Translater

Dawood Ibrahim لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dawood Ibrahim لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

01 دسمبر 2011

ممبئی انڈر ورلڈ ہمیشہ میڈیا کا استعمال کرتا رہا ہے


Published On 1st December 2011
انل نریندر
کچھ سال پہلے مدھر بھنڈارکر کی ایک فلم آئی تھی ''پیج تھری'' اس میں کرائم رپورٹر بنے اتل کلکرنی پیج تھری بیٹ کرنے والی مہلا رپورٹر سے کہتا ہے کہ اچھی رپورٹنگ ہوتی ہے تو وہ صرف کرائم رپورٹنگ ہوتی ہے ۔ تم جو کرتی ہو اسے انٹرٹینمنٹ کہتے ہیں جنرلزم نہیں ۔ حالانکہ یہ ایک فلمی ڈائیلاگ تھا لیکن کم سے کم ممبئی میں کرائم رپورٹنگ میں بہت زیادہ خطرہ ہے اور چیلنج بھی ہے۔ زیادہ کشیدگی بھی ہے۔ اس مایا نگری میں انڈرورلڈ کی دہشت ہمیشہ رہتی ہے۔ اس دہشت کو انڈرورلڈ نے میڈیا کے ذریعے بیاں کیا ہے۔ تیل مافیاؤں کے خلاف لکھنے والے ممبئی مڈ ڈے کے سینئر کرائم رپورٹر جوترمے ڈے کے قتل کے معاملے میں ممبئی پولیس نے ایک انگریزی اخبار ''ایشین ایج'' کی ایک سینئر رپورٹر کو حال ہی میں گرفتار کیا ہے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر کرائم ہیمانشو رائے نے بتایا انگریزی اخبار ایشین ایج کی معاون بیورو چیف جگنا وورا کو جے ڈے کے قتل کی سازش میں شامل ہونے کے سبب گرفتار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جگنا پر جے ڈے کی موٹر سائیکل کا نمبر مافیا سرغنہ چھوٹا راجن کو دینے کا شبہ ہے۔ دراصل جے ڈے قتل کے قریب ایک ماہ بعد چھوٹا راجن نے ایک نیوز چینل کو فون کرکے جے ڈے کے قتل کی ذمہ داری لی اور اس نے ڈے کے قتل کی وجہ بھی بتائی۔ اس نے کہا ڈے چھوٹا راجن کے جانی دشمن داؤد ابراہیم کے لئے کام کررہا تھا اور اس نے داؤد کے کہنے پر میرا قتل کرنے کیلئے کئی بار مجھے بیرونی ممالک میں کسی شہر میں ملنے کے لئے کہا تھا۔
جے ڈے کے قتل میں جگنا بری طرح پھنس چکی ہے۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے ذرائع کی مانیں تو جگنا نے ثبوت مٹانے کی کافی کوشش کی لیکن پولیس کے ہاتھ اس کے خلاف کافی کچھ لگ چکا ہے۔ جگنا اپنے قریبی رشتے دار کے بینک اکاؤنٹ کو چلا رہی تھی ، جس میں مشتبہ لین دین ہوا۔ ان میں ایک بار دوبئی سے باقی دو بار کئی جگہوں سے لین دین ہوا۔ یہ لین دین جے ڈے کے قتل سے کچھ وقت پہلے ہوا۔ اس کے علاوہ کرائم برانچ کو جے ڈے کے گھر سے کئی اہم دستاویز بھی ملے ہیں۔ دراصل جے ڈے کے قتل کے بعد سے ہی جگنا پر پولیس کی نظر تھی۔ ذرائع کے مطابق جے ڈے قتل کانڈ کے ایک دوسرے ملزم ونود اسرانی کی چینبور کے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات راجن کے کہنے پر ہوئی تھی اور اسی ملاقات میں جگنا نے اسرانی کو یہ بتایا کہ جے ڈے کا قتل کب اور کیسے کرنا ہے۔ پولیس سے ملی جانکاری کے مطابق کرائم برانچ کو جگنا کے گھر سے کچھ کاغذات ملے ہیں ۔ ان میں ایک ڈائری سے پھٹے ہوئے پرچے بھی برآمد ہوئے ہیں ان میں کچھ نمبر لکھے ہیں۔ اس میں ملنے کی جگہ لکھی ہے اور پلاننگ کے بارے میں بھی لکھا ہوا ہے اور پھر اسے پین سے گھس کر کاٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پولیس کے پاس اس قتل سے وابستہ ساری کہانی تیار ہے۔ پولیس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق جے ڈے کے قتل کے بنیادی ملزم ونود اسرانی کی گرفتاری کے دو دن بعدچھوٹا راجن نے ونود کے بھائی کو خود فون کیا تھا۔ یہ فون پولیس ٹیپ کررہی تھی۔ اس فون میں چھوٹا راجن نے جگنا کو کافی برا بھلا کہا تھا۔ اس نے یہاں تک کہا کہ جگنا نے غلط باتیں بول کر جے ڈے کو مروادیا۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے ذرائع کی مانیں تو اسی فون کی وجہ سے جگنا اس قتل کانڈ میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ کورٹ میں کرائم برانچ کے ثبوت کتنے ٹھوس ثابت ہوتے ہیں۔
Anil Narendra, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, J Dey, Vir Arjun

15 جولائی 2011

ایک بار پھر ممبئی شہر بنا آتنکیوں کا نشانہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 15th July 2011
انل نریندر
پچھلے کافی عرصے سے ہندوستان پرکوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا تھا۔ حملے تو ہوتے رہے ہیں لیکن کوئی سلسلہ وار ٹائم بلاسٹ نہیں ہوئے تھے۔ یوں تو تین دن پہلے آسام کے کام روپ دیہات ضلع کے رانگیا کے پاس ایک دھماکے کے بعد گوہاٹی پوری حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے مقامی شرپسندوں کا ہاتھ تھا۔ اس حادثے میں 50 سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بدھ کے روز ممبئی میں جیسا دہشت گرد حملہ ہوا ، ایسا حملہ کافی دنوں کے بعد ہوا ہے۔ ہم بھول گئے تھے کہ ایسے حملے پھر ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اس سلسلہ وار دھماکے کے بارے میں کوئی بھنک تک نہ لگ سکی۔ وزارت داخلہ نے مانا ہے کہ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کے بارے میں مرکز یا ریاستی حکومت کی خفیہ مشینری کو ذرا بھی بھنک نہ لگ سکی اور بدھ کی شام بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر ہوئے ان تین دھماکوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ پچھلے چھ مہینے کے دوران دہشت میں کوئی دہشت گردی کی واردات نہیں ہونے کے بعد سکیورٹی و خفیہ مشینری کافی حد تک بے پرواہ ہوگئی تھی۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے تین مقامات پر 10 منٹ کے اندر ہوئے جس میں21 لوگ مارے گئے، 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ سانتاکروز میں ایک غیر استعمال شدہ بم ملا جو نہیں پھٹا تھا۔ پچھلے 18 سال میں بدھوار کو 14 ویں مرتبہ ممبئی آتنکی حملے کا شکار ہوئی۔ قریب 6.15 بجے جھاویری بازار میں واقع چاندی و زیورات کے کاروباری دیپک سین نے اپنے نوکر سے میل منگوائی۔ وہ میل کی پڑیا کھول رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکے نے اس کی دوکان کی ٹیوب لائٹیں، شوکیس کے کانچ توڑ دیا۔ سین نے آگ کا ایک بڑا گولہ سا اوپر کی طرف جاتا دیکھا۔ سامنے کی کھانے پینے کی دوکانیں آگ پکڑ چکی تھیں۔ سامنے سڑک پر کھڑے پاپڑ بیچ رہے خوانچے والے کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ تین درجن سے زیادہ لوگ بری طرح جھلس کر زمین پر گر پڑے اور لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی پلوں میں لوگ پھر چوکس ہوگئے اور زمین پرپڑے بے سہارا زخمیو ں کو لیکر مطلوبہ گاڑیوں سے کے کے جی ٹی ہسپتال کی طرف جانے لگے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق جھاویری بازار میں کچھ لمحوں میں دو دھماکے ہوئے۔ بتایا جاتا ہے یہ دونوں دھماکے ایک موٹر سائیکل و ایک اسکوٹر میں رکھے گئے آتشی سامان سے ہوئے۔ تقریباً یہ ہی منظر کچھ منٹ کے اندر پہلے اوپرا ہاؤس پر پھر دادر ریلوے اسٹیشن کے پاس دوہرایا گیا۔ اوپرا ہاؤس ہیروں کے کاروبار کانہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑا مرکز ہے۔یہاں ہوا دھماکہ پنچ رتن بلڈنگ و پرساد چیمبر کے درمیان ٹاٹا روڈ کی کھاؤ گلی میں ہوا جبکہ دادر کا دھماکہ بیسٹ کے ایک بس اسٹاپ کی چھت پر کیا گیا۔ جھاویری بازار کو پچھلے 18 برسوں میں تیسری مرتبہ آتنکی حملے کا شکار ہونا پڑا ہے جبکہ دادر اور اوپرا ہاؤس میں پہلی بار دھماکہ کیا گیا ہے۔ بدھوار کو جھاویری بازار میں ہوئے دھماکے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جب ایک شہر میں دھماکے ہوں تو دوسرے بڑے شہروں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ میرے پاس کئی ایس ایم ایس آئے کہ دہلی کے ساکیت اور ڈیفنس کالونی میں بھی بم ملے ہیں۔ یہ سب ایک افواہ تھی اور دہلی میں اوپر والے کے رحم و کرم سے کوئی بم نہیں ملا۔
سوال یہ اٹھتا ہے یہ دھماکے کس نے کروائے اور کیوں؟ جہاں تک یہ کس نے کروائے اس کی صحیح معلومات تو بعد میں حاصل ہوگی شاید کبھی یقینی طور سے نہ مل سکے لیکن مقصد کا تھوڑا اندازہ ضرور ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے بار بار جھاویری بازار کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ بزنس کو متاثر کرنا مقصد ہے۔ اوپرا ہاؤس بھی ایک ایسا ہی بزنس سینٹر ہے۔ دونوں ہی مقامات پر بھیڑ ہوتی ہے۔ دھماکوں سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ صاف جھلکتا ہے۔ ممبئی میں سیریل دھماکوں میں جیسی تباہی پہلے مچتی رہی ہے ویسی اس بار نہیں ہوسکی، اس کی وجہ دھماکوں کا اتنا طاقتور نہ ہونا ہے۔ اس میں خراب پلاننگ بھی ہوسکتی ہے لیکن کیونکہ ان دھماکو ں میں آئی ڈی تکنیک کا استعمال ہوا ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی بڑی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے۔ یہ مقامی انڈر ورلڈ کا کھیل نہیں ہے۔ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی، لشکر طیبہ، داؤد ابراہیم گروہ کا ہاتھ ہو؟ یہ کسی ایسی تنظیم نے بھی کروائے ہوں جو ہند۔ پاک مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہو۔ پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے بات چیت کا دور طویل عرصے کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ حملہ اسے توڑنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔
اخباروں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ آئی ایس آئی کے اشارے پر ہوئے اس دھماکے میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد نے اس کام کو انجام دینے کا بیڑا اٹھایا۔ اس میں حزب المجاہدین، انڈین مجاہدین نے ساتھ دیا۔ ذرائع کے مطابق بدھوار کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھارت میں کچھ کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے داؤد سے کہا ۔آئی ایس آئی کی پہل پر داؤد اپنے گرگوں کے ساتھ چار ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ میں شامل ہوگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے داؤد کے کئی لوگوں کو لاہور کے بہاولپور میں ہتھیار چلانے اور کمانڈو ٹریننگ بھی دلوائی اور جو ابھی بھی جاری ہے۔جس طرح ممبئی میں دھماکہ ہوا ہے اس میں کم اور درمیانی صلاحیت والے بم کا استعمال کیا گیا۔ اس میں آئی ای ڈی کا بھی استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کے بم کا استعمال انڈین مجاہدین کرتے ہیں۔ حزب کی عادت ہے کہ بم دھماکے میں کسی ہندومذہبی مقام پر درمیانی صلاحیت کے بم کا استعمال کرتا ہے۔ ممبئی میں جھاویری بازار میں ممبا دیوی مندر کے پاس بم پھٹا ہے۔ اس کے علاوہ حزب المجاہدین بھی بم میں گاڑی کا استعمال کرتا ہے جو ممبئی میں ہوا۔انڈین مجاہدین ایک طرح سے لشکر کی سلیپر سیل کی طرح کام کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید اس پر اور مزید معلومات ملیں۔ بھارت کی خفیہ اور سکیورٹی مشینری کو چست درست کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسے حملے اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہمیں پوری طرح سے تیار رہنا ہوگا۔
Tags: 13/7, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, Hizbul Mujahid, India, Indian Mujahideen, ISI, Lashkar e Toeba, Mumbai, Osama Bin Ladin, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

05 جولائی 2011

داؤد اور چھوٹا راجن کی دشمنی کا ہوئے شکار جے ڈے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 5th July 2011
انل نریندر
مڈ ڈے کے سینئر صحافی جے ڈے کے قتل کے معاملے میں چھوٹا راجن کا نام آرہا ہے۔ سینئر صحافی جوترمے ڈے کے قتل کے معاملے میں ایتوار کو مافیہ سرغنہ چھوٹا راجن کے مبینہ ساتھی اور دلال کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جے ڈے کے قتل میں اس شخص کا کردار تھا۔ چھوٹا راجن کے مبینہ ساتھی اور دلال ونود اسرانی عرف ونود چینگور سمیت 216 لوگوں کو اب تک اس قتل کے معاملے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے جے ڈے کے قتل کے پیچھے چھوٹا راجن کا ہاتھ ہے۔ راجن کو اندیشہ تھا کہ جے ڈ ے اس کے ٹھکانے کے بارے میں انکشاف کرسکتے ہیں، اس لئے اس نے اس صحافی کا ہی صفایا کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ ممبئی پر انڈر ورلڈ راج چلتا ہے۔ بیرونی ممالک میں محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے یہاں زندگی اور موت کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ چھوٹا راجن کون ہے؟ چلئے اس کے بارے میں آپ کو بتائیں۔ راجن سداشیو نکھلجے عرف چھوٹا راجن کی پیدائش ممبئی کی درمیانی کلاس بستی تلک نگر میں ہوئی تھی۔ 80 کی دہائی میں وہ سنیما گھروں کے باہر ٹکٹ بلیک کرتا تھا۔ جلد ہی اس کی پہچان راجن نائر عرف بڑا راجن سے ہوگئی۔ لڑکے کا حوصلہ راجن کو پسند آگیا ہے اور اس نے نکھلجے کو اپنا داہنا ہاتھ بنا لیا۔ جب بڑا راجن کا قتل ہوا تو نکھلجے نے اس کی جگہ لے لی اور تب سے وہ چھوٹا راجن بن گیا۔
چھوٹا راجن داؤد ابراہیم کاسکر گروہ میں شامل ہوگیا اور داؤد کا قریبی بن گیا۔ داؤد تب ممبئی کا سب سے بڑا ڈان تھا۔1986ء میں داؤد کے دوبئی چلے جانے کے بعد راجن اور چھوٹا شکیل اس کے ہندوستانی کاروبار میں نمائندے بن گئے۔ 1992ء میں ایودھیا میں بابری مسجد گرادی گئی ۔1993ء کی شروعات میں ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے اس میں داؤد کا ہاتھ تھا۔ اس واقعے نے چھوٹا راجن کو بغاوت کے لئے مجبور کردیا ۔ ظاہر ہے ڈی کمپنی میں فرقہ وارانہ پھوٹ پڑ چکی تھی۔ داؤد اور راجن تب سے پکے دشمن بنے ہوئے ہیں اور بھارت میں کاروبار کے لئے لڑ رہے ہیں۔ چھوٹا راجن کا دعوی ہے کہ وہ ہندوستان سے پیار کرتا ہے اس لئے داؤد کی بے پناہ طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔ اپنے ہندوستانی پریم کی مثال دینے کیلئے اس نے 1996 ء میں نوپالی ممبر پارلیمنٹ مرزا دلشاد بیگ کو مروادیا تھا۔بتایا جاتا ہے مرزا، داؤد اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا آدمی تھا۔ اس کے ذریعے نیپال سے بھارت میں منشیات اور آتنک واد ایکسپورٹ کئے جاتے تھے۔
حالانکہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا لیکن عام رائے ہے کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں چھوٹے راجن کے رابطے میں رہتے ہیں۔ اسے داؤد کے خلاف جنگ میں استعمال کرتی ہیں اس لئے راجن کے چھوٹے موٹے جرموں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر بڑی کارروائی سے پہلے ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں اور پولیس راجن کو مطلع کردیتی ہے تاکہ ان کے لوگوں پر قہر نہ ٹوٹے۔ چھوٹا راجن مشرقی ایریا میں کہیں روپوش ہے۔ شاید ملیشیا یا پھر انڈونیشیا میں اس کی طبیعت ابھی تک ٹھیک نہیں رہتی۔ اس کا سکہ بھی آج بدستور جاری ہے۔ اس سال مئی میں بائیکرس نے داؤد کے بھائی اقبال کاسکر کے ڈرائیور کو مارڈالا۔ تب لگا کے کچھ برسوں کی خاموشی کے بعد دوبئی میں ایک بار پھر سے گروہی جنگ چھڑنے والی ہے۔ اس کے بعد اگلے دو مہینے میں جے ڈے کا قتل ہوگیا جس کے پیچھے راجن اور داؤد کی آپسی دشمنی ہو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
Tags: Anil Narendra, Babri Masjid, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, ISI, J Dey, Vir Arjun

30 جون 2011

جے ڈے قتل کے پیچھے چھوٹا راجن کا مقصد کیا تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
30 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ممبئی پولیس نے دعوی کیا ہے مڈڈے کے سینئر صحافی جوترمے ڈے کو اندر ورلڈ چھوٹا راجن کے کہنے پر مارا گیا ہے۔ ڈے کے قتل میں مبینہ طور سے شامل 7 لوگوں کو دیش کے الگ الگ حصوں سے گرفتار کرکے پیر کے روز ممبئی کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے سبھی ملزمان کو4 جولائی تک پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔ ممبئی پولیس کمشنراروپ بھٹناگر اور کرائم برانچ کے چیف ہیمانشو رائے نے پیر کے روز ایک جوائنٹ پریس کانفرنس میں ڈے کے قتل کی گتھی سلجھالینے کا دعوی کیا ۔ رائے کے مطابق چھوٹا راجن نے اس قتل کے لئے ممبئی کے خطرنا ک چارج شوٹر روہت کنگ پن جوزف عرف ستیش کالیا کو 2 لاکھ روپے کی سپاری دی تھی۔ کالیا نے پولیس کو بتایا ہے کہ قتل تک اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ مارا جانے والا شخص ایک صحافی ہے۔ڈے کے صحافی ہونے کی جانکاری کالیا کو نیوز چینلوں سے ملی، جس کے بعد راجن کی طرف سے اسے3 لاکھ روپے اور دلائے گئے۔ پولیس کے مطابق کالیا کو چھوٹا راجن نے قتل کے دن یعنی11 جون سے 20 دن پہلے تک ایک شخص کو مارنے کے لئے کہا تھا۔ اس شخص کی موٹر سائیکل کا نمبر اور اس کے ملنے کے دو ٹھکانوں کے بارے میں بھی چھوٹا راجن نے بتایا۔ سپاری لینے کے بعد کالیا نے اپنے ساتھی نلیش شیڈوسے رابطہ قائم کیا۔نلیش نے اس کے بعد اس قتل میں شامل پانچ افراد کو جس میں تھے ارون ڈاکے، سچن گائیکوار، ابھیجیت شنڈے اور منگیش کو اپنے ساتھ لیا۔ ڈے کے قتل میں استعمال ہتھیار 32 بور کا ریوالور اور چیکوسلواکیہ کی بنی گولیاں ان لوگوں کو اتراکھنڈ کے کاٹ گودام میں ہی دی گئیں۔ قتل سے پہلے حملہ آوروں سے ممبئی کے لوور پریل میں اس علاقے کی پہچان کی جہاں مڈڈے کا دفتر ہے۔ یہ لوگ پہلے ڈے کو لوور پریل علاقے میں ہی مارنا چاہتے تھے لیکن یہ علاقہ بھیڑ بھرا ہونے کی وجہ سے بعد میں قتل کی اسکیم کو پوئی میں منتقل کردیا گیا۔ حملہ آوروں نے اس پورے معاملے کو انجام دینے کے لئے چار ٹیمیں بنائیں اور اس کے لئے تین موٹر سائیکلوں اور ایک کوالس گاڑی کا استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق ان حملہ آوروں نے 9 اور 10 جون کو بھی ڈے پر گھات لگانے کی کوشش کی تھی لیکن قتل کا صحیح وقت اور دن انہیں11 جون کو ہی مل گیا۔ کالیا نے پولیس کو بتایا کہ ڈے کے جسم پر پانچ گولیاں اس نے موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے داغیں۔ قتل کے بعد سارے حملہ آور ممبئی سے جوگیشوری علاقے میں اکٹھا ہوئے اور وہیں انہیں یہ پتہ چلا کہ مارا گیا شخص ممبئی کا نامی گرامی صحافی ڈے ہے۔ پولیس نے قتل میں استعمال کی گئی گاڑیاں ، ریوالور اور کچھ گولیاں بھی ان کے پاس سے برآمد کرلی ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے ڈے کے قتل میں مبینہ طور سے ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے والی کرائم برانچ کی ٹیم کو 10 لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیاہے۔
بیشک ممبئی پولیس نے قتل کی گتھی سلجھانے کا دعوی کیا ہے لیکن کچھ اہم سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں مل پایا ہے۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ ہر قتل کے پیچھے موٹو یعنی مقصد ضروری ہوتا ہے۔ چھوٹا راجن نے اگر یہ قتل کروایا تو اس کا جے ڈے کو مارنے کا مقصد کیا تھا۔ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ قاتلوں کو ریوالور کی گولیاں لینے کے لئے اتراکھنڈ کے کاٹ گودام کیوں جانا پڑا؟ ممبئی میں بھی تو گولیاں بڑی آسانی سے دستیاب ہیں؟ قتل میں شامل پانچ لوگوں میں سے تین ممبئی سے واردات کے بعد بھاگ گئے تھے جبکہ دو ممبئی میں ہی رک گئے کیوں؟ چھوٹا راجن کا اپنا گروہ ہے اور ایک بہت موثر قاتلوں کی ٹیم ، پھر اس نے جے ڈے کے قتل کو آؤٹ سورسز کیوں کیا؟ اسے بھاڑے کے قاتلوں کو لینے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟یہ بھی کم تعجب نہیں کہ ستیش کالیا کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کسے مارنے جارہا ہے۔ جب انہوں نے مڈ ڈے کے دفتر کا جائزہ لیا تب تو انہیں یہ پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ جسے وہ مارنا جارہے ہیں وہ ایک صحافی ہوسکتا ہے جو مڈ ڈے سے وابستہہوسکتا ہے۔ خود اگر جے ڈے زندہ ہوتے تو انہیں یہ پولیس کی کہانی بتاتے تو وہ اس پر یقین نہ کرتے۔ جے ڈے کے قتل کو لیکر کئی طرح کی بحث سامنے آئی ہے۔ ان میں سے ڈے کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش بھی ہوئی، یہ خیال سامنے آیا کہ جے ڈے انڈرورلڈ گروہ کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کہیں پر لکشمن ریکھا پار کرلی ہو۔ حالانکہ جو لوگ سالوں سے پیشہ ور کی حیثیت سے جے ڈے کو جانتے ہیں، وہ اس خیال کو ماننے سے صاف طور پر انکار کرتے ہیں۔ ڈے بھلے ہی انڈرورلڈ گروہ سے رابطے میں تھے لیکن خبر سے زیادہ ان کے لئے کچھ نہیں تھا۔ وہ اپنی لکشمن ریکھا نہیں پار کرسکتے ۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ڈے کو جاننے والے ایک صحافی کا کہنا ہے ڈے سبھی انڈرورلڈ گینگ کے گینگسٹروں کو جانتے تھے۔ حقیقت میں ممبئی کے وہ ایک ایسے صحافی تھے جن کی پہنچ سبھی گینگسٹروں تک تھی۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنے پیشے کے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ساتھی صحافیوں نے پایا ڈے بہت ہی شیریں زبان کے تھے۔ یہ مستقبل کی پیڑھی ہیں۔ اگر انہیں اس عمر میں مناسب مشعل راہ ملی تو وہ آگے جا کر اچھے جرنلسٹ بن سکتے ہیں۔ ممبئی پولیس نے پیر کو دعوی کیا کہ گینگسٹر چھوٹا راجن نے ڈے کے قتل کی سپاری دی تھی۔ یہ ڈے کے کئی قریبی دوستوں کے لئے بہت بڑا تعجب ہے۔ گذرے برسوں میں کئی موقعوں پر ڈے نے راجن سے سیدھی بات چیت کی ہے۔ ہمیشہ سے اس نے لکشمن ریکھا کا خیال رکھا ہے۔ حقیقت میں اگر وہ زندہ ہوتے اور انہیں بتایا جاتا کہ راجن نے انہیں مارنے کی سازش رچی ہے تو وہ ہنس کر ٹال جاتے۔ وہ کہتے میں بہت چھوٹا آدمی ہوں ، راجن مجھے کیوں مارے گا؟  
Tags: Anil Narendra, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, J Dey, Mumbai, Vir Arjun

21 مئی 2011

صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا عوام کو صحیح جواب چاہئے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
21مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
حکومت ہند کی جانب سے پاکستان کو سونپی گئی 50 مشتبہ مطلوب بھگوڑوں کی فہرست میں 2003 میں ممبئی کے مولنڈ سمیت کچھ مقامات پر ہوئے دھماکوں میں نامزد وجیہی القمر خاں کو لیکر ہوئی گڑ بڑی کو معمولی کلیریکل غلطی کہہ کر معاملے کو رفع دفع نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت داخلہ کے اس کلنڈر سے بھارت کی پاکستان سمیت پوری دنیا میں بے عزتی ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمارے دیش کی خفیہ ایجنسیوں میں آپسی تال میل میں کتنی کمی ہے۔ یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے لیکن کیسے ان مطلوب بھگوڑوں کی فہرست بغیر صحیح جانچ پڑتال چیکنگ ، کراس چیکنگ کے بغیر جاری کردی گئی؟ اس فہرست میں ممبئی حملے کے ایک ملزم وجیہی القمر خاں جو کہ نہ صرف بھارت میں موجود ہے بلکہ ضمانت پر رہا بھی ہوگیا، اس کا نام اس فہرست میں کیسے آگیا؟ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کا غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں ہے۔ انہیں ان تین باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ پہلی یہ کہ یہ فہرست کس نے بنائی تھی؟ کیا یہ کام کسی آرام پسند اور ضرورت سے زیادہ تنخواہ لینے والے بابو نے کروایا تھا ، جسے یہ معلوم ہے کہ اس کی نوکری نہیں جاسکتی اور اسے کسی کی پرواہ نہیں؟ دوسرا کیا یہ فہرست آئی بی ، راء اور این آئی اے و سی بی آئی میں پہلے بانٹی گئی تھی؟ اگر انہیں یہ فہرست دکھائی گئی تھی تو سی بی آئی کیوں خاموش رہی اور اس نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وجیہی القمر خاں نامی شخص ممبئی کے مولنڈ علاقے میں موجود ہے اور فی الحال ضمانت پر رہا ہوا ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کیا کررہی تھی جبکہ اس کا کام ہے جو ملزم ایسے سنگین معاملے میں ضمانت پر ہے اس پر گہری نگاہ رکھی جائے جو لگتا ہے اس نے نہیں کیا؟ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ وجیہی القمر خاں فی الحال رہتا کہاں ہے؟ جب تک ان سوالوں کا جواب چدمبرم نہیں دیتے تب تک اس معاملے میں غفلت کہاں ہوئی ہے ، کا پتہ نہیں چلے گا؟
انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں میں آپسی کوئی تال میل نہیں ہے اور ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ سی بی آئی جیسی ایجنسی کو حکمراں پارٹی نے اپنے سیاسی مفاد کی تکمیل پر زیادہ توجہ دینے پر لگایا ہوا ہے بہ نسبت ملک دشمنوں کے خلاف نگرانی رکھنے کے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اپنی ذمہ داری نہیں بچ سکتے۔ وہ بیشک اب کہیں کہ وزیر داخلہ چدمبرم نے انہیں اندھیرے میں رکھا لیکن وزیر اعظم کا کام ہے کہ اتنے اہم مسئلے پر خود توجہ دیں۔ پاکستان تو ہمیشہ سے یہ ہی کہتا آرہا ہے کہ بھارت کی مانگ پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعہ دیش کی ساکھ پر سوال بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہم کہتے رہے ہیں کہ ہم ثبوت دیتے آئے ہیں لیکن بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کو پاکستان کی زمین سے انجام دیا جارہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی غلطی پاکستان کو اپنا موقف مضبوط کرنے کا موقعہ دے سکتی ہے۔ کیونکہ یہ ماننے کو وہ تیار نہیں ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے حملوں کو انجام دینے والوں کو اس نے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھارت اتنی لمبی مطلوب بھگوڑوں کی فہرست کیوں بناتا ہے؟ ہمیں تو گنے چنے مٹھی بھر ان سرغناؤں یا آتنکیوں کی چھوٹی فہرست دینی چاہئے جو ہمارے دیش کی سلامتی کے لئے سب سے زیادہ اہم ہوں۔
Tags: Anil Narendra, CBI, Dawood Ibrahim, India, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, RAW, Vir Arjun, Wanted List

20 مئی 2011

داؤد کے بھائی اقبال کاسکر پر جان لیوا حملہ

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
20مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے چھوٹے بھائی اقبال کاسکر پر منگل کی دیر رات قاتلانہ حملے سے ممبئی کے انڈر ورلڈ میں جنگ چھڑنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس سنسنی خیز واردات میں اقبال کاسکر بال بال بچ گئے ہیں لیکن ان کا باڈی گارڈ مارا گیا ہے۔ واردات کے وقت اقبال کاسکر اپنے بڑے بھائی داؤد کے جنوبی ممبئی کے پاک میڈیا اسٹیٹ میں واقع پشتینی گھر کے فرانسیسی دفتر میں بیٹھا تھا تبھی دو ہتھیار بند حملہ آوروں نے 6-7 راؤنڈ فائرنگ کی۔ اس میں کاسکر کے دو باڈی گارڈ زخمی ہوگئے انہیں فوراً پاس کے جے جے ہسپتال میں لے جایا گیا۔جہاں ڈاکٹروں نے عارف نام کے ایک باڈی گارڈ کو مردہ قرار دے دیا۔ عارف اقبال کاسکر کاباڈی گارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا بھروسے مند ڈرائیور بھی تھا۔ اس درمیان علاقے سے بھاگ رہے دو مشتبہ لوگوں کو مقامی لوگوں نے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ حالانکہ ابھی یہ پتہ نہیں چل پایا کہ ان دونوں نے ہی اقبال پر حملہ کیا تھا۔ پولیس کا دعوی ہے پکڑے گئے لوگوں کے پاس غیر ملکی ساخت کے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ داؤد کے بھائی اقبال کاسکر پر کس نے حملہ کروایا؟ مہاراشٹر سرکار کا کہنا ہے کہ اقبال کاسکر نشانے پر نہیں تھا بلکہ ڈرائیور ہی نشانہ تھا لیکن حکومت نے کہا جب مسلح لوگوں نے جنوبی ممبئی میں فائرنگ کی تو اس وقت اقبال وہاں موجودہ نہیں تھا۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے احمد نگر میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ معاملے میں گرفتار لوگوں سے پوچھ تاچھ سے خلاصہ ہوا ہے کہ ان کے نشانے پر ڈرائیور عرفان تھا۔ مہاراشٹر سرکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ گولہ باری کسی گروہی جنگ کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ ممبئی میں کوئی گروہ بچا نہیں ہے۔ پاٹل کے باتوں پر یقین نہیں ہورہا ہے۔ اس حملے سے ایک بار پھر ممبئی دہشت میں ہے سب کو یہاں ڈر ستا رہا ہے کہیں ممبئی کی سڑکوں پر پھر سے خونی لڑائی نہ چھڑ جائے۔ اس خطرے کو دیکھتے ہوئے شاید سرکار نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اقبال تو موقعہ پر موجود ہی نہیں تھا۔ لیکن جس پروفیشنل طریقے سے حملہ ہوا ہے اس سے صاف ہے کہ نشانے پر اقبال ہی تھا ،نہ کہ عارف۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کی پوری سازش نیپال میں رچی گئی۔ نیپال یعنی انڈر ورلڈ کے کالے چہرے کا پسندیدہ ٹھکانا ہے۔ اقبال کو مارنے آئے دونوں حملہ آور کرائے کے قاتل تھے ، ایک کا نام سید بلال عارف بتایا جاتا ہے جو تھانے کا رہنے والا ہے اور دوسرے کا نام اندر کھتری بتایا جارہا ہے۔ داؤد کے بھائی پر ہاتھ ڈالنا آسان کام نہیں۔ ایسے کام کے لئے کسی ماہر اور بے خوف کرائے کے قاتل کی ضرورت پڑتی ہے۔ دونوں قاتلوں کو10لاکھ روپے دئے گئے۔ حملے سے چار دن پہلے دونوں نے اقبال کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ دونوں کو اس بات کی پختہ جانکاری تھی کہ رات 8 سے10.30 بجے تھے اقبال اسی جگہ بیٹھتا ہے جہاں گولی چلی تھی۔ منگل کی رات حملے کے وقت اندر کھتری ،اقبال کاسکر کو پہچاننے میں غلطی کرگیا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے تھوڑا پہلے گولی چلا دی۔ اقبال اس وقت سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا اسی وقت فائرنگ شروع ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے اقبال کے آدمیوں نے بھاگتے حملہ آوروں پر بھی گولیاں چلائیں لیکن وہ بچ گئے اور آنے والے دنوں میں معاملے کا خلاصہ ہونے کا امکان ہے۔ اگر چھوٹا راجن نے یہ حملہ کروایا ہے تو اس سے گینگ وار کا پورا امکان ہے۔

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...