Translater

15 ستمبر 2012

راہل گاندھی کی قابلیت ، قیادت و اہلیت پر اٹھے سوال


وزیراعظم منموہن سنگھ کو ناکارہ کہنے والے مغربی اخبار اب کانگریس کے نوجوان لیڈر راہل گاندھی کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ مشہور اخبار ’دی اکنامسٹ‘ نے کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی کی قابلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کچھ سال پہلے انہوں نے بیان دیا تھا کہ جب بھی وہ نوجوانوں سے ملتے ہیں تو وہ ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ وہ بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہیں لیکن میگزین نے اپنے مضمون میں اس بات پر ہی سوال اٹھا دیا ہے کہ راہل کو خود معلوم نہیں وہ کیا بننا چاہتے ہیں، اور کیوں بننا چاہتے ہیں؟ مضمون میں راہل کی شخصیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں کنفیوز اور ایک غیر سنجیدہ شخص بتایا ہے۔ ’دی راہل پرابلم‘ ٹائٹل سے شائع اس مضمون میں سوال کیا گیا ہے کہ راہل گاندھی کا نظریہ آخر کیا ہے۔ مضمون میں سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ راہل گاندھی کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بات کوئی نیتا جانتانہیں۔یہاں تک کہ راہل خود بھی نہیں جانتے۔ ہر کوئی راہل گاندھی کو پرموڈ کرنے میں لگا ہے انہیں اپنی ماں اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کا جانشین مانا جاتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ 2014ء میں عام چناؤ کا پرچار شروع ہونے سے پہلے ہی وہ اپنی صلاحیت کی جھلک دکھائیں۔ ریاستوں میں ہوئے چناؤ میں بھی راہل نے پبلسٹی کا مورچہ سنبھالا تھا لیکن نتیجہ کوئی خاص نہیں رہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو راہل میں ابھی تک اعلی لیڈر شپ کی جھلک نظر آئی اور نہ ہی ان میں اپنے کام کو لیکر دیوانگی دیکھنے کو ملی ہے۔ مضمون میں آگے کہا گیا ہے کہ انا ہزارے کے انشن کے دوران جب بھی سونیا گاندھی بیرونی ملک کے دورہ پر گئی تھیں تب راہل کے پاس خود کو اچھا منتظم ثابت کرنے کا موقعہ ملا۔ لیکن وہ خاموش ہوکر کہیں چھپے رہے۔ پارلیمنٹ میں وہ اس مسئلے پر بولیں لیکن اس میں بھی وہ غلط صلاح دیتے نظر آئے۔ ادھر کولکاتہ میں سماجوادی پارٹی نے مرکز کی یوپی اے سرکار کو بے سمت قراردینے کے بعد کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی کو نشانہ بنایا ہے۔ کولکاتہ میں سپا کے دو روزہ قومی ایگزیکٹو اجلاس میں پیش سیاسی و اقتصادی تجاویز پر اخبار نویسوں سے بات چیت کرنے آئے پارٹی کے جنرل سکریٹری موہن سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی میں لیڈر شپ سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے اور وہ مرکزی سرکار اور کرپشن کے سمندر میں ڈبکی لگا رہے ہیں۔راہل گاندھی کو گھیرتے ہوئے سپا کے ترجمان موہن سنگھ نے کہا کہ دیش بھر کے اخباروں و جریدوں و سیاسی مبصرین کا تجزیہ ہے کہ راہل گاندھی ملک گیر یا عوام سے مفاد عامہ سے وابستہ اشوز پر فیصلہ لینے میں نا اہل رہے ہیں۔ ویسے بھی دیش کے کسی بھی اشو یا مسئلے پر بولتے نظر نہیں آتے۔ جنتا سے جڑے کسی بھی معاملے کو انجام تک نہیں پہنچا پاتے تو دیش کی کمان کیسے سنبھال سکتے ہیں؟ پچھلے دو برسوں میں راہل گاندھی لوک سبھا میں چپ چاپ بیٹھے رہے جبکہ کئی حساس ترین موضوع پر بحث ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا گذشتہ دو برسوں میں ہمیں ایک بھی موقعہ نہیں ملا جب ہم یہ سنتے ہیں کہ کئی مسئلوں کا سامنا کررہے ملک سے وابستہ حساس معاملوں پر راہل نے پارلیمنٹ میں اپنی کوئی رائے رکھی ہو۔ جب کسی نے انہیں بولتے ہوئے سنا ہی نہیں کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ان کے ہاتھوں میں دیش محفوظ ہے۔ بھاجپا تو ہمیشہ ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتی ہے اور وہ بھلا کیسے پیچھے رہ سکتی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان راجیو پرتاپ روڑی نے کہا مہنگائی ہو یا کرپشن کا اشو یا پھر کوئلہ بلاک الاٹمنٹ پر بحث چل رہی ہو ، ہم نے راہل کو بولتے نہیں سنا۔ یہاں تک کہ انہوں نے 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے پر بھی کچھ نہیں بولا۔ جس میں سابق وزیرمواصلات اے ۔راجہ کو جیل جانا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کا اشو تقریباً ایک مہینے سے جاری ہے لیکن راہل نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔ راہل برانڈ ہمیں تو کہیں نظر نہیں آیا۔ کانگریس میں راہل کا بڑا رول آنے سے متعلق پوچھے جانے پر ایک سوال میں روڑی نے کہا جب 42 سال میں کوئی فٹ نہیں بیٹھ رہا ہے تو کیسے کہا جائے کہ52 سال میں وہ فٹ بیٹھے گا؟ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ فیصلہ کانگریس کو ہی کرنا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیسی فٹ نیس کی بات کررہے ہیں تو انہوں ن نے جواب دیا سیاسی، انتظامی اور ذہنی۔ خبر ہے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف کانگریس پوری طاقت جھونک رہی ہے لیکن اس مقابلے میں پارٹی سکریٹری جنرل راہل گاندھی کو آگے نہیں لائے گی۔ اترپردیش چناؤ کے نتیجوں سے سیاسی حقیقت کے پیش نظر کانگریس نے مودی بنام راہل کی بحث کو مسترد کردیا ہے۔ کل ملا کر راہل گاندھی کی صلاحیت کو لیکر سیاسی سوجھ بوجھ، سیاست میں دلچسپی سبھی طرح کے سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ کانگریس یہ کہہ سکتی ہے کہ ہمیں کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے لیکن جو سوال اٹھائے جارہے ہیں ان کے جواب و محاسبہ کانگریس پارٹی کو ہی کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

ہندوستانیوں کی رگ رگ میں بسا ہے سونا


ایک زمانہ تھا جب بھارت کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ تھی بھارت اتنا خوشحال تھا کہ دنیا ہمیں سونے کی چڑیا کہا کرتی تھی۔ سونے کی للک تو آج بھی بھارت میں بہت ہے پتہ نہیں بھارت میں کتنا سونا ہے؟ ہر گھر میں کھانے کے لئے ضروری سامان نہ ہو لیکن سونے کے زیورات ضرور مل جائیں گے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ سکیورٹی ہے۔ بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ گھر میں سونا آڑے وقت میں کام آتا ہے اس لئے سونے کو برے وقت کیلئے بیمے کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ لیکن سونے کی مانگ نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئے ہیں اور سونا اتنا مہنگا ہوگیا ہے کہ وہ32 ہزار روپے کی قیمت کی اونچائی چڑھ بیٹھا ہے۔ سونا ریکارڈ پر ریکاڈر بناتے ہوئے رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بیرونی ممالک میں آئی تیزی قومی راجدھانی کہ صرافہ بازار میں سنیچر کے روز32450 روپے فی دس گرام کی نئی چوٹی پرپہنچ گیا ہے۔اسی طرح چاندی2100 روپے سے چھلانگ لگا کر 61800 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔ بڑھتے افراط زر سے اپنے پیسے کو محفوظ رکھنے کے مقصد سے سرمایہ کار سونے کی خرید پر ٹوٹ پڑے ہیں نتیجہ نیویارک میں بین الاقوامی بازار میں پیلی دھات 34 ڈالر کا اچھال آیا ہے۔ یہ اس سال فروری کے بعد سے اس میں آئی سب سے بڑی تیزی مانی جاتی ہے۔ گھریلو بازار میں بھی پوری طرح سے یہ تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ آگے داموں کے اور بڑھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ اگلے ماہ تہواری سیزن شروع ہونے والا ہے اور اسٹاک پہلے سے ہی جمع کرنے میں دوکاندار جٹ گئے ہیں۔ ایسا کیا ہے سونے میں؟ مانا یہ نایاب ہے لیکن اتنا نہیں جتنی حکمرانوں میں ایمانداری ہے۔ وہ سونا پچا بھی لیتے ہیں لیکن سونے کے بسکٹ چائے میں ڈبوکر کھا نہیں سکتے۔ سونے کے پلنگ پر سنہرے خواب آئیں گے یہ ضروری نہیں۔ اکثر کھلنائکوں کو دانتوں میں چمکنے والے سونے کی بتتیسی کیوں کھلی رہتی ہے؟ پرانی کہانیوں میں یونانی راجہ میڈوف کو یہ وردان تھا کہ وہ جس چیز کو چھوتا وہ سونے کی ہوجاتی تھی لیکن وہ بھوک سے ہی مرا۔ عمر زیادہ ہونے پر چاہتے ہوئے بھی من پسند کھانے کو ہاتھ نہیں لگا پاتے۔ ہندوستان میں مریادہ پرشوتم کی ایودھیا ان کے کھڑاؤں پر کھڑی رہی اور سونے کی لنکا چرمرا کر گر گئی۔ تاریخ کی یہ سطریں ہی بھارت سونے کی چڑیا ہوتا تھا۔ تعظیم ہے تیمور لنک سے لیکر نادر شاہ تک سونے کی تلاش میں آتے تھے۔ بہت خون بہاتے اور لوٹ کے لے جاتے تھے۔ سونے کے مندر ، سونے کی مورتیاں، زیورات اور سونے کی زنجیریں۔ دنیا کے کل گھریلو پیداوار میں ہماری حصہ داری پانچ فیصد ہے لیکن سونے کی کھپت25 فیصد ہے۔ خستہ اقتصادی حالت ہونے کے بعد بھی پچھلے سال بھارت نے 1067 ٹن سونا خریدا۔ڈالرکے سامنے ہماری دمڑی کی چمڑی نکل گئی۔ ماہر اقتصادیات کہتے ہیں جب جب اقتصادی بحران کھڑا ہوتا ہے لوگوں کا کاغذ کے نوٹوں پر سے بھروسہ گھٹ جاتا ہے اور سونے کا سکہ من پسند بن جاتا ہے۔ درآمد شدہ دسوں ٹن سونے میں 720 ٹن ہم نے پہن لئے ہیں باقی لاکر میں بند ہیں۔ سرمایہ کاری میں جو دام میں بڑھتا ہے کام میں نہیں۔ کمربند کا سونا کسی کو روزگار نہیں دیتا۔ زمین سے نکلنے والا ہر ایک ٹن سونا ایک آدمی نگل لیتا ہے۔ درجن بھر کو اپاہج کردیتا ہے۔ ان سب کے باوجود بھارت میں سونے کی مانگ مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سونا آج تیس ہزاری ہوگیا ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ یہ قیمت کہاں جاکر ٹھہرے گی یہ آج کوئی نہیں بتا سکتا۔ (انل نریندر)

14 ستمبر 2012

سہما امریکہ:9/11 کے بعد دوسرا بڑا حملہ


منگل کے روز امریکی تاریخ کے سب سے خوفناک آتنک وادی حملے 9/11 کی برسی تھی۔ نیویارک میں زیروگراؤنڈ دی پینٹاگن ،پینسلوانیا اور واشنگٹن ڈی سی نے اس خوفناک حملے کی گیارہویں برسی پر تین ہزارلوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔11 ستمبر2001 کو ہوئے آتنکی حملوں کی برسی پر سادگی سے پروگرام منعقد کئے گئے۔جس وقت امریکہ 9/11 کے غم میں ڈوبا ہوا تھاہزاروں میل دور واقع دیش لیبیا کے شہر بین غازی میں امریکی سفارتخانے پر ایک زبردست حملہ ہورہا تھا۔9/11 حملوں کے بعد اگر یہ کہا جائے کہ یہ امریکہ پر دوسرا بڑا حملہ تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ہزاروں مظاہرین نے راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں اور بموں سے امریکی قونصل خانے پر حملہ بول دیا۔ یہ اتنا خوفناک تھا کہ لیبیا میں امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیون اور تین دیگر امریکی اسٹاف کے لوگ مارے گئے۔ کرسٹوفر منگلوار کو لیبیا کے مشرقی شہر بین غازی گئے تھے۔سفیر سفارتخانے میں موجود تھے جب ہزاروں مظاہرین نے اس پر حملہ بول دیا۔ مظاہرین پیغمبر اسلام کے خلاف بنائی گئی ایک فلم سے ناراض تھے۔ دراصل اس فلم کی وجہ سے ہی فساد بھڑکا۔ یوٹیوب پر اس کا 14 منٹ کا ٹریلر جاری ہوا تھا۔ الزام ہے کہ اس میں پیغمبر صاحب کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ کیلیفورنیا کا رہنے والا ایک شخص ملڈرسیم کاسلے اس کا پروڈیوسر ،ڈائریکٹر ہونے کا دعوی کرتا ہے وہ خود کو اسرائیلی بتاتا ہے لیکن اسرائیلی حکومت نے اس سے کوئی تعلق ہونے سے انکار کردیا ہے۔ نیوز چینل الجزیرہ نے لیبیا کے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ بندوقوں سے مسلح سینکڑوں مظاہرین نے فائرنگ کی اور سفارتخانے پر راکٹ لانچروں سے حملہ کیا۔ اس کی وجہ سے لیبیائی سکیورٹی عملے سے مڈبھیڑ ہوئی۔ مظاہرین نے سفارتخانے میں آگ لگادی۔ سفیر اسٹیون سفارتخانے میں گھرے لوگوں کو بچانے کے لئے جب پہنچے تو راکٹ آکر گرے اور راکٹوں کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ اس سے پہلے مصر کی راجدھانی قاہرہ میں بھی فلم کو لیکر اسلامی مظاہرین نے امریکی سفارتخانے پر مظاہرہ کیا۔ مسلم برادر ہڈ کے ورکر سفارتخانے کی دواروں پر چڑھ گئے اور وہاں امریکی جھنڈے کو اتار کر اسلامی جھنڈا لگادیا۔ کرسٹوفر اسٹیون دوسرے امریکی سفیر ہیں جو اس طرح کے حملے میں مارے گئے تھے۔ اس سے پہلے افغانستان میں امریکی سفیر ایڈولف ڈفس کی کابل میں 1979 ء میں موت ہوگئی تھی۔ عربی اور فرانسیسی بولنے والے امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیون لیبیا میں انقلاب کے گواہ تھے۔ پچھلے سال لیبیا میں قزافی حکومت کے خلاف جو بغاوت ہوئی تھی بین غازی اس کے مرکز میں تھا۔ اسٹیون نے کہا تھا مجھے فخر ہے کہ انقلاب کے دوران میں وہاں سفیر رہا۔ لیبیائی لوگوں کو حق مانتے ہوئے دیکھا تو میں حیرت میں پڑ گیا۔ حملے میں دو مرین فوجی اور ایک وزارت خارجہ کا افسر مارے گئے تھے۔ مظاہرین کے مطابق القاعدہ سے وابستہ تنظیم انصارالشرعیہ کے لوگوں نے مشینی بندوقوں، راکٹ، گرینیڈ رائفلوں سے حملہ کیا تھا۔قزافی کے حمایتی بھی حملہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ صدر براک اوبامہ نے کرسٹوفر اسٹیون کو ایک ہمت والا نمائندہ بتایا۔ ہم ان کے خاندان کے ساتھ ہیں اور ان کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے دوگنی طاقت لگادیں گے۔ امریکہ میں یہ چناوی سال ہے۔ صدر براک اوبامہ کے لئے یہ ایک بڑی چنوتی ہے۔ اسامہ بن لادن کو مارنے کا سہرہ اس حملے سے کچھ پھینکا ضرور پڑ جائے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ حملے کا امریکہ کیا جواب دیتا ہے۔ ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ بین غازی اور قاہرہ کے حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن سی این این کے مطابق قاہرہ میں امریکی سفارتخانے کی سیڑھیوں سے ملے ایک کالے رنگ کے جھنڈہ پر لکھا تھا ’’اللہ کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں ہے اور محمدان کے پیغمبر ہیں‘‘۔ عام طور پر القاعدہ ہی ایسے نعروں کا استعمال کرتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دو دن پہلے ہی امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے خبردار کیا تھا کہ القاعدہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ 9/11 حملے کی برسی پر القاعدہ نیتا ایان الظواہری نے ویڈیو سندیش جاری کیا ہے۔ القاعدہ کی سائٹ پر ڈالے گئے ویڈیو میں اس نے دعوی کیا کہ اس کے جنگ بازوں نے عراق میں امریکہ کو ہرادیا ہے۔ سچ سامنے آیا ہے اورجھوٹ ختم ہوا۔57 منٹ کے ویڈیو میں لادن کے ترجمان آدم احسان و دیگر القاعدہ لیڈروں کے بیان ہیں۔ امریکی عوام ایک بار پھر اوبامہ انتظامیہ سے سوال کرے گی کہ آخر امریکی خفیہ ایجنسیاں کیا کررہی تھیں؟ کیا سی آئی اے کو بین غازی میں اتنے بڑے حملے کی بھنک تک نہیں لگی؟ ایک بار پھر سی آئی اے فیل ہوگیا ہے۔
(انل نریندر)

گٹکھے پر دلی حکومت نے پابندی تو لگادی پر عمل کیسے ہوگا


حکومت دلی نے پیر کو گٹکھے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلی میں اب گٹکھا نہ تو بک سکے گا اور نہ ہی بنے گا۔ سرکار نے گٹکھا اور اس سے جڑی چیزوں کی پیداوار اور بکری اور نمائش اور لانے لیجانے اور ذخیرے پر پابندی لگادی ہے۔ پڑوسی ریاست ہریانہ نے15 اگست کو ہی گٹکھے پر پابندی لگا دی تھی۔ گجرات نے11 ستمبر سے ریاست میں گٹکھے کو بیچنے ، اس کا ذخیرہ کرنے یا تقسیم کرنے پر پابندی عائد کردی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں گٹکھا صحت کے لئے انتہائی نقصاندہ ہے۔ گٹکھا کھانے سے نہ صرف دانت خراب ہوتے ہیں بلکہ کینسر بھی ہوتا ہے۔ گٹکھے میں موجودہ تمباکو و کیمیکل جسم پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ کینسر ماہرین کے مطابق سر اور گلے کے کینسر سے بیماری میں سے زیادہ تمباکو کھانے کی عادت سے لوگ کینسر کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ سگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ گھنٹوں تک ہمارے منہ کے اندر رہتا ہے۔ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ بھارت میں تمباکو یعنی گٹکھا یا کھینی کے طور پر تمباکو کھانے کا زیادہ چلن ہے۔ یہ ہی وجہ ہے دیش میں سر اور گلے کے کینسر کے مریضوں میں تیزی آرہی ہے اور یہ 90 فیصدی تمباکو کی وجہ سے ہورہے ہیں۔ ایک کینسر ماہر ڈاکٹر سدرشن کی مانیں تو گٹکھے میں صرف تمباکو نہیں ہوتا بلکہ کئی طرح کے کیمیکل ہوتے ہیں جو کینسر کے لئے ذمہ دار ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت محض قانون بنانے سے گٹکھے پر پابندی لگا پائے گی؟ سب سے پہلے بات دلی سرکار جس کے غذائی ملاوٹ محکمے کو اس پابندی کے خلاف کارروائی کرنے کو کہے گی اس کے پاس کیا اتنے ملازم ہیں کہ وہ سختی سے دلی میں پابندی پر عمل کراسکے؟ ہماری معلومات کے مطابق اس محکمے میں محض70 ملازم ہیں۔وہیں راجدھانی میں دو درجن برانڈ کے گٹکھے بنانے والی تقریباً30 کمپنیاں ہیں اور روزانہ دو کروڑ سے زیادہ گٹکھے اور دیگر تمباکو مصنوعات کی کھپت ہوتی ہے۔ دلی میں قریب دو ہزار بڑے اور منجھولے سطح کی دوکانوں پر گٹکھے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ راجدھانی میں ایک لاکھ سے زائد پنواڑی و چھوٹے چھوٹے کھوکھوں سے گٹکھے کی خوردہ بکری ہوتی ہے ایسے میں اتنے کم ملازمین کے بھروسے گٹکھے پر پابندی کیسے لگے گی؟ سرکار کو گٹکھے پر ٹیکس کے ذریعے کروڑوں روہے کا محصول ملتا ہے۔ اس پر سرکار نے 20 فیصدی ویٹ بھی لگا رکھا ہے جبکہ پان مسالے پر ساڑھے بارہ فیصدی ویٹ لگا ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دلی میں مہینے کا قریب100 کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ پان مسالہ گٹکھے کا سب سے بڑا کاروبار دلی کے علاقے نیا بانس سے ہوتا ہے۔ سرکار کے فیصلے سے تاجر خاصے ناراض ہیں حالانکہ وہ گٹکھے کے نقصان سے بھی واقف ہیں ۔ یہاں کے ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اشوک کمار جین نے بتایا ملک کی تجارت تہس نہس کرنے کے لئے اور غیر ملکی سگریٹ کمپنیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے یہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ہماری رائے میں سارے حالات کو دیکھتے ہوئے پابندی لگانا شاید مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ ضرورت ہے صارفین کو بیدار کرنے کی۔ پابندی سے صرف کالا بازاری بڑھے گی۔ کہیں اس پابندی کا حشر بھی پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی ممنوع کی طرح نہ ہو؟ پابندی لگانا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔
(انل نریندر)

13 ستمبر 2012

اسیم ترویدی کی حکمرانوں کی بڑھتی بوکھلاہٹ کی مثال


کیا ہماری حکومت فاسزم کی طرف بڑھ رہی ہے۔اب وہ کسی طرح کی تنقید برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ ہمارے دیش میں کب کوئی کتاب، تصویر، کہانی یا نظم یا کارٹون کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کچھ دنوں پہلے قومی تعلیمی کونسل یعنی این سی آر ٹی کے نصاب میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو لیکر65 سال پہلے شائع ایک کارٹون کو دلتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا قراردے دیا گیا اور زبردست احتجاج کے چلتے اس کو کتاب سے ہٹانا پڑا۔ اس واقعہ کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد مغربی بنگال میں ایک پروفیسر کے بنائے کارٹون سے وزیراعلی ممتا بنرجی خفا ہوگئی تھیں اور بنانے والے کارٹونسٹ کو جیل کی ہوا کھانی پڑی تھی۔ اب کانپورک ے ایک کارٹونسٹ اسیم ترویدی کے بنائے کچھ کارٹونوں کو آئین سے مذاق اڑانے والا مانتے ہوئے ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک مقامی وکیل کی شکایت پر ترویدی کو ملکی بغاوت کے الزام میں گرفتار کر اس کی ویب سائٹ کارٹون اگینسٹ کرپشن ڈاٹ کوم پر پابندی لگادی۔ اسیم ترویدی کون ہے ، ان کو کیوں ملزم بنایا گیا؟ اسیم ترویدی ایک کارٹونسٹ ہیں وہ پچھلے ایک سال سے ٹیم انا کی انڈیا اگینسٹ کرپشن سے جڑے ہوئے ہیں۔ ممبئی میں چلی انا تحریک کے دوران بھی اسیم کے کئی کارٹون پچھلے سال ایم ایم آر ڈی اے میدان پر لگائے گئے تھے۔ انہی میں سے ایک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ متنازعہ کارٹون میں اشوک چکر میں شیر کی جگہ بھیڑیا بنایا گیا اور ستیہ مے جیتے کے بدلے بھرشٹ میں جیتے لکھا گیا ہے۔ اسیم کے خلاف بغاوت اور آر پی آئی کے ممبر امیت نیپا نے شکایت درج کرائی تھی۔ ممبئی پولیس نے اسیم کے خلاف دفعہ 124 (بغاوت) آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ66A اور قومی علامت قانون کی دفعہ2 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ کارٹونسٹ ترویدی نے ضمانت لینے سے منع کردیا تھا اور پولیس اب پوچھ تاچھ کرنا نہیں چاہتی۔ آخر کار عدالت نے پیر کو اسیم کو14 دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا تھا۔ اسیم ترویدی کی گرفتاری کی ہر سطح پر مخالفت ہوئی اور ہونا بھی چاہئے تھی۔ ترویدی کی گرفتاری کو ایک سنگین جرائم قراردیتے ہوئے انڈین پریس کونسل کے چیئرمین مارکنڈے کاٹجو نے بھی کہا کہ اس واقعے کے پیچھے جو سیاستداں اور پولیس ملازم شامل ہیں انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے۔ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ اسیم کی گرفتاری سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں میں بوکھلاہٹ کی کمی نہیں بلکہ ان کے اندر صبر کا احساس کم ہے۔اتنا ہی نہیں ان میں اچھائی برائی کی سمجھ کی بھی کمی ہے کے کارٹون ایک ایسی ودیا ہے جس میں کسی کی تعریف نہیں کی جاتی بلکہ احتجاج یا کٹاش کیا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے طنز اور احتجاج کی اس کلا کو بغاوت سے تشبیہ دے دی۔ بھاجپا نے پیر کو کہا کہ اسیم ترویدی کی گرفتاری اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کی تنقید کرنے والے آرٹیکل کے خلاف کارروائی اگر ایسے واقعات ہیں جو غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسے حالات کر احساس کرا رہے ہیں۔ پارٹی ترجمان شاہنواز نے سرکار کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ مانا آپ کے پاس طاقت ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی تنقید ہونے پر غیر اعلانیہ ایمرجنسی لگادیں۔انہوں نے کہا کہ پالیسیوں اور ناکامیوں کا ذکر کرنے والے آرٹیکل کے ذریعے واشنگٹن پوسٹ پر معافی مانگنے کا دباؤ بنانااور کرپشن کے خلاف کارٹون بنانے والے اسیم ترویدی کے خلاف احتجاج میں کارٹون بنانے والے اسیم ترویدی کو جیل میں بند کردینا حالانکہ کچھ ایسے واقعات ہیں جو اشارے دے رہے ہیں کہ یہ سرکار دیش میں اظہار آزادی کے لئے خطرہ بن گئی ہے۔ قانونی واقف کاروں کے مطابق اسیم پر ملکی بغاوت کا کیس نہیں بنتا۔ پولیس جب اس معاملے میں چھان بین کے بعد اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی تو پولیس کے لئے یہ الزام ثابت کرنا خاصا مشکل ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل تلسی نے کہا کہ کارٹونسٹ نے کارٹون کے ذریعے اپنے اندر کا غصہ نکالا ہے۔ کسی آدمی کے اندر اگر اس قدر غصہ ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ دیش سے پیارکرتا ہے نہ کے وہ دیش دروہی ہے۔
(انل نریندر)

چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ کی ہندوستانی پائلٹوں کو نقدی بھینٹ؟


حال ہی میں بھارت میں آئے چینی وزیر دفاع نے وہ کام کیا جس کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ بیحد چونکانے والے قدم میں چینی وزیر دفاع جنرل لیانگ گوانگ لئی نے ممبئی سے دہلی لے کر آئے ہندوستانی ایئرفورس کے پائلٹوں کو نقد 1 لاکھ روپے کا تحفہ دیا ہے۔ حالانکہ سفارتی سنجیدگی کا لحاظ کرتے ہوئے یہ پیسہ لوٹایا نہیں گیا ہے لیکن سرکاری قواعد کے مطابق اس رقم کو خزانے میں جمع کرادیا گیا ہے۔ ایئرفورس کے ذرائع نے بتایا مہمان وزیر دفاع نے طیارے کے کپتان کو تحفے میں ایک لفافہ دیا۔ چینی وزیر دفاع کے جانے کے بعد جب پائلٹ نے اسے کھولا تو اس میں نقد رقم تھی۔ معاملے کو مین کمانڈ کی روایت کے مطابق اعلی افسران تک پہنچادیا گیا۔ غیر ملکی مہمانوں کے ذریعے گھریلو اڑان کے دوران پائلٹوں کو علامتی تحفے کی روایت تو ہے لیکن اس سلسلے میں چینی روایت کیا ہے کہنا مشکل ہے لہٰذا رشتوں و جذبات کی قدر کو ذہن میں رکھتے ہوئے رقم کو لوٹایا نہیں گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایئر فورس کے دو پائلٹوں کو ایک لاکھ روپے کی سوغات دینے کے بعد چین کے وزیر دفاع بھارت کے وزیر دفاع اے کے اینٹونی کے ذریعے دی گئی دعوت پر ایئرفورس کے بینڈ کو بھی ایسا ہی تحفہ دینا چاہتے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوپایا کیونکہ ہندوستانی فریق نے یہ کہتے ہوئے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا کہ ایسی کوئی روایت ہمارے دیش میں نہیں ہے۔ یہ بات 4 ستمبر کی ہے جب شام کو جنرل لیانگ انڈیا گیٹ کے قریب واقع ایئرفورس کے آکاش افسربھیس میں تھے۔ اس دوران ایئرفورس کا بینڈ ہندی اور چینی زبان میں گانے بجا رہا تھا جو چینی فریق کو پسند آئے۔ ذرائع نے کہا پروگرام کے آخر میں ایئرفورس کے بینڈ کو چینی فریق نے کوئی سوغات نہیں دی۔ کیا جنرل لیانگ نے یہ غلطی کی یا پھر اس کے پیچھے کوئی مقصد تھا؟ ہندوستانی سکیورٹی حکام اور ماہرین کے مطابق یہ کوئی غلطی نہیں تھی یہ تو ہمارے پائلٹوں کی نیت کو آزمانا تھا۔ یہ دیکھنا تھا کہ کل کو پیسے سے ان سے جاسوسی بھی کرائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ کیا ہندوستانی پائلٹ رشوت لے سکتے ہیں؟ ایسے واقعات سے دونوں ملکوں میں عدم اعتماد کا ماحول بڑھے گاگھٹے گا نہیں۔ یہ کسی سے پوشیدہ بھی نہیں کہ ہر طرح کے ہتھکنڈے چین اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے اپناتا رہا ہے۔ کبھی کبھی ایسے معاملے بنائے بھی جاتے ہیں کہ چلو دانا ڈالو دیکھیں کے مستقبل میں کیا ہمارے کام آسکتے ہیں؟ چینی ہرکام سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ ایک غلطی تھی جو بھول چوک سے ہوگئی۔ چین بھارت کا کبھی دوست نہیں ہوسکتا۔ چاروں طرف سے وہ بھارت کو گھیرنے کی سازش میں لگا رہتا ہے۔ پاکستان تو اس کی مٹھی میں آچکا ہے۔ پاکستانی کشمیر میں چین تیزی سے گھس پیٹھ کر قبضہ کرتا جارہا ہے۔ آئے دن وہ بھارت کو 1962ء کی جنگ کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ چین سے بھارت کو ہمیشہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے موقعہ ملتے ہی یہ بھارت کو ڈرانے سے نہیں چوکتا۔
(انل نریندر)

12 ستمبر 2012

سچن تندولکر کے ریٹائرمنٹ پر چھڑی بحث


ماسٹر بلاسٹرسچن تندولکر کے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں لگاتار تین بار بولڈ ہونے پر سابق ٹیم انڈیا کے کپتان سنیل گواسکر نے تنقیدی لہجے میں رائے زنی کیا کی کہ کرکٹ کی دنیا میں سچن کے سنیاس کو لیکر جذباتی جنگ ہی چھڑ گئی۔ دراصل سچن تندولکر کی پریشانی یہ ہے کہ آج کل ان کا حوصلہ کچھ کمزور ہوا ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف تین بار بولڈ ہونے پر ان کے اپنے ہی مخالف بن گئے ہیں کیونکہ پچھلی25 پاریوں میں وہ سنچری اس لئے نہیں بنا پائے کیونکہ ان کے کرکٹ کیریئر پر سنکٹ نظر آرہا ہے۔ آؤٹ ہونے پر غصہ بھی سوالوں کے گھیرے میں رہا ہے۔ ابھی کچھ ہفتے پہلے سچن نے کہا کہ جب ان کی خواہش ہوگی وہ سنیاس لے لیں گے۔ اس بارے میں انہیں کسی کی رائے کی ضرورت نہیں ہے لیکن چند دنوں میں ہی حالات بدلنے لگے ہیں اور ان کے پرستار اور چاہنے والے بھی فکر مند ہیں۔ کچھ کہنے لگیں ہیں کہ سچن پر عمر حاوی ہوتی جارہی ہے۔جس وجہ سے ان کا صبر اور حوصلہ اور پائیداری ختم ہورہی ہے۔ مہان کرکٹر کپل دیو کا کہنا ہے سچن کے لئے عمرکوئی معنی نہیں رکھتی۔ ایسی کئی مثالیں ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ 39 سالہ سچن ریٹائر ہونے کے لئے تیار ہیں۔ ٹینس کھلاڑی لینڈر پیس39 سال کی عمر میں گرینڈ فلیم جیت رہے ہیں۔ آسٹریلیائی کرکٹر رکی پونٹنگ 38 برس کی عمر میں، مائک ہسی 37 اور ساؤتھ افریقہ کے جوف کیلس 37 اور ویسٹ انڈیز کے چندر پال 38 سال کی عمر میں مسلسل اچھا کھیل رہے ہیں۔ایسے17 کھلاڑی ہوئے ہیں جنہوں نے40 سے46 سال کی عمر کے درمیان ٹیسٹ سنچری لگائی ہیں۔ ویریندر سہواگ کہتے ہیں سچن مایوسی میں بھی نوجوان کھلاڑیوں کے برابر پریکٹس کرتے ہیں۔ وراٹھ کوہلی کے بعد کرکٹ کے بیچ سب سے تیز سچن ہی دوڑتے ہیں۔ سچن کے قریبی ہربھجن سنگھ نے یاد دلایا ہے کہ 10 سال پہلے بھی ایسا دور آیاتھا۔ 2002ء میں انگلینڈ میں جاری سیریز کے دوران لاڈس اور نوٹنگھم ٹیسٹ میں مسلسل تین پاریوں میں بولڈ ہوئے۔ انگلینڈ کے میڈیا نے لکھا ہے ان کا فٹ ورک پہلے جیسا نہیں رہا اور بیٹ اور پیڈ کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ سچن نے اپنے انداز میں ان تنقید کرنے والوں کا جواب دیا ہے۔ لاڈس ٹیسٹ میں 193 رن اور اوول ٹیسٹ میں54 رن بنا ڈالے۔ دوسری طرف سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ اب سچن کا جسم ان کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ بڑھتی عمر کے سبب سچن میں پہلی جیسی چستی پھرتی نہیں ہے۔ ایڈم گلکرسٹ اس کی مثال ہیں۔ وہ2008ء میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کچھ کیچ نہیں پکڑ پائے خود قبول کیا کہ بڑھتی عمرکے چلتے ان کے ریپلیکس کمزور ہوگئے ہیں۔ ان سے ان کی پرفارمنس متاثر ہورہی تھی۔ کسی کو تنقید کا موقعہ نہیں دیا اور سنیاس لے لیا تب وہ36 سال کے تھے۔چیپل کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے پر اسٹیوا کو کہہ دیا گیا تھا کہ یا تو سنیاس لے لیں یا انہیں ٹیم سے باہرکردیا جائے گا جبکہ پچھلی 15 پاریوں میں اوسطاً80 رن ریٹ تھا۔ سچن کی پہلی 15 پاریوں میں اوسطاً 73.4 ۔ ڈیوڈویکلم انگلینڈ کے ستارہ فٹبالر ہیں لیکن انہیں پورا یورو کپ یا اولمپک ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ نوجوان کھلاڑی ان سے بہتر کھیل رہے تھے۔ سورو گانگولی کا خیال ہے کہ صرف میچ پریکٹس کے بھروسے پرفارمنس بہتر نہیں بناسکتا۔ سچن ٹی ٹوئنٹی میچ میں تو کھیلتے ہی نہیں چنندہ ونڈے ہی میچ کھیلتے ہیں ایسے میں انٹرنیشنل میچوں میں بڑا اسکور نہیں بنا پاتے جبکہ آسٹریلیا کے مائک ہسی 37 سال کی عمر میں بھی تقریباً ہر میچ کھیلتے ہیں۔ اب بھی میچ ونر ہیں۔ ایان چیپل کا کہنا ہے کہ سچن اب ٹیم پر بوجھ بن گئے ہیں۔ سچن کا ٹیسٹ اوسط گرتا جارہا ہے۔ ایسا نہ ہوکہ کپل دیو جیسی حالت کا سامنا کرنا پڑے۔کپل 400 وکٹ لے چکے تھے ان کے بعد ہر وکٹ کے لئے جدوجہد کرنی پڑی۔ رچرڈ ہیڈلی(431) کا ریکارڈ توڑنے کے لئے 18 ٹیسٹ اور کھیلے۔ آخر میں کپتان اظہر کو کمبلے سے پچھڑنا پڑا کہ ریکارڈ کے لئے یہ کرکٹ کپل کو لینے دو۔راہل دراوڑ کا کہنا ہے کہ آج بھی سچن کسی نوجوان کھلاڑی جتنے ہی فٹ ہیں۔ سچن ضرور واپسی کریں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ خود سچن پر چھوڑدینا چاہئے۔ آسٹریلیائی کرکٹر میتھو ہیڈن اور شین وارن ، ایڈم گلکرسٹ اور اسٹیوا جیسے سرکردہ کھلاڑیوں نے خود ہی طے کیا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ چاہتے ہیں۔ سب سے بہتر سچن کے لئے اپنے بلے سے تنقید کرنے والوں کا منہ بند کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

دلی والوں کو اب اور بجلی کا جھٹکا


راجدھانی کے باشندے بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں ۔ انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے یہ کیا ہورہا ہے؟ ہر کوئی بجلی کی کھپت کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ باوجود اس کے بجلی کا کرنٹ بڑھتا جارہا ہے۔ بجلی کمپنیوں کے پاور گیم کی وجہ سے صارفین کو بجلی کم خر چ کرنے پر بھی زیادہ بل ادا کرنا پڑ رہا ہے اور آج کے زمانے میں بجلی کے بغیر گذارا بھی نہیں ہے۔ سب کچھ بجلی پر چلتا ہے کم کرو تو کیا؟ بجلی کے دام کے مطابق آپ اگر ایک مہینے میں200 یونٹ سے کم بجلی خرچ کریں گے تو فی یونٹ3.70 پیسے دینے ہوں گے اور اس میں سرکار ہر یونٹ پر 1 روپے کی رعایت بھی دیتی ہے۔ لیکن اگر خرچ200 یونٹ سے زیادہ ہے اور ماہانہ 400 یونٹ سے کم ہے تو فی یونٹ 4.80 پیسے اور اس سے زیادہ بجلی کا خرچ کرنے پر 6.40 پیسے دینے پڑیں گے لیکن بجلی کا بل دو مہینے کا ایک ساتھ آتا ہے۔اگر آپ نے ایک مہینے میں 195 یونٹ خرچ کئے ہیں اور دوسرے مہینے 200 یونٹ تک تب بھی آپ کو پہلے مہینے کی یونٹ کے لئے 4.80پیسے چکانے پڑرہے ہیں کیونکہ دو مہینے کی کل یونٹ485 ہے جسے بجلی کمپنی ہر مہینے 242یونٹ مان کر پیسہ وصولتی ہے۔ آر ڈبلیو اے کے نمائندوں کے مطابق اگر ہر صارفین سے 50 روپے سے بھی زیادہ وصولہ جارہا ہے تو 25 لاکھ صارفین سے یہ کمپنیاں 10 سے15 کروڑ روپے فاضل وصول رہی ہیں اور یہ خوردہ لوٹ ہول سیل فائدہ جیسا ہے۔ کمپنیوں کے پاس ایسی تکنیک ہے کہ وہ ہر دن خرچ ہوئی بجلی کا حساب دے سکیں لیکن جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔موبائل کمپنیاں جس طرح آئٹ مائٹڈ بل دیتی ہیں اسی طرح بجلی کمپنیوں کو بھی بل دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا ابھی جون کے کم دام کی بجلی بھی جولائی کے مہنگے دام کے ساتھ جوڑی جارہی ہے ایسے ہی بجلی کمپنیاں ہیرا پھیری کرتی ہیں۔ مشرقی دلی آر ڈبلیو اے فیڈریشن کے صدر انل باجپئی نے کہا کمپنیوں کو ہرصارفین کو اس کے بل کا پورا حساب دینا چاہئے۔ کمپنیاں کسٹومر کے سلیب کے چکر میں الجھا کر موٹا منافع کما رہی ہیں۔دلی بجلی کی شرحیں بڑھائی جانے کے بعد تقسیم کمپنیوں کے ذریعے بھاری بھرکم رقم کے بل بھیجے جانے سے جہاں بجلی صارفین پریشان ہیں وہیں بھاجپا اور کانگریس کے ممبران بھی کم پریشان نہیں ہوں گے۔ 
چناوی برس ہونے کے چلتے انہیں ڈر ستانے لگا ہے کہیںیہ اشوچناؤ پر بھاری نہ پڑ جائے۔ بھاجپا ممبر اسمبلی جہاں بجلی تقسیم کمپنیوں کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں وہیں کانگریس کے ممبران دبی زبان سے بجلی کمپنیوں کی منمانی سے پریشان ہیں۔ کانگریسی ممبران نے اس کی شکایت وزیر اعلی شیلا دیکشت سے بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کمپنیوں کے ذریعے بجلی کے دام میں تبدیلی لائی جائے اس سے پریشانی ہورہی ہے۔پہلے جو سلیب کے حساب سے بھیجا جاتا تھا اسے ختم کردیا گیا ہے۔ پہلی 200 یونٹ خرچ ہونے اور اس کے بعد کی یونٹ آنے پر سبھی یونٹوں کا بل بڑھی شرحوں سے وصولہ جارہا ہے۔ ممبران کی تجویز تھی بل پہلے کی طرح سلیب کے حساب سے بھیجے جائیں اور 200 یونٹ کی حد بڑھائی جائے تاکہ لوگوں کو زیادہ پریشانی نہ ہو۔ اس سے صارفین پریشان ہیں وہ ادائیگی نہیں کرتے یا کرتے ہیں تو ان کا سارا بجٹ بگڑ جاتا ہے۔
(انل نریندر)

11 ستمبر 2012

کوئلہ کی کالک میں پھنستی جارہی ہے کانگریس


کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کے معاملے میں کچھ گھوٹالوں کی پرتیں کھلتی جارہی ہیں ۔ کانگریس نے سوچا تھا کہ بھاجپا کو وہ گھیر کر گھوٹالے کی مار کو اس کی طرف گھما دے گی اور اپنے کو اس کی آنچ سے بچا لے گی پر سی بی آئی نے جس ڈھنگ سے کارروائی شروع کی ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ کانگریس اور اس یوپی اے سرکار کی مصیبت بڑھتی جارہی ہے۔ این ڈی اے سرکار اور بھاجپا سرکار والی ریاستوں میں ان کے اپنے لوگوں کو فائدہ ملنے کی بات کانگریسی زور شور سے کہہ رہے تھے۔ بھاجپا صدرکے ایک قریبی ایم پی کا بھی نام اچھالا گیا۔ لیکن جو نام کھل کر سامنے آرہے ہیں وہ زیادہ تر کانگریسیوں اور ان کے حامتیوں کے ہیں۔ معاملہ اب یہ نہیں ہے کہ کیگ نے اپنی رپورٹ میں امکانات پر اندازہ لگایا؟ اس پر تکنیکی بحث کی جاسکتی ہے۔ معاملہ تو یہ ہے کہ کوئلہ الاٹمنٹ میں کیا حقیقت میں بڑا گھوٹالہ ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس میں فائدہ کس کو پہنچا؟ کانگریس کی طرف سے صفائی دیتے کپل سبل یا سلمان خورشید یا دوسرے نیتا اس بات سے انکار نہیں کرپارہے ہیں کہ ان نیتاؤں کو ان کے رشتے داروں اور ان کی کمپنیوں کو الاٹمنٹ سے نامناسب فائدہ پہنچایا گیا۔ اب تک جو نام سامنے آئے ہیں ان میں خاص ہیں وجے درڑا(کانگریس) ان کی کمپنی جے ایل ڈی یوت مال کو 9 کروڑ 90 لاکھ ٹن کا بھنڈار الاٹ ہوا ۔ دوسرا جو نام آرہا ہے وہ ہے کیندریہ منتری سبود کانت سہائے، وہ منموہن سرکار میں وزیر سیاحت ہیں، ان کی کمپنی ایل کے ایس اسپات کو کوئلہ بلاک نمبر تین مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں 26 کروڑ 30 لاکھ ٹن کا بھنڈار الاٹ ہوا۔ تیسرا نام راشٹریہ جنتا دل( آر جے ڈی) کیندریہ منتری رہ چکے اور لالو یادو کے قریبی پریم چندر گپتا کا ہے۔ ان کی کمپنی آئی ایس ٹی اینڈ پاور کو کوئلہ بلاک نمبر1 میں مہاراشٹر میں 7 کروڑ10 لاکھ ٹن کا الاٹمنٹ ہوا۔ ایک اور نام ڈی ایم کے نیتا وزیر مملکت اطلاعات و نشریات ایس جگت رچھون کا آیا ہے۔ ان کی کمپنی جے آر جنگت پرائیویٹ لمیٹڈ کو کوئلہ بلاک نمبر1 میں اڑیسہ میں بلاک الاٹمنٹ ہوا۔ ان کو کتنا بھنڈار ملا یہ ابھی تک پتہ نہیں چلا۔ ایک اور نام اجے سنچیتی کا ہے جو ایک بزنس مین اور نتن گڈکری کے قریبی ہیں، کا آیا ہے۔ ان کی کمپنی ایس ایم ایس انفرا اسٹرکچر کو کوئلہ بلاک نمبر 1 میں چھتیس گڑھ میں بھنڈار ملا۔یہ بھنڈار کتنا ہے یہ ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔ ایک دستاویز کے مطابق کانگریس ایم پی نوین جندل کو سارے قانونوں کو طاق پررکھ کر کوئلہ بلاک الاٹ کیا گیا۔ خاص بات یہ ہے کہ کوئلہ بلاک کو پانے کی سرکاری نورتن کمپنی پول انڈیا لمیٹڈ نے بھرپور کوشش کی لیکن اسے واپس جانے کو کہہ دیا گیا۔ ایک انگریزی اخبار ’دینک ہندو‘ نے ایک سنسنی خیز پردہ فاش کیا ہے ۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے کی روز ادھڑ رہی پرتوں میں چار میڈیا گھرانوں کے ہاتھ میں کالے نظر آرہے ہیں۔ اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ کم سے کم تین پرنٹ میڈیا اور ایک الیکٹرانک چینل کو کوئلہ بلاک الاٹمنٹ سے نام ہوا، جو یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ ان کمپنیوں نے کوئلہ بلاک حاصل کرنے کے لئے فراڈ کمپنیاں بنائیں تاکہ اس کا پردہ فاش نہ ہوسکے کے الاٹمنٹ پروسیس میں ان میڈیا گھرانوں کو سیدھا فائدہ ملا۔ اس میں سے ایک پرشاسن نے تو ارجا کمپنی ہی بنا ڈالی اور اسی کے سہارے اسے کوئلہ بلاک ملا۔ کوئلہ منترالیہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ فی الحال معاملے کی جانچ سی بی آئی کررہی ہے اور ممکنہ ترجیحی کرنے کے دوسرے مرحلے میں وہ عملی طور پر شکایت کی درج کرسکتی ہے۔ بی جے پی کے راشٹریہ سچیو مریٹ سمیا نے تو کوئلہ منتری شری جے پرکاش جیسوال کے سنسدیہ چھیتر کانپور میں جاکر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے اپنے رشتہ دارو ں کو 9 کول بلاک الاٹ کئے اور بعد میں ان میں سے 6 بلاک کانگریس نیتاؤں کو بیچ دئے۔ انہوں نے 4 ہزار صفحوں کے دستاویز شکروار کو ممبئی میں سی بی آئی کو سونپے ہیں۔ جیسا میں نے کہا کہ پرتیں کھلتی جارہی ہیں اور اس حمام میں کئی ننگے ہوں گے۔
(انل نریندر)

سنت آسارام باپو کو غصہ کیوں آتا ہے؟


سنت کہنے والے آسا رام باپو آج کل پھر اخباروں کی سرخیوں میں ہیں۔ پچھلا ہفتے ایک چمتکار سے کم نہیں۔ ان میں گھٹا!گافرا میں وہ جس ہیلی کاپٹر پر سفر کررہے تھے وہ اترتے وقت زمین سے ٹکرا گیا۔ ہیلی کاپٹر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا پر آسا رام باپو کو کھرونچ تک نہیں لگی۔ اس حادثے میں دولوگوں کو معمولی چھوٹیں لگیں۔ آسا رام باپو نے اس حادثے کا بھی خوب پرچار کیا اور اپنے مریدوں میں اسے بھنانے کا پورا کام کیا۔ آسا رام باپو لگاتار تنازعات میں بنے رہتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ان پراترپردیش کے غازی آباد شہر میں ایک پروگرام میں اپنا آپا کھودیا اور ایک نیوز چینل کے صحافی روہت گپتا کو تھپڑ ماردیا۔ آسا رام باپو اور ان کے آدھا درجن لوگوں پر گورووار کی شام گوپی گنج تھانے میں مار پیٹ اور لوٹ کا مقدمہ درج کرایا گیا۔ روہت گپتا نے الزام لگایا کہ سنت نے کوریج کے دوران ان کا کیمرہ چین لیا اور ان کے سمرتھکوں نے اسے بے رحمی سے پیٹا۔ ایف آئی آر درج کرانے کے لئے صحافیوں نے سنت کے خلاف نعرے بازی کی اور تھانے کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ روہت گپتا نے تھانے میں دی تحریر میں الزام لگایا ہے کہ گوپی گنج تھانہ علاقے کے جی ٹی روڈ پر واقع عزت نگر کی ایک کارپیٹ کمپنی میں وہ سنت آسا رام باپو کی کوریج کے لئے گیا تھا۔ ان کے قافلے کا اس نے ویڈیو بنایا۔ اس بیچ سنت کی نگاہ اس پر پڑ گئی۔ انہوں نے اس سے کیمرہ مانگا ،انکار کرنے پر زور زبردستی کر کیمرہ چھین لیا ۔ خود سنت آسا رام باپونے اسے تھپڑ مارا۔ وہاں موجود ان کے سمرتھک اور سکیورٹی کے جوان اسے لات گھونسوں سے بے رحمی سے پیٹنے لگے۔ مار پیٹ کی اطلاع ملتے ہی موقعہ پر ایس ڈی ایم صدر بدری ناتھ سنگھ پہنچ گئے۔ انہوں نے زخمی صحافی کی میڈیکل جانچ کروائی۔ پولیس نے اس معاملے میں سنت آسارام باپو اور ان کے سمرتھک اور ایک سکیورٹی گارڈ کے خلاف دفعہ392,323 اور 504,506 میں مقدمہ درج کیا۔تھانہ صدر رمیش چوبے کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور جانچ شروع کردی گئی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ پولیس نے بعد میں معاملے کو رفع دفع کردیا۔ پر متاثرہ کیمرہ مین نے معاملے کو عدالت میں درخواست کی بنیاد پر کیس درج کرادیا۔ عدالت نے اس معاملے کی سنوائی کے لئے 10 ستمبر کی تاریخ دی۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب آسا رام باپو اپنے آپے سے باہر ہوئے ہیں۔ کچھ وقت پہلے وہ اندور میں پروچن کے دوران اپنے کی دو سیواداروں پر بھڑک پڑے اور منچ سے ہی انہیں ڈانٹنا شروع کردیا اور پاگل تک کہہ دیا۔ آسا رام نے اپنے دوسرے سیواداروں سے کہا کہ ان دونوں کے کپڑے اتارو اور گھر بھیجو۔ بے شرم کہیں گے۔ گجرات کے موٹیرا میں آسا رام کا ایک گوروکل ہے۔ چار سال پہلے ایک واقعہ ہوا تھا۔ 2008ء میں اس گوروکل میں دو بچوں کی موت ہوگئی تھی۔ اس سے مودی سرکار اور پرشاسن کے خلاف ہنگامہ ہوگیا تھا۔ راجیہ سرکار نے سی آئی ڈی (اپرادھ) کو معاملے کی جانچ کرنے کو کہا تھا۔گہری چھان بین کے بعد سی آئی ڈی ڈپارٹمنٹ نے آسا رام باپو کے 7 سمرتھکوں کو گرفتار کرلیا ہے اور ان پر دفعہ304 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔سنت آسا رام باپو کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔
(انل نریندر)

09 ستمبر 2012

دگوجے سنگھ بنام ٹھاکرے خاندان کی لفظی جنگ میں تیزی


کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ اور ٹھاکرے پریوار میں آج کل دلچسپ لفظی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے نے کہہ دیا کہ بغیر اطلاع دئے ایک لڑکے کو اٹھا لے آنے کے معاملے میں اگر بہار سرکار کی طرف سے ممبئی پولیس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے تو میں بہاریوں کو درانداز قرار دے کر مہاراشٹر سے باہر بھگا دوں گا۔ اس پر کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے راج ٹھاکرے کو خود بہاری قراردے دیا۔ ان کا کہنا تھا ٹھاکرے خاندان خود بہار سے ہی آیا ہے۔ دگوجے سنگھ نے تو ثبوت کے طور پر پیش کی راج ٹھاکرے کے دادا کی لکھی ہوئی کتاب۔ ٹھاکرے خاندان کے کل گورو میٹھل براہمن رامناتھ تھے۔ ایسا بال ٹاکرے کے والد پربھودن کار ٹھاکرے کے پورے خاندان کے بارے میں کتاب کے پانچویں باب و 45 نمبر صفحے پر تفصیل لکھی ہے۔کتاب میں لکھا ہے مدھیہ پردیش کے مشہور علاقائی راجہ مہا پرمانند کے ظلم سے تنگ آکر کئی نیچ سے نیچ کائستھ پربھو نے دیش چھوڑا تھا۔ ان میں سے کچھ بھادر علاقائی کائستھ پربھو نیپال اور کشمیر چلے گئے۔پربھو خاندان تال بھوپال آگیا یہاں بھون راجہ کا راج تھا۔کائستھ پریوار کے لوگوں نے بھون راجہ کے ساتھ اچھے رشتے قائم کرلئے اور یہاں ٹھاکرے اپنا ضمنی نام جوڑ لیا۔ ٹھاکرے خاندان نے چتوڑ میں ایک مندر بنوایا۔ دگوجے سنگھ کے اس بیان اور ثبوت سے ٹھاکرے خاندان بوکھلا گیا۔ شیوسینا چیف بال ٹھاکرے کے بیٹے اور شیو سینا کے کارگذار صدر اودھو ٹھاکرے نے دگوجے سنگھ کو اطالوی کے گھر برتن مانجنے تک بتادیا۔ دگوجے کے ثبوت پر اودھو ٹھاکرے نے جمعرات کو صفائی پیش کی کے میرے دادا جی نے جو کتاب لکھی ہے اس میں ٹھاکرے خاندان کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ بہار میں اس وقت رہ رہے ٹھاکرے مراٹھوں کی حالت کے بارے میں ہے۔ اودھو نے کہا کے اطالوی کے گھر برتن مانجتے مانجتے دگوجے سنگھ کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ اس کے جواب میں دگوجے سنگھ نے کہا کے مجھے ٹھاکرے خاندان سے کوئی شکایت نہیں میں صرف انہیں یہ توجہ دلانا چاہتا تھا کہ وہ بھی 400 سال پہلے کہاں سے آئے تھے۔انہوں نے ٹھاکرے خاندان پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ا س وقت کس بل میں چھپ گئے تھے جب ممبئی میں آتنک وادیوں نے حملہ کیا تھا؟ دراصل سارا کھیل ووٹ بینک کی سیاست کا ہے۔ 2014ء میں مہاراشٹر اسمبلی کے چناؤ ہونے ہیں اسی کے چلتے ٹھاکرے خاندان نے پھر سے ممبئی میں رہنے والے بہاری لوگوں کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں بہاریوں کا کوئی نیتا نہیں ہے اور انہیں نشانہ بنانا سب سے آسان ہے۔ مراٹھی واد کی سیاست میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایم این ایس اور شیو سیناکے پاس یہ ہی سب سے بڑا اشو ہے۔ ٹھاکرے بندھو نئے اشو کی تلاش میں رہتے ہیں اور بھڑکاؤ بیان دے کر کسی بھی موضوع کو اشو بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مراٹھی کا اشو ہو یا پاکستانی فنکاروں کا، یا پاکستان سے کرکٹ میچ کا ہو ٹھاکرے پریوان اپنے تیور دکھانے سے نہیں چوکتا۔ ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے اس بیان سے مختلف پارٹیوں کے بھی نشانے پر آگئے ہیں۔ بہاری نژاد لوگوں کو مہاراشٹر سے بھگانے کی ان کی دھمکی کو کانگریس اوربھاجپا سمیت کئی پارٹیوں نے تاناشاہی کا رویہ قراردیا ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ ریاست خاص کے لوگوں کے خلاف اس طرح کا بیان دیش کی سالمیت و اتحاد کے خلاف ہے۔
(انل نریندر)

راڈیا ٹیپ کے سروکار قومی سلامتی سے بھی جڑتے ہیں


مشہور راڈیا ٹیپ کانڈ ایک بار پھر سرخیوں میں چھا گیا ہے۔ معاملہ آج کل سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین رتن ٹاٹا نے ایک عرضی دائر کی ہے جس میں اس نے راڈیا سے فون پر بات چیت کے ٹیپ آؤٹ کرنے کے خلاف یہ اپیل کی تھی۔ منگل کو عدالت نے سرکار کو ٹیپ لیک ہونے سے بچانے کیلئے مناسب سسٹم نہیں اپنانے پر سرزنش کی تھی وہیں سرکار کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا گیا تھا کہ ٹیپ سرکار کی طرف سے لیک ہوئے ہیں۔ عدالت ہذا نے انکم ٹیکس محکمے کو بھی نوٹس دیا ہے کہ وہ صنعتی گروپوں کے لئے رابطے کا کام کرنے والی نیرا راڈیا کی ٹیلی فون پر 5800 بار ہوئی بات چیت کے ٹیپ دو مہینے کے اندر دستیاب کرائے۔ بات چیت کے کچھ حصے قومی سلامتی سے بھی وابستہ ہونے کے پیش نظر ایسا کیا گیا ہے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ نے ٹاٹا کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا۔ جج صاحبان نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ اتنے سنگین معاملے میں بھی انکم ٹیکس محکمے نے ٹیپ کردہ ساری بات چیت کو ٹیسٹ نہیں کرایا ہے۔ ججوں کی رائے تھی اس میں سے کچھ ٹیلی فون کال تو مشتبہ مالی لین دین سے جڑی ہیں جن کا تعلق قومی سلامتی کو لیکر ہے۔ جج صاحبان نے انکم ٹیکس محکمے کی جانب سے سی بی آئی کو دستیاب کرائی گئی ٹیپ کی کاپی کے تجزیئے کی بنیاد پر اس واقع کی جانچ کرنے پر بھی تعجب ظاہر کیا ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹر ہرین راول نے یہ بھی کہا کہ نیرا راڈیا کی ٹیپ کی گئی سبھی 5800 ٹیلی فون بات چیت کو ترتیب نہیں دی گئی تو ججوں نے کہا یہ بہتر ہوگا ساری بات چیت کا ملان کرلیا جائے ورنہ اندازوں اور قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ہی ساری کارروائی ہوتی رہے گی۔ ججوں کا کہنا تھا اس معاملے کو تین سال ہوگئے ہیں اور انکم ٹیکس محکمے نے ریکارڈ کی گئی بات چیت کی کاپی ابھی تک تیار نہیں کی ہے جبکہ اسی نے ٹیلی فون کی نگرانی کا کام کیا تھا۔ عدالت نے کہا اس بات چیت کے ٹکڑوں میں ہونے کے بارے میں چل رہی افواہوں سے بچنے کے لئے ان بات چیت کی کاپی ضروری ہے کیونکہ بیچ میں سنی گئی کچھ بات چیت ملک کی سلامتی سے متعلق ہے اور کچھ ایسی مالی سودوں کے بارے میں ہے جو مشتبہ ہے لہٰذا اتنا کرنا تو ضروری ہے کہ یہ زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے اور بہتر ہوگا ریکارڈ کی گئی ساری بات چیت کی کاپی تیار کی جائے۔ وزیر خزانہ کو 16 نومبر 2007 ء کو ملی ایک شکایت کی بنیاد پر انکم ٹیکس (تفتیش) کے ڈائریکٹر جنرل نے نیرا راڈیا کے ٹیلی فون ٹیپنگ کا حکم دیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ نیرا راڈیا نے 9 برسوں کے اندر 300 کروڑ روپے کا کاروبار قائم کرلیا ہے۔ سرکار نے کچھ 180 دن چلی نیراراڈیا کی بات چیت ریکارڈ کی تھی۔ پہلی بار20 اگست2008 ء سے 60 دن کے لئے اور پھر19 اکتوبر سے اگلے 60 دن کے لئے نیرا راڈیا کے فون ٹیپ ہوئے تھے۔ ان ٹیپوں کے کچھ حصے میڈیا میں افشاں ہوئے تھے۔ افشاں ٹیپوں میں سرکار کے وزرا، سینئر افسروں و الیکٹرانک چینلوں کے کچھ سینئر صحافیوں کی بات چیت ریکارڈ ہے۔ رتن ٹاٹا نے اپنی عرضی میں کہا کہ ٹیلی فون ٹیپنگ کے حصے لیک ہونے سے ان کے ذاتی اختیارات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...