سپریم کورٹ نے 2جی اسپیکٹر م گھوٹالہ کی سماعت کے دوران وزیراعظم منموہن
سنگھ پر سخت رائے زنی کی ہے یوپی اے 1پرسوال اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ
پردھان منتری نیلامی چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کروا سکے؟ عدالت نے کہاکہ
منموہن سنگھ تونیلامی چاہتے تھے لیکن وزیر نے ان کے خط کو نظرانداز
کردیا۔ حکومت نے بھی وقت رہتے گھوٹالہ روکنے کے لئے مناسب قدم نہیں
اٹھایا ۔ساتھ ہی جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس ایم ایل دت کی بنچ نے سی بی
آئی سے ہی ایک وقت اہم سوال پوچھا معاملہ کی سماعت شروع میں ہی ہوئی ہے
سوال یہ ہے کہ ملزمان کو اور کتنے دن سلاخوں کے پیچھے رہنا ہوگا۔ انہیں
جیل میں رہتے ہوئے 7 مہینے ہوگئے ہیں کیا سماعت 7 سال میں شروع ہوگی۔ بنچ
نے کہا وزیراعظم کے دفتر پی ایم او اگر قدم اٹھاتا تو ایک اعشاریہ 70
لاکھ کروڑ روپے کے گھوٹالہ کو روکا جاسکتا تھا۔ جیل میں بندیونی ٹیک
وائرلیس( تامل ناڈو پرائیویٹ لمٹیڈ)کے این ڈی سنجے چندرا اور سوان ٹیلی
کام کے ڈائریکٹر ونود گوئینکا کی ضمانت عرضی سماعت پر بنچ نے مرکزی حکومت
کو یہ پھٹکار لگائی۔ اس نے کہا کہ وزیراعظم کے خط کو نظرانداز کرکے راجہ
نے منمانی سے پہلے آﺅ پہلے پاﺅ کی بنیاد پر ایک منفرد اسپیکٹرم کاالاٹ
مینٹ کیا۔ بنچ نے کہا سرکار کے سربراہ خط لکھتے ہیں کہ اسپیکٹرم
غیرمعمولی ہے اس کی نیلامی ہونی چاہئے اس وقت کے وزیراے راجہ اس پر راضی
نہیں ہوئے۔ محکمہ مالیات نے بھی احتجاج ظاہر کیا۔ کیا آپ کولگتا ہے کہ اس
وقت جومعاملہ چل رہاتھا۔ سرکار کو اس کاعلم نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے دودھ کادودھ پانی کاپانی کردیا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ اور
ان کادفتر سیدھے سیدھے گھوٹالے کو روکنے میں ناکام رہا۔ بے شک ا س
میںکہنے کوتو کچھ بھی کہے گھوٹالے میں ہماری رضامندی نہیں تھی۔ لیکن اسے
تو انکار نہیں کرسکتے کہ وہ روکناچاہتے تھے روک سکتے تھے اور دوسری بات
ان کی جانکاری میں یہ گھوٹالہ ہوا ہے اور جہاں تک سوال معاملے کا ہے اس
کو دیکھنے کے طریقہ کار پر تو سپریم کورٹ نے صحیح سوال پوچھا۔ کہ یہ
مقدمہ کب شروع ہوگا؟ کب تک مقدمہ ملزمان کو تہاڑ جیل میں بند رکھیں گے۔
سات مہینے ہوگئے کنی موجھی ایک خاتون ہے اس کو اب خاتون ہونے کے ناطے
ضمانت ملنی چاہئے لگتا ہے اب سپریم کورٹ اے راجہ اور بنیادی ملزمان کو
چھوڑ کر دوسرے ملزمان کی ضمانت پر غور کرسکتی ہے ۔کنی موجھی کی ضمانت کی
سماعت 17 اکتوبر کو ہونی ہے۔ ممکن ہے اسی دن ان کی ضمانت ہوجائے ۔سپریم
کورٹ کے تبصرے کااپوزیشن پورا فائدہ اٹھائے گی اور من موہن سنگھ پر
اپوزیشن پارٹیاں اور زیادہ دباﺅ بنائے گی۔
Translater
15 اکتوبر 2011
خفیہ ایجنسیوں دہلی ،ہریانہ پولیس نے حادثہ ہونے سے بچایا!
دہلی پولیس ہریانہ پولیس اور ہماری خفیہ ایجنسیاں اس بات کی مبارک باد کی
مستحق ہے کہ انہوںنے وقت رہتے دہلی کوایک خطرناک آتنکی دھماکے سے بچا
لیا۔ دہلی اور ہریانہ پولیس لشکر طیبہ اور ببر خالصہ کی اب کی دیوالی پر
دہلی کودہلانے کی سازش کونہ کام کردیا۔ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع پر بدھ کی
دیررات ہریانہ کے شہرامبالہ چھاﺅنی ریلوے اسٹیشن سے پانچ کلو سے زیادہ
دھماکوں سامان جس میں پانچ ڈیٹونیٹر ٹائمر سے لدی کار کھڑی تھی۔خفیہ
ایجنسیوں نے اس کی اطلاع دس منٹ پہلے فراہم کرائی تھی۔دھماکوں سے یہ لدی
کار نارتھانڈیا کے کسی شہر کی طرف جارہی تھی پولیس حرکت میں آئی اور
انبالہ میں اس کار کو روک لیا۔ اس پرپنچکولہ کا نمبر ایچ آر 03-0058 تھا۔
اس وقت جو جانچ میں فرضی پایا گیا۔ نمبر پلیٹ جو نمبر لکھا تھا وہ کار کی
آر سی سے میل نہیں رکھتا تھا۔ یہ گاڑی جموں سے آرہی تھی۔ تشویش سے پتہ
چلا اس کوانبالہ ہوتے ہوئے دہلی بھیجنے کاپلان ہے دیوالی مبارک ہو۔ کچھ
خاص ہوناچاہئے۔۔۔۔ ایسا ایس ایم ایس آیا۔ اس پر جانچ کررہی دہلی پولیس نے
چستی دکھائی اور آتنکیوں کی سازش کو ناکام کردیا۔ ایس ایم ایس نیپال کے
ایک موبائل سے بھیجا گیا تھا جس نمبرپر بھیجاگیاتھا یہ ایس ایم ایس بھیجا
گیا وہ نمبر جموں وکشمیر کا ہے پولیس کی ابتدائی جانچ میں ابھی تک کچھ
نہیں ملا۔ دو مرتبہ جب ماہرین کی ٹیم نے کار کی باریکی سے جانچ کی جب
جاکر پتہ چلا کہ کار کے دروازے میں جہاں سے شیشہ نیچے جاتا ہے اس کھڑکی
کی کیوٹ میں دھماکو چھپائے گئے تھے۔ پہلی بار پولیس دھونڈنے میں غچہ کھا
گئی تھی۔ دھماکوں پاﺅڈر کو دروازے کی دونوں پرتوں کے درمیان تین پلاسٹک
کی تھیلیوں میں چھپا کررکھاگیاتھا۔ تینوں پیکٹ میںپانچ کلو 650 گرام آرڈی
ایکس تھا۔ اس کے علاوہ دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔ تفتیشی ٹیم کی رہنمائی
کررہے اے سی پی نے بتایاکہ پہلی نظر میں ببر خالصہ انٹر نیشنل
اورلشکرکانام سامنے آرہا ہے۔ ان کے ذریعہ ہی کار کو امبالہ تک لایاگیا
تھا۔ دھماکہ ببرخالصہ کے ذریعہ کراناتھا اور اس کااستعمال دہلی میں
ہوناتھا ابتدائی جانچ سے پتہ چلاہے کہ کار کو جموں سے دہلی لایاجارہاتھا
کار میں مٹھائی کاڈبہ ملاتھا۔ جس پر جموں کی کسی دکان کاپتہ لکھا ہوا ہے
دو اخبارملے ہیںجو دھماکوں سامان میںلیپٹے ہوئے تھے جوامونیم نائیٹریٹ ہے
جس کو سرحد پارکے آتنکی استعمال کرتے ہیں آئی ایس آئی اس پر چھاپ ہے
ببرخالصہ انٹر نیشنل کیاہے؟ اس کاہیڈکوارٹر پاکستان میں ہے اور وہیں سے
وہ سرگرمیاں چلاتا ہے۔کئی دنوں سے خبریں آرہی تھی۔ کہ آئی ایس آئی پنجاب
میں بھی آتنک واد کو دوبارہ سرگرم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔2009 میں نئی
دہلی کے ریلوے اسٹیشن کے باہر بیگ اسپشیل سیل نے برآمد کیاتھا۔ تو اس میں
بھی دھماکوں کے ساتھ ایک مٹھائی کاڈبہ ملاتھا۔ وہ ڈبہ بھی اسی دکان کا
تھا۔جیسا ڈبہ دوبارہ اس کار سے ملاتھا۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں دہلی وہریانہ
پولیس نے ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچا لیا لیکن دیوالی تک وقت چنوتی بھرا
ہے۔ اور اس کے بارے میں احتیاط برتنی ہوگی۔
مستحق ہے کہ انہوںنے وقت رہتے دہلی کوایک خطرناک آتنکی دھماکے سے بچا
لیا۔ دہلی اور ہریانہ پولیس لشکر طیبہ اور ببر خالصہ کی اب کی دیوالی پر
دہلی کودہلانے کی سازش کونہ کام کردیا۔ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاع پر بدھ کی
دیررات ہریانہ کے شہرامبالہ چھاﺅنی ریلوے اسٹیشن سے پانچ کلو سے زیادہ
دھماکوں سامان جس میں پانچ ڈیٹونیٹر ٹائمر سے لدی کار کھڑی تھی۔خفیہ
ایجنسیوں نے اس کی اطلاع دس منٹ پہلے فراہم کرائی تھی۔دھماکوں سے یہ لدی
کار نارتھانڈیا کے کسی شہر کی طرف جارہی تھی پولیس حرکت میں آئی اور
انبالہ میں اس کار کو روک لیا۔ اس پرپنچکولہ کا نمبر ایچ آر 03-0058 تھا۔
اس وقت جو جانچ میں فرضی پایا گیا۔ نمبر پلیٹ جو نمبر لکھا تھا وہ کار کی
آر سی سے میل نہیں رکھتا تھا۔ یہ گاڑی جموں سے آرہی تھی۔ تشویش سے پتہ
چلا اس کوانبالہ ہوتے ہوئے دہلی بھیجنے کاپلان ہے دیوالی مبارک ہو۔ کچھ
خاص ہوناچاہئے۔۔۔۔ ایسا ایس ایم ایس آیا۔ اس پر جانچ کررہی دہلی پولیس نے
چستی دکھائی اور آتنکیوں کی سازش کو ناکام کردیا۔ ایس ایم ایس نیپال کے
ایک موبائل سے بھیجا گیا تھا جس نمبرپر بھیجاگیاتھا یہ ایس ایم ایس بھیجا
گیا وہ نمبر جموں وکشمیر کا ہے پولیس کی ابتدائی جانچ میں ابھی تک کچھ
نہیں ملا۔ دو مرتبہ جب ماہرین کی ٹیم نے کار کی باریکی سے جانچ کی جب
جاکر پتہ چلا کہ کار کے دروازے میں جہاں سے شیشہ نیچے جاتا ہے اس کھڑکی
کی کیوٹ میں دھماکو چھپائے گئے تھے۔ پہلی بار پولیس دھونڈنے میں غچہ کھا
گئی تھی۔ دھماکوں پاﺅڈر کو دروازے کی دونوں پرتوں کے درمیان تین پلاسٹک
کی تھیلیوں میں چھپا کررکھاگیاتھا۔ تینوں پیکٹ میںپانچ کلو 650 گرام آرڈی
ایکس تھا۔ اس کے علاوہ دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔ تفتیشی ٹیم کی رہنمائی
کررہے اے سی پی نے بتایاکہ پہلی نظر میں ببر خالصہ انٹر نیشنل
اورلشکرکانام سامنے آرہا ہے۔ ان کے ذریعہ ہی کار کو امبالہ تک لایاگیا
تھا۔ دھماکہ ببرخالصہ کے ذریعہ کراناتھا اور اس کااستعمال دہلی میں
ہوناتھا ابتدائی جانچ سے پتہ چلاہے کہ کار کو جموں سے دہلی لایاجارہاتھا
کار میں مٹھائی کاڈبہ ملاتھا۔ جس پر جموں کی کسی دکان کاپتہ لکھا ہوا ہے
دو اخبارملے ہیںجو دھماکوں سامان میںلیپٹے ہوئے تھے جوامونیم نائیٹریٹ ہے
جس کو سرحد پارکے آتنکی استعمال کرتے ہیں آئی ایس آئی اس پر چھاپ ہے
ببرخالصہ انٹر نیشنل کیاہے؟ اس کاہیڈکوارٹر پاکستان میں ہے اور وہیں سے
وہ سرگرمیاں چلاتا ہے۔کئی دنوں سے خبریں آرہی تھی۔ کہ آئی ایس آئی پنجاب
میں بھی آتنک واد کو دوبارہ سرگرم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔2009 میں نئی
دہلی کے ریلوے اسٹیشن کے باہر بیگ اسپشیل سیل نے برآمد کیاتھا۔ تو اس میں
بھی دھماکوں کے ساتھ ایک مٹھائی کاڈبہ ملاتھا۔ وہ ڈبہ بھی اسی دکان کا
تھا۔جیسا ڈبہ دوبارہ اس کار سے ملاتھا۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں دہلی وہریانہ
پولیس نے ایک بڑا حادثہ ہونے سے بچا لیا لیکن دیوالی تک وقت چنوتی بھرا
ہے۔ اور اس کے بارے میں احتیاط برتنی ہوگی۔
پرشانت بھوشن کی چیمبر میں جم کر پٹائی
Published On 15th October 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ کے وکیل اور ٹیم انا کے ممبر پرشانت بھوشن پر بدھوار کو تین لڑکوں نے ان کے سپریم کورٹ میں واقع چیمبر میں گھس کر پٹائی کردی۔ حملہ آوروں نے بھوشن کو کرسی سے اٹھا کر زمین پر پھینکا اور لاتوں گھونسوں سے دھنائی کرنے لگے۔ وہاں موجودہ لوگوں نے ایک حملہ آور اندر ورما کو پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ باقی دونوں فرار ہوگئے جو بعد میں پکڑے گئے۔ پرشانت بھوشن کے چہرے و گردن پر چوٹ آئی ہے۔ آر ایم ایل میں علاج کے بعد انہیں چھٹی دے دی گئی۔ تلک مارگ تھانے میں تینوں حملہ آوروں کے خلاف کیس درج ہوا۔ جس وقت تینوں حملہ آوروں نے پرشانت بھوشن کے چیمبر میں گھس کر ان پر حملہ کیا اس وقت وہ ایک نیوز چینل کو انٹرویو دے رہے تھے لہٰذا یہ حملہ کیمروں میں قید ہوگیا اور شام تک یہ ہر چینل پر دکھایا جانے لگا۔ حملہ آوروں نے بعد میں پرچے بھی پھینکے اور کہا کہ کچھ دنوں پہلے کشمیر پر دئے گئے بیان سے وہ ناراض ہیں اور اس کی مخالفت کرنے کے لئے انہوں نے یہ حملہ کیا ہے۔ دراصل پرشانت بھوشن کے ذریعے 26 ستمبر کو وارانسی میں دئے گئے اس بیان سے ناراض تھے جس میں انہوں نے کہا تھا "سینا کے دم پر کشمیریوں کو بہت دنوں تک دباﺅ میں نہیں رکھا جاسکتا۔ کشمیر کا مستقبل طے کرنے کے لئے جموں و کشمیر میں ریفرینڈم کرایا جانا چاہئے۔" گرفتاراندر ورما نے خود کو شری رام سینا کا پردیش پردھان بتایا۔ حملے کے بعد جو پرچے بانٹے گئے ان پر لکھا تھا "کشمیر ہمارا تھا، ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔ تم کشمیر توڑو گے تو ہم تمہارا سر توڑ دیںگے، وندے ماترم" حملہ کرنے والے لڑکوں کو پٹیالہ ہاﺅس میں پیش کیا گیا۔ تیجندر پال بگا سمیت سب کوعدالت میں پیش کیا جہاں ایک دن کے لئے انہیں عدالتی حراست میں بھیجا اور اسے اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور دھمکی دی کہ وہ پرشانت پر پھر حملہ کرسکتے ہیں۔ بھوشن کے حملہ آوروں کی عدالت میں پیشی کے دوران کچھ لوگوں نے انا حمایتیوں پر بھی حملہ کردیا اور دھنائی کی۔ بتایا جارہا ہے حملہ آوروں میں بھگت سنگھ کرانتی سینا شری رام سینا کے ورکر شامل تھے۔ جب پولیس وہاں پہنچی تو حملہ آور بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس جھڑپ کے دوران کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ تیجندر پال سنگھ بگا نے فیس بک پر اپنے پروفائل میں ایک تصویر لگائی ہے جس میں وہ شری شری روی شنکر کے ساتھ کھڑا ہے۔ روی شنکر اور سوامی اگنی ویش کے علاوہ کشمیری علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یسین ملک شامل ہیں۔ بھگت سنگھ کرانتی سینا ایک سال پہلے وجود میں آئی تھی اس سے پہلے وہ بھاجپا میں ہی شامل تھا۔سماج سیوی انا ہزارے نے پرشانت بھوشن کے کشمیر پر دئے گئے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ آتنک واد انسداد مورچہ کے پردھان منندر جیت سنگھ بٹا نے کہا کہ بھوشن نے اپنے بیان سے کشمیر کے لئے قربانی دینے والے ہزاروں شہیدوں کی بے عزتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ غلط ہے لیکن بھوشن کا بیان قابل ملامت ہے۔ بٹا نے کہا اس طرح کے بیان سے کشمیر میں لڑنے والے اپنی جان کی قربانی دینے والے شہیدوںکی توہین کرنا، اپنے ہی گھر سے معذول کردئے گئے کشمیری پنڈتوں اور دیگر لوگوں کی بھی بے عزتی ہے جو آج بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا تھا سرکار کو کشمیر سے فوج واپس بلا لینی چاہئے۔ سرکار اس بات کے لئے ووٹنگ کرائے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ انا صحیح کام کررہے ہیں مگر ان کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ سوامی اگنی ویش کا سچ سب کے سامنے ہے۔ پرشانت کے بیان کے لئے انا کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ بٹا نے کہا ایسے بیان دیش توڑنے والے ہیں اور دیش کی جنتا اسے کبھی بھی قبول نہیں کرے گی۔ بہتر ہو کہ پرشانت بھوشن ایسے بیانات سے بچیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Attack on Prashant Bhushan, Civil Society, Daily Pratap, Jammu Kashmir, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Vir Arjun
شیوانی کا قتل کس نے اور کیوں کروایا؟ ان سوالات کا جواب کیا ہے؟
Published On 15th October 2011
انل نریندر
انڈین ایکسپریس کی نوجواں رپورٹر شیوانی بھٹناگر کو23 جنوری 1999ءکے دن اس کے پٹ پڑ گنج میں واقع گھر میں قتل کردیا گیا ہے۔یہ قتل کس نے کروایا ، کیوں کروایا اور کیا یہ کسی سازش کے تحت کیا گیا قتل تھا؟ یہ سوالات آج بھی برقرار ہیں۔ یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ قتل کرنے والا پردیپ شرما تھا لیکن قتل کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس نے اکیلے اپنے دم پر اس کو انجام دیا؟ اس سوال کا جواب قتل کے11 سال بعد بھی نہیں مل پایا ہے۔ ان سوالوں کو اٹھانے کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ نے سابق آئی پی ایس پولیس افسر آر کے شرما ،شری بھگوان اور ستیہ پرکاش کو بری کردیا ہے۔قانونی ثبوت کی بنیاد پر پردیپ شرما کے قاتل ہونے کی توثیق کردی ہے۔ اسے عمر قید کی ہوئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ چاروں نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ جسٹس بی ڈی احمد اور جسٹس منموہن سنگھ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پردیپ نے شیوانی کے فلیٹ میں داخل ہوکر قتل کو انجام دیا لیکن قتل کا مقصد واضح نہیں ہے۔ اس نے قتل کو اکیلے ہی انجام دیا۔ قتل کرانے کے پیچھے آر کے شرما کی سازش تھی یا نہیں یا کوئی اور اہم شخصیت پیچھے ہے، کے سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں ملے ہیں۔ پردیپ کو قتل کے بدلے 3 لاکھ روپے کی سپاری کی بات بھی ثابت نہیں ہو پائی۔ ڈویژن بنچ نے کہا کہ آر کے شرما ، شری بھگوان، ستیہ پرکاش کی سازش ثابت کرنے کےلئے پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ نہ ہی ان کے آپسی رشتے ثابت ہوتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر داخل ملزمان کی ٹیلی فون کی تفصیلات پراسرار ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے اندیشے کے علاوہ کئی اور پیچیدگیاں ہیں۔ ان کے چلتے ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس رائے زنی سے دہلی پولیس کی جانچ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دہلی پولیس کے سرکاری وکیل پون شرما نے کہا کہ وہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ پردیپ کے قاتل ہونے کی تصدیق پولیس کے لئے اہم بنیاد ہے۔شیوانی بھٹناگر کا قتل 23 جنوری 1999 ءکو آئی پی ایکسٹینشن میں ہوا تھا مگر معاملے کی گتھی طویل عرصے تک الجھی رہی۔ آخر کار پولیس نے ہریانہ کیڈر کے سینئر آئی پی ایس افسر آر کے شرما، ستیہ پرکاش، شری بھگوان ، وید پرکاش عرف کالو کو گرفتار کرکے گتھی سلجھانے کا دعوی کیا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق شیوانی کا قتل آر کے شرما کی رچی گئی سازش پر ہوا تھا۔ قتل کو انجام پردیپ شرما نے دیا۔ نوکنج اپارٹمنٹ کے داخلہ رجسٹرسے غلط پتہ اور اپنا فرضی نام لکھ کر داخل ہوا تھا۔ شادی کی مٹھائی دینے کے بہانے سے گھر میں گھسا۔ شیوانی چائے بنانے رسوئی میں گئی تو اس کوپیچھے سے توے سے وار کرکے رسوئی میں چاقوﺅں سے حملہ کردیا۔ بعد میں ادھ مری حالت میں بجلی کے تار سے گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔ شیوانی کو ابھی بھی انصاف کا انتظار ہے۔ شیوانی بھٹناگر کی طرح راجدھانی میں اور بھی مقبول ترین کانڈہوئے ہیں جن میں انصاف ملنا باقی ہے۔ماڈل جیسیکا لال کو29 اپریل1999 ءکی رات بینا رمانی کے ٹینس کورٹ میں واقع ریسٹورینٹ میں ہائی پروفائل پارٹی کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ تفتیش میں کانگریس کے با اثر لیڈر ونود شرما کے بیٹے سدھارتھ شرما عرف منو شرما سمیت تین لڑکوں کا نام سامنے آیا۔ منو شرما دسمبر2006 ءسے تہاڑ جیل میں سزا یافتہ قیدی کے طور پر سزا کاٹ رہا ہے۔ فیشن ڈیزائنر کنجم بدھی راجہ کو 20 مارچ 1999 ءکو داﺅد ابراہیم کے نام نہاد غنڈے رمیش شرما کے جنوبی دہلی میں واقع جے ماتا فارم ہاﺅس پر قتل کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے15 دسمبر2009ءکو رمیش شرما کو کنجم کے قتل کے الزام میں بری کردیا۔ تازہ حالت کنجم کے قتل کے چاروں ملزمان سریندر، ہیم چند، سنت رام اور رمیش جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ ان چاروں کی اپیل سپریم کورٹ میں التوا میں ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں ایل ایل بی تھرڈ ایئر کی طالبا پریہ درشنی منٹو 23 جنوری1996ءکو اپنے وسنت کنج میں واقع گھر میں مردہ پائی گئی۔ دہلی ہائیکورٹ نے30 اکتوبر2006ءکو سنتوش کو کالج کی طالبہ کے ساتھ آبروریزی و اس کے بے رحمانہ قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی تھی جس کو سپریم کورٹ نے 6 اکتوبر2010 ءکو پلٹتے ہوئے عمر قید میں بدل دیا تھا۔ سنتوش کمار شرما اکتوبر2006 ءسے ہی تہاڑ جیل میںبند ہے۔ نینا ساہنی یوتھ کانگریسی لیڈر سشیل شرما کی بیوی تھیں،2 جولائی 1995 ءکو سشیل نے نینا کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا اور لاش کو تندور میں ڈال دیا۔ اس معاملے میں 7 نومبر 2003ءکو عدالت نے سشیل کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ دہلی ہائیکورٹ نے سشیل کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ پچھلی ایک دہائی سے زیادہ وقفے سے سشیل شرما تہاڑ جیل میں بند ہے اور اس کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل التوا میں ہے۔
CBI, Delhi High Court, delhi Police, Shivani Bhatnagar Murder Case, Supreme Court
14 اکتوبر 2011
لاپتہ بھنوری دیوی معاملے میں عدالت کی سرکار کو پھٹکار
Published On 14th October 2011
انل نریندر
راجستھان ہائی کورٹ میں منگل کو بھنوری دیوی اغوا معاملے کو لیکر سرکاری رویئے پر سخت ناراضگی ظاہر کی گئی۔ بھنوری کے شوہر امیر چند کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے دوران جسٹس گووند ماتھر و جسٹس ایم کے جین کی ڈویژن بنچ نے زبانی طور سے کہا کہ ایک خاتون کے غائب ہونے کی سرکار کو کوئی فکر نہیں ہے۔ ایسی کمزور حکومت تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اگر کام نہیںکرسکتے تو چھوڑیں اور چلے جائیں۔ بنچ نے سرکار کی طرف سے اس معاملے کو سی بی آئی کو سونپے جانے کو لیکر اب تک کی کارروائی پر یہ رائے زنی کی۔ ڈویژن بنچ نے کہا ایک خاتون ایک مہینے سے غائب ہے اور حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ جنتا پولیس پر بھروسہ کھو چکی ہے۔ حکومت کو اپنی پولیس پر بھروسہ نہیں ہے۔ عدالت نے پولیس کی جانچ کی پیش رفت رپورٹ کو کوڑے دان میں ڈالے جانے لائق بتایا۔ ہائی کورٹ نے حکومت کے تئیں سخت رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ معاملے کی سی بی آئی جانچ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت ملزمان کو بچانے اور معاملے کے حقائق کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ معاملے کی جانچ رپورٹ روزانہ پیش کی جائے اور اس کی ہردن سماعت ہوگی تاکہ جانچ پر نگرانی رکھی جاسکے۔جودھپور کی نرس بھنوری دیوی یکم ستمبر سے لاپتہ ہیں۔ پولیس بھنوری دیوی کا ابھی تک پتہ نہیں لگا پائی ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں ابھی تک دو لوگوں کو گرفتار کیا اور ان سے گہری پوچھ تاچھ کی ہے۔ بھنوری دیوی کے اغوا کے دو ملزم پولیس کے ہاتھ ابھی تک نہیں لگ پائے۔ پولیس نے گجرات کے پالمپور علاقے سے اس جیپ کو بھی برآمد کرلیا ہے جس میں بھنوری دیوی کا اغوا کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں جودھپور ضلع کی بلاڑا مقامی عدالت میں بھنوری دیوی کے شوہرکے استغاثہ کی بنیاد پر وزیر ماحولیات مہیپال بھدیرناکے خلاف معاملہ درج کرنے کی ہدایت پولیس کودی تھی۔ بھنوری دیوی معاملے میں ایک اعتراض آمیز سی ڈی میںاہم کردار مانی جارہی ہے۔
اس سی ڈی میں کانگریس کے ایک ممبرا اسمبلی کے شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس سی ڈی کو لیکر بھنوری دیوی کا اغوا کیا جانا پولیس مان رہی ہے۔ادھر منگل کو سی بی آئی نے بھنوری دیوی کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ وہ جانچ آگے بڑھائے گی۔ سی بی آئی کے ذرائع نے دہلی میں بتایا کہ پچھلے مہینے راجستھان حکومت نے اس معاملے میں جانچ سی بی آئی کو سپرد کرنے کے لئے مرکز سے درخواست کی تھی جس کے بعد یہ معاملہ اس نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کیس درج کیا ہے۔ عدالت میں جب سرکاری وکیل کو لکھے گئے خط کی کاپی دی گئی تو اسے پڑھنے کے بعد بنچ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہاسی بی آئی نے چھ ماہ کے لئے عمارت اور پیٹرول سمیت گاڑیو ں کے علاوہ دیگر سہولیات کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت چھ ماہ کیا چھ گھنٹے کے لئے انتظار نہیں کرسکتی ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Iran, Iran Film Actress, Vir Arjun
13 اکتوبر 2011
ایرانی ہیروئن کو ایک سال قید و 90 کوڑوں کی سزا
Published On 14th October 2011
انل نریندر
ہم نے افغانستان میں طالبان کی خواتین پر مظالم کے بارے میں تو سنا تھا لیکن ایران جیسے ملک میں اس طرح کی بربریت کو سن کر ضرور حیرت ہوئی۔ آج کے زمانے میں کسی خاتون کو کوڑے مارے جائیں یہ بات ہضم کرنا تھوڑی سی مشکل ہے لیکن ایران میں ایسا ہی ایک قصہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک فلمی ہیروئن کو 90 کوڑے مارنے اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اداکارہ پر الزام ہے اس نے ایسی فلم میں اداکاری کی جو دیش کے فنکاروں پر لگی پابندی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران میں اپوزیشن کی ایک ویب سائٹ کے مطابق بیجا برتاﺅ پر مبنی 'مائی تہران فار سیل' (میرا تہران بکاﺅ ہے) نامی فلم میں اداکاری کرنے کےلئے ایک سال قید اور90 کوڑے مارے جانے کی سزا سنیچر کو سنائیگئی۔ یہ فلم ایک نوجواں اداکارہ کی کہانی ہے جو ایران میں اداکاری پر پابندی لگا دئے جانے کے بعد چپ چاپ اپنے شوق کو زندہ رکھتی ہے۔ یہ فلم ایران میں ممنوع ہے لیکن چوری چھپے اس کو دکھایا جارہا ہے۔ اسے ایران کے کٹرپسند خیمے کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایرانی اداکارہ مرزیا وفا مہر کا جرم بس اتنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی فلم میں کام کیا جس میںدیش کے فنکاروں کی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔
مرزیا کا قصور واضح نہیں کیا گیا ہے لیکن انہیں سزا ملی ۔جس نے دنیا میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ 'مائی تہران فار سیل' فلم کی شوٹنگ ایران کی راجدھانی تہران میں ہوئی۔ یہ ایک ایسی نوجوان اداکارہ کی کہانی ہے جس کے اسٹیج ورک پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ اس فلم میں جدید شہر ایران کو نظرانداز کرتا دکھایا گیا ہے۔ یہ فلم بتاتی ہے کہ بند دروازوں کے اندر ایران کے نوجوان کس طرح جیتے ہیں۔ اس فلم کو 2009 ءمیں"انڈیپینڈنٹ اسپریٹ انسائڈ فلم ایوارڈ" بھی ملا ہے۔پچھلے سال ٹرائی میڈیا فلم فیسٹیول میں بھی اس نے مغرب کی تھیم پر فلم کے لئے جیوری ایوارڈ جیتا تھا۔ فلم کی ایران ،آسٹریلیا نژاد گریناز موسوی نے ہدایت دی ہے۔ فلم آسٹریلیا کی ایجیلینٹ کی کمپنی سیان نے بنائی ہے۔ ایران کی اداکارہ اس فلم میں بغیر پردے کے ہیں اور ان کے سرکو گنجا دکھایا گیا ہے۔ اس معاملے میں سب سے پہلے انہیں اس سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تبھی سے وہ جیل میں بند ہیں۔ حالانکہ حکومت نے مرزیا پر لگے الزامات کو نہیں بتایا لیکن اخبار 'دی ایج' کے مطابق فلم کو ایران میں دکھانے کے لئے منظوری نہیں ملی تھی اور اسے غیر قانونی طریقے سے بانٹا جارہا ہے۔ ویسے مرزیا کے شوہر ناصر تقوی خود ایران کے جانے مانے فلم ساز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم کو حکومت سے اجازت لینے کے بعد ہی بنایا تھا۔ ان کے وکیل نے سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔ ایک آزاد جدید ملک میں کسی شخص کے بدن پر 90 کوڑے کی سزا کے بارے میں تصور کرنا بھی آج کی تاریخ میں مشکل ہے۔ یہ خبر پڑھ کر خوف پیدا ہوتا ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ فلم کے ڈائریکٹر گرےناز موسوی نے کہا کہ مرزیا پر لگے الزامات بے بنیاد ہیں۔ فلم بنانے کو لیکر جتنے بھی پرمٹ لئے گئے تھے ہم انہیں کورٹ میں دکھا چکے ہیں۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Rajassthan, Rajasthan High Court, Vir Arjun
غروب ہوگیا غزل کا روشن آفتاب
Published On 13th October 2011
انل نریندر
غزل سرائی کے سرتاج جگجیت سنگھ اب نہیںرہے۔ ان کی لیلاوتی ہسپتال میں موت ہوگئی۔ خیال رہے 23 ستمبر کو ان کو دماغ کی نس پھٹنے کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا تبھی سے وہ نزعے میں تھے۔ 70 سالہ جگجیت سنگھ کےغمزدہ خاندان میں ان کی اہلیہ چتراسنگھ بچی ہیں۔ 1990 میں ان کے بیٹے وویک کی سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی تب سے جگجیت سنگھ غم سے باہر نہیں نکل پائے۔ اندر ہی اندر ان کو بیٹے کی موت کا غم کھا گیا تھا۔ منگل کے روز ان کا انتم سنسکار مرین لائنس کے چندن واڑی بجلی شمشان گرہ میں کیا گیا۔ اس وقت ان کے بھائی کرتار سنگھ دھیمن نے اگنی دی۔ انتم سنسکار کے وقت موجودلوگوں میں نغمہ نگار گلزار، جاوید اختر سمیت کئی بالی ووڈ ہستیاں موجود تھیں۔ راجستھان کے شری گنگا نگر میں پیدا جگجیت سنگھ گذشتہ صدی کے ساتویں اور آٹھویں دہائی میں غزل کو درباری روایت سے نکل کر عام آدمی کے قریب لائے۔ انہوںنے نور جہاں، طلعت محمود، مہندی حسن جیسے بڑے غزل گلوکاروں کے دور میں غزل کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ جگجیت نے غزل کو ہندوستانی سنگیت کی شاستریہ روایت سے تھوڑا الگ طرح سے پیش کیا جسے لوگوں نے خوب سراہا۔ان کی بیماری اور موت سے سارے دیش میں جو اظہار غم کیا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے مقبول تھے ۔ ان کی مقبولیت اس پیڑھی میںتب ہوئی جب غزل کی مقبولیت کا دور ایک طرح سے ختم ہورہا تھا۔ اگر ہم یہ کہیں کے دراصل بھارت میں غزل کی مقبولیت کا دور جگجیت سنگھ کے ساتھ شروع ہوا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ان سے پہلے ہندوستان میں بیگم اختر اور طلعت محمود جیسے غزل گلوکار تھے اور پاکستانی غزل گلوکار مہندی حسن اور غلام علی کا اثر تھا لیکن ان کے چاہنے والے محدود لوگ تھے۔ جگجیت سنگھ نے غزل کو عام ہندوستانیوں میں مقبول بنایا بلکہ غزل سننا آج ایک فیشن ہوگیا ہے۔ جس وقت جگجیت نے سنگیت کی دنیا میں قدم رکھا اس وقت مہندی حسن کی طوتی بولتی تھی۔ جگجیت نے افتتاح میں مہندی حسن کے اثر میں گانا شروع کیا۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ برسوں کے بعد پاکستانی آرٹسٹوں کی مخالفت میں سب سے زیادہ آواز اٹھی تھی۔ شاید اپنے پاکستان دورہ میں ہوئے تجربے نے انہیں تلخ بنادیا تھا۔ جلدہی انہوں نے اپنا ایک نرالہ انداز پیش کیا جس میں غزل کے ساتھ جدید آرکیسٹرا اور یوروپی انداز شامل تھا۔جگجیت سنگھ کی سریلی آوازنے غزل گائیکی کو عام لوگوں تک مقبول بنایا۔ گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ جگجیت بہت اچھے میوزک ڈائریکٹر بھی تھے اپنی غزلوں کی دھنیں خود بناتے تھے اور کئی فلموں میں انہوں نے میوزک بھی دیا۔
ان کے جانے سے اس سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے جگجیت کے دیوانوں کی فہرست میں ہر عمر کے شائقین شامل ہیں۔ جگجیت سنگھ کوامیتابھ بچن نے ان لفظوں میں شردھانجلی دی جگجیت سنگھ کی مخملی آواز اب اس دنیا میں خاموش ہوگئی ہے غزل سمراٹ کا جانا میوزک صنعت اور ان کےچاہنے والوں کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کے انتقال سے میوزک اور غزل کی دنیا کا سونا پن پر ہونا مشکل ہے۔ میں ان کے لئے ایشور سے پرارتھنا کرتا ہوں۔ الوداع جگجیت۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Ghazal, Jagjit Singh, Vir Arjun
مارن کا نمبرآگیا ،رتن ٹاٹا ابھی بھی بچے ہوئے ہیں
Published On 13th October 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں کروناندھی اینڈ کمپنی کا ایک وکٹ گرنے والاہے۔ اے راجہ، کنی موجھی کے بعد اب سابق وزیر دیا ندھی مارن کا نمبر ہے۔ ان پر سی بی آئی کا شکنجہ کس چکا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ دیاندھی مارن کے ساتھ ان کے بھائی کلاندھی مارن اور ملیشیاکے میکسس گروپ کے چیئرمین ٹی آنند کرشن اور سرمایہ کار رافلس مارشل سمیت تین کمپنیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ایتوار کو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جانچ ایجنسی نے پیر کے روز مارن کے دہلی اور چنئی میں رہائشی و دفاتر پر چھاپہ ماری کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق وزیر مواصلات رہتے ہوئے دیاندھی مارن نے تارکین وطن ہندوستانی صنعت کار ایس شیو شنکرن پرایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباﺅ ڈالا تھا۔ ایئرسیل کو اسپےکٹرم الاٹمنٹ کو مارن نے تقریباً دو سال تک لٹکائے رکھا اور اسپیکٹرم کرنیں تبھی دی گئیں جب شیو شنکرنے ایئر سیل کو ملیشیا کمپنی میکسس گروپ کو بیچ دیا۔ یہ ہینہیں 14 سرکل میں ایک ساتھ اسپیکٹرم معاملے کے بعد میکسس گروپ کی ساتھی کمپنی ایسٹرو نے مارن خاندان کی کمپنی سن میں براہ راست طور پر تقریباً600 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ الزام ہے کہ ایسٹرو نے سن کے براہ راست شیئر کو بازار کے بھاﺅ سے زیادہ قیمت میں خریدر کر درپردہ طور پرمارن کو رشوت دی تھی۔ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ ابھی جاری ہے۔ عوامی رابطہ ایجنسی چلانے والی نیرا راڈیا اور ان کے روابط کی جانچ ابھی ادھوری ہے۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ جب جنتا کے سامنے اجاگر ہوئے تو پورے دیش کو یہ جان کر دھکا لگا کے جو وزیر سرکار چلاتے ہیں جنتا انہیں سمجھتی ہے کہ انہیں دیش کے پردھان منتری چنتے ہیں وہ وزیراعظم کے ذریعے نہ چنے جاکر دیش کے بڑے صنعتی گھرانے انہیں بناتے ہیں۔ یہ گھرانے اپنے پسندیدہ لیڈروں کو وزیر بنوانے کےلئے کس طرح سے اور کس سطح تک جاکر لابنگ کرتے ہیں یہ نیرا راڈیا معاملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ میڈیا معاملے میں دیش کے بڑے صنعتی گھرانے رتن ٹاٹا کا نام سامنے آیا ہے۔ راڈیا ٹاٹا گھرانے کے لئے کام کرتی ہیں اور ان کے سیاسی اور کاروباری مفادات کا اتنا خیال رکھتی ہیں لیکن یہ خلاصہ صرف ایک راڈیا کا تھا۔ راڈیہ ٹیپ معاملے کا دوسرا پہلو ٹوجی اسپیکٹرم مہا گھوٹالے سے جاکر جڑ گیا۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر کیگ نے اپنی رپورٹ میں تذکرہ کیا ہے۔ راڈیہ معاملے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سرکار یہ یقینی بناتی کہ مستقبل میں ایسا پیغام نہ جائے کہ سرکار کسی بھی صنعتی گھرانے سے متاثر ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ٹوجی گھوٹالے کی جانچ سے کچ طرح سے رتن ٹاٹا کو باہر کیا جارہا ہے وہ پہلے سے طے ہے اور جنتا کے سامنے سرکار اور صنعتی گھرانے کی اس ملی بھگت کا معاملہ دوسرا جھٹکا ہے۔ یوپی اے سرکار کے لئے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ کسی دلدل سے کم نہیں۔
سرکار اس سے نکلنے کے لئے بھلے ہی جتنی کوشش کرتی ہے اتنی ہی اس میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ اس گھوٹالے میں روز نئے نئے نام سامنے آرہے ہیں۔ مارن بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ اسی طرح ایسار گروپ کےروئیاں بندھوﺅں کو بھی سی بی آئی جلد اپنے شکنجے میں لینے والی ہے۔ ایسارسے سابق ریلائنس، یونیٹیک، سوان اور ویڈیو کون جیسی کمپنیوں کے بڑے افسرتہاڑ جیل میں پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں وزارت مالیات کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجی گئی ایک چٹھی سے وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام بھی سامنےآیا ہے۔ حالانکہ اس گھوٹالے کے سوتردھار اے راجہ پہلے بھی اس طرف کئی باراشارہ کرچکے تھے لیکن راجہ کے الزام کے بدلے کی کارروائی کے تحت انہیں ملزم بنایا گیا ہے۔ لیکن اس مہا گھوٹالے کے معاملے میں سب سے بڑا تعجب یہ ہے کہ ٹاٹا کے کردار اور ان سبھی صنعتی گھرانوں سے زیادہ وسیع اور واضح ہے لیکن ابھی تک کوئی جانچ یا چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے؟ ٹاٹا پر اسگھوٹالے میں کافی اہم کردار نبھانے کا نہ صرف الزام ہے بلکہ کافی پختہ ثبوت بھی ہے لیکن رتن ٹاٹا کا سرکار سے اپوزیشن تک میں کتنا اثر ہے یہ اسی سے صاف ہے کہ ٹاٹا گھرانہ اس مہا گھوٹالے کی جانچ کے دائرے سے تقریباً باہر ہے۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر سب سے پہلے انگلی کیگ نے اٹھائی۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا ٹیلی سروس کی وجہ سے سرکاری محصول کو 19074 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا دعوی کیا ہے۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا کے کردار پرتفصیل سے بحث کی ہے۔ ٹاٹا کے اس مہا گھوٹالے میں کردار دنیا جانتی ہے کہ اے راجہ کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بنانے کےلئے ٹاٹا نے نیرا راڈیہ کے ذریعے سے اس طرح سے لابنگ کروائی کے سابق وزیرمواصلات دیاندھی مارن کے ٹاٹا سے تعلق اچھے نہیں تھے اور یوپی اے کی پہلی
پاری میں ٹاٹا کو مارن کا تعاون نہیں ملا تھا۔ آخر کار رتن ٹاٹا نہیں چاہتے تھے کہ دیاندھی مارن پھر سے وزیر مواصلات بنیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ٹاٹا نے صرف لابنگ ہی نہیں کی بلکہ ایک طریقے سے رشوت کے طور پر ڈی ایم کے چیف کروناندھی کوچنئی میں کروڑوں روپے کی زمین تحفہ میں دے دی۔ بعد میں اس زمین پر عمارت تعمیر کروائی۔ اس سب کا اثر تھا کہ اے راجہ کے وزیررہتے رتن ٹاٹا کو 2 جولائی کو اسپیکٹرم دینے کےلئے وزارت میں کسی بھی قاعدے کی پرواہ نہیں کی۔ ہمارا خیال ہے کہ رتن ٹاٹا کی تفصیل سے جانچ ہونی چاہئے۔ اگر ایسا نہیںہوتا تو یہ جانچ اور گھوٹالے کا پورا پردہ فاش نہیں ہوگا۔ نیرا راڈیہ کے ٹیپوں کی تو پتہ نہیں کیوںجانچ اور ان پر کارروائی نہیں ہورہی ہے؟
2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Karunanidhi, Ratan Tata, Tata Teleservices, Vir Arjun
12 اکتوبر 2011
اترپردیش میں چناؤ فروری میں ہوں گے؟
Published On 12th October 2011
انل نریندر
سیاسی حلقوں میں اس بات کی بحث زوروں پر چھڑی ہوئی ہے کہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات وقت سے پہلے کرائے جاسکتے ہیں۔ موصولہ اشاروں سے لگتا ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہا تو اتراکھنڈ، پنجاب اور منی پور کے ساتھ اگلے سال فروری میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ساتھ اترپردیش کے چناؤ بھی کرائے جاسکتے ہیں۔ بہن جی کا جس طرح سے چھٹائی آپریشن جاری ہے اس سے اس اندیشے کو تقویت ملتی ہے ۔ چناؤ کمیشن نے اپنی پختہ تیاریاں کرلی ہیں۔ ہوسکتا ہے اگلے مہینے کی20 تاریخ کے آس پاس چناؤ پروگرام کا اعلان ہوجائے۔ سنیچر کو چیف الیکشن افسر امیش سنہا کی یوپی کے کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر سنگھ کے ساتھ ہوئی طویل بات چیت کو بھی فروری میں چناؤ کرانے کی کوشش کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ محترمہ مایاوتی پوری طرح سے چناؤ کی تیاریوں میں جٹ چکی ہیں۔ مایاوتی تقریباً40 ممبران کا ٹکٹ کاٹ چکی ہیں۔ کئی وزرا کو بھی پارٹی سے باہر کار راستہ دکھایا جاچکا ہے۔ جس طرح لوک آیکت کے پاس ریاست کے وزراء کی شکایتیں آرہی ہیں اس کے پیش نظر بہن جی کی پریشانیاں بڑھنا لازمی ہیں۔ کیونکہ جب لوک آیکت کی سفارش پر کچھ وزراء کو ہٹایا گیا ہے تو باقی کے بارے میں کچھ الگ فیصلہ ان کے لئے مشکل ہوگا۔ اب تو لگتا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا وزیر بچے جس کی کرسی محفوظ ہو اور یہ حالت بہن جی کو راس آتی ہے۔ مایاوتی یہ بھی جانتی ہیں کہ 2 اپریل 2012ء کو راجیہ سبھاکے 11 ممبران کی میعادختم ہورہی ہے لہٰذا اس سے پہلے چناؤ طے ہیں۔ اگر فروری میں چناؤ نہیں ہوتے تو یہ دور اسمبلی انتخابات کا ہوگا۔ ایسے میں مایاوتی کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچنے والا ہے۔ کیونکہ 224 ممبران میں سے 31 کا اب تک ٹکٹ کاٹ چکی ہیں۔ ابھی اس میعاد میں راجیہ سبھا میں 5 بسپا کے ممبران ہیں۔ ایسے میں ایک ممبر کے لئے 36.6 ممبران کی حمایت ضروری ہے۔ اس لحاظ سے مایاوتی پھر پانچ سے زیادہ راجیہ سبھا ممبر نہیں بنوا سکتیں۔ الیکشن کمیشن کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اس نے پنجاب اور اتراکھنڈ کے چناؤ کے پیش نظر پہلے ہی آئی سی ایس سی اور سی بی ایس ای بورڈ کے امتحانات کو ذہن میں رکھ کر خاکہ تیار کیا ہے۔ اتراکھنڈ میں نئی اسمبلی 12 مارچ کو تشکیل ہو جانی چاہئے۔کانگریس کو بھی اس امکان کے بارے میں معلوم ہے اور وہ بھی اپنی تیاریوں میں لگ گئی ہے۔ اترپردیش میں ٹھنڈے بستے میں پڑی کانگریس کی مہم کو پھر سے تیزی دینے کے لئے کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی نومبر میں میدان میں اترنے والے ہیں۔ ذرائع کے مطابق راہل پہلی تا 30 نومبر تک الہ آباد، بلیا، قنوج، بدایوں، لکھیم پور کھیری میں ریلیاں کرسکتے ہیں۔ راہل کی مہم میں پردیش کی بسپا سرکار سپا اور بھاجپا کے علاوہ انا ہزارے بھی نشانے پر ہوں گے۔ پردیش چناؤ مہم کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں ممکن ہے کہ راہل کے پلان کو قطعی شکل دے دی جائے۔ دراصل حصار کے بعد یوپی کے اسمبلی چناؤ میں کھیل بگاڑنے کا انا ہزارے کا اعلان کہیں کانگریس پر بھاری نہ پڑ جائے ۔اس لئے پارٹی ہائی کمان نے پردیش کانگریس کو اس کے لئے وسیع حکمت عملی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی زبردست جن ابھیان کے ذریعے انا کو کڑا جواب دے سکتے ہیں۔ ادھر سماج وادی پارٹی کرانتی رتھ یاترا منگلوار کو سائیکل ریلی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ سپا کے پردیش پردھان اکھلیش یادو کی رہنمائی میں کانپور سے اناؤ کے درمیان سائیکل ریلی نکالی گئی ۔اناؤ میں ریلی کو خطاب کرتے ہوئے سپا کے پردیش پردھان اکھلیش یادو نے کہا بسپا کے عہد کے ساڑھے چار سالوں میں عام جنتا چاروں طرف سے پسی ہے۔ جنتا کا ہر طبقہ بدانتظامی ، کرپشن سے پریشان ہے اور انہی سے نجات دلانے کیلئے ہی سماج وادی کرانتی رتھ چلا ہے۔ رتھ یاتراؤں کے سلسلے میں بھاجپا بھی پیچھے نہیں ہے۔ بھاجپا کے ایک ساتھ تین رتھ چلیں گے۔ اڈوانی جی کا رتھ ، راجناتھ سنگھ کا اور کلراج مشرا کا رتھ۔ یوپی میں اسمبلی چناؤ کے پیش نظر13 اکتوبر کو شروع ہو رہی راجناتھ و کلراج کی جن سوابھیمان یاترائیں ایودھیا میں ہی ختم ہوں گی۔ راجناتھ سنگھ اور کلراج مشرا جمعرات سے یاترا پر نکلیں گے۔ راجناتھ سنگھ متھرا میں دین دیال اپادھیائے کے جنم استھان سے یاترا شروع کریں گے۔ اس دوران یاترائیں62 ضلعوں کے تحت 237 اسمبلی حلقوں سے ہوکر گذرے گی اور تقریباً پانچ ہزار کلو میٹر کی دوری طے کریں گی۔ ان تیاروں کو لیکر لگتا ہے مختلف پارٹیوں نے اترپردیش میں اپنی چناوی مہم کا بگل بجا دیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun
نکسلیوں اور آتنکیوں کو آئی ایس آئی کی پوری حمایت
Published On 12th October 2011
انل نریندر
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ نکسلیوں اور منی پور کے آتنک وادیوں کی ملی بھگت کا بڑا خلاصہ حکومت ہند کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ لشکر طیبہ اور کشمیری آتنک وادی اثر بھارت میں پھیلانے کیلئے نکسلیوں اور ماؤ وادیوں کے ساتھ آئی ایس آئی گٹھ جوڑ کر چکی ہے۔ ان کا مقصد 2050 ء تک بھارت سرکار کا تختہ پلٹنا ہے۔ یہ خلاصہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے سامنے منی پور کی آتنک وادی تنظیم پی ایل اے (پیپلز لبریشن آرمی) کے دو لوگوں نے کیا ہے۔سیل کے اسپیشل کمشنر پی این اگروال کے مطابق این دلیپ سنگھ اور ارون کمارسنگھ کو ایک اکتوبر کو پہاڑ گنج میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جھاڑکھنڈ کے جنگلوں میں پی ایل اے کے ممبران چین اور برما سے مل رہے ہیں۔گرینیڈ لانچر اور باقی ہتھیاروں کو پہنچانے کے علاوہ انہیں چلانے کی ٹریننگ بھی نکسلیوں کو دے رہا ہے۔ کشمیری آتنک وادی تنظیموں کے ذریعے سے آئی ایس آئی نکسلیوں کو ہتھیار اور کمیونی کیشن وسائل مہیا کرا رہی ہے۔ نکسلیوں اور کشمیری آتنک وادی تنظیم میں کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ آئی ایس آئی کی جانب سے ان کا ایجنٹ مدنی بنگلہ دیش کے راستے جھاڑکھنڈ میں جاکر نکسلیوں کے لیڈر کشن جی سے ملا تھا۔ اس بات چیت کے بعد کشن جی اور لشکر طیبہ میں گٹھ جوڑ ہوا تھا۔ دلیپ اور ارون سے برآمد لیپ ٹاپ اور سی ڈی کے مطابق آئی ایس آئی کی پہل پر شمال مشرقی ریاستوں کی سات آتنک وادی تنظیموں نے یونائیٹڈ فرنٹ بنا لیا ہے۔آئی ایس آئی نے بھارت کی اہم آتنک تنظیموں میں جس میں کشمیری تنظیم بھی شامل ہے پورا تال میل قائم کیا ہوا ہے۔ اس کا اور ثبوت دہلی ہائیکورٹ بم دھماکے سے بھی ملتا ہے۔ آئی ایس آئی کا دعوی ہے کہ اس کانڈ میں حال ہی میں پکڑے گئے شخص وسیم نے بتایا کہ دھماکے کو حزب المجاہدین اور القاعدہ نے مشترکہ طور سے انجام دیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پوچھ تاچھ میں وسیم نے مانا کے اس نے ہجی کے تین بنگلہ دیشی آتنکیوں کے ساتھ اس کانڈ کو انجام دیا۔ ان آتنک وادیوں کو القاعدہ نے ٹریننگ دی تھی۔ آئی ایس آئی اب وسیم کے بھائی جنید کے ساتھ حزب الکمانڈر جہانگیر سعودی اور اس کے قریبی عامر حسین عرف اکرم کی تلاش کررہی ہے۔ وسیم 7 ستمبر کو ہائی کورٹ کے باہر دھماکے کو انجام دے کر جموں بھاگ گیا تھا۔ یہاں گھروالوں کے ساتھ دو دن رہ کر9 ستمبر کو واپس چلا گیا تھا۔ وسیم نے دھماکے سے دو مہینے پہلے دہلی ہائی کورٹ کا جائزہ لیا تھا وہ تب ایک بڑا دھماکہ کرنا چاہتا تھا لیکن اس وقت جنید دھماکو سامان مہیا نہیں کرا پایا۔ اس کے بعد وہ بنگلہ دیش چلا گیا ۔ حالانکہ جنید نے دھماکے کے45 دن پہلے ہی بم تیار کرلیا تھا۔ اب یہ صاف ہوتا جارہا ہے کہ آئی ایس آئی ایک طرف القاعدہ اور دوسری طرف بھارت میں سرگرم آتنک وادیوں کو منظم کرنے میں لگا ہے۔ اس کام میں اسے چین اور بنگلہ دیش دونوں سے مدد مل رہی ہے۔ بھارت کو ہر طرف سے گھیرنے میں لگی ہے آئی ایس آئی۔
Anil Narendra, Bangladesh, Daily Pratap, ISI, Maoist, Naxalite, Salwa Judam, Vir Arjun
11 اکتوبر 2011
لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا
Published On 11th October 2011
انل نریندر
سینئر بھاجپا لیڈر شری لال کرشن اڈوانی کی بدعنوانی مخالف جن چیتنا یاترا11 اکتوبر (یعنی آج سے) شروع ہورہی ہے۔ یہ طویل یاترا38 دنوں میں 23 ریاستوں چار مرکز کے زیر انتظام ریاستوں سے ہوکر گذرے گی۔چھ مرحلوں میں پوری ہونے والی اس یاترا کے درمیان میں دیوالی کے سبب تین دنوں کے لئے آرام ہے۔اس دوران دیش کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لئے اڈوانی جی بیچ بیچ میں ہوائی راستے کا سہارا لیں گے۔ وہ اپنی اس یاترا میں4600 کلو میٹر کا سفر طے کریں گے۔ ان کے لئے ہر بار کی طرح ایک بس کو رتھ کی شکل میں تیار کیا جارہا ہے جس میں ایک لفٹ بھی ہوگی جس سے وہ بس کے اوپر تک پہنچ کرنکڑ سبھاؤں کو خطاب کریں گے۔ وہ ہر روز تین چار بڑی ریلیوں کو بھی خطاب کریں گے۔ صبح سویرے10 بجے سے لیکر رات10 بجے تک ان کی یاترا چلے گی جس میں وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے 6-7 گھنٹے روزانہ سفر کریں گے۔ ایتوار کو اڈوانی جی نے اپنی رہائشگاہ پر ایک الوداعی پروگرام کا انعقاد کیا ہے۔ اس میں جن چیتنا یاترا تھیم سانگ بھی 'بس اب اور نہیں' ریلیز کیا گیاتھا۔ بھاجپا کو امید ہے کہ خاص طور سے بنایا گیا یہ گانا پورے دیش میں مقبول ہوگا۔ خاص کر نوجوان طبقے میں۔ اس موقعے پر شری اڈوانی نے کہا ہم کرپشن برداشت نہیں کریں گے۔ ہم زیادہ ذیاتی بھی نہیں سہیں گے جو دیش میں آزادی کے 60 سال بعد بھی جاری ہے۔ اور ہم کالی کمائی کے مسئلے پر کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا اپنی یاترا کے ذریعے سے وہ دیش کو جگانے کی کوشش کریں گے اور یہ بتائیں گے کہ دنیا میں پہلے نمبر کا دیش بننے کے لئے بھارت کے پاس کافی مسائل اور اہلیتیں ہیں۔ سابق نائب وزیر اعظم کی رتھ یاترا کے کالے دھن کا اشو اٹھانے کے لئے بالی ووڈ گلوکار راجہ حسن نے ساڑھے چار منٹ کا گیت گا کر سنایا۔ اسے فلم پروڈیوسر منی شنکر نے تیار کیا ہے۔ اس گیت کی شروعات اور آخر میں اڈوانی جی کو کالی کمائی اور کرپشن کے اشو پر کچھ لائن کہتے سنا جاسکے گا۔ شری اڈوانی کی جن چیتنا یاتراپر کچھ تنازعہ ہونا فطری تھا۔ بھاجپا کا ایک طبقہ جو اس یاترا سے خوش نہیں ہے، کا کہنا ہے کہ اس بار رتھ یاترا نہ تو سومناتھ جائے گی اور نہ ہی ایودھیا۔ اڈوانی کا رتھ اس بار اجمیر شریف بھی جائے گا اور امرتسر بھی جائے گا۔ گودھرا کانڈ کے بعد نریندر مودی کے اہم دور میں کٹر ہندوتوواد کی لیباریٹری کی شکل میں ابھرے گجرات میں بھی اڈوانی جی کا رتھ کم گھومے گا۔ مودی کے گجرات کے بجائے شوراج چوہان کے مدھیہ پردیش میں زیادہ گھومے گا۔ مدھیہ پردیش میں اڈوانی اس لئے بھی زیادہ وقفے رہیں گے کیونکہ شوراج سنگھ چوہان نے کرپشن کے خلاف ایسے قانون بنائے ہیں جو دوسری ریاستوں کے لئے مثال بن رہے ہیں۔ اس مرتبہ کی یاترا میں کسی طرح کا کوئی فرقہ وارانہ ایجنڈا نہیں ہے۔ شاید شری اڈوانی امید رکھتے ہیں کہ کرپشن اور کالی کمائی کے اشو سے سبھی متاثر ہوں گے۔ چاہے وہ کسی بھی مذہب یا فرقے یا کسی بھی برادری کا ہو۔ اس لئے انہوں نے اپنی اس یاترا کو سیکولر شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کا ایک مقصد آنے والے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہیں اور 2014 میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ تک کانگریس مخالف لہر کو برقرار رکھنے کا ہے۔ کرپشن اور کالی کمائی کے اشوز کو زندہ رکھنا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہزاروں کلو میٹر کی یاترا سے اڈوانی کے حق میں ایک ماحول بنے گا اور انہیں امید ہے کہ وہ بھاجپا کے سب سے قد آور نیتا بن کر ابھریں گے۔ باقی تو یاترا کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ جہاں تک جنتا کی حمایت کا سوال ہے جس طرح اس وقت کرپشن اور کالی کمائی نے دیش میں ماحول انا ہزارے نے بنایا ہے اس سے کہا جاسکتا ہے کہ رد عمل اچھا ہوگا۔ اس بات کی تعریف کرنی ہوگی کہ اتنی عمر ہونے کے باوجود اڈوانی جی میں آج بھی نوجوانوں جیسا جوش بھرا پڑا ہے۔ بیسٹ آف لک اڈوانی جی۔Anil Narendra, Daily Pratap, L K Advani, Rath Yatra, Vir Arjun
فاروق اور عمر عبداللہ دونوں ہی کٹگھرے میں
Published On 11th October 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ دنوں سے کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ سرخیوں میں ہیں اور کشمیر نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر کی پر اسرار حالت میں موت پر سیاست جاری ہے۔ حکمراں نیشنل کانفرنس کے ایک نیتا سید محمد یوسف کی موت سے ایک بھاری تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یوسف کا الزام ہے کہ اس نے نیشنل کانفرنس کے دو لیڈروں سے کل ایک کروڑ 15 لاکھ روپے لئے تھے ان دونوں لیڈروں سے اس پیسے کے عوض میں سرکار نے کچھ کام کرانے کا وعدہ کیا تھا ۔ کام نہیں کیا تو جھگڑا وزیر اعلی عمر عبداللہ تک پہنچا۔ شکایت کنندہ اور ملزم کو وزیر اعلی کے کیمپ آفس بلایا گیا۔ بعد میں یوسف کی پر اسرار حالت میں موت ہوگئی۔اس دوران ایک چشم دید گواہ سامنے آگیا۔ اس نے دعوی کیا کہ فاروق عبداللہ۔ عمر سرکار نے کسی کو وزیر بنانے یا ممبر اسمبلی بنوانے کے لئے پیسے وصولتے تھے۔ واقعے کے بعد چشم دید اور نیشنل کانفرنس کے ہی ورکر سلمان ریشی نے نیوز چینل کو دئے گئے اپنے بیان میں دعوی کیا ہے کہ موت سے پہلے عمر عبداللہ اور یوسف کے درمیان پیسے کے لین دین کو لیکر جھگڑا ہوا تھا۔ ریشی کا کہنا ہے کہ وہ پیسہ ایک پارٹی ورکر نے منتری بننے کے بعد فاروق عبداللہ کو دیا تھا۔ اس کا دعوی ہے کہ وزیر اعلی کے گھر میں عمر اور یوسف کی ملاقات کے دوران وہ موجود تھا۔ عمر عبداللہ نے اس کی تردید کی ہے۔ ریشی کا دعوی ہے کہ جب یوسف عمر سے ملنے گئے تھے تو وہ ٹھیک تھے۔ وزیر اعلی کی رہائش گاہ سے باہر آنے کے بعد ان کی حالت خراب تھی۔ ریشی نے کہا کہ اس نے عمر نے یوسف سے پوچھا کہ کیا انہیں یہ پیسے ملے ہیں۔ اس کے بعد سید یوسف نے عمر سے کہا کہ وہ ان کے پاس والے کمرے میں اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہے۔ عمر نے ان کی بات نہیں مانیں۔ یوسف نے تب کہا کہ وہ اس معاملے کو سلجھانے کے لئے فاروق عبداللہ کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیر کی بڑی اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی نے عمر عبداللہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ کررکھا ہے۔ الزامات سے گھرے باپ بیٹے عمر عبداللہ اور ان کی پارٹی نے نیشنل کانفرنس محاذ کی سیاست میں الگ تھلگ پڑتے نظر آرہے ہیں۔ کانگریس کے زیادہ تر لیڈر جہاں اس مسئلے پر چپ ہیں وہیں کئی لوگ نجی بات چیت میں وزیر اعلی سے استعفے کی خواہش ظاہر کررہے ہیں۔ ایک دوسری ساتھی پارٹی پیپلز ڈیموکریٹک فورم نے اس معاملے میں غیر جانبدارانہ جانچ کی مانگ کی ہے۔ وہیں مارکسوادی لیڈر محمد یوسف پریگامی اور آزاد ممبر رشید نے بھی ایوان میں اس معاملے پر بحث کے لئے بڑی اپوزیشن پارٹی پی ڈی پی کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ گذشتہ تین سال کی سیاست میں شاید وزیر اعلی عمر عبداللہ نے خود کو کبھی اتنا لاچار محسوس نہیں کیا ہوگا جتنا موجودہ ماحول میں وہ کررہے ہیں۔ پراسرار حالات میں مرے یوسف کے رشتے داروں نے سنیچر کو تین تصویریں جاری کی تھیں ان کے ذریعے سے رشتے داروں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ یوسف کے چہرے پر اذیتوں کے نشانے نظر آرہے ہیں۔ ایک تصویر یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ یوسف وزیر اعلی عمر عبداللہ اور ان کے والد فاروق عبداللہ کا خاص آدمی تھا۔ پولیس دعوی کررہی ہے یوسف کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی جبکہ سرینگر کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ نے معاملے کی جانچ شروع کردی۔ اس میں تو کوئی شبہ نہیں لگتا کہ مرحوم نیشنل کانفرنس ورکر سید محمد یوسف ،فاروق اور عمر دونوں کو قریب سے جانتا تھا۔ کسی نہ کسی سطح پر پیسوں کا لین دین ضرور ہوا۔ سوال اتنا رہ جاتا ہے کہ 30 ستمبر کو پولیس حراست میں یوسف کی موت کیسے ہوئی؟ دل کے دورہ سے یا پھر کسی اور وجہ سے....
Anil Narendra, Daily Pratap, Farooq Abdullah, Jammu Kashmir, Umar Abdullah, Vir Arjun
09 اکتوبر 2011
آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ ہیرو یا ولین
گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ پچھلے کچھ دنوں سے بحث کے موضوع بنے ہوئے ہیں۔گجرات کے یہ متنازعہ پولیس افسر جو آج کل معطل ہے دراصل ایک ہیرو ہے یا ایک ولین ۔ کانگریس کی نظروں میں تووہ ہیرو ہے سنجیو بھٹ کانگریس کے پسندیدہ بنتے جارہے ہیں۔ کانگریس کاایک طبقہ یہاں تک کہنے لگاہے کہ سنجیو بھٹ کی گرفتاری مودی حکومت کے زوال کی شروعات مانی جاسکتی ہے۔ اس طبقہ کاکہناہے کہ بدلے کے جذبہ سے بھٹ کے خلاف کی جارہی انتقامی کارروائی مودی حکومت کو بھاری پڑے گی۔ دراصل نریندرمودی کانگریس کی آنکھ میں کانٹا بنے ہوئے ہیں اور کانگریس کو ہمیشہ کوئی ایسا اشو ضرور چاہئے ہوتا ہے جس سے وہ مودی پر حملہ کرسکیں۔ کبھی مودی کے اپواس میں ایڈوانی سمیت دوسرے بڑے بھاجپا نیتاؤں کی غیرموجودگی کو ہوا دی جاتی ہے تو کبھی ایڈوانی کی گجرات سے اپنی یاترا شروع نہ کرنے کو اشو بنایا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے عہدے کی دعوی داری کو لے کر بھاجپا میں جاری گھمسان لڑائی کوا چھالا جاتا ہے اب سنجیو بھٹ معاملے کو طول دیاجارہا ہے ۔ کہاں جارہا ہے کہ مودی حکومت کے بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے اور سنجیو بھٹ کو اس لئے نشانہ بنایاجارہا ہے کیونکہ وہ مودی کے خلاف کھل کر الزام لگارہے ہیں۔ بھٹ کی اہلیہ کے وزیرداخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کرکہاہے کہ گجرات پولیس ان کے شوہر کے ساتھ دہشت گردوں کے ساتھ برتاؤ کررہی ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے ریاستی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بھٹ کی ضمانت نہ ملنے پانے کے لئے طر ح طرح کے ہتھکنڈے اپنارہی ہے کچھ دن پہلے بھٹ کی بیوی نے شویتا نے چدمبرم کو ایک اور خط لکھا تھا جس میں اپنے شوہر کی جان کو خطرہ بتایا تھا۔
سوال یہ ہے کہ سنجیو بھٹ کیا ایک وفادار ایمان دار اور صاف ستھری ساکھ کے افسر ہے جنہیں مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہی ہے اور بدلہ لے رہی ہے کیونکہ انہوں نے مودی کے خلاف مہم چھیڑی ہوئی ہے یا پھر وہ ایک داغ دار افسر ہے جو اپنی سرگرمیوں کے پردہ فاش ہونے سے اس لئے حملہ کررہے ہیں تاکہ ان کے خلاف لگے الزامات سے بچا سکے۔ سنجیو بھٹ کے پولیس ریکارڈ پر اگر ہم نظر ڈالے تو پائیں گے ان پر وقتا فوقتا سنگین الزام لگتے رہے ہیں 30 اکتوبر 1990 جام نگر ضلع کے جمود پور تعلقہ میں ایک فرقہ وارانہ فساد ہوا اس میں 133 لوگوں کو گرفتارکیا گیا۔ وشنو ہندو پریشدکے پریم بربھو داس ویش نانی پکڑے جانے کے 11دن بعد پولیس حراست میں مرگئے۔ کیونکہ پولیس ان کی ضرورت سے زیادہ پٹائی کردی تھی۔ ان کے بڑے بھائی امرت لال ویش نانی نے حراست میں موت سے متعلق جو مقدمہ کیا اس میں وہ اس وقت کے بنیادی ملزم ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو بھٹ کوبنایا گیا تھا۔ جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل سیشن جج این ٹی سولنکی نے بھٹ کے خلاف ایک گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔
بھٹ کے خلاف گجرات سی آئی ڈی نے سی آر پی سی کی دفعہ (9) کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے باقاعدہ ریاستی حکومت سے اجازت مانگی تھی لیکن 1995میں مودی حکومت نے عدالت میں بھٹ کابچاؤ کیا عدالت نے یہ کیس بند کرنے کی حکومت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ چلانے لائق ہے اس لئے اسے بند نہیں کیاجاسکتا ہے لیکن مودی سرکارنے 1996 کی اس عرضی کو واپس لے لیا۔ اب بھی عدالتی کارروائی بھٹ کے خلاف جاری ہے سنجیو بھٹ ایک اور داغی چہرہ ہے 1995 میں وہ احمد آباد ضلع پولیس کے ایس پی تھے وہیں ایک سیشن جج آر کے جین تھے ان کی بہن کے ایک کرایہ دار تھے جن کے خلاف مقدمہ چل رہاتھا۔ لیکن کرایہ دار مقدمہ جیت گئے اور گھر خالی کرانے کے لئے سبھی قانونی راستے بند ہوگئے۔ جسٹس جین نے سنجیو بھٹ سے پھر سے گھر کسی بھی طریقے سے خالی کروانے کی اپیل کی۔ بھٹ نے کرایہ دار کوبلایا اور گھر خالی کرنے کو کہا اس نے کہاکہ اگر اس نے گھر خالی نہیں کیاتو اسے نتیجہ بھگتنے ہوں گے پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سنجیو بھٹ نے کرایہ دار کے گھر پر منشیات رکھوا کر اسے گرفتار کروادیا او رگرفتار ہوتے ہی زبردستی گھر خالی کرالیا بعد میں یہ ضلع جج کی عدالت میں کرایہ دار نے دعوی پیش کیا تو اس میں سنجیو بھٹ کو پارٹی بنایا گیا۔سنجیو بھٹ کے خلاف ایک لاکھ پچاس ہزار کا جرمانہ لگا جس کی ادائیگی آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ ریاستی حکومت نے کی اور وہ پیسہ ان کی تنخواہ قسطوں میں کٹتا رہا۔ اس معطل آئی پی ایس افسر کی مودی سرکار سے دشمنی اور اسکے مخالفوں سے سانٹھ کانٹھ پرانی ہے ایسی کئی مثالیں ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس سنجیو بھٹ کو مودی سرکار اور وہ خود وزیراعلی کے خلاف اکساتی رہی ہے اور اکساتی رہے ہیں سنجیو بھٹ کاریکارڈ عدالتوں کے سامنے ہے اور ہوسکتاہے کہ اگلی اسمبلی چناؤ وہ امیدوار بنے اور اب آپ خودفیصلہ کرلیں۔ سنجیو بھٹ ایک ایماندار اور صاف ستھری ساکھ کے شخص ہے جسے مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں یا پھر وہ کانگریسی شطرنجی چال میں ایک مہرہ بنے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, P. Chidambaram, Sajeev Bhatt, Vir Arjun
پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی موجودگی ہند کیلئے تشویش کاباعث
Published On 9th October 2011
انل نریندر
بھارت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے اس اندیشے کی تصدیق کردی ہے جو پچھلے کئی دنوں سے پیدا تھا۔بری فوج کا صدر جنرل سنگھ نے بدھ کے روز کہاکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چین کی فوج پیپلز لیبریشن آرمی فوجی سمیت قریب چار ہزار چینی لوگ موجود ہے۔ یہاں تعمیراتی کام زوروں پر ہے ان میں سے کچھ وہاں سیکورٹی مقاصد سے بھی موجود ہے۔ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ساتھ بھی بھارت پاک کے درمیان کنٹرول لائن کے کافی قریب ہے سنگھ یہ بیان پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں انہی فوجوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں بھارت میں جتائی جارہی تشویشات کے پس منظر میں آیا ہے۔ ائر فوج کے چیف ائر چیف مارشل اے این براؤن نے ایک انٹرویو کے دوران یہ صاف کہاہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چین کی موجودگی بڑھنے سے بھارت کی توجہ اس طرف مرکوز ہوئی ہے۔ پچھلے برس یہ خبر آئی تھی کہ جموں وکشمیر کے پی او کے کلکٹ بلستان خطہ میں قریب گیارہ ہزار چینی فوجی موجود ہے۔ چین کے خطرناک منصوبے کو لے کر جنرل سنگھ کی وارننگ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اس سال یہ تیسرا موقعہ ہے جب سینئر فوجی یا سیاسی لیڈر شپ نے دیش کی سرحد پر چین کی حرکتوں کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے یہ اس لئے بھی زیادہ تشویش کاموضوع ہے کہ چینی دراندازی اور اب پی او کے میں ہورہی ہے۔ وہاں بڑے پیمانے پر سڑکیں ، ہوائی اڈے وغیرہ کی تعمیر جیسی چینی حرکتیں پاکستان کے ذریعہ اس کی اجازت دینا بھارت کے لئے تشویش کا سبب ہوناچاہئے۔ پہلے ہی پاکستان نے ہزاروں مربع میل کا مقبوضہ کشمیر کاعلاقہ چین کے حوالے کردیاتھا۔ ہندوستان کو بھیجنے کی اس حکمت عملی پر یہ دونوں دیش برسوں سے کام کررہے ہیں یہ قدم اسی سمت میں اٹھایا گیا ہے۔ اور ایک اور قدم ہے۔اس کے معنی میں یہ بڑا حوصلہ افزا قدم ہے کہ اس سے بھارت کے خلاف چین اور پاکستان کے ناپاک ارادے ایک بار پھر فاش ہوجاتے ہیں پچھلے دنوں ہندوستانی سرحد میں گھس کر فوجی بنکروں کو تباہ کرنے اور ہندوستانی علاقے کی خلاف ورزی کرنے کے بعد بیجنگ اب پاکستانی مقبوضہ کشمیرمیں کنٹرول لائن کے بالکل قریب سڑکیں اور باندھ بنارہا ہے یہ بھی ایک محض اتفاق نہیں ہے کہ ادھر چینی ادھر پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی سرگرمیاں بڑھتی ہے توادھر ہمارے کشمیرمیں آتنکیوں کی دراندازی بڑھ جاتی ہے۔بھارت افغانستان کے درمیان ہوئے فوجی سمجھوتے کے بعد پاکستان کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے دراندازی اور دہشت گردی کے مورچے پر ہمیں زیادہ چوکس رہناہوگا کیونکہ اس کی پیٹھ پر اسکاہاتھ ہے۔ چینی گھس پیٹھ پر بھارت کی تشویش اور شکایت واجب ہے بھارت کاحصہ ہونے کے سبب پاکستانی مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کاقبضہ ہی ناجائز ہے تب وہاں کسی تیسرے ملک کے ذریعہ تعمیراتی کاکام کوئی جواز نہیں بیٹھتا ہے۔ اس لئے اپنی عادت کی مجبور چین کی تردید کا کوئی مطلب نہیں ہوناچاہئے۔ ہمیں اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے اپنی سلامتی کو مزید سخت کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ چین پچھلے عرصہ سے اپنی فوجی صلاحیت بڑھارہاہے وہ بھارت کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے تشویش کاموضوع ہے۔ لیکن جہاں تک ہندوستان کاسوال ہے کہ ایک بار چین سے دھوکہ کھانے کے بعد ہمارے حکمراں نہیں سنبھلیں ۔ پچھلے دنوں وزیر دفاع نے خود تسلیم کیاتھاکہ سرحد پر سڑکوں اورہوائی اڈوں جیسی ڈھانچہ بند سہولیات کی فروخت کو لے کر ہم لاپرواہ تھے جان بوجھ کر برتی گئی اس لاپروائی کے پیچھے جو سوچ تھی وہ بھی ڈراؤنی تھی ہمیں یہ ڈر تھاکہ سرحد پربنے ڈھانچے کہیں چینی حملے کے وقت اس کی سہولت نہ بن جائے۔ مطلب ہم 1962کے حملے چینی اور اس سے ملی چینی شرمناک ہار سے آج تک نہیں نکل پائے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پچھلے کچھ عرصہ سے چینی حرکتوں کو چھپانے کی کوشش رہتی تھی۔ شکر ہے کہ چین کی بڑھتی دبنگئی اور اس کی سازشی قدموں کو بھارت اب اچھی طرح سے سمجھنے لگا ہے۔ چین کے خلاف من مانی کرتے ہوئے جنوبی چین ساگر میں مشترکہ طور سے تیل وگیس کی تلاشی کاکارروائی کرنا صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ چین کو قابو میں رکھنے کے لئے ضروری ہے اس پر ہر طریقہ سے جوابی دباؤ بنایا جائے ہمیں اپنی سرحد پر ڈھانچہ بندی کاموں کو جلد سے جلد پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ہماری فوجیں پوری طرح سے چوکس رہے اور چینی پاکستانی مشترکہ سرگرمیوں پر گہری نظررکھیں۔Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, India, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
