Translater

Kerala لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Kerala لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

31 مئی 2012

مارکسوادی اپنے حریفوں کو مارنے سے بھی نہیں کتراتے


مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اکثر مارکسوادیوں پر الزام لگاتی رہتی ہیں کہ یہ اپنے سیاسی حریفوں کو قتل کرنے تک سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب خود مارکسوادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کیرل کی ایک ریلی میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ ایسے موقعے آئے تھے جب مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے اپنے مخالفین کو قتل کرنے سے کوئی پرہیز نہیں کیا۔ کیرل کے سینئر مارکسوادی لیڈر ایم ایم منی جو مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے اڈوکی ضلع کے سکریٹری ہیں، انہوں نے کاڈوپاجا میں ایک جلسہ عام کے دوران یہ متنازعہ بیان دیا ہے۔ سنیچر کی رات ایک پبلک ریلی میں کہا کہ پارٹی کی جانب سے اپنے سیاسی حریفوں کا صفایا کرنے کی مثالیں رہی ہیں۔ منی نے یہ بیان اس وقت دیا جب پارٹی کو کوکیورڈ اور کنور ضلع کے کچھ ورکروں کی گرفتاری کے دوران دفاع کی شکل میں آئی ہے۔ ورکروں کو مارکسوادی پارٹی لیڈر ٹی پی چندر شیکھرن کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ منی نے حالانکہ یہ کھلے طور پر یہ وضاحت کرنے کے لئے ریلی بلائی تھی کہ چندر شیکھرن کے قتل میں پارٹی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کا مطلب جسمانی قتل سے نہیں ہے بلکہ تب جھگڑے کے لئے زمین تیار ہوچکی تھی۔ مارکسوادی پارٹی کے ریاستی سکریٹری پنارئی وجین نے کہا کہ منی کی تقریر پارٹی کے نظریئے سے میل نہیں کھاتی اور انہوں نے یہ بات کہہ کر غلطی کی ہے۔ وجین کا کہنا ہے کہ منی کے نظریات پارٹی کے سیاسی نظریئے سے الگ ہیں ان کے بیان پر ریاست میں کانگریس اور بھاجپا نے سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ لیفٹ پارٹیوں کے تشدد پر سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ ایم ایم منی یہ بیان دیکر پھنس گئے ہیں۔ پولیس نے ان کے خلاف قتل اور دیگر معاملوں میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس بیان کے پیش نظر ایڈوکی ضلع میں 1980ء کی دہائی میں سیاسی قتل عام کے پیچھے سی پی آئی ایم کا ہاتھ تھا۔ ریاست کے وزیر داخلہ رادھا کرشن نے کہا کہ سرکار قانون کو اپنا کام کرنے دے گی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اچھوتا نندن نے منی کے تبصرے پر کہا کہ اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔ منی جس وقت ایڈوکی ضلع میں سیاسی قتل عام کا ذکر کررہے تھے اس وقت اچھوتا نندن پارٹی کے ریاستی سکریٹری تھے۔ شری منی نے اپنی پارٹی کے تشدد کے طور طریقوں کا جوخلاصہ کیا ہے وہ سن کر سب کو حیرت زدہ کرنے والا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے لیفٹ واد کے خاتمے کی بات کرنے والا لیفٹ اس طرح اپنے مخالفوں کو ہی ختم کرنے میں بھروسہ کرتا ہے۔ یہ معاملہ دراصل مارکسوادی پارٹی کے ایک باغی نیتا ٹی پی چندر شیکھرن کے پچھلے دنوں ہوئے قتل سے وابستہ ہے جس کے سلسلے میں مارکسوادی پارٹی کے کئی ورکر گرفتار کئے گئے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں ہے کہ منی کے سنسنی خیز خلاصے سے کچھ ہی وقت پہلے مغربی بنگال میں مارکسوادی پارٹی کے اس سابق وزیر کو اس لئے گرفتار کیا گیا کیونکہ ان کے گھر کے سامنے ایک جانور کا ڈھانچہ برآمد ہوا تھا۔ کیرل سرکار نے منی کے خلاصے کی بنیاد پر جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ لازمی ہے کہ بند ہوچکے پرانے سبھی معاملے کھل جائیں گے اور کتنے ڈھانچے اور ملیں گے، ہمارے کامریڈ اپنے حریفوں کی آواز کو بند کرنے کے لئے قتل کا ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہ کریں۔
(انل نریندر)

25 ستمبر 2011

پدمنابھ سوامی مندر کا آخری تہہ خانہ ابھی نہیں کھلے گا


Published On 25th September 2011
انل نریندر
جمعرات کو سپریم کورٹ نے کیرل کے پدمنابھ سوامی مندر کے چھٹے اور آخری تہہ خانے کو کھولنے سے متعلق فیصلہ ٹال دیا ہے۔ اپنے انترم حکم میں عدالت نے کہا چھٹا تہہ خانہ (بی) تب تک نہیں کھولا جائے گا جب تک دیگر تہہ خانوں سے نکلے خزانے کی حفاظت کا وسیع انتظام نہیں ہوجاتا۔ جسٹس آر وی روندرم اور جسٹس اے کے پٹنائک کی بنچ نے کہا کہ مندر کے پانچ تہہ خانوں سے نکلے قریب 1.5 لاکھ کروڑ کے خزانے کے دستاویز بندی اور ان کی چھانٹ اور حفاظت کا وسیع انتظام کیا جائے۔ یہ کام پورا ہونے تک آخری خزانہ نہیں کھولا جائے گا۔ بنچ نے مندر کی حفاظت کا ذمہ سی آر پی ایف کو سونپنے کی صلاح ماننے سے انکار کردیا اور ریاستی پولیس کے حفاظتی انتظامات پر تشفی ظاہر کی۔ اپنے فیصلے میں عدالت ہذا نے کہا فی الحال چھٹے تہہ خانے کو کھولنے کا مناسب وقت نہیں ہے۔ تین مہینے بعد خزانے کی حفاظت اور دستاویز بندی اور ان کی چھٹنی وغیرہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی انترم فیصلہ صادر کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے نیشنل میوزیم کے ڈائریکٹر جنرل سی وی آنند بوس کی سربراہی میں پانچ نکاتی ماہرین کی کمیٹی بنائی تھی۔ اس نے خزانے کی حفاظت کے وسیع بندوبست کئے جانے تک چھٹے تہہ خانے کو نہ کھولنے کی صلاح دی تھی۔ کمیٹی میں آثار قدیمہ حکومت ہند اور بھارتیہ ریزرو بینک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ برسوں سے مندر کے نگراں رہے شراون کور شاہی پریوار نے بھی کورٹ سے پچھلی تاریخ میں اپیل کی تھی کہ شری پدمنابھ سوامی مندر کے بی تہہ خانے کو نہ کھولنا چاہئے۔ شاہی خاندان نے کہا کہ اس سے پہلے مندر سے برآمد ہوئے خزانے کی ویڈیو گرافی یا فوٹو گرافی اس لئے نہیں ہوئی کیونکہ یہ مندرکی روایات اور قواعد کے خلاف ہے۔ شاہی پریوار نے پیش کی درخواست میں کہا کہ بی تہہ خانے کو کھولنا مندر سے آستھا رکھنے والوں کی روایات اور ان کے عقیدت کے خلاف ہے۔ عدالت نے اس وقت تعجب ظاہر کیا جب اسے بتایا گیا کہ عدالت کی جانب سے مقرر ماہرین کی کمیٹی نے بی تہہ خانے کو کھولنے یا نہ کھولنے کا فیصلہ مندر کے بڑے پجاری پر چھوڑدیا تھا۔ عدالت نے تعجب ظاہر کیا جس کمیٹی کو فیصلہ لینے کا اختیار دیا گیا وہ فیصلے کے اس حق کو دوسرے کو کیسے سونپ سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے فرمان میں یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت ہی املاک کی سلامتی کیلئے سی آر پی ایف کی ضرورت نہیں ہے۔ تین سطحی سسٹم طے کریں۔ مندر کے رواجوں اور روایات کا خاص خیال رکھا جائے۔ مندر انتظامیہ سکیورٹی کے لئے 25 لاکھ روپے سالانہ ریاستی حکومت کو دے جبکہ باقی خرچ سرکار اٹھائے۔ املاک کے تحفظ کیلئے ٹنڈر مدعو کر پرائیویٹ کمپنیوں کو شامل نہیں کیا جائے۔ کیرل اسٹیٹ الیکٹرانک ڈولپمنٹ کارپوریشن سے یہ کام کرایا جائے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kerala, Shri Padmanabh Swami Temple, Sri Padmaswami Temple, Supreme Court, Vir Arjun

10 جولائی 2011

کیسے بنا شری پدمنابھ سوامی مندر



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 10th July 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ نے سات رکنی کمیٹی کو ترواننت پورم میں واقع شری پدمنابھ سوامی مندر کے تہہ خانوں کو کھولنے پر پابندی لگادی ہے۔ جسٹس آر وی روندرن اور جسٹس اے کے پٹنائک کی ڈویژن بنچ نے عرضی گذار شراون کوٹ کے راجہ رہے ،راجہ مارتنڈ ورما اور کیرل حکومت سے کہا ہے کہ وہ قدیم مندر کے تقدس اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے مناسب تجاویز کے ساتھ عدالت آئیں۔ اور راجہ مارتنڈ ورما کے وکیل نے جرہ کے دوران کہا کہ مندر پبلک پراپرٹی ہے اور راج پریوار کے کسی بھی فرد نے بیشمار دولت یا پراپرٹی پر کسی کے حق کا دعوی نہیں کیا ہے اور اس کا کوئی بھی حصہ خاندان کے کسی فرد سے وابستہ نہیں ہے۔ پراپرٹی بھگوان پدمنابھ سوامی کی ہے۔ مندر کی پراپرٹی کے بارے میں مورخوں کا کہنا ہے کہ اس خزانے کی تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے تو اس کی قیمت لگانا مشکل ہوگا پھر بھی کہا جارہا ہے کہ اس کی بازار مالیت 1 لاکھ کروڑ سے 10 گنا زیادہ ہوگی۔
پدمنابھ سوامی مندر شراون کوٹ شاہی فیملی نے بنوایا تھا۔ بھگوان وشنو کا یہ مندر کیرل کے قلعے کے اندر ہی بنا ہوا ہے۔ اس مندر کو 108 دویہ دشمے میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ دویہ دیشم یعنی وشنو جی کا گھر۔ یہاں بھگوان وشنو کی سوتی ہوئی مورتی ہے۔ شراون کوٹ کے راجہ اپنے آپ کو وشنو کا بھگت کو سیوک مانتے ہیں۔ مندر کے بننے کی کئی کہانیاں ہیں۔ اس میں سے ایک جو سب سے زیادہ مشہور ہے وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ دیواکر منی نے بھگوان کرشن کی تپسیا کی تھی اور انہیں درشن دینے کو کہا۔ بھگوان ایک شرارتی بچے کی شکل میں انہیں درشن دینے آئے اور پوجا کے لئے رکھے شیو لنک کو نگل گئے۔ منی نے غصے میں اس بچے کا پیچھا کیا لیکن وہ جاکر ایک بڑے پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔ اچانک وہ پیڑ گرگیا اور بھگوان وشنو کی مورتی میں بدل گیا۔ منی سمجھ گئے کہ وہ بھگوان وشنو کا ہی اوتار تھا۔ منی نے بھگوان سے کہا یہ مورتی بہت لمبی ہے اسے تھوڑا چھوٹا کریں تاکہ میں اور دوسرے بھگت ایک بار میں اس کے درشن کرسکیں۔ اتنا کہتے ہی وہ مورتی چھوٹی ہوگئی لیکن پھر بھی اس کا قد کافی بڑا رہا۔ آج بھی اس مورتی کو تین گیٹ والے مندر میں رکھا گیا ہے۔ اس کے دروازے سے وشنو جی کا سر دکھائی دیتا ہے۔ اسے شیو جی کی طرح پوجا جاتا ہے ، دوسرے دروازے سے پیٹھ دکھائی دیتیہے ، جس کی نابھ میں کمل کا پھول نکل رہا ہے اسے بھرما کا سوروپ کہتے ہیں اور تیسرے دروازے سے بھگوان وشنو کے پیر دکھائی دیتے ہیں ، جسے موکش کا دوار مانا جاتا ہے۔ کیرل کا یہ مندر کھجوراہوں کے مندروں جیسی فنکاریوں اور مورتی سے بھرا ہے۔ اسی وجہ سے ترواننت پورم کا نام ملا۔ ترواننت پورم یعنی بھگوان کا پوتر گھر۔
کیرل کے شری پدمنابھ سوامی مندر سے سونے کی اب تک کی سب سے بڑی برآمدگی ہوئی ہے۔ ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ خزانے کی اس برآمدگی نے ایک بحث چھیڑ دی ہے کہ پوجا استھلوں پرایشور کو کیا حقیقت میں گولڈ کی ضرورت ہے؟ لوگ پیلی چمکدار دھات کی پوجا کررہے ہیں یا پھر اپنے بھگوان کی۔ اب یہ مندر دنیا کا سب سے امیردھارمک استھل بن گیا ہے۔ویٹیکن کے بعد شاید پچھلے ہفتے سے اس بحث نے بھی زور پکڑا ہے کہ آخر یہ سونا کس کا ہے؟ بھگوان کا ہے یا پھر کیرل کے عوام کا؟
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Kerala, Kerala High Court, Raja Martande Verma, Shri Padmanabh Swami Temple, Supreme Court, Treasure, Vir Arjun

05 جولائی 2011

مندر میں 1 لاکھ کروڑ کا خزانہ ملا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 5th July 2011
انل نریندر
 ہمارے مندروں کی نایاب املاک تاریخ میں کئی غیر ملکی لٹیروں کی بحث کا شکار بنی ہے۔ مندروں میں اتنی لوٹ مار کے بعد آج بھی اربوں کی دولت ہے۔ اس نکتہ نظر سے جنوبی ہندوستان کے مندر تب بھی غیر ملکی لٹیروں سے بچے رہے۔ کیرل کے ایک مندر شری پدمنابسوامی مندر میں آج کل سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کمیٹی کے سات افراد مندر کے خزانے کی فہرست بنانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے اس مندر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری شراون کوٹ کے شاہی خاندان کی تھی۔ مندر کے 6 خفیہ کمروں پر ایک طرح کی پہچان سبط کی گئی۔ حال ہی میں ٹی پی سندر راجن نام کے ایک وکیل نے مندر کی بدانتظامی کو لیکر سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ اسی کے بعد عدالت نے ان سبھی کمروں کو کھولنے کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے اے اور بی 1874 سے بند پڑے تھے۔ گذشتہ پیر کو سی ڈی اور ایک کمرے کو کھولا گیا تھا جس میں سے 1 ہزار کروڑ کی دولت ملی تھی۔کیرل کا یہ مندر دیش کا سب سے امیر مندر ہوسکتا ہے۔غیر سرکاری تجزیے کے مطابق اس مندر کے کمروں میں رکھے گئے سونے ، ہیرے جواہرات وغیرہ کی تقریباً قیمت 1 لاکھ کروڑ روپے تک تجویز کی گئی ہے۔
گذشتہ جمعرات کو ایک ٹیم نے شری پدمنابسوامی مندر کے تہہ خانے میں بنی تجوری A کھولی۔ مندر میں A سے F تک اس طرح کی کل 6 تجوریاں ہیں۔ تجوریA سے ہزاروں سال پرانے سکے، 2.5 کلو وزنی 9 فٹ لمبے نیکلس اور کان کی بالیوں کے سائز میں ایک ٹن سونا اور سونے کی چھڑیں اور ہیرے جواہرات سے بھرے بورے اور سونے کی زنجیریں ، ہیرے جڑے زیور، تاج اور دوسری چیزیں برآمد ہوئی ہیں۔ جمعہ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور کے 17 کلو سونے کے سکے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ نیپولین عہد کے 18 سکے، ریشم میں لپٹے قیمتی جواہرات سکوں اور زیوروں کی شکل میں 1 ہزار کلو سونے کا ایک چھوٹا ہاتھی ملا ہے۔ کچھ چیزوں پر 1722 سن لکھا ہوا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ راجہ کارتک ترونل رائے ورما کے عہد کے ہیں۔
ان 6 تجوریوں میں سے A اور B کو 1882 ء کے بعد سے نہیں کھولا گیا۔ فی الحال صرف تجوری A کی ہی اتنی موجودہ دولت کی قیمت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ابھی ان کی پختہ ویلیو نہیں لگائی گئی ہے پھر بھی ایسا مانا جارہا ہے یہ مندر تروپتی بالا جی مندر کو پیچھے چھوڑ کر دیش کا امیر ترین مندر بن گیا ہے۔ انتظامیہ نے مندر کی سکیورٹی بڑھادی ہے۔ چاروں طرف سکیورٹی کیمرے اور الارم سیٹ لگا دئے گئے ہیں۔ کیرل کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ مندر کی سکیورٹی کے لئے ایک کمانڈو فورس بنائی جائے گی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے مبصر مقرر کئے گئے ہیں۔ کیرل ہائی کورٹ کے سابق جسٹس سی ایس راجن اور جسٹس ایس این کرشنا کا کہنا ہے کہ ہر سامان کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔ قیمت کا صحیح اندازہ لگانا کافی مشکل ہے۔ کمرہ B اورE کا کھلنا ابھی باقی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس میں ایک ہفتہ اور لگ سکتا ہے۔
Tags:  Anil Narendra, Daily Pratap, Gold Ornaments, Kerala, Kerala High Court, Sri Padmaswami Temple, Travancore, Vir Arjun

26 مئی 2011

اسمبلی انتخابات میں مسلم پارٹیوں کو شاندار کامیابی ملی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

26مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ بدقسمتی ہی رہی ہے کے سیاست کے میدان میں انہیں اپنے فرقے کی کبھی صحیح لیڈرشپ نہیں ملی۔ بڑی سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ ان کا استعمال کیا اورووٹ بینک کی طرح ان سے برتاؤ کیا۔ اب یہ بات ہمارے مسلمان بھائیوں کو سمجھ میں آرہی ہے وہ اپنے کو سیاسی طور پرمنظم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ اچھی پیش رفت ہے۔ یوں تو آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی سیاست میں چھوٹی موٹی مسلم سیاسی پارٹیاں ہمیشہ میدان میں رہی ہیں لیکن اب انہیں شاندار کامیابی ملنے لگی ہے۔ حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج بتاتے ہیں مسلمان قومی سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہوگئے ہیں اور وہ علاقائی مسلم پارٹیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی دکھانے لگے ہیں۔ کیرل میں مسلم لیگ او رآ سام میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو ملی کامیابی اور تاملناڈو میں نئی بنی مسلم پارٹی ایم ایس این کو بھی دو سیٹیں ملنا اس کا اشارہ کرتا ہے کہ اس کا اثر اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی پڑنا لازمی ہے۔ خاص کر اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیوں میں مسلم ووٹ کیلئے زبردست زور آزمائش ہونے والی ہے۔یوں تو کیرل میں مسلم لیگ ہمیشہ سے ہی طاقتور رہی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے کامیابی کے سبھی پرانے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ اس کے 24 میں سے20 امیدوار جیتے ہیں۔ وہیں آسام میں اے آئی یو ڈی ایم کی سیٹیں 10 سے بڑھ کر19 ہوگئی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ریاستوں کے مسلمانوں نے متحد ہوکر ان علاقائی مسلم پارٹیوں کو ووٹ دیا ہے۔ کیرل میں مسلم لیگ یوڈی ایف کا حصہ تھی تو اے آئی یو ڈی ایف نے آسام میں اکیلے چناؤ لڑوا کر اپنی طاقت دکھائی ہے۔ تاملناڈو میں ایم ایس این کے جے للتا محاذ کا اتحادی حصہ تھی لیکن چناؤ کے فوراً بعداس کا من جے للتا سے کھٹا ہوگیا کیونکہ انہوں نے اپنی حلف برداری تقریب میں نریندر مودی کو بلایا تھا۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی کامیابی میں مسلم ووٹوں کا اہم رول رہا ہے۔ روایتی طور پر مارکسوادی پارٹی کا ووٹ بینک رہے مسلمانوں نے اس مرتبہ ممتا کے تئیں اپنی ہمدردی و حمایت دکھائی۔ مسلم ووٹروں کے رخ کو ممتا کی طرف موڑنے میں مسلم تنظیم جمعیت العلمائے ہند کا اہم کردار رہا۔ آندھرا پردیش میں بھی ایک مسلم سیاسی پارٹی مجلس مشاورت کو حیدر آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اچھی کامیابی ملی ہے۔ اس کے لیڈر اویسی لوک سبھا کے ممبر ہیں۔
اترپردیش میں مسلم ووٹوں کا اہم کردار ہوگا۔ وہاں 6 سے7 مسلم پارٹیاں ریاست کے 18 فیصد مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کیلئے میدان میں ہوں گی۔ یوپی میں سب سے طاقتور پیس پارٹی ہے۔ اس نے پچھلے ضمنی چناؤ میں اچھے خاصے ووٹ حاصل کرکے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے لیکن اس کی پوری کوشش صوبے میں نہیں چل پائی اور زیادہ تر گورکھپور اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک ہی محدود ہے۔ حال ہی میں جماعت اسلامی نے بھی پارٹی بنائی ہے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا۔اے آئی یو ڈی ایف نے بھی یوپی کے چناؤ میں امیدوار اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے دیش کے مسلم ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک بھی شیعہ نہیں ہے۔ اس لئے کئی شیعہ تنظیموں نے بھی یہ محسوس کیا ہے کہ انہیں بھی منظم ہوکر اپنی پارٹی بنانا چاہئے تاکہ شیعوں کو ٹھیک نمائندگی مل سکے۔ یہ پارٹیاں کتنی کامیاب ہوتی ہیں یہ تو چناؤ کے بعد پتہ چلے گا لیکن اتنا ضرور ہے کچھ سیکولر پارٹیوں کی نیند حرام ضرور ہوگئی ہے۔
 Tags: Anil Narendra, Assam, Kerala, Muslim, State Elections, Tamil Nadu, Uttar Pradesh, West Bengal

18 مئی 2011

پانچ ریاستوں کے کوارٹر فائنل کے بعد سیمی فائنل یوپی کی باری

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 18مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ مرکز میں اقتدار کے کھیل کا ایک طرح سے کوارٹر فائنل میچ تھا ۔ اب باری ہے سیمی فائنل کی۔ یہ سیمی فائنل10 مہینے کے بعد اترپردیش میں ہونے والا ہے۔ اگر بہن جی نے چاہا تو یہ اس سے پہلے بھی ہوسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہوگی کہ یوپی کے سیمی فائنل میں وہ ٹیمیں خاص طور پر کھیلیں گی جو کوارٹر فائنل میں صرف معاون کے کردارمیں نظر آئیں گی۔ یہ پرانی کہاوت ہے کہ دہلی کی گدی کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یوپی اسمبلی چناؤ اور بھی اہم ہوگئے ہیں۔ کانگریس اور بھاجپا کیلئے نہ صرف صوبے کی سیاست اس پر منحصر کرتی ہے بلکہ مرکزی سیاست میں بھی یوپی کی اپنی اہمیت ہے۔ سب کی آنکھیں محترمہ مایاوتی پرلگی ہوئی ہیں۔ پانچ ریاستوں کے نتائج آئے ۔ یہ عجب اتفاق ہی ہے کہ اسی دن یوپی میں مایاوتی حکومت نے سنیچر کو اپنے چار سال پورے کئے۔ اب اس کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ اگلے12 مہینے اترپردیش کے لئے سیاسی طور سے بیحد گہما گہمی سے بھرے رہیں گے۔ یوپی میں اے اور بی ٹیم تو بسپا اور سپا کی ہی رہے گی۔ اہم لڑائی بھی ان دونوں میں ہی ہونے والی ہے۔ واضح اکثریت پاکر پہلی مرتبہ پائیدار حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی مایاوتی کے لئے یہ سال کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اپنا گڑھ بچائے رکھنے کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کریں گی۔ ادھر ملائم سنگھ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو پانے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دیں گے۔ سپا اپنے دم پر چناؤ لڑے گی۔ پارٹی نے 403 میں سے270 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا بھی اعلان کردیا ہے۔ ملائم نے پورا زور اپنا روایتی یادو اور مسلم ووٹ بینک پر لگایا ہوا ہے۔
مغربی بنگال سے لیکرتاملناڈو تک اقتدار مخالف رجحان بہن جی کے لئے تشویش کا موضوع ہونا چاہئے۔ اگر مغربی بنگال میں نندی گرام اور سنگور میں حکمراں پارٹی لیفٹ کے خلاف ماحول بنایا تو اگرپردیش میں گھوڑی اور بچھڑا اور یہاں پارسول کی کسان تحریک مایاوتی حکومت کے خلاف ماحول بنا رہی ہے۔ حالانکہ یہاں قانون و نظم کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن کچھ بسپا ممبران کے سبب وصولی اور ٹھگی اور لوٹ مار و آبروریزی اور قتل وغیرہ کی وارداتوں نے ماحول کو ضرور آلودہ کیا ہے۔ شکروار کو جب کئی ریاستوں کے چناؤ نتائج آرہے تھے تو مشرقی اترپردیش میں بچھڑائیوں اسمبلی سیٹ کا ابھی نتیجہ آیا ہی تھا اسی سیٹ پر بسپا کہنے کو خود چناؤ نہیں لڑ رہی تھی لیکن ایک شراب تاجر کو پوری حمایت دی ہوئی تھی اور یہ امیدوار بری طرح سے ہار گیا۔ اس چناؤ نے اترپردیش کی سیاست کے لئے دونوں پیغام دئے ہیں۔ حکمراں پارٹی سے اگر اپوزیشن متحد ہوکر لڑی تو بسپا کے لئے مشکلیں کھڑی ہوجائیں گی ، دوسرے فرقہ پرستوں کے لئے بھی اب جیت آسان نہیں ہے۔ اس چناؤ میں پروانچل میں ہندوتو کے سب سے بڑے نیتا یوگی ادیتے ناتھ کی ہار ہوئی ہے، جو اس چناؤ کے لئے ایک وقار کا سوال بنائے ہوئے تھے۔مایاوتی کی سالگرہ کے سلسلے میں چل رہی وصولی کے بعد ایک انجینئر کے قتل سے جو ماحول خراب ہو وہ ایک کے بعد ایک واقعات سے بسپا کے کئی وزراء اور ممبران اسمبلی کو بے نقاب کرگیا۔ اس کی حرکتوں سے مایاوتی کی ساکھ کے وہ ایک سخت ایڈ منسٹریٹر ہیں ، کو بھی دھکا لگا ہے۔ لوگ مایاوتی کے اس نعرے کو یاد دلاتے ہیں غنڈوں کی چھاتی پر پیر لگاؤ اور مہر لگاؤ ہاتھی پر۔ ان سب خامیوں کے باوجود مایاوتی کا آج بھی پلڑا بھاری لگتا ہے۔ ریاست میں انہوں نے کافی کام کیا ہے لیکن آنے والے کچھ مہینے سبھی کے لئے اہمیت کا حامل ہوں گے۔
Read this Article In Hindi: http://anilnarendrablog.blogspot.com/2011/05/5.html

17 مئی 2011

چناؤنتائج کانگریس کیلئے زیادہ خوشی کم غم لیکر آئے ہیں

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع17 مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج کانگریس کے لئے تھوڑی خوشی تھوڑا غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی اس لئے کہ تاملناڈو اور اس کے پڑوسی مرکزی زیر انتظام ریاست پڈوچیری کو چھوڑ کر کانگریس اوراس کی اتحادیوں کا پرچم ہر جگہ لہرایا ہے۔وزیر مرکز میں بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کا ان ریاستوں میں تقریباً پتا ہی صاف ہوگیا۔ پارٹی کیلئے سب سے زیادہ راحت آسام میں ملی جہاں اس نے تیسری مرتبہ اقتدار میں واپسی کی ہے اور پچھلی بار سے بھی زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ کیرل میں اس کی قیادت والا یوڈی ایف اقتدار میں ضرور پہنچا ہے لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ جہاں اس کی نیا کبھی بھی ڈوب سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں پوری جیت ممتابنرجی کی ہوئی ہے جبکہ تاملناڈو میں جہاں ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ بڑا اشو تھا جس وجہ سے یہاں ڈی ایم کے کا صفایا ہوگیا۔ پڈوچیری بھی کانگریس کے ہاتھ سے نکل گیا اور سب سے خطرناک خبر کانگریس کے لئے آندھرا پردیش سے آئی ہے جہاں اپنے سب سے بڑے گڑھ میں ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کے بڑے نیتا چناؤ بری طرح ہار گئے ہیں بلکہ اس کے باغی لیڈر جگن موہن ریڈی اور ان کی ماں جیت گئی ہیں۔
اگر مرکزی سیاست کو دیکھیں تو مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کا اکیلے اکثریت پاجانا کانگریس اور یوپی اے لیڈر شپ کے لئے پریشانی کھڑی کرسکتا ہے۔ ممتا کا اب یوپی اے سرکار میں نہ صرف دبدبہ بڑھ جائے گا بلکہ اس کی سودے بازی کا حق بھی زیادہ ہوجائے گا۔ یہ ہی حال جے للتا کا بھی ہوگا۔ جے للتا کی سودی بازی کی طاقت کے بارے میں تو کانگریس کو اچھا تجربہ ہے۔ ممتا نے کانگریس کو مغربی بنگال سرکار میں شامل ہونے کو کہا ہے اور سرکار میں شامل ہونے کا فیصلہ کانگریس کو کرنا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو اس کے پاس ہاں کہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔مرکزی سرکار میں اگرچہ دونوں پارٹیاں شامل ہیں تو مغربی بنگال میں کیوں نہیں۔ کانگریس کے کچھ لیڈروں کی مانیں تو ممتا کی شاندار جیت میں کانگریس کی حکمت عملی کچھ وقفے کے لئے پنکچر کردی ہے۔ کل ملا کر ریاست اور مرکز دونوں کی سیاست کے حساب سے ترنمول کا گراف اس وقت کافی اونچا ہے۔
ان پانچ ریاستوں کے نتیجے کو کانگریس نے لیڈ میچ مانتے ہوئے اگلے سال ہونے والے اترپردیش۔ پنجاب۔ اترا کھنڈ کے کواٹر فائنل کی شروعات کردی ہے۔ نتیجوں کا جائزہ اور آگے کی حکمت عملی بنانے کی میٹنگوں کا دور شروع ہوچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکار میں جہاں مغربی بنگال کے نتیجے پرنب مکھرجی کی طاقت میں اضافہ کرسکتے ہیں وہیں تاملناڈو میں کانگریس کی ہوئی کرکری پی چدمبرم کی اہمیت پر سوال کھڑے کر سکتی ہے۔ ممتا کے وزیر اعلی بننے سے خالی ہونے والی ریل وزارت کی کمان کس کو سونپنے کے ساتھ ساتھ کئی سینئر وزراء کے دماغوں میں محکموں میں رد و بدل کرکے حکومت اور تنظیم کو اگلے سال ہونے والے اترپردیش پنجاب اور اتراکھنڈ و آخر میں گجرات اور ہماچل کے چناؤ کیلئے تیار کرنا کانگریس لیڈر شپ کی اب ترجیح ہونی چاہئے۔ کل ملاکر یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان پانچ ریاستوں کے نتیجے کانگریس کے لئے زیادہ خوشی اور کم غم لیکر آئے ہیں۔

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...