Translater

24 نومبر 2012

شندے کی سنئے! سونیا و منموہن کو قصاب کی پھانسی کا پتہ ٹی وی سے چلا؟

اجمل عامر قصاب کو یوں چپ چاپ طریقے سے پھانسی پر لٹکانا کیا ایک سیاسی فیصلہ تھا؟ پھانسی کو لیکر سیاست کا تیز ہونا فطری ہی ہے۔ بھارت کے اندر اور باہر دونوں ہی مقامات پر سیاست جاری ہے۔ اجمل قصاب کی پھانسی پر بھارت اور پاکستان کے درمیان نیا ڈپلومیٹک دنگل چھڑ گیا ہے۔ بھارت کے مطابق پاکستان نے قصاب کی پھانسی سے پہلے بھیجی گئی غیررسمی اطلاع لینے سے بھی انکارکردیا۔ اس کے بعد پاکستان نے قصاب کی لاش کو بھی لینے سے منع کرنے کے بارے میں کوئی خبر بھارت تک کو نہیں دی۔ حالانکہ اب پاکستانی خیمہ حکومت ہند کے ان دعوؤں سے انکارکررہا ہے۔ بھارت نے پاکستان میں موجود ممبئی حملے کے سازشیوں کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ادھر دیش کے اندر بھی پھانسی کو لیکر سیاسی چالیں چلی جارہی ہیں۔ مرکز اور ریاستی سرکاروں نے پچھلے چار برسوں میں 29.5 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ ان میں آرتھر روڈ جیل میں اس کے کھانے پینے اور سکیورٹی و دوائیوں اور کپڑوں پر بھی پیسہ شامل ہے۔ وہیں قصاب کو پھانسی چڑھانے والے جلاد کو 5 ہزار روپے دئے گئے۔ سکیورٹی پر 30 کروڑ اور پھانسی پر صرف5 ہزار روپے۔ جنتا سوال کررہی ہے کیا 30 کروڑ روپے کے خرچ کو کم کیا جاسکتا تھا؟ اگر جلد پھانسی دے دی جاتی تو یہ بچ سکتا تھا۔ہمیں حیرانی سب سے زیادہ ہوئی جب وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے یہ کہہ دیا کہ قصاب کو پھانسی دئے جانے کے بارے میں وزیر اعظم منموہن سنگھ ،کانگریس صدر سونیا گاندھی کو بھی نہیں پتہ تھا۔ انہیں ٹی وی دیکھنے سے ہی پتہ چلا قصاب کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ سوال ہے کہ آپ پاکستان کو تو پہلے سے پھانسی کے بارے میں بتا رہے ہیں اور دیش کے وزیر اعظم کو نہیں بتا رہے؟ یہ ماننا آسان نہیں ہے کہ وزیر اعظم کو پتہ ہی نہیں تھا۔ کچھ بھول چوک ہوجاتی تو ذمہ داری دیش کے سربراہ یعنی وزیر اعظم پر عائد ہوتی۔ انہیں پتہ نہیں تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق نہ صرف وزیر اعظم کو معلوم ہی تھا بلکہ آپریشن 'X' براہ راست وزیر اعظم کی نگرانی میں ہی ہوا۔ آپریشن کے بارے میں سینئر وزرا اور حکام تک کو بھی بھنک نہیں لگی یہ تو ٹھیک ہے ۔ محض وزیر اعظم ہی نہیں وزیر دفاع اے کے انٹونی کو بھی پوری معلومات تھی۔ وزیر داخلہ کیے روم سے انٹر پول کی کانفرنس سے لوٹنے کے بعد ہی طے ہوگیا تھا کہ جلد ہی قصاب کو خفیہ طریقے سے سپریم کورٹ کے ذریعے برقرار رکھی گئی پھانسی کی سزا دے دی جائے۔صدر پرنب مکھرجی نے جس تیزی سے قصاب کی رحم کی عرضی کو مسترد کیا وہ بھی کافی اہم تھا۔ صدر محترم نے محض13 دنوں میں ہی اتنا اہم فیصلہ لے لیا۔ اس سے پہلے اس وقت کے صدر شنکر دیال شرما نے تو7 دنوں میں ہی رحم کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا تھا۔ بھارت میں یہ دوسرا ایسا معاملہ ہے جس میں رحم کی عرضی اتنی تیزی سے نپٹائی گئی ہو اور وزیر داخلہ یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ سب وزیر اعظم اور کانگریس صدر کو مطلع کئے بنا ہوا ہے؟ قصاب کو پھانسی سے دیش نے دنیا کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے لیکن اس کا وقت کئی معنوں میں ٹھیک رہا۔ پھانسی کے خلاف اقوام متحدہ میں ریزولیوشن پاس ہونے کے ایک دن بعد ہی قصاب کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ اتفاق بھی ہوسکتا ہے لیکن ہمارے نظام کو تو یہ کافی پہلے ہی معلوم تھا کہ اقوام متحدہ میں 19-20 نومبر کو کا ریزولیوشن پاس ہونے والا ہے۔ وقت کے مسئلے پر پارلیمنٹ اجلاس سے ایک دن پہلے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سرکار کے بڑھتے عدم استحکام اور دیش میں کانگریس کے لئے موجودہ ماحول اور الگ تھلگ پڑے ہندو ووٹ بینک خاص کر نوجوان طبقہ اور پھر گجرات اسمبلی چناؤ ۔اگر ہم اس واقعے کو دیکھیں تو ہمیں یقیناًلگتا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی زیادہ تھا اور سبھی جانتے ہیں دیش میں کانگریس صدر سونیا گاندھی،راہل گاندھی کی منظوری کے بغیر پتتا تک نہیں ہلتا ۔ یہ تو بہت ہی بڑا فیصلہ تھا۔
(انل نریندر)

بالا صاحب کی وراثت کو کون بڑھائے گا آگے؟

بالا صاحب ٹھاکرے کے دیہانت کے بعد یہ سوال اٹھنا فطری ہی ہے کہ شیو سینا کا اب کیا ہوگا؟ سینا چیف کا عہدہ رہے گا یا ختم ہوگا یا کوئی دوسرا اعلان ہوگا ۔ جب بھی کوئی بڑا نیتا آتا ہے تو تنظیم میں تبدیلی ہوتی ہے۔ شیو سینا میں تو لیڈر شپ میں ایک طرح سے خلا پیدا ہوگیا ہے۔ بیٹا اودھو اس سطح کا نہ تو لیڈر ہے اور نہ ہی ورکروں میں والد جیسی پکڑ اور عزت ہے جبکہ بھتیجے راج ٹھاکرے نے الگ ہوکر مہاراشٹر نو نرمان سینا بنا کر اپنی پہچان الگ بنا لی اور کچھ حد تک وہ کامیاب بھی رہے لیکن اکیلے ان میں وہ دم نہیں جو بالا صاحب میں تھا۔
بالا صاحب کے جانے کے بعد شیو سینکوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ایک شیو سینک کا کہنا تھا کہ بالا صاحب کے دیہانت کے بعد مراٹھی مانش خود کو بے سہارا اور یتیم غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ان حالات میں اب دونوں بھائیوں کو لوگوں کے مفاد میں متحد ہوکر ایک ساتھ آنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ شیو سینک تو چاہتے ہیں کہ اودھو اور راج ایک ساتھ مل کر بالا صاحب کی وراثت کو آگے بڑھائیں لیکن کیا یہ ممکن ہے؟ بال ٹھاکرے نے کئی برس پہلے اپنا سیاسی جانشین طے کردیا تھا۔ وہ اپنے لڑکے اودھو ٹھاکرے کو شیو سینا کا کارگزار صدر بناگئے۔ اسی کے ساتھ پارٹی میں لیڈر شپ کو لیکر کسی جھگڑے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ البتہ پارٹی کو اس کی قیمت چکانی پڑی۔ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے شیو سینا سے الگ ہوگئے اور 2006 ء میں انہوں نے مہاراشٹر نو نرمان سینا نام سے ایک الگ پارٹی بنا لی۔ چھگن بھجبل اور نارائن رانے جیسے کئی مینڈیٹ والے لیڈر اس سے پہلے شیو سینا کو چھوڑ چکے تھے۔ تکلیف دہ پہلو تو یہ ہے کہ اودھو کے ہاتھ شیوسینا کی کمان تو آگئی لیکن سیاست میں وہ ابھی تک کوئی خاص مقام نہیں بنا سکے۔ بیشک وراثت میں انہیں ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ تو ملا لیکن ورکروں کا حوصلہ بڑھانے میں وہ اہل ثابت نہیں ہو پائے۔ مراٹھا مانش اور ممبئی والے اور ہندوتو کی ملی جلی پالیسی نے بالا صاحب ٹھاکرے کو ایک خاص طرح کی طاقت دی لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ہوا کہ بہت سے لوگ ان سے خوف کھاتے رہے۔ کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ اودھو میں اپنے والد جیسی نہ تو زبان ہے اور نہ ہو تیور ہیں جس کے سہارے وہ شیو سینا کی مشتعل انداز والی سیاست چلاتے رہیں۔ بہرحال ہمی راج ٹھاکرے میں بالا صاحب کی تھوڑی بہت خوبی نظر آرہی ہے شاید یہ ہی وجہ ہے کہ وہ شیو سینا کے بہت سے ورکروں کو توڑنے میں کامیاب ہوئے۔2009ء کے چناؤ نتیجے نے بھی شیو سینا کے ووٹ بینک میں لگی سیند کی تصدیق کی تھی۔ یہ تب ہوا جب شیو سینا کو راہ دکھانے اور اپنے لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے بالا صاحب ٹھاکرے موجود تھے۔ اب جب اس دنیا میں وہ نہیں ہیں تو شیو سینا کا مستقبل غیر یقینی سا لگ رہا ہے۔ دونوں بھائیوں میں اختلافات ہیں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شیو سینا کے مستقبل کے لئے کیا اودھو اور راج اپنے اختلاف بھلا کر بالا صاحب کی وراثت کو آگے چلا سکیں گے؟
  1. (انل نریندر)

23 نومبر 2012

قصاب کو پھانسی:بھارت نے دنیا کو دیاپیغام ہم سافٹ اسٹیٹ نہیں


چار سال پہلے ممبئی کی گلیوں کو 165 بے گناہوں کے خون سے رنگنے والے پاکستانی دہشت گرد اجمل عامر قصاب کو بدھوار کے روز یرودا جیل میں چپ چاپ طریقے سے پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ اسے صبح ساڑھے سات بجے پھانسی دی گئی۔یہ بھی اتفاق رہا قصاب اور اس کے 9 دہشت گرد ساتھیوں نے قتل عام کے لئے بدھوار کا ہی دن چنا تھا۔ یہ ہی دن قصاب کے لئے زندگی کی آخری صبح لیکر آیا۔ ’سی7096‘ نام کے اس بیحد خونی مجرم اجمل عامر قصاب کی لاش کو جیل میں ہی دفن کیا گیا کیونکہ اس کے آقاؤں نے اس کی لاش لینے سے انکارکردیا تھا۔’ آپریشن X‘ نام کے اس آپریشن کو انتہائی خفیہ رکھا گیا۔ بھارت سرکار نے جس چپ چاپ ڈھنگ سے لیکن تیزی کے ساتھ اس آپریشن X کو انجام دیا وہ لائق تحسین ہے۔ یہ کام ضروری ہی نہیں تھا بلکہ بہت ہی اہم تھا۔ قصاب محض ایک آتنکی نہیں تھا وہ ایک آتنک کی علامت بھی بن گیا تھا۔ قصاب کو پھانسی دینے کا فیصلہ دیر آید درست آید کی کہاوت کو ثابت کرتا ہے کہ سرکاریں ٹھان لیں تو مشکل نظرآنے والے کام بھی کہیں زیادہ آسان بنائے جاسکتے ہیں۔ بھارت کے ضمیرکو جھنجھوڑ دینے والی 26 نومبر2008 کی خوفناک آتنکی حملے کی واردات کے قصوروار قصاب کو پھانسی پرلٹکا دئے جانے کے بعد یہ کہا جاسکتا کہ ممبئی کی زمین پر ہوئے گناہ کو انصاف مل گیا ہے۔ قصاب کو پھانسی پر لٹکانے کی حکمت عملی نے سرکار نے یقینی طور پر کئی حساب کتاب کا خیال رکھا۔ سب سے پہلے تو سرکار کی کوشش اپنی ختم ہوتی ساکھ کو پھر سے بحال کرنے کی تھی۔ دوسرے26 نومبر کے گناہگارکو سزا دینے کے لحاظ سے ماہ نومبر کی اپنی اہمیت تھی۔ ان سب نفع نقصان سے زیادہ اہمیت اس پیغام کی ہے جو نئی دہلی نے پوری دنیا کو دیا ہے اور یہ سندیش ہے کہ وہ دیش بھی اپنے ضمیر و عزت کو چوٹ پہنچانے والے آتنکی کو سزا دینے کی ہمت رکھتا ہے جسے عام طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ’سافٹ اسٹیٹ‘ مانا جاتا ہے۔ ویسے قصاب کے خاتمے میں عام بات جیسی کچھ نہیں ہے لیکن پچھلے برسوں میں بھارت میں سزا کا انتظار کررہے آتنکیوں کو سزا دینے کو لیکر جیسا لچر رویہ اپنایا جاتا رہا ہے اس لحاظ سے قصاب کی پھانسی پورے دیش کے لئے حیرت انگیز پر مبنی خوشی کی طرح ہے۔ اپنے اس ایک قدم سے حکومت نے خود پر لگ رہے دہشت گردی کے تئیں نرم رہنے کے الزام کو مسترد کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس سے دیش کے دشمنوں تک یہ سندیش بھی پہنچا ہوگا کہ وہ بھارت کو ’سافٹ اسٹیٹ‘ سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔ دہشت گردی سے مقابلہ قوت ارادی سے کیا جاسکتا ہے۔ بہتر ہوتا اس قوت ارادی کا مظاہرہ کرنے میں قباحت اور ہچکچاہٹ کا ویسا مظاہرہ کرنے سے بچا جاتا جیسا اب تک کیا جاتا رہا ہے۔جس کے سبب بھارت سرکار دنیا کی نظروں میں تو کمزور اقتدار کی شکل میں ابھری ہے۔ دیش واسیوں کے درمیان یہ ایک دبنگ کردار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اب سارے دیش کی نظریں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گورو پر ٹکی ہیں۔ بیشک اس لائن میں پنجاب کے وزیر اعلی بے انت سنگھ کے قاتل اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں پر بھی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں سب سے پہلے افضل گورو کو پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے۔ انہوں نے تو دیش پر حملہ کیا،دیش کی عزت کو ٹھیس پہنچائی۔ کسی غیر ملکی شخص کو نہیں اس لئے ان کا جرم زیادہ سنگین ہے۔ ممکن ہے کشمیر وادی میں اس کا تھوڑا بہت ردعمل سامنے آئے لیکن اس کو کنٹرول کرنے میں ہماری سکیورٹی فورس کافی ہے۔ ویسے بھی وادی میں بے چینی کی چھوٹی موٹی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ان سبھی کو پھانسی میں دیری ایک واحد وجہ اغراض پر مبنی سیاست کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ مجرم کسی نرمی اور رحم کے قابل نہیں انہیں سزا دینے میں اس لئے دیری ہورہی ہے کیونکہ کچھ سیاسی پارٹیاں انہیں لیکر سیاست کرنے میں لگی ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہوگا کہ افضل گورو اور دیگر دہشت گردوں کو سزا دینے میں ویسے ہی ہمت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے یا نہیں جیسا قصاب کے معاملے میں دکھایا گیا۔ اب قصاب کو سزا ملنے کے بعد بھارت کو اس کے آقاؤں تک پہنچنے کی پرزور کوشش کرنی چاہئے کیونکہ انہیں سبق سکھائے بغیر ممبئی حملے کے متاثرین کو انصاف ادھورا ہی رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ وقت چوکس رہنے کا بھی ہے ممکن ہے قصاب کے خاتمے کے بعد بدلا لینے کے مقصد سے پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے بھارت میں کسی واردات کو انجام دینے کی کوشش ہو۔ ضروری تو یہ ہے کہ چوکسی برتتے ہوئے قصاب سے شروع ہوا انصاف کا سلسلہ افضل گورو اور دیگر کی موت کی سزا پاچکے خطرناک آتنک وادیوں تک بھی پہنچے۔
(انل نریندر)

چین جھپٹ اب ایک منظم دھندہ بن گیا ہے

آج کل جرائم بھی ایک ہائی ٹیک بزنس ہوگیا ہے۔ دہلی این سی آر میں بائیکرس روزانہ درجنوں عورتوں سے چھینا جھپٹی کی واردات کو انجام دیتے ہیں۔ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ دہلی میں ہی ہورہی زیادہ تر واردات کے پیچھے مغربی یوپی کے بڑے گروہ کے ہاتھ ہیں جن کے نشانے پر زیادہ تر دہلی رہتی ہے۔ ان گروہ کی سالانہ مجمودی آمدنی کروڑوں میں ہے۔ چھینا جھپٹی میں ہتیائے گئے زیورات سستے داموں میں یہ گروہ مغربی یوپی کے سوناروں سے گلوادیتے ہیں۔ اس سے سوناروں کا تو فائدہ ہوتا ہی ہے گروہ کو بھی بھاری بھرکم رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے دہلی این سی آر میں جب چھین جھپٹ ماروں کو پولیس پکڑتی ہے تو ان سے برآمدگی برائے نام ہوتی ہے۔ سرغنوں کے اشارے پر گروہ کے افراد الگ الگ علاقوں میں ریکی کرتے ہیں اور پھر ہاتھ لگے جھپٹ ماری کی واردات کرکے فرار ہوجاتے ہیں۔ گروہ کے ہاتھ روزانہ ہی درجنوں طلائی چین اور دیگر زیورات و پرس لگ جاتے ہیں۔ ان کا باقاعدہ حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔ جی ہاں جھپٹ ماروں کو باقاعدہ مہینے کی تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔جو اس کام میں مہارت حاصل کرلیتا ہے اس کی تنخواہ 80 ہزار روپے مہینہ ہوجاتا ہے۔ اس کا خلاصہ دہلی این سی آر میں جھپٹ ماری کی سنچری بنا چکے وجیندر نے اسوقت کیا جب وہ نوئیڈا میں واردات کے بعد بھاگتے ہوئے لوگوں کے شکنجے میں آگیا۔ اس نے پولیس کے سامنے جو انکشاف کیا ہے پولیس والوں کے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ بے خوف ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر عورتیں ڈر اور اپنی عزت کی وجہ سے تھانوں کے چکر کاٹنے کی پریشانی سے بچنا چاہتی ہیں۔ پولیس کے ہاتھ آئے جھپٹ مار بجیندر کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چلا پچھلے سال غازی آباد میں کپڑا تاجر سے 2 لاکھ کی لوٹ میں وہ بھی شامل تھا ۔بجیندر دو بار جیل جاچکا ہے۔ بابوگڑھ تھانے میں گروہ ایکٹ میں بند اس جھپٹ مار کے اقبال نامے پر پتہ چلا کہ گروہ میں بھرتی کسی بھی ممبر کے پکڑے جانے پر اس گروہ کے آقا اپنا جگاڑ لگا کر اس کو ضمانت پر چھڑا لیتے ہیں۔ بجیندر کو پولیس معمولی جھپٹ مار سمجھ بیٹھی تھی لیکن اس کے پشت پر تو کئی بڑے گروہ کا ہاتھ ہے۔ اس نے بتایا جھپٹ ماروں کی قد اورکاٹھی اورا ن کی پھرتی کو دیکھ کر تنخواہ طے کی جاتی ہے۔ فریشر کو ہر مہینے تقریباً30 ہزار روپے ملتے ہیں۔اس کے بعد جیسا جھپٹ ماری کا تجربہ بڑھتا اسی کے حساب سے تنخواہ بڑھتی جاتی ہے۔ جھپٹ ماروں کو تو 50 ہزار روپے تک کی ادائیگی گروہ کرتا ہے۔ اس کے مطابق لوٹی گئی ڈیڑھ سے دو تولے کی چین کی قیمت 50 سے80 ہزا رروپے کی ہوتی ہے۔ ایک دن میں دوچار چینیں اڑا لیں تو لاکھوں روپے کی انکم سرغنوں کو ہوتی ہے۔ گروہ کے افراد کو ایریا بانٹے گئے ہیں۔ ان کی ہر ہفتے کی شفٹ بدل دی جاتی ہے۔ مثلاً بائیک سوار دو جھپٹ مار ایک ہفتے غازی آباد علاقہ دیکھ رہے ہیں تو وہ اگلے ہفتے مشرقی دہلی یا ساؤتھ دہلی بھیج دئے جاتے ہیں۔ ان کی جگہ دوسرے ممبر کو شفٹ مل جاتی ہے۔ گروہ میں فریشر سمیت تقریباً30 ممبر ہیں ان کے مطابق گروہ میں شامل زیادہ تر ممبر مشرقی دہلی، نوئیڈا، غازی آباد ، لونی، کھوڑا کالونی، ہاپوڑ، بلند شہر اور سکندر آباد کے ہیں جو اچھی طرح علاقے کی جغرافیائی پوزیشن سے واقف ہیں۔ کم سے کم روزانہ دوچار چین جھپٹناگروہ کے ہر ممبر کو باقاعدہ نشانہ دیا جاتا ہے۔
(انل نریندر)

22 نومبر 2012

کیاراہل دلدل میں پھنسی کانگریس کو باہر نکال پائیں گے؟

کانگریس پارٹی میں راہل گاندھی کا 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں بڑا کردار ہوگا۔ یہ کانگریس تال میل کمیٹی کے حال میں تشکیل سے صاف ہوگیا ہے۔ کانگریس تال میل کمیٹی کا راہل کو چیئرمین بنایا گیا ہے اور ان کی ٹیم کو ترجیح دی گئی ہے۔ ہائی پاور اس ٹیم کے دیگر ممبران سے پتہ چلتا ہے کہ اس کمیٹی کو ہی لوک سبھا کے چناؤ جیتانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ٹیم میں احمد پٹیل، جناردن دویدی و دگوجے سنگھ ایسے چہرے ہیں جس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ کمیٹی کو پارٹی صدر سونیا گاندھی کا پورا آشیرواد ہے۔
کمیٹی کی تشکیل سے یہ بھی صاف ہوگیا ہے کہ سونیا گاندھی کے بعد سب سے اہم شخصیت راہل گاندھی ہیں۔ یوں پارٹی میں ان کی اہمیت کو لیکر کوئی غلط فہمی نہیں رہی ہے لیکن رسمی طور پر ان کی سرگرمی پردے کے پیچھے اور نوجوان اور طلبا یونین میں زیادہ رہی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی کہ راہل گاندھی کو تنظیم میں زیادہ بڑی ذمہ داری ملے گی۔ اب امیدوار کے انتخاب سے لیکر تمام چناؤ مہم چلانے کا ذمہ انہیں سونپ کر کانگریس نے اپنی پالیسی واضح کردی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا چہرے بدلنے سے کانگریس کا مستقبل روشن ہوجائے گا؟ راہل گاندھی کو چناؤ جیتانے کا ٹریک ریکارڈ بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزاء نہیں رہا۔ بہار۔ اترپردیش میں ان کی رہنمائی میں پارٹی کا کیا حال ہوا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر منموہن سنگھ سرکار کی پالیسیاں نہیں بدلیں توشاید راہل بھی فیل ہوجائیں گے۔ آج پارٹی اور سرکار دونوں ہی عام آدمی سے کٹ چکے ہیں۔ لوگ کرپشن، مہنگائی ، بے روزگاری سے پریشان ہیں جب تک انہیں ان معاملوں میں راحت نہیں ملتی ہمیں نہیں لگتا کہ کانگریس کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ لیکن راہل کو آگے بڑھانے سے دو باتیں ان کے حق میں ضرور جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ نہرو گاندھی پریوار کی وجہ سے کانگریسیوں کی درپردہ وفاداری ان کے ساتھ ہوگی۔دوسری طرف 2009 ء کے چناؤ کے بعد جیسی امیدیں اور چناؤ مہم ان کے ساتھ جڑی تھی اب وہ نہیں ہوگی۔ 2009ء کے بعد وہ درمیانے طبقے کے ہیرو تھے تمام نوجوان ان میں اپنا لیڈر دیکھ رہے تھے۔ اب ایسا نہیں اس لئے کے وہ بغیر کسی بوجھ کے کام کرسکتے ہیں۔ اب انہیں توقعات کی چکا چوند نہیں گھیرے گی۔ راہل گاندھی کو سونپی گئی نئی ذمہ داری اور کانگریسی ورکر کے عام جذبے کو ہی عکاسی کرتی ہے لیکن یہ ان کی سب سے بڑی چنوتی اور آزمائش بھی ہوگی کیونکہ کانگریس اپنی تاریخ میں شاید اب تک کی سب سے مشکل چنوتی کا سامنا کرنے جارہی ہے۔ کیا راہل گاندھی کی لیڈرشپ اگلے عام چناؤ میں کھرا یا امیدوں کے مطابق ثابت ہوگی؟ جہاں تک پالیسیوں اور اشوز کا سوال ہے ابھی تک تو راہل گاندھی نے کوئی واضح اشارہ نہیں دئے ہیں و۔ وہ اپنی پسند یا سہولت سے کسی اشوز کو اٹھاتے ہیں اور پھر اسے بیچ میں ہی چھوڑدیتے ہیں۔ چناؤ میں راہل گاندھی پارٹی کو کتنی کامیابی دلا پائیں گے یہ تو بعد میں ہیں پتہ چلے گا۔لیکن انتخاباتی مہم کی باگ ڈور تھام کر وہ منموہن سنگھ سرکار کے کام کاج کی جوابدہی سے بچ نہیں سکتے۔ وہ کامیاب ہوتے ہیں تو ساری دنیا ان کے گن گائے گی لیکن ہارتے ہیں تو شاید کانگریس کا نقشہ ہی بدل جائے۔
(انل نریندر)

اترپردیش میں مسلسل بڑھتے عورتوں سے چھیڑ خانی اور بدفعلی کے واقعات

اترپردیش میں قانون و نظم کا سسٹم مسلسل بگڑ رہا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ اس اکھلیش یادو کی سرکار کی قانون و انتظام پر پکڑ ڈھیلی ہوتی جارہی ہے۔ مانو دبنگوں کو دبنگی کرنے کا لائسنس مل گیا ہو۔ آئے دن اخبارات میں اترپردیش کسی نہ کسی گوشے میں پریشانی بڑھانے کی خبر آتی رہتی ہے۔ حال ہی میں خبر آئی سہارنپور کمشنری میں کمزور طبقے ہی طالبات اور عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ،بدفعلی اور تشدد کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں جس طرح ملالہ طالبانی تشدد کا شکار ہوئی ہے، ٹھیک اسی طرح شہر میں طالبات کو پریشانی جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ان کے رشتے دار انہیں اسکول جانے سے روک رہے ہیں۔
حکیم پورہ میں پانچ سال کی دلت طالبہ ٹینا (نام تبدیل) کے ساتھ پڑوسی لڑکے نے باتھ روم میں اس وقت بدفعلی کی جب وہ ٹی وی دیکھنے آئی تھی۔ اس سے پہلے بیہیٹ تھانے کے گاؤں گھروندی کی 28 سالہ مسلم عورت شیبہ (نام تبدیل) کو اغوا کر اجتماعی بدفعلی کی گئی، ملزم فرار ہیں۔ دودلی کی باشندہ معزور لڑکی مینو کی گردن کٹی لاش گنے کے کھیت سے برآمدہوئی ہے۔ اس کے ساتھ بھی اسی طرح کا واقعہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یکسرائے میں 11 سال کی دلت لڑکی مونیکا کو دو لڑکوں نے اغوا کرکے اس کو بے ہوش کیا اور اس کے ساتھ بدتمیزی کی۔ گنگو میں شام کو دوکان پر سامان لینے آئی 15 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ دو لڑکوں نے بدفعلی کی۔ 9 اگست کو دیوبند علاقے کے گاؤں بیہڑا میں 14 سال کی ویرا گپتا کی اجتماعی بدفعلی کرنے کے بعد اسے مار دیا گیا۔ ایسے بہت سے معاملے سامنے آئے ہیں۔ میں نے کچھ واردات کا حوالہ دیا ہے۔ یہ سبھی واقعات وزیر اعلی اکھلیش یادو کی سرکار بننے کے بعد رونما ہوئے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے اس سرکار میں ملزمان کے حوصلے کتنے بلند ہوئے ہیں۔
گذشتہ28 اکتوبر کو سہارنپور میں خواتین تشدد کے خلاف احتجاج میں ایک کانفرنس ہوئی تھی۔ اس میں سماجی تنظیموں سروکار، ناری سنسد، وومن اگینسٹ سیسول ہیرسمنٹ ایکشن انڈیا، گیان گنگا شکشا کمیٹی وغیرہ وغیرہ کے ورکروں نے عورت پر بڑھتے تشدد پر تشویش ظاہر کی ہے۔ مہیلا تشدد کا سب سے برا اثر یہ ہوا کہ کئی خاندانوں نے بیٹیوں کو اسکول تک جانے سے روکنا شروع کردیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ زیادہ تر معاملوں میں پولیس نے کارروائی تو کی لیکن سرکار اور پولیس انتظامیہ کے لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے حال ہی میں ریاست کے قانون و انتظام کو بہتر بنانے میں کچھ افسروں اور میڈیا کے ایک طبقے کو توقع کے مطابق مدد نہ ملنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ان کی سرکار باقی مورچے پر بہتر تال میل قائم کرپا رہی ہے لیکن قانون و انتظام کا راج قائم کرنے کے معاملے پر ابھی کوئی کمی رہ گئی ہے۔ وزیر اعلی لکھنؤ میں عورتوں کے لئے ہیلپ لائن سیوا1090 شروعات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا سب سے زیادہ الزام اترپردیش کے قانون و نظم کو لے کر لگ رہے ہیں۔ ہم تمام چیزوں پر تال میل کر پا رہے ہیں لیکن لا اینڈ آرڈر کے معاملے میں ایسا نہیں ہوپارہا ہے۔ پولیس میں اچھے لوگ بھی ہیں لیکن کہیں نہ کہیں کچھ کمی بھی ہے۔
(انل نریندر)

21 نومبر 2012

نریندرمودی نے تھری ڈی استعمالسے ایک ساتھ چار شہروں کو خطاب کیا

گجرات اسمبلی چناؤ ہونے جارہا ہے پولنگ13 اور 17 سمبر کو ہونی ہے۔ چناؤ بیشک گجرات کا ہے لیکن اس چناؤ پر سارے دیش کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں لیکن دیش کے مستقبل کی سیاست کی سمت کو طے کرسکتی ہے۔ گجرات میں بھاجپا کا اہم مقابلہ کانگریس سے ہے۔ گجرات کے مقبول ترین وزیر اعلی نریندر مودی کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر وہ یہاں سے کامیاب ہوتے ہیں اور اچھے مارجن سے جیتتے ہیں تو نہ صرف بھاجپا کو نئی طاقت ملے گی بلکہ ممکن ہے نریندر مودی مرکزی منظر پر آجائیں اور 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے وزیر اعظم کے امیدوار بن جائیں۔ اس نکتہ نظر سے یہ چناؤ نریندر مودی کے لئے جینے مرنے کا سوال بن چکے ہیں۔ نریندر مودی نے گجرات اسمبلی چناؤ2012 ء کی چناؤ مہم کو ایک نیا ٹرینڈ دے دیا ہے۔ بھاجپا کے پوسٹر بائے نریندر مودی ایتوار کو تھری ڈی کے اوتار میں نظر آئے۔ دراصل مودی نے اس تکنیک کی مدد سے احمد آباد، سورت، راجکوٹ اور بڑودہ میں ایک ساتھ چار چناوی ریلیوں کو خطاب کیا ۔اس میں مودی کا پہلے سے ریکارڈنگ پیغام بھی دکھایا گیا۔ ہائی ٹیک ٹکنالوجی کی مدد سے ایسا احساس ہورہا تھا کہ مانو مودی خود چاروں مقامات پر موجود ہیں اور خود اسٹیج سے خطاب کررہے ہیں۔ تھری ڈی کے ذریعے چناؤ مہم کا یہ طریقہ دیش کے لئے بالکل نیا ہے۔ دنیا میں صرف دو موقعوں پر پہلی بار پرنس چارلی کے ذریعے اور دوسری بار امریکی چناؤ میں الگور کے ذریعے اس کا استعمال کیا گیا تھا۔ دیش کی سیاست میں اسے لانے کا سہرہ یقینی طور سے نریندر مودی کو جائے گا۔ آخر کیا ہے تھری ڈی اسٹیج؟ کس طرح کام کرتا ہے، کیسے اس کے ذریعے ایک ساتھ چار پانچ ریلیاں کی جاسکتی ہیں؟ الفاظ میں بتانا مشکل ہے لیکن موٹے طور پر پروجیکٹر سے مودی کے فوٹو سرفیس سے ٹکراٹی ہے جو اسٹیج پر 45 ڈگری اینگل پر دکھائی پڑتی ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ خاص چشمے کے بغیر تھری ڈی ای فیکٹر کو نہیں دیکھا جاسکتا لیکن ہولوگرافک فائل کی مدد سے بغیر چشمے کے یہ ممکن ہوا ہے۔ اسٹیج پر پلاسٹک سیٹ کی طرح شفاف اسکرین لگائی جاتی ہے جس پر ریلیکٹو سرفیس سے امیج بنتی ہے۔ پہلے تھری ڈی اسٹیج سے نریندر مودی نے کہا کہ گجرات کی 6 کروڑ عوام رام ہے اور میں ان کا وانر۔ مجھے موقعہ ملا ہے کہ میں ہنومان کی طرح ان کی سیوا کروں۔ موصولہ اشاروں اور سروے سے یہ ہی پتہ چلتا ہے کہ نریندر مودی کی کامیابی یقینی لگتی ہے۔ اب اگر مودی 120 سے زیادہ سیٹیں لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو قومی سطح پر 2014ء کی لڑائی مودی بنام راہل ہوجائے گی۔ اگر 110 سے کم سیٹیں آتی ہیں تو مودی کو بھاجپا کے اندر سے چنوتی مل سکتی ہے۔ ان کے گجرات ڈولپمنٹ ماڈل پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس صورت میں کیا اگلی لڑائی مودی بنام راہل کی شکل لے گی؟ ہاں اگر100 سے105 سیٹوں تک بھاجپا سمٹ جاتی ہے تو اس کے مودی کے لئے منفی نتیجے سامنے آسکتے ہیں اور مودی کی شخصی پوزیشن دونوں ریاست اور مرکز میں کمزور ثابت ہوگی۔ لیکن ابھی وقت ہے چناؤ میں روزمرہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔
(انل نریندر)

اسرائیل بنام حماس لڑائی خطرناک موڑ پر

مشرقی وسطیٰ میں غزہ پٹی اور اسرائیل میں پچھلے کئی دنوں سے لڑائی خطرناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے۔ گذشتہ دنوں فلسطینیوں کٹر پنتھیوں نے یروشلم پر ایک راکٹ حملہ کیا۔ فلسطینی تنظیم حماس نے کہا اس راکٹ کا نشانہ اسرائیل پارلیمنٹ تھا۔ پچھلی کئی دہائی میں پہلی بار ہے کہ یروشلم کو نشانہ بنایا گیا ہے اور غزہ پٹی سے اس طرح کا یہ پہلا حملہ تھا۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پانچویں دن غزہ علاقے میں زمین اور سمندر سے مزائل حملے کئے۔ اس میں چار بچوں سمیت18 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ اب تک اسرائیلی حملوں میں 100 سے زائد جانیں جا چکی ہیں۔ یہ حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر داخلہ ایلم مشائی نے کہا کہ تبھی ہم 40 سال تک پر امن رہے ۔ اسرائیل کے ہوائی حملوں میں میڈیا کے دفتروں کی عمارتیں بھی زد میں آگئیں ہیں اور8 فلسطینی صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ میں حماس کی جانب سے کئے گئے دو راکٹ حملوں کو اسرائیل کی میزائل روک سسٹم نے ناکام کردیا۔ اسرائیلی حملے میں حماس کے کمانڈر کے مارے جانے کے بعد سے اسرائیل اور حماس میں لڑائی تیز ہوگئی ہے۔ سرحد پر اسرائیلی فوج کی بڑی موجودگی دکھائی پڑتی ہے۔ اس سے زمینی حملے کے بھی امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ برطانیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو بین الاقوامی حمایت بند ہوسکتی ہے۔ مصر نے بھی اس کے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔ وہیں امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے کہا کہ وہ بیچ بچاؤ کرانے کے اسرائیل کے حق کا احترام کرتے ہیں۔ ایتوار کا دن پچھلے ہفتے شروع ہوئی اس لڑائی کے بعد سے زیادہ خطرناک دن رہا۔ یہ حملے حماس کے کمانڈر کو نشانہ بنا کر کئے گئے تھے لیکن اس میں کمانڈر کے ساتھ ساتھ دو بچوں کی بھی جان چلی گئی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حملے اور تیز کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اس درمیان حماس کے کٹر پنتھی بھی جوابی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب راکٹوں سے کئی حملے کئے ہیں۔ سبھی طرف سے جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا ایک نمائندہ اس بارے میں بات چیت کرنے کے لئے قاہرہ گیا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکمون بھی قاہرہ پہنچنے والے ہیں جبکہ عرب لیگ کا ایک نمائندہ وقت غزہ پٹی کا دورہ کرنے والا ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے حماس اور اسرائیل کی طرف سے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور دونوں ہی یہ مان رہے ہیں کہ فرق بس اتنا ہے کہ اسرائیل ڈیفنس فورس اسے دہشت گردی ٹھکانوں پر کیا گیا حملہ مانتی ہے اور حماس سمیت عرب دنیا اسے تمام کٹر پسند تنظیم غزہ کے بے قصور لوگوں کے خلاف حملہ مان رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کی جانب سے اپنائی جارہی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید غلط ہوگا کہ اس صورتحال کے لئے کوئی ایک قصوروار ہے۔ موصولہ اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ سارا معاملہ حماس کے ذریعے یروشلم پر راکٹ داغنے سے شروع ہوا اور اپنی سرزمین کی حفاظت کرنے کے لئے اسرائیل نے جوابی کارروائی کی ہے۔ ضروری ہے کہ یہ لڑائی رکنی چاہئے۔ اگر نہیں رکی تو یہ خطرناک شکل اختیارکرلے گی۔ ورنہ اگر اسی طرح کی لڑائی چلتی رہی تو یہ قابو سے باہر ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

20 نومبر 2012

دال مونٹھ بیچنے سے 6 ہزار کروڑ روپے کا سامراجیہ کھڑا کرنے والے پونٹی چڈھا

شمالی ہندوستان کے بڑے اور ریئل اسٹیٹ کاروباری گوردیپ سنگھ چڈھا عرف پونٹی چڈھا(55 سال) ان کے بھائی ہردیپ سنگھ چڈھا قتل کانڈ نے سبھی کو چونکا دیا ہے۔ ایک ریڑھی پر نمکین سامان بیچنے والا پونٹی چڈھا دیکھتے دیکھتے اربوں کا مالک بن گیا۔ لیکن دھن دولت کے لالچ نے بھائی بھائی کو مروادیا کیونکہ یہ اتنا بڑا حادثہ ہے کہ اس کی ساری تفصیلات آنے میں وقت لگے گا لیکن جو کہانی اب تک چل رہی ہے وہ کچھ ایسی ہے ۔تقریباً7 ایکڑ رقبے میں پھیلے فارم ہاؤس نمبر40 سے42 ڈی ایل ایف ،ایک فارم سینٹرل ڈرائیور کی پراپرٹی کو لیکر دونوں بھائیوں میں جھگڑا جاری تھا۔ اس کے علاوہ بھی باقی پراپرٹی کو لیکر بھی دونوں بھائیوں میں تنازعہ چل رہا تھا۔ سنیچر کے واقعہ سے پہلے 5 اکتوبر کو مراد آباد میں چڈھا گروپ کے پشتینی کوٹھی میں فائرنگ ہوئی ہے لیکن دوچار فون کالوں سے معاملہ دبادیا گیا۔ اگر اسی دن معاملے کی گہرائی تک پہنچا جاتا تو شاید سنیچر کا یہ حادثہ ٹل جاتا؟ خیر! سنیچر کو اس تنازعے نے جو خطرناک شکل اختیار کی اس فارم ہاؤس کا معاملہ ہائی کورٹ میں چل رہا تھا۔ ایک دو دن کے اندر ہی کورٹ کی جانب سے تشکیل کمیٹی کے ممبران نے اس پراپرٹی کو دیکھنے آنا تھا۔ کمیٹی دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر کہاں پر کس کا قبضہ ہے۔ مانا جاتا ہے کہ دونوں فریق پراپرٹی کو اپنے قبضے میں دکھانا چاہتے تھے جس کا نتیجہ سنیچر کو فائرننگ اور دونوں بھائیوں کی موت کی شکل میں سامنے آیا ۔ یہ پراپرٹی ان تینوں بھائیوں میں سب سے چھوٹے بھائی ہردیپ کے قبضے میں تھی۔ اسی دن صبح ہردیپ کہیں گیا ہوا تھا کہ پیچھے سے دن میں تقریباً ساڑھے گیارہ بجے پونٹی فارم ہاؤس پہنچے۔ وہ اپنے ساتھ 10-12 گاڑیاں بھر کر ہتھیار بند مسلح افراد لے گئے تھے جن کی تعداد 50 بتائی جاتی ہے۔ واقعہ کے وقت اتراکھنڈ اقلیتی کمیشن کے چیئرمین سکھدیو سنگھ بھی موجود تھے۔ فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوتے ہی ان لوگوں نے وہاں کے کمروں میں تالے لگانے شروع کردئے۔ جو لوگ وہاں موجود تھے انہیں ڈرا دھمکا کر باہر نکل دیا گیا۔ یہ دیکھ ہردیپ کے ایک ملازم نے انہیں ٹیلی فون پر خبر کردی۔ فارم ہاؤس کے کمروں میں تالے لگانے کے بعد پونٹی اپنے لوگوں کے ساتھ پیچھے کے راستے سے منڈی روڈ کی طرف والے دروازے سے باہر نکلنے لگے۔ اسی راستے سے ہردیپ بھی داخل ہورہے تھے۔ ہردیپ کے ساتھ ان کے تین سکیورٹی گارڈ بھی تھے تبھی دونوں کا آمنا سامنا ہوگیا۔ دونوں کے بیچ کہا سنی شروع ہوئی وہ اتنی بڑھ گئی کہ پہلے ہردیپ نے اپنی لائسنس پستول نکال کر بڑے بھائی پونٹی پر فائر کردیا ۔ یہ دیکھ پونٹی کے پانچ سکیورٹی گارڈوں نے ہردیپ پر گولیاں داغنا شروع کردیں۔ دونوں طرف سے فائرننگ شروع ہونے پر دونوں گروپوں کے لوگ ادھر ادھر بھاگ پڑے۔پیڑوں کی آڑ میں چھپنے لگے۔ اس واردات میں پونٹی چڈھا کو12 گولیاں لگیں اور اس کے بھائی ہردیپ کو چار گولیاں لگیں۔ اس کے علاوہ نریندر نام کے شخص جو ابھی زخمی ہے کو بھی تین گولیاں ماری گئی ہیں۔ اس کا آپریشن ہوا ہے۔ نریندر پونٹی کا منیجر ہے۔ فارم ہاؤس کے اندر تقریباً آدھے گھنٹے تک دونوں طرف سے 40-45 گولیاں چلیں۔ واردات میں زخمی پونٹی کے لوگ اسے زخمی حالت میں وسنت کنج کے ہسپتال لے گئے جہاں اسے مردہ قرار دے دیا۔ ہردیپ نے موقعہ پر ہی دم توڑ دیا۔ 
ساؤتھ ویسٹ زون کے جوائنٹ کمشنر پولیس وویک گوگیانے بتایا سنیچر کی صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے دونوں بھائیوں کی ملاقات ہونی تھی۔ ملاقات میں دونوں فریق کے قریب تین درج سے زائد لوگ موجود تھے۔ اسی دوران ساڑھے بارہ بجے دونوں بھائیوں میں ٹکرار ہوئی اور ہردیپ نے پونٹی پر فائرننگ کردی۔انہوں نے قریب ایک درجن گولیاں ماریں۔ جوابی کارروائی میں پونٹی کے گارڈ نے بھی گولیاں داغیں۔ ہردیپ کو چار گولیاں لگیں جس وجہ سے اس کی موقعہ پر ہی موت ہوگئی۔پون بجے پی سی آر کو اس واردات کی خبر دی گئی۔ اطلاع کے بعد قریب سوابجے پی سی آر کی گاڑی فارم ہاؤس پہنچی۔ ہردیپ کو پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی قریب ایک بجے وسنت کنج میں فورٹیز ہسپتال لے جایا جاچکا تھا جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کو ہی مرا ہوا قرار دے دیا۔ پولیس کو فارم ہاؤس کے باہر ایک اسکورپیو کار بھی ملی ہے۔ واردات کے بعد پولیس نے فارم ہاؤس کو سیل کردیا ہے۔ فارم ہاؤس سے دو پستول، اے کے47 رائفل اور کچھ غیر مستعمل کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔ یہ قتل کانڈ کسی گہری سازش کا نتیجہ تھا یا پھر موقعہ پر آئے غصے کا نتیجہ؟ سب سے پہلے تو پولیس کو یہ پتہ کرنا ہوگا کہ کس کو کونسی گولی لگی اور وہ کس ہتھیار سے فائر کی گئی؟ اس سلسلے میں بیلسٹک رپورٹ اہم ثابت ہوگی۔ پوسٹ مارٹم کے دوران دونوں بھائیوں کے جسم سے نکالی گئی گولیوں کو بیلسٹک ماہر کے پاس بھیجا جائے گا۔ رپورٹ سے کئی ان سلجھے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔ اس کے جواب اور اس قتل کانڈ کی گتھی کو سلجھانے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مثلاً پونٹی چڈھا اور ہردیپ چڈھا کے جسم میں موجودہ گولیاں کتنے ہتھیاروں سے چلیں؟ ہتھیاروں کی تعداد کا اندازہ لگانا آسان ہوگا کہ قتل کانڈ میں کتنے حملہ آور ملوث تھے۔ دہلی پولیس کو یہ بھی پتہ لگایا ہوگا کہ دونوں بھائیوں کے درمیان کن کن باتوں کو لیکر اختلاف تھا؟کچھ دن پہلے پونٹی چڈھا کے یہاں انکم ٹیکس محکمے کے چھاپے پڑے تھے۔ جس طرح کی پختہ جانکاری انکم ٹیکس پارٹی کو تھی وہ کوئی اندر کا ہی آدمی دے سکتا تھا۔ پونٹی کو بھائی ہردیپ پر شبہ تھا۔ فارم ہاؤس میں زخمی ہوئے گارڈ سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔
پولیس نے موقعہ واردات پر موجود نوکروں کو بھی حراست میں لیا ہے اور پورے واقعے کے بارے میں جاننے کی کوشش چل رہی ہے۔ ہردیپ چڈھا کے اسٹاف نے پولیس کو بتایا کہ جمعہ کی رات اسی فارم ہاؤس میں دونوں بھائیوں کے درمیان لمبی ٹکرار ہوئی تھی۔ پونٹی ہمیشہ لو پروفائل کے ہائی کلاس آپریٹر رہے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انہیں پتنگ بازی کا بھی شوق تھا۔ جب وہ 10 ویں کلاس میں پڑھا کرتے تھے تو پتنگ بازی کے دوران کرنٹ کی ضد میں ہاتھ آگیا تھا۔ جس وجہ سے ان کے آپریشن کے دوران ان کا بایاں ہاتھ اور دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو کاٹنا پڑا تھا۔ اس قتل کانڈ کے اتنے چشم دید گواہ ہیں کہ یہ تو پتہ چل جائے گا کہ سنیچر کو فارم ہاؤس میں کیا ہوا تھا؟
(انل نریندر)

18 نومبر 2012

کیا اس اجلاس میں یوپی اے ایف ڈی آئی تجویز پاس کرا پائے گی؟

22 نومبر سے پارلیمنٹ کا سرماہی اجلاس شروع ہونے جارہا ہے یہ کئی معنوں میں بہت اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ منموہن سنگھ سرکار کے لئے یہ اگنی پریکشا بھی ہوگا۔ حکومت نے صاف اشارے دئے ہیں کہ وہ خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی تجویز پاس کرانا چاہ رہی ہے اس مسئلے پر اپوزیشن متحدہورہی ہے۔ پچھلے دو مہینے سے اپوزیشن پارٹیاں اپنی مخالفت ظاہر کرتی آرہی ہیں۔ بھاجپا لیفٹ پارٹیاں ترنمول کانگریس کے ممبران نے ووٹنگ قواعد کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ایف ڈی آئی کے اشو پر بحث کرانے کے لئے نوٹس دئے ہیں۔ اگرلوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین منظور کرلیتے ہیں تو حکومت کی اگنی پریکشا کافی سخت ہوسکتی ہے۔ تمام اپوزیشن پارٹیاں آپسی اختلافات کے باوجود اس مسئلے پر ایوان میں سرکار کی خبر لینے کے لئے ایک نظر آرہی ہیں۔ وہیں سرکار کو باہر سے حمایت دے رہی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ ڈی ایم کے جیسی یوپی اے کی اتحادی پارٹی نے بھی ایف ڈی آئی پر اپنے پتے کھول کر کانگریس کے لئے مصیبتیں بڑھا دی ہیں۔ ترنمول کانگریس تو اسی مسئلے پر یوپی اے سرکار سے علیحدہ ہوچکی ہے۔ اب بدلے ہوئے کردار میں اس نے سرکار کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنا لی ہے۔ اسی کے تحت اس پارٹی کے ایم پی شتابدی رائے نے قاعدہ 184 کے تحت ایف ڈی آئی کے اشو پر لوک سبھا میں بحث کرانے پر بدھوار کو نوٹس دے دیا ہے۔ بھاجپا، جنتا دل (یو) اور سی پی ایم کے ممبران نے بھی اسی طرح کا نوٹس راجیہ سبھا اور لوک سبھا سیکریٹریٹ کو دئے ہیں۔ سی پی ایم کے نیتا یوپی اے کی اتحادی پارٹیوں کے لیڈروں کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ایف ڈی آئی کے خلاف ریزولوشن پاس ہونے سے سرکار نہیں گرے گی۔ بس ان کی سیاسی فضیحت ہوگی۔ ایسے میں وہ لوگ سرکار کو ضروری سبق پڑھانے کے لئے اس پہل کی آرام سے بلا شبہ حمایت کرسکتے ہیں۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز اپوزیشن کی گھیرا بندی کو سمجھ رہے ہیں اور جوابی حکمت عملی بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس کام کا خود بیڑا اٹھایا ہے۔ منموہن سنگھ نے سپا ،بسپا اور نیشنل کانفرنس جیسی اتحادی پارٹیوں کے لیڈروں کو الگ الگ سے اسی مقصد سے ڈنر دیا تھا۔ منموہن سنگھ نے پچھلے ہفتے سپا چیف ملائم سنگھ اور ان کے بیٹے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو رات کے کھانے پر بلایا۔ اس کے بعد ایتوار کو بسپا چیف مایاوتی کو دن میں بلایا۔ پارلیمنٹ میں ایف ڈی آئی مسئلے پر اپوزیشن کی جانب سے کراس ووٹنگ کی سہولت والے قاعدوں کے تحت چلیں یا عدم اعتماد کی تجویز لائے جانے کو لے کر اندیشے میں مبتلا وزیر اعظم اتحادی پارٹیوں اور سرکار کو باہر سے حمایت دے رہی پارٹیوں سے تال میل بٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ہی نہیں وزیر اعظم نے تو اسی مہینے کی 22 تاریخ کو اجلاس میں ماحول ٹھیک رکھنے کے لئے بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کے سینئر لیڈروں کو بھی ڈنر کے لئے مدعو کیا ہے۔ اس ڈنر کے لئے شری لال کرشن اڈوانی، سشما سوراج اور ارون جیٹلی کو بلایا گیا ہے۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات منیش تیواری کا دعوی ہے کہ تمام سیاسی چیلنجوں کو کامیابی سے ہم جھیل چکے ہیں۔ ایسے میں ایف ڈی آئی کے مسئلے پر بھی سرکار اپوزیشن کی چنوتیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ ضرورت پڑنے پر دکھا دیا جائے گا کہ اکثریت کا نمبر اس مسئلے پر بھی اسی کے ساتھ ہے۔ لوک سبھا میں 545 ممبران میں ڈی ایم کے سمیت265 ممبران کی یوپی اے کو حمایت حاصل ہے۔ اگر 22 ممبران والی سماجوادی پارٹی اور 21 ممبران والی بی ایس پی کی حمایت اسے مل جاتی ہے تو اس ایوان میں اس کے حمایتی ممبران کی تعداد 300 کو پار کرجائے گی۔ لوک سبھا میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے 273 ممبران کی حمایت چاہئے۔ کانگریسی لیڈر بڑھ چڑھ کر دعوی کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ اپوزیشن کی کوششوں نے یوپی اے سرکار کے سامنے ایک پہاڑ جیسی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ یہ اجلاس یوپی اے سرکار کے لئے اگنی پریکشا ثابت ہوگا۔
(انل نریندر)

تاریخی گورودوارہ رکاب گنج صاحب میں تلواریں چلیں اور خون خرابہ

یہ دکھ کی بات ہے کہ نئی دہلی میں واقعہ تاریخی گورودوارہ رکاب گنج صاحب میں جمعرات کو تلواریں چل گئیں اور خون خرابہ ہوا۔ رکاب گنج صاحب کی تعمیر 1783ء میں ہوئی تھی ۔ اسے تیار کرنے میں کل12 برس لگے۔ مغل حکمراں شاہ عالم دوم نے رائے سیناہلس کے اس حصے میں گورودوارے کی اجازت دی تھی۔ سکھوں کے نویں گورو تیغ بہادر کے چیلے لکھی شاہ کی یاد میں اس مقام پر بعد میں گورودوارہ بنانے کی بات ہوئی۔ موجودہ گورودوارے میں دہلی سکھ مینجمنٹ کمیٹی کا ہیڈ کوارٹر بھی بنا ہوا ہے۔ اس کمیٹی کے چناؤ کرانے و کئی اشوز کو لیکرطویل عرصے سے جاری سرنا و بادل گروپ کے جھگڑے نے جمعرات کو خونی شکل اختیار کرلی۔ کمیٹی کی ورکنگ کمیٹی میں سرنا گروپ نے بادل گروپ کے عہدے داران کو شامل ہونے سے روکا تو دونوں طرف سے تلواریں نکل آئیں۔ اس وقت گورودوارہ کمیٹی پر مجیت سنگھ سرنا کی قیادت والی دہلی اکالی دل کی اکثریت ہے۔ جی ایس جی پی سی سی میں ٹکراؤ کی وجہ سے اب سرنا اور کمیٹی کے جنرل سکریٹری گورجیت سنگھ شنٹی کے بیچ پیدا ہوئے اختلافات ہیں۔ ڈی ایس جی پی سی سی کے آئین کے مطابق پردھان ہر دو سال بعد جنرل سکریٹری کی تقرر کر سکتا ہے۔ گورودوارہ کمیٹی کے چناؤ ہر چار سال بعد کرائے جاتے ہیں لیکن اب چھ سال ہوچکے ہیں۔ پہلے دو سال بلبیر سنگھ ،وویک وہار جنرل سکریٹری تھے لیکن اس کے بعد شنٹی کو جنرل سکریٹری بنا دیا گیا۔ اس شنٹی کو ہٹانے کی تیاری چل رہی ہے لیکن پیچ یہ ہے کہ ڈی ایس جی پی سی سی کی میٹنگ بلانے کا اختیار بھی جنرل سکریٹری کو ہی ہے۔ وہ میٹنگ بلانے کے لئے تیار نہیں ہوں گے اس لئے سرنا نے اپنے ایک جوائنٹ سکریٹری کے اختیار بڑھا کر جنرل سکریٹری کو دے دئے ہیں۔
وہ میٹنگ بلا کر شنٹی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ جس کی مخالفت شنٹی گروپ کرے گا۔ اسی مسئلے پر اس سال مارچ میں بالا جی گورودوارے میں بھی خون ریزی ہوچکی ہے۔ گورودوارہ کمیٹی کا نیا چناؤ 31 دسمبر سے پہلے کرانے کے کورٹ کے آرڈر کو لے کر بھی شش و پنج کی حالت بنی ہوئی ہے کیونکہ دہلی سرکار نے پردھان کا چناؤ سیدھے کرانے کے پرستاؤ کو منظوری دے دی ہے۔ ابھی مرکز کو اس پر اپنی مہر لگانی ہے۔ اس سے پہلے چناؤ کرانا ممکن نہیں ہے۔ جمعرات کو قریب آدھے گھنٹے تک تلواریں ، لاٹھی ،ڈنڈے، بھالے ،ایک دوسرے پر اینٹ پتھر اور گملے پھینکے گئے۔ گورودوارے کے آفس کے شیشے توڑ دئے گئے۔ اس واقعہ میں سرنا گروپ کے 5 اور شرومنی اکالی دل بادل کے دلی پردیش پردھان منجیت سنگھ سمیت بادل گروپ کے 6 ممبران زخمی ہوگئے۔سرنا و بادل گروپ نے ایک دوسرے پر ہوا میں پانچ پانچ راؤنڈ گولیاں چلانے کے الزام بھی لگائے ہیں۔ اسی درمیان وہاں پولیس پہنچی اور حالات پر قابو کرلیا۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ گورو کے پوتر استھان پر اس طرح کی تلواریں، گولیاں چلیں۔ سیاسی اختلافات کو تشدد کے زور سے مٹانے کی کوشش کی کوئی بھی دلیل نہیں مان سکتا۔ بہتر یہ ہو کہ دونوں گروپ آپس میں مل بیٹھ کر بیچ کا راستہ نکال لیں اور مستقبل میں گورو صاحب کے اس پوتر گھر کو نقصان نہ پہنچائیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...