Translater

06 جولائی 2019

پاک سے آئی نمک کی بوریوں میں 27سو کروڑ کی ہیروئن

محکمہ ایکسائز میں امرتسر کے اٹاری بارڈر پر واقع ایک نگرانی چوکی پر پاکستان سے آئے ایک نمک کے ٹرک سے 532کلو گرام ہیروئن کے پیکٹ برآمد کئے ساتھ ہی محکمہ نے 52کلو گرام کے دیگر نشے کی چیزوں کے پیکٹ بھی ضبط کئے جن کے نمونے جانچ کے لئے دہلی بھیج دیئے گئے ہیں ۔نمک کی بوریوں سے برآمد ہیروئن کی برآمد بین الااقوامی بازار میں 27سو کروڑ روپئے سے زیادہ بتائی جاتی ہے ۔یہ سب سے بڑی کھیپ ہے ۔اس کھیپ کو گلوبل ویزن امپیکٹس لاہور نے امرتسر کی فرم کنشک انٹر پرائیزز کو بھیجا تھا ۔محکمہ ایکسائز نے کمپنی کے مالک گرجندر سنگھ کو حراست میں لے لیا ہے ۔اس سے تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ روپیندر سنگھ کے تعلقات سری نگر کے لدھا والاکے ایک دوکاندار طارق احمد لون سے ہیں ۔محکمہ کسٹم نے طارق احمد کو جموں و کشمیر پولس کی مدد سے گرفتار کیا ہے ۔اٹاری بارڈر پر پکڑی گئی اس ہیروئن کے پیچھے اگر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ دکھائی پڑتا ہے تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیے ۔چونکہ وہ ایک عرصہ سے بھارت میں پنجاب اور جموں و کشمیر کے راستہ سے ہیروئن اور دیگر نشیلی چیزیں بھجوانے میں لگی ہوئی ہیں ۔اس کا مقصد صاف ہے پاکستان ہماری نوجوان نسل کو نشے کی عادی بنا کر بربادی کے راستہ پر جھونکنے میں لگی ہے ۔اس دھندے سے حاصل پیسے سے وہ قسم قسم کے آتنکی تنظیموں کی مدد کرتا ہے ۔یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ افغانستان اور ساتھ ہی پاکستان کے آتنکی تنظیموں کے مالی وسائل کا ایک بڑا ذریعہ افیم،چرس،ہیروئن کا ہی کاروبار ہے ۔افغانستان کے ذریعہ پاکستان میں یہ نشیلی چیزیں آتیں ہیں اور وہاں سے ہندوستان سپلائی ہو جاتی ہیں ۔تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس دھندے کی ایک کڑی بھارت بنا ہوا ہے اور نشے کی حالت ہندوستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری حکومتیں اس ناجائز و نہایت نقصاندہ دھندے کوروکنے کے لئے ٹھوس قدم نہیں اُٹھا رہی ہیں ۔سبھی جانتے ہیں کہ سرحد پر تعینات ہندوستانی افسر موٹی رقم لے کر انہیں آنے دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر اور پنجاب میں نشیلی چیزوں کی آمد رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔اٹاری بارڈر پر پکڑی گئی ہیروئن کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ ہے۔لیکن آخر اس کی کیا گیارنٹی کہ اس سے پہلے بھی کوئی بڑی کھیپ نہیں آئی ہوگی ۔یا مستقبل میں نہیں آئے گی اندیشہ یہی ہے کہ پاکستان سے مختلف چیزوں کی آڑ میں پہلے بھی نشیلی چیزیں آتی رہی ہیں ۔لیکن ہمارے افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے پاکستان نئے نئے ہتھکنڈے اپنا رہا ہے ۔یہ کھیپ نمک کے نام پر آئی تھی بہرحال جس دیش کا نوجوان طبقہ نشے کا عادی بن جائے وہ اپنے روشن مستقبل کے لئے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

(انل نریندر)

منوج تیواری بنام منیش سسودیا دنگل

دہلی میں بھاجپا بنام عام آدمی پارٹی میں گھمسان مچا ہوا ہے ۔ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا دور جاری ہے یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب دہلی بھاجپا پردیش صدر و ایم پی منوج تیواری نے عام آدمی پارٹی سرکار کو گھیرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو جم کر نشانہ بنایا تیواری نے الزام لگایا کہ اسکولوں کے کمرے بنانے کے نام پر کجریوال سرکار 2000کروڑ روپئے کا گھوٹالہ کر چکی ہے اور اس میں نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کا ہاتھ ہے پریس کانفرنس کے دوران تیواری نے منیش سسودیا سے استعفیٰ تک کی مانگ کر ڈالی اور الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال و سسودیا نے اپنے رشتہ داروں و پارٹی ورکروں کو ہی کمرے بنانے کے ٹھیکے دیئے ہیں ۔اور دہلی سرکار 25لاکھ روپئے میں ایک کمرہ بنوا رہی ہے تیواری یہیں تک نہیں رکے بھاجپا نیتاﺅ ں نے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور پی ڈبلیو ڈی وزیر ستیندر جین کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت در ج کرائی اس کے بعد منیش سسودیا نے گھوٹالے کے الزام پر بھاجپا پر جوابی نکتہ چینی کر تے ہوئے منوج تیواری کو کھلی چنوتی دی کہ وہ محکمہ تعلیم میں 2000کروڑ روپئے گھوٹالے کو ثابت کریں اور انہیں گرفتار کروائیں ورنہ جنتا سے معافی مانگیں انہوں نے کہا کہ مرکز میں بھاجپا کی سرکار ہے اور سبھی جانچ ایجنسیاں اس کے ما تحت ہیں اگر بھاجپا کے پاس ثبوت ہے تو ان کے خلاف کارروائی سے کیوں ڈر رہی ہے ؟جن کے گھر شیشے کے بنے ہوتے ہیں وہ دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکتے ۔مشہور اداکار راجکمار نے یہ ڈائلاگ بولا ۔جو 1965میں یش چوپڑہ کی فلم وقت کا ہے ۔کچھ اسی انداز میں نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کلاسوں کے تعمیراتی کام میں گھوٹالے کے الزام پر بھاجپا پر الزام لگایا کہ اس کی ساﺅتھ دہلی مونسپل کارپوریشن میں 43کمرے بنانے کے لئے 10.73کروڑ روپئے کی تخمینہ لاگت بتا کر ایک پرستاﺅ پاس کیا ہے جس کے حساب سے ایک کمرے کی تعمیر پر 24لاکھ 95ہزار روپئے خرچ آرہا ہے اس میں وہ سہولیات بھی نہیں ہوں گی جو دہلی سرکار کے اسکولوں کے کمروں میں ہے ۔ادھر وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں مرکز میں بھاجپا سرکار کو اڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کلاس روم کی تعمیر میں کوئی گھوٹالہ ہوا ہے تو ہمیں گرفتار کرو جبکہ بھاجپا حکمراں ساﺅتھ دہلی مونسپل کارپوریشن تعمیراتی لاگت کی شکل میں فی کلاس 25لاکھ روپئے کا تخمینہ تیار کرتا ہے تو یہ کرپشن نہیں ہے ۔جبکہ دہلی سرکار جب 25لاکھ روپئے فی کلاس روم کا تخمینہ بناتی ہے تو وہ کرپشن ہو جاتا ہے ۔نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے منوج تیواری ،ایم پی پرویش ورما اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجندر گپتا کو ہتھک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے ۔جس میں 48گھنٹے میں تینوں نیتاﺅں سے تحریری معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ صحیح ثبوت سامنے لائیں ۔ایسا نہ کرنے پر منیش سسودیا نے قانونی کارروائی کی جائے ۔ادھر منوج تیواری نے بدھ کے روز الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی جوڑی نے تعلیم کے نام پر تجارت کی ہے ۔اخبار نویسوں سے بات چیت میں اپنے پرانے الزام کو دہراتے ہوئے کہا کہ دہلی سرکار نے اسکولوں میں نرسری کلاس کے 366کمروں کی تعمیر کرائی ایک کمرے کی لاگت قریب 28.70لاکھ تھی جبکہ فرنیچر کے لئے الگ سے خرچ کیا گیا ۔اسی دوران ایس ڈی ایم سی میں ہاﺅ کے لیڈر کمل جیت شہراوت اور میڈیا کے معاون انچارج نیل کانت بخشی اور ترجمان ہریش کھرانہ اشوک گوئل وغیرہ موجود تھے ۔اب حالت یہ ہے کہ منیش سسودیا نے تیواری اور دیگر کو ہتھک عزت کا نوٹس دے دیا ہے تو وہیں منوج تیواری نے پولس میں شکایت درج کرا دی دیکھتے ہیں اس تنازعہ کا حل عدالت سے نکلتا ہے یا پولس انتظامیہ سے ۔

(انل نریندر)

05 جولائی 2019

بیٹا کسی کا بھی ہو ،غرور ،بدسلوکی برداشت نہیں !

 پچھلے کچھ دنوں میں الگ الگ ریاستوں میں پولیس ،انتظامیہ اور عین سازیہ سے وابستہ افسران پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں انہیں محض کسی اتفاقی عمل مان کر درکنار کرنا شاید صحیح نہیں ہوگا ۔تازہ مثال مدھیہ پردیش میں بھاجپا کے جنرل سیکریٹری کیلاش ورگیہ کے لڑکے ممبر اسمبلی آکاش ورگےہ کی ہے جنہوں نے پچھلے دنوں اندور میں میونسپل کارپوریشن کے ایک افسر کو کرکٹ کے بیڈ سے پیٹا تھا ۔یہ تکلیف دہ بات ہے کہ ایسا کرنے کے بعد اسے صحیح ٹھہرایا جانے لگا کیونکہ اس واردات کا ویڈیو عوام کے سامنے آگیا اس لئے دیش بھر میں اس کی تلخ نکتہ چینی ہوئی اور دوسری طرف ان تنقیدوں کی فکر کرنے کے بجائے حملہ کرنے والے اس ممبر اسمبلی کو ضمانت ملنے پر بھاجپا ورکروں نے الٹا جشن منایا جیسا کہ وہ بہت اچھا کام کرکے جیل سے رہا ہوا ہو ۔ٹھیک اسی طرح دوسرا واقعہ مدھےہ پردیش کے ستنا ضلع کے رام نگر میں ہوا جہاں وہا ں بھی بھاجپا کے ایک نیتا نے ایک چیف ایگزیٹیوافسر کو بری طرح پیٹا جس میں وہ سنگین طور پر زخمی ہوگئے ۔اس کے علاوہ تلنگانہ میں بھی حکمراں راشٹریہ سمیتی کے ایک ممبر اسمبلی کی رہنمائی میں بھیڑ نے ایک خاتون محکمہ جنگلات کی افسر پر قاتلانہ حملہ کردیا ۔ان سبھی واقعات میں متاثرہ افسر اپنے عہدے کے دائرے میں اپنی ذمہ داری کو نبھارہے تھے لیکن نیتاو ¿ں یا ان کے رشتہ داروں نے اپنے رسوخ کی دھونس دکھا کر ان پر حملہ کردیا ۔سوال یہ ہے کہ کس بات کا غرور ان نیتاو ¿ں کے سرچڑھ کر بول رہا تھا کہ کسی بات کی شکایت کرنے پر قانون کا سہارا لینے کے بجائے انہوں نے افسروں پر ہی حملہ کرنا ضروری سمجھا ؟کیا ےہ سمجھتے ہیں کہ ان کا رسوخ او رپارٹی ان کی حفاظت کرے گی؟یہ اچھا ہوا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کرکٹ کے بلے سے پیٹنے والے بھاجپا ممبر اسمبلی آکاش ورگےہ پر بیحد تلخ ناراضگی اپناتے ہوئے کہا کہ غرور اور بدسلوکی قطعی برداشت نہیں ہوگی ۔بھاجپا پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں انہوں نے آکاش کا نام لے بغیر کہا کہ بیٹا کسی کا بھی ہو من مانی نہیں چلے گی پارٹی نیتاو ¿ں کی پیڑیوں کی سخت محنت کے بعد کامیابی ملی ہے اور اس واقعہ سے پارٹی کی ساکھ بگڑی ہے اور پارٹی کے نام پر ایسی بدسلوکی ناقابل برداشت ہے ایسے نیتاو ¿ں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو پارٹی سے نکالا جانا چاہئے ۔اپنے خطاب کے دوران کیلاش وجے ورگیہ بھی موجود تھے ان کی اس حرکت سے ناراض میٹنگ میں صاف صاف کہا کہ ایک ممبر اسمبلی کے کم ہوجانے سے آخر کیا فرق پڑے گا انہوں نے کہا درخواست اور دنادن میں ۔۔۔یہ کونسی زبان ہے ایسے مسئلے کو ختم کرنا آسان نہیں ہوگا ۔پھر بھی اس مسئلے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی امید وزیر اعظم نریند رمودی سے ہی کی جاسکتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ مودی کو سیدھے عوام سے وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے ۔اب یہ دیکھنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ان قصور وار لیڈروں پر کیا کارروائی کرتی ہے ؟ایک بار سخت کارروائی ہوجائے تو شاےد ےہ مغرور نیتا قابو میں آجائیں ۔
(انل نریندر)

بیٹوں کو عالمی سطح کا بنانے میں والدین کا تعاون !

آج اگر ٹیم انڈیا ورلڈ کپ جیتنے کی امید کررہی ہے توا س کے کھلاڑیوں کو یہاں تک پہنچانے میں ان کے والد کا بہت بڑاتعاون ہے پیش ہے کچھ کھلاڑیوں کے والد کی قربانی او رجدوجہد کی داستان ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی اپنے والد کے بیحد لاڈلے تھے 9سال کی عمر میں جب وراٹ کوہلی نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا تو والد ہی انکے پہلے فین تھے جو اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر انکی حوصلہ افزائی کے لئے جاتے تھے وراٹ کے والد پریم کوہلی پیشہ سے فوجداری معاملوں کے وکیل تھے گروگرام میں وراٹ فیز ون میں والدہ سروج کوہلی کے ساتھ رہتے تھے ان کا ایک اور بھائی اور بہن ہے ان کے والد کا خواب تھا کہ انکا بیٹا وراٹ کرکٹ میں اچھا کھیلے اور نام کمائے ۔کرکٹ کی کوچنگ سے لیکر اور وراٹ کے کھیل سے جڑے رہے اور ان کے کھیل پروگراموں کے بارے میں پوری معلومات رکھتے تھے اتناہی نہیں بیٹے وراٹ کو کرکٹ کوچنگ کے لئے ساتھ لیکر جاتے اور آتے تھے وراٹ کو ایک کامیاب کرکٹر بنانے کا خواب دیکھنے والے والد پریم کوہلی کا 18دسمبر 2006میں دہانت ہوگیا تھا اس وقت وراٹ رنجی ٹرافی میچ کھیلا کرتے تھے وراٹ کوہلی نے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ ان کا والد سے بہت لگاو ¿ تھا ان کے والد جب انہیں چھوڑ گئے توان کا کاروبار ٹھیک نہیں چل رہاتھا اور پوری خاندان کرائے کے مکان میں رہتا تھا اور خاندا ن کے لئے مشکل وقت تھا ۔ٹیم انڈیا کے سب سے کامیاب کپتانوں میں سے ایک ہے مہندر سنگھ دھونی وہ بھی اس وقت اونچے مقام پر ہیں ان کی ترقی کے پیچھے بھی والد کی ہی قربانی ہے ماہی کو دھونی بنانے میں انکے والد نے ہرقدم پر ساتھ نبھایا ایک کمپنی میں نوکری کرتے تھے اور بیٹے کو کرکٹ کھلاڑی بنانے کیلئے اپنی ضرورتوں میں کمی کرکے بیٹے کی ضرورت کو پورا کرنے میں کمی نہیں ہونے دی ان کو بھروسہ تھا کہ انکا بیٹا ایک دن کرکٹ میں اونچا مقام بنے گا ۔مہندر سنگھ دھونی پر ایک فلم بھی بنی ہے جس میں ان کی زندگی میں جدوجہد کی پوری کہانی کو دکھایا گیا ہے یوں تو ہر ماں باپ کا تعاون اپنے بیٹے کو لائق بنانے میں ہوتاہے لیکن کچھ کہانیاں تاری ´خ کے اوراق میں ےادگار ہوجاتی ہے ایسے ہی ایک والد توصیف احمد تھے جنہوں نے اپنے بیٹے محمد سمیع کو ورلڈ کرکٹر بنانے میں خود کو بھی وقف کردیا توصیف احمد حالانکہ اب دنیا میں نہیں ہے لیکن بیٹے سمیع کے ساتھ ان کے والد کی دعاو ¿ں ہمیشہ رہیں گی ۔امروہہ کے علی نگر سہسپور گاو ¿ں کے ایک معمولی کسان توصیف احمد نے اپنی ز ندگی مشقت میں گزاری کرکٹ کے شوقین توصیف احمد نے سمیع کو بڑا کرکٹر بنانے کی ٹھانی اور ان کو خود کرکٹ سکھانے میں لگ گئے کھیت پر میڈیم پچ بنادی سمیع وہیں پریکٹس کرنے لگے دوسال بعد 2004-2005میں سمیع کو مرادآباد کوچ فخرالدین کے پاس بھیجدیا جہاں انکی ٹریننگ ہوئی باپ اپنے بچے کےلئے کیا کچھ نہیں کرتا آخر کار بچوں کی ذمہ داری اٹھا نا او رانکا کامیاب بنانے کی ذمہ داری والد کے ہاتھوں میں ہی ہوتی ہے یہ کہنا ہے بھونیشور کے ایک اور والد کرن پال سنگھ کا جو اترپردیش پولیس میں سپاہی رہے اور بچوں کو ان کی منزل دلانے میں کافی جدوجہد کی ٹیم انڈیا کے گیند باز یوراج سنگھ کی گیندبازی کا دنیا بھر میں ڈنکا بجتا ہے کرن پال سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچوں کو تہذیب سے رہنا سکھایا ہے ۔روہت شرماکے والد گروناتھ شرما نے بیٹے کی خوشی کے لئے اس کے دور کیا لیکن اس کا کرکٹ نہیں چھوٹنے دیا حالانکہ ہمارے مالی حالات تنگی کے تھے ہم ممبئی کے ڈولی وبلی میں رہتے تھے روہت کو کم عمری سے ہی کرکٹ کا شوق تھا انہیں ہاتھ پکڑ کر نیچے لے جاتا اور بالنگ کراتا ۔میں انڈر آرم بالنگ کرتا تھا روہت کیلئے کرکٹ کا سازوسامان خرید نے کے لئے ہمارے پاس پیسہ نہیں ہوا کرتے تھے پھر میں نے اسے دادا کے پاس رہنے بھیج دیا حالانکہ انہیں اپنے سے دور کرنے کا دکھ تھا لیکن میرے لئے اسکاکیریئر بالا تر تھا اس کا کھیل دیکھ کر کوچ دنیش لاڈ نے اسے سوامی دیوے آنند اسکو ل سے کھیلنے کو کہا اور وہاں سے وظیفہ بھی دلوایا والد کا کہنا ہے کہ بچوں کو ان کے شوق کے حساب آگے بڑھنے دینا چاہئے جو وہ چاہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک اور کھلاڑی رویندر جڈیجہ کے والد انیرودھ سنگھ نے بیٹے سے کہا کہ تمہیں دنیا کو جو دکھانا ہے وہ کرکٹ کے میدان پردکھاو ¿ جام نگر میں گھر کے پاس واقع پولیس لائن میں جہاں رویندجڈیجہ بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے میدان میں جاتا تھا ایک دن میں اسے لال بنگلہ میں واقع کرکٹ کوچنگ سینٹر لے گیا جہاں کوچ مہندر سنگھ نے اسے پرکھا اور اسے تربیت دی حالانکہ میری خواہش تھی کہ وہ فوج میں جائےں اس لئے میں فوجی اسکول میں داخلہ کرانا چاہتے تھے لیکن وہ کرکٹ میں پوری طرح رچ بس چکا تھا رویندر جڈیجہ دھارمک نظریہ کے ہیں ۔ایک اور کھلاڑی یجوندر چہل کے والد کے کے چہل بتاتے ہیں کہ یجویندر چہل چار پانچ سال کا رہا ہوگا تب میں نے خواب دیکھا تھا کہ وہ چیز میں گرینڈ ماسٹر بناو ¿ں گا اور اسے سکھانا بھی شروع کردیا ۔لیکن اس نے اپنے والد کے سامنے شرط رکھ دی کہ وہ چیز تبھی کھیلے گا جب اسے کرکٹ کھیلنے دیں گے اور دونوں کھیل ساتھ ساتھ چلتے رہے اور وہ چیز میں نیشنل چیمپیئن بھی بنا لیکن وہ مسلسل کرکٹر میں اپنا مستقبل تلاشتا رہا تو میں نے اسے اسپینر بننے کی صلاح دی حالانکہ وہ میڈیم پیسر بننا چاہتا تھا میں نے گھر سے تھوڑی دور کھیت میں پچ تیار کروادی اور صبح وشام ساتھ جاکر لیگ اسپینر کی پریکٹس کروانے لگا اور اس کی پر فارمینس بہتر ہوتی گئی آج وہ نام کمارہا ہے خوشی تویہ ہے اس کا نام نامی گرامی ٹیم انڈیا کے کرکٹروں کے کیریئر بنانے میں کوچوں کے ساتھ ساتھ سب سے بڑاتعاون ماں باپ کا بھی ہے آج وہ سب اپنی قربانی پر پھولے نہیں سمارہے ہونگے ۔بیٹوں نے دنیا بھر میں اپنا ڈنگا بجا یا ہوا ہے ۔
(انل نریندر )

04 جولائی 2019

دھرم ،مان کا واسطہ دے کر فلمی دنیا چھوڑنا

دنگل گرل اور نیشنل ایوارڈ ونر اداکار ہ زائرہ وسیم نے کافی کم عمر اور وقت میں اپنی دم دار اداکاری سے بالی ووڈ میں اپنی پہچان بنا لی تھی اب وہ سونالی بوس کی فلم دی اسکائی از پنک میں پردے پر نظر آئیں گی ۔اس درمیان زائرہ نے اتوار کو فلموں میں کام نہ کرنے کا اعلان کر دیا عامر خان کی مشہور فلم دنگل سے بالی ووڈ میں قدم رکھنے والی زائرہ نے فیس بک پر لکھے اپنے پوسٹ میں کہا کہ اب میں کام نہیں کروں گی پانچ سال پہلے میں نے ایک فیصلہ لیا جس نے میری زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی میں نے جیسے ہی اپنے قدم بالی ووڈ میں رکھے تو اس نے میرے لئے مقبولیت کے دروازے کھول دیے اور مجھے کامیابی کے ایک ہونہار اداکارہ کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور اکثر نوجوانوں کے رول ماڈل کے طور پر میری پہنچان ہونے لگی حالانکہ میں نے کبھی بھی ایسا تصور نہیں کیا تھا ۔اب جب میں نے اداکاری کے پیشے میں پانچ سال پورے کئے ہیں تو میں اس بات کو تسلیم کرتی ہوں کہ کام کی وجہ سے ملی پہچان سے میں خوش نہیں ہوں اور نئی زندگی کے طریق کار پر پکڑ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے محسوس ہوا کہ میں اس جگہ سے نہیں بنی ہوں یہ سیکٹر یقینی طور پر میرے لئے دیر سویر پیار اور تعاون اور تعریف لے کر آیا ۔لیکن ساتھ ہی اس نے مجھے نا معلومات کے راستہ پر بھی ڈھکیل دیا کیونکہ میں چپ چاپ و انجانے میں ایمان کے راستہ سے بھٹک گئی تھی کیونکہ میں لگاتار میرے ایمان کے درمیان آنے والے نا پسندیدہ ماحول میں کام کر رہی تھی میرے مذہب کے ساتھ میرا رشتہ خطرے میں پڑ گیا تھا یہ راستہ مجھے اللہ سے دور کر رہا تھا زائرہ کے اس ٹوئٹ کے آتے ہی سیاسی دنگل شروع ہو گیا زائرہ کی ہمایت میں اترے سماج وادی کے ایم نے متنازعہ بیان دے ڈالا تو دوسری پارٹیوں کے نیتاﺅں نے بھی ان کے الٹ بیان دے دیا ۔سپا ایم پی ٹی حسن نے زائرہ کے فیصلے کو صحیح مانتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں جسم کی نمائش کرنی پڑ رہی تھی تو یہ فیصلہ صحیح ہے جسم کی نمائش کرنا اللہ سے نافرمانی ہے اور گناہ ہے ۔یوپی کے مرادآباد سے ایم پی حسن کا کہنا تھا کہ اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب میں بھی عورتوں کے جسم کی نمائش کرنا منع ہے ۔مشہور اداکارہ تسلیمہ نسرین نے کہا کہ میں زائرہ کے فیصلے سے حیران ہوں اور بے وقوفی سے بھرا فیصلہ ہے مسلم فرقہ میں کئی لوگوں کا ٹلیلنٹ برقہ کے اندر ہی چھپا رہ جاتا ہے وہیں دیوبندی علماءنے زائرہ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے فلموں کا جو راستہ چنا تھا اس کے لئے اسلام میں منع فرمایا گیا ہے اور انہیں غلط راستہ چننے کا احساس ہوا پھر اس سے توبہ کر لی زائرہ مبارکباد کی مستحق ہیں قاری اسحاق ایوس دعوة المسلمین کے سرپرست اور شیو سینا نیتا پرینکا چترویدی کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو اپنی عقیدت کا احترام کرنے کا حق ہے لیکن کیرئیر کے لئے مذہب کو ذریعہ نہیں بنانا چاہیے زائرہ کو لے کر یہ فضول کا تنازعہ ٹل سکتا تھا اگر زائرہ اداکاری چھوڑنے کا کھلے طور پر اعلان نہ کرتیں وہ اداکاری کرنا چاہتی ہیں یا نہیں یہ اس کا نجی فیصلہ ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن یوں ڈرامہ کرکے چھوڑنا غیر ضروری تھا جس سے بچا جا سکتا تھا کچھ تو اس سے پبلی سٹی اسٹینٹ مانتے ہیں ۔

(انل نریندر)

74سال میں پہلی بار نارتھ کوریا کی سرزمیں پر امریکی صدر

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اچانک نارتھ کوریا جا کر ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔پچھلے دو سال سے امریکہ اور نارتھ کوریا کے رشتوں میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے ۔کوئی لمبا عرصہ نہیں گزرا کہ جب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی انتہا پر تھی ۔اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ لگنے لگا کہ دونوں ملکوں کے درمیان خطرناک جنگ چھڑنے والی ہے اور دونوں طرف سے نیوکلیائی ہتھیار استعمال ہوں گے اور تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے لیکن اطمینان کی بات یہ رہی کہ ایسی کسی انہونی کا خطرہ ٹل گیا ۔شاید صدر ٹرمپ اور نارتھ کوریا کے حکمراں کنگ جونگ کی سمجھ میں آگیا کہ دونوں ملکوں میں بات چیت سے ہی کوئی راستہ نکل سکتا ہے ۔ایک طرف نارتھ کوریا کے ڈیکٹریٹر اور ہم منصب کم جونگ ان تھے تو دوسری طرف امریکی راشٹر واد اور علاقاعیت سے رغبت یافتہ ڈونالڈ ٹرمپ دونوں ہی تلخ مزاج نیتاﺅں نے دنیا کے دل و دماغ کو ایک نئے جنگ کے خدشے میں ڈال رکھا تھا اب ٹرمپ اور کنگ جو تیسری ملاقات ہوئی اس کے نتیجے میں کوریائی عوام کی آنکھوں میں جو خوشی کے آنسو آئے وہ دراصل راحت ملنے کی خوشی کے آنسو تھے جنگ سے تباہ کاری کا اندیشہ اس وقت ٹلتا محسوس ہوتا ہے تو خوشی میں آنسو نکل پڑتے ہیں ڈونالڈ ٹرمپ نارتھ کوریا پہنچنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں ۔نارتھ کوریا کے سیوئل علاقہ غیر فوجی ژون میں ان کی کنم جونگ ان سے ملاقات ہوئی کم نے ٹرمپ سے کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ صدر سے اس جگہ ملیں گے اس پر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک بڑا پل ہے ۔ ساﺅتھ کوریا کے صدر مون نے ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ امن کے لئے ہے۔حالانکہ وہ اس ملاقات میں شامل نہیں تھے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے دونوں کوریا کو بانٹنے والی کنٹرول لائن کو پار کرنے پر فخر ہے میں کم کو وائٹ ہاﺅس آنے کی دعوت دیتا ہوں کم کا کہنا تھا کہ ہمارے اور ٹرمپ کے درمیان شاندار رشتے ہیں ۔بتا دیں کہ پچھلے سال سنگا پور میں ٹرمپ اور کم جونگ کے درمیان ملاقات اس سال فروری میں ہوئی تھی لیکن تب بات چیت ناکام رہی ۔اب یہ پھر سے بحال ہونے کی امید جاگی ہے ۔ٹرمپ اور کم دونوں نے بھلے ہی کتنی غیر یکسانیں ہوں لیکن برابری ضرور ہے ۔دونوں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور رکرتے ہیں جس سے دنیا چونک جائے ۔اتوار کو ٹرمپ نے وہی کیا اس دورے کو ایک اچانک دورے کی شکل میں نہیں دیکھا جا سکتا اس کے پیچھے یقینی طور پر کچھ خاص حکمت عملیاں ہیں ۔ٹرمپ اس بات کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ انہوںنے ساتھ کئی محاذ کھول دیے ہیں ۔ادھر ایران سے ٹکراﺅ چل رہا ہے تو نارتھ کوریا کا بحران پہلے سے ہی برقرار ہے روس ،چین اور ہند مہاساگر میں چین کے دبدبے سے امریکہ کی نید اڑی ہوئی ہے ۔دنیا کے سات تجارتی ٹکراﺅ کے حالات الگ بنے ہوئے ہیں ایسے میں ٹرمپ کہاں کہاں اور کس کس سے الجھیں گے ؟ہم اس بدلتے موقعہ کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ امن بات چیت آگے بڑھے گی امریکہ اور نارتھ کوریا اپنے اختلاافات کو میز پر بیٹھ کر حل کر لیں گے اور دنیا تیسری جنگ کے حالات سے بچے گی ۔

(انل نریندر)

03 جولائی 2019

کانگریس کی ہار کےلئے اکیلے راہل ذمہ دار نہیں

اسمبلی چناﺅ والی ریاستوں کے نیتاﺅں سے ملاقات کے سلسلے میں دہلی کانگریس کے نیتاﺅں نے کانگریس صدر راہل گاندھی سے ملاقات کی میٹنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی انہوںنے نیتاﺅں کو ہدایت دی کہ میرے عہدہ چھوڑنے کو لے کر بات چیت نہ کریں راہل گاندھی نے لوک سبھا چناﺅ میں ہار کی اجتماعی ذمہ داری کے تئیں پارٹی کے سینر لیڈروں کے ذریعہ دکھائی گئی مایوسی پر دکھ جتایا انہوںنے کہا کہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ ان کے پارٹی صدر عہدے سے استعفیٰ کی پیش کش کے بعد بھی کچھ وزراءاعلیٰ اور سنیر لیڈروں کو اپنی جواب دہی کا احساس نہیں ہوا ۔با خبر ذرائع نے بتایا کہ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اس بات سے دکھی ہیں کہ ان کے استعفی ٰ کے بعد بھی پارٹی کے کچھ وزراءاعلیٰ اور جنرل سیکریٹریوں و انچارجوں اور سینر لیڈروں کو اپنی جواب دہی کا احساس نہیں ہوا اور نہ ہی کسی نے ابھی تک اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے ۔غور طلب ہے کہ راہل کا یہ تبصرہ اس معنی میں اہم ہے کہ 25مئی کو ہوئی کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کملناتھ کو لے کر خاص طور سے ناراضگی ظاہر کی تھی انہوںنے اپنے لڑکوں کو جتانے میں زیادہ کام کیا جب کہ پارٹی کے مفادات کو نظر انداز کیا اس کے بعد کانگریس کے اندر استعفیٰ کی جھڑی لگ گئی پارٹی کے تمام عہدوں پر بیٹھے سینر کانگریسی نیتاﺅ ں سے لے کر ورکروں تک نے استعفیٰ کی پیش کش کر ڈالی اجتماعی استعفوں کے پیچھے یہ وجہ ہو سکتی ہے کانگریس صدر اس کے بعد اپنے تنظیم کے کام کاج پر غور کر کے اس کو نئی شکل دیں ۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے عہدیداران سے لے کر چھوٹے بڑے نیتاﺅں کی لسٹ تیار ہوئی ہے جس میں 120لوگوں نے دستخط کئے ہیں لسٹ میں بھی اور نام جڑنے باقی ہیں ۔اس درمیان کانگریس کے سنیر لیڈر ویرپہ موہلی نے جمعہ کو کہا کہ راہل گاندھی کے پارٹی صدر بنے رہنے کا ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے کانگریس پارٹی اتنی پرانی ہے اور آج کے پس منظر میں ایک مضبوط اپوزیشن کی سخت ضرورت ہے کانگریس پارٹی کے مفادات میں یہی ہے کہ راہل کانگریس صدر بنے رہیں اور اپنے حساب سے تنظیم میں نئی ردو بدل کریں راہل کے متابادل پر کوئی متفق نہ ہو ایسا بھی امکان نہیں ہے ۔نہرو گاندھی خاندان سے باہر کا کوئی نیتا پارٹی کو سنبھال سکتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو پارٹی کے ٹوٹنے کی پورا امکان بن جاتا ۔سونیا گاندھی یو پی اے کی چیر پرسن ہیں ۔وہیں پرینکا واڈرا جنرل سیکریڑی کے طور پر کام کر رہی ہیں ۔ابھی تک جن لیڈروں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیا وہ ایسا کرکے خود پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔لوک سبھا چناﺅ میں ہار کے لئے اکیلے راہل گاندھی ذمہ دار نہیں ہیں ۔

(انل نریندر)

ڈاکٹرس ڈے یا ڈر ڈے؟ڈاکٹروں پر تشدد بند ہو

پیر کے دن یکم جولائی کو ڈاکٹر دوس تھا ہر سال اس دن کو خاص بنانے والے ڈاکٹر مختلف امراض کے تئیں لوگوں کو بیدار کرتے تھے ۔لیکن اس مرتبہ ڈاکٹر اپنی سیکورٹی کو لے کر فکر مند ہیں ۔اسپتالوں میں ڈاکٹروں پر مسلسل ہو رہے حملے ان کے لئے ناسور بنتے جا رہے ہیں ۔پیر کو ہی دہلی میں ایم سی ڈی کے بڑے اسپتال ہندوراﺅ میں ایک خاتون مریض کی موت کے بعد اس کے رشتہ دار آگ ببولہ ہو گئے اور انہوںنے ڈیوٹی پر موجود دو ڈاکٹروں کی جم کر پٹائی کر دی اور ہاتھا پائی میں ایک ڈاکٹر کے سر میں سنگین چوٹ آئی جبکہ دوسرے کے کپڑے پھاڑ دیے گئے تھے اور اسے بھی کئی جگہ چوٹیں آئیں ہیں ۔واردا ت کے خلاف رات میں ہی اکٹھا ہوئے ڈاکٹروں نے انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی اتوار کی صبح ماحول بگڑتا دیکھ انتظامیہ کی شکایت پر دہلی پولس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کئی لوگوں کو حراست میں لیا اور پورے معاملے کی جانچ کے لئے این ڈی ایم سی میں ایک کمیٹی بنا دی ریزیڈینٹ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر منیش جین نے بتایا کہ سنیچر کی رات راج بالہ نامی مریض عورت کو امرجنسی میں لایا گیا تھا مہیلا گردے میں انفیکشن کی بیماری کا شکار تھی اس کی حالت بے حد نازک تھی ۔رات قریب ایک بج کر 6منٹ پر موت ہوگئی تیمار دار نے فون کر کے دیر رات 3:30بجے اپنے لوگوں کو بلا لیا ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ مریضہ کے جسم میں پوری طرح انفیکشن پھیل چکا تھا اور گردہ بھی فیل ہو چکا تھا ۔مریض کو انیمیا بھی تھا جس کے چلتے اس کے بچنے کی امید تقریباََ صفر تھی ۔

 ہندوراﺅ اسپتال میں ڈاکٹروں کی پٹائی کی واردات کے خلاف احتجاج میں مختلف ڈاکٹروں کی انجمنوں نے
 ہندوراﺅ اسپتال میں ڈاکٹروں کی پٹائی کی واردات کے خلاف احتجاج میں مختلف ڈاکٹروں کی انجمنوں نے ڈاکٹرس ڈے نہیں منایا وہیں ایمس کے ڈاکڑوں نے بھی ہندو راﺅ اسپتال کے ڈاکٹروں نے ریزیڈینٹ ڈاکٹرس کی ہمایت کرنے کی بات کہی ہے ۔ایمس کے ریزیڈینٹ ویلفیر ایسوسی ایشن کے صدر مہندر سنگھ میلی نے کہا کہ ہم ڈاکٹر سے مار پیٹ کرنے کے واقعہ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ہم اسپتال کی ریزیڈینٹ ایسوسی ایشن کے خلاف ہیں ۔پچھلے کچھ عرصہ سے ڈاکٹروں سے مار پیٹ کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے دوائیوں کی کمی اور بنیادی سہولیات کی کمی کے چلتے مریضوں کا علاج تسلی بخش نہیں ہوتا تو وہ اس کے لئے ڈاکٹر کو ذمہ دار مانتے ہیں اور پیٹنے لگتے ہیں ۔حال ہی میں کولکاتہ میں ڈاکٹروںنے تشدد کے خلاف مظاہرہ و ہڑتال کی تھی ڈاکٹروں کو پوری حفاظت ملنی چاہیے ۔سرکار کا ڈاکٹروں کو پوری حفاظت فراہم کرنے کے لئے قانون بنانا چاہیے ۔یکم جولائی یعنی ڈاکٹر س ڈے کہنے کو تو یہ دن ڈاکٹر کو وقف ہے لیکن کوئی بھی ڈاکٹر موجودہ حالات میں خوش نہیں ہے دیش بھر میں ڈاکٹروں کے تئیں تشدد بڑھتے جا رہے ہیں اور اس سے ڈاکٹر ڈرے ہوئے ہیںایسے واقعات کو دیکھتے ہوئے آنے والے وقت میں شاید ہی کوئی ماتا پتا اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کی سوچیں گے اسپتالوں میں سہولیات کی کمی اور سرکار کی لاپرواہی کا ہرجانہ ڈاکٹروں کو بھگتنا پڑتا ہے ایک وقت تھا کہ ڈاکٹروں کو بھگوان کا درجہ دیا جاتا تھا ۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2019

کرائم سیرئل دیکھ کر قتل کی سازش رچی

23جون کووسنت وہار علاقہ میں وسنت اپارٹمینٹ کے فلیٹ نمبر234میں دو بزرگوں سمیت تین لوگوں کے قتل کی گتھی کو دہلی پولس نے سخت محنت کے بعد آخر کار سلجھا لیا ہے ۔دہلی پولس کی کرائم برانچ ٹیم نے 72گھنٹے میں سی سی ٹی وی کیمرے اور موبائل کی کال تفصیلات اور رشتہ داروں کے بیانات کی بنیاد پر ملے سراغ کے بعد ملزمان کو دبوچ لیا ۔72گھنٹے میں قتل کی واردات کو سلجھانے پر دہلی پولس کو بدھائی ان بزرگوں کے قتل کے معاملے میں گرفتار ملزمان پریتی و منوج نے پوچھ تاچھ میں حیرت انگیز انکشاف کئے ہیں ۔ملزمہ پریتی نے پولس کو بتایا کہ اس نے منوج کے ساتھ مل کر ایک کاروبار شروع کیا تھا جو کسی وجہ سے گھاٹے میں چلا گیا ۔گھاٹہ پورا کرنے کے لئے دونوںنے ٹی وی پر کرائم سیرئل دیکھ کر آٹھ دن تک قتل کی پلانگ کی اس دوران انہوںنے واردات والی جگہ کی دو دن تک ٹوہ لی اور واردات انجام دے ڈالی ۔یہ کرنے کے بعد پریتی 17جون کو ان کے گھر پہنچی جہاں اس نے دونوں بزرگوں سے اس بزرگ جوڑے کا بھروسہ جیتنے کے لئے اور ان کی بیٹی سے فون پر بات ہونے کی بات کی وہ پوری رات بزرگوں کے گھر میں رکی اور ان میں گھل مل گئی ۔گھر کی ٹوہ لینے کے لئے منوج کے ساتھ 21جون کو پھر گئی اس دن وہ بزرگوں کے گھر نہیں گئی پولس کے جانچ میں سامنے آیا کہ ملزمان نے واردات والے دن اپنے فون گھر میں ہی چھوڑ دیئے تھے جب پولس نے ملزمان سے پوچھ تاچھ کی تو انہوںنے قتل و لوٹ مار سے انکار کر دیا ۔لیکن واردات میں استعمال بائک کے چلتے دونوں کی پلانگ فیل ہو گئی کیونکہ سی سی ٹی وی میں تینوں بائک پر تھے ۔اور اس سے اترتے ہی تینوں نے اپنے چہرے ڈھک لئے پریتی نے ایک عورت خوشبو سے گیٹ کا دروازہ کھلوایا اور جب اندر داخل ہوئی تو اس نے پایا کہ بزرگ عورت ششی ماتھر جاگی ہوئی تھی پریتی نے دونوں سے بات شروع کی اور چائے بنوائی اور چائے پینے کے دوران اس نے منوج کے بارے میں بتایا پریتی کے بلوانے پر منوج گھر میں آگیا اور اس نے کولڈرنگ میں شراب ملائی ہوئی تھی منوج جب خوشبو کے ساتھ کولڈرنک پی رہا تھا تو پریتی اپنے لئے گلاس کے بہانے باورچی خانے گئی اور چاقو لے کر باہر آگئی اس کے بعد منوج نے چاقو سے خوشبو کو مار ڈالا اور دونوں بزرگوں کے بیڈ روم میں گئے اور اس کے اس قتل کی واردات کے دوران کوئی شور نہ مچا دے اس لئے ٹی وی چلا دیا ۔سنیچر کے روز بھارت اور افغانستان کے درمیان میچ چل رہا تھا ۔یہ لگا کر اس کی آواز بڑھا دی تاکہ لوگوں کو لگے کہ لو گ گھر میں میچ دیکھ رہے ہیں ۔پریتی اور منوج بزرگ جوڑے کے قتل کا آئیڈیا ٹی وی سیرئل سے آیا ۔
(انل نریندر)

سندیسرا بندھوﺅں نے ہی نیرو مودی کو بھی پیچھے چھوڑا

ہمارے دیش میں پتہ نہیں کتنے گھوٹالے باز بیٹھے ہیں ؟آئے دن ایک نئے گھوٹالے کا پردہ فاش ہوتا ہے ۔ہزاروں کروڑ روپئے کی ہیرا پھیر کا پتہ چلتا ہے ۔ہم تو سمجھتے تھے کہ نیرو مودی اور میہول چوکسی ہی بڑے گھوٹالے باز تھے لیکن یہاں پر تو ان سے بھی بڑے گھوٹالے بازوں کا پتہ چلا ہے ۔ان فورس مینٹ ڈاریکٹریٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سندیسرا بندھوﺅں کے ذریعہ بینکوں سے کی گئی جعلسازی نیرو مودی کے پنجاب نیشنل بینک سے بھی بڑی ہے ۔ای ڈی کے ذرائع کے مطابق اسٹرلنگ بائیو ٹیک کے پرموٹروں نتن سندیسرا ،چیتن سندیسرا اور دپتی سندیسرا نے بینکوں سے 14ہزار پانچ سو کروڑ کی دھوکہ دھڑی کی ہے ۔جبکہ فرار ہیرا کاروباری نیرو مودی نے پنجاب نیشنل بینک کے 11ہزار چارسو کروڑ روپئے کی دھوکہ دھڑی کی تھی سی بی آئی نے 2017میں گجرات کی دھرمہ کمپنی اسٹرلنگ بائیو ٹیک اور اس کے پرموٹروں کے خلاف بینکوں سے 5383کروڑ کی دھوکہ دھڑی کا کیس درج کیا ہے ۔اس کے بعد ای ڈی نے جانچ شروع کی تب پتہ چلا کہ سندیسرا گروپ کی بیرونی ممالک میں واقع کمپنیوںنے ہندوستانی بینکوں کی غیر ملکی شاخوں سے 9ہزار کروڑ روپئے کا قرض لیا ۔یہ رقم ہندوستانی و غیر ملکی دونوں کرنسیوں میں لی گئی بعد میں یہ قرض پی ایم پی میں بدل گیا ۔انہیں یہ قرض آندھرا بینک کی رہنمائی والے بینکوں کے گروپ کی منظوری ملی گروپ میں یو کو بینک ایس بی آئی و الہہ آباد بینک و بینک آف انڈیا شامل ہے۔اسٹرلنگ بایوٹیک نے سرکاری بینکوں سے قرض لے کر اس پیسے کا استعمال طے ضروریا کی جگہ دوسری کاموں میں کیا
کئی فرموں کے ذریعہ پیسے میں گھپلہ کیا گیا ۔کمپنی کے پرموٹروں نے قرض کی رقم کا استعمال شخصی استعمال کے ساتھ ہی نائیجریا میں تیل کاروبار بڑھانے میں کیا ۔اس معاملے کے اہم ملزم سندیسرا بندھو فی الحال فرار ہیں ۔اور البانیا میں رو پوش ہیں ۔ای ڈی نے اس معاملے میں 27جون کو سندیسرا گروپ کی 9778کروڑکے اثاثے ضبط کئے ۔اس میں جیٹ جہاز نائیجریا میں تیل کنوئے ،پنامہ میں اٹلانٹک بلو واٹر سروس کے نام سے چار جہاز لندن میں بڑے فلیٹ شامل ہیں اس سے پہلے بھی گروپ کی 4730کروڑ کی پراپرٹی ضبط کی گئی تھی ۔اور ای ڈی اس معاملے میں سات بڑے ملزمان سمیت 191کے خلاف چارج شیٹ پیش کر چکی ہے ۔اس کے علاوہ اسٹرلنگ بائیوٹیک سمیت184 کمپنیا ں بھی شامل ہیں ۔جن میں 179فرضی ہیں ۔اہم ملزم ہتیش پٹیل کو 11مارچ کو البانیہ میں حراست میں لیا گیا ۔اور ہندوستانی ایجنسیاں اسے لانے کے لئے انٹرپول سے مدد لے رہی ہیں ۔نتن،چیتن،دپتی کے خلاف حوالگی کارروائی جاری ہے ۔سندیسرا بندھوﺅں نے 3سو سے زیادہ اور بے نامی فرضی کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں ۔جن کے ذریعہ بینک کی رقم بیرونی ممالک بھیجی گئی ۔سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اتنا بڑا گھوٹالہ بغیر سرپرستی کے ممکن نہیں ہو سکتا ۔اب جب جانچ شروع ہو گئی ہے تو شاید پتہ چلے کہ سندیسرا بندھوﺅں اور گھوٹالے میں کس کس نے مدد کی ہے ؟
(انل نریندر)

30 جون 2019

چلے تھے بھاجپا کو گھیرنے خود ہی چوپٹ ہوگئے

عام چناﺅ سے پہلے تک خود کو مستقبل کا کنگ میکر پیش کر رہے ٹی ڈی پی کے چیف چندر بابو نائیڈو کو اب جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے ہیں ریاست میں جہاں اپنا اقتدار کھویا اور لوک سبھا چناﺅ میں بھی پارٹی ہار گئی اس کے بعد اب ان کی پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی ہے راجیہ سبھا میں ان کے چھ میں سے چار ایم پی بھاجپا میں شامل ہو گئے ہیںیہ چاروں ایم پی نائیڈو کے بھروسہ تھے ۔ظاہر ہے کہ چندر بابوکی مشکلیں اور بھی بڑھ سکت ہیںانہوں نے چناﺅ سے پہلے اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کے لئے چناﺅی دورے بھی کئے تھے سرکار جہاز لے کر کولکاتہ اور دہلی کے چکر لگاتے رہے نائیڈو چناﺅ میں تو نا کام رہے اس کی کئی وجہ تھی جیسے اپوزیشن میں کئی پارٹیاں دیگر ریاستوں میں ایک دوسرے کی مخالف تھیں اسی دوران تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے سی آر راﺅ بھی فیڈرل مورچہ کی مہم چلا رہے تھے ادھر نائیڈو اپوزیشن کو متحد کر دہلی میں بھاجپا کو گھیرنے کی کوشش میں تھے ادھر کے سی آر راﺅ نے جگن موہن ریڈی کو ہمایت دے کر نائیڈو کی مشکلیں ان کے گھر میں ہی بڑھا دیں سیاسی واقف کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی مشکلیں ختم نہیں ہونے والی ہیں ۔ریاست میں نئی جگن موہن ریڈی سرکار مسلسل ان کے فیصلوں کا جائزہ لے رہی ہے اور کئی فیصلوں کو منسوخ بھی کر دیا ہے ۔خبریں تو یہاں تک ہیں کہ کچھ فیصلے کو لے کر چندر بابو نائیڈو کو قانونی کٹگھرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے اور ریاست میں اپنی موجودہ حالت کے لئے نائیڈو بھی کم ذمہ دار نہیں ہیں ۔آندھر اپردیش کو خصوصی درجے کو لے کر بھاجپا سے ہاتھ ملایا اور سرکار میں شامل ہو گئے تھے لیکن جب یہ درجہ نہیں ملا تو وہ اپوزیشن کو متحد کرنے کی مہم میں لگ گئے چناﺅ سے پہلے کانگریس کے ساتھ ہوگئے اب جبکہ آندھر اپردیش میں کانگریس کو ریاست کی تقسیم کے لئے ذمہ دار مانا جاتا ہے تو غلط وقت پر لئے گئے فیصلوں کے سبب چندر بابو نائیڈو پردیش میں ہی نہیں بلکہ پارٹی کے اندر بھی غیر مقبول ہو گئے ہیں نائیڈو حالانکہ ایسے حالات سے پہلے بھی دو چار ہو چکے ہیں ۔2004اور 2009میں بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا سوال یہ ہے کہ کیا وہ پھر سے کھڑے ہو پائیں گے ۔بہرحال ٹی ڈی پی کے چار ممبران پارلیمنٹ کے پالا بدلنے سے ایوان بالا میں اپوزیشن کو بڑا جھٹکا دیا ہے اس ردو بدل کے باوجود بھاجپا اور این ڈی اے بے شک اکثریت سے راجیہ سبھا میں دور ہوں مگر اہم پارٹیوں کے ٹوٹنے سے نمبروں کی طاقت کے بے حد قریب پہنچ گئی ہے ۔تین طلاق شہریت ترمیم جیسے اہم بلوں کو پاس کرانے کے لئے بھاجپا کو بی جے ڈی وائی ایس آر کانگریس اور ٹی آر ایس جیسی پارٹیوں کو قریب لانا ہوگا ایوان بالا میں اکثریت نہ ہونے کے سبب مودی سرکار ون درجن بھر بلوں کو قانونی حیثیت نہیں لا پائی تھی ٹی ڈی پی کے چھ ممبران میں سے دو تہائی ممبران نے ایک الگ گروپ بنایا اور پھر بھاجپا میں شامل ہوئے اس لئے ان چاروں پر دل بدل قانون لاگو نہیں ہوگا ۔بہر حال چندر بابونائیڈو بھاجپا کو چوپٹ کرنے چلے تھے خود ہی زیر ہوگئے ۔

(انل نریندر)

بحیثیت وزیر داخلہ امت شاہ کا پہلا دورہ کشمیر

بطور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پہلی مرتبہ جموں و کشمیر کے دورے پر گئے ۔اور ان کا دورہ کامیاب رہا امت شاہ دو دن کشمیر میں رہے ۔عرصے بعد یہ دیکھنے کو ملا کہ امت شاہ کے کشمیر دورے پر نہ تو علیحدگی پسندوں نے کوئی بند کی اپیل کی اور نہ کوئی ہڑتال ہوئی اور نہ کوئی پتھر بازی ہوئی تو کیا یہ سمجھا جائے کہ علیحدگی پسندوں کا نظریہ بدل گیا ہے ۔یا انہیں شاہ کا اتنا خوف ہے کہ ان کے دو روزہ قیام کے دوران ایک بھی واقعہ نہیں ہوا ؟تو کیا یہ مانا جائے کہ علیحدگی پسندوں کا نظریہ دوبارہ مودی سرکار آنے پر بدل گیا ہے ۔شاید یہ تبدیلی پلوامہ حملہ اور بالا کوٹ ائیر اسٹرائک کے بعد دنیا میں الگ تھلگ پڑے پاکستان کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ٹیرر فنڈنگ پر نظر رکھنے والی اس ایف اے ٹی اف سے بچنے کے لئے پاکستان آگے کوئی خطرہ فی الحال کشمیر میں کھلے طور پر لوہا نہیں لیتا دکھائی دے رہا ہے ۔حالانکہ جیش محمد اور دیگر آتنکی تنظیموں کو نئے سرے سے مضبوط کرنے کی تیار ی آئی ایس آئی کے ذریعہ کی جا رہی ہے ۔امت شاہ نے یہ کہہ کر اپنے ارادے ظاہر کر دئے کہ دہشتگردوں کو مالی مدد روکنے اور دہشتگردی مخالف مشینری کو مضبوط بنانے کے ساتھ ہی دہشتگردی کے خلاف بھارت کی ادم برداشت پالیسی پر مودی سرکار چلے گی اس کے ساتھ ہی انہوںنے علیحدگی پسندوں سے بات چیت کے امکانات کو مسترد کیا اس سے صاف ہے کہ مودی سرکار جلد بازی میں کوئی قدم اُٹھانے سے بچنا چاہ رہی ہے ۔اور اس کی پہلی ترجیح وادی میں حالات بہتر ہوں اور وہاں امن قائم ہو امت شاہ نے دہشتگردو ں کو مالی مدد میں شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے ۔ریاست کے بڑے حکام کےساتھ جائزہ میٹنگ جس میں گورنر ستیہ پال ملک بھی تھے امت شاہ نے علیحدگی پسندوں پر لگام کسنے کے لئے جموں و کشمیر پولس کی تعریف کی انہوںنے امت شاہ یاترہ کے سلسے میں سیکورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا ۔مرکزی وزیر داخلہ جمعرات کو آتنکوادی حملے میں شہید پولس افسر ارشد احمد خاں کے گھر گئے اور ان کے خاندان کو یقین دلایا کہ سرکار ان کی دیکھ بھال کرئے گی اور شہید کی بیوا کوسرکاری ملازمت کا تقرر نامہ بھی سونپا واضح ہو کہ جمعرات کو اعلیٰ افسران کے ساتھ سوئل لائن علاقہ میں خان کے گھر گئے اور ان کے ماں باپ مشتاق احمد خان ،محبوبہ بیگم بھائی اور بچوں سے ملے ایک طوصیف نامہ بھی دیا جس میں تعریف کی گئی اور شہادت کا ذکر تھا بلا شبہ یہ قابل غور ہے کہ وزیر داخلہ کے دورے کے وقت وادی کشمیر میں حالات ٹھیک ٹھاک رہے اور کوئی ہڑتال یا بند نہیں ہوا کل ملا کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ امت شاہ کا پہلا دورہ کشمیر کامیاب رہا ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...