Translater
20 اپریل 2024
جے ڈی یو کے سرکردہ لیڈر بنام دبنگی کی بیوی !
عام طور پر لوگ گھر بسانے کے لئے شادی کرتے ہیں لیکن چناو¿ لڑنے کے لئے شادی کی جائے تو معاملہ انوکھا ضرور بن جاتا ہے ۔اسی شادی کی وجہ سے موجودہ لوک سبھا چناو¿ میں بہار کی جن سیٹوں کا سب سے زیادہ تذکرہ ہے ان میں منگیر لوک سبھا سیٹ بھی شامل ہے اس سیٹ پر آر جے ڈی نے کچھ مہینے جیل سے ضمانت پر باہر آئے اشوک مہتو کی بیوی انیتا دیوی کو ٹکٹ دے دیا ہے ۔جبکہ جے ڈی یو نے اپنے موجودہ ایم پی راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کو ایک بار پھر چناو¿ میدان میں اتارا ہے ۔للن سنگھ پچھلے سال تک جنتا دل یونائٹڈ کے صدر تھے بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ آر جے ڈی سے قربت کی وجہ سے للن سنگھ کو صدر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اشوک مہتو کا تعلق سال 2000 کے آس پاس بہار کے نوادہ ، شیخ پورہ ، جموئی اور آس پاس کے علاقوں میں سرگرم اس مہتو گروپ سے رہا ہے جو پسماندہ برادریوں کے درمیان کئی خونی جھگڑے ہوئے تھے ۔بہار میں گینگوار اور ایس پی امت لوڈھا کا وہ سچ جس پر بنی فلم خاکی ہے۔ دی بہار چیپٹر اشوک مہتو کو سال 2001 میں نوادہ جیل بریک کانڈ میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا ۔بہار کی اس لڑائی پر او ٹی ٹی پر ویب سیریر خاکی : دی بہار چیپٹر بھی آچکی ہے ۔اشوک مہتو نوادہ جیل بریک کانڈ میں قریب 17 سال جیل کی سزا کاٹ چکے ہیں انہوں نے کچھ دن پہلے ہی شادی بھی کر لی جس کے بعد ان کی بیوی چناو¿ میدان میں ہیں ۔اس سیٹ پر این ڈی اے کے امیدوار کے طور پر جے ڈی یو کے موجودہ ایم پی للن سنگھ بھومیار براردی سے تعلق رکھتے ہیں۔منگیر سیٹ پر بھومیار ووٹوں کا بڑا اثر ماناجاتا ہے ۔جے ڈی یو کے للن سنگھ کا دعویٰ ہے کہ منگیر میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے اور جنتا وکاس کے نام پر ووٹ کرے گی ۔سال 2014 میں منگیر سیٹ پر باہو ولی لیڈر مانے جانے ولے بھومیار لیڈر سورج بھان سنگھ کی بیوی وینا دیوی نے للن سنگھ کو ہرا دیا تھا ۔یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ منگیر لوک سبھا سیٹ پر جن دو امیدواروں کے درمیان سیدھا مقابلہ ہونے کا امکان ہے ان میں سے ایک بھومیار برادری سے بھی ہے جبکہ دوسرے مہتو فرقہ سے ہے ۔للن سنگھ کے مطابق منگیر کے لوگ مانتے ہیں کہ نتیش کمار وکاس کی علامت ہیں اس لئے منگیر میں کوئی لڑائی نہیں ہے ۔4 جون کو چناو¿ نتیجہ بتا دے گا کہ منگیر کی جنتا وکاس کے ساتھ ہے یا نہیں ،جمہوریت میں جنتا مالک ہے جنتا سب دیکھتی ہے اسی کو فیصلہ کرنا ہے ۔للن سنگھ کو نتیش کمار کے کافی قریبی مانا جاتا ہے ۔منگیر سیٹ لوک سبھا چناو¿ کے چوتھے مرحلے میں 13 مئی کو ہونی ہے ۔گنگا کے کنارے بسا یہ علاقہ کسی زمانے میں کانگریس کا گڑھ ہوا کرتا ہے لیکن 1964 میں منگیر سیٹ پر لوک سبھا چناو¿ میں سماج وادی نیتامدھوکر رام سنگھ چندر لیمے تھے کی جیت نے اس سیٹ کو پورے دیش میں سرخیوں میں لادیا تھا منگیر میں ابھی چناو¿ کمپین ٹھنڈی ہے ۔ابھی زور نہیں پکڑا ہے چناو¿ کمپین میں جب تیزی آئے گی تب ماحول کا صحیح پتہ لگ پائے گا ۔اس سیٹ پر بھومیار ووٹوں کا کردار اہم ہو گیا ہے کرمی ، کشواہا ،ویشے ،یادو ،مسلم بھی اچھی تعداد میں ہیں ۔
(انل نریندر)
بالی ووڈ کی کوئن یا ہماچل کی پرنس!
کنگنا رناوت میرے بارے میں کہتی ہیں کہ میں راجہ کا بیٹا ہوں ،میرے والد ویر بھدر سنگھ صرف رام پور شہر سیاست کے راجہ نہیں تھے وہ ہماچل پردیش کے دلوں کے راجہ تھے ۔اور مجھے فخر ہے کہ میں ان کا بیٹا ہوں ۔ہماچل پردیش کے پی ڈبلیو ڈی وزیر اور منڈی لوک سبھا سیٹ سے کانگریس امیدوار وکرم آدتیہ سنگھ رام پور کشر شہر میں اکٹھا لوگوں سے خطاب کررہے تھے ۔سنیچر کی شام کانگریس کی جانب سے منڈی لوک سبھا سیٹ کے امیدوار بنائے جانے کے اگلے دن وہ اپنی چناو¿ کمپین کا آغازکر رہے تھے ۔بی جے پی کی جانب سے ٹکٹ دئیے جانے کے بعد سے یہ مانا جانے لگا تھا کہ کانگریس اس بار ان کی ماتا اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ کرتیہ سنگھ کے بجائے وکرما آدتیہ سنگھ کو منڈی سے اتار سکتی ہے ۔وجہ یہ تھی کہ وکرما آدتیہ نے سیدھے کنگنا رناوت کو پرانے بیانوں کو اٹھاتے ہوئے ان پر تنقید شروع کر دی تھی ۔پھر کنگنا نے بھی سیدھے وکرما آدتیہ سنگھ پر پلٹ نکتہ چینی شروع کر دی ۔منڈی لوک سبھا سیٹ میں چھ ضلعوں کے 17 اسمبلی حلقے آتے ہیں ۔ان میں سے تین اسمبلی حلقے درج فہرست برادریوں کے لئے ریزرو ہیں اور پانچ قبائلی برادریوں کے لئے ،ہماچل پردیش کی چاروں لو ک سبھا سیٹوں پر آخری مرحلے میں پولنگ ہوگی ۔لیکن منڈی لوک سبھا سیٹ پر سیاسی درج حرارت مسلسل بڑھ رہی ہے ۔کنگنا اور وکرما آدتیہ ایک دوسرے پر تلخ زبانی حملے کر چکے ہیں ۔کئی بار ان کے بیان نجی حملوں کی شکل میں بھی ہوتے ہیں ۔جہاں وکرما آدتیہ سنگھ نے کنگنا رناوت کو موسمی سیاست داں بتاتے ہوئے ان پر بیف کھانے کا الزام لگایا وہیں کنگنا نے ان سے ثبوت مانگتے ہوئے انہیں چھوٹا پگھو اور راجہ کا بیٹا کہہ دیا ۔ایک دوسرے پر زبانی حملوں کے معاملوں میں دونوں ابھی تک ایک سے بڑھ کر ایک بیان دیتے نظر آرہے ہیں ۔کنگنا رناوت کی بول چال میں سیاست داں جیسی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی ۔حالانکہ اب وہ لوگوں سے مقامی زبان میں بات کررہی ہیں ۔ جس سے لوگوں کو اپنا پن لگ سکتا ہے وہ کہتے ہیں کنگنا ایک سیلیبرٹی ہیں تو لوگ انہیں دیکھنے اور سننے کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے لئے یہ لڑائی ایک طرفہ ہے ۔لوگوں نے ہماچل کے ساتھ لگتی ریاست پنجاب کے گرداس پور کی بھی مثال دیکھی ہے جہاں ایکٹر سنی دیول پر چناو¿ جیتنے کے بعد واپس ا پنے حلقے کی طرف نہ مڑ کر نہ دیکھنا کہ الزام لگے تھے ۔ہماچل کے لوگ چاہتے ہیں کہ نیتا ان کے دکھ سکھ میں شامل ہوں ایسے میں لوگ کنگنا کو صرف ایکٹریس ہونے کے سبب ووٹ دے دیں گے ایسا نہیں لگتا ہے ۔وکرما آدتیہ کے والد ویر بھدر سنگھ کانگریس کے سینئر لیڈر تھے وہ چھ بار ہماچل کے وزیراعلیٰ رہے اور تین بار منڈی لوک سبھا سیٹ سے ایم پی چنے گئے ۔حالانکہ خود کو کانگریس کا وفادار بتانے والے بکرمہ آدتیہ پر پچھلے دنوں سوال کھڑے ہو گئے تھے ۔ان کے چناو¿ میں اترنے سے حالات بدل گئے ہیں ۔وہ نوجوان لیڈر ہیں ریاستی حکومت میں وزیر ہیں اور سب سے بڑی بات وہ یہ ہے کہ وہ ویر بھدر سنگھ کے صاحبزادے ہیں ۔ان سب باتوں سے لڑنا کنگنا کے لئے آسان نہیں ہے ۔سرگرم سیاست میں نئی ہیں جبکہ وکرما آدتیہ کو اپنے تجربہ کے ساتھ ویر بھدر سنگھ خاندان سے ہونے کا بھی فائدہ ملے گا ۔وہ جانتے ہیں کہ ہماچل کی عوام کن باتوں سے وابستگی محسوس کرتی ہے ،کنگنا کو اس سمت میں بھی محنت کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)
18 اپریل 2024
چھتریوں نے بڑھائی بھاجپا کی دھڑکنیں !
لوک سبھا چناو¿ جیتنے کے لئے ایک ایک ووٹ پانے کے لئے سخت محنت کررہے بھاجپا کے لیڈروں کے سامنے چھتریہ انجمنوں نے پریشانی کھڑی کر دی ہے ۔گجرات اور مغربی اتر پردیش میں چھتریہ انجمنوں نے آندولن چھیڑا ہوا ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے تھوڑی پریشانی کھڑی ہو سکتی ہے ۔دراصل مرکزی وزیر پرشوتم روپالا نے چھتریوں کو لیکر ایسی رائے زنی کر دی جس سے سماج کے لوگ آندولن پر اتر آئے ہیں ۔غازی آباد کے ایم پی وی کے سنگھ کا ٹکٹ کٹنے سے چھتریہ مغربی اترپردیش اور ہریانہ میں آندولن کررہے ہیں ۔روپالا 22 سال کے بعدچناوی سیاست میں اترے ہیں ۔اور وہ گجرات دنگوں کے بعدچناو¿ ہار گئے تھے تب سے وہ راجیہ سبھا میں ہی ہیں ۔اس بار وزیراعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا کوٹے سے منتری بنے نیتاو¿ں کو چناو¿ میں اتارا ہے ۔پروشوتم روپالا کو راج کورٹ سے چناو¿ میدان میں اتارا گیا ہے ۔روپالا نے ایک ریلی میں کہا کہ آزادی کے آندولن میں دلت مورچہ پر ڈٹے رہے لیکن چھتریوں نے گھٹنے ٹیک دئیے تھے ۔وہ یہیں نہیں رکے انہوںنے آگے کہا چھتریوں کا مغلوں کے ساتھ روٹی بیٹی کا رشتہ تھا ۔روپالا کے اس بیان سے ہنگامہ مچ گیا ۔راجیہ کے کئی سماج نے روپالا کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے ۔راجپوتوں کی انجمن کرنی سینا بھی راجکورٹ میں مظاہرہ کر رہی ہے ۔پولیس اور کرنی سینا کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں ۔روپالا نے معافی مانگ لی ہے لیکن راجپوت انجمنیں ان کا ٹکٹ بدلنے کی مانگ کررہے ہیں ۔روپالا کے بیان کو کانگریس خوب بھنا رہی ہے پارٹی کے نیتا جگہ جگہ گھوم کر روپالا کے بیان کو ہوا دے رہے ہیں ۔گجرات میں تقریباً سبھی سیٹوں پر پانچ سے 8 فیصد ٹھاکر ہیں ۔کچھ سیٹوں پر ان کی تعداد زیادہ ہے ۔اب بھاجپا نیتاو¿ں کو امید ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے گجرات دورے سے تنازعہ پر روک لگے گی ۔اور چھتریوں کی ناراضگی دور ہوگی چونکہ سبھی گجراتی وزیراعظم نریندر مودی کو گجرات کی شان مانتے ہیں اس لئے وزیراعظم کے چہرے پر سبھی کی ناراض گی دور ہو جائے گی ۔امید کی جار ہے کہ اترپردیش میں بھی جنرل وی کے سنگھ کا ٹکٹ کٹنے سے چتریہ آندولن کررہے ہیں ۔چھتریہ مغربی اترپردیش میں چھتریہ سمیلن کربھاجپا کو ہرانے کی اپیل کررہے ہیں ۔ان کی ناراضگی دور کرنے کی تقریب تلاشی جارہی ہے ۔چونکہ مغری اترپردیش میں مسلمان دلت اور جاٹ زیادہ تعدادمیں ہیں ۔بھاجپا کے ساتھ اگاڑہ ووٹ پوری طرح جڑا ہے ۔بھاجپا نہیں چاہتی کہ اگاڑی جاتی کا ایک بھی ووٹ ان کے کوٹے سے دوسری جگہ جائے ۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو چھیتریہ سماج کو سمجھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔بھاجپا نے ابھی تک برج بھوشن شرن سنگھ کا ٹکٹ فائنل نہیں کیا ہے ۔قیصر گنج کے ایم پی آس پال کا زبردست اثر ہے ۔مہیلا پہلانوں کے الزامات کے سبب بھاجپا ہریانہ میں کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی ۔بھاجپا ان کے بدلے ان کی بیوی ،بیٹی کو ٹکٹ دینے کو تیار ہے لیکن برج بھوشن شرن سنگھ اس کے لئے تیار نہیں ہیں ۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ بھاجپا کے لئے ایک ایک سیٹ کا سوال بنا ہوا ہے اس لئے وہ کسی طرح کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتی ۔تعجب نہیں ہوگا کہ اخیر میں برج بھوشن شرن سنگھ کو ہی ٹکٹ دے دیا جائے گا۔ہریانہ میں 20 مئی کو اور قیصر گنج میں 25 مئی کو چناو¿ ہیں ۔معاملہ پھنسا ہے لیکن پارٹی کو راجپوتوں کو خوش کرنے کے لئے برج بھوشن شرن پر داو¿ لگانا پڑ سکتا ہے ۔
(انل نریندر)
بہن جی نے اکیلا چلو کی ٹھانی !
بسپا چیف مایاوتی جو کہتی ہیں وہ کرتی ہیں ،کرکے دکھاتی ہیں ۔کئی انتخابات میں بہتر نتیجہ نہ آنے کے بعد بھی ان کے تیور میں کوئی کمی نہیں ہے ۔جہاں دیش بھر میں چھوٹی سے لیکر بڑی پارٹیاں این ڈی اے یا انڈیا اتحاد میں جانے کو بے چین ہیں وہیں بسپا سپریمو نے یوپی میں عام چناو¿ اپنے دم خم پر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔حالانکہ اس فیصلے نے سب کو ضرور چونکا دیا ہے ۔ان کو آج بھی اپنے کیڈر پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہے ۔یہی کیڈر ان کا گمان اور شان بھی ہے ۔بسپا کا نعرہ ہے سروجن ہتائے و سروجن سکھائے ۔وہ دبے کچلے محروموں کے لئے سیاست کرتی ہیں ۔وہ اپنی تقریر کی شروعات بھی ان کو لیکر ہی کرتی ہیں ۔دیش بھر کی پارٹیوں پر الزام لگاتی ہیں کہ چناو¿ کے وقت دلت اور استحصال شدہ اور محروم لوگ یاد آتے ہیں ۔مایاوتی چناو¿ نزدیک آتے ہی بھاجپا ،کانگریس ،سپا و دیگر اپوزیشن پارٹیوں پر بھی ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر ،کاشی رام ،سنت رویداس کی یاد آنے کا ڈھونگ کرنے کا بھی الزام لگاتی ہیں ۔مایاوتی نے انڈیا اتحاد سے دور رہ کر اپنے کیڈر کے بھروسہ چناو¿ میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے ۔بھتیجے آکاش کے ذریعے کمپین کی حکمت عملی اپنائی ہے اور شوشل میڈیا پر کمپین کو ترجیح دی جارہی ہے ۔ٹکٹوں کی تقسیم میں مایاوتی نے مسلمانوں کے ساتھ برہمن ،چھتری اور او بی سی کو ٹکٹ دے کر سال 2007 کی طرح شوشل انجینئرنگ کا داو¿ چلا ہے جس کے ذریعے وہ کانگریس سپا اور بھاجپا دونوں کو چنوتی دینے کی کوشش کررہی ہیں ۔مایاوتی شوشل میڈیا کے ذریعے سے اپنی بات کیڈر کے لوگوں تک پہنچا رہی ہیں ۔بسپا نے سب سے پہلا اتحاد 1993 میں یوپی میں سپا کے ساتھ اسمبلی چناو¿ میں کیا ۔دونوں پارٹیاں مل کر چناو¿ لڑیں اور اقتدار میں آئیں لیکن وہ اتحاد ٹوٹ گیا ۔بھاجپا کے ساتھ اتحاد کر 1995 میں پہلی بار وزیراعلیٰ بنیں لیکن وہ یہ ساتھ بھی زیادہ دن تک نہیں چلا ۔انہوں نے 2019 میں لوک سبھا چناو¿ میں سپا سے اتحاد تو کیا لیکن بھتیجے نے نہ آنے پر سپاکو بغیر کیڈر پارٹی بتا کر فوراً اتحاد توڑنے کا اعلان کر دیا ۔دلتوں کی پارٹی بسپا کو چالیس سال ہونے جا رہے ہیں ۔اتوار کو بسپا نے چالیسواں یوم تاسیف منایا ۔پچھلے 24 سال سے بسپا کی قومی صدر گوتم بدھ نگر ضلع کے گاو¿ں بادل پور میں پیدا مایاوتی ہیں ۔پارٹی کے نئے جانشین آکاش آزاد کی پیدائش بھی نوئیڈا میں ہی ہوئی ہے اور وہ وہیں پر پڑھے لکھے ہیں ۔مایاوتی 2001 سے پارٹی کی قومی صدر ہیں ۔پچھلے چالیس برسوں میں بسپا نے کئی اتار چڑھا و¿ دیکھے ان دنوں بسپا اپنے برے دور سے گزر رہی ہے جس کے پاس پورے اتر پردیش میں صرف ایک ممبر اسمبلی ہے ۔پارٹی چیف کے آبائی شہر گوتم بدھ نگرمیں ہی بسپا کا کوئی پبلک نمائندہ نہیں ہے جبکہ دس سال پہلے تک یہاں پر بسپا کی بالا دستی ہوا کرتی تھی ۔14 اپریل 1984 کو کاشی رام کے ذریعے بسپا کی تشکیل کی گئی تھی ۔انہوں نے بسپا کو قائم کرنے کے لئے سخت محنت کی ۔بسپا کا قیام ہونے کے بعد پہلے انہیں چناو¿ نشان کی شکل میں چڑیا ملی تھی لیکن اس چناو¿ نشان پر کوئی جیت حاصل نہ کر دسکیں اگر ہم اعداد شمار پر نظر ڈالیں تو پچھلے کچھ برسوں میں سپا ،بسپا کا مینڈیٹ مسلسل گھٹ رہا ہے ۔دیکھنا اب یہ ہے کہ بہن جی کی اکیلا چلو کی حکمت عملی 2024 کے چناو¿ میں کیا رنگ لاتی ہے ؟
(انل نریندر)
16 اپریل 2024
2019 کی پرفارمنس بھاجپا دہرا پائے گی؟
برہم اور بے چینی ،گڑ بڑی مہاراشٹر میں سیو سینا اور راشٹر وادی پارٹی (این سی پی ) میںپھوٹ کے بعد کئی لوگوں میں یہی لفظ سنائی پڑ رہے ہیں ،مہاراشٹر میں 2024 لوک سبھا چناو¿ ریاست کی دو بڑی پارٹیوں میںپھوٹ کے سائے میں ہو رہے ہیں ۔بھاجپا ،کانگریس کے علاوہ اب یہاں دو شیو سینا یعنی دو پوار والی پارٹیاں ہیں ۔پونے کے ڈولپ ناندیڑ سٹی علاقے کے ایک ووٹر کا کہنا ہے ،جہاں پیسہ ہوتا ہے نیتا وہیں جاتے ہیں ۔لوگ اتنے پریشان ہیں کہ ان کا ووٹ ڈالنے کے لئے جانے کا من نہیں ہے ۔اسی شہر میں ایک دوسرے ووٹر نہیں کہا گھوٹالے والوں کو تم کیوں لے رہے ہو۔گھوٹالے والے ادھر گئے اور سب منتری بن گئے یہ کیسے چلتا ہے لوگ سمجھ رہے ہیں ۔ممبئی کے مشہور شیواجی پارک کے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ایک ریٹائر ایس پی کے مطابق لوک پارٹیاں توڑنے کے خلاف ہیں ان کے نزدیک کھڑے ایک اور شخص نے تنقیدی لہجہ میں کہا کہ بھاجپا توڑ رہی ہے اس کا مطلب تم میں کچھ تو کمیاں ہیں ۔اس وجہ سے وہ لوگ توڑ رہے ہیں ۔جمہوریت خطرے میں ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے دعووں پر وہ پوچھتے ہیں کس کی جمہوریت خطرے میں ہے ۔ہندو کا لوک تنتر خ طرے میں ؟َ عام آدمی کا لوک تنتر خطرے میںہے ؟ سال 2014 اور 2019 کے لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا نے کل 48 سیٹوں میں سے 23 وہین شیو سینا نے 18 سیٹیں جیتی تھیں ۔سال 2024 کے چناو¿ میں این ڈی اے کے لئے 400 پار کا ٹارگیٹ رکھنے والی بھاجپا کے مہاراشٹر میں اس بار بھی 19 جیسی کامیابی کو دہرا پائے گی ۔2019 میں شیو سینا کی پوری طاقت بھاجپا کے ساتھ تھی ۔آج شیو سینا این سی پی کے ایک حصہ ان کے ساتھ ہے اور ریاست میں شردپوار ،ادھو ٹھاکرے کے تئیں ہمدردی کی لہر کہی جا رہی ہے ۔مہاراشٹر کے کچھ حصے بھی بے روزگاری ،مہنگائی ،کسانوں کا مسئلہ وغیرہ کئی چنوتیاں ہیں ۔یہاں منھ پھاڑے کھڑی ہیں ۔لیکن پارٹی ورکروں کو امید ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا زور ان کی نئیا پار لگا دے گا ۔مہاراشٹر میں 48 لوک سبھا سیٹیں داو¿ پر ہیں ۔وہیں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مختلف اسباب سے بھاجپا اتحاد کی سیٹیں اس بار گھٹ سکتی ہیں ۔ایک اوپینین پول نے اس این ڈی اے کو 37 سے 41 جیتنے کی بات کہی ہے ۔جبکہ ایک دوسرے پول میں مہا وکاس اگاڑی اتحاد کو 28 سیٹوں پر جیت کی امید جتائی ہے ۔مہاراشٹر کانگریس کا گڑھ تھا لیکن آپسی رسہ کشی کے چلتے کانگریس کے لئے چنوتی رہی ہے ۔این ڈی اے کے لئے 2019 کی کامیابی دہرانا مشکل ہے لوگ بھاجپا سے زیادہ مہاراشٹر میں ایکناتھ شندھے ،اجیت پوار سے ناراض ہیں ۔انہوں نے پھوٹ میں حصہ لیا ۔ان کے مطابق واقعہ نے بھاجپا کو لمبے وقت کے لئے نقصان پہونچایا ہے ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق این سی پی اور شیو سینا کے کئی ووٹر شش وپنج میں مبتلا ہیں کہ کس کو ووٹ کریں تو مانتے ہیں ایک طرف جہاں بھاجپا پی ایم مودی کے نام پر منحصر ہوگی وہین شردپوار ادھو ٹھاکرے کو لیکر ہمدردی پائی جاتی ہے یہ صاف نہیں ہے لیکن ایکناتھ شندے کا ہاتھ تھامنے والے اس سے انکار کرتے ہیں ۔تجزیہ نگاروں کے مطابق پارٹیوں میں پھوٹ کے سبب لوگوں میں منفی ساکھ بنی ہے کہ بھاجپا اور پریوار توڑنے والی پارٹی ہے ۔یہ ایمیج بھاجپا کے لئے بڑی چنوتی ہے ۔کل ملا کر لوگ اسے مہاراشٹر بنام گجرات کی شکل میں جان رہے ہیں ۔اور مراٹھا کے وقار پر پھر سوالیہ نشان کھڑا کررہے ہیں ۔
(انل نر یندر)
ووٹروں کیلئے بڑے چناوی اشو !
سینٹر فار دی اسٹڈی آف ڈولپنگ سوسائٹی (سی ایس ڈی ایس ) کے لوک نیتی پروگرام کے تحت ووٹنگ سے پہلے سروے میں ووٹروں کے من کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔سروے میں لوگوں نے مانا کہ پچھلے پانچ برسوں میں روزگار کے مواقعوں میں گراوٹ آئی ہے ۔ضروری چیزوں کی قیمتوںمیں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ان کی وجہ سے لوگوں کی معیاری زندگی بیلنس رکھنے میں پریشانی ہو رہی ہے ۔سروے میں شامل 62 فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ آج کے دورمیں نوکری پانا سب سے مشکل ہے ۔شہر سے لیکر گاو¿ں تک کے لوگوں کے پاس روزگار کا سنکٹ ہے ۔خواتین کے لئے تو موقع اور بھی کم ہو گئے ہیں ۔بے روزگاری کے مسئلے پر کل 62 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ لوک سبھا 2024 چناو¿ میں جنتا کی نظروں میں یہ سب سے بڑا اشو ہے ۔62 فیصد گاو¿ں میں 65 فیصد شہروں اور قصبوں میں 59 فیصد کا خیال ہے کہ بے روزگار سب سے اہم ترین اشو ہے ۔وہیں 65 فیصد مرد اور 59 فیصد خواتین یہ مانتی ہیں کہ سروے میں لوگوں نے مانا کہ بے روزگاری اور مہنگائی کے لئے مرکز اور ریاستی سرکاریں ذمہ دار ہیں ۔ان کا خیال تھا کہ سبھی طبقوں کی بہتری کے لئے ریاستی حکومتوں کو دیش کی مالی حالت بیلنس رکھنے کے لئے آگے آنا چاہیے ۔جہاں تک مہنگائی کا سوال ہے 76 فیصد جنتا بری طرح متاثر ہے ۔غریب طبقہ کے 76 فیصد لوگ کمزور 70 فیصد درمیانے 66 فیصد اور اعلیٰ ترین برادریوں کے 68 فیصد ایسا مانتے ہیں جہاں تک علاقوں کا سوال ہے 72 فیصد گاو¿ں اور 66 فیصد قصبے ،69 فیصد کے لوگ یہ مانتے ہیں دلت قبائلی مسلم فرقے کے لوگ بے روزگار مہنگائی کے مسئلے پر زیادہ ہی جارحانہ ہیں ۔یعنی ناراض ہیں ۔67 فیصد مسلم لوگ مانتے ہیں ان کے لئے نوکری تلاشنا دور کی کوڑی بن گیا ہے ۔اسی طرح مسلم فرقہ کے 76 فیصد لوگ مہنگائی کو لیکر زیادہ پریشان ہیں ۔سروے میں ترقی کے مسئلے پر ووٹر بھاجپا کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔حالانکہ بے روزگار اور مہنگائی کو لیکر بھاجپا کے سامنے بڑی چنوتی ہے ۔سروے میں شامل 50 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ بھاجپا کے لئے یہ دونوں اشو زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں ۔اونچے طبقے کے لوگ ان مسئلوں پر زیادہ دلچسپی نہیں دکھاتے لیکن دیہاتی افراد بے روزگاری اور قیمتوں میں اضافہ کو لیکر زیادہ جارحانہ ہیں ۔کم پڑھے لکھے لوگ مہنگائی کو زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کے مسئلے کو لیکر زیادہ چوکس ہیں ۔چناو¿ میں جو اشو ہاوی ہیں بے روزگاری 27 فیصد ،مہنگائی 23 فیصد اور ترقی 13 فیصد ،کرپشن 8 فیصد ،رام مندر 8 فیصد ،ہندوتو 2 فیصد ،بھارت کی ایمیج 2 فیصد ،ریزرویشن 2 فیصد اور6 فیصد کو دیگر جواب پتہ نہیں ہے ۔سروے میں شامل صرف 8 فیصدی لوگوں نے کرپشن اور رام مندر پر خود سے ووٹ دیا ۔زیادہ تر چناوی اشو چناو¿ کمپین و ریلیوں کے ذریعے لوگوں میں جگہ بنارہے ہیں ۔لوک نیتی سی ایس ڈی ایس میں اتر پردیش ،بہار ،جھارکھنڈ ، ہریانہ ،راجستھان سمیت 19 ریاستوں کی 100 پارلیمانی سیٹوں کے 400 پولنگ بوتھ پر سروے کیا یہ سروے 28 مارچ سے 8 اپریل کے درمیان ہوا تھا اس میںکل 14019 لوگوں نے حصہ لیا جن میں الگ الگ اشو سے وابستہ سوالوں پر لوگوں کی رائے جانی گئی ۔سروے سے اتنا ضرورتے ہوا کہ جنتا اس بار نا تو مندر مسجد ،رام مندر وغیرہ اشو اپنا ووٹ دے گی اور وہ اقتصادی اشو پر زیادہ توجہ دے گی ۔بے روزگاری ،مہنگائی ،کرپشن یہ سب سے بڑے چناو¿ میں اشو ہوں گے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...