Translater

06 اکتوبر 2018

پتن کے دورہ ہند پر دنیا کی نگاہیں

روس کے صدر ولادیمیر پتن دو روزہ دورہ پر بھارت آئے۔ بھارت کے ساتھ دنیا کے بڑے دیشوں کی نگاہیں پتن کے اس دورہ پر لگی ہیں۔ روس اور ایران پر امریکی پابندیوں کے سائے کے درمیان ہوئے پتن کے دورہ میں دونوں ملکوں کے آپسی رشتوں کو رفتار دینے اور مسلسل کاروبار کو جاری رکھنے کے طریقوں پر غور ہونا فطری ہے۔ غور طلب ہے کہ بھارت امریکہ کو اعتماد میں لیکر رو س کے ساتھ فوجی و سیاسی رشتوں کو جاری رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ اس سال جون میں صوفی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پتن کی غیر رسمی ملاقات پھرشنگھائی تعاون کانفرنس کی میٹنگ میں باہمی اشوز پر تبادلہ خیال اور اب ان دونوں کی رہنمائی میں سالانہ میٹنگ، بتاتی ہے کہ دونوں دیش ایک دوسرے کے کتنے قریب ہیں۔ روس برسوں سے بھارت کا دوست رہا ہے اور بھارت کا ہمیشہ روس نے سمرتھن کیا ہے۔ ان سبھی میٹنگوں کی تیاریوں کے بعد مودی اور پتن چوٹی کانفرنس میں اگلی ایک دہائی میں ڈیفنس سے لیکر سائنس تک اور ذراعت سے لیکر برقی سیکٹر میں باہمی اشتراک کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگلی ایک دہائی کا ایجنڈا طے کریں گے۔ پی ایم مودی اور صدر پتن سب سے اہم یہ ہے کہ روس سے ایئرڈیفنس سسٹم ایس 400 خریدنے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ دونوں ملکوں نے اس سودے کا باقاعدہ خاکہ تیار کرلیا ہے۔ بھارت کا یہ سودا امریکہ سے تنازعہ کا سبب بھی بن گیا ہے۔ بھارت۔ امریکہ کے درمیان ہوئے 2228 ای میٹنگ میں روس سے اس سودے پر بات چیت مرکز میں رہی تھی۔ امریکہ نہیں چاہتاکہ بھارت روس سے یہ ڈیفنس سودا کرے۔ کہا جارہا ہے کہ اس سودے کے سبب بھارت پر امریکہ کی جانب سے اقتصادی پابندی لگائے جانے کا خطرہ منڈرا رہا ہے۔ اس کے باوجود بھارت پانچ ایس۔400 خریدنے کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ ایس۔400 کے بارے میں تھوڑی معلومات دے دوں۔ ایس۔400 کو دنیا کا سب سے اثر دار ڈیفنس سسٹم مانا جاتا ہے۔ یہ دشمنوں کے مزائل حملے روکنے کا کام کرتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بھارت نے اس سودے کا باقاعدہ اعلان تو کردیا ہے لیکن امریکہ کے لئے یہ بہت مایوس کن ہوگا۔ ادھر روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اسپوتنک کا کہنا ہے کہ صدر پتن کے دورۂ ہند سے پہلے نریندر مودی کی قیادت والی سکیورٹی پر بنی کیبنٹ کمیٹی نے روس سے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کے ایس۔400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی خرید کو منظوری دے دی ہے۔ 1960 کی دہائی سے ہی روس بھارت کا سب سے بڑا دفاعی سازو سامان کا سپلائر رہا ہے۔ 2012 سے 2016 کے درمیان بھارت کی کل ڈیفنس درآمدات کا 68 فیصد روس کے ساتھ کاروبار ہوا ہے۔ اگر بھارت کو ایس۔400 ڈیفنس سسٹم مل جاتا ہے تو یہ دونوں چین اور پاکستان کے لئے بہت تشویش کا باعث ہوگا۔ ایس۔400 سے آئے دن پاکستان کی نیوکلیئر دھمکی کا توڑ ہوجائے گا۔ بیشک روس چین کو پہلے ہی یہ سسٹم دے چکا ہے لیکن پھر بھی چین کو جارحانہ رخ اختیار کرنے سے روکے گا۔ بھارت کے ایس۔400 حاصل کرنے سے پاکستان اور چین کی طاقت متاثر ہوگی۔ اس سے ہمارے بھارت۔ پاکستان کی ہوائی پہنچ اور خاص کر جنگی جہاز ، کروز میزائل، ڈرون کے خطرے ناکام کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایسا اس لئے ہے کیونکہ اس کا ٹریکنگ رینج 600 کلو میٹر تک ہے اور 400 کلو میٹر تک مار گرانے کی صلاحیت ہے۔ صرف تین ایس۔400 میں ہی پاکستان کی سبھی سرحدوں کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔روس کے صدر ولادیمیر پتن کے دورہ کا بھارت میں خیر مقدم ہے۔
(انل نریندر)

مایاوتی کے اعلان سے کانگریس کو جھٹکا،بھاجپا کو راحت

10 دن کے اندر بسپا نے اپوزیشن اتحاد اور خاص کر کانگریس کو دوسرا جھٹکا دے کر چناوی حکمت عملی بگاڑ دی ہے۔ بسپا چیف مایاوتی نے مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اکیلے چناؤ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کو لکھنؤ میں میڈیا سے بات میں کہا کہ کانگریس کا رویہ بسپا کی مخالفت میں رہا ہے اس لئے پارٹی راجستھان ،چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش وغیرہ میں علاقائی پارٹیوں کے ساتھ مل کر چناؤ لڑے گی۔ بسپا چیف نے دگوجے سنگھ پر اتحاد نہ ہونے کا ٹھیکرا پھوڑدیا ہے۔ مایاوتی نے الزام لگایا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی و سونیا گاندھی بسپا کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے ہیں لیکن دگوجے سنگھ ایسا نہیں چاہتے۔ وہ بھاجپا کے ایجنٹ ہیں اور ای ڈی اور سی بی آئی سے ڈرتے ہیں۔ مایاوتی کی ناراضگی کی وجہ دگوجے سنگھ کا وہ ٹی وی انٹرویو ہے جس میں کانگریس نیتا نے یہ کہا تھا کہ ای ڈی و سی بی آئی کے ڈر سے بسپا نے کانگریس سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مایاوتی نے کانگریس کے تئیں جو بھروسہ ظاہر کیا ہے اس کے لئے پارٹی ان کا احترام کرتی ہے۔ کانگریس صدر اور ان کے درمیان اتفاق رائے بنتا ہے تو تیسری طاقت پیدا نہیں کرسکتی۔اترپردیش میں کسان تحریک اور اعلی برادریوں کی ناراضگی سے فکرمند بھاجپا نے بسپا کے نئے موقف سے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی۔ بسپا کے کانگریس کے ساتھ اسمبلی چناؤ میں اتحاد نہ کرنے کے آپسی مفادات گہرے ہیں اور بھاجپا اسے وسیع پس منظر میں دیکھ رہی ہے۔ مرکزی وزیر و سینئر بھاجپا لیڈر روی شنکر پرساد نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد بنانا کانگریس کے ڈی این اے میں نہیں ہے۔ مایاوتی نے کانگریس کے ساتھ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اتحاد نہ کرنے کو لیکر کانگریس نیتا دگوجے سنگھ کے حالیہ بیان کو بیشک بنیاد بتایا ہے لیکن چھتیس گڑھ میں کانگریس سیٹوں کے لئے امیدواروں کا اعلان کرکے پہلے ہی صاف کردیا تھا کہ بسپا کانگریس کے ساتھ اتحاد میں نہیں جانا چاہ رہی ہے۔ اب اس کے فیصلے سے درپردہ طور سے بھاجپا کو راحت ملی ہے۔ بسپا کے مدھیہ پردیش کے چار ممبر اسمبلی اور قریب ساڑھے چھ فیصدی ووٹ ہیں جبکہ 2008 کے چناؤ میں بسپا نے 7 سیٹیں جیتی تھیں۔ 2013 کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ کانگریس اور بھاجپا میں صرف 8 فیصدی ووٹ کا فرق ہے۔ مدھیہ پردیش میں دلتوں کی آبادی 15.2 فیصدی ہے۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بسپا کے اکیلے چناؤ لڑنے سے ہماری مشکلیں بڑھیں گی کیونکہ فی الحال پچھلے چناؤ میں ایک درجن سے زیادہ سیٹ پر کانگریس ۔ بھاجپا کے فرق سے زیادہ بسپا کو ووٹ ملے تھے۔ ایس سی۔ ایس ٹی قانون پر تنازعہ کے چلتے اس بار بسپا کی حمایت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

04 اکتوبر 2018

باپو نے لکھا تھا اخباروں پر کنٹرول سب سے زیادہ تباہ کن ہے

آج ہم اپنے پیارے باپوکی 150ویں جینتی منارہے ہیں ۔باپو آج بھی دینا بھر میں ان لاکھوں کروڑوں لو گوں کیلئے امید کی کرن ہیں ۔جو برابری ،عزت اور میل جول اور تفویض سے بھر پور زندگی جینا چاہتے ہیں۔مہاتما گاندھی نے صحیح معنوں میں اصول اور برتاؤ سے جوڑا تھا ۔ان کے مضبوط ارادے تھے انھوں نے اپنی زندگی میں جو عہد کئے مرتے دم تک ان پر قائم رہیں ۔1888میں لندن میں گاندھی جی سوٹ میں دکھائی دےئے تھے 33سال بعد 1921میں مدورئی میں سوٹ چھوڑ کر دھوتی اپنالی اس درمیا ن گاندھی جی نے اپنے ارادوں اور نظریات او ربرتاؤ سے دیش میں بھر میں ستیہ گرہ شروع کیا ۔اس کے ذریعہ اخبارات میں لکھی باتیں آج بھی راہ عمل ہیں ۔مہاتماگاندھی کے اخبار ینگ انڈیا ،ہریجن ،اور نوجیون میں شائع ان کے لکھے گئے ادارتی حصے پیش ہیں ۔۔۔اخبارو ں کو کوئی اور کنٹرو ل کرے تو وہ سب سے زیادہ تباہ کن ہوتا ہے باپو نے لکھا انھوں نے میرے مضامین میں دلچسپی لینے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ سچائی کی تلاش میں میں نے بہت سے نظریات پیش کئے ہیں ۔اور بہت سی باتیں سیکھی ہیں مجھے سنیا سی کہنا غلط ہے میری زندگی جن اصو لوں سے چلتی ہے وہ عام لوگوں کے ذریعہ اپنائے جاسکتے ہیں ۔انہیں آہستہ آہستہ ہر قدم سوچ سمجھ کر او ر ہوشیاری سے اٹھایا ہے خود کو عام شخص مانتا ہوں جس سے دیگر لوگوں کی طرح غلطیاں ہوسکتی ہے ہاں میرے اندر اتنی نرم گوئی ضرورہے کہ میں غلطیاں تسلیم کرسکوں ۔صحافت کا ایک محض ایک مقصد سیوا ہونا چاہئے ۔اخبارات کے پاس بڑی طاقت ہے لیکن جس طرح بے کنٹرول سیلاب کا پانی پوری بستیوں کو ڈبا دیتا ہے اسی طرح کنٹرو ل باہر سے کیا جائے تو وہ او ربھی تباہ کن ہوجاتاہے ۔پریس کا کنٹرو ل فائدہ مند ہوسکتا ہے جب اخبارات اسے خود لاگو کریں ۔باپو نے ہندو مسلم یکتا پر دکھا کہ ہندو مسلم اتحاد تو ہمیں سیاسی پالیسی کی شکل میں اپنا نا چاہئے ۔جو کسی بھی کل یا حالات میں چھوڑا نا جاسکے ہم اسے کچلنے پر غور کریں گے تو ہم لوگ جب تک عدم تشدد کو بنیادی پالیسی کی شکل میں قبول نہیں کریں گے تب تک ہندو مسلم اتحاد قائم ہونا ممکن نہیں ہے ۔گؤ ہتیا ،گؤ رکھشکوں پر باپو نے کہا قانو ن سے گوبدھ کبھی بند نہیں کیا جاسکتا سائنس وتعلیم اور گائے کی تئیں ہمدردانہ رویہ اپنانا سے بند ہوسکتا ہے ۔ہندو ؤں کے لئے بیوقوفی اور نامناسب ہوگا اگر اقلیتوں (مسلمانوں )پر گؤ ہتیا کے قانون لاگو کرنے کو ماننے کیلئے طاقت کا استعمال کرتے ہیں ۔جب مسلمانوں کو یقین ہوجائے گا کہ ہندو ان کے لئے جان کی بازی لگا رہے ہیں تب وہ گؤ ہتیا بند کردیں گے قرآن شریف میں یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو گؤ ماس کھانا چاہئے ۔باپو ذات پات سسٹم اور چھوا چھوت پر بہت فکر مند تھے انھوں نے لکھا ہے :ایک طبقہ دوسرے سے بہتر ہے ایسا کہیں نہیں کہا گیا ہے ۔ذات اور چھواچھوت کی روایت ختم ہونی چاہئے جنکے آباد اجداد نے اس روایت کو رائج کرنے کا گناہ کیا ہے انہیں کو کفارے کی شکل میں اس کے اژالہ کا کام کرنا چاہئے ۔اچھوت مانے جانے والے لوگوں کی سیوا کرنی چاہئے بد فعلی کے واقعات پر باپو کہتے ہیں عورتوں کو اور آزادی ملنی چاہئے جس عورت پر بد فعلی جیسا حملہ ہو وہ حملے کا جواب تشدد کی بجائے عدم تشدد کا رویہ اختیار کرے ۔دفعہ میں ہی حملہ دھرم ہے متاثرہ عورتوں کو ایسے واقعات کو چھپانے کا رواج ختم ہونا چاہئے ۔لوگ کھل کر اس مسئلہ پر بحث تو کریں گے تو ایسے واقعات ختم ہوجائیں گے ۔باپو کے برسوں پہلے ظاہر کئے گئے نظریات وتجاویز آج بھی راہ عمل ہیں مشکل یہ ہے کہ ہم باپو کا گن گان توکرتے ہیں لیکن ان کے نظریات کو نہیں اپنا تے ہیں۔
(انل نریندر)

آئی ایس آئی کا نیا ہتھیار ،عورتیں ،ہنی ٹریپ

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھارت میں کتنی سرگرم ہے اس کی ایک مثال حال ہی میں اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤمیں سامنے آئی ہے ۔اے ٹی ایس (انسداد دہشت گردی دستہ )نے ملٹری خفیہ کی خبر گوئی پر آئی ایس آئی کے لئے جاسوسی کررہے بی ایس ایف کے جوان اچوتاانند مشر کو نوئیڈا سے گرفتا رکیا ہے ۔اے ٹی ایس کے انسپکٹر جی ایس پانڈے نے اسپیشل سی جی ایم عدالت کو بتا کہ 24اگست کو اے ٹی ایس کے دروغہ شیلند رگری نے رپورٹ درج کرائی تھی کہ چنڈی گڑھ میں فوجی خفیہ ایجنسی کو اطلاع ملی تھی کہ آئی ایس آئی کے ایجنٹ بھارت کی سرداری اور یکجہتی کو نقصا ن پہنچانے کے لئے فیس بک پر کاجول شرم نام کا ایک فرضی آڈی بناکر نیم فوجی فورس اور فوج کے افسروں کو ہنی ٹریپ میں پھنسا کر اطلاعات حاصل کررہا ہے ۔جنوری 2016میں ہنی ٹریپ کا شکار ہوئے بی ایس ایف جوان واٹس ایپ کے ذریعہ بھی آئی ایس آئی کی ایک خاتون ایجنٹ کے رابطے میں تھا وہ دہلی کے آر کے پورم میں بی ایس ایف کے کمپوزٹ ہسپتال تعینات تھا۔اے ٹی ایس نے اچوتا نند کو لکھنؤ کورٹ میں پیش کیا اور اسے 5دنوں کی ریمانڈ میں لیکر اے ٹی ایس پوچھ تاچھ کررہی ہے ۔آئی جی اسم ارون نے بتایا کہ ملٹری خفیہ یونٹ نے آئی ایس آئی کے ذریعہ عورتوں کے نام پر فرضی فیس بک بناکر فوج اور مسلح فورس کے جوانوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اطلاعات دیا کرتی تھی ۔ایسی ہی ایک ہندوستانی فیس بک آڈی کی نشاندہی کی گئی جو فرضی نام سے بنائی گئی پاکستانی کو فیس بک آڈی کے لگا تاررابطے میں تھے چھان بین میں یہ بی ایس ایف کا جوان اچوتاا نند پکڑ میں آگیا ۔آئی ایس آئی کی فرضی آڈی پر کی گئی اچونند کی کئی قابل اعتراض باتیں سامنے آئی ہیں اچو تاانند کے موبائل فون سے بھی کئی اہم باتیں سامنے آئیں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی خاتون ایجنٹوں کا جال مسلسل پھیلتا جارہا ہے ان کے خاص نشانے پر فوجی ملازمین ونیم فوجی فورس کے جوان ہیں ۔سائبر ہنی ٹریپ کے ذریعہ اپنے قدم بڑھارہی آئی ایس آئی خاتون کی بھرتی صرف ان کے جال میں پھنسانے والوں سے ویڈیو کالنگ کر میٹھی میٹھی باتیں کرنے کیلئے ہی تھیں ۔اچوتاا نند مشر بھی فیس بک کے ذریعہ آئی ایس آئی کے چنگل کے دلدل میں پھنستا چلاگیا ۔اور آئی ایس آئی اینجنٹ کے جھانسے میں آیا تھا اس نے خو د کو ڈیفنس رپورٹر ہونے کا دعوی کیا تھا یہ فیس بک آئی ڈی سونا کور کے نا م سے بنائی گئی تھی ۔اچوتاانند سے فیس بک کے ذریعہ جوڑ نے کے بعد مہیلا ایجنٹ نے پاکستانی نمبرپر چالو واٹس ایپ کے ذریعہ رابطہ بڑھایا پاکستانی نمبر دیکھنے کے بعد بھی اچوتا انند نے اپنے قدم نہیں روکے بلکہ اپنے فون میں پاکستانی دوست کے نام سے سیو کرلیا آئی ایس آئی کے ذریعہ اب عورتوں کے پیار میں ہمارے جوانوں کو پھنسانے کی پاکستانی سازش سے ہوشیار ہوجانا چاہئے ۔یہ جوان اس وجہ سے پکڑا گیا کہ وہ اقلیتی فرقہ سے نہیں تھا ۔اکثریتوں میں بھی غداروں کی کمی نہیں ہے ۔
(انل نریندر)

03 اکتوبر 2018

اترپردیش کی خونی خاکی

اترپردیش کی پولیس میں خونخوار پن کیوں ہے اور کیوں بھلے لوگ اس سے بات کرنے اور پاس جانے سے گھبراتے ہیں؟ یہ خطرناک سچ ایک بار پھر اجاگر ہوا ہے۔ لکھنؤ کی راجدھانی میں ایک سپاہی کے ذریعے ایک بے قصور شخص وویک تیواری کو گولی سے اڑادیا۔ پولیس کی بربریت کا شکار دو ننھی بیٹیوں کا یہ والد ہمیشہ کے لئے سو گیا۔ پولیس کی اس ظالمانہ حرکت کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔وہ شخص دیر رات قریب پونے دو بجے اپنی ایک خاتون ملازم ساتھی کے ساتھ اپنے آفس سے لوٹ رہا تھا۔ یہ کوئی جرم نہیں تھا۔ اگر اس شخص نے کار نہیں روکی تھی تو بھی اس کی سزا گولی مار دینا نہیں۔اس کا کار کو روکنے کے اور بھی طریقے تھے۔ نمبر پلیٹ کے ذریعے پولیس کارمالک تک پہنچ سکتی تھی لیکن اس کار کی ٹکر سے پولیس کی بائیک گرجانے کے بعد ایک سپاہی نے کار مالک پر سامنے سے جس طرح گولی چلائی وہ پولیسیا روعب و خاکی غنڈہ گردی کی انتہا تھی۔ مانو یہ اس کی بوکھلاہٹ ہی نہ ہو بلکہ سنگین جرم ہوجانے کے بعد سپاہیوں نے جس طرح خود کو بچانے کیلئے جھوٹی کہانی گڑھی وہ تو اور بھی شرمناک ہے۔ سپاہیوں کا الزام تھا کہ کار مالک نے انہیں روندھنے کی کوشش کی۔ ایسے میں اپنی دفاع میں انہیں گولی چلانی پڑی۔ لیکن ایسے میں نہ تو سپاہیوں کے لئے کار سے تیز دوڑ کر گولی چلانا ممکن ہے اور نہ ہی سر میں گولی لگنے کے بعد کسی کے لئے 400 میٹر تک کار چلانا ممکن ہے۔ واردات بہت بڑی تھی تو ریاستی سرکار بھی فوراً حرکت میں آگئی۔ موبائل ایپل کمپنی کے منیجر وویک تیواری قتل کانڈ میں ریاست کے قانون منتری برجیش پاٹھک نے مانا کے کچھ بڑے پولیس افسر معاملہ کو دبانے اور ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ اور لیپا پوتی میں لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکار بے قصور کے قتل کرنے والے پولیس ملازمین سمیت کسی بھی بدمعاش کو معاف نہیں کرے گی۔ وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی نے بھی فون پر وویک تیواری کے رشتے داروں سے بات کر دکھ جاتا اور سپاہیوں کو برخاست کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے لیکن سپاہیوں کی سزا وویک کی بیوی اور بیٹیوں کے زندگی بھر کے لئے اذیت اور دیکھ کے سامنے کچھ نہیں ہے۔زندگی ایک پل میں بدل جاتی ہے یہ سچ ہے۔ اس واقعہ کی سچائی کی بانگی ہے۔ واردات کے بعد جس طرح سے لکھنؤ سے لیکر دہلی تک سیاسی پارٹیاں ٹڈی کی طرح ہمدردی کا کاروبار کرنے پر کود پڑی ہیں وہ اور بھی شرمناک ہے۔ اترپردیش میں سپاہی گولی مارتے ہیں اور ممبر اسمبلی تھپڑ، یہ پہچان بن گئی دیش کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش کی۔ پولیس کی دنگائی کی یہ اکیلی مثال نہیں ہے آئے دن پولیس کی بربریت کے ایسے معاملے سامنے آتے رہتے ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کے وزیر پولیس کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جو پولیس عام لوگوں کی حفاظت کے لئے ہے وہ دبنگئی ، نا جائز وصولی اور غیر سنجیدگی کی علامت بن گئی ہے۔ یہاں تو سپریم کورٹ کی ہدایت کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

بالکرشن کی پراپرٹی 70 ہزار کروڑ روپے کیسے پہنچی

یہ ہندوستانی یوگ کی روایت کی نئی کہانی ہے۔ چینی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہورون نے بھارت میں 2017 کے امیروں کی ایک فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں پتنجلی کے سی ای او آچاریہ بال کرشن بھارت کے 8 ویں سب سے امیر آدمی ہیں۔ پچھلے سال یعنی 2016 تک بالکرشن اس فہرست میں 25 ویں نمبر پر ہوا کرتے تھے اس سال (2017) میں ان کی پراپرٹی 173 فیصد بڑھ کر 70 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ہورون کا کہنا ہے کہ بالکرشن کی پراپرٹی بڑھنے میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے مدد ملی ہے۔ انسٹیٹیوٹ کے مطابق نوٹ بندی کا منظم سیکٹروں پر مثبت اثر پڑا ہے۔اس فہرست میں پہلا نمبر مکیش امبانی کا ہے جن کی کل پراپرٹی 257900 کروڑ رہے جو 58 فیصد بڑھی ہے۔ دوسرے نمبر پر ریلیپ ساندھوی89000 کروڑ پر ہے۔ تیسرے نمبر پر ایل این متل ہے جن کی پراپرٹی 88200 کروڑ ہے 32 فیصدی بڑھی ہے، چوتھے نمبر پر شیو ناڈر 85100 کروڑ (16 فیصدی)، پانچویں نمبر پر ہے عظیم پریم جی 79300 کروڑ (6فیصدی)، چھٹا سائرس پونا والا 71900 کروڑ، ساتواں گوتم اڈانی 70600 کروڑ(66فیصدی) آٹھویں میں ہیں آچاریہ بالکرشن 70 ہزار کروڑ اور 173 فیصدی گروتھ۔ 44سالہ بالکرشن آچاریہ فوربیس میگزین میں دنیابھر کے ارب پتیوں کی فہرست میں 14 ویں نمبر پر تھے۔ بالکرشن تب دنیا بھر کے 243 امیروں میں سے 814 ویں نمبر پر تھے۔پچھلے مالی سال میں پتنجلی کا کل کاروبار 10.561 کروڑ روپے تھا۔ پتنجلی انٹرنیشنل کمپنیوں کو زبردست چنوتی دے رہی ہے۔ پتنجلی فاسٹ موونگ کنزیومر گڈس کمپنی کے معاملہ میں ہندوستان لیور کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پتنجلی آیوروید میں 94 فیصدی حصہ بالکرشن کا ہے لیکن وہ کوئی تنخواہ نہیں لیتے۔ بالکرشن کی پیدائش نیپال میں ہوئی تھی۔ انہوں نے ہریانہ کے ایک گوروکل میں یوگ گورو رام دیو کے ساتھ پڑھائی کی تھی۔ 1995 میں دونوں نے مل کر دیویہ فارمیسی قائم کی۔ 2006 میں انہوں نے پتنجلی آیوروید کمپنی بنائی۔ بالکرشن کے نام صرف شہرت ہی نہیں۔2011 میں سی بی آئی نے ان کے خلاف جعلسازی کا مقدمہ بھی درج کیا تھا حالانکہ بعد میں انہی کلین چٹ دے دی گئی۔ رام دیو اس کمپنی میں نجی حیثیت سے کوئی مالکانہ حق نہیں رکھتے لیکن ہائی پروفائل یوگ گورو پتنجلی آیوروید کا چہرہ بھی ہیں۔ کمپنی کے برانڈ امبیسڈر و پرموٹر بھی ہیں۔ آچاریہ بالکرشن پتنجلی یوگ پیٹھ ٹرسٹ کے سکریٹری جنرل بھی ہیں۔ وہ پانچ ہزار پتنجلی کلینک کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ یوگ کلاسوں کو چلاتے ہیں۔ بالکرشن نے بتایا کہ وہ بھارت کے ہری دوار میں پیدا ہوئے جب ان کے والد ایک چوکیدار کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ ان کے ماں باپ ابھی بھی نیپال کے پشتینی گھر میں رہتے ہیں۔ جون2011 میں سی بی آئی نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ان پر الزام لگاتھا کہ ان کی زیادہ تر ڈگریاں اور کاغذات جعلی ہیں جن میں ان کا پاسپورٹ بھی شامل تھا۔ بالکرشن سبھی الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات یوپی اے حکومت کی ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وارانسی کے سمپورن آنند سنسکرت یونیورسٹی سے ملا سرٹیفکیٹ ہے ، کاغذات ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ سال2012 میں جب سی بی آئی نے دھوکہ دھڑی کے ایک معاملہ میں انہیں طلب کیا تو بالکرشن مبینہ طور پر فرار ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ان کے خلاف غیر قانونی طور سے پیسے کی مبینہ خوردبرد کا معاملہ بھی درج کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سال 2014 میں این ڈی اے سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے خلاف معاملہ بند کردئے گئے۔ان کے تنقید نگار وزیر اعظم نریندر مودی کے سودیشی ابھیان کو بڑھاوا دینے اور مقامی برانڈ کے درمیان ایک تعلق دیکھتے ہیں لیکن آچاریہ بالکرشن کہتے ہیں کہ پتنجلی کے فروغ اور بی جے پی سرکار کے بیچ کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں ان کی کمپنی کی ترقی دراصل دو دہائی کی مشکل محنت کا نتیجہ ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ آچاریہ بالکرشن کمال کے صنعتکار ہیں۔ انہوں نے ایک سال میں 173 فیصدی ترقی کی جبکہ کیش امبانی جیسے مشہور صنعتکار صرف 58 فیصدی ترقی ہی کرسکے۔
(انل نریندر)

02 اکتوبر 2018

بھارت کے نئے چیف جسٹس رنجن گوگئی

جسٹس رنجن گوگئی سپریم کورٹ کی 46 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے 3 اکتوبر کو حلف لیں گے۔ ان کا خیر مقدم ہے جسٹس گوگئی کے بارے میں کم لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ نارتھ ایسٹ انڈیا سے پہلے چیف جسٹس ہوں گے۔ ایسے ہی وہ سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس ہوں گے جن کے والد وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ ان کے والد شرد چندر گوگئی آسام میں کانگریسی لیڈر تھے اور سال1982 میں آسام کے وزیر اعلی رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکیل وکاس سنگھ بتاتے ہیں کہ جسٹس گوگئی کئی زبانوں کے ماہر ہیں لیکن سخت مزاج کے ہیں۔ وہ ڈسپلن کے بہترین جج رہے ہیں۔ انہیں وکیل کے کپڑوں تک کا دھیان رہتا ہے۔ اگر کوئی وکیل پوری طرح ڈریس پہن کر نہیں آتا تو وہ اسے اپنی کورٹ میں بولنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔ یہاں تک کہ کورٹ میں پہنچنے والے افسران کو بھی وہ صحیح ڈھنگ سے کپڑے نہ پہننے پر ڈانٹ لگا چکے ہیں۔ جسٹس گوگئی کو ناانصافی برداشت نہیں ہوتی اس کے خلاف کس حد تک جاسکتے ہیں اس کی مثال دیش دو بار دیکھ چکا ہے۔ پہلی بار تب جب سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مارکنڈے کاٹجو نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی تاریخ رقم کرتے ہوئے نہ صرف توہین عدالت کے معاملے میں نوٹس بھیجا بلکہ انہیں کورٹ بلا کر معافی بھی منگوائی۔ دوسرا معاملہ اسی برس 12 جنوری کا تھا جب انہوں نے مقدمات کی سماعت کے لئے ججوں کے درمیان الاٹمنٹ کی کارروائی پر نا خوشی ظاہر کرتے ہوئے تین ساتھی ججوں کے ساتھ مل کر چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف ہی پریس کانفرنس کر محاذ کھول دیا تھا۔ جسٹس گوگئی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غلطی کسی کی بھی ہو وہ اسے معاف نہیں کرتے۔ اگر کوئی زبردستی پریشان کیا جارہا ہو تو اسے فوری راحت دینے سے گریز نہیں کرتے۔ ایسا ایک معاملہ 14 دسمبر 2017 کا ہے۔ التوا مقدمات کے سلسلے میں ادھوری تیاری سے کورٹ میں حاضر ہونے والے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس رجسٹرار کو انہوں نے بہت سخت پھٹکار لگائی تھی۔ وہیں دوسری مثال ایک جج کے معاملہ میں دیکھنے کو تب ملی جب ایک شخص کو صرف اس بنیاد پر ضمانت نہیں دی جارہی تھی کہ اس کی بیوی ایک جج ہے تو انہوں نے اسے ضمانت دے دی۔ جسٹس گوگئی 17 نومبر 2019 کو ریٹائرہوں گے جنہوں نے کئی اہم فیصلے سنائے ہیں۔ 2016 میں محض 15 منٹ میں طلاق کے مقدمے کے نپٹارے کا سندیش دیا۔ آتنکی یعقوب میمن کی عرضی پر 30 جولائی 2015 میں آدھی رات سپریم کورٹ نے سماعت کر خارج کیا۔ نربھیا معاملہ میں گناہگاروں کو پھانسی کی سزا،سہارا معاملہ میں صحافی کو جیل بھیجنا، سنیما گھروں میں راشٹریہ گان بجانا، سوسائڈ نوٹ میں کسی ملزم کا نام لکھا ہونا کافی نہیں ہے جیسے فیصلے بھی انہوں نے دئے۔ جسٹس رنجن گوگئی بھارت کے چیف جسٹس بنتے ہیں یا نہیں اس پر تنازعہ تھا سرکار کو تھوڑی قباحت تھی لیکن آخر میں بھلا ہو تو سب بھلا۔ گوگئی کاچیف جسٹس کاعہدہ سنبھالنے پر خیر مقدم ہے۔
(انل نریندر)

ایک سرکاری چپڑاسی سے کم کماتے ہیں 87فیصد لوگ

اکثر بڑھتے بے روزگاروں کی تعداد پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ اعدادو شمار بھی بتاتے ہیں کہ دیش کے اقتصادی ڈھانچے میں جو تبدیلی ہوئی ہے اس نے روزگار کے مواقع لگاتار گھٹ رہے ہیں۔ 2013-14 کے بعد ملازمتوں کی تعداد گھٹی ہے۔ نوجوانوں اور اعلی تعلیم یافتہ لوگوں میں بے روزگاری کی تعداد اس وقت 16فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ منگل کو جاری پریم جی یونیورسٹی کے سینٹر فار سسٹین ایبل امپلائمنٹ کی رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ 2013 سے 2015 کے دوران نوکریوں کی تعداد 70 لاکھ سے کم ہوئی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کا حال ان اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ٹرینڈ 2015 کے بعد بھی بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گروتھ سے کم نوکریوں میں بھاری کمی آئی ہے۔ 1970-80 کی دہائی میں جی ٹی بی گروتھ ریٹ 3-4 فیصد ہوا کرتی تھی تب ہر سال نوکریاں 2 فیصد بڑھتی تھی۔ 2000 کے بعد جی ٹی بی گروتھ بڑھ کر70 فیصد ہوگئی لیکن نوکریاں ایک فیصد کم ہوگئیں۔ روایتی طور سے بھارت کا مسئلہ بیروزگاری نہیں بلکہ نوکریوں کی کمی رہی ہے یعنی لوگوں کو ان کی اہلیت کے حساب سے کام نہیں ملتا۔ نوجوانوں کو اعلی تعلیم یافتہ لوگوں میں بے روزگاری 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ دیش میں ایک چپڑاسی کے لئے انجینئر یہاں تک کہ پی ایچ ڈی ڈگری والوں کی درخواستیں آنے کے بارے میں کئی بار ہم نے سنا ہے۔ پریم جی یونیورسٹی کے مطابق دیش کے 87 فیصد لوگوں کی کمائی سرکاری محکمہ کے چپڑاسی سے بھی کم ہے۔ ایک اسٹڈی کے مطابق دیش میں 87 فیصدی لوگوں کی ایک مہینے کی آمدنی 10 ہزار روپے سے کم ہے۔ اس میں 82 فیصدی مرد اور 92 فیصدی عورتیں شامل ہیں۔ اس کا موازنہ اسی دور میں ساتویں پے کمیشن کے تحت کم از کم تنخواہ 18000 روپے مہینہ ہوگئی ہے۔ خود روزگار کے محاذ پر 85 فیصدی لوگ ایسے ہیں جن کی مہینے میں آمدنی 10000 روپے سے نیچے ہے۔ 41.3 فیصدی لوگ ایسے ہیں جن کی کمائی 5 ہزار سے بھی کم ہے۔ 26فیصد لوگ خود کام کرکے پانچ ہزار سے ساڑھے سات ہزار روپے مہینہ کماتے ہیں۔ اس رپورٹ کو تیار کرنے والے امت گھونسلے نے بتایا کہ اس اسٹڈی کو لیکر تفصیلات و روزگار سروے 2015-16 کے اعدادو شمار اور نیشنل سینٹرسروے کے اعدادو شمار شامل کئے گئے ہیں۔ بیروزگاری پورے دیش میں بڑھی ہے لیکن شمالی ریاستوں میں یہ زیادہ ہے۔ اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا نامی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکار کو جلد ہی قومی روزگا ر پالیسی بنانی چاہئے۔ ادھر منگلوار کو سینٹرل ٹیلی آفس (سی ایس او) نے بھی روزگار کے اعدادو شمار جاری کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے جولائی میں 13.97 لاکھ لوگوں کو نوکری ملی جو ستمبر 2017 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ایک دیگر خبر میں امیر غریب کے درمیان فرق کم کرنے والی کوششوں کے درمیان دیش کے امیروں پر جاری رپورٹ الگ ہی تصویر بیاں کررہی ہے۔ دیش میں پچھلے دو سالوں میں ایسے لوگوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہے جن کی پراپرٹی 100 کروڑ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ یعنی پچھلے دو سالوں میں امیروں کی تعداد دوگنا ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...