوگوں کی جانچ کی جارہی ہے ۔ان کے رابطے میں آئے تمام لوگوں کی بھی جانچ ہو رہی ہے ۔مشتبہ کو تلاش کر کر کے عام آبادی سے الگ کیا جارہا ہے یہ تو بہت ضروری ہے حالانکہ مرکزی وزارت صحت کے پاس بھی اس بات کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے کہ دیش میں کتنے لوگ کورونا کی نئی شکل کی زد میں ہیں ۔لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ برطانیہ سے آئے لوگ پوری دیش میں پھیل چکے ہیں اس پر مشکل یہ بھی در پیش ہے کہ پچھلے ایک برس کے دوران کورونا وائرس کئی شکلیں بدل چکا ہے ۔سائنسداں کی دلیل یہ ہے کہ وائرس اپنی شکل بدل رہا ہے کچھ جلدی بدلتے ہیں کچھ دیر سے اپنی شکل بدلتے ہیں ۔پچھلے ایک سال میں یہ کورونا وائرس کئی شکلیں بدل چکا ہے لیکن اس کا آپ جو بھی نئی شکل دیکھیں اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے وہ کئی گنا زیادہ خطرناک ہے اور اس کے پھیلنے کی رفتار بھی کافی زیادہ ہے ایسے میں یہ تشویش پیدا ہونا فطری ہے اب انفیکشن کو پھیلنے سے کیسے روکا جائے حالانکہ سرکار نے وائرس کی نئی شکل کے سامنے آنے کے بعد نگرانی کنٹرول اور چوکسی برتنے کے لئے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں لیکن بحران کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ مہینہ بھر کے دوران بر طانیہ سے بھارت آئے ہر شخص کو تلاشہ جائے اور اس کی جانچ کرائی جائے ۔کرناٹک میں ایسے لوگوں کی تعداد تین گنا زیادہ ہے ۔جومہینہ بھر کے دوران برطانیہ سے آئے ہیں اور اپنی پہچان اجاگر نہیں کررہے ہیں پنجاب میں ایسے لوگوں کی تعداد ڈھائی ہزار بتائی جارہی ہے اور جگہوں پر بھی ایسا ہی عالم ہے ۔اگر ایسے لوگوں کی پیچان نہیں ہوئی تو وائرس کی نئی شکل کے پھیلنے سے انفیکشن کا پتہ نہیں چل پائے گا ۔دقت یہ ہے کہ انسان اگر وائرس سے انفیکشن کا علاج ڈھونڈ لیتا ہے تو وائرس انفیکشن کرنے کے نئے راستے ڈھونڈ لیتا ہے حالانکہ کورونا وائرس کی نئی شکل کو لیکر دنیا بھر میں تشویش اور اندیشات کے درمیان میڈیکل سائنسداں نے لوگوں کو واقف کر ا دیا ہے ۔جو دوا تیار کی گئی ہے یا کی جارہی ہے وہ کورونا مخالف ویکسین وائرس کی اس نئی شکل کے خلاف بھی کارگرہوگی اس یقین دہائی کے باوجود انسانی برادری اور وائرس کے درمیان جاری لڑائی ابھی لمبی چلے گی یہ کہنا مشکل ہے یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور دنیا کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی ۔لیکن دیش واسیوں کو کورونا ویکسین سے متعلق دیر سویر اچھی خبر مل سکتی ہے ۔برطانیہ نے بدھ کو کووڈ ویکسین کی دنیا بھر میں ایمرجنسی استعمال کی منظوری دے دی ہے بھارت ا س بات کا انتظار کررہا تھا امید ہے کہ بھارت کے ڈرگ کنٹرولر ایکسپرٹ کمیٹی بھی دیش میں اس کوویشیلڈ ویکسین کے استعمال کی منظوری مل جائے گی ۔اور عام لوگوں کو یہ دوا دستیاب ہو سکتی ہے ۔
(انل نریندر )
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...