Translater
12 نومبر 2021
اور اب پاکستان سے آئے ٹفن بم!’
15 ستمبر کو جلال آباد میں بائک میں رکھے بم دھماکہ معاملے میں اصل ملزم رنجیت سنگھ عرف گورا ایک ٹفن بم اور چار پستول لیکر لدھیانہ کے سنگھو بیگ میں اپنے سسرل میں آکر چھپا ہوا تھا ۔ملزم کے والد جسونت سنگھ کی گرفتاری کے بعد گورا کے بارے میں جانکاری ملی اور پولیس نے رنجیت سنگھ عرف گورا اور اس کے سالے بلونت سنگھ رشتہ ترلوک سنگھ اور گورا کے پتا رنجیت سنگھ پر کیس درج کیا ہے ۔پولیس نے ان پر ملزم کو پناہ دینے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے ۔پولیس کے مطابق پاکستان سے آئے 8 ٹفن بم کو بلوندر سنگھ اور سکھا نے رسیو کیا تھا ۔ایک بم کو ملزمان نے فیروز پور کی مارکیٹ میں لگا کر دھماکہ کیا تھا ۔اتفاق سے دوکانیں بند تھیں ۔بہرحال 15 ستمبر کو دوسرا بم بلوندر سنگھ اور اس کا دوست گرپریت سنگھ گورا جلال آباد میں بھیڑ بھاڑ میں بائک میں رکھ کر چھوڑنے جا رہا تھا ۔لیکن راستہ میں دھماکہ ہو گیا جس سے بلوندر کی موت ہو گئی اور سکھا فرار ہو گیا ۔جسے بعد میں پولیس نے گنگا نگر سے گرفتار کیا ۔اس کی جانچ کے بعد پتہ چلا باقی بم رنجیت کے پاس تھے ۔جو کہ بلوندر کا بھائی تھا اس بم میں ایک اپنے جیجا پروین کو دیا تھا ۔جس کو اس نے کھیت میں دبایا ہوا تھا پولیس نے اس کو برآمد کر لیاہے ۔16ستمبر کو رنجیت اسے لیکر اپنے سسرال لیکر اپنے گھر آگیا تھا لیکن بعد میں وہ وہاں سے چلا گیا تھا ۔
(انل نریندر)
یوروپ پھر کورونا کا مرکزبننے لگا!
یوروپ میں کورونا انفیکشن کے مریض مسلسل برھ رہے ہیں یہ تشویش کا موضوع ہے ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ فروری 2022 تک پورے یوروپ میں 5 لاکھ مزید لوگوں کے مارے جانے کا اندیشہ ہے ۔اس لئے ایک سال بعد یوروپ پھر کورنا کا مرکز بننے کی راہ پر ہے ۔فی الحال اس کا زیادہ تر حصہ انفیکشن سے لڑ رہا ہے ۔یوروپ میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر کینس بلوز نے کہا کہ یوروپ کے 52 ملکوں میں انفیکشن کا دوبارہ پھیلنا باعث تشویش ہے اگر یہ حالات جاری رہتے ہیں تو 2022 میں لوگوں کی اموات بڑھ سکتی ہیں ۔اور ایک ہفتہ میں 53 ملکوں میں کورونا کے سبب لوگوں کے اسپتال میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد بڑھی ہے ۔ابھی تک پچھلے سال کے مقابلے میں مرنے والوں کی تعداد 6 فیصدی زیادہ ہے اور پورے یوروپ میں اس ہفتہ 24 ہزارلوگوں کی موت ہوئی ہے ۔جرمنی امراض کنٹرول سینٹر راورٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران مسلسل مریض بڑھ رہے ہیں اور 154 مریضوں کی موت ہوئی ہے ۔قاہرہ حکومت نے کورونا روک تھام ٹیکہ نہ لینے والے لوگوں کے لئے پابندی کا اعلان کیا ہے اس کے ساتھ ہی سرکار نے تعمیل نہ کرنے والے کاروباریوں کے لئے بھی جرمانہ برھا دیا ہے ۔کورونا بڑھنے کی تین وجوہات ہیں ۔پابندی میں ویکسینیشن اور کورونا پروٹوکول کی تعمیل نہ ہونا بھی کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا سبب ہے ۔
(انل نریندر)
کوہلی -شاستری جوڑی کا دور ختم ہوا!
ٹی 20 ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کے دور سے پہلے ہی باہر ہو چکی ٹیم انڈیا نے اپنے آخری میچ میں نامیبیا کو 9 وکٹ سے ہرا دیا اسی کے ساتھ کوہلی اور شاستری کے دور کا اختتام ہو گیا ۔اس تکلیف دہ خاتمہ سے دیش کے کرکٹ شائقین کا مایوس ہونا فطری ہے ۔مگر متحدہ عرب امارات اور امان میں ہو رہے اس ورلڈ کپ میں بھارت کے سفر کے شروعات کو دیکھا جائے تو یہ غیر متوقع نہیں تھی ۔پاکستان اور نیوزی لینڈ سے دو ابتدائی میچوں میں ہارنے کے بعد بھی وراٹ کوہلی کے سامنے مشکلیں کھڑی ہو گئی تھیں اور اس کا دعویٰ تقریباً ختم ہی ہو گیا تھا ۔ا س مقابلے کے بعد اب ٹیم کو نیا کپتان اور نیا کوچ مل گیا ہے ۔اس کے بعد ہونے والے میچ کی پرفارمنس شاندار اور امید کے مطابق رہتی ہے ، اس کا انتظار کرنا ہوگا ۔دراصل پاکستان سے بری طرح ہارنے کے بعد سے یہ لگنے لگا تھا کہ اب ٹیم انڈیا اس صدمہ سے شاید ہی نکل پائے اور نیوزی لینڈ کے میچ نے یہ ثابت کر بھی دیا ہے ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ جس ٹیم نے انگلینڈ کے ساتھ گھریلو میچ میں شاندار پرفارمنس کی ہو اور ٹی 20 مقابلے کے درمیان میچ میں بہتری فارم میں تھی ۔وہ میچ شروع ہوتے ہیں بے پٹری ہو گئی ۔اس ہار کے بعد کپتان وراٹ کوہلی اور کوچ روی شاستری اور میٹنر کی شکل میں سابق کپتان مہیندر سنگھ دھونی کو لیکر سوال اٹھ رہے تھے ۔خاص کر وارٹ کوہلی کی ٹیم کو کچھ کھلاڑیوں سے عداوت اور ان بن چل رہی تھی ۔کلدیپ یادو جیسے اسپنرس کو ایک بھی میچ میں موقع نہیں دینا بھی ٹیم کی ہار کی بڑی وجہ بنی ۔کئی کھلاڑیوں کے کرم میں الٹ پھیر کرنے سے بھی ٹیم کی پرفارمنس پر اثر پڑا ۔بلے بازی ،گیند بازی اور فلڈنگ تینوں سیکٹروں میں ٹیم انڈیا کی پرفارمنس کو لیکر سنیل گواسکر اور وی وی ایس لکشمن جیسے کئی بڑے کرکٹر تشویش جتا رہے ہیں تو یہ سوچنے والی بات ہے ۔کہ گواسکر کے مطابق پاور پلے دوران جب تیس گج کے باہر صرف دو ہی کھلاڑی ہوتے ہیں تو ہندوستانی بلے بازوں کا رویہ مایوس کن رہا ۔ورلڈ کپ جیسے بے حد چیلنج بھرے مقابلے میں جہاں ایک ایک رن کی قیمت ہوتی ہے ۔بھارت نے پاکستان سے 152 رنوں اور نیوزی لینڈر کو محض 110 رن کا ہی ٹارگیٹ دیا تھا جو بہت ہی کم تھا یہ بھی مایوس کن ہے کہ ان دونوں دیشوں کے خلاف اپنے اہم میچوں میں ہندوستانی گیند باز صرف دو بلے بازوں کو آو¿ٹ کر سکے ایسے میں ٹیم کے سلیکشن کو لیکر بھی سوا ل اٹھے یہ غلط نہیں تھا ۔یقینی طور پر ایسے اہم میچوں سے باہر ہونے پر ٹیم کے کھلاڑیوں کا حوصلہ بھی کمزور ہوتا ہے مگر یہ حالت دکھائی پڑتی ہے کہ ٹیم انڈیا اور اس کے مینجمنٹ میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے چونکہ وراٹ کوہلی نے پہلے ہی ٹی 20 کپتانی چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا اور ٹیم کے کوچ روی شاستری کی پاری بھی ختم ہو گئی ہے ۔تو اس لئے اس میں بہتری ضروری ہے ورلڈ کپ سے ٹھیک پہلے آئی پی ایل جیسے تمغہ کی وجہ سے تو کہیں ٹیم کی پرفارمنس پر اثر نہیں پڑا؟ روی شاستری نے کہا کہ ٹیم انڈیا کے سبھی کھلاڑی دماغی طور پر تھک گئے ہیں انہیں سخت آرام کی ضرورت ہے ۔دیکھیں اب نئے کپتان اور نئے کوچ آگئے ہیں تو ٹیم انڈیا کی پرفارمنس پر کتنا اثر پڑے گا ۔
(انل نریندر)
11 نومبر 2021
عراق کے وزیر اعظم پر ڈرون حملہ !
عراق کے وزیر اعظم مصطفی القدیمی کے قتل کے ارادے سے ان کی رہائش گاہ پر مسلح ہتھیار بند ڈرون سے حملہ کیا گیا حالاں کہ اس میں وزیر اعظم کو کوئی نقصان نہیں پہونچا ۔ وہ محفوظ ہیں اس حملے نے پچھلے ماہ ہوئے مارلیمانی انتخابات کو ایران نواز ملیشیا کے قبول نہ کئے جانے سے پیدا کشید گی کو بڑھا دیا ہے۔ یہ حملہ بغداد کے بے حد محفوظ گرین زون میں وزیر اعظم کے سات سیکورٹی کمانڈ ون بھی زخمی ہو گئے ۔ حملے کے فورا ًبعد وزیر اعطم نے ٹویٹ کر کے کہا کہ ملک دشمن کے حملے سے سیکورٹی فورس عزم اور ادارے کو ہلا نہیں پائیں گے انہوں نے لکھا کہ میں ٹھیک ہوں اور اپنے لوگوں کے درمیان ہوں ۔ وہیں بغداد کے باشندوں نے گرین زون کی طرف دھما کے اور گولیوں کی آوازیں سنیں اس زون میں غیر ملکی سفارت خا نے اور دفتر بھی ہیں سرکار ی میڈیا کے ذریعہ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے قتل کی کوشش کے تحت وزیر اعظم کی رہائش گاہ کو نشانہ بنا یا گیا بہر حال کسی نے اس ڈرون حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ عراق کے پالیمانی چنا و¿ کے نتا ئج کو ایرانی ملیشیا نے مسترد کردیا اور تقریبا ایک مہینے سے گرین زون کے باہر ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں ۔ احتجاج جمع کو اس وقت خطرناک ہو گیا جب مظاہرین نے گرین زون کی طرف مارچ کیا اور سیکورٹی فورس اور مظاہرین میں فائرینگ ہوئی اور کئی لوگوں کی موت ہو گئی امریکہ نے القدیمی پر ہوئے ڈرون حملے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ یہ صاف طور پر دہشت گردی کا کا م ہے جس کی ہم مذمت کر تے ہیں ۔امریکی محکمہ کے تر جما ن نے کہاکہ ہم عراق کی سر داری اور آزدی بنا ئے رکھنے کیلئے عراقی فو رس سے رابطے میں ہیں اور اس حملے کی جانچ کی امریکہ مدد کی پیش کش کی ۔ امریکہ ،اقوام متحدہ سلا متی کونسل اور دیگر نے عراق میں ہوئے چنا و¿ کی تعریف کی ہے جو زیا دہ تر بلا کسی تکنیکی خرابی کے ساتھ ٹھیک ٹھا ک تکمیل پائے تھے ۔
(انل نریندر)
اب خود نواب ملک کٹگھرے میں!
مہا راشٹر میں وزیر اور این سی پی لیڈر نواب ملک کے ذریعے آرین خان معاملے میں نر کوٹکس کنٹرول بیورو کے ممبئی زون کے ڈائریکٹر ثمیر وانکھڑ ے پر لگائے گئے تمام الزامات پر ان کے والد دھیان دیو وانکھڑے نواب ملک کے خلاف عدالت پہونچ گئے اور ان پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے ۔ اس سے پہلے اتوار کو نواب ملک نے الزام لگا دیا تھا کہ ثمیر وانکھڑے شاح رخ خان کے بیٹے آرین خان کو زر فدیہ کیلئے اغوا کر نے کی سازش میں شامل تھے اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بھا جپا نیتا موہت بھار تی اس سازش کے ماسٹر مائنڈ تھے ۔ ثمیر کے والد دھیا ن دیو وانکھڑے نے اتوا ر کو ممبئی ہا ئی کو رٹ جا کر نواب ملک کے خلاف مقدمہ داخل کر کے پہلی جوابی کا روائی کی اس کے بعد ملک نے یہ بھی الزام لگایا کہ ثمیر وانکھڑے نے اپنی مذہبی شناخت کو چھپا نے اور فرضی ذات سرٹیفیکٹ کے ذریعے نوکری حا صل کی ۔ اور یہ بھی بتا یا کہ آرین خان کے اغو ا کر نے جال بھاجپا نیتا بھارتیہ کے رشتہ دار ریشبےھ سچدیوا کے ذریعے بنا گیا تھا رہا ئی کے بدلے 25کروڑ مانگے گئے تھا اور سودا 18کروڑ میں طے ہو ا اور اس میں سے 50لا کھ کی ادائگی بھی کی گئی حالاں کہ بات اس وقت بگڑ گئی جب این سی بی کا گواہ گوساوی کی آرین کے ساتھ لی گئی سیلفی وائر ہو گئے اب جب ہتک عزت کا کیس درج ہو گیا ہے تو نوا ب ملک کو اسے ثابت کر پڑیگا جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی صاف ہو جائے گا ۔
(انل نریندر )
نوٹ بندی کے پانچ سال!
وزیر اعظم نریند رمودی نے8نومبر 2016کو جب آدھی رات سے 500اور 1000روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا تو ان کے ایسا کر نے کے پیچھے کچھ وجوہات بتائی تھی ۔ان میں بلیک منی پر روک اور دہشت گردی اور نکسلیوں کے پیسے کے وسائل پر روک لگے اور پیسے کے ڈیجیٹل لین دین کو بڑھا وا دینے کی خاص وجہ تھی۔ پیر کے روز نوٹ بندی کے پانچ سال پورے ہوگئے ۔اس دوران پیسے کا ڈیجیٹل لین دین تو ہوا لیکن بلیک منی نہ تو ختم ہوئی اور نہ ہی دہشت گردی اور بڑھ گئی ۔ نوٹ بندی سے دیش بھر میں سو سے زیادہ کنبے اجڑ گئے ۔مڈل کلاس خاتون کی زندگی بھر کی جمع پونجی نکل گئی ۔ بینکوں کے باہر نئے نوٹ لینے کیلئے لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئی ۔ کچھ نے تو وہاں دم توڑ دیا لاکھوں پریوار سڑ ک پر آگئے اور رہی بات چلن نوٹوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ آر بی آئی کے تازہ تفصیل کے مطابق قیمت کے حساب سے 4نومبر 2016کو 17.74لاکھ کروڑ روپے کے کرنسی نوٹ چلن میں تھے جو 29اکتوبر 2021کو بڑھ کر 29.17لاکھ کروڑ روپے ہوگئے ۔ آربی آئی کے مطابق 30اکتوبر 2020تک چلن میں نوٹوں کی مالیت 26.88لاکھ کروڑ تھی ۔ ایسے ہی 29اکتوبر 2021تک اس میں 2,28,963کروڑ روپے کا اضافہ ہو گیا ۔ دراصل کوڈ 19وبا ءکے دوران لوگوں نے احتیا ط کی شکل میں نقدی کو بچائے رکھنا بہتر سمجھا ۔ اسی وجہ بینک نوٹ پچھلے مالی برسوں کے دوران بڑھ گئے نوٹ بندی کے پانچ برسوںبعد نقدی کا چلن ضرور بڑھا ہے لیکن اس دوران ڈیجیٹل لین دین بھی تیزی سے ہوا ہے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ڈیبٹ -کریڈٹ کارڈ نیٹ بینکنگ اور پیمنٹ ٹرانسفر میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ادائیگی کا سورس یوپی آئی ایک اہم ذریعے کی شکل میں تیزی سے ابھر رہا ہے ۔ ان سب سے باوجود چلن میں نوٹوں کا بڑھنا جاری ہے اسے آسان لفظوں میں کہا جائے تو معیشت میں نقدی کا بول بالا ہے ۔ کورونا کے چلتے لگے لاک ڈاو¿ن میں لوگوں نے اپنے پاس نقدی کیش رکھا تاکہ روزمر ہ کا سامان خرید اور دواو¿ں کو حاصل کرنے پر بل ادا کر سکیں ۔ تہواری سیزن میں بھی نقدی کی مانگ بنی رہی اور زیادہ تر دکانداروں نے نقدی لین دین پر ہی کاروبار کیا۔ نقدی کی چلن میں اضافہ کی ایک باقاعدہ معیشت بن گئی ہے۔ اور چھو ٹے کاروباری ڈیجیٹل لین دین سے بچتے ہیں انہیں سامان کم مقدار میں چاہئے ہو تا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ڈیجیٹل لین دین میں پیسہ پانے کیلئے بینکوں کی مدد لینی پڑتی ہے جہاں وہ کٹوتی کر تے ہیں ۔ دوسری طرف بلیک منی رکھنے والوں کیلئے ڈیجیٹل لین دین آسان ہوگیا ہے کیوں کہ انہیں اب دو ہزار روپے کا نوٹ مل جا تا ہے اور وہ آ سانی سے رکھ سکتے ہیں ۔ کل ملاکر نوٹ بندی کے نقصان ،فائدہ سے زیا دہ ہوا ہے ۔ آج جو ہماری معیشت کی حا لت ہے اس کے پیچھے نوٹ بندی ایک بہت بڑا پہلوں ہے۔
(انل نریندر)
10 نومبر 2021
مہاراشٹر کے سابق وزیرداخلہ گرفتار!
ممبئی کی اسپیشل عدالت (وکیشن ) نے شنیچر کو مہاراشٹر کے سابق وزیرداخلہ انل دیشمکھ کو مبینہ طور پر اساسہ جمع کرنے کے معاملے میں 14 دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا ہے اور معاملے کی جانچ انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے سابق وزیرداخلہ انل دیشمکھ کی 9 دن کی اور حراست مانگی تھی لیکن عدالت نے جانچ ایجنسی کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے انہیں جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا ۔پیر کو جانچ ایجنسی نے دیر رات 11 گھنٹے تک پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کیا تھا ۔عدالت نے منگلوار کو ان کو حراست میں بھیج دیا تھا ۔ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کے ذریعے کرپشن کا الزام لگائے جانے کے بعد سی بی آئی نے مقدمہ درج کیا تھا اسی بنیاد پر بعد میں دیشمکھ اور دیگر کے خلاف پیسہ اکٹھا کرنے کا معاملہ درج کیا گیا تھا ۔ای ڈی نے سی بی آئی کے ذریعے 21 اپریل کو این سی بی کے نیتا کے خلاف ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد دیشمکھ اور ان کے ساتھیوں کےخلاف جانچ شروع کی تھی ۔سی بی آئی نے دیشمکھ پر کرپشن اورسرکاری عہدہ کا بیجا استعمال کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی ان پر الزام ہے ریاست کے وزیرداخلہ ہوتے ہوئے اپنے سرکار ی عہد ہ کا بیجا استعمال کیا ۔برخواست پولیس افسر سچن واجے کے ذریعے ممبئی کے مختلف بار اور ریستوراں سے 4.71 کروڑ سے زیادہ روپے اکھٹے کئے گئے ۔ایسا بہت کم ہے جب کسی سابق وزیر داخلہ پر اتنے سنگین الزام لگے ہیں اور انہیں جیل بھیجا جائے نہیں تو سیاست داں سب کچھ کرکے بھی معاملے سے باہر نکل جاتے ہیں ۔ایسا اور بھی کم ہوا ہے جب ریاست کے پولیس کمشنر نے اپنے ہی وزیرداخلہ پر پیسہ اکٹھا کرنے کے سنگین الزام لگائے ۔قانون سب کے لئے برابر ہے اس معاملے سے ثابت ہوتا ہے کہ قانون سے کوئی اوپر نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
سب کاکچا چٹھا میرے پاس ہے!
پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے آخر کار کانگریس چھوڑ اپنی نئی پارتی بنانے کا اعلان کر دیا ہے ان کی پارٹی کا نام پنجاب لوک کانگریس ہوگا ۔کیپٹن نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو بھیجے اپنے 7 صفحات پر مبنی استعفیٰ نامہ میں جہاں اپنے سیاسی کیریئر کا ذکر کیاہے وہیں اس بات کے بھی اشارے دئیے ہیں کہ کانگریس کی دکھتی رگ کو دباتے رہیں گے ۔استعفیٰ نامہ میں کیپٹن نے پنجاب کانگریس کے کئی وزراءاور ممبران اسمبلی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور الزام لگایا اور ان کی (کیپٹن )سرکار میں ریت اور بجری کی ناجائز کھدائی میں کانگریس کے کئی وزیراور ممبر اسمبلی شامل تھے جو آج بھی حکومت میں ہیں ۔کیپٹن نے سونیا گاندھی سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سمیت ہریش راوت اور نوجوت سنگھ سدھو پر بھی نکتہ چینی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ناجائز کھدائی کے مسئلے پر کانگریس کے لئے پریشانیاں کھڑی کر سکتے ہیں ۔کیوں کہ کیپٹن نے قریب ایک سال پہلے پنجاب اسمبلی میں کچھ دستاویز دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس ناجائز ریت کا کاروبار کرنے والوں کا کچا چٹھا موجود ہے ۔یہ وہ رپورٹ ہے جو انہیں وزیر داخلہ کے ناطے انٹیلی جینس نے دستیاب کرائی تھی ۔ریت اور بجری کے ناجائز کھدائی میں شامل وزراءاور ممبران اسمبلی کے بارے میں کیپٹن نے لکھا ہے کہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ صرف اس وجہ سے ان وزراءاور ممبران اسمبلی پر کاروائی نہیں ہوئی تاکہ کانگریس پارٹی کی بدنامی نہ ہو پارٹی کو شرمندگی نہ اٹھانی پڑے ۔یہ لوگ آج بھی سرکار میں شامل ہیں کیپٹن نے اپنے استعفیٰ میں کئی اشو اٹھائے ہین ۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کیپٹن اب دھمکیوں پر اتر آئے ہیں لیکن نوجوت سنگھ ان پر حملوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔پنجاب کے وزیرداخلہ نے کیپٹن کی پاکستانی دوست کے معاملے میں جانچ کے احکامات جاری کئے ہیں اس سے بھی کیپٹن ناراض ہیں ۔
(انل نریندر)
بڑھ رہی ہے کورونا کی شرح!
6 دن سے دہلی میں بڑھ رہا انفیکشن شرح دیکھ کر یہ سوال کھڑا ہو رہا ہے کہیں یہ تہواروں کے سیزن میں بازاروں میں بڑھی بھیڑ اور چہرے سے غائب ماسک کا اثر تو نہیں ہے ؟ پچھلے تین دنوں سے راجدھانی دہلی میں کورونا مریض بڑھ رہے ہیں ۔کنٹینمنٹ زون میں ایک ہفتہ سے اضافہ ہو رہا ہے اور سرگرم کیس بھی بڑھتے نظرآرہے ہیں اور اسپتال و ہوم آئیسولوسن میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اب شادیوں کا سیزن شروع ہونے جا رہا ہے۔ راجدھانی میں 5 نومبر سے انفیکشن شرح 0.14 فیصد درج کی گئی تھی ۔دو مہینہ بعد اتنا انفیکشن درج ہوا ۔6 نومبر کو یہ 0.10 رہا اور 7 نومبر کو 0.11 فیصد دیکھا گیا ۔7 دن سے کنٹین منٹ زون بڑھ رہے ہیں دہلی سرکار کے کل سرکاری بلوٹن کے مطابق کنٹینمنٹ زون بڑھ کر 116 ہو گئے ہیں ۔سرگرم کیس 305 پر آگے ہیں ۔ایمس کے سابق ڈائرکٹر ڈاکٹر ایس پی دکشا کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو کیس بڑھ سکتے ہیں حالانکہ دہلی میں بڑھی آبادی متاثر ہو چکی ہے ۔2سرا ڈوز 38 فیصد سے زیادہ لوگ لگوا چکے ہیں اور حال ہی میں سیرو سروے میں 90 فیصد سے زیادہ لوگوں میں اینٹی باڈیز پائی گئی تھی ۔لیکن ان سب کے باوجود مریضوں میں اضافہ کو نظر انداز نہیں کی جا سکتا ۔لوگوں کو پروایہ سے بچنا چاہیے اور کورونا پروٹوکول کی سخطی سے تعمیل کرانی چاہیے ۔ابھی دہلی کو کووڈ سے تھوڑی راحت ملی تھی کہ آلودگی نے مصیبت کھڑی کر دی ہے ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے آلودگی کی وجہ سے نہ صرف کووڈ انفیکشن کو بڑھنے میں مدد ملے گی بلکہ بیماری بھی زیادہ ہوگی اور وینٹی لیٹر سپورٹ میں بھی زیادہ مریض آسکتے ہیں ۔اس معاملے کو لیکر ایمس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے بھی اپنے بیان میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جب آلودگی بڑھتی ہے تو کورونا وائرس زیادہ وقت تک ہوا میں رہ سکتا ہے ۔جہاں پر آلودگی زیادہ ہوگی وہاں پر کورونا کا زیادہ خطرہ ہے ۔کورونا وائرس آلودگی کے ذرات کو سما لیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ ہوا میں زیادہ دیر تک رہ سکتے ہیں ۔کورونا اور آلودگی ایک ساتھ ہونے پر بیماری کے ڈبل اٹیک کا خطرہ بنا رہتا ہے ۔اس پر اسٹڈی ہوئی ہے یہ زیادہ وقت تک ہوا میں رہ جاتا ہے ۔آلودگی بڑھے گی تو کورونا وائرس کے بڑھنے کے زیادہ چانس ہیں ۔اس وقت لوگوں کو بچاو¿ پر زیادہ توجہ دینی چاہیے گھر سے باہر نکلنے پر ماسک لگانا ضروری ہے ۔کووڈ قواعد کی تعمیل کریں ایک انگریزی میں کہاوت ہے ۔پرونشن از بیٹر دین کیور!
(انل نریندر)
09 نومبر 2021
زن پنگ کی تانا شاہی !
چین میں 27 سالہ عورت کو مہا پرش کے خلاف متنازعہ تبصرہ کرنے کے معاملے میں 7 مہینے کی قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔زو نامی اس خاتون نے کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر ڈونگ منسئی کا مزاق اڑایا تھا ۔چین کے اسکولی کتابوں میں ڈونگ منسئی کو جنگ کے ہیرو کا لقب حاصل ہے ان کی شہادت کی وجہ سے 1949 میں چینی کمیونسٹ پارٹی کو اقتدار ملا تھا ۔دراصل اس خاتون کو چین کے شہیدوں اور ہیروز کو بدنامی پر سزا کے نئے قانون کی خلاف ورزی کا مستحق مانا گیا ہے ۔یہ قانون صدر زن پنگ کی سخط کاروائی کا حصہ ہے اس کا مقصد کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ اور ان کے نیتاو¿ں پر تاریخی مباحثوں پر پابندی لگانا ہے ۔چین کے سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن نے شہریوں کو کمیونسٹ پارٹ کے سورماو¿ں کی بے عزتی یا مزاق اڑانے والے لوگوں کے خلاف شکایت کرنے کے لئے آن لائن ہاٹ لائن بھی شروع کی ہے ۔ساتھ ہی انتظامیہ نے دس لوگوں کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے جس پر پبلک طور پر بحث کے لئے منع کیا گیا ہے ۔کوریہ جنگ کے دوران ا مریکی حملے میں ماو¿ٹم مارے گئے تھے چونکہ انہوں نے تلا ہوا چاول بنانے کے لئے ایک اسٹوب جلایا تھا اسی وقت امریکہ نے ہوائی حملہ کردیا تھا بیجنگ کے ایک سرکردہ سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ پابندیاں ایک مکمل سیاسی دباو¿ کے قیام کا اشارہ ہیں۔
(انل نریندر)
چھٹھ پوجا کو لیکر سیاست!
عقیدت کا مہا پرو چھٹھ پوجا قریب ہے اس کو لیکر بازاروں میں چھٹھ پوجن سامان سے دوکانیں سج چکی ہیں ۔لوگ چھٹھ پوجا کی تیاری میں اور بازاروں میں چہل پہل سے رونق بڑھ گئی ہے ۔لیکن چھٹھ پوجا کر لیکر سیاست بھی شروع ہو گئی ہے ۔جب عام آدمی پارٹی نے بھاجپا پر پروانچلیوں کو پوجا کے لئے جاری گھاٹ تیار نہ کرنے دینے کا الزام لگایا ۔عآپ نے بھاجپا سے گندی سیاست بند کرنے اور لوگوں کو راجدھانی میں چھٹھ پوجا منانے میں دخل نہ دیں ۔پارٹی دفتر میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں ممبر اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ اگر بھاجپا چھٹھ پوجا پر گندی سیاست جاری رکھے گی تو پروانچلی انہیں معاف نہیں کریں گے ۔غور طلب ہے کہ ڈی ڈی اے میں اس سال جمنا ندی کے کنارے چھٹھ پوجا کے انعقاد پر روک لگا دی ہے ۔اور کہا کہ راجدھانی میں چھٹھ پوجا کرنے کی اجازت جمنا کناروں کو چھوڑ کر دیگر جگہوں پر ہوگی ۔ادھر اس کے بعد دہلی کے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل سے جمنا کناروں پر چھٹھ پوجا کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے ۔سنجیو جھا نے الزام لگایا کہ بھاجپا اب چھٹھ پوجا تقریبات کا انعقاد ڈی ڈی اے و ایم سی ڈی کی زمین پر کرنے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے ۔وہیں دہلی بھاجپا کا الزام ہے کہ وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی موجودگی میں فیصلہ لے کر دہلی قدرتی آفات کمیٹی نے پچھلے ماہ دہلی میں چھٹھ پوجا پر روک لگانے کا اعلان کیا تھا جس سے عام آدمی پارٹی کی سیاست بدنام ہوئی اور مشرقی دہلی میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے اس معاملے میں دہلی بھاجپا کے جنرل سکریٹری دنیش پرتاپ سنگھ ادتیہ جھا وغیرہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھاجپا کے پروانچل سے جڑے نیتاو¿ں کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف ایم سی ڈی اور ڈی ڈی اے اچھا کام کررہی ہے وہین عآم آدمی پارٹی کے درگیش پاٹھک ،بھارتی سنجیو جھا،دلیپ پانڈے جیسے نیتا گمراہ کن پروپیگنڈہ اور بیان بازی کر چھٹھ پوجا سے پہلے دہلی میں کشیدگی پیدا کرنے میں لگے ہیں ۔ویدھ کے مطابق بھگوان بھاسکرکی مانس بہن پٹھی دیدی ہے ۔جنہیں ندی مئیا سے مخاطب کرتی ہیں ۔قدرت کے انس سے شکٹھی ماتا پیدا ہوئیں تھیں ۔انہیں بالکوں کی رکشا کرنے والا بتایا گیا ہے ۔بالک کے جنم سے چھ دن بعد بھی اوبھیا کی پوجا ارچنا کی جاتی ہے ہم امید کرتے ہیں کہ چھٹھ پوجا پر سیاست نہ ہونی چاہیے اور اس مسئلے کا بلا تاخیر حل کریں ۔چھٹھ پوجا کی سبھی کو بدھائی!
(انل نریندر)
آرین معاملے سے ثمیر وانکھیڑے کی چھٹی!
نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) ممبئی کے زونل ڈائرکٹر ثمیر وانکھیڑے کروز ڈرگس معاملے کی جانچ سے ہٹا دئیے گئے ہیں ۔اس معاملے میں آرین خان کو این سی بی نے گرفتار کیا تھا اب معاملے کی جانچ ان کی جگہ این سی بی دہلی ہیڈ کوارٹر میں تعینات ڈی ڈی جی سنجے کمار سنگھ کریں گے اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے وزیرنواب ملک کے داماد سے جڑے اس معاملے سمیت چھ کیس وانکھیڑے کی جگہ دہلی ٹیم کو سونپ دئیے گئے ہیں ۔دہلی ٹیم نے اپنا کام سنیچر سے شروع کر دیا ہے ساو¿تھ ویسٹ زون کے ڈی ڈی جی مکا اشوک جین نے بتایا کہ ان چھ معاملوں کی جانچ دہلی ٹیم کو سونپنے کا حکم این سی بی کے ڈائرکٹر جنرل ایس این پردھان نے دیا ہے ۔وانکھیڑے کے خلاف رشوت اور جبراً وصولی کے مبینہ کیس کی جانچ شروع کی گئی جس کے ایک ہفتہ بعد تفتیشی ٹیم سے انہیں ہٹا دیا گیا ۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی افسر کو موجودہ کام کاج سے نہیں ہٹایا گیا ہے اور جب تک اس کے متبادل کوئی خاص حکم نہیں دیا جاتا تب تک وہ ضرورت کے مطابق برانچ کی جانچ میں مددگار بنے رہیں گے ۔این سی بی پچھلے 15 مہینوں سے سرخیوںمیں ہے ۔14 جون 2020 کو اداکار شسانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد اگست 2020 میں اس کیس کی جانچ ڈرگس کے اینگل سے شروع ہوئی ۔وہیں سے این سی بی کے تیور بدل گئے ۔2017-18 اور 2019 یعنی تین سال میں جس ایجنسی نے کل ملا کر 90 کیس درج کئے تھے اور 143 لوگوں کو گرفتار کیا تھا اسی ایجنسی نے جون 2020 سے ستمبر 2021 تک 15 مہینوں میں ہی 129 کیس درج کر ڈالے اور 279 گرفتاریاں کیں ۔چوکانے والی بات یہ ہے کہ اس دوران کئی مشہور ستاروں پر این سی بی (ثمیر وانکھیڑے نے شنکجہ کشہ اور انہیں لپٹ لیا اور وہ اہم رول میں تھے )دیپیکا پاڈوکون ،کرن جوہر ،شردھا کپور ،سارا علی اور بھارتی سنگھ ،ارجن رامپال ،آرین خان اور اننیا پانڈے شامل ہین ۔بتادیں قاعدہ کیا کہتا ہے ۔چرس گانجا ،ہیروئین جیسی 237 طرح کی نشیلی چیزوں کو بیچنا ،خریدنا ،رکھنا ،کھیتی کرنا اور اس کو کھانا سب غیر قانونی ہے ۔ڈرگس پارٹی کے بعد سے ہی وانکھیڑے پر الزاموں کا دور شروع ہوا ۔ممبئی ہائی کورٹ نے آرین کو ضمانت دے دی اور اس پر جو الزام لگائے گئے تھے وہ سب خارج کر دئیے گئے ۔ثمیر نواب ملک کے نشانہ پر آگئے جب کے ان کے داماد پر بھی وانکھیڑے نے کیس درج کر جیل میں ڈالا ہوا ہے ۔وانکھیڑے کے خلاف مسلسل انکشاف کر رہے این سی بی لیڈر نے کہا ان کے خلاف 26 معاملوں کی شکایت آئی تھی اس لئے ان سبھی کی الگ الگ جانچ ہونی چاہیے ابھی تو یہ شروعات ہے آگے کیا کیا ہوتا ہے ؟سسٹم صاف ستھرا بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ادھر دہلی سے آئی ٹی ٹیم جس کی قیادت آئی پی ایس افسر سنجے کمار سنکھ سے یہ پوچھے جانے پر کیا معاملوں کی دوبارہ جانچ ہوگی تو ان کا کہنا تھا آگے کی جانچ ہوگی کسی بھی افسر کو ان کے موجودہ کام کاج سے نہیں ہٹایا گیا ہے اور جب تک اس کے برعکس کوئی آرڈر نہیں کیا جاتا تب تک وہ ضروت کے مطابق اپنا کام جاری رکھیں گے اور جانچ میں بھی مدد دیں گے ۔
(انل نریندر)
07 نومبر 2021
جیتے جی نہ دیں کبھی بچوں کو اپنی جائیداد !
صنعت کار وجے پا ل سنگھانیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں جو سب سے بڑا سبق سیکھا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ کسی کو زندہ رہتے اپنی جائیداد اپنے بچوں کو دیتے وقت چوکس رہنا چاہئے ۔ ریمانڈ گروپ کے سابق چیئر مین نے اپنی سوانح حیات میں ”ان کمپلیٹ لائف “میں اپنے بچپن سے لے کر ریمنڈ میں گزارے کئی دہائیوں اور اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں لکھا ہے کہ پریوار کے افراد کے درمیان جائیداد کو لیکر ہوئے تنازع میں فروری 2005میں سنگھانیا کو اپنا کام اور گھر چھوڑنا پڑا تھا انہوں نے جو کھویا تھا اسے پانے کے لئے وہ آج بھی جدو جہد کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے تجربے سے میں نے سب سے بڑا سبق سیکھا ہے کہ اپنی جائیدا اپنے زندہ رہتے وقت دیتے وقت اپنی اولاد کو احتیاط برتنی چاہئے آپ کی جائیدا د آپ کے بچوں کو ملنی چاہئے ۔ لیکن آپ کی موت کے بعد میں نہیں چاہتا کہ کسی ماں باپ کو یہ پریشانی جھیلنی پڑے جسے میں ہر دن گزرتا ہوں اب سب کچھ اولاد کے اوپر منحصر ہے مجھے میرے دفتر جانے سے روک دیا گیا جہاں اہم ترین دستاویز موجود ہیں ۔ اور دیگر سامان جو میرا ہے اپنی کتاب میں سنگھانیا آگے لکھتے ہیں کہ ممبئی اور لندن میں مجھے اپنی کار چھوڑنی پڑی یہ میں اپنے سکریٹری سے رابطہ نہیں قائم کر سکتا ہے ایسا لگتا ہے کہ ریمانڈ کے ملازمین کو سخت ہدایتیں ہیں کہ وہ مجھ سے بات نہ کریں بہر حال مشہور سنگھانیہ خاندان میں پیدا سنگھانیہ سے یہی امید کی جاتی تھی کہ وہ اپنا خاندانی کارو بار سنبھالے رہیں گے لیکن کوئی انہیں ان کی اس کی ان کی مرضی سے کام کرنے سے نہیں روک سکا اور انہوں نے پائیلٹ کے طورپر آسمان میں دو ورلڈ ریکارڈ قائم کئے اور کچھ وقت کے لئے وہ پروفیسر بھی رہے ۔
(انل نریندر)
وانکھڑے پیدائشی مسلم ہے نوکری کےلئے فرضی دستاویز دیئے؟
راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے نیتا اور مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نے اتوار کو کہا کہ وہ اپنے دعوو¿ں پر قائم ہیں اور این سی بی کے زونل ڈائریکٹر ثمیر وانکھڑے پیدائشی مسلم ہیں نوکری پانے کے لئے فرضی سر ٹیفکٹ پیش کیا تھا اخبار نویشوں سے بات چیت میں نواب ملک نے کہا کہ وہ ذات یا مذہب کی لڑائی نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ جعل سازی کے ذریعے سر ٹیفکٹ پر سرکار نوکری حاصل کرنے کےلئے پیش کئے نواب مالک پچھلے کئی دنوں سے وانکھڑے کی سر براہی میں این سی بی ٹیم نے اس مہینے کی شروعات نے کروز پارٹی پر چھاپہ ماری کی تھی اور مبینہ طورپر نسیلی چیزیں بر آمد ہوئی تھیں وزیر موصوف نے بار بار دعویٰ کیا ہے کہ 2اکتوبر کوکروز جہاز پر کی گئی کاروائی فرضی تھی چھاپے کے دوران اداکار شارخ خان کے بیٹے آرین خان سمیت کئی لوگوں کو پکڑا گیا تھا ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ بھلے ہی وانکھڑے مسلم تھے لیکن جب انہوں نے ممبئی ہوائی اڈے پر کچھ بالی ووڈ ہستیوں کو روکا تب سر خیوں میں آنے کے بعد 2015میں اپنی پہچان بدلنی شروع کر دی اور اپنے سوشل میڈیا اکاو¿نٹس پر داو¿د وانکھٹرے ، اور ڈی کے وانکھڑے اور بعد میں گیان دیو بنے یاسمین وانکھڑے جو ان کی بہن جیثمین بن گئی اور اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی جو ایک مسلم ہے اور اب یوروپ میں بس گیا ہے ۔ ملک نے نیشنل او بی سی کمیشن کے وائس چیئر مین انوپ ہل در کے اس بیان پر بھی اعتراض جتایا کہ وانکھڑے نے کبھی مذہب نہیں بدلا ہلدر بھلے ہی بھارتی جنتا پارٹی کے نیتا ہوں لیکن ان کی تقرری آئینی عہدے پر ہوئی ہے انہیں میڈیا کے سامنے آنے اور یہ رائے زنی کرنے کے بجائے ثمیر وانکھڑے نے مذہب تبدیل نہیں کیا ۔ انہیں کیا جانکاری دی گئی ہے اس کے سبھی پہلو¿ں پر ویری فیکیشن کرنا چاہئے اور اپنی رپورٹ تیار کرنی چاہئے اس کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کر نا چاہئے ۔ کوئی شخص جو کمزور برادری سے نہیں ہے وہ فائدے کا دعویٰ نہیں پیش کر سکتا ۔ ثمیر وانکھڑے نے کبھی مذہب نہیں بدلا کیونکہ وہ پیدائشی مسلمان ہیں ادھر این سی اے سی سی کے صدر وجے سانپلا سے ثمیر وانکھڑے نے ملاقات اور اس کے بعد سانپلے نے بتایا کہ ان کے ذریعے دستاویز کی تصدیق مہاراشٹر سرکار سے کرائی جائے گی اور ان کے جائز پا ئے جانے پر وانکھڑے کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی وانکھڑے اپنے پہلی کے شادی کے طلاق دستاویز اور دیگر پیدائشی سر ٹیفکٹ اور کچھ دستاویز سونپے ہیں ۔
(انل نریندر)
پیٹرول -ڈیزل قیمتیں گھٹانے کا سیاسی فیصلہ ؟
مرکزی حکومت نے دیوالی کے موقع پر پیٹرول -دیزل پر یکسائز ڈیوٹی گھٹا دی ہے پچھلے تین برسوں سے پہلی بار یکسائز میں کٹوتی کی گئی ہے اور ساتھ ہی روز برو ز بڑھتے تیل کے داموں کی وجہ سے بڑھی مہنگائی سے پریشان عوامو کو لمبے عرصے بعد بقدر راحت ملی ہے ۔ پیٹرول پا یکسائز ڈیوٹی 5روپئے اور ڈیزل پر دس روپئے کم کر دئیے گئے ہیں اس کے بعد بھاجپا حکمراں کئی ریاستوں میں بھی تخفیف کا اعلان کیا گیا ۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ لوک سبھا کے تین اور ودھا ن سبھا کی 29سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناو¿ کے نتائج آنے کے دو دب بعد لیا گیا نتیجوں کے جائزے میں کہا گیا کہ لوگ پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے ناراض ہیں ۔ ایسے میں قیاس آرئیاں ہونے لگی ہیں کہ کہیں ان نتیجوں سے تو یہ فیصلہ تو نہیں لیا گیا کیونکہ اگلے سال پانچ ریاستوں میں چناو¿ہونے والے ہیں جس کے لئے سر گرمی بڑھ چکی ہے اگلے سال کے چناو¿ سب سے اہم بتائے جا رہے ہیں ۔ بی جے پی کے ایک نیتا سنیل چوٹالہ نے کچھ دنوں پہلے ہی مرکزی وزی پیٹرولیم کو ایک خط لکھا تھا انہیں کچھ اسباق سے سیاسی تجزیہ کٹوتی کے اس فیصلے کے پیچھے ایک سیاسی حکمت عملی کو دیکھ رہے ہیں تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کو پانچ اہم اسباب سے مودی سرکار کا یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے ۔ پہلا یہ دکھانا کہ مودی کو عام جنتا کی فکر ہے ۔ دوسرا : مرکزی سرکار ٹیکس گھٹاتی ہے لیکن ریاستیں نہیں گھٹاتی ہے ۔ ایسے میں اسے لوگوں کی ہمدردہ مل سکتی ہے ۔ تیسرا: بی جے پی کے لئے اتر پردیش کا چناو¿ بہت اہم ہے ، تو ایسے میں لوگوں کی چناوی وقت میں ناراضگی اسے مہنگی پڑ سکتی ہے ۔ چوتھا: ضمنی چناو¿ کے نتیجے اور پانچواں کورونا وبا سے پریشانی کے درمیان بڑھتی مہنگائی جس نے جنتا کی کمر توڑ دی ہے ابھی تک مودی سرکار نے لوگوں کی ناراضگی پر توجہ نہیں دی ۔ مگر اب شاید اسے احساس ہو رہا ہے کہ عام لوگوں کی ناراضگی کو کم کرنا ضروری ہے حالیہ ضمنی چناو¿ میں بھاجپا کو معمولی فائدہ ہوا ہے اور اسے آٹھ سیٹیں ملی ہیں پہلے سے دو زیادہ مگر ہماچل پردیش اور مغربی بنگال میں اسے زبردست جھٹکا لگا ہے ۔ کرناٹک میں بھی پارٹی کے وزیر اعلیٰ باسو رائے بومئی کے ضلعے میں ہار گئی ہے ۔ ضمنی چناو¿ کے نیتجے بھاجپا کی توقع کے مطابق نہیں رہے اس لئے مرکزی حکومت نے یقینی طور پر ان نیتجوںسے سبق لیا ہے ۔ بھاجپا ضمنی چناو¿ میں ناکام رہی ہے یہ فیصلہ اس ڈر سے لیا گیا کہ کہیں قلعہ ہاتھ نہ نکل جائے ۔ ایک طرف سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بھاجپا نے ان ضمنی چناو¿ میں اپنا گڑھ گنوا دیا تووہ اس لہر کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ 2022میں اتر پردیش ، اتراکھنڈ ، پنجاب ، گوا اور منی پور میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ اہم اتر پردیش کے چناو¿ ہیں کیونکہ کہا جاتا ہے کہ دہلی کا راستہ یوپی سے ہوکر ہی جاتا ہے ۔ گوا اترا کھنڈ بی جے پی کےلئے 2024میں عام چناو¿ کے حساب سے اہمیت رکھتے ہیں جب کہ اتر پردیش میں چناو¿ دو رنہیں اور لوگوں کی ناراضگی وہ نہیں جھیل سکتی کیونکہ ان کی آنچ دہلی تک آسکتی ہے ۔ اس لئے چناو¿ سے پہلے وہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی ہے جس سے لوگوں کی ناراضگی بڑھے لیکن دیپوالی پر ہی کیوں یہ اعلان کا وقت اہم اس لئے ہے کہ لوگ اپنی پریشانی بھول کر تیہوار مناتے ہیں ایسے وقت میں دی گئی راحت لمبے وقت تک یاد رہتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...