Translater

17 جون 2017

گردش میں ہیں نواز شریف کے ستارے

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کے ستارے ان دنوں گردش میں چل رہے ہیں۔ دونوں گھر میں اور بیرونی ممالک میں ان کی توہین ہورہی ہے۔گھر میں تو پنامہ گیٹ تنازعہ پر پیشیاں ہورہی ہیں اور دیش کے باہر انہیں بے عزتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلوچستان میں وہ چینی ٹیچروں کے قتل کے بعد چینی صدر شی جنگ پنگ نے نواز شریف کو دھمکی تک دے ڈالی ۔ آستانہ میں ایس سی او کانفرنس کے دوران نواز شریف نے عطر روس اور قزاخستان ،ازبیکستان اور افغانستان کے صدور سے ملاقات کی لیکن جنگ پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات نہیں ہوسکی۔ چینی میڈیا نے بھی قزاخستان کے صدر نور سلطان نظربائف ،وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے جنگ پنگ کی ملاقات کا خاص تذکرہ کیا ہے۔ کانفرنس سے جڑی فٹیج میں دکھایا گیا کہ کیسے جنگ پنگ نے نواز شریف کی موجودگی کو نظرانداز کیا۔ چین نے 50 ارب ڈالر کے اقتصادی کوریڈور سمیت پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ پاک نے چینی کمپنیوں کے ملازمین کی سلامتی کے لئے 20 ہزار سے زائد سکیورٹی جوان تعینات کئے ہیں لیکن بلوچستان و قبائلی علاقوں میں آتنک وادی اکثر غیر ملکی شہریوں کے قتل کے معاملے سامنے آتے ہیں۔ چینی صدر کا یہ غیر متوقعہ تبصرہ پاکستانی صوبے بلوچستان میں دو چینی شہریوں کے اغوا اور ان کے قتل کو لیکر دیش کے عوام میں دکھ اور گہری مایوسی کے بعد آیا ہے۔ ادھر سعودی عرب کے شاہ کئی سال سے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو پناہ دینے سے لیکر مدد تک دیتے رہے ہیں لیکن اس بار انہوں نے (سعودی شاہ) نواز شریف سے دو ٹوک پوچھا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ ہیں یا قطر کے ساتھ؟ خیال رہے کہ ایران اور دہشت گردوں کو مدد دینے کے الزام میں سعودی عرب سمیت کئی مسلم ملکوں نے قطر سے تعلقات توڑ لئے ہیں۔ شاہ سلمان نے نواز شریف سے کہا قطر سے رشتے توڑنا دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لئے ضروری ہے۔ یہ سبھی مسلم ملکوں اور علما ء کے مفاد میں ہے۔ یہ بھی سچائی ہے کہ پاکستان خود بھارت و افغانستان کے خلاف دہشت گردوں کو مدد دے رہا ہے۔ جب شاہ سلمان نے دوٹوک نواز شریف سے پوچھا کہ آپ قطر کے ساتھ ہیں یا ہمارے تو شریف کچھ دیر تک کوئی جواب نہیں دے پائے۔ سعودی حکمراں نے جدہ میں میٹنگ کے دوران پوچھا ۔حالانکہ پاکستان نے سعودی عرب سے یہ ضرور کہا کہ وہ مشرقی وسطیٰ میں جاری سفارتی بحران کے درمیان کسی ایک کے حق میں کھڑا نہیں ہوگا۔ ادھر گھر میں پنامہ پیپر لیک معاملہ نواز و ان کے خاندان کے خلاف چل رہی منی لانڈرنگ کی جانچ میں شریف بری طرح پھنس گئے ہیں۔ شریف کے خاندان پر لگے الزامات کی جانچ کرتے ہوئے مشترکہ تفتیشی ٹیم کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور اس کو دھمکی دینے کے سنگین الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ اخبار ڈان کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کوان چیلنجوں کو بارے میں بتایا جو دو ماہ کی میعاد کے اندر تفتیش ختم کرنے کے دوران سامنے آئی بڑی عدالت کو جے آئی ٹی نے اس سلسلے میں جانکاری دی ہے۔ کل ملا کر نواز شریف کے ستارے گردش میں چل رہے ہیں اور گھر اور باہر ان کی عزت پر پلیتا لگایا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

متوفی سشیل چندر گپتا کے کھاتے سے 45 لاکھ روپے اڑائے

بینکوں میں ملازمین کی ملی بھگت سے گھوٹالہ عام ہوگئے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد تو کچھ بینک ملازمین نے ایک مقرر فیصد لے کر کروڑوں کے نوٹ بدلے اور مالا مال ہوگئے۔ کئی پھنسے بھی اور کئی جیل بھی گئے لیکن یہ دھندہ رکا نہیں۔ جہاں بھی ان کرپٹ بینک ملازمین کو موقعہ ملتا یہ چوکتے نہیں۔ تازہ مثال اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر ایم ایس رندھاوا کے مطابق دریا گنج میں واقع ایس بی آئی کی منیجر نے گزشتہ 20 مئی کو پولیس تھانے میں ایک شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بینک میں سشیل چندر گپتاکا ایک رشتے دار بینک آیا تو پتہ چلا کہ ان کے کھاتے میں سے کسی نے 6 ماہ کے اندر 45.20 لاکھ روپے نکال لئے ہیں۔ اس جانکاری سے بینک میں کھلبلی مچ گئی۔ بینک منیجر نے مہیر کمار مشرا نامی کلرک پر شبہ ظاہر کیا۔ اس بارے میں معاملہ درج کرکے ایس ایچ او ستیندر موہن کی نگرانی میں ایک ایس آئی مہیپال نے چھان بین شروع کی۔ بند پڑے بینک کھاتوں میں نقب لگا کر 51 لاکھ روپے اڑانے کے الزام میں پولیس نے ایس بی آئی کے ایک اسسٹنٹ منیجرا ور کلرک کو 1 جون کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان نے 8 برس سے بند پڑے ایک کھاتے میں 45 لاکھ اور دوستے کھاتے سے 6 لاکھ روپے نکال لئے تھے۔ پولیس نے اس رقم کو دوسرے بینک کھاتوں میں پہنچانے اور وہاں سے نقدی نکالنے کے لئے استعمال کی گئی بایو میٹرک مشین کی چھان بین کی۔ اس سے صاف ہوگیا کہ رقم میں ہیر پھیر مہیر نے کی ہے۔پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ پوچھ تاچھ میں اس نے قبولا کہ جعلسازی میں گول مارکیٹ میں واقع ایس بی آئی برانچ کا اسسٹنٹ منیجر سید ذیشان محمد بھی شامل ہے۔ ملزمان نے محض ایک ماہ کے اندر 45 لاکھ روپے کھاتے سے نکال لئے۔ اس نے سب سے پہلے 2 ستمبر 2016ء کو کھاتے سے 100 روپے نکالے، تین دن تک جب اسے لیکر کوئی شکایت نہیں ہوئی تو وہ لگاتار کھاتے سے رقم نکالنے لگا۔ اس کے علاوہ اس نے تقریباً 22 لاکھ روپے دوسرے کھاتوں میں بھیج کر وہاں سے نکال لئے۔ ملزم بینک کلرک مہیر کی گرفتار ی کے بعد دو دیگر لوگوں کی شکایت بھی بینک کو ملی۔ ان دونوں شکایتوں کو دریا گنج پولیس کو سونپا گیا ہے۔ شکایت میں بتایا گیا ہے کہ دو لوگوں نے نوٹ بندی کے دوران 48 ہزار روپے اور 49 ہزار روپے اپنے بینک کھاتے میں جمع کرائے تھے۔ مہیر نے انہیں رسید تو دے دی لیکن ان کے کھاتے میں رقم جمع کرانے کی جگہ خرچ کردی۔ مہیر کو پتہ تھا کہ سشیل چندر گپتا جس کا کھاتہ 8 برس سے بندتھا ،کا دیہانت ہوچکا ہے۔ اسی وجہ سے مہیر نے سشیل کے کھاتے سے 45 لاکھ روپے نکال لئے۔
(انل نریندر)

16 جون 2017

مقدس رمضان میں جہادیوں نے دنیا بھر میں مچائی دہشت گردی

رمضان کے مقدس مہینے میں بین الاقوامی خطرناک دہشت گردتنظیم اسلامک اسٹیٹ ویسے تو اسلام کے تحفظ کے نام پر اپنا خونی کھیل جاری رکھے ہوئے ہے وہ اسلام کی کتنی قدر کرتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں رمضان میں بے قصوروں کو قتل کررہا ہے۔ رمضان میں آئی ایس کے دہشت گردوں نے نہ صرف اسلامی ممالک میں حملے کئے ہیں بلکہ مغربی یوروپی ملکوں میں قہر برپا کرکے بہت سے بے قصوروں کی جان لی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے اپنے جموں و کشمیر میں دہشت گردوں نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ 26 مئی سے رمضان شروع ہونے کے ساتھ ان دہشت گرد انجمنوں نے مغرب میں تابڑ توڑ حملے کئے۔ ان میں آئی ایس نے فلپن اور شیعہ طاقت کے گڑھ ایران کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ ایسی ہمت تھی جو کبھی القاعدہ نے بھی نہیں دکھائی۔ایک ویب سائٹ برٹ ورڈ کے مطابق ابھی رمضان کو شروع ہوئے 15 دن ہوئے ہیں اس دوران دنیا بھر میں جہادی گروپوں نے 70 حملے کئے ان میں 21 مسلم اکثریتی ملکوں میں کئے گئے۔ان حملوں میں 1003 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ 1036 لوگ زخمی ہوگئے۔ ویب سائٹ کا دعوی ہے کہ 2016ء میں اسی میعاد میں رمضان میں 421 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا جبکہ 729 لوگ زخمی ہوئے۔ 8 جون کو اقوام متحدہ نے بتایا کہ آئی ایس نے 26 مئی سے 3 جون کے درمیان موصول سے بھاگنے کی کوشش کررہے لوگوں میں 231 کو مار ڈالا۔ یہ جگہ اس دہشت گرد گروپ کا مضبوط قلعہ مانی جاتی تھی اب یہاں مقامی فوج نے امریکہ کی مدد سے گھیرا بندی کررکھی ہے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایس کے حملوں کی تعداد بڑھنے کو بھلے ہی اس کی عراق اور شام میں ہار کو بتایا جارہا ہو لیکن آئی ایس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ اور یوروپ میں حملوں کا مشرقی وسطی میں علاقے گوانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آئی ایس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اپنی گوائی ہر انچ زمین کو واپس لے لے گی۔ آئی ایس نے بڑے آتنکی حملوں کے لئے اب خاتون دہشت گردوں کا استعمال شروع کردیا ہے۔ اس ماہ ایران اور عراق میں دو بڑے حملوں کو خاتون دہشت گردوں کی مدد سے انجام دیا گیا تھا وہ خاتون دہشت گردوں کے سہارے دنیا میں دہشت پھیلانے کی کوشش کررہا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عورتوں کا بھیڑ میں گھسنا آسان ہوتا ہے۔ آئی ایس کا خیال ہے کہ کسی بھی دیش میں سکیورٹی جوانوں کو چکما دینے کے لئے عورتیں زیادہ کارگر ہتھیار ثابت ہوسکتی ہیں۔ بغداد کے جنوب میں واقع شیعوں کے مقدس شہر کربلا میں پچھلے جمعہ کو خاتون دہشت گرد نے فدائی دھماکہ کیا اور حملہ میں 30 لوگ مارے گئے،35 زخمی ہوگئے تھے۔ ایک افسر نے بتایا مہلا دہشت گرد کی پہچان نہیں ہوئی ہے۔ بھیڑ میں پہنچنے کے بعد جسم میں بیلٹ کے سہارے بندھے دھماکو سے دھماکہ کیا۔ دہشت گرد ی کی دنیا میں وائٹ ونڈو کے نام سے مشہور برطانیہ کی تنظیم لیومنٹ نے نام بدل کر رورافیاہا لیوتھ ویٹ رکھ لیا ہے۔ برطانیہ میں شوہر کی موت کے بعد وہ شام آئی اور آئی ایس میں شامل ہوگئی۔اس پر قریب 400 لوگوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مقبرے پر حملے میں بھی مہلا آتنکی شامل تھی۔ لندن میں اس ماہ کی شروعات میں برج پر ہوئے حملہ میں بھی چار خاتون مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ گذشتہ اپریل میں لندن میں ویسٹ مانچسٹرمیں حملہ کرنے کے معاملے میں بھی تین مہلاؤں کو گرفتار کیا گیا۔ خطرناک آتنکی تنظیم آئی ایس نے رمضان کے مقدس مہینے میں امریکہ، یوروپ، روس، آسٹریلیا، عراق ، ایران ،سیریا اور فلپن میں حملے کی وارننگ دے دی ہے۔ ایک آڈیو پیغام کے ذریعے اپنے سندیش میں کہا ہے کہ ان مقامات پر رمضان میں حملوں کو انجام دیا جائے۔
(انل نریندر)

کسینو میں سعودی شہزادہ نے 5 بیویاں اور 22 ارب روپے ہارے

مہابھارت میں یودھشٹر پانچوں بھائیوں کی بیوی دروپتی کو جوئے میں کوروؤں سے ہارنے کی بات تو ہم نے سنی تھی لیکن تقریباً ایسا ہی واقعہ آج کے زمانے میں ممکن ہوسکتا ہے اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا تھا لیکن ایسا ہوا ہے۔ سعودی عرب کے شہزادے ماجد بن عبداللہ بن عبدالعزیز جوئے میں اپنی پانچ بیویاں ہار گئے ان کی کل 9 بیویاں ہیں۔ماجد بن عبداللہ ڈرگس، جوئے اور شان و شوکت کو لیکر پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ دن پہلے ماجد مصر کے سنئی گرینڈ کسینو میں جوا کھیلنے پہنچے تھے۔ راجکمار نے گیم کھیلنا شروع کیا تو ایک کے بعد ایک گیم کھیلتے چلے گئے اور ہارتے چلے گئے۔ اس کے چلتے ماجد پہلے اپنے پاس موجود ساری رقم ہار گئے اس کے بعد بھی ان کا جنون کم نہیں ہوا اور انہوں نے اپنی پانچ بیویوں کو 160 کروڑ روپے کی رقم کے بدلے گروی رکھ دیا۔ اس کے بعد وہ سبھی گیم ہارگئے اور بدلے میں انہیں اپنی پانچ بیویوں کو وہیں کسینو میں چھوڑ کر جانا پڑا۔اس کسینومیں راجکمار ماجد ہفتے بھر رکے تھے۔ وہ ان لمیٹڈ اسٹیکس والی پوکر ٹیبل پر کھیل رہے تھے۔ کسینو کے ڈائریکٹر علی شمون نے بتایا کہ جب راجکمار اپنی ساری رقم ہار گئے تو انہوں نے ساتھ میں موجود پانچ بیویوں کو بھی داؤ پر لگا دیا لیکن وہ انہیں بھی ہار گئے۔ اس کے بعد وہ بغیر بیویوں کے وہاں سے چلے گئے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کسینو میں لوگ پیسے سے کھیلتے رہتے ہیں اور پیسے کے علاوہ بہت سے لوگ اونٹ اور گھوڑے پر داؤ لگاتے ہیں اور بعد میں انہیں چھڑا بھی لیتے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا جب کسی نے بیوی کو ہی داؤ پر لگادیا ہو۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راجکمار کی اس حرکت سے سعودی حکومت شرمندگی محسوس کررہی ہے۔ ابھی تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ راجکمار کی بیویوں کو سعودی عرب لوٹایا جائے گا۔ یہ بھی امکان ہے کہ سعودی شاہی فیملی پیسہ چکا کر معاملہ ختم کردے۔ وہیں مصر کے وزیر خارجہ ساحل شکوری کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت سعودی عورتوں کو ان کے دیش واپس بھیجنے کی سبھی ممکنہ کوشش کرے گی اور جلد سے جلد ان کے شوہر کے ذریعے ہاری گئی رقم کو چکا کر ان عورتوں کوچھڑالیا جائے گا۔ شہزادہ ماجد بن عبداللہ اس سے پہلے بھی کئی معاملوں میں تنازعوں میں رہ چکے ہیں۔ 2015ء میں ان پر اپنے دوست کے ساتھ جنسی تعلق بنانے کا الزام بھی لگا تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا ہم نے مہا بھارت کے دور میں ایسے واقعہ کو سنا اور پڑھا تھا لیکن ایسا واقعہ دوبارہ سے دوہرانے کی امید کم تھی۔ راجکمار ماجد نے اپنے خاندان اور دیش کا نام خوب روشن کیا ہے۔
(انل نریندر)

15 جون 2017

کیا نیٹ جیسے امتحان سے ججوں کی بھرتی ممکن ہے

ججوں کی تقرری کو لیکر حکومت اور جوڈیشیری میں پچھلے دوسال سے کافی رسہ کشی دیکھنے کو ملی ہے۔ اس دوران اگر ججوں کی خالی اسامیوں پر نظر ڈالیں تونچلی عدالت سے ہائی کورٹ تک ججوں کی جگہ کافی خالی ہے۔ پورے دیش ہائی کورٹ اور لوئر کورٹ میں ججوں کی منظور اسامیوں پر بھاری کمی ہے۔ یکم جون 2017 کے اعدادو شمار کے مطابق کل 24 ہائی کورٹ میں منظور اسامیاں 1079 ہیں۔ ان میں سے 419 اسامیاں خالی ہیں۔ کولکتہ ہائی کورٹ میں کل منظور 73 جگہوں میں سے 37 خالی ہیں۔ مدراس ہائی کورٹ میں 75 اسامیوں کی جگہ ہیں جہاں 26 جگہ خالی ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی بات کی جائے تو یہاں منظور اسامیاں 85 ہیں جن میں سے 39 ججوں کی کرسی خالی ہے۔ وہیں سپریم کورٹ میں کل 31 منظور اسامیوں پر 4 خالی پڑی ہوئی ہیں۔ جہاں تک نچلی عدالت کا سوال ہے تو وہاں بھی 4166 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیش بھر میں کروڑوں مقدمے التوا میں ہیں۔ حالانکہ سپریم کورٹ میں دستیاب اعدادو شمار کے مطابق پچھلے کچھ مہینوں میں مقدمات کے التوا میں کمی آئی ہے۔ یکم مارچ 2017ء کو یہاں سپریم کورٹ میں کل التوا مقدموں کی تعداد 62161 تھی وہیں یکم مئی کے اعدادو شمار کے مطابق یہ تعداد 60751 تک رہ گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں 10 سال یا اس سے پرانے 1132 دیوانی کے مقدمے التوا میں ہیں۔ وہیں 34 فوجداری مقدمے ایسے ہیں جو10 سال سے زیادہ سے التوامیں پڑے ہیں۔ وہیں دیش بھر کی 24 ہائی کورٹ عدالتوں پر نظر ڈالی جائے تو سال 2014 تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 4153957 معاملے التوا میں ہیں۔ ان میں سے 31 لاکھ مقدمے دیوانی کے معاملے ہیں جن میں سے 10 سال یا اس سے زیادہ وقت سے 5 لاکھ 79 ہزار دیوانی کے مقدمے التوا میں ہیں جبکہ 187000 فوجداری کے مقدمے 10 سال یا اس سے زیادہ وقت سے التوا میں ہیں۔ نچلی عدالتوں میں ججوں کی بھرتی کے لئے سرکار نے سپریم کورٹ کے سامنے نیٹ (قومی صلاحیت داخلہ امتحان) جیسے امتحان کرانے کی تجویز رکھی ہے۔ وزارت قانون کے سکریٹری (انصاف) کی جانب سے سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل کو لکھے ایک خط کے مطابق گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ کے میڈیکل نصابات میں داخلے کے لئے سی بی ایس سی کے ذریعے اپنایا گیا نیٹ ماڈل پر غور کیا جاسکتا ہے۔
نیٹ کی کارروائی کے مطابق داخلہ امتحان کرانے ، نتیجے کا اعلان اور آل انڈیا رینکنگ تیار کرنے کی ذمہ داری سی بی ایس سی کی ہے۔ دراصل 8 اپریل کو اچانک عدالت پر سرکار اور عدلیہ کے نمائندوں کے درمیان ہوئے تبادلہ خیالات کے بعد وزارت نے یہ خط لکھا ہے۔ حال میں عدلیہ حکام کی بھرتی کے لئے مختلف ہائی کورٹ اور ریاستی سروس کمیشن امتحان کا انعقاد کرتے ہیں۔ امیدکی جانی چاہئے کہ خالی ججوں کی تقرری جلدی ہوگی اور التوا میں پڑے مقدمات میں کمی آئے گی۔
(انل نریندر)

آپ کا دھن بینک لاکرمیں کتنا محفوظ ہے

آدمی اپنی زندگی بھر کی کمائی کومحفوظ رکھنے کے لئے بینکوں میں لاکر لے کر چین کی نیند سوتا ہے اسی امید سے کے گھر پر رکھنا محفوظ نہیں ہے۔ کم سے کم بینک میں تو محفوظ رہے گا اور ضرورت کے مطابق وہ اسے نکال سکتا ہے۔ لیکن جب بینکوں کے لاکر ہی ٹوٹنے لگیں توجنتا کہاں جائے؟ پنجاب نیشنل بینک کی مودی نگر کپڑا مل برانچ میں ایتوار کی رات چار چوروں نے دیوار توڑ کر 30 لاکروں سے کروڑوں کے زیورات اور ضروری دستاویزات اڑا لئے۔ پیر کی صبح جب بینک کھلا تو اس نقب زنی کا پتہ چلا۔ لاکر ٹوٹنے کی اطلاع پر بینک حکام اور پولیس محکمے میں کھلبلی مچ گئی۔ چوری کی اطلاع ملنے پر بینک برانچ پر گراہکوں کی بھیڑ اکھٹی ہوگئی۔ ہر کوئی یہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کا لاکر محفوظ ہے یا نہیں ۔ ایک بزرگ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کی زندگی بھر کا سرمایہ اور تقریباً 3 کلو سونے کے زیوارت کے علاوہ بیٹی کی شادی کے لئے بنوائے گہنے بھی چوری ہوگئے۔ کچھ گراہکوں کا کہنا تھا کہ نوٹ بندی نے پہلے ہی ان کی کمر توڑ رکھی تھی، اب رہی سہی کثر لاکروں میں رکھے پشتینی زیورات چوری ہونے سے پوری ہوگئی۔متاثر گراہکوں سے پوچھ تاچھ کے بعد چوری ہوئے زیورات اور ان کی نقدی کی نوعیت 5 کروڑ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ برانچ کے منیجر اشوک شریواستو نے بتایا کہ جن گراہکوں کے لاکر ہیں انہیں اپنے سامان کی فہرست بینک کودینے ہوگی اس کے بعد ایک پینل گراہکوں سے پوچھ تاچھ کر یہ طے کرے گا کہ ان کا بتایا گیا سامان لاکر میں تھا یا نہیں؟ ا س کے لئے گراہک زیورات اور دیگر سامان کا ثبوت دکھا سکتے ہیں۔ اب متاثرین کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ پو پشتینی زیورات کے بارے میں کیا ثبوت دیں گے۔ یہ نقب زنی بینک کی لاپرواہی کے سبب ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق بینک میں لگے سکیورٹی الارم سینسر جانچ میں خراب پائے گئے ہیں اس وجہ سے چور جب بینک میں گھسے تو الارم نہیں بجا۔ جس دیوار کو توڑ کر لٹیرے گھسے وہ محض چار پانچ انچ چوڑی تھی جو تعمیراتی معیارات کے حساب سے کم ہے۔ جانچ کرنے پہنچی پولیس کو بینک میں لگے 8 میں سے5 کیمرے خراب ملے۔ اسی سبب واردات سی سی ٹی وی میں قید نہیں ہوسکی۔ وہیں بینک منیجر اشوک شریواستو کی وضاحت ہے کہ چوروں نے سی سی ٹی وی بھی کپڑے سے ڈھک دیا تھا۔ خاص بات یہ رہی کہ چوروں نے رات کی آمدورفت سے جڑے سینسر الارم بچنے کے لئے شام 7 بجے ہی واردات کو انجام دے دیا۔منیجر شریواستو نے بتایا موومنٹ سینسر رات 8 بجے نائٹ میں چالو ہوتا ہے چوروں نے 7 بجے ہی چوری کو انجام دے ڈالا ہوگا جس سے الارم نہیں بجا اور آسانی سے چوری کرلی۔ سوال یہ جن گراہکوں کی زندگی بھر کی کمائی چلی گئی اس کی بھرپائی کیسے ہوگی؟ 
(انل نریندر)

14 جون 2017

طارق فتح کے قتل کی سازش

عالمی شہرت یافتہ اسلامی دانشور طارق فتح کے قتل کی سازش کا دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے پردہ فاش کیا ہے۔ طارق فتح اپنی روشن خیالی کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہیں وہ اپنی بات کہنے سے گریز نہیں کرتے چاہے وہ کسی کو کتنی بری کیوں نہ لگے۔ دہشت گردی، پاکستان کے تو خلاف وہ کھل کر بولتے ہیں۔ اسلام کے بارے میں وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ ایک اسلام وہ ہے جو پیغمبر کا اسلام ہے اور ایک اسلام وہ ہے جو مولویوں کا اسلام ہے۔ ان مولویوں نے اپنے نجی مفادات کے لئے اسلام کا بیجا استعمال کیا ہے اور کررہے ہیں۔ اپنی روشن خیالی کے لئے وہ کٹر پسند عناصر کے نشانے پر رہے ہیں۔ ہمیں تعجب نہیں ہوا جب خبر آئی کہ دہلی پولیس نے چھوٹا شکیل کے ایک گرگے کو فتح کی قتل کی سازش کے الزام میں گرفتارکیا ہے۔ انڈرورلڈ ڈان شکیل نے طارق فتح اور تہاڑ جیل میں بند انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کے قتل کی سپاری دی۔ اسکے لئے اس نے اپنے گرگے جنیدچودھری کو حوالہ اور آن لائن کے ذریعے سے رقم بھی مہیا کرائی تھی۔ یہ خلاصہ اسپیشل سی کے ہاتھ لگے جنید نے کیا ہے۔ جنیدکو اسپیشل سیل نے بدھوار کی رات نند نگری کے گگن سنیما کے پاس سے گرفتار کیا۔ طارق سے انڈر ورلڈ ڈان بھارت میںآکر اسلام پر دئے گئے بیان کو لیکر خفا تھا جبکہ چھوٹا راجن کو برسوں سے چلی آرہی رنجش کے سبب وہ ٹھکانے لگوانا چاہتا تھا۔ اس معاملے کی جانچ سے وابستہ اسپیشل سیل کے ایک سینئر افسر کے مطابق جنیدکو چھوٹا شکیل نے بھارت میں قیام کے دوران طارق فتح کے ٹھکانے کا پتہ لگانے اور تہاڑ جیل میں بند انڈر ورلڈ ڈان چھوٹا راجن کی سرگرمیوں پر نظرر کھنے کی ہدایت دی تھی کیونکہ چھوٹا راجن بیمار چل رہا ہے اس وجہ سے اسے اکثر جیل سے باہر علاج کے لئے ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔ چھوٹا راجن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور وارڈ بوائے سے لیکر دیگر لوگوں کے بارے میں جانکاری اکھٹی کرنے کی ہدایت چھوٹا شکیل نے اپنے مبینہ گرگے کو دی تھی۔ ڈی سی پی پروندر کشواہا کے مطابق جنید سے سنیچر کو اسپیشل سیل کے لودھی کالونی میں واقع دفتر میں دیگر سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی پوچھ تاچھ کی تھی۔ ٹیم یہ پتہ کررہی ہے کہ چھوٹا شکیل نے جنید کو کتنے روپے کی سپاری دی تھی۔ جن دیگر شوٹروں کو سپاری دی گئی ان کے بارے میں بھی جنید سے پوچھ تاچھ میں جانکاری مل پائی ہے۔ شوٹروں کو کس حوالہ آپریٹر کے ذریعے پیسہ ملا اور انہوں نے بلندشہر میں کس سے ہتھیار خریدے ، اس کے بارے میں بھی پتہ لگایا جارہا ہے۔ حوالہ کے ذریعے چھوٹا شکیل نے شوٹروں کے پاس ایڈوانس میں 36 لاکھ روپے بھجوائے تھے۔ جس رقم میں سے شوٹروں نے بلندشہر سے تین پستول خریدی تھیں۔ دہلی پولیس کو اس سازش کا پردہ فاش کرنے کے لئے بدھائی۔
(انل نریندر)

روس سے رشتوں پر ٹرمپ کے خلاف کومی کی گواہی

چناؤ کمپین کے دوران روس کے حکام کے رابطے میں ہونے کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں دیش کی سب سے بڑی سکیورٹی ایجنسی کے چیف جیمس کومی کو ان کے عہدے سے ہٹادیاتھا۔ عہدے سے ہٹائے جانے پر سخت ناراض جیمس کومی نے ٹرمپ کے خلاف کئی سنسنی خیز انکشاف کر دیش کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ جمعرات کو انہوں نے امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے ٹرمپ کے ساتھ اپنے رشتوں کا انکشاف کیا اور الزام لگایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے سال ہوئے صدارتی چناؤ میں روس نے مداخلت کی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کومی نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کو روکنے کے لئے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا جبکہ ان کی میعاد کے 6 سال باقی تھی۔تحریری جواب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی سکیورٹی مشیر مائیکل فلن کے خلاف جانچ بند کرنے کیلئے کہاتھا۔ اپنے تئیں وفادار رہنے کی مانگ کی تھی۔ 7 صفحات کی اپنی تحریری گواہی میں کومی نے ٹرمپ کے ساتھ ہوئی بات چیت کی تفصیل بھی دی ہے۔ کومی نے کمیٹی کے سامنے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ان کو برخاست کرنے کا حق تھا لیکن وہ اپنی برخاستگی کے اسباب کے معاملے میں شش و پنج میں تھے۔ کومی نے کمیٹی کے سامنے یہ بھی کہا کہ انہیں ہٹانے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ نے جھوٹ بولا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ جھوٹ بولا کے ایف بی آئی اس سے تھوڑا سا پریشانی میں تھی اور ان کی قیادت میں کام کررہی تھی۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس پر انہیں بدنام کرنے کا بھی الزام لگایا۔ سینیٹ نے کومی اور ٹرمپ کی بات چیت کا ریکارڈ وائٹ ہاؤس سے مانگا ہے۔ صدارتی آفس وائٹ ہاؤس سے کہا گیا ہے کہ اس بارے میں جو بھی تفصیل یا آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، انہیں کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ایف بی آئی کی جانچ میں دخل دینے کے الزامات کو سرے سے مسترد کردیا ہے
۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ وہ سینیٹ کمیٹی کے سامنے حلف نامہ دے کر گواہی دینے کوتیار ہیں۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ کومی نے حلف لے کر جھوٹ بولا جبکہ انہوں نے سابق قومی سلامتی مشیر مائیکل فلن اوردیگر ساتھیوں کے روس سے رشتوں کی جانچ کو لیکر ان سے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ ان میں امریکی پارلیمنٹ کے تقاضوں کے مطابق اگر ٹرمپ پر لگے الزامات صحیح ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹانے کے لئے تحریک ملامت (مقدمہ) شروع کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ حلف لیتے ہیں تنازعوں سے گھر گئے ہیں۔ اب تمام ناراض لوگ اس نئی بحث کا پورا فائدہ اٹھانے میں لگ گئے ہیں۔
(انل نریندر)

13 جون 2017

برطانیہ میں معلق پارلیمنٹ: ٹیریزہ کا داؤں الٹا پڑا

کبھی کبھی سیاستداں تجزیہ کرنے میں ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑتا ہے ایسی ہی ایک غلطی برطانیہ کی وزیر اعظم ٹیریزہ مے نے بھی کی ہے۔کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر ٹیریزا نے اپنی میعاد پوری ہونے سے تین سال پہلے اچانک برطانیہ میں وسط مدتی چناؤ کا فیصلہ اس امید میں لیاتھا کہ وہ شاندار جیت حاصل کریں گی جوا نہیں یوروپی یونین کی شرطوں پر وہاں کے لیڈروں کے ساتھ مشکل سمجھوتے کو توڑنے اور یونین سے باہر ہونے کا راستہ دے گا لیکن جمعہ کو آئے چناؤ نتائج میں ٹیریزہ کا داؤں الٹا ثابت ہوا۔ اب تک مکمل اکثریت والی سرکار کی قیادت کررہی ٹیریزہ نے اس چناؤ میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں لیکن اکثریت نہ ملنے کے سبب درکار سیٹوں کے لئے انہیں اتحاد پر منحصر رہنا ہوگا۔ ان کی کنزرویٹو پارٹی کو318 سیٹیں حاصل ہوئیں جبکہ ٹیریزا کو سرکار بنانے کیلئے پارلیمنٹ میں کم سے کم 326 سیٹوں کو پورا کرنے کیلئے 8 سیٹیں کم ملی ہیں۔ چناؤ جائزوں میں ان کی جیت کے آثار جتائے جارہے تھے اس لئے جو نتیجے آئے انہیں کسی حد تک فطری طور پر غیر متوقعہ کہا جارہا ہے۔ یہی نہیں کئی کے لئے یہ نتیجے حیران کرنے والے بھی ہیں، کیونکہ لمبے عرصے بعد ایسا ہوا ہے کہ جب برطانیہ کے پارلیمانی چناؤ میں کسی کو واضح اکثریت نہیں ملی اور معلق پارلیمنٹ کی تصویر ایسے سامنے آئی جب نئی سرکار کو بریگزٹ کی کارروائی و شرطوں اور قاعدوں پر یوروپی یونین سے بات کرنی ہے اور مجوزہ بات چیت شروع ہونے میں بس 10 دن باقی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا عدم استحکام کی صورت میں مجوزہ بات چیت مقررہ وقت پر شروع ہوسکے گی، یا اس میں تاخیر ہوسکتی ہے؟ ڈیوڈ کیمرون نے جب بریگزٹ کے لئے رائے شماری کرائی تھی تب شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا یہ قدم ان کی الوداعی کا سبب بن جائے گا، مگر اس کے بعد کے واقعات جس طرح سے بدلے ہیں جس میں تازہ چناؤ کو دیکھا جاسکتا ہے اس نے برطانیہ کی سیاست میں مچی ہلچل کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔کنزرویٹو پارٹی کی سیٹیں کم ہونے کے پیچھے دیش کی سلامتی بھی ایک بڑی وجہ ہے جسے چناؤ کے دوران آتنکی حملوں کے ذریعے چنوتی دی گئی۔ دراصل قومی سلامتی کے معاملے میں روایتی طور سے کنزرویٹو پارٹی کو لیبر پارٹی کے مقابلے میں زیادہ بھروسے مند مانا جاتا ہے مگر جس طرح سے مانچسٹر اور پھر اس کے بعد لندن میں ہوئے آتنکی حملوں کو انجام دیاگیا جس میں 30 لوگوں کی موت ہوگئی اس سے ان کی سرکار کی ساکھ اور شخصی طور پر نیتا کی شکل میں ٹیریزہ مے کی ساکھ پر آنچ آئی ہے۔ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے سبب دوسرے نمبر پر رہی لیبر پارٹی اکثریت سے کافی دور ہونے کی وجہ سے ٹیریزہ مے کی سرکار بنانے میں دقت تو نہیں آئے گی مگر ان کی آگے کی راہ آسان نہیں ہے۔ ویسے برطانیہ کو یہ چناؤ ہندوستانی نژاد برطانوی لوگوں کے لئے اچھا نتیجہ لے کر آیا ہے۔ 2015ء میں جہاں ہندوستانی نژاد 10 لوگ پارلیمنٹ میں پہنچے تھے اس مرتبہ یہ تعداد 12 ہوگئی ہے۔ تمنجیت سنگھ اور پریت کور گل جیسے سکھ بھی پہلی بار چنے گئے ہیں۔ تمنجیت سنگھ برطانیہ میں پارلیمنٹ چنے گئے پہلے پگڑی دھاری سکھ ہیں جبکہ پریت کور پہلی سکھ ایم پی ہیں۔ ہندوستانی نژاد لوگوں کا چنا جانا بیحد اہم ہے۔ جو لوگ بریگزٹ کی مانگ کرتے تھے ان کی باتوں میں زہر پھیلا تھا وہ لوگ چاہتے تھے کہ اگلینڈ صرف ہمارے لئے ہے وہ لوگ 1950 سے پہلے کے (گورو کی اکثریت والے) برطانیہ کی بات کرتے تھے۔ بیشک سرکار کی یہی کوشش رہی ہے کہ برطانیہ کو ایسے دیش کی طرح پیش کیا جائے جہاں دنیا بھر کے مختلف تہذیبوں کے لوگوں کے لئے جگہ ہو لیکن پچھلے کچھ برسوں سے غیر پرواسی برطانیہ میں برننگ اشو رہا ہے۔ دنیا بھر سے تاریکین وطن برطانیہ پہنچتے ہیں بھارت اور آس پاس کے دیشوں سے بھی لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں رہنے والے کئی ہندوستانی اور پاکستانی لوگ دوسری تیسری پیڑھی کے ہیں۔ یہاں کی نوجوان پیڑھی یہیں پیدا ہوئی ہے۔ ان کے والدین بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش سے آئے تھے۔ بہرحال نئے چناؤ کے بعد برطانیہ کے سامنے سوال صرف یہ نہیں ہے کہ حکومت کون چلائے گا بلکہ یہ بھی ہے کہ بریگزٹ کے بعد کی چنوتیوں سے وہ کیسے نمٹے گا؟
(انل نریندر)

ایم سی ڈی دہلی کو اوپن اربن سلم بنا رہی ہے

راجدھانی دہلی میں آج بھی کوڑے کو ڈمپ کیا جارہا ہے۔ کوڑے کو لیکر اب تک کی تمام اسکیمیں ابھی تک سرے نہیں چڑھ پا رہی ہیں۔ ایم سی ڈی نے کوڑا انتظام کو لیکر قریب15 سال پہلے ایک اسکیم بنائی تھی۔ ابتدائی دور میں کالونیوں میں سوکھے اور گیلے کوڑے کے لئے نیلے اور ہرے رنگ کے کوڑے دان رکھوائے گئے تھے بعد میں کوڑے کے انتظام کو لیکر پرائیویٹ کمپنیوں سے معاہدہ کیا گیا لیکن اب یہ صرف نارتھ ایم سی ڈی کے پانچ زون اور ساؤتھ کی ایک آدھ کالونی تک محدود ہے۔ دہلی میں روزانہ قریب 9 ہزار میٹرک ٹن کوڑا جمع ہورہا ہے۔اس کوڑے کو ان لینڈفل میں ڈالا جارہاہے جو برسوں پہلے بھرچکی ہیں۔ بھلسوا، غازی پور، اوکھلا لینڈ فل میں 100-100 فٹ اونچے کوڑے کے پہاڑ بن چکے ہیں اس کے باوجود وہاں آج بھی کوڑا پھینکا جارہا ہے۔ عدالت کے حکم کے باوجود دہلی کی سڑکوں سے کوڑا نہیں ہٹائے جانے پر دہلی ہائی کورٹ نے ایسٹ اور نارتھ و ساؤتھ ایم سی ڈی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی نگراں چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس ہری شنکر پر مشتمل بنچ نے تینوں کمشنروں کو 21 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کوڑا ہٹائے جانے کو لیکر کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ مانسون آنے سے پہلے ہی ڈینگو اور چکن گنیا دستک دے چکے ہیں۔ عدالت نے ایم سی ڈی سے کہا ہے کوڑا ہٹانا آپ کی بنیادی ڈیوٹی ہے اور اس کے لئے بھی آپ کو کورٹ کا حکم چاہئے ۔ کسی کو تو ذمہ دار بننا ہوگا۔ بتادیں تینوں ایم سی ڈی میں قریب 70 ہزار صفائی کرمچاری کام کرتے ہیں اس میں سے تقریباً 20 ہزار عیوضی یا ٹھیکے پر ہیں۔یونیفائڈ ایم سی ڈی کی ڈیولپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین جگدیش مامگئی کے مطابق عموماً ان ملازمین کا کام صبح 7 بجے سے شروع ہوکر دوپہر 3 بجے تک ختم ہوجانا چاہئے لیکن کہیں بھی یہ قاعدہ نہیں لاگو ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان ملازمین میں یارڈ اسٹک (صفائی کی جگہ) سالوں سے نہیں بدلے گئے ہیں۔ بڑھتی آبادی اور بڑھتے کوڑے کو دیکھتے ہوئے یارڈاسٹک کو بڑھایا جانا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ صفائی محکمے میں کرپشن پر بھی روک نہیں لگ پارہی ہے۔ دوسری طرف صفائی ملازمین کا کہنا ہے ہمارا استحصال ہورہا ہے۔ ہمیں وقت سے تنخواہ نہیں مل پا رہی ہے۔ مسلسل ہڑتال چلتی رہتی ہے۔ اس کے چلتے راجدھانی میں جہاں تہاں کوڑے کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود آج راجدھانی اوپن ڈمپ بنی ہوئی ہے۔ اب جب نئی کارپوریشنیں وجود میں آئی ہیں حکمراں پارٹی کا یہ فرض بنتا ہے کہ شہر میں کوڑا ڈسپوزل کی ٹھوس اسکیم بنائی جائے اور دیش کی راجدھانی کو اوپن سلم بننے سے بچایا جائے۔
(انل نریندر)

11 جون 2017

جنرل وپن راوت ایک ساتھ ڈھائی مورچے پر نمٹنے کو تیار ہیں

ہندوستانی فوج کے تیور میں مسلسل تبدیلی دکھائی پڑ رہی ہے اور بغیر کسی شبہ کے آرمی چیف وپن راوت اس کے مرکز میں ہیں۔ ان کے کچھ فیصلوں سے تنازعہ بھی کھڑا ہوا ہے لیکن تیور نہ تو تنقید سے رکے اور نہ پتھر بازوں سے ۔ فوج کے رخ میں پوری تبدیلی سمجھنے کیلئے حال کے کچھ واقعات پر نظر ڈالنی ہوگی۔ آرمی چیف کے جس فیصلے پر سب سے زیادہ سوال اٹھے وہ تھا میجر لتل گگوئی کو اعزاز دینا۔ میجر نے کشمیر میں پتھر بازوں سے بچنے کے لئے وہیں کے ایک پتھر باز کو فوج کی جیب سے باندھ دیا اور کچھ نام نہاد سیکولر پسندوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بتایا ، اس کے باوجود آرمی چیف نے میجر گگوئی کا کھلے عام ساتھ دیا۔ جنرل راوت نے شروع میں ہی صاف کردیا تھا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف چلائی گئی مہم کے دوران رکاوٹ پیدا کرنے والے اور پاک یا آئی ایس آئی کا جھنڈا لہرانے والے کو ملک دشمن مانا جائے گا۔ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ آرمی چیف کا ایک اور بڑا فیصلہ یہ سامنے آرہا ہے کہ کشمیر کے شورش زدہ علاقوں میں گھیرا بندی اور تلاشی کارروائی چلنا۔ وادی میں قریب 15 سال بعد فوج نے جارحانہ سرگرمیوں پر قابو پانے کے لئے یہ قدم اپنایاہے۔ کنٹرول لائن اور آس پاس سے وابستہ علاقوں میں آئے دن گھس پیٹھیوں اور پاک فوجیوں کو مارا جارہا ہے۔ جنرل راوت یہیں نہیں رکے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج ڈھائی مورچے پر جنگ لڑنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔ انہوں نے جس طرح سے ڈھائی مورچے لفظ کا استعمال کیا وہ اپنے آپ میں کافی دلچسپ اور دور اندیش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج ایک ساتھ چین اور پاکستان سے تو ٹکر لے سکتی ہے ساتھ ہی وہ دیش کے اندر ہونے والی کسی بھی اتھل پتھل سے بھی آسانی سے نمٹ سکتی ہے۔ اس میں چین اور پاکستان دو مورچے ہیں اور اندرونی اتھل پتھل باقی کا آدھا مورچہ ہے۔ یقینی طور پر پاکستان اور چین کے خلاف جو دو مورچے ہیں وہ بہت بڑے ہیں۔ یہ دونوں پڑوسی دیش ہے جن سے ہمارا پرانا سرحدی جھگڑا ہے۔ دونوں ہی نیوکلیائی طاقت کفیل دیش ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ پاکستان ایک ناکام دیش مانا جاتا ہے جبکہ چین ایک ترقی یافتہ دیش ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک اقتصادی و فوجی بڑی طاقت کی شکل میں شمار کیا جاتا ہے۔ اتنے تضاد ہونے کے باوجود بھارت کے خلاف دونوں کو ایک طرح کا فوجی گٹھ جوڑ بھی ہے جو ان دنوں بھارت کے لئے بڑی تشویش کا موضوع بھی ہے۔ اس خبر نے یہ پریشانی اور بڑھا دی ہے کہ چین پاکستان میں اپنا فوجی اڈہ بنانے جارہا ہے۔ اگر ہماری فوج یہ مانتی ہے کہ وہ ان ساری چنوتیوں کا ایک ساتھ سامنا کرنے کے لئے تیار ہے تو یہ ہمارے لئے سلامتی کا ایک بڑا بھروسہ بھی ہے۔ جنرل وپن راوت کی ہمت اور صاف گوئی کیلئے ہم انہیں مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

40 کروڑ کی ڈرگ اسمگلنگ میں ابو اعظمی کا بھتیجہ گرفتار

بھارت میں ڈرگ اسمگلنگ کے معاملے آئے دن پکڑے جاتے رہے ہیں۔ پتہ نہیں کہ دیش میں کتنی مقدار میں یہ نشیلی چیزوں کا استعمال شروع ہوگیا ہے۔ حال ہی میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ڈرگس اسمگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کا پردہ فاش کیا ہے اور نشے کے چار سوداگروں کو گرفتار کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ملزمان میں سماجوادی پارٹی کے ممبر اسمبلی ابو اعظمی کا بھتیجہ اسلم بھی شامل ہے۔ملزمان کے قبضے سے 5 کلو پارٹی ڈرگس آئس پکڑے گئی۔ قومی بازار میں اس کی قیمت 40 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ نشے کی دنیا میں آئس ڈرگس کے چاروں ملزم ایک بین الاقوامی گروہ سے جڑے ہوئے تھے۔ اسپیشل سیل کے ڈی سی پی سنجیو یادو نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کی پہچان ممبئی کے باشندے ابو اسلم کاظم اعظمی عرف اسلم چنڈی گڑھ کا لوجسٹک کاروباری امت اگروال، دہلی کے باشندے اودھیش کمار و مدن رائے کی شکل میں ہوئی ہے۔ ابو اسلم کاظم اعظمی سماجوادی پارٹی کے ممبر اسمبلی ابو اعظمی کا بھتیجہ ہے وہیں گروہ کا سرغنہ کیلاش راجپوت یو اے ای میں رہتا ہے اور وہیں سے پورے نیٹ ورک کو چلاتا ہے۔ ملزم ابو اس کا داہنا ہاتھ مانا جاتا ہے۔ پولیس پوچھ تاچھ میں ملزم امت نے ابو اعظمی کے نام کا خلاصہ کیا ہے اس کے بعد پولیس نے منگلوار کو ممبئی سے ابو اسلم کو گرفتار کرلیا اور اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ دوبئی میں ایک کارگو کمپنی میں کام کرتا ہے بعد میں وہ ممبئی آگیا۔ پھراس نے گووا میں ایک ریستوراں کھولا اور وہ وہاں گروہ کے سرغنہ کیلاش راجپوت کے رابطے میں آیا۔ اس کے بعد اس نے اس کے ساتھ مل کر اس دھندے کو آگے بڑھایا اور دیکھتے دیکھتے کیلاش کے ہندوستانی نیٹ ورک کا سب سے بڑا کھلاڑی بن گیا۔ نشیلی چیزوں خاص طور پر ممنوعہ ڈرگس کے بڑھتے استعمال اور اسمگلنگ کے تیزی سے پھیلے نیٹ ورک میں دہلی این سی آر کو ایک بڑا ٹرانزٹ پوائنٹ بنا دیا۔ اسمگلر یہاں سے اپنے قومی اور بین الاقوامی نیٹ ورک تھا نشیلی چیزوں کو دھڑلے سے سپلائی کررہے ہیں۔ خاص طور پر ڈائیجے پام ، مینڈریس، مارفن اور کوٹامائن وغیرہ ممنوعہ ڈرگس کا چلن بڑھتا جارہا ہے۔ میاؤں میاؤں نام سے مشہور میفوڈرون ڈرگ اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ میں ہے۔ سال 2010ء میں بھارت میں اس کی اینٹری ممبئی کے راستے ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی کے باز آبادکاری سینٹرس میں زیادہ تر نئے منشیات کے عادی میاؤ ں میاؤں کے شکار بتائے جاتے ہیں۔ ڈرگس کا مسئلہ دن بدن پورے دیش میں بڑھتا جارہا ہے۔ بھارت کے لئے یہ اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ افغانستان کے راستے پاکستان اس کی اسمگلنگ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ڈرگس کے پیسے سے ہی اس کی دہشت گردانہ سرگرمیاں چلتی ہیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...