Translater

04 جولائی 2026

کہاں ہے ایران کی 100 ارب ڈالر کی پراپرٹی ؟

بیرونی ممالک میں ایران کی کل ضبط ، پابندی شدہ پراپرٹی کا اندازہ تقریباً 100 ارب ڈالر ہے اس نے منجمد کھاتوں میں تیل سے ہونے والی کمائی، غیر ملکی کرنسی ذخیرہ ،بینکنگ پراپرٹی و دیگر دعوے شامل ہیں ۔پہلی بار وسیع پیمانہ پر اثاثہ تب فریز کئے گئے جب ایران میں اسلامک انقلاب آیا اور امریکی سفارتخانہ میںیرغمال بحران کھڑا ہوا ۔14 نومبر 1979 کو ایرانی انقلابیوں نے فوراً تہران میں امریکی سفارتخانہ پر قبضہ کرنے کے بعد اس وقت کے صدر جلی کوٹر نے امریکی دائرہ اختیار میں موجود ایرانی سرکار کے اثاثہ کو بلاک کر دیا ۔1980 میں ایران سرکار نقد ، سونا اور دیگر املاک شامل تھیں جن میں سے زیادہ تر پراپرٹی 198.1 الجیریس سمجھوتہ کے تحت جاری کی گئی تھی جس سے یرغمالی کا بحران ختم ہوا تھا ۔تقریبا 4 ماہ کی جنگ کے بعدا مریکہ ایران امن سمجھوتہ کی شکل میں لائن پر متفق ہوئے اور اس کے باوجود ایران کی ضبط پراپرٹیوں پر رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ایک طرف ایران نے 14 نکاتی سمجھوتہ کے حوالہ سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ضبط اثاثے جاری کرنے پر متفق ہولیکن ٹرمپ کے کئی متضاد بیانوں نے حالات کو شش وپنج میں ڈال رکھا ہے ۔
(انل نریندر)

ایران کو جلد ملیں گے 6 ارب ڈالر !

ایران -امریکہ جنگ میں کتنی تباہی ہوئی ہے بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ممکن ہے کہ ایران کو اصل میں اس جنگ سے فائدہ ہوسکتا ہے ۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے حال ہی میں بڑا اعلان کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ قطر میں پھنسی ایران کی 12 ارب ڈالر کی رقم میں سے 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے ۔قوم شہر میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ معاہدے کے تحت اثاثے ریلیز کرنے کی پہلی شرط ہوگی ۔جو اسے قطر سے ملیں گے ۔انہوں نے یہ اہم ترین اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سوئزرلینڈ میں ہوئی بات چیت اور اسلام آباد میں ہوئے معاہدے کے تحت یہ رقم جاری ہو رہی ہے ۔باقی چھ ارب ڈالر کی واپسی کے لئے بھی سرکار مسلسل کوششیں کررہی ہے ۔ایرانی صدر پزشکیان نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹرولیم سیکٹر پر لگی پابندیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں ۔انہوں نے اسے ایرانی عوام کی بڑی جیت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کو ہٹنے سے دیش کی معیشت کو بڑی راحت ملے گی ۔ایران کی ارتھ سرکاری نیوز ایجنسی مہر نے صدر کے بیان کو اہمیت سے شائع کیا ہے ۔صدر نے حالیہ لڑائی کا ذکر کرتےہوئے ایرانی عوام کی تعریف کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر ، وزراء ،فوجی کمانڈر ،دانشور اور عام شہری بھی مشکل کے وقت متحد رہے۔ صدر نے بتایا کہ لڑائی کے بعد سرکار بساست کا کام شروع کر چکی ہے ۔عام لوگوں کو راحت دینے کے لئے خوراک ،رعایت بڑھانے اور مزید مالی مدددینے کی اسکیمیں لاگو کی جارہی ہیں ۔ایران کے اس دعوے سے امید ہے کہ دیش کی معیشت کو کچھ راحت ملے گی ۔قطر میں پھنسا پیسا ریلیز ہونے سے تیل ایکسپورٹ اور دیگر سیکٹروں میں بہتری آسکتی ہے ۔یہ تازہ واقعہ میں ایران کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی حکمت عملی میں نئی سمت دکھاتی ہے ۔حالانکہ اب تک ایران میں ہونے والے 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو لے کر کوئی بات صاف نہیں ہوئی ہے ۔یہ فنڈ کہاں سے آئے گا ، کب آئے گا اس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2026

ٹرمپ اور میلونی کے بیچ بگڑتے رشتے !

اٹیلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے وابستہ کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں ۔ان میں سے کچھ میں تو ایسا دکھایا گیا ہے جیسے وہ کسی بریک اپ کے بعد اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کررہی ہوں ۔ایک اے آئی فوٹو میں انہیں نئے ہمسفر کے ساتھ دکھایا گیا ہے ۔ایک دوسری تصویر میں انہیں سنگل ہولی ڈے بُچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔یہ ساری تصویریں اصلی نہیں ہیں لیکن ان کا مذاق اس لئے بنایا جاریا ہے کیونکہ میلونی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کھلے طور پر تنازعہ اب سامنے آرہا ہے ۔پچھلے کچھ ماہ میں ٹرمپ اور میلونی کا رشتہ کبھی کھلے حملوں تک کیا گیا ۔کبھی نجی طعنے کسے گئے اور پھر یا تو یہ ٹھیک ہوا لیکن اس اتھل پتھل کی وجہ سے سب سے پاپولر سیاست سیاسی دوستی ٹھنڈی پڑ گئی ۔کچھ وقت پہلے تک لوگ میلونی کوٹرمپ وسپرر کہتے تھے ۔اس کی بانگی جنوری 2025 میں دیکھنے کو ملی جب ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں انہیں سب سے آگے بیٹھے کی جگہ ملی ۔تقریب میں یہ اہم جگہ پانے والی وہ اکیلی یوروپی لیڈر تھیں ۔پچھلی اپریل میں میلونی وائٹ ہاؤس گئی تھیں وہاں وہ اس مقصد کے لئے گئی تھیں تاکہ یوروپی سامان پر لگی امریکی ٹریڈ ٹیرف کو لے کر کشیدگی کم ہو لیکن ٹرمپ کی جیسی عادت ہے ، ان کی بے یقینی میلونی کے لئے مشکل بھری ثابت ہوئی اور ان کی ساکھ کو ملک و بیرون ملک دونوں جگہوں پر چوٹ پہنچی ہے ۔ٹرمپ اور میلونی میں پہلی بڑی درار مارچ کے آخر میں سامنے آئی ۔اٹلی کے وزار ت دفاع نے امریکی فوجی جہازوں کو سسلی کے سنگولنیلا نیٹو ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے ۔اٹلی نے یہ قدم اس لئے اٹھایا کیوں کہ ان کاقانون اور عوام دونوں ہی ایران جنگ کے خلاف تھے ۔یہ ٹکراؤ اور بڑھ گیا اپریل میں ٹرمپ نے ٹوٹھ شوشل پر پوپ لیو مداف پر حملہ بول دیا کیوں کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کی تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔ٹرمپ نے انہیں کمزور بتایا ۔دنیا کے دیش کی لیڈر میلونی نے ٹرمپ کے بیان کو نامنظور والاقرار دیا ۔میلونی کے سخت رد عمل ٹرمپ کو راس نہیں آیا اور انہوں نے اٹلی کے اخبار کوریٹا ڈیلا میرا سے کہا کہ میں ہوں مجھے لگا تھا کہ ان میں ہی ہمت ہے لیکن میں غلط تھا وہ اب پہلے جیسی نہیں رہیں اور اٹلی بھی پہلے جیسا دیش نہیں رہا ۔فرانس میں جی -7 سمٹ میں ٹرمپ اور میلونی کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا دونوں دیشوں کے حکام نے اس بات چیت کو مثبت اور ایک عام معمولاتی بتایا لیکن کچھ ہی دن بعد ٹرمپ نے اٹلی کے چینل کو کہا کہ میلونی نے سمٹ میں ان سے فوٹو کچوانے کے لئے منت کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ میرے ساتھ تصویریں چاہتی تھی ۔میں نہیں لیتا لیکن مجھے ان پر ترس آگیا ۔میلونی نے فوراً جواب دیا کہ انہوں نے ویڈیو جاری کر ٹرمپ کی بات کو پوری طرح من گھڑت بتایا انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ امریکہ کے صدر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کیوں رویہ اپناتے ہیں ؟ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ افسوس ہے اور وہ ایک مغرب کے دشمنوں کے خلاف ایسی مضبوطی نہیں دکھاتے لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے نا میں اور نہ ہی اٹلی کسی کی منت کرتا ہے اس کے فوراً بعد اٹلی کے وزیرخارجہ اسٹونیا لایانی نے اپنا مجوزہ امریکی دورہ منسوخ کر دیا اور اٹلی کے صدر سرجیومیٹرولانے میلونی کو فون کر ان کی حمایت کی ۔سرکار کے ساتھیوں اور ممبران پارلیمنٹ بھی ٹرمپ کے تبصروں کو توہین آمیز بتایا ۔اور معافی کی مانگ کی ۔اپوزیشن نے اسے پورےدیش کی بے عزتی کہا دوسری طرف ٹرمپ نے پھر دہرایا کہ میلونی نے بار بار تصویر کھچوانے کی مانگ کی تھی ۔میلونی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اب دوبار ہ میزبان بننے کی کوشش کررہی ہیں کیوں کہ امریکہ نے ایران کو فوجی نظریہ سے ہرا دیا ہے ۔جیسے ہی یہ تنازعہ ٹھنڈا پڑتا نظر آیا تو فوجی اڈوں کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ یہ تنازعہ ایران جنگ میں آپریشن کیوری کے دوران اٹلی کے امریکی ایئربیس کو لے کر اٹھا ۔نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے بتایا کہ تقریباً 500 جنگی جہاز اٹلی میں امریکہ کے ٹھکانوں سے آپریشن ایپک کیوری میں اڑان بھری ۔لیکن اٹلی کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور اس کے وزار دفاع نے اسے غلط اور گمراہ کن بتایا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ دونوں ٹرمپ اور میلونی کو جلد ہی اپنے دیش میں چناؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔اٹلی میں عام چناؤ ہونے ہیں تو امریکہ میں بھی مڈ ٹرم چناؤ ہیں دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی کے رشتے سدھرتے ہیں یا اور بگڑتے ہیں؟
(انل نریندر)

30 جون 2026

الوداع آیت اللہ علی خامنہ ای !

28 فروری اس سال امریکہ اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملے میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے ۔انہوں نے کسی بنکر میں چھپنے کے بجائے اپنے دفتر میں ہی رہ کر شہید ہونا منظور کیا تاکہ ان کی قوم دشمنوں سے لوہا لے سکے ۔ان کی شہادت ہر وطن پرست کے لئے راہ عمل بنے ۔یہی ہوا ایت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایران کی عوام میں ایک ایسا جذبہ پیدا کیا اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دیش امریکہ کو آخر کار :جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ایران سے اب خبر آئی ہے کہ ان کی وفات نے 3 ماہ بعد ان کی آخری رسوم کی جائیں گی ۔یعنی 3 ماہ بعد سپرد خاک ہوں گے خامنہ ای ۔سرکار نے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔اور دیش کے کئی شہروں میں ان کا تعزیتی جلوس نکالاجائے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم کے لئے 3 دن کا پروگرام طے 4 جولائی ہوا ہے ۔تہران قوم اور مشہد میں ہونے والی اس تدفین میں دو کروڑ لوگوں کے آنے کی امید ہے ۔ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا ہے ۔یہ پہلی بار ہوگا جب 28 فروری کے حملے کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے درمیان نظر آئیں گے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق راجدھانی تہران قوم اور مشہد میں بڑے پبلک پروگرام ہوں گے ۔اکیلئے تہران میں خاص پروگرام 24 گھنٹے چلے گا۔ انتظامیہ کے مطابق دو کروڑ لوگوں کو سنبھالنے وحفاظت کو لے کر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔یہ اعلان خامنہ ای کی موت کے کئی دنوں بعد ہوا ۔اسلامی روایت کے مطابق دفنانے کا کام فوراً ہونا چاہیے تھا لیکن جنگ کے سبب اور حفاظت کی وجہ سے اسے ٹالنا پڑا۔آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کے تھے ۔28 فروری کے حملے میں وہ شہید ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ایران پر ان کا 30 سال سے زیادہ پرانی حکومت ختم ہو گئی ۔وہ دیش کے سب سے طاقتور اور باعزم لیڈر تھے ۔وحکمت عملی ساز بھی تھے ۔آیت اللہ خامنہ ای بھارت کے دوست بھی تھے اور ان کے نظریات کے بہت بڑے پرستار تھے ۔ان کے بیچ کا خاص طور پر تاریخی رہا ہے ۔سورگیہ پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب اور اس پر تبصرہ پر نظریہ خامنہ ای نے نہرو کے ذریعے لکھی سوانح حیات یا ول میسج گلمس پیسج آف ورلڈ اس کی کھل کر تعریف کی ۔انہوں نے اپنی تقریروں میں اکثر اس بات کا ذکر کیا کہ کیسے نہرو نے اپنی کتابوں میں تفصیل لکھا کہ انگلینڈ جیسے چھوٹے دیش نے بھارت جیسے وسیع ملک کے وسائل کا جائزہ لے کر خود کو کیسے محفوظ کیا ۔خامنہ ای کے مطابق یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں بلکہ یہ تبصرہ اور سامراجواد طاقتوں کی سچائی تھی ۔2012 میں جب تہران نے چوٹی کانفرنس (نیم سمٹ ) کے دوران ہندوستانی وزیراعظم (ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی تو خامنہ ای نے خود جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کیا تھا ۔آیت اللہ خمینی کا ایک پرانا ویڈیو بھی دوبارہ سامنے آیا ہے جس میں وہ جنتا سے اپیل کررہے ہیں ۔: تہران کی کتاب گلمپس آف ورلڈ ہسٹری ضرور پڑھیں ۔انہوں نے تفصیل سے سمجھایا کہ انگریزوں نے بھارت میں کیا کیا کیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانے سے صرف ایران یا اسلامی دنیا کو ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ دنیا کو ان کے جانے و خاص کر جس طریقہ سے ان کی شہادت ہوئی بھاری نقصان ہوا ہے ۔ایک نیک بندہ چلاگیا ۔ہم شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنا خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ : مجتبیٰ خامنہ ای 90 فیصدی ختم ؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسوم میں بھی نہیں نظر آئے تھے ۔اور تب سے ہی ان کی صحت کو لے کر کئی طرح کی...